Baaghi TV

Category: سیاست

  • اداروں کی تباہی کے اسباب تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    اداروں کی تباہی کے اسباب تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    پاکستان اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت ہے۔ جہاں پاکستان کو معدنیات سے خود کفیل کیا گیا وہاں قدرتی حسن نے پاکستان کی زمین کو چار چاند لگا رکھے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات جہاں پہاڑوں اور چٹیل چٹانوں میں سبزہ تو کبھی برف سے لدے دکھائی دیتے ہیں وہیں میدانی اور شہری علاقوں کی رونقیں اس کو ہر طرح کے ماحول سے آراستہ کررہی ہیں۔
    کہیں صحراوں کی بیابانی ہے تو کہیں دریاؤں کی سرسراہٹ۔ الغرض پاکستان اپنے حسن کے لحاظ سے خود کفیل ملک ہے۔ پاکستان دفاع کے لحاظ سے بھی بھی صف اول کی قوموں میں شمار ہوتا ہے خواہ وہ ماضی کے ایم ایم عالم ہوں یا حالیہ 27 فروری کے شیر جوان یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان کرپشن میں بھی خود کفیل ہے۔ جس نے اس کے ہر سول ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ماضی کے اوراق دیکھیں تو پتا چلتا یے کہ کہیں سفارشوں اور رشوت کے انبار لگے نوکریاں بیچی گئیں۔ تو کہیں اپنے زاتی کاروبار کو سامنے رکھتے ہوے اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پی آئی اے، ریلوے اور سٹیل مل آج بھی اس ظلم کی دل خراش داستان ہے۔
    ماضی کی بادشاہت نے قوم کو غلامی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ آج پاکستان بیرونی طور پر مقروض ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سول اداروں کی وجہ سے اپاہج بھی ہے۔ میرٹ اور ٹیلنٹ کے قتل عام کے بعد جو قوم اداروں میں بٹھائی گئی اس کے نتائج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عیاں ہو رہے ہیں۔
    ایک بات تو صاف ہے جو لوگ ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ان کی مثال لاجواب ہےلیکن یہاں بات ان کی ہو رہی جنہوں نے رشوت اور اقربا پروری کا بازار گرم کر رکھا ہے.

    جس کے پاس نوکری نہیں وہ نسل در نسل میرٹ کے قتل کی وجہ سے پرائیویٹ اداروں کی رسم مہربانی پر لگے ہوئے ہیں. لیکن جن کے پاس نوکریاں ہیں ان کی نسل در نسل چلتی آ رہی ہے.

    رہی سہی کسر رشوت کے انصاف اور اقربا پروری کی نوکریوں نے نکال رکھی ہے. جس کا آخر کار نقصان ادارے کو ہی ہوتا ہے. نا میرٹ پر بھرت ہوتی ہے نا کام کرنے والے اہل لوگ منتخب ہو پاتے ہیں نا ادارہ ترقی کرتا ہے. آج اگر سٹیل مل جیسے ادارے خسارے میں ہیں تو ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے. مزید یہ کہ سرکاری اداروں میں بیٹھ کر اپنا کاروبار چمکانا اور اپنے کمپنی کو کاروبار دینا معمول بن چکا ہے.
    پی آئی اے اور ریلویز کی ماضی کی تباہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے. آج بھی یہ ادارے اہنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں.
    موجودہ حکومت اپنے تئیں ان اداروں کے خسارے کو کم کرنے کی تگو دو میں مصروف ہے کیونکہ جب ادارہ خسارے کا شکار ہوتا ہے تو اس کا سارا بوجھ قومی بجٹ پر پڑتا ہے جس سے عوام کا پیسہ انہیں خساروں کو پورا کرنے میں لگ جاتا ہے اور سارے باقی ترقیاتی اور فلاح و بہبود کے منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں.
    اس روش کو ختم کرنا وقت کی اولین ترجیح ہے تاکہ قومی خزانے کو درست سمت دی جا سکے اور عوام کی فلاح و بہبود کو ملحوظ خاطر رکھا جا سکے.
    پاکستان کی قیادت کو ان مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے. جس سے میرٹ کا قتل نہ ہو. ادارے کا نقصان نہ ہو اور رشوت کی روش کو ختم کیا جاے تاکہ عام عوام کو ان اداروں سے اچھی سروس اور سہولیات مل سکیں اور مستقبل ادارے اپنی ترقی کی جانب ہی گامزن رہیں. جہاں میرٹ کا قتل نا ہوتا ہو رشوت کا بازار گرم نا ہو اور اقربا پروری فروغ نا پاتی ہو اس ادارے کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا. ہمیں بھی بطور انسان اپنے ادارے سے مخلص رہنا چاہیئے کیونکہ ادارے کی بقا ہی ہماری بقا ہے اور ادارے کی تباہی ہماری تباہی ہے.

    @EngrMuddsairH

  • جب بھارتی پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر دور مسلم کش فسادیوں نے رپورٹر کو زبردستی اپنا ساتھ دینے پر مجبور کیا ۔  تحریر: احمد علی عباسی

    جب بھارتی پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر دور مسلم کش فسادیوں نے رپورٹر کو زبردستی اپنا ساتھ دینے پر مجبور کیا ۔ تحریر: احمد علی عباسی

    ایک زمانہ تھا جب چن چن کر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانا ہندتوا کے غنڈوں کا معمول بن چکا تھا مگر پھر زمانہ بدلا تو انہی غنڈوں نے جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی تشدد کا راستہ اختیار کرلیا،مسلمانوں کے خلاف نت نئے نعرے تشکیل دیے گئے اور معاشی طور پر غیر مستحکم بنانے کے منصوبے بھی تیار کیے جانے لگے ۔ انہی نعروں میں سے ایک انتہائی خطرناک نعرہ آر ایس ایس نے ہی تشکیل دیا جس کو گلی گلی پھیلایا جانے لگا اور وہ نعرہ یہ تھا”جب ملے (مسلمان) کا ٹے جائیں گے ۔ ۔ ۔ تو رام رام چلائیں گے” ۔ پہلے پہل تو یہ نعرہ بھارت کے کوچوں اور بازاروں میں استعمال کیا جاتا رہا مگر اتوار کے روز تو یہ اور اس جیسے کئی اور نفرت انگیز نعرے بھارت کے دارلحکومت دہلی میں موجود پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر کی مسافت پر بلند کیے گئے ۔ اس مارچ کا اہتمام ویسے تو بی جے پی دہلی کی جانب سے انگریز دور کے فرسودہ قوانین کے خاتمے کے لیے تھا مگر نجانے کیوں اس میں بھی نشانہ مسلمانوں کو ہی بنایا گیا ۔ نیشنل دستک نامی چینل کے رپورٹر "انمول پریتم” جب جنتر منتر نامی مقام پر ہونے والے اس احتجاج کی کوریج کرنے کے لیے پہنچے تو انتہا پسندوں نے ان کا بھی گھیراو کرلیا اور ان کو "جے شری رام”کے نعرے لگانے پر مجبور کرنے لگے ۔ انمول نے بی جے پی کے غنڈوں میں گھرِ جانے کے باوجود نعرہ لگانے سے صاف انکار کردیا ، جس پر مشتعل ہجوم نے ان کوزردوکوب کرنا شروع کردیا ۔ پریتم کا کہنا تھا کہ بھاری تعداد میں پولیس کی موجودگی کے باوجود ملک کے دارلحکومت میں مسلمانوں کے خلاف نعرے لگنا انتہائی فکر انگیز بات ہے، ملک میں پچھلے کئی سال سے ایک ہندو اکثریت والی جماعت کی حکومت ہے اس کے باوجود ہندووں کے اس احتجاج پر میرے کئی سوالات ہیں ۔ پریتم نے پھر کچھ مظاہرین سے ہندوستان میں غربت کے خاتمے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں کے بارے میں پوچھا ۔ پریتم نے مزید بتایا کہ، جب انہوں نے ہجوم سے پوچھا کے وزیر اعظم نے خود غریبوں کو کھانا کب دینا ہے؟ تو ہجوم مشتعل ہو گیا اور لوگ اس پر چیخنے لگے اور پوچھنے لگے کہ کیا وہ "جہادی چینل” سے ہے ۔ اس دوران گروپ کا ایک آدمی آیا اور مظاہرین سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ بات نہ کریں کیونکہ ہم اپنے چینل پر ان کی بات نہیں دکھائیں گے ۔ پورے گروپ نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ہم ایک "جہادی چینل” ہیں ۔
    پریتم نے کہا کہ اس نے اعتراض کیا ، میں نے کہا کہ میں آپ کی بات ٹیلی ویژن پر دکھاوں گا، براہ کرم ہم سے بات کریں ۔ اس کے بعد گروپ نے مجھے گھیر لیا اور مجھ سے "جئے شری رام”اور "وندے ماترم”کے نعرے لگانے کو کہا ۔

    انہوں نے کہا کہ انہوں نے ’’وندے ماترم‘‘ اور ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ لگایا لیکن ’’جے شری رام‘‘ کہنے سے انکار کر دیا کیونکہ، ان کی ذاتی رائے میں یہ ایک سیاسی نعرہ ہے ۔ یہاں پر ایک بات قابل ِ زکر ہے کہ اس احتجاج میں ابھی پڑھے لکھے لوگ شامل تھے جو بھارت کے دارلحکومت میں رہتے ہیں ، انہوں نے مل کر مسلمانوں کے خلاف اس قدر نفرت کا اظہار کیا ہے تو اتر پردیش یا بھارت کے کسی اور دور دراز کے علاقے میں مسلمانوں کا کیا حال ہوتا ہوگا،جہاں نا ہی تو میڈیا کوریج دیتا ہے اور نا ہی لوگ ذیادہ پڑھے لکھے ہیں ۔ یہ بات صاف ظاہر ہوگئی کے اگر بھارت کے ہندووں نے اس جنونی جماعت کو نا روکا تو جو سلسلہ مسلمانوں کے استحصال سے شروع ہوا تھا وہ ہندووں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔ اب کوئی یہ سمجھتا ہے کہ و ہ مسلمان نا ہونے کی وجہ سے ان دہشتگردوں سے خود کو بچا پائے گا تو یہ اس کی بھول ہے کیونکہ ظلم کا ساتھ دینے والے یا خاموش رہنے والے کی سزا شاید ظالم کے ہاتھوں ہی لکھی ہوتی ہے ۔

  • بیرون ملک پاکستانی کو ووٹ کا حق   تحریر چوہدری عطا محمد

    بیرون ملک پاکستانی کو ووٹ کا حق تحریر چوہدری عطا محمد

    ‏ ‏اگر آپ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں اور اگر آپ کا تعلق ابھی ن لیگ یا پیپلزپارٹی سے ہے، تو اب سوشیں ضرور ن لیگ اور پیپلز پارٹی جس نے صرف ہمارے پاکستان بھیجے ہوۓ پیسے سے پیار کیا ہے وہ دونوں جماعتیں آج ہمارے بنیادی حق ہمارے ووٹ والے بل کی مخالفت کر رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں ہمیں ملکی حالات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں
    محب وطن اوررسیز پاکستانیوں انشاءاللہ وزیر اعظم عمران خان یہ حق دلایں گے اور ہم 2023کے الیکشن میں ان دونوں بڑی جماعتوں کو اپنے ووٹ کے زریعے بتائیں گے کہہ ہمیں ملکی حالات معشیت اور ملکی سیاست کے بارے میں معلوم ہے یا نہیں

    اوورسیز پاکستانی سیاست کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے اوپر لوکل سیاسی پارٹیوں کے پالے ہوۓ بدمعاشوں اور پولیس اور پٹواریوں کا دباؤ نہیں ہوتا اور نہ ہی ہم قیمہ والے نان اور بریانی کی پلیٹ کا لالچ ہوتا ہے جناب سیاست اگر خدمت اور حبُ الوطنی کا نام ہے تو اورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ سب سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۰اور اگر منی لانڈرنگ جھوٹ، کرپشن کمیشن مکروفریبی اور مُلک لوٹ کر لندن اور جدہ میں چُھپنے کا نام ہے تو وہ آپکے اوورسیز نواز شریف کو ہی مبارک ہو۰

    اوورسیز پاکستانیوں کے کیا صرف پیسے ہی چائیے جناب آپ کو صرف یہی چائیے کہ ہم پیسہ بھیجتے رہیں اور آپ اس پیسے سے عیاشی کرتے رئیں منی لانڈرنگ کرتے رئیں لطف اندوز ہوتے رئیں
    آپ لو ہم سے اور کچھ نہیں چائیے

    جناب احسن اقبال سمیت ن لیگ اور پیپلز پارٹی سن لیں ہم اوورسیز پاکستانی پاکستان کے تمام مسائل سے مکمل آگاہ ہیں ہمیں پاکستان سے اس لئے بھی محبت زیادہ ہے کیونکہ ہم یہاں پر پردیسی ہیں جہاں ہم ہیں ہمیں وہاں وطنی نہیں خارجی کہتے ہیں اس لئے ہمیں پاکستان سے پاکستان میں رہینے والے کی بنسبت زیادہ پیار ہے جناب ہمارا دل تو پاکستان کے ساتھ ہی دھڑکتا ہے ہم پاکستان کے تمام تہوار زیادہ جوش و جزبہ سے ادھر ہر سال مناتے ہیں
    ہمارا کون سااتنا بڑا قصور ہے کہہ ہمیں ہمارا بنیادی حق ووٹ ڈالنے کا حق بھی نہ ملے کیوں احسن اقبال صاحب کیوں کیا اوورسیز صرف اس لئے ہیں کہہ جب تک جسم میں جان ہے ہم پیسہ کمائیں پاکستان بھیجیں جب جسم سے جان نکل جاۓ تو ہمیں بس پاکستان میں دفن ہونے کی ہی اجازت ہو

    کیا کہوں کیسے یہ سب آپ کر لیتے ہیں دوہرا معیار آپ کو یاد کراؤ آپ کا لیڈر نواز شریف اور اسکے بچے بھی سب اوورسیز ہیں آپ سب کے بچے چھٹیاں منانے پڑھائی کرنے سب بیرون ملک ہی جاتے ہیں

    اسحاق ڈار اوورسیز میں رئیتے ہوۓ ملک کے ایوان بالا میں سینٹر منتخب ہو سکتا ہے
    محترمہ کلثوم نواز صاحبہ لندن میں بیماری کی حالت میں دوران علاج ہسپتال کے بیڈ سے لاہور سے الیکشن جیت کر ایم این اے منتخب ہو سکتی ہیں

    لیکن جو ہم مخنت و مزدوری کر کے حق حلال کی کمائی پاکستان بھیجتے ہیں ہمیں ووٹ ڈالنے کا بھی حق نہیں یہ ہمارے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے یہ ہماری توہین ہے جو ن لیگ اور احسن اقبال نے کی ہے کہہ ہمیں ملکی حالات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں

    انشاءاللہ ہم اورسیزز پاکستانی یہ بات یاد رکھیں گے بھولیں گے نہیں کہہ کون ہمیں ووٹ کا حق دلانا چائیتا ہے اور کون کون ہمیں ہمارے بنیادی حق سے محروم رکھنا چائیتا ہے
    احسن اقبال صاحب کیا پاکستان پر ہمارا بھی اتنا ہی حق نہیں ہے جتنا پاکستان میں رئینے والے ہمارے بہن بھائیوں کا ہے
    ہمیں مُلکی حالات کا سب پتہ ہے تبھی تو خان کے ساتھ کھڑے ہیں۰

    اللہ تمام بیرون ملک پاکستانیوں سمیت امت مسلمہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • پاکستان اور سیاستدان  تحریر:شمسہ بتول

    پاکستان اور سیاستدان تحریر:شمسہ بتول

    14 اگست 1947 سے لے کر اب تک اگر ملک پاکستان کے حق میں کوٸی صحیح معنوں میں مخلص رہا ہے تو وہ صرف قاٸداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح تھیں جنہوں نے اس کے لیے دن رات جدوجہد کی تھی ۔ ان کے جانے کے بعد پاکستان کے مساٸل میں مزید اضافہ ہو گیا اور معاشی حالت ابتری کی طرف چلی گٸی اس کی بڑی وجہ تقسیم کے وقت اثاثہ جات کی غیر منصفانہ تقسیم بھی تھی اور پھر قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد قاٸداعظم کا اس دنیا سے چلے جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوا۔ اس کے بعد بہت سے سیاستدان آۓ جنہوں نے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالی اور مارشل لاء بھی لگے لیکن ملک کی حالت میں کوٸی خاص بہتری نہیں آٸی۔
    اور پھر کچھ سیاستدانوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے اور زاتی مفادات کی وجہ سے پاکستان ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور یوں پاکستان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں معاشی بدحالی اور معاشرتی مسائل کی بڑی وجہ سیاسی عدم و استحکام ہے۔
    سیاستدانوں نے تقریباً ایک فیصد کام کیا اور ننانوے فیصد ملک کے وساٸل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ۔ سیاستدانوں کی طاقت کے غلط استعمال اور کرپشن اور سفارشات کی وجہ سے ہمارے قومی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچا ہے
    مگر ہم لوگوں نے کبھی سوال نہیں پوچھا کہ ہمارے وطن عزیز کے اثاثہ جات کو نقصان پہنچانے والوں سے یا ہم نے کبھی ان کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف آواز ہی نہیں اٹھاٸی بلکے خاموشی سے فقط اپنے کام سے غرض رکھی اور اس طرح ان کرپٹ سیاستدانوں کو شے ملتی رہی اور 74 سالوں سے یہ ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں.
    تعجب کی بات ہے کہ یہ سیاستدان حکمران بنتے ہی اپنے سارے فراٸض بھول جاتے جو کل تک یہ کہتے تھے کہ وہ پاکستانیوں ہمیں ووٹ دینا ہم آپ کے وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے آپکے مسائل حل کریں گے وہ الیکشن جیتنے کے بعد بھول جاتے کہ عوام بھی کوٸی شے ہے یا ان کے اس ملک کے زمے کچھ فراٸض ہیں بلکہ وہ تو جس سڑک سے گزرنا ہو وہاں پہ رکاوٹیں کھڑی کروا دیتے کہ یہاں سے عوام نہ گزریں کیونکہ ہم نے گزرنا ہے اس ملک کے اثاثوں اور غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ اپنی عیش و عشرت پہ اڑا دیتے
    اپنے بچوں کو باہر کے ملک میں تعلیم کے لیے بھیجتے باہر کے ملک میں کاروبار اور گھر بناتے وہاں پہ چٹھیاں گزارتے تو پھر الیکشن بھی وہیں لڑ لیا کریں وہیں حکمرانی بھی کریں مگر نہیں رہنا وہاں پر بچے وہاں کی یونیورسیٹیز میں پڑھانے علاج وہاں سے کروانا مگر حکومت پاکستان میں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان میں ان کرپٹ سیاستدانوں کا احتساب نہیں کیا جاتا انہیں فوراً سزاٸیں نہیں سناٸی جاتیں اس لیے یہ بے خوف خطر اپنی طاقت کا ناجاٸز استعمال کر کے ٹیکس چوری کرتے عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر بناۓگٸے پروگرامز کے فنڈز اپنے اکاونٹس میں جمع کرواتے اور تو اور جو ترقی یافتہ منصوبے ہیں ان میں بھی سستا اور ناقص میٹیریل لے کے باقی اپنے اکاونٹس میں۔
    یہ سیاستدان عوام کے مسائل سننا بھی مناسب نہیں سمجھتے مگر الیکشن کے وقت پھر سے عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کے نام پہ بے وقوف بنانا شروع کر دیتے اور غربت اور مہنگاٸی کی ستاٸی عوام مجبوراً یقین کر لیتی کہ شاید واقع ہی یہ ان کے حالات بدل دیں گے
    ہمارے ملک کے تقریبا ہر سیاستدان پر کرپشن کے اور دیگر کیسیسز چل رہے ہیں یہ کیسیسز خود بہ خود تو نہیں بنے بلکے انہوں نے کرپشن کی ملکی اثاثہ جات کا بے دریغ استعمال اور طاقت کا غلط استعمال کیا تبھی ان کے خلاف یہ کیسیز چل رہے اس لیے مہربانی کر کے اپنے آنکھوں سے زات پات اوربراری اور صوبوں کی بنیاد پہ ووٹ دینا اس پٹی کو اتار دیجیے صرف اورصرف پاکستان کی بہتری کے لیے ووٹ کاسٹ کریں۔ کسی بھی پارٹی کے ورکرز بن کر نہیں بلکے پاکستانی بن کے سوچیں کہ کون پاکستان کے ساتھ ہے حقیقی معنوں میں۔ جو لوگ ساری زندگی باہر گزاریں اور وہاں جاٸیدادیں بناٸیں وہ پاکستان کے مساٸل کو کیسے سمجھ سکتے کیسے انہیں حل کر سکتے کیونکہ انہوں نے تو یہاں رہنا ہی نہیں یہاں تو ہم نے رہنا ہے اور اسکی بہتری کے بارےمیں بھی ہمیں مل کر کوشش کرنا ہو گی😇

    ‎@b786_s

  • عوام کامستقبل اور حکومت   تحریر :معین وجاہت

    عوام کامستقبل اور حکومت تحریر :معین وجاہت


    کبھی ہمارا دھیان اس طرف گیا ہی نہیں کے ہماری اصل پرابلم کیا ہے ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکومت وقت اور حاکم وقت کو ٹھہراتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

    اخبار کے پہلے پیج پر ہم ایک مہلک بیماری کا ذکر سنتے ہیں مثلاً ہارٹ اٹیک جس کی وجہ ناقص گھی سے کولیسٹرول کا بڑھنا ہوتا ہے۔

    اور اخبار کی چھٹے پیج پر ایک خبر چھپی ہوتی ہے جس میں گھی کی ایک ایسی پروڈکٹ کی مشہوری دی جاتی ہے جو ابھی مارکیٹ میں لانچ ہی نہیں ہوئی ہوتی۔

    ہم نے کیا کھانا ہے اس کا فیصلہ ایک بزنس مین کرتے ہے اور ہم نے کیا پہننا ہے کیسا پہننا ہے اس کا بھی فیصلہ ایک بزنس مین کرتا ہے۔

    ہمارے ملک میں بڑھتے جرائم، منشیات، چوری، ڈاکہ اس سب کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہوتا ہے جس کا ہمیں علم ہی نہیں ہوتا وہ ہاتھ ہے ایک بزنس میں کا ہاتھ۔

    ہماری روز مرہ کی ضرورت ایک نزنس مین طے کرتا حتیٰ کے ایک میڈیسن جو ہم نے کھانی ہوتی ہے جو ڈاکٹر لکھتا ہے وہ بھی ایک بزنس مین کی ایڈوائز پر لکھی جاتی ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ حاکم وقت کرتا ہے لیکن حاکمِ وقت کے مستقبل کا فیصلہ ایک بزنس مین کرتا ہے۔

    پاکستان کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو آپ کو ہر اچھے دانشمند جنہوں نے عوام کے مستقبل کا فیصلہ اپنی منشاء کی مطابق کرنے کی کوشش کی ان کو سولی چڑھا دیا گیا۔

    چاہے وہ لیاقت علی خان کو لگنے والی گولی ہوئی ہو یا بھٹو کی پھانسی، ضیاء الحق کا حادثہ ہو یا بے نظیر بھٹو کا قتل ان سب کی تحقیقات کی جائیں تو سب کے پیچھے بزنس مین کا ہاتھ ملے گا۔

    پھر انہی کی بزنس مین لوگوں نے دوبارہ فرنٹ پر آ کر حکومت بھی کی اور بزنس بھی جس میں زرداری اور نوازشریف ایک زندہ مثال ہیں سیاست دانوں کو بے رحمی سے موت کے گھات اتار دیا گیا لیکن بزنس مافیا کامیاب بزنس اور غریبوں کی کھال اتار حکومت بھی کر گیا۔

    ہم اتنے جاہل نہیں ہیں کے سمجھ نہ سکیں پچھلے اڑھائی سالوں میں کی جانے والی تحقیقات میں آپ اور ہم سب نے دیکھا ٹارکٹ کلنگ، سے لے کر بنک ڈکیتوں تک جو قرضے کی صورت میں لے کر معاف کرائے گے، بچوں کے اغواء سے بچوں کے ریپ تک، آپ نے دیکھا کی ان کا رشتہ کہیں نا کہیں کسی بڑے بزنس مین کے ساتھ ملتا ہے۔

    ہر حکومت میں بزنس مین کی مرضی سے لوگ بٹھائے جاتے ہیں جو حکومت کے ہر درست اور عوام دوست پیکج میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

    موجودہ اسمبلی میں بیٹھنے والی اپوزیشن ٹوٹل بزنس مین اپوزیشن ہے جو پچھلے 73 سالوں سے لیگل اور الیگل عوام کو چونا لگاتی رہی یہ نہیں کے حکومتی اراکین سب دودھ کے دھولے ہوئے ہیں %35 لوگوں کا تعلق بھی بزنس مافیا سے جُڑا ہوا ہے۔

    جن میں ایک چھوٹی سی مثال امین علی گنڈا پور اور جہانگیر ترین دنیا کے سامنے ہیں۔ اگر اس تحریر سے کسی کا شک و شبہ ہو تو آذاد کشمیر میں پلانٹ کیے جانے والی سردار تنویر الیاس کا ماضی اور مستقبل آپ کے سامنے ہے۔

    اور سابقہ ن لیگ حکومت کا ٹھیکداری نظام بھی آپ کے سامنے ہے پہلے محکموں کے ذریعے کام ہوتے تھے اس حکومت نے ترقیاتی بجٹ جو مطلقہ محکموں کو دیا جانا تھا وہ برائے راست ایم ایل اے کو دیا گیا۔

    جس میں سے 5/5 ۔ 10/10 لاکھ مختلف علاقوں میں چمچوں کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کھانے کو دیا گیا اگر یہ بزنس مین اور ٹھیکداری نظام حکومت کو بدلی نہیں کیا گیا تو ہماری نسلوں کا مستقبل ایک سیاست دان نہیں بلکہ تنویر الیاس جیسا بزنس مین اور فاروق طاہر جیسا ٹھیکدار لکھے گا۔
    ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ضامن تنویر الیاس کے محل کے نوکر یا فاروق طاہر کی بوکلین آپریٹر، یا ڈمپر ڈرائیو لکھیں گے۔۔

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 03 ) ‏تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 03 ) ‏تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 2 تحریروں میں بتایا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ حکومتی ارکان کو برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں 95٪ لوگ اپنے ضمیر کو بیچ کر ملاوٹ کرنا ، رشوت کے کاموں میں اپنے بچوں کو حرام کی روزی کھلاتے ہیں یاد رکھیں جو خفیہ طریقہ سے ملاوٹ سے کمایا گیا پیسہ حلال نہیں ہوتا کیونکہ ملاوٹ کرنے والے دام خالص چیز کا لیتے ہیں اس لئے آج بتاؤں گا کہ کیسے لوگ ہلدی میں مصنوعی رنگ ، کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ اور جوس میں جعلی رنگ بنا کر بیچ رہے ہیں

    ہلدی میں مصنوعی رنگ کا استعمال:
    کچھ عرصہ پہلے کچھ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کیلیفورنیا میں کی جانے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ کھانوں میں استعمال کی جانے والے ہلدی پاوڈر میں موجود ایک کیمیکل کینسر سے لڑنے میں مدد دیتا ہے لیکن آج کل لوگ لکڑی کے بورے کو پیس کر اس پر پیلا رنگ لگا کر ہلدی میں مکس کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہلدی کا وزن زیادہ ہو جاتا ہے اور سالن کو بہت زیادہ پیلا کر دیتا ہے جبکہ اگر ہلدی کو تھوڑا سا پانی میں ڈالیں تو خالص ہلدی اپنا رنگ نہیں بدلتی اور پانی پر تیرتی رہتی ہے جبکہ ملاوٹ والی ہلدی میں پیسی ہوئی لکڑی کے دانے واضع ہو جاتے ہیں

    کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ:
    کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ اس لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ کالے چنے 300 روپے کلو مارکیٹ میں دستیاب ہیں جبکہ کالی مرچ 1300 روپے کلو دستیاب ہے اس لئے لوگ ملاوٹ کرکے وزن بڑھا کر مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچتے ہیں اور لوگ اس زہر کو خرید رہے ہیں ملاوٹ شدہ مرچ کو کھانے سے منہ میں کر کراپن پیدا ہو جاتا ہے

    جوس میں جعلی رنگ:
    ہمارے معاشرے میں مارکیٹس میں سر عام جوس میں جعلی رنگ کی ملاوٹ کرکے لوگوں کو بیچا جا رہا ہے اور لوگ شوق سے اس زہر کو خرید رہے ہیں جعلی جوس بنانے والے مختلف طرح کے سینٹ (پرفیوم) استعمال کرتے ہیں اور پانی میں اسکرین کی ملاوٹ کرکے بڑی مقدار میں بنایا جا رہا ہے جبکہ حکومتی ارکان بیانات کی حد تک ہر وقت متحرک رہتے ہیں اور ملاوٹ کی روک تھام کےلئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہے زیادہ تر جگہوں پر رشوت لے کر منہ بند کر دیئے جاتے ہیں کوئی چیکنگ کرنے والا نہیں ۔ جو جوس تیار کیا جارہا ہے کیا وہ کار آمد ہے یا مضر صحت ہے ۔ مارکیٹس میں بہت سی ایسی اشیاء کی خرید و فرخت ہو رہی ہے جو ایکسپائر ہو گی ہے اور جس کو پینے سے انسان بیمار ہو رہے ہیں لیکن سرِعام سیل ہو رہی ہیں

    اسی طرح اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح چاۓ کی پتی میں چنے کے چھلکے ،آٹے میں ریتی ، چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ اور پھلوں میں میٹھے انجیکشن لگاۓ جا رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتا ﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا قصہ ذکر فرمایا ہے کہ اس قوم میں ملاوٹ، دھوکا دہی اور ناپ تول میں کمی جیسی برائیاں بہت زیادہ پائی جاتی تھیں، انہی بُری عادتوں کی وجہ سے ان پر ﷲ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور پوری قوم تباہ ہوگئی اس لئے ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو دیکھنا چاہیے کہ ہم ہی ملک میں اصل گڑ بڑ کرنے والے ہیں جیسی عوام ویسے حکمران

    ‎@JingoAlpha

  • عمران خان کی زندگی ایک سبق کیوں؟  تحریر: رانا عزیر

    عمران خان کی زندگی ایک سبق کیوں؟ تحریر: رانا عزیر

    عظیم لیڈر کی دو نشانیاں ہوتی ہیں اس کا وہ مخصوص نظریہ جو محض وطن کیلئے ہو اور دوسرا اس نظریہ کو ہر گلی کوچے میں پہنچانے کا ہنر بھی رکھتا ہو۔ جب آپ نے یہ پڑھا تو آپکو اسکو سمجھنے کیلئے تھوڑا سا وقت چاہیے ہوگا۔ اور میں بات کرنے جارہا ہوں صرف اور صرف پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان کی۔ عمران خان سے پاکستان کی قوم کیوں متاثر ہوئی، نوازشریف، زرداری سب اس سیاست کے پرانی پاپی ہیں، ان پر لوگ اتنا کیوں نہیں مرتے۔ اس کی خاص وجوہات ہیں، عمران خان کی ساری زندگی محنت اور جدوجہد میں گزری، زندگی میں بہت سے چیلنجز سے عمران خان اکیلا لڑا، کرکٹ میں پاکستان کے لیے کام کیا، 1992 کا ورلڈکپ جیتا، پھر شوکت خانم کینسر ہسپتال کھولا، پھر پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ ان سب مراحل میں میرے کپتان کو بہت سے لوگوں کی باتوں کو برداشت کرنا پڑا، مگر ہار نہیں مانی، کپتان ڈٹا رہا۔ عمران خان 23 پہلے سے ہی پاکستان کی بربادی، ان ایشوز پر بات کررہا تھا جن پر آج پوری قوم پریشان ہے، بین الاقوامی مداخلت، امریکہ کےزیراثر پاکستان بکتا رہا، عمران خان کھل کر کھڑا رہا، مگر ہار نہیں مانی۔ عمران خان کی سیاسی مقبولیت 2013 میں عروج پر تھی لیکن کسی کو بھی کپتان کی جیت کا یقین نہیں تھا لیکن کپتان ایک بڑا کھلاڑی بن کر سامنے آیا۔ 2018 کے الیکشن میں عمران خان نے جان کی بازی لگائی اور سخت محنت کی اور وہ اقتدار کے ایوان میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ آج انھیں وزیراعظم بنے 3 سال ہوچکے ہیں۔ اور عمران خان کو انھی چیلنجز کا سامنا ہے جن کا ذکر وہ 23 سال پہلے کرتے رہے، امریکہ آج پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر پاکستان نے افغانستان کی جنگ میں امریکہ کی مدد نہ کی، افغان مہاجرین کو قبول نہ کیا، سی پیک کونہ روکا، تو امریکہ پاکستان کے خلاف ایک نئے محاذ سے سامنے آئے گا۔ کپتان آج بھی ڈٹا ہوا صرف اس وطن کی خاطر کہ میں پاکستان کاسودا نہیں کرونگا۔ عمران خان امریکہ کو نو مور کہتے چلے آرہے ہیں اور اپنی جان اور اقتدار کوخطرے میں ڈال رہے ہیں نگر اس قوم کا سودا نہیں کررہے۔ اس سے پہلے وزرائے اعظم صرف چند ٹکوں کی خاطر امریکہ کے سامنے ڈھیر ہوجاتے تھے اور آج بھی وہی شخصیات عمران خان کو کہہ رہی ہیں کہ وہ بھی اسی حمام میں آجائے لیکن یہ خان کی سیاسی موت ہوگی اور اس سے بڑھ کر ان کا نظریہ دفن ہوجائے گا کہ نہ عمران خان کسی کے سامنے جھکا ہے اور نہ وہ اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دے گا۔ آپ اسکی مثال ایسے لے لین کہ عمران خان اور ایک لوہے کی دیوار، عمران خان اس دیوار کو ٹکر مار رہے ہیں اور وہ اگر عمران خان گرانے میں کامیاب ہوگئے جو کہ آخری مراحل میں ہے تو پاکستان کی تقدیر بدلنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی نے مودھی کو ایک رپورٹ پیش کی کہ اگر سال 2021 میں پاکستان کو نہ روکا گیا تو پھر پاکستان کو روکنا مشکل نہیں ناممکن ہوجائے گا۔ اسی ضمن میں دشمن افغانستان میں پاکستان کی ریاست، پاک فوج اور عمران خان کے خلاف گھناؤنا پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ کسی صورت عمران خان سرنڈر کردے لیکن میرا کپتان ڈٹا ہوا ہے۔ تو عمران خان کی ساری زندگی چیلنجز میں گزری ہے اسی ہارنا بھی آتا ہے اور ہار کر کھڑا ہونا بھی آتا ہے۔ تو اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے عمران اپنے اقتدار کو چھوڑ سکتا ہے لیکن اس ملک کا سودا نہیں کرسکتا۔
    اس سے ہمیں ایک سبق حاصل ہوتا ہے، کچھ بھی بغیر محنت حاصل نہیں ہوسکتا، انسان دل و نیت سے کوشش کرتا ہے اور کامیابی اللہ دیتا ہے۔ اورخوف سے لڑنے کا جذبہ، سچ اور حق کیلئے کھڑے رہنے، ہر بار گرنے کے بعد اپنے آپ کو اگلے مقابلے کے لیے تیار رکھنا اور ہمیشہ بڑا خواب دیکھنا اور اللہ پر کامل یقین کبھی بھی انسان کو ناکام نہیں کرتا اور وہ شخص کامیاب ہوتا ہے۔

    @RanaUzairSpeaks

  • آؤ فرق نکالتے ہیں تحریر:  محمد وقاص شریف

    آؤ فرق نکالتے ہیں تحریر: محمد وقاص شریف

    پچھلی حکومتوں کو کوسنا پاکستانی سیاست کا وطیرہ بھی ہے اور فرض عین بھی
    ذمہ داری کو قبول کرنا ہمارے سیاستدانوں کے خون میں بھی شامل نہیں۔ یہاں ڈنگ ٹپاؤ مہم بڑی کامیابی سے جاری ہے ذہن میں ایک تصور تھا کہ پی ٹی آئی گورنمنٹ کچھ نیا کرے گی
    لیکن اس نے پرانوں کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو کمینہ کہے تو حق یہ بنتا ہے کہ دوسرا شخص یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے
    کہ وہ کمینہ نہیں بلکہ ایک شریف النفس انسان ہے ایسا کرنے کی بجائے وہ فوراً جواب دیتا ہے۔ کہ تو بھی تو کمینہ ہے
    اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے فریق اول کی بات کو جھٹلایا نہیں اور وہ واقعی اپنے آپ کو کمینہ ہی سمجھتا ہے۔ ہمارے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ ہم اپنی شخصیت کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ بلکہ ہم لوگ جواب میں دوسرے کو نیچا دکھا کے جان چھڑا لیتے ہیں
    بالکل اسی طرح اس حکومت سے جب اپوزیشن کے لوگ کارکردگی کا سوال کرتے ہیں تو حکومت اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کی بجائے یہ کہہ دیتی ہے کہ تمہاری کارگردگی بھی تو خراب تھی۔ پچھلی حکومتوں پر کرپشن کے الزامات ایک طرف مگر ان دو حکومتوں نے ملک بھر میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے
    پاکستان کو ایک نیا چہرہ دیا
    سہولیات کی لائنیں لگا دی۔ مشکلات کے باوجود وسیع پیمانے پر کام ہوئے۔ سرکاری ملازمین پر نوٹوں کی بارش کی گئی۔ لوگوں کو لاکھوں نوکریاں دی گئیں۔ نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر مندی کے لیے قرضے اور ادارے دیے گئے سڑکوں کا ایک وسیع و عریض جال بچھایا گیا خصوصا ملک بھر کو موٹروے کے ذریعے جوڑ دیا گیا سی پیک لایا گیا کمال کی ترقی ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں اور موجودہ حکومت میں وہ کیا نیا ہے کہ موجودہ حکومت کارکردگی سے کوسوں دور ہے آئیے موازنہ کرتے ہیں۔
    1 پچھلی حکومتیں اتحادیوں کے ذریعے بنیں۔
    2 پچھلی حکومتیں بھی اتحادیوں کی بلیک میلنگ کا شکار تھیں یہ بھی شکار ہیں
    3پچھلی حکومتوں نے بھی ملکی بینکوں سے بے بہا قرضے لیے۔ یہ حکومت ان کا بھی ریکارڈ توڑ چکی ہے
    4 پچھلی حکومتیں آئی ایم ایف کے سامنے گڑگڑائیں۔ یہ بھی سر بسجود ہو چکے ہیں۔
    5 پچھلی حکومتوں کو بھی وراثت میں قرضے ملے۔ موجودہ حکومت کو بھی ان کا سامنا ہے
    6 پچھلی حکومتوں نے بھی سرکولر قرضوں کا سامنا کیا۔ ان کو بھی زیارت نصیب ہوئی
    7 پچھلی حکومتوں میں کرپشن ہوئی لیکن یہ کہتے ہیں کہ کرپشن نہیں ہورہی۔ یہ بھی مان لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مشکلات کا موازنہ کریں تو وہ بالکل برابر ہیں۔ کرپشن کا موازنہ کریں تو موجودہ حکومت پاکباز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمران خان جس چیز کو تباہی کی جڑ قرار دیتے تھے وہ کرپشن اب نہیں ہو رہی تو پھر کارکردگی کہاں ہے۔ 3 سال کا عرصہ بیت گیا۔ نہ نوکری ملی۔ نہ مناسب تنخواہیں بڑھیں
    نہ ترقیاتی کام ہوئے۔ مہنگائی عروج پر چلی گئی۔ ادارے برباد ہوگئے ہیں۔ انتقامی کارروائیاں عروج پر ہے۔ سیاسی مخالفین کو چن چن کر جیلیں بھری جا رہی ہیں۔ جو کام بڑی خوبی کے ساتھ ہورہا ہے وہ یہی ہے کہ اتحادیوں کی روزانہ کی بنیاد پر پاؤں دبائے جا رہے ہیں۔ خواہش یہی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے حکومت نا گرے۔ میں کیا بتاؤں سارے خواب چکناچور ہوگئے ہیں۔ غیرت مند خان حکومت بچاؤ مہم میں اتنے مصروف ہو چکے ہیں۔ کہ کسی کا مرنا۔ گرنا۔ جلنا۔ ٹوٹنا۔ بکھرنا۔ دماغی مریض بن جانا آ س کے لئے کوئی اہم نہیں۔ اگر کچھ اہم ہے تو صرف اور صرف اپنے وجود کو برقرار رکھنا خان صاحب کا اوڑھنا بچھونا بن چکا ہے.
    ‎@joinwsharif7

  • نواب آف کالا باغ  تحریر: محمد اسعد لعل

    نواب آف کالا باغ تحریر: محمد اسعد لعل

    23 مارچ 1940 میں جب منٹو پارک میں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قراردادِپاکستان منظور ہوئی تو اس کے بعد قائداعظم نے اپنے تنظیمی ساتھیوں سے تقریر کرتے ہوا کہا کہ ہمیں لوگوں کو بیدارکرنا ہے،لوگوں میں ایک تحریک پیدا کرنی ہے اور اس کے لیے ہمیں فنڈز چاہیے ہوں گے۔کیوں کے لوگوں تک بات چیت کو پہنچانے کے لیےبہت سارے لوگوں کو مختلف جگہوں پر سفر کرنا پڑے گا،بہت ساری چیزیں لکھنی اور پھر چھپوانی پڑیں گی۔ اس دور میں یہ ایک مشکل کام بھی تھا۔وہ ایک نیا ملک بنانے جا رہے تھےاور اس کے لیے بہت زیادہ فنڈزکی ضرورت تھی۔
    تحریک کے جتنے ساتھی وہاں موجود تھے انہوں نے قائداعظم کے سیکرٹری کو چندا جمع کروانا شروع کر دیا۔لوگ چندا جمع کرواتے اور واپس آ کر اپنی جگہ پر بیٹھ جاتے۔ شورقہ کی دوسری صف میں سے ایک لمبے قد کا نوجوان کھڑا ہو ا۔جس نے سر پر لنگی سجائی ہوئی تھی۔اس نوجوان نے رعب دار آواز میں کہا سیکرٹری صاحب جتنا چندا ان سب نے مل کر جمع کروایا ہےاُتنا ہی چندا آپ میری طرف سے جمع کر دیں۔
    قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ وہاں بیٹھے تمام شورقہ دنگ رہ گئے۔ قائداعظم نے نواب ممتاز دولتانہ سے پوچھایہ نوجوان کون ہے۔ دولتانہ صاحب نے بتایا کہ یہ ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے دولتانہ صاحب سے کہا کہ آپ میری ساتھ والی کرسی چھوڑ دیں تاکہ میں اِنہیں عزت کے طور پر اپنے ساتھ بیٹھاؤں۔
    یہ عزت نواب آف کالا باغ کو اس لیے نہیں دی کہ ان کے پاس بہت زیادہ جاگیریں تھیں بلکہ اس لیے دی کہ وہ زیادہ ڈونیٹ کر رہے تھے،زیادہ حصہ لے رہے تھے آزادی کی تحریک میں۔اور اُس وقت برصغیر کے مسلمانوں کے لیے یہ ڈونیشن آکسیجن کا درجہ رکھتی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح یہ اچھی طرح جانتے تھےکہ کس کو کب اور کہا بٹھانا ہے۔
    عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ نواب لوگوں کی بڑی بڑی جاگیریں ،ان کی دولت،ان کا دبدبا اوران کے سامنے سلطنت کے لوگوں کےجھکے سر اُن کی پہچان ہوتی ہے۔لیکن نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کی زندگی میں ان کی پہچان ان کی جاگیر نہیں تھی،ان کی نوابی نہیں تھی،ان کا کنٹرول نہیں تھا بلکہ ان کی پہچان اپنی مٹی سے محبت اور ان کے اصول تھے۔
    ملک امیر محمد خان سالٹ رینج کے سرخ پہاڑوں کے درمیان بہتے ہوئے شیر دریائے سندھ کی دھاروں کا نواب تھا۔کیوں کہ وہاں سے دریائےسندھ بل کھاتا ہوا گزرتا ہے اور یہیں پہ تو کالا باغ ڈیم بنانا چاہتے ہیں۔نواب ملک امیر محمد خان 20 جون 1910 میں کالاباغ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔نواب صاحب نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ان کا شمار ملک کے سب سے بڑے جاگیر داروں میں ہوتا تھا۔
    کالاباغ کو "کالا باغ "اس لیے کہتے ہیں کہ نواب آف کالا باغ نے بہت پہلے ماضی میں شہر کے اندر برگد کا بہت بڑا باغ بنایا تھا۔درخت جب بڑے اور گھنے ہو گئے تو دور سے دیکھنے پرکالے رنگ کے معلوم ہوتے تھے۔اس لیے یہ جگہ آہستہ آہستہ کالا باغ کے نام سے مشہور ہو گئی۔
    1956 میں انہوں نےمغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہو کر اسمبلی میں پہنچ گئے۔مغربی پاکستان کے اس وقت کے وزیراعلیٰ کا نام نواب افتخار حسین تھا۔ وزیراعلیٰ صاحب نواب امیر محمدخان کے علاوہ کسی سے نہیں ملتے تھے۔بلکہ ملنا گوارا ہی نہیں کرتے تھے۔اور وہ چاہتے تھے کہ نواب صاحب کو وزیر بنایا جائے لیکن نواب صاحب نے انکار کر دیا۔پھر صدر سکندر مرزا کی جانب سے انہیں وزارت کی پیشکش ہوئی جس کو انہوں نے ان تاریخی جملوں کے ساتھ رد کیا۔انہوں نے کہا "میرے لیے یہ ممکن نہیں ٹکے ٹکے کے ممبران کے سامنےجواب دوں اور بات بات پر جنابِ سپیکر، جنابِ سپیکرکی گردان کروں۔” یہ ان کی شخصیت کا ایک رنگ تھا۔
    پھر ایوب خان صاحب نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی ۔جنرل ایوب خان نے نواب صاحب کی تمام شرائط مان لیں ، جیسا کہ آپ کسی کے آگے جوابدہ نہیں ہوں گے،آپ سے کوئی سوال نہیں کر سکے گا،آپ کو کسی کے آگے جھکنا نہیں پڑے گا اور آپ خود مختیار ہوں گے۔ انہیں مغربی پاکستان کے گورنر کا عہدہ دیا گیا اور انہوں نے اسے قبول کر لیا۔
    نواب امیر محمد خان کا طرزِحکمرانی ان کے قردار کو آپ کے سامنے پیش کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نواب صاحب کی حکمرانی آنے والے حکمرانوں کے لیے مثال بن گئی۔آج بھی عام آدمی ان کی طرزِحکمرانی کی مثال دیتا ہے۔جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آج جو مہنگائی ہے اگر نواب امیر محمد صاحب ہوتے تو یہ نہ ہوتا۔ان جیسی اقتدار کی طاقت نہ پہلے کسی نے استعمال کی نہ ان کے بعد کوئی ایسی ہمت کر سکا۔منصب پر فائز ہونے کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ان کے خاندان سے کوئی شخص بھی گورنر ہاؤس میں داخل نہیں ہو سکتا۔
    جب وہ اہم تعیناتی کے لیے انٹرویوکرتے تو خاندانی پسِ منظر تک پتہ کرتے۔ان سے سوال کیا گیا کہ نواب صاحب اتنی احتیاط کیوں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ تو گھوڑا اور کتا خریدتے وقت اس کی نسل دیکھتے ہیں ، یہ تو میرے ملک کا معاملہ ہے۔
    حکمرانی کا یہ عالم تھا کہ ان کے دور میں ایک پانچ سال کا بچہ اغوا ہو گیا۔نواب صاحب نے ایس ایس پی کو بلوایا اور 24 گھنٹے کا ٹائم دیا کہ بچہ ڈھونڈ کے لاؤ، مگر پولیس ناکام ہو گئی۔نواب نے اگلے دن "اے ایس پی،ایس پی اورایس ایس پی” تینوں کے بیٹے اُٹھوائے اور کالا باغ بھجوا دیے۔اور علان کروا دیا کہ جب تک اغوا ہونے والا بچہ نہیں مل جاتا ان آفسران کے بچے بھی ان کے گھر نہیں آئیں گے۔یہ فارمولا کا م کر گیا اور اسی دن ہی بچے کو بازیاب کروا لیا گیا۔اس طرح کا انصاف انہوں نے کیااور یہی وجہ تھی کہ وہ کہتے تھے میں کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گا۔
    جب 1965 میں پاکستان کی بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی تو نواب صاحب نے تمام تاجروں کو طلب کیا اور کہا کہ جنگ کا دور ہے میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کسی نے ذخیرہ اندوزی کی یا کسی نے سامان کو مہنگا بیچنے کی کوشش کی تو پھر میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔جنگ کے دوران انہیں خبر ملی کے ایک تاجر زیادہ پیسوں پر گندم فروخت کر رہا ہےتو نواب صاحب بنا سکیورٹی کے اس تاجر کے پاس پہنچ گے اور کہا کہ "تم یہ سمجھتے ہو کہ امیر محمدجنگ میں مصروف ہے اور تم من مانی کر لو گے۔میری مونچھ کو تاؤ آنے سے پہلے نرخ اپنی جگہ پر لے آؤ ورنہ ایسی سزا دوں گاکہ رہتی دنیا یاد کرے گی۔” اور اس کے بعد پورے مغربی پاکستان میں ان کے دور میں کوئی ایک شکایت بھی نہیں آئی کہ کوئی شخص کسی چیز کو زیادہ قیمت پر بیچ رہا ہے یا ذخیرہ اندوزی کر رہا ہے۔
    نواب صاحب طبعی موت نہیں مرے تھے۔یہ ایک الگ حقیقت ہے جس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ نواب صاحب ایک قیمتی آدمی تھے۔ نواب صاحب کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔کالا باغ نواب آف کالاباغ کی وجہ سے مشہور ہے اور نواب آف کالا باغ کا درجہ ملک امیر محمد خان کی وجہ سے مشہور ہے۔اور ملک امیر محمد خان اپنی جاگیر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی گورننس کی وجہ سے مشہور ہیں۔ لوگ انہیں یاد رکھیں گے۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی  پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    پاکستانی عوام کی بار بار اپیل وزیز اعظم پاکستان کا اعتراف کہہ ہم مہنگائی مافیا کو قابو کریں گے لیکن اس سب اعلانات کے باوجود غریب مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے آپ کو یاد ہوگا پچھلے دنوں وزیر اعظم صاحب نے خود گلہ کیا تھا کہہ جو تنخواہ ان کو ملتی ہے اس میں گھر چلانا مشکل ہوتا ہے

    گھریلو ں استعمال یعنی ضروریات زندگی میں اضافہ مصنوعی ہے یا اصلی قلعے اس سب کی زمہ دار تو حکومت ہی ہے حکومت وقت کو ایسی پالیسی بنانی چائیے کہہ ضروریات زندگی کی اشیاء میں کمی نہ ہو اور مصنوعی قلت پیدا کر کے کوئی بھی مافیا اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے
    حکومت وقت کو ایسی معاشی پالیسی دینی ہوگی جس سے طلب و رسد کی قوتیں فیر متوازن نہ ہوں یعنی کھانے پینے ضروریات زندگی کی اشیاء نہ کہہ زیادہ ہوجائیں اور ان کو بنانے والوں کا نقصان ہو اور نہ کم ہوں کہہ غریب آدمی مہنگائی کی چکی میں پس جاۓ

    اس سال سٹیٹ بینک نے جو مہنگائی کا تخمینہ لگایا تھا جو اعداد شمار جاری کیے تھے زمینی حقائق ان سے بلکل مختلف ہیں حیران کن طور پر شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہوا ہے پاکستان جیسے زرعی ملک میں خوراک کا بحرانوں کے مصنوعی ہے اور غیر معمولی گراں فروشی ناقابل فہم ہے ہمارے ہاں منافع خور مافیا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اشیائے صرف کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھا کر بے تحاشا ناجائز منافع کما رہی ہے۔جن کو حکومت قابو نہیں کر رہی اور عوام انہی ناجائز فروشوں اور زخیرہ کرنے والوں کیوجہ سے مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے

    ارض پاک میں دولت کی واضح غیر منصفانہ تقسیم نے معاشرے میں معاشرتی بے چینی میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے۔ نوجوان نسل چوری ڈکیتی راہزنی بھتہ خوری میں مبتلا ہو رہی ہے۔ روپے کے مقابلہ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت بھی مہنگائی کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے
    ملک میں چینی مافیا آٹا مافیا گھی مافیا گوشت خصوصا چکن مافیا کی اپنی من نانیاں عروج پر پیں
    باقی اشیاء ضروریہ دالیں انڈے گندم پیاز ٹماٹر آلو یعنی کھانے پینے کی تمام اشیاء میں بوش ربا اضافہ نے غریب کا جینا مشکل کر دیا ہے حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں نے اگر مہنگائی والے ایشو کو سیریس نہ لیا اور صرف ترجمانوں کے زریعے پریس کانفرنس میں اپوزیشن کو ہی ابھی تک مہنگائی کا زمہ دار ٹھہراتے رہے تو آئندہ آنے والے الیکشن میں بھی ناقابل تلافی نقصان ہوگا
    مہنگائی کے جن کو قابو کر لیا تو تحریک انصاف کی حکومت اگلے آنے والے الیکشن میں کامیابھی کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہو سکتی ہے

    @ChAttaMuhNatt