Baaghi TV

Category: سیاست

  • بغض عمران کی سزا۔عوام کو کیوں ؟ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    بغض عمران کی سزا۔عوام کو کیوں ؟ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    یہ چیز سمجھ سے بالاتر ہے کہ بلاول سرکار عمران خان سے عداوت کی سزا سندھ کے عوام کو کیوں دے رہی ہے؟
    جب پوری دنیا نے عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو نہ صرف سراہا بلکہ پاکستان نے کرونا کی پہلی تینوں لہروں پر اسی کامیاب حکمت عملی سے قابو بھی پایا تو پھر بلاول میاں کیوں ضد پر اڑے ہیں۔
    انہیں کیوں عوام کی مشکلات نظر نہیں آتیں؟
    وہ مکمل لاک ڈاؤن سے کیوں غریب آدمی کا چولہا بند کرنا چاہتے ہیں؟
    وہ کیوں تاجروں سے روزگار چھین لینا چاہتے ہیں ؟
    وہ کیوں اُبھرتی ہوئ ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کرنا چاہتے ہیں ؟
    سندھ حکومت کی نااہلیوں کی تو ویسے لمبی داستان ہے، مگر کرونا کے حوالے سے ہی بات کی جاۓ تو اب تک کرونا ویکسین کی چوری کے سب سے زیادہ واقعات بھی سندھ ہی میں ہوۓ۔
    محکمہ صحت کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے لوگوں سے پیسے لیکر اُن کے گھروں میں جا کر ویکسین لگائ گئی۔
    اس سرکاری ویکسین کا اندراج کسی اور کے نام کا کیا گیا،جبکہ ویکسین لگائ کسی اور کو گئی۔
    اسی وجہ سے بہت سے لوگ جب ویکسین لگوانے ویکسی نیشن سنٹرز میں گئے تو یہ سُن کر ان کے پاوں تلے سے زمین نکل گئی کہ ریکارڈ کے مطابق انہیں تو ویکسین لگ چکی ہے۔
    اسی طرح پچھلے دنوں ٹیسٹنگ کے دوران 40ایسے افراد سامنے آۓ ،جنہیں کرونا کا بھارتی ویرئینٹ اپنا شکار بنا چُکا تھا۔
    یہ لوگ کرونا پازیٹو آنے کے بعد پر اسرار طور پر غائب ہو گئے۔
    جو سرا سر سندھ حکومت کی نااہلی تھی۔اس مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں ان 40کرونا پازیٹو افراد کی وجہ سے تیزی سے پھیلنے والا بھارتی وائرس کتنا اور پھیلا ہو گا،اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔کیونکہ اس کے پھیلنے کی شرح بعض رپورٹس کے مطابق پرانے وائرس سے چار گنا زیادہ ہے-
    سندھ حکومت نے شروع ہی سے SOPs فالو کروانے میں لیت و لعل سے کام لیا،جس کے باعث کرونا کی شرح سندھ میں سب صوبوں سے بڑھ گئی۔
    ان سب باتوں کو چھوڑیے،
    مراد علی شاہ کی ہونہار ٹیم ویکسین لگوانے کے انتظامات تک بہتر انداز سے نہیں کر سکی۔
    کراچی اور پاکستان کے سب سے بڑے ویکسی نیشن سنٹرایکسپوسنٹر سمیت تقریبا” تمام ہی سنٹرز اس وقت تک ہُلڑ بازی اور طوفان بد تمیزی کا شکار ہیں۔
    نہ لائنیں ہیں ، نہ ماسک ہیں اور نہ ہی مناسب فاصلہ ہے۔
    جس سے خدشہ ہے کہ یہاں سے کرونا کم کرنے کی بجاۓ پھیلانے میں مدد کی جارہی ہے۔
    ان سنٹرز میں لڑائ جھگڑے اور لاٹھی چارج کی بھی خبریں ہیں۔
    دوسرے صوبوں کے بر عکس سندھ نے ٹیڈی پیسے کی ویکسین نہیں خریدی،حالانکہ بلاول کی پسندیدہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبائ معاملہ ہے۔
    ان بدحالیوں اور ناہلیوں کے بعد بلاول کے وہ دعوے کدہر گئے، جن میں وہ کہتا تھا کہ سندھ کا مقابلہ باقی صوبوں سے نہیں،دنیا کے دیگر ممالک سے ہے۔
    دنیا کا کونسا ایسا ملک ہو گا؟
    جہاں سندھ جیسی ابتری اور خراب ترین صورتحال ہو گی۔
    بلاول کے دعوے اپنی جگہ
    سندھ کےبہت سے ہسپتالوں اور سکولوں میں اب بھی گدھے بندھے نظر آتے ہیں۔
    آوارہ کتوں کے کاٹنے پر لگائ جانے والی ویکسین دستیاب نہ ہونے کی بدولت کتنے معصوم بچے اور بڑے اپنی زندگی کی بازی ہار چُکے ہیں۔
    ان لوگوں کا خون کس کے سر ہے؟
    ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ بلاول کی بہن آصفہ آوارہ کتوں کو مارنے کی مخالفت کرتی ہے۔اُس کے نزدیک یہ جانوروں کے حقوق کی پامالی ہے۔
    اس خاندان کے لئے باعث شرم ہے کہ جو انسانوں کے مرنے کی تو پرواہ نہیں کرتا مگر جانوروں کے حقوق کا محافظ ہے۔
    ان کے نزدیک انسان تو کتوں کے کاٹنے سے مرتے رہیں،مگر کتوں کو نہ مارا جاۓ،کیونکہ یہ حقوق کی پامالی ہے۔
    ہر شعبے میں ناکامی کی زمہ داری وفاق اور عمران خان پر ڈالنامعمول بن چکا۔
    مراد علی شاہ کے وزرا اور مشیروں کو جب بھی دیکھیں۔ٹی وی سکرین پر وفاق کے خلاف چارج شیٹ لے کے بیٹھے ہوتے ہیں،
    مقصد صرف اپنی نا اہلیاں چھپانا اور اپنی نوکریاں پکا کرنا ہوتا ہے۔
    نہ کوئ منصوبہ بندی نہ کوئ حکمت عملی۔
    سندھ حکومت کب خواب غفلت سے جاگے گی؟
    کب بغض عمران سے نکل کر سندھ کے عوام اور پاکستان کا سوچے گی؟

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • ،حیدرآباد کی عوام کا نوحہ تکلیف نہیں ریلیف دو  تحریر: عقیل احمد راجپوت

    ،حیدرآباد کی عوام کا نوحہ تکلیف نہیں ریلیف دو تحریر: عقیل احمد راجپوت

    ‏مراد علی شاہ اور حماد اظہر صاحب لاک ڈاؤن سے نہیں تو لوڈ شیڈنگ سے مرتی کراچی ،حیدرآباد کی عوام کا نوحہ تکلیف نہیں ریلیف دو
    کراچی حیدرآباد میں لاک ڈاؤن اور ڈیلٹا وائرس کا زور جاری ہے حکومت سندھ لوگوں کو بغیر کسی ضرورت گھر سے نا نکلنے کی تنبیہ کرتی ہوئی اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے میں جوٹی ہے مارکیٹوں کارخانوں اور فیکٹریوں میں سناٹے چھائے ہوئے ہیں سینکڑوں کلو واٹ استعمال ہونے والی بجلی تقسیم کار اداروں کے استعمال میں نہیں آرہی پیداوار کی صلاحیت سے کم بجلی کے استعمال کے باوجود کراچی اور حیدرآباد میں روزانہ 7:30 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس دورانیہ بعض اوقات 12 سے 14 گھنٹے تک بھی ہوجاتا ہے لوڈ کے کم ہونے کے باوجود کراچی حیدرآباد کی عوام کا خون نچوڑنے والے کے الیکٹرک اور حیسکو گرمی کی شدت کے باوجود لوگوں کو مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں این سی او سی کے جناب اسد عمر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر حماد اظہر صاحب سے کراچی اور حیدرآباد کی عوام کی پرزور اپیل ہے کہ بڑے بڑے بجلی کے بل بھیجنے والے عوام کی خون پسینے کی کمائی پر جبری ڈاکہ مارنے والے ان اداروں کو فوری عوام الناس کو ریلیف دینے کے احکامات صادر فرمائے گرمی اور کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ گھروں سے نا نکلنے کی کوشش کس طرح کریں جب کے لوڈ شیڈنگ کا جن اس مشکل حالات میں بھی قابو میں نہیں آرہا تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین بھی عوام کی اس پریشانی کا سد باب کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں عوام کو بیروزگاری پانی سیوریج اور گیس کی قلت جیسے یوٹیلیٹی اشو کو فوری حل کروانے کا مناسب انتظام کیا جائے بلوں میں کرونا ریلیف دیکر تمام پاکستانیوں تک امداد پہنچائی جاسکتی ہے فوری لوڈ شیڈنگ ختم کرکے عوام کو گھروں تک محدود کرنے کا سبب بھی بنا جاسکتا ہے اگر آپ عوام کے ساتھ مخلص ہیں تو عوام کو ریلیف دیں تکلیف نہیں وفاق صوبے پر اور صوبہ وفاق پر ڈال کر کراچی اور حیدرآباد کی عوام کے دلوں میں موجود لاوے کو مزید نا بھڑکائے کیوں کہ یہ لاوا پھٹا تو پھر کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوگا
    ضد نہیں حکومت کریں جس چیز کا آپکے پاس لنگڑا لولا جیسا بھی مینڈیٹ ہے پاکستان کے معاشی حب کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنا بند کریں کراچی پر کاٹھور کے مقام پر لوگوں کو بسوں سے اتار کر ذلیل کرنا کراچی والوں پر ظلم نہیں تو اور کیا ہے پوری دنیا میں لوگ ہنر مند افراد کو پرموٹ کرتے ہیں پاکستان میں الٹا نظام ہے سب سے زیادہ ٹیکس اور سب سے زیادہ پڑھی لکھی آبادیوں والے شہروں کو پستی کی جانب دھکیلا جارہا ہے جو کسی بھی صورت پاک کے لئے اچھا عمل نہیں بہت سی قربانیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شب وروز محنت سے امن کا قیام عمل میں آیا ہے اس امن کو خراب نا ہونے دیں شہیدوں کے خون سے پروان چڑھنے والے اس امن کو مزید بہتر بنانے کیلئے کوششیں کی جائیں تاکہ مزید کوئی فیملی اپنے پیاروں کی جدائی کا صدمہ برداشت نا کرے بجلی کا یہ مسئلہ حل کروانے میں ہم سب کا فائدہ ہی ہوگا انشاء اللہ

  • کالم نام : الیکٹرانک ووٹنگ مشین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ای وی ایم تحریر : سجاد علی

    کالم نام : الیکٹرانک ووٹنگ مشین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ای وی ایم تحریر : سجاد علی

    الیکٹرانک ووٹنگ مشین ایک خودکار اور جدید ووٹنگ کا نظام ہے جو کہ بہت عرصے سے دنیا میں استعمال ہو رہا ہے۔ کچھ ممالک میں اس کا استعمال حال ہی میں شروع ہوا ہے اور کچھ ممالک اسے مستقبل میں استعمال میں لا سکتے ہیں۔

    جن ممالک میں یہ خود کار نظام رائج ہے ان ممالک میں بھارت، ایشیا، یورپ، عرب ممالک، مالدیپ، بیلجیئم، برازیل، فلپائن، مصر، نمیبیا، بھوٹان، یو اے ای، آسٹریلیا، ایسٹونیا، کینیڈا، فِن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئیر لینڈ، اٹلی، کازکستان، لتھوئینیا، ملائیشیا ،نیدرلینڈ، ناروے، رومانیہ، ساؤتھ کوریا، سپین، سوئٹزرلینڈ، تھائی لینڈ، یونائیٹڈ کنگ ڈم ،یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ، ونیزویلا وغیرہ شامل ہیں۔

    دنیا میں سب سے پہلے اٹھارہ سو اکاسی میں انتھونی برینک نے شکاگو یونائیٹڈ سٹیٹ کے جنرل الیکشن میں اس مشین کا استعمال کیا تھا۔

    آئیں اب ذرا دیکھتے ہیں کہ یہ مشین کام کیسے کرتی ہے۔

    اس مشین کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک حصہ پولنگ بوتھ میں رکھا جاتا ہے اور اسے بیلٹ یونٹ کہا جاتا ہے اور دوسرا حصہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس پڑا ہوتا ہے اور اسے کنٹرول یونٹ کہتے ہیں۔ اور یہ دونوں یونٹ ایک تار کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی تار یا مشین وغیرہ اس میں نہیں ہوتی۔

    اب اس کے خود کار طریقہ کو سمجھتے ہیں کہ یہ کام کیسے کرتی ہے۔

    جب ووٹر ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے حلقہ کے پولنگ اسٹیشن جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جا کر کنٹرول یونٹ پر اپنا انگوٹھا لگائے گا۔ اس سے تصدیق ہو جائے گی کہ اس شخص کا شناختی کارڈ نمبر یہ ہے، اور تمام معلومات، رہائش، شناختی علامت وغیرہ سب ڈیٹا کنٹرول یونٹ میں موجود ہے یعنی اس کا اندراج اس مشین میں ہے۔

    یعنی جو مشین جس پولنگ اسٹیشن کی ہو گی وہاں کے تمام ووٹرز کے ریکارڈ کا اندراج اس مشین میں کر دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ایک پولنگ اسٹیشن پر دو ہزار ووٹر ہے تو ان دو ہزار افراد کی مکمل معلومات اس مشین میں ڈال دی جائیں گی. جس میں ان کے شناختی کارڈز کی تمام تفصیلات، انگوٹھے کا نشان، چہرے کی شناخت سب اس یونٹ میں موجود ہو گا۔

    انگوٹھا لگانے سے اس شخص کے بارے میں تصدیق ہو جائے گی کہ وہ اس ووٹر لسٹ میں موجود ہے یا نہیں۔
    تصدیق ہونے کی صورت میں اس کی تمام تفصیلات، شناختی کارڈ وغیرہ چیک کرنے اور مکمل مطمئن ہونے کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر اسے پولنگ بوتھ کے اندر بھیج دے گا۔

    پولنگ بوتھ، پولنگ اسٹیشن میں موجود وہ خفیہ جگہ ہوتی ہے جہاں ووٹر اپنا ووٹ ڈالتا ہے۔

    پولنگ بوتھ میں اس خود کار مشین کا دوسرا حصہ رکھا ہو گا جسے بیلٹ یونٹ کہتے ہیں۔ یہ ایک کی بورڈ سے مشابہت رکھنے والا یونٹ ہوتا ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے نام، انتخابی نشان وغیرہ کا اندراج ہوتا ہے۔

    پولنگ بوتھ میں داخل ہونے کے بعد پولنگ بوتھ میں موجود بیلٹ یونٹ کو پریزائیڈنگ آفیسر آن کرے گا اور ایک بیپ سنائی دے گی اس کے بعد جس کو بھی آپ نے ووٹ ڈالنا ہو اس کے انتخابی نشان پر آپ نے اپنا انگوٹھا لگا کر دبانا ہے اور پھر نیچے موجود اوکے بٹن کو دبا کر تصدیق کرنی ہے اور آپ کا ووٹ ڈل جائے گا۔ اور پھر ایک بیپ بجے گی جس کا مطلب کہ آپ کا عمل مکمل ہو گیا۔ پھر آپ پولنگ بوتھ سے باہر آجائیں گے اور اگلا ووٹر اندر چلا جائے گا۔

    ایک ووٹر کی ویریفیکیشن کے بعد مشین صرف ایک دفعہ ہی آن ہو گی، یعنی ایک شناختی کارڈ پر ایک ہی دفعہ آن ہو گی، اور ایک دفعہ انگوٹھا لگانے پر بھی ایک ہی دفعہ آن ہو گی، دوبارہ انگوٹھا لگانے پر مشین آن نہیں ہو گی۔ یعنی دوبارہ انگوٹھا لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ یعنی وہ شخص ایک ہی دفعہ ووٹ ڈال سکتا ہے دوبارہ ووٹ نہیں ڈال سکے گا۔

    اس لیے بہت آرام، احتیاط کے ساتھ ووٹ ڈالیں تاکہ آپ کا ووٹ ضائع نہ ہو۔

    یہ تھا الیکٹرانک ووٹنگ مشین یعنی "ای وی ایم” کا طریقہ کار۔ اب اس کی ایک جدید طرز بھی ہے جسے "وی وی پی اے ٹی” یعنی "ووٹر ویریفائیڈ پیپر آڈٹ ٹریل” کہتے ہیں۔ اور یہ نظام پاکستان میں رائج کرنے کے لیے حکومتِ وقت کوشاں ہے۔
    اس کا طریقہ کار بلکل وہی ہے بس جب ووٹر اپنا ووٹ ڈالے گا تو ساتھ ہی اس کا ایک پرنٹ بھی نکل آئے گا۔ یعنی آپ کو بیلٹ پیپر بھی مل جائے گا اور اسے آپ وہاں موجود بیلٹ باکس میں ڈال دیں گے۔

    اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح ریکارڈ دو جگہوں پر آجائے گا ایک الیکٹرانک شکل میں مشین میں موجود اور دوسرا بیلٹ باکس میں بیلٹ پیپرز کی صورت۔ جب بھی ضرورت ہو یہ ریکارڈ چیک کیے جا سکتے ہیں۔

    ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد صرف ایک بٹن دبانے پر سیکنڈوں میں متعلقہ حلقے کا نتیجہ آپ کے ہاتھ میں ہو گا۔

    اس میں درج ہو گا کہ کس کس امیدوار کو کتنے ووٹ حاصل ہوئے۔

    اس کے بعد بیلٹ باکس میں موجود بیلٹ پیپرز کی گنتی بھی کی جائے گی لیکن نتیجہ پہلے ہی مرتب کر کے بھجوایا جا چکا ہو گا اور گنتی مکمل ہونے کے بعد نتیجہ بلکل وہی نکلے گا جو الیکٹرانک مشین پہلے ہی دے چکی ہے۔ نتیجہ مختلف ہو ہی نہیں سکتا اور فرق آنے کی صورت میں یہ ظاہر ہے کہ بیلٹ باکس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے کیونکہ مشین کا رزلٹ تو پہلے ہی بھجوایا جا چکا ہے۔

    کام مکمل ہونے کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر اس مشین کو سیل کر دے گا اور اسے لے جا کر آر او کے حوالے کر دے گا اور اسی طرح بیلٹ باکس بھی آر او کو دے دیے جائیں گے۔
    آر او ان ووٹوں کی تصدیق کر لے گا اور کبھی بھی کسی شکایت کے نتیجے میں آر او مشین اور بیلٹ باکس کا نتیجہ نکال کر دکھا دے گا کہ یہ مشین کا رزلٹ ہے اور یہ بیلٹ پیپرز آپ کے سامنے پڑے ہیں، دوبارہ گنتی کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں۔

    اس خود کار الیکٹرانک مشین سے الیکشن کے سارے عمل میں تیزی بھی آئے گی اور الیکشن کمیشن کا کام بھی آسان ہو جائے گا۔ غیر ملکی پاکستانیوں کو بھی اس کی وجہ سے ووٹ کا حق ملے گا جو کہ بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ اور جو سب سے بڑا فائدہ اس نظام کا ہو گا وہ یہ کہ اس میں دھاندلی کی گنجائش نِشتہ۔

    حکومتِ وقت کو سر توڑ کوشش کر کے اس نظام کو پاکستان میں رائج کرنا چاہیے تاکہ ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں ہم بھی پیچھے نہ رہیں۔

    ٹویٹر ہینڈل : @SajjadAli_1

  • ٹائٹل: افغانستان اور خطے کی بدلتی صورتحال تحریر: رانا عزیر

    ٹائٹل: افغانستان اور خطے کی بدلتی صورتحال تحریر: رانا عزیر

    بظاہر تو ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ افغانستان کی جنگ ختم ہورہی ہے اور امریکہ یہاں سے شکست کھا کر جارہا ہے، لیکن اسی طرف خطے میں ایک عالمی جنگ کا خطرہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے۔ آج کہا جارہا ہے، خوش ہورہے ہیں کہ طالبان جنگ جیت رہے ہیں، اور ماضی میں ہم امریکہ کےساتھ ملکر طالبان کے خلاف جنگ بھی کرتے رہے اور ہم پر امریکہ بے تحاشا زبان تراشی بھی کرتا رہا، کیا آپ یہ تسلیم کرتے ہیں دنیا کی سپر پاور اب اتنی آسانی سے شکست تسلیم کرلے گی؟
    یہ مت بھولیے کہ ہمارے ہاں جو بھی یا کسی بھی قسم کی سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں اس کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ اس وقت افغانستان میں لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے، طالبان بڑے شہروں کے اندر گھس چکے ہیں اور گمسان کہ جنگ شدت اختیار کرچکی ہے، طالبان اب اندرون شہر گھس کر جو افغانستان کے سب سے اہم صوبے اور شہر ہیں جن کو سقوط کابل سے پہلے بہت اہم کہا جارہا ہے طالبان وہاں قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں ۔ اب امریکہ جارہا ہے اسے ہماری ضرورت ہے، لیکن امریکہ بہت منافق ہے وہ اب ہم پر الزام پر الزام لگائے جارہا ہے،معاملات بہت سنجیدہ ہیں۔جوبائڈن بہت شاطر آدمی ہے۔ وہ بھی کلنٹن کی طرح اس خطے کی سیاست کو جانتا ہے اور وہ آخر پراپنا پتا شو کرے گا، جس پر پاکستان کو بہت سی مشکالات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ اب نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے اور وہ پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے رہا ہے اور نور ولی محسود کا پاکستان کے قبائلی علاقوں پر قبضہ کرنے کا بیان اسی چیز کی کڑی ہے، امریکہ افغانستان کی پشتون آبادی اور پاکستان کی پشتون آبادی کو ملا کر ایک آزادی کی تحریک شروع کردے گا اور جس طرح داؤد خان نے پاکستان کے مغربی بارڈر پر حملے کیے اور اب وہی صورتحال بنتی ہوئی نظر آرہی ہے، 1950 اور 60 کی دہائی میں جب افغانستان میں داؤد خان کا دور تھا تو قبائلی پشتونوں نے افغان آرمی کے ساتھ ملکر چمن بارڈر پر حملہ کیا اور 30 میل تک اندر گھس آئے اور مزید جھڑپیں بھی پوتی رہیں، وہ الگ پختونستان چاہتے تھے۔ چین اب اس خطے میں پوری طرح سے ایکٹو ہے اور وہ بیک ڈور ڈپلومیسی کو ترجیح دے رہا ہے۔

    تو اب خطے کے حالات خطرناک دوراہے پر ہیں_

    twitter.com/RanaUzairSpeaks

  • کیسے نہ ہو عوام کو اپنے کپتان پہ اعتماد تحریر: مریم صدیقہ

    کیسے نہ ہو عوام کو اپنے کپتان پہ اعتماد تحریر: مریم صدیقہ

    اس بات سے بلکل انکار نہیں کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہےہر چیز کی قیمت میں آئے دن اضافے کی خبرسننے کو ملتی ہے چاہے وہ پیڑولیم مصنوعات ہوں یا کھانے پینے کی اشیاء۔ مگر اس کے باجود یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ عوام کا اعتماد اب بھی خان صاحب پہ ہی ہے۔ یہ اس لیے ہر گز نہیں کہ وہ آخری آپشن ہیں بلکہ اس لیے کیوں کہ اب اس قوم کو یقین ہو چکا ہے کہ وقتی پریشانی ضرور اٹھانی پڑ رہی ہے مگر اس تکلیف کے بعد جو آسانی آئے گی وہ ان کی نسلوں کو سنوار دے گی۔
    بے شک مہنگائی نے عوام کی کمر توڑدی ہے لیکن ہر پاکستانی کے لیے اس سے بڑھ کہ اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ اب دنیا میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے ، اب انہیں خود کو پاکستانی بتاتے ہوئے شرم کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔کیوں کہ جو ان کا پرائم منسٹر ہے وہ دنیا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے بات کرتا ہے ،وہ اب امریکہ کو اسی کی زبان میں “Absolutely Not” کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہ “Do More” کی بجائے برابری کی سطح پہ تعلقات قائم رکھنا جانتا ہے،وہ امریکی ایڈ کی بجائے تجارت کو فروغ دینے پہ بات کرتا ہے، وہ ظلم کا ڈٹ کے مقابلہ کررہا ہے، وہ کشمیر کا سفیر بنا ہے، وہ چائنا جیسے دوست سے دوستی نبھانا اور بھارت جیسے دشمن سے مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جب وہ خطاب کرتا ہے تو اسے پرچی کی ضرورت نہیں پیش آتی اور دنیا کی نظریں اس پہ اور دنیا کے ہر بڑے چینل کی ہیڈلائن ہوتا ہے۔ اس نے وقت کے فرعونوں کو للکارا ہے۔ پاکستانیوں کو بخوبی معلوم ہے کہ ان کے لیڈر کو صرف بیرونی ہی نہیں بہت سے اندرونی دشمنوں کا بھی سامنا ہے۔ ہر مافیا چاہے وہ قبضہ مافیا ہو چینی مافیا اس کے راستے کی روکاٹ بنا ہوا ہےمگر وہ ان سے بھی لڑ رہاہے۔سیاسی مخالفین کو کب کہاں کس طرح ٹھوکنا ہے یہ خان صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔وہ پاکستانی عدالتوں سے صادق اور امین ڈیکلیرڈ ہے۔ ہاں تھوڑے کنجوس ضرور ہے کیوں کہ وہ "کھاتا ہے تو لگاتا بھی توہے” والی سیاست نہیں کرنا جانتا۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کیسے عوام پہ ہی خرچ کرنا ہے اورمزید چوری ہونے سے کیسے بچانا ہے یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
    تو پھر کیسے نہ ہو پاکستانی عوام کو اپنے کپتان پہ اعتماد۔ وہ کپتان جس نے حکومت میں آنے سے پہلے ان کے لیے انتھک محنت کی ، 22 سال اپنے نوجوانوں کا انتظار کرتا رہا،ان کے لیے لڑتا رہاتاکہ وقت آنے پہ یہ اس کا ساتھ دیں اور دنیا کو بتا دیں گے کہ پاکستانی کسی کم نہیں ۔تو اب وہ وقت ہے جب پاکستان کے نوجوان خان کی سر پرستی میں ہر قسم کی جنگ چاہے وہ اندرونی دشمنوں سے ہو یا بیرونی لڑ سکتے ہیں کیوں کہ یہ جنگ خان کی نہیں یہ پاکستان کی جنگ ہے ، یہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے جس میں بہت سی پریشانیاں اور روکاوٹیں ضرور ہیں مگر اس کے نتائج بہت حوصلہ افرزا ہوں گے۔ بس ہمت، حوصلہ اور یقین رکھیں اچھے دن آنے والے ہیں۔

    @MS_14_1

  • بھارتي سازشيں ناکام، کشميرپريميئرليگ کےشيڈول کااعلان تحریر: انيلا سلطان

    بھارتي سازشيں ناکام، کشميرپريميئرليگ کےشيڈول کااعلان تحریر: انيلا سلطان

    بھارتي کرکٹ بورڈ ( بي سي سي آئي) نے کشمير پريميئر ليگ کے انعقاد کو روکنے کيلئے سر دھڑ کي بازي لگائي، کبھي غير ملکي کھلاڑيوں کو دھمکياں ديں کبھي انٹرنيشنل کرکٹ کونسل ( آئي سي سي ) کو ليگ روکنے کيلئے خط لکھا مگر بھارت کي تمام سازشيں ناکام ہوئيں۔ بھارتي کرکٹ بورڈ کي رکاوٹوں کے باوجود کشمير پريميئر ليگ کے شيڈول کا اعلان کرديا گيا ہے۔ ليگ 6 سے 17 اگست تک مظفرآباد کے خوبصورت اسٹيڈيم ميں منعقد ہوگي۔ ايونٹ ميں مجموعي طورپر 29 ميچزکھيلے جائيں گے۔ جس ميں 12 ميچز ڈے نائٹ شيڈول ہيں۔ کشمير پريميئر ليگ کے پہلے سيزن کا افتتاحي ميچ شاہد اؔٓفريدي کي راولاکوٹ اورشعيب ملک کي ميرپور رائلز کے درميان ہوگا۔ کشمیر پریمیئر لیگ کے افتتاحی سیزن میں کھیلنے والی چھ ٹیموں میں سے پانچ ٹیمیں آزاد کشمیر کی ہیں جبکہ چھٹی ٹیم باہر کے علاقے سے ہے۔

    پاکستان دشمني ميں اندھي مودي سرکار نے ايونٹ کو ناکام بنانے کيلئے بہت کوششيں کي۔ جنوبي افريقي کرکٹر ہرشل گبز کو دھمکياں دي مگر گبز نے بھارتي سازش پوري دنيا ميں بے نقاب کردي۔ ٹویٹ میں کہا بھارتی بورڈ نے دباؤ ڈال کر ” کے پی ایل” میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی جومضحکہ خیز ہے۔ گبز نے کہا کہ دھمکی دی گئی کہ اگر پاکستان کي ليگ ميں حصہ ليا تو آئندہ بھارت ميں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے۔ بھارت کي دھمکياں صرف گبز تک ہي محدود نہيں رہي بھارتي بورڈ کا اگلا نشانہ انگلينڈ کے سابق اسپنر مونٹي پنيسر تھے۔ سابق انگلش اسپنر نے ویڈیو بیان میں کہا کہ بی سی سی آئی نے تمام کرکٹ بورڈز کو کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں کھلاڑیوں کو نا بھیجنے کا کہا ہے۔ انگلش بورڈ نے مجھے بتایا ہے کہ کے پی ایل کھیلنے کی صورت میں بھارتی ویزہ نہیں ملے گا، بھارتي دھمکيوں کے بعد مونٹي پنيسر کشمير پريميئر ليگ سے دستبردار ہوگئے۔ دوسری جانب بھارت کی دھمکیوں کے باوجود سابق سری لنکن کپتان تلکارتنے دلشان نے کے پی ایل کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے کشمیرپریمئیرلیگ کو ”نامنظور” کروانے کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو درخواست بھي دي۔ جس ميں بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کے رکن ممالک کو بھی کشمیر لیگ کے بائیکاٹ کا کہا ہے مگر آئي سي سي نے بھارت کي ايک نہ سني اور بھارتي بورڈ کي درخواست مسترد کردي۔ آئی سی سی کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر پریمیئر لیگ کو پاکستان کرکٹ بورڈ( پي سي بي ) نے منظور کیا ہے، غیرانٹرنیشنل کرکٹ کی منظوری یا غیر منظوری آئی سی سی کا دائرہ اختیار نہیں۔

    بھارتی بورڈ کی دھمکیوں پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اس معاملے کو آئی سی سی کے فورم پر اٹھائيں گے ايسے طرز عمل کو برداشت نہيں کيا جاسکتا۔ پی سی بی نے کہا کہ اس طرح کا قدم اٹھا کر بھارت نے کھیل کے بین الاقوامی معیار اور جنٹل مین گیم کی روح کو پامال کیا ہے۔ بي سي سي آئي نے غيرملکي کھلاڑيوں کو روک کر کھيل کو بدنام کيا۔ يہ طرز عمل کسي بھي طور پر قابل قبول نہيں

    بھارتي بورڈ کي سازشيں کشمير پريميئر ليگ کا پہلا ايڈٰيشن منسوخ تو نہ کراسکي مگر بھارت کي دھمکيوں سے ڈر کر کئي غير ملکي کھلاڑيوں نے ليگ ميں شرکت سے انکار کرديا۔ کشمير پريميئر ليگ کا پہلا ايڈيشن 6 اگست سے مظفر آباد ميں شروع ہوگا۔

  • بدعنوانی سے لت پت ریاست۔  تحریر: غلام نبی بلوچ

    بدعنوانی سے لت پت ریاست۔ تحریر: غلام نبی بلوچ

    پاکستان میں الیکشن اور دھاندلی کا چولی دامن کا ساتھ ھے یہ رشتہ برسوں پرانا ھے کچھ روز قبل ریاست أزاد جموں کشمیر میں انتخابات ہوئے جس میں پاکستان تحریک انصاف نے واضع برتری حاصل کی اور سادہ اکثریت سے حکومت بنا لے گی۔ اس انتخاب میں تحریک انصاف کی پہلی پوزیشن آئی دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی اور تیسرے نمبر پر مسلم لیگ ن ۔
    ان انتخابات میں واضع تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی تحریک انصاف کی حکومت تو وفاق میں ہے ہی سب کو معلوم تھا کہ تحریکِ انصاف واضع برتری حاصل کر لے گی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ن لیک سے زیادہ سیٹیں کیسے حاصل کر لیں حالانکہ ن لیگ کےجلسے زبردست ہوۓ اور ن لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز نے اسے بھی 2018 کی طرح دھاندلی والے انتخابات کی طرف جوڑ دیا اس کے علاؤہ حال ہی میں سیالکوٹ میں ضمنی انتخابات ہوئے جس میں تحریک کے ممبران نے دس ہزار کے ووٹ سے پنجاب اسمبلی کی سیٹ جیتی جو ن لیگ گزشتہ تیس برس سے جیتتی آرہی تھی ن لیگ کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ اس میں حکومتی مشینری کا بھی بے دریغ استعمال ہوا اسی وجہ سے تحریک انصاف جیتی البتہ ن لیگ شہباز گروپ کے لوگوں نے اس انتخابات میں دھاندلی کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف کو مبارکباد دی۔
    مبارک باد دینے والوں میں ملک احمد خان اور نوشین افتخارتھے اگر ہم پیچھے ماضی کی طرف چلےجائیں تو ہر الیکشن متنازعہ رہا ہر الیکشن میں دھاندلی کا شور برپا ہوتا رہا 2018 کے عام انتخابات کی بات کی جائےتو تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر اس الیکشن کو دھاندلی زدہ کہا یہاں تک کہ عمران کو سلیکٹڈ بھی کہا گیا دھاندلی کی وجہ سے۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں واضع دھاندلی ہوئی اور انہوں نے حکومت گرانے کے لیے ایک اتحاد بھی قائم کی جو اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ناکام رہا اس طرح 2013 کے انتخابات کی بات کی جائے تو اس انتخاب میں دھاندلی پر بڑی بڑی تحریکیں چلیں عمران خان نے اسلام آباد ڈی چوک پر 126 دن دھرنا دیا اور عمران خان کا مؤقف تھا کہ یہ دھاندلی زدہ انتخابات ہوئےجو ہمیں قبول نہیں۔ اگر ن لیگ یہ کہتی ہے کہ صاف شفاف الیکشن ہوئےتو ہم انہیں چار حلقے دیتے ہیں یہ اوپن کرائیں پتہ چل جائےگا کہ دھاندلی ہوئی یا نہیں لیکن حکومت وقت نے ان کی بات کو مسترد کردیا ۔
    پاکستانی الیکشن کی بھی ایک مکمل داستان ہے اور قریباً ہر الیکشن متنازعہ رہا اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے یقیناَُ وقت کا تقاضا بھی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے صاف شفاف الیکشن کروائیں تاکہ جو ہار جائیں وہ اسے صاف شفاف تسلیم کرے اور دھاندلی کا شور نہ مچائے۔ دھاندلی کے شور شرابے کی وجہ سے اپوزیشن کے لوگ اپنے کارکنان کو احتجاج کرنے کے لیے بلاتے ہیں اور بلا سوچے سمجھے اپنے لیڈران کے ہمراہ آجاتے ہیں اور روڈ بندکرتے دکھائی دیتے ہیں اور ملکی املاک کا نقصان کرتے ہیں جو مملکت خداداد کے حق میں بالکل نہیں ھے اور نہ ہی یہ نظریہ اقبال اور قائد کا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے تمام سیاست دان اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر صاف شفاف الیکشن کروانے کے لیے متفق ہوجائیں اور آنے والے انتخابات ٹیکنالوجی کے ذریعے کروائیں تاکہ عوام کو بھی پتہ چلے کہ الیکشن کون جیتا کون ہارا جب صاف شفاف الیکشن ہو جائیں تو آدھے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے اور مملکت پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گی۔انشااللہ
    Twitter id:@GN_bloch

  • فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار

    فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار


    جب سے یہ دنیا بنی جرائم ہمیشہ سے ہیں.یہ دنیا خطا کہ پُتلے "انسانوں "کی ہے. حق و باطل, اچھائ و برائ کی یہ جنگ رہتی دنیا تک جاری رہنے والی ہے.یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ سب فرشتہ صفت ہو جائیں کوئ گنہگار نہ بچے اور یہ دنیا جنت کا منظر پیش کرے.جہاں بہت سے اچھے لوگ ہیں جنکی وجہ سے انسانیت زندہ ہے وہیں کچھ لوگ انسانیت کے نام پر شرمناک دھبہ ہیں. اس دنیا میں اچھائ کی برتری اور بدی و جرائم کی سرکوبی کے لیے خالقِ کائنات نے دین ِاسلام میں واضح شرعی سزائیں مقرر فرمائ ہیں تا کہ نظام ِعدل سر بلند رہے اور دنیامیں اچھائ کو برائ پر فوقیت رہے. .نبیِ آخر الزماںﷺ کے مبارک دور سے خلفائے راشدین اور جب تک اسلام سپر پاور رہا,مسلمانوں کا دورِ عروج رہا یہ صرف تب تک تھا جب تک امتِ مسلمہ نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا.اور دنیاوی و دینی تعلیم ہو,میدانِ سیاست ہو یا نظامِ عدل ہر جگہ احکامِ الہی کو مدِ نظر رکھا جاتا رہا.سخت شرعی سزاؤوں کا نفاظ رہا.حکمران اپنے آپ کو رعایا کے جان و مال کا امیں سمجھتے رہے.وقت کا سفر جاری رہا مسلمانوں نے عروج سے زوال کی سیڑھی پر قدم رکھا حاکم سے محکوم ہوئے.. بظاہر اسلامی ممالک رہے مگر جدید دنیا کے تقاضوں اور مغرب کی اندھی تقلید میں اسلامی نظام اور قوانین کو کہیں پسِ پشت ڈال دیا گیا.اسلامی سزائیں مغرب کے کہنے پر "انسانیت "کے نام پر ختم کر دی گئیں. یہاں سے انسانیت کے شرمناک دور کا آغاز ہوا ہر آنے والے وقت میں جرائم, نا انصافی کی شرح پہلے سے بڑھتی گئی.غرباء اور بے بس لوگوں کی عزت دو کوڑی سے بھی کم خون پانی سے سستا ہوتا گیا. نظامِ عدل, انصاف,قوانین صرف نام کے رہ گئے.عدالتیں اور فوری انصاف صرف اشرفیہ جاگیرداورں,سیاست دانوں , بیوروکریسی اور طاقتور لوگوں کا حق بن گیا.کیس اپنی مرضی کی عدالت میں لگوا کر,مرضی کا مصنف خرید لینا اور فیصلہ بھی مرضی کا یہ عام سی باتیں بن کہ رہ گئی ہیں. شاہ زیب قتل کیس سے زین قتل کیس اور سانحہ ماڈل ٹاؤن سے سانحہ یتیم خانہ چوک لاہور تک ہزاروں مثالیں ہیں. غریبوں کے لیے فوری انصاف حاضر ہے جب کہ غرباء میں اگر مقتول قتل ہوتا ہے تو لواحقین کی وکلاء کی مہنگی فیسوں اور عدالتوں کے چکروں میں زندگی تمام ہوتی ہے اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ملزم پابندِ سلاسل وفات پا جائے بعد میں عدالت میں بے گناہی ثابت ہو. ایسی مثالیں بھی ہیں نوجوانی میں بے گناہ لوگ اس اندھے نظام کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور بالوں میں سفیدی آنے پر انہیں باعزت رہائ کا پروانہ ملتا ہے ان رسمی لفظوں کے ساتھ کہ نظامِ عدل آپکی ساری زندگی ضائع کر دنیے پر معزرت خواہ ہے.یہ معزرت ہے یا بدترین مذاق؟ہزاورں بے گناہ زینب /ماہم / نور مقدم ہوس کے پجاریوں کی بھینٹ چڑھتی ہیں 100 میں سے ایک کو سزا ملتی ہےاور باقی چند سال سرکاری مہمان پر جیل میں رہتے اور رہائ پاتے ہیں.مجرم طاقت ور ہو تو ایف آی آر تک درج نہیں ہوتی. آج اپنے نظامِ عدل سے ذرا سی واقفیت رکھنے والا شخص آسانی سے نور مقدم کیس کا مستقبل بتا سکتا. ملزم کو ذہنی مریض ثابت کیا جائے گا ,ڈی این اے رپورٹ تبدیل ہوگی یا تھراپی ورکرز میں سے کسی کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے یا انکے بیانات بدلوا لیے جائیں گے.یہ ہے ملک کا جوڈیشنل سسٹم.مقتول لاشوں کو کندھوں پر رکھ کے پھرتے ہیں, بے گناہ کے آنسو انکے گریبانوں پر گرتے ہیں پتھر دل نظامِ عدل کے علمبرداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی.

    کچھ سرعام ،کچھ پسِ دیوار بکتے ہیں !
    اس شہر میں ضمیر بکتے ہیں!
    یہاں تہزیب بکتی ہے !
    یہاں فرمان بکتے ہیں!
    ذرا تم "دام ” تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟کیا ہم مسلمان ہیں اس اسلام کے پیروکار ہیں جسکے رہنما سیدنا محمدﷺ کا عدل یہ تھا کہ فرمایا میری جان سے عزیز بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی چوری کریں تو انکے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دوں. ہمارے اسلاف /ہمارے رہنما وہی عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نہیں کہ گلیوں میں گشت فرما رہے تھے بوڑھی عورت ملی نا جانتے ہوئے کہ یہی تو امیرَالمومنین عمر رضی اللہ عنہ ہیں شکوہ شکائیت کرنے لگی کہ عمر میرے حال کی خبر نہیں رکھتا.آپ نے کہا اماں جی عمر کو اتنی بڑی سلطنت میں آپکے مسائل کا علم کیسے ہوگا؟اگر آپ خود نہیں بتائیں گی.. بوڑھی عورت نے تاریخی جواب دی کہا کہ عمر کو چاہیے اتنی ہی زمیں پر حکمرانی کرے اور اتنے ہی لوگوں کا خلیفیہ بنے جنکی خبر رکھ سکے.آپ کا دل ہِل کے رہ گیا اور فوراً خبر گیری کی مہم تیز تر کردی.عدل کیسے قائم ہوتا منصف/ حکمران کیسے ہوتے ہیں تو کوئ عمرِ فاروق کو دیکھے فرماتے "قوم کا سچا حکمران قوم کا خادم ہوتا ہے”.راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر پہرا دیتے.خوفِ خدا اور اقتدار کی جواب دہی کا ڈر اسقدر کہ فرماتے اگر دریائے فرات کے کنارے عمر کی خلافت میں ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر بارگاہِ الہی میں جواب دہ ہو گا. اس ایک بات سے وطنِ عزیز کے بوسیدہ نظامِ عدل کی تمام تر وجہ سمجھ آجاتی ہے کہ عمرِ فاروق کتے کی جان کو بھی سراسرا صرف اور صرف اپنی ذمہ داری قرار دیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران ہر روز سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع پر محظ رسمی, مذمتی تقاریر اور کبھی نظام کو موردِ الزام ٹھہرا کہ فارغ ہو جائیں. نظام حکمران نے درست کرنا ہے بروزِ قیامت ہرنگہبان/حکمران سے سے ہی رعایا کے حقوق کی جواب دہی ہو گی.”فاروقی عدل ” وقت کی ضرورت ہے. حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ حکمرانی کا مطلب عوام کی خدمت اور منصفانہ نظام کا قیام ہے.اقتدار کو مسندِ عیاشی سمھجنے اور دن رات صرف سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اصل ذمہ داری کی کی طرف آنا ہو گا جو کہ جو کہ رعایا کے جان و مال کا تحفظ اور منصفانہ معشرے کا قیام ہے.یہی پاکستان کی معاشی ترقی اور ہر میدان میں عروج کا راز ہو گا کیونکہ معاشرے عدل پر پھلتے پھولتے اور سپر پاور بنتے ہیں.جس وطن میں مظلوموں, بے بسوں کی آہیں ہوں.طاقتور کے لیے معافی اور بے بس اور چھوٹے لوگوں کے لیے سزا ہو. وہاں لاکھ کوئ ایک کے بعد ایک نام نہاد بہترین حکمران بدلے.. معاشی ترقی کے لیے بہترین سے بہترین پالسیز /منصوبے بنیں عدل سے روگردانی کرنے والے معاشروں کا مقدرصرف تباہی ہے.آج بھی نظامِ مصطفیﷺ کی روشنی میں مکمل اسلامی سزاوؤں کا نفاذ ہو,حکمران حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلیں تو یہ معاشرہ جنگل بننے سے بچ جائے.اور عجب نہیں کہ دنیا فاروقی عدل اور امتِ مسلمہ کی کھوئ ہوئ شان و شوکت ایک بار پھر دیکھے.
    ‎@SMA___23‎

  • اسلام اور سیاست  تحریر: رانا محمد جنید

    اسلام اور سیاست تحریر: رانا محمد جنید

    یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور پچھلی بہت سی دہائیوں سے چلتا آ رہا ہے،
    کیا اسلام سیاست کی اجازت دیتا ہے،کیا اسلام میں سیاست کا کوئی کردار ہے۔؟
    یقیناً یہ سوال آپ بھی بہت دفعہ سن چکے ہوں گے،
    اور یہ کے جوابات بھی بہت الگ الگ قسم کے ہوتے ہیں
    کچھ لوگ کہتے ہیں اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
    اسلام صرف اور صرف عبادات کا ہی نام ہے۔
    پر کیا یہ حقیقت ہے اسلام اور سیاست جدا جدا ہیں۔۔۔۔؟
    اور یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سوال پیدا کب ہوا۔
    کیوں لوگوں کو ایسا بولنا پڑا کے اسلام اور سیاست جدا جدا ہیں
    اگر ہزاروں سال پیچھے جا کے دیکھا جائے اور اسلام کی تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو ہمیں یہ پڑھنے کو ملے گا اللہ پاک جب بنی اسرائیل کی طرف کوئی نبی بنا کے بھیجتا تھا تو اسے نبی کے ساتھ ساتھ حاکم بھی بنا کے بھیجا جاتا تھا
    جب ایک نبی وفات پا جاتا تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ پر آ جایا کرتا تھا
    نبی کریم خاتم النبیین محمدﷺ نے ارشاد مبارک فرمائے:

    ‏بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کرام کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں
    (صحیح بخاری باب الانبیاء ذکر بنی اسرائیل حدیث 3455)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئیے گا اس لیے صحابہ کرام امت کے رہنمائی کے لیے خلیفہ بن کے آئیے
    اور خلیفہ وہ ہی بنا کرتا تھا جو جتنا زیادہ متقی اور پرہیز گار ہوتا تھا
    خلافت کے بعد ملوکیت شروع ہوئی جو کے اسلام کے ساتھ ساتھ چلتی آئی
    اور پھر اس کے بعد بادشاہت کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمان بہت سارے حصوں میں تقسیم ہو گئے
    اس کی وجہ دین دشمنوں کو دین اسلام کا ڈر تھا کے اگر مسلمان متحد رہے اور اسلام کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو ان کو روکنا ممکن نہیں۔
    اس لیے یہود و نصارٰی نے مسلمانوں کو آپس کے اختلاف میں ڈال کے سرحدوں میں تقسیم کر دیا
    اور مسلمان حکمرانوں اور نوجوان نسل میں یہ بات زہر کی طرح شامل کر دی کی اسلام اور سیاست جدا ہیں۔
    جب تک کوئی پرہیز گار شخص حاکم نہیں بنے کا تب تک دین دشمنوں کو اسلام کے کوئی خطرہ ہی نہیں
    اور یہ ہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے علماء اکرام کو حکومتی معاملات سے الگ کر دیا گیا
    چاہے وہ بادشاہت نا نظام ہو یا جمہوری نظام

    علامہ محمد اقبال نے کیا خود کہا تھا

    جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
    جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

    اگر ہم اسلام اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کریں گے تو ہمارے پاس انگریزوں کا ظالمانہ نظام جمہوریت کی شکل میں ملے گا جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے
    آج کا ہر مسلمان حکمران اسلام کی خدمت کو چھوڑ کر اپنے ملک اور اپنی سرحد کی فکر میں ہے، اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے گلے کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں
    اگر مسلمان حاکم مل بیٹھ کر اپنے معمولات کو اسلام کی رو سے حل کریں کی کوشش کریں تو ممکن ہے مسلمان ایک بار پھر سے متحد ہو سکتے ہیں اور اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس پا سکتے ہیں
    پر اس کے لیے سب کو اسلام کے بارے سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرنا لازم ہے
    ایران کے سپریم لیڈر امام خمینی صاحب نے کیا خوب کہا ہے

    ”ہمارا دین عین سیاست اور ہماری سیاست عین دین ہے“

    ہمارا اسلام ہمیں سیاست کے بہترین اصول فراہم کرتا ہے
    اور اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے

  • ‏ہمارا سیاست میں کیا کام    تحریر؛ طیب شبیر

    ‏ہمارا سیاست میں کیا کام تحریر؛ طیب شبیر

    پاکستان کا موجودہ سیاسی نظام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ آج کوئی ایماندار اور قابل آدمی آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو یہ اس کے لیے ناممکن بات ہو گی۔
    بلکہ آج تو یہ تک کہا جاتا ہے کہ سیاست شریف آدمی کا کام نہیں۔
    آخر کیوں ہم یہ نہیں چاہتے کہ اچھے لوگ سیاست میں آئیں کیوں ہم نہیں چاہتے کہ ہم اپنے انتظامی معاملات کسی اچھے انسان کے سپرد کریں۔؟
    جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے انبیاء انکی سیاسی رہنمائی فرماتے تھے۔

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی راہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب ایک نبی وفات پا جاتے تو دوسرے نبی ان کی جگہ آ جاتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تو پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: ”خلفاء (نائب) ہوں گے اور بہت ہوں گے، ان کا حق انہیں ادا کرو، اور اپنے حق کے متعلق اللہ سے سوال کرو۔“
    صحيح البخاري #3455
    یہ ناانصافی ہمارے ساتھ جو کی گئی ہمارے بڑوں کی طرف سے کی گئی ہے جن کی نیت تو اچھی تھی لیکن انکو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اسکا نتیجہ اس صورت میں نکلے گا۔
    کچھ لوگوں نے خود کو اس ذمہ داری سے اس لیے بھی دور رکھا کہ کل اللہ کے حضور اسکا حساب دینا پڑے گا۔

    کچھ نے سوچا سیاست تو کسی شریف النفس آدمی کا کام نہیں
    کچھ نے کہا ہمارا کیا لینا دینا سیاست سے ہم تو غیر سیاسی ہیں۔
    ہمارے غیر سیاسی ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند مالدار لوگوں نے اہل نہ ہونے کے باوجود اس ذمہ داری کو سنبھال لیا اور اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے پیسے کا استعمال کیا اور پھر اپنے پیسے کے نقصان پورا کرنے کے لیے ہمارا ہی پیسہ لوٹا ۔
    انتخابات میں پیسے کا استعمال اس قدر کیا جاتا ہے کہ اب کوئی غریب ایماندار آدمی تو انتخابات میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
    مسئلہ یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی ہم وہیں پر کھڑے ہیں آج بھی ہم کسی شریف اور ایماندار آدمی کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتے آج بھی کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اسکا اپنا بیٹا بھتیجا یا کوئی عزیز اگر اس میں قابلیت ہے تو وہ آگے آئے اور انکے معاملات کو سنبھالے ہم لوگ بس انہی چند خاندانوں کے نعرے لگا کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔
    آج بھی خاندان سے ایک شخص آٹھے گا اور کسی بدعنوان شخص کے چار نعرے لگائے گا کسی نااہل بندے کے ساتھ دو تصویریں بنائے گا اور پورے خاندان کی ووٹیں تھالی میں رکھ کر پیش کر دے گا ۔
    آج اگر ہم بھی اپنے بڑوں کے اسی قول پر قائم رہے کہ “ ہمارا سیاست میں کیا کام “ تو جو ناانصافی ہمارے ساتھ کی گئی ہم آنے والی نسل سے اس سے بھی بڑی ناانصافی کریں گے۔