Baaghi TV

Category: سیاست

  • مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر!!! تحریر غنی محمود قصوری

    مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر!!! تحریر غنی محمود قصوری

    ارض پاک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی اداروں سے ٹکراءو ہے جس سے پاکستانی گورنمنٹ کے علاوہ عام پاکستانی عوام کا جانی اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے یوں تو قیام پاکستان کے بعد سے ہی ایسے شر پسند عناصر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ابھرنے لگے تھے مگر پچھلی تین دہائیوں سے ایسے شر پسند عناصر اور تنظمیوں میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے پیچھے خالصتا پاکستان مخالف بیرونی ہاتھ ہیں جیسا کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کی تانیں اسرائیلی موساد اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی را سے ملتی ہیں
    حالانکہ آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 256 کے تحت کوئی بھی سیاسی و مذہبی جماعت، تنظیم یاں فرد ایسی کوئی بھی ٹیم تیار نہیں کر سکتا جو فوج جیسی صلاحیت رکھتی ہو یعنی کہ ایسا دستہ جو مسلح ہو یاں غیر مسلح ہو کر فوج جیسی کاروائیاں کر سکے، مار کٹائی وگوریلا جنگ اور روایتی جنگ جیسی صلاحیتیں رکھتا ہو آئین میں اس آرٹیکل کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی شخص یاں گروہ اپنی فوج بنا کر ارض پاک کو نقصان نا پہنچا سکے کیونکہ ماضی میں اسی بدولت مکتی باہنی بنا کر چند بے ضمیروں نے 1971 میں ارض پاک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا
    آئین پاکستان کے علاوہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اپنے مسلمان ملک کے اداروں سے مسلح ٹکراؤ کی بڑی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور ایسا کرنے والوں کو خارجی یعنی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور خارجیوں کے متعلق ارشاد ہے کہ یہ جہنم کے کتے ہیں
    آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی فرد ،گروہ یاں جماعت کسی بھی حکومتی ادارے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر سکتا ہے
    پاکستان میں ایسی کئی سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں جو آئین پاکستان اور احادیث نبوی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی اداروں پر یلغار کر چکی ہیں جن میں حالیہ دہائی میں سر فہرست تحریک طالبان پاکستان، ایم کیو ایم بی ایل اے ،بی ایل ایف اور پی ٹی ایم یعنی پشتون تحفظ موومنٹ ہیں جو کھلم کھلا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرتی رہی ہیں بلکہ کئی بار مسلح ریاستی اداروں پر یلغار بھی کر چکی ہیں جیسا کہ رواں سال 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں آرمی چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کے کارکنان نے حملہ کیا اور 5 فوجی شہید اور درجن کے قریب زخمی ہوئے مگر افسوس تو مولانا فضل الرحمن کی سیاسی جماعت کی ذیلی عسکری ونگ انصار الاسلام پر ہے کہ جس نے کل بروز پیر بلوچستان کے علاقے برکھان میں لیویز فورس کی چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس پر لیویز فورس نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی جس سے انصار الاسلام کے بدمعاش بھاگ گئے مولانا صاحب آپ تو ایک عالم دین اور بزرگ سیاستدان ہیں کیا آپ نے احادیث نبوی اور آئین پاکستان کا مطالعہ نہیں کیا؟ اگر آپ واقعی اسلام آباد کی بجائے اسلام کے ،مجاہد ہیں تو اپنی اس جماعت انصارالاسلام سے برات کا اعلان کیجئے تاکہ واضع ہو سکے کہ آپ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں اور آپ کا مقصد اسلام ہے ناکہ کرسی وزارت اسلام آباد یقینا مولانا صاحب آپ کو اپنی جماعت کی کرتوت کی خبر تو مل ہی گئی ہوگی تو پھر دیر نا کیجئے وضع کیجئے کہ کرسی وزارت اسلام آباد یاں صرف اسلام
    #قصوریات

  • اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

    اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

    انسانی تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ انسان خود ہی الجھنیں پیدا کرتا ہے پھر خود ہی بےچین ہوجاتا ہے یہ بےچینی بڑھتی ہے تو انسان کو انقلابی بنادیتی ہے جو آخرکار ایک نئی کشاکش کو جنم دے دیتی ہے پاکستانی تاریخ ایسے تناو سے بھری پڑی ہے اس سلسلے کی کڑیاں آج بھی دیکھنے میں آرہی ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ لپٹی ہوئی ہیں

    گو آج کا پاکستان ماضی کے پاکستان سے بہت آگے آچکا ہے مگر تسلسل کے لحاظ جو کچھ آج ہورہا ہے جو ماضی بعید اور ماضی قریب میں ہوچکا اسی راہ کا حصہ ہے نہ کسی پر کیچڑ اچھالنا مقصد ہے نہ ہی کسی کے قصیدے پڑھنا مگر اس سلسلے کی ایک جھلک پیش کرنے کی کوشش ضرور کررہا ہوں، ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ جب جب کسی ایک گروہ کے ذاتی مفادات کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو اس گروہ نے قومی مفادات کی بھی پرواہ نہ کی اور تمام حدیں پار کرکے انقلاب لانے میدان میں آگیا،

    پاکستانی تاریخ کے تمام انقلابات کا جائزہ لیا جائے تو دو بات مشترک ملیں گی ایک مذہب کارڈ دوسری طفیلیت یعنی کسی نادیدہ قوت کے آلہ کار ہونا خواہ وہ اندرونی ہو یا بیرونی طاقت، ہماری روایت یہی رہی کہ جو بھی حکومت آئی اس نے ملکی و قومی استحکام پر اپنی پارٹی و شخصیات کے مفادات کو ترجیح دی اور سب سے المناک پہلو یہ کہ ملک و قوم کو جتنا نقصان حکومت کی غلط پالیسیوں یا ذاتی مفادات سے پہنچا اس سے کئی گنا زیادہ نقصان اپوزیشن کی ریشہ دوانیوں و سازشوں سے پہنچا خواہ وہ ماضی بعید کی اپوزیشن ہوں یا پھر پچھلے دو ادوار کی میڈ ان لندن فرینڈلی اپوزیشن، ماضی میں جب کبھی کسی حکومت نے بہترین پالیسی یا منصوبہ تیار کیا تو اپوزیشن نے حکومتی پارٹی کو عوام میں غیرمقبول و ناقص کارکردگی دکھانے کے لیے قومی مفاد کے ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کے زور لگائے اس کے علاوہ فرینڈلی اپوزیشن کا حال تو کسی سے ڈھکا چھپا ہی نہیں الغرض کہ پاکستان کسی نظام کے بغیر ہی چلتا رہا اور چند سیاسی پارٹیوں کی مطلق العنانیت کے ہاتھوں یرغمال رہا،

    ان کی اس صفت کا عالمی قوتوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ داروں نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور ایک وقت پر آکر ہمارے تقریباً سیاستدان خود بھی سرمایہ دار بن بیٹھے اور مشرکہ نشانہ عوام بنی رہی، کیا یہ سرمایہ داروں کا ہی کھیل نہیں تھا کہ پورے پاکستان کا منرل واٹر سے بہتر گراونڈ واٹر دیکھتے ہی دیکھتے خراب ہوگیا پھر ساتھ ہی ساتھ RO پلانٹ کمپنیوں، ادویہ ساز کمپنیوں، پانی کی کمپنیوں کے وارے نیارے ہوگئے، جو جو ہالی ووڈ کی فلموں میں ہوتا ہے وہ سب ہم نے اپنی آنکھوں سے پاکستان میں ہوتے دیکھ لیا کہ کسی بھی فصل میں پراسرار بیماری آتی ہے تو ساتھ ساتھ مارکیٹ میں اس کی دوا بھی اتار دی جاتی ہے،

    ساری زندگی جن لوگوں نے جوائنڈس یعنی پیلیا کا مرض دیکھا وہ لوگ اس کی جدید ترین شکل ہیپاٹائٹس بی سی کا شکار ہوکر فوت ہوے اور لاکھوں خاندان اس کا شکار ہوکر اپنی ساری جمع پونجی اس کی دوا ساز کمپنی کو دینے پہ مجبور ہوے، کس طرح سے کوئی بھی چیز رات ہی رات میں مہنگی ہوجاتی ہے اور کس طرح ڈرامائی انداز میں غریب کسانوں کی ساری محنت رائیگاں چلی جاتی ہے، یہ سارا کھیل کیا ہے صرف چند سرمایہ داروں کی حرص اور خون چوسنے کی عادت سے زیادہ کچھ نہیں،

    مجھے یہاں کسی ریفرینس کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ہر ذیشعور اس پُراسرایت کو محسوس کررہا ہے مگر مجبور ہے دنیا کی بہت سی قوموں نے اس لعنت سے خود کو آزاد کرنے کا تہیہ کیا اور ترکی، روس، چین وغیرہ ان کی پہنچ سے بہت آگے نکل آئے، چین تو اعلانیہ طور پر اس کا اظہار کررہا ہے چینی صدر نے تو بارہا کہا ہے کہ ہاں ہم نے چند گاڈفادرز کے مفادات کا تحفظ کرنے والوں کو نہیں چھوڑنا، بہتوں کو گرفت میں لیا، ترکی کل تک سک مین آف یورپ تھا مگر طیب اردگان کا ترکی آج امریکہ جیسی طاقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے،

    اسی راہ پر پاکستان بھی ہو لیا تو اس وقت سب کے نشانے پہ عمران خان ہے کیونکہ عالمی طاغوتی نظام سے بغاوت کا علم اسی کے ہاتھ میں ہے، حکومت سنبھالنے سے لیکر ابتک تمام اپوزیشن جماعتیں اس کے خلاف متحد ہیں اس کی راہ میں رکاوٹیں در رکاوٹیں کھڑی کرتی آرہی ہیں ان کے بقول دنیا کا سب سے برا اور ان کی زبانی عوام کا سب سے بڑا دشمن بھی کپتان ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتک اپوزیشن کوئی ایک کام یا پالیسی بھی ایسی پیش نہیں کرسکی جس سے عمران خان نے ملک و قوم کو نقصان دیا ہو یا دے سکتا ہے،

    مولانا فضل الرحمان آجکل صف اول کا کردار ادا کررہے ہیں مولانا صاحب نے بغیر ثبوت کے بہت سے الزام عمران خان کی ذات پہ لگائے ہیں جن میں سر فہرست اسلام دشمنی کا الزام ہے مگر بطور دلیل کے ان کے پاس کچھ بھی نہیں جبکہ عمران خان کا سلوگین تو صرف ملک و قوم کی بہتری کا ہے، مولانا صاحب بات دین کی کرتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ وہ عوامی فلاح کے لیے بجائے حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے حکومت کا ساتھ دیں، انکے پاس بہتر منصوبے ہیں تو پیش کریں، بہترین پالیسی ہیں تو پیش کریں، قانون کو اس کی رو کے مطابق نافذ کروانے میں حکومت کا ساتھ دیں اور کرپٹ اشرافیہ کے احتساب کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں نہ کہ احتساب کو انتقام کا نام دیکر اس عمل میں رکاوٹ بنیں

    مگر ماضی کی طرح مولانا صاحب صرف اپوزیشن ہی نظر آتے ہیں جس کا ہمیشہ سے ایک ہی کام رہا کہ اپنے مفاد کو ترجیح دی، حکومت کی جائز بات و ملکی مفاد کی پالیسی یا منصوبے کو بھی صرف اس لیے ہدف تنقید بنایا جاتا ہے کہ کہیں وہ پارٹی عوام میں مقبول نہ ہوجائے لہٰذا عوام مرتی ہے تو مرے لیکن اپوزیشن کا مفاد پورا ہو بس یہی ہماری روایت ہے پاکستان میں اپوزیشن کا مطلب صرف اپوزیشن کرنا ہوتا ہے سو وہ جائز و مفید اقدام کی بھی اپوزیشن کرتے ہیں اور بات بے بات اپوزیشن ہونے کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔

    آرزوئے سحر
    اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

  • سیٹھوں کی ہڑتال —-از…حفیظ اللہ سعید

    سیٹھوں کی ہڑتال —-از…حفیظ اللہ سعید

    آج فیصل آباد کے آٹھوں بازاروں میں ہڑتال تھی۔تقریبا 90 % کاروبار بند تھا۔ہڑتال کلچر عالمی طور پہ تسلیم شدہ و پر اثر کلچر ہے۔ہڑتال کے زریعے افراد تنظمیں و گروہ اپنے مطالبات منواتے ہیں ارباب اختیار سے۔ہمارے ہاں بھی یہ کلچر اپنی پوری ہشر سامانی کے ساتھ رائج ہے۔ڈاکٹرز تک اپنے جائز و نا جائز مطالبات منوانے کے لیے مریضوں کو موت کے رستے پہ کامزن کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہی کرتے جبکہ یہی ڈاکٹرز پرائیوٹ کلینکس و ہاسپٹلز میں ہڑتال کے دنوں میں ہی دونوں ہاتھوں سے دولت بھی سمیٹ رہے ہوتے ہیں

    آج کی ہڑتال کو ایک ٹائیٹل یا نام دیا جاۓ تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ سیٹھوں کی ہڑتال تھی۔بڑا سیٹھ ، تاجر ، مینوفکچرر جو بھی چیز بناتا یا بیچتا ہے اس پہ حکومتی شرح کے مطابق بذریعہ چھوٹے تاجر و دوکاندار عوام سے ٹیکس وصول کرتا ہے اور اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف گورنمنٹ کو دیکر باقی سارا ٹیکس چوری کرکے اپنے پیٹ کی دوزخ کو بھرتا چلا جاتا ہے اور ہل من مزید کا نعرہ مار کے اپنے ڈھیٹ پنے کا ثبوت بھی دیتا ہے

    موجودہ دور حکومت سے پہلے بھی ہر چیز پہ 18 % سیلز ٹیکس عوام سے لے رہا تھا نام نہاد اشرافیہ کا ٹولہ۔تمام کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے و کاروباری ڈاکومیٹشن کے موجودہ حکومتی عزم کو دیکھتے ہوۓ سیٹھوں نے قیمتوں کو 17% مزید ٹیکس ایڈ کرتے ہوۓ بڑھا دیا جبکہ حکومت کو دیا کچھ بھی نہی پچھلے چند ماہ سے۔عام آدمی و حکومت کے لیے لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ ٹیکس 18 + 17 = 35 % کی شرح سے وصول تو کیا جا رہا ہے

    عوام الناس سے لیکن گورنمنٹ کو مل بہت تھوڑا رہا ہے۔اور سارا ٹیکس بلیک منی و بے نامی جائیدادوں میں ڈھلتا چلا جا رہا ہے۔اب وقت آ چکا ہے کہ عام آدمی ان معاشی مگرمچھوں کی ملک و عوام دشمنی کو جان جائے اور اپنے حقوق کے لیے حکومتی اقدامات کا ساتھ دے۔عوام کا دیا ٹیکس سیٹھوں کے اندھے کنوؤں کی مانند پیٹوں میں دفن ہونے کے بجاۓ ریاست کو ملنے لگ گیا تو ریاستی معاشی حالت سنبھلنا شروع ہو جاۓ گی ان شاءاللہ

    سیٹھوں کی ہڑتال —-از…حفیظ اللہ سعید

  • "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.

    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • تصویر ایک زاویے مختلف —-از— فردوس جمال

    تصویر ایک زاویے مختلف —-از— فردوس جمال

    گلاس آدھا خالی ہے،گلاس میں آدھا پانی ہے،بات ایک ہی ہے
    لیکن تعبیریں دو مختلف،چیزوں کو مثبت منفی کس ذاویے
    سے ہم دیکھتے ہیں یہ اس کا فارمولا ہے.

    مسئلہ تب بن جاتا ہے جب آپ کسی چیز کو ایک ہی زاویے سے دیکھ کر رائے قائم کرتے ہیں،زیر نظر تصویر سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے آئیں اسے ہم مختلف زاویوں سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کرتے ہیں.

    پرائم منسٹر مرغی پال اسکیم کا باقاعدہ آغاز، قرعہ اندازی کی گئی

    میاں نواز شریف اور مریم بی بی جیل میں قید ہیں،جلسوں
    دھرنوں اور پبلک پروگرامات کا انعقاد نہیں ہو رہا ہے نتیجتا
    کارکنان بریانی سے محروم ہیں،مایوس لیگی کارکنوں کا "احساس ” کرتے ہوئے عمران خان نے جگہ جگہ لنگر کھولنا
    شروع کر دیا چونکہ رشتے میں وہ سب کے وزیر اعظم لگتے ہیں اس لئے سب کا احساس کرنا ان پر لازم ہے.

    ہمارا ملک جتنی بھی ترقی کرے اگلے دس پندرہ سال تک مفت خوری کی عادت سے چھٹکارہ پانا مشکل ہے لہذا ایسے لوگ تب تک خوش نہیں ہوں گے جب تک انہیں مفت کا کھانا
    میسر نہیں لہذا اس طبقے کا "احساس” کرنا بھی وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے چونکہ رشتے میں وہ سب کے…الخ

    ڈاکٹرزکی ہڑتال،فیروز پور بند،نئے مطالبات سامنےآگئے

    ستر سالہ پاکستانی تاریخ میں نا اہل حکمرانوں نے ملک کو
    دو طبقوں میں تقسیم کئے رکھا،ایک طبقہ وہ جسے دو وقت
    کی روٹی تک میسر نہیں دوسرا طبقہ ایلیٹ کلاس جن کے کتے اور گھوڑے بھی مکھن اور مربعے کھاتے ہیں،عمران خان
    ان سرمایہ داروں کی انسانیت کو جھنجھوڑ رہے ہیں کہ کم از کم فٹ پاتھوں پر بھوکے مرنے والے انسانوں کو اپنے کتوں برابر اہمیت تو دو،چنانچہ ان سرمایہ داروں کی جیبوں سے
    پیسہ نکال کر یہ مفت کے لنگر چلائے جا رہے ہیں،تمہارے امیروں پر تمہارے غریبوں کا حق ہے.

    ہمارے ملک کو ہزاروں مسائل کا سامنا ہے وزیر اعظم اگر کسی ایک مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ دیگر سیکٹرز پر کام نہیں ہو رہا لہذا مفت لنگر کھولنے کی تصویر اٹھا کر یہ سوال کرنا کہ مفت لنگر کھولنے سے ملکی معیشت ٹھیک ہوگی؟انتہائی بچگانہ اپروچ اور سطحی ذہنیت ہے.

    4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز کے قیام کا اعلان، تبدیلی آگئی

    رسول خدا سے پوچھا گیا کہ بہترین اسلام کون سے آپ نے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلانا،پوچھا گیا اللہ پاک کے نزدیک
    پسندیدہ عمل کون سا ہے آپ نے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلانا،ایک بدوی آکر پوچھا ایسا کوئی عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کرے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا.اللہ کے رسول ہم میں سے بہتر کون ہے؟”خياركم من أطعم الطعام ” جو دوسروں کو کھانا کھلائے،قیامت کی ہولناکیوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
    جو مسکینوں،یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلائے.!!!

    وہ یہودی ایجنٹ فٹ پاتھوں میں گھوم پھیر کر بھوکوں کو کھانا کھلا رہا ہے اور آپ فیس بک پر بیٹھ کر جس زرداری کے گھوڑے مربعے کھاتے ہیں اس کا دفاع کر رہے ہیں.

    تصویر ایک زاویے مختلف

    بقلم فردوس جمال!!!

  • ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری—از–محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری—از–محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان انعام خداوندی ہے اور صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ مانی جاتی ہے۔ اس میں کمال یقیناً اس ایقان و یقین کا ہے جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اسی جذبہ ایمانی کی بدولت پاکستانی قوم دنیا میں اپنا ایک خاص تعارف رکھتی ہے۔ اور یہی قوت ہماری صلاحیتوں کو چار چاند لگاتی ہے اور کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔

     

     

    دوسری طرف پاکستان کے سیاسی نظام کی بات کی جائے تو پاکستان ایک ایسا جمہوری ملک ہے جہاں جمہوری نظریات پنپتے دکھائی نہیں دیتے ہیں اور ہر کوئی اپنی دوکان چمکاتا نظر آتا ہے۔ ہر صاحب اقتدار جمہوریت کا منتخب ہونے کا دعویدار ہے اور ہر مخالف منتخب حکومت میں سقم ثابت کرنے پر تلا نظر آتا ہے۔

     

     

    اپنے مختصر عرصہ حیات میں میں نے ایک بھی ایسی حکومت نہیں دیکھی جس کو اپوزیشن نے جائز حکومت تسلیم کیا ہو۔ دھاندلی، سلیکٹڈ حکومت، پری پلان حکومت وغیرہ کے نعرے ہی بار بار سننے کو ملتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجائے اس کے کہ سیاسی جماعتیں بالغ نظری کا مظاہرہ کرتیں، ان نعروں اور اعتراضات میں بھی جدت آئی ہے۔ انہی جدتوں میں ایک مخالف پارٹی پر مذہب کے نام پر الزام تراشی اور بہتان بازی بھی ہے۔

    میری گزارشات کا مطمع نظر بعض ناپسندیدہ پہلوؤں کی نشاندہی اور اصلاح احوال کی کوشش ہے۔ اس امید پر کہ

    شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

    سابقہ تاریخ کو دہرانے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ہم موجودہ حکومت اور اس کے مخالفین کے طرز عمل سے چند مثالیں بیان کرنے پر اکتفا کریں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان پر جہاں اور بہت سے اعتراضات کیے گئے وہیں ایک اعتراض "یہودی ایجنٹ” اور "قادیانی نواز” بھی ہے۔ عمران خان اپنے سیاسی کیریئر کے 22 سال بعد وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب تک انھیں یہ وزارت نہ ملی تھی یا ان کی پارٹی ایک مضبوط عوامی طاقت کے طور پر سامنے نہ آئی تھی، یہ الزامی سیاست کہاں تھی؟

    بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کا مقصد محض کسی کی عوامی مقبولیت کو کم کرنا اور شخصیت کو متنازع و داغدار بنانا ہے۔ اور اس کی ضرورت تب ہی ہو گی جب کوئی کسی اہم منصب پر پہنچ جائے۔ ورنہ سابقہ 22 برس کی سیاست میں یہ الزامات لگے ہوتے تو یہ شخص اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی عوامی حلقوں میں تنقید کا شکار ہوتا۔ پھر وزیراعظم کی کارکردگی اور پالیسیوں کو دیکھا جائے تو بھی یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا وزیر اعظم جو ایک شخص کو محض قادیانی ہونے کی بنا پر علی الاعلان مالی مشیر مقرر نہ کرے اور بین الاقوامی فورم پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلام اور پیغمبر اسلام کا دفاع کرے اس کے ایمان اور اسلام سے وفاداری پر حرف اٹھانا بعید از قیاس ہے۔

    دین اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ دوسروں سے حسن ظن رکھا جائے تو یہ کیسا کمال ہے کہ ہم زبردستی خود ساختہ گستاخی کے فتوے اور اسلام دشمنی کے منصوبے کسی سے منسوب کر دیں۔ اسی دورہ امریکہ کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی تبدیلی سامنے آئی تو ایک بار پھر پورے زور سے منیر احمد شیخ کو قادیانی اور حکومت کو قادیانی نواز قرار دینے کی بھرپور کیمپین چلی مگر موثر ثابت نہ ہو سکی۔

    آنے والے دنوں میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن صاحب اسلام آباد میں دھرنے کا پلان رکھتے ہیں۔ دھرنے کے مقاصد کو اسلام سے جوڑا جا رہا ہے اور یہ اعتراض سامنے آ رہا ہے کہ مولانا مذہب کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ان کو دھرنے سے روکنے کی کوششوں میں جن طریقوں توہین مذہب کو روا رکھا جا رہا ہے شاید وہ خان صاحب کے جنرل اسمبلی میں کیے گئے خطاب کا منہ چڑا رہے ہیں۔

     

     

    سیاسی مقاصد یا کسی بھی طرح کے مفاد کے لیے مذہب کا استعمال قابل مذمت ہے تو سیاسی مخاصمت کی آڑ میں مذہب دشمنی اور توہین مذہب بھی قابل مذمت ہے۔ جس طرح سے مولانا کے دھرنے کے حوالے سے مبینہ ہدایت نامہ، شرائط نامہ اور پھر اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر دکھا کر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور دھرنے کے ممکنہ غیر اخلاقی مضمرات بیان کیے جا رہے ہیں کیا حکومتی جماعت کو ان مضمرات سے آگاہی اب حاصل ہوئی ہے؟

    بہرحال کوشش کی جائے کہ معاملات کو باہم افہام و تفہیم سے حل کیا جائے اور اگر فریق مخالف پر تنقید و تنقیح کے بغیر چارہ کار نہ ہو تو بہر صورت اخلاقی حدود قیود کا خیال رکھا جائے اور معاشرے میں مثبت رویوں کو رجحان دیا جائے۔ الزامی سیاست، مذہب کارڈ اور مذہب مخالف سوچ سے گریز کیا جائے اور اپنی جماعت کو کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے پیش کیا جائے نہ کہ دوسروں پر کیچڑ اچھال کر خود کو صاف ستھرا دکھانے کی کوشش کی جائے۔

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری

    از–محمد نعیم شہزاد

  • اپوزیشن نومبر میں کیا کرنے جارہی ہے؟ –از — عبداللہ باغی

    اپوزیشن نومبر میں کیا کرنے جارہی ہے؟ –از — عبداللہ باغی

    حکومت اور اپوزیشن دونوں نے مسائل کاحل نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیوں کا محاذ کھولا ہواہے کبھی کہا جارہاہے کہ نومبر اہم ہے۔ جب نواز شریف کی حکومت تھی اس وقت بھی یہی باتیں ہوتی تھیں کہ یہ مہینہ اہم ہے اور وہ مہینہ اہم ہے۔یہ بات درست ہے کہ ملکی حالات درست نہیں ہیں۔

    اس وقت سیاسی محاذ پرمولانافضل الرحمان کا دھرنا اور جلسہ چھایا ہواہے اگر حکومت ڈلیور کررہی ہوتی تو لوگ اس پر قطعاً توجہ نہ دیتے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں رابطہ موجود ہے وہ دھرنے میں شامل ہوں یا نہ ہوں لیکن جلسہ میں شامل ہوتے ضرور دیکھائی دے رہے ہیں۔ اکتوبر کے بعد اپوزیشن اپنی نئی حکمت عملی بھی بناسکتی ہے اس لئے نومبر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اہم ہے۔

    تحریک انصاف کی حکومت سے لوگوں کوبڑی امیدیں تھیں لیکن ابھی تک کچھ ایسا نہیں ہوا۔جس سے یہ کہا جا ئے کہ حکومت۔۔ سیف۔۔پوزیشن میں ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی فضل الرحمان کے ساتھ جاناچاہتی ہیں لیکن وہ نظام کو بھی غیر مستحکم نہیں کرنا چاہتیں۔اس وقت ایسا دیکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کا لائحہ عمل نہ حکومت کے پاس ہے اور نہ اپوزیشن کے پاس ہے دونوں اپنے اپنے اندا ز میں بیوقوفیاں کررہے ہیں۔

    ۔ مولانا فضل الرحمان کو احتجاج کاحق ہے لیکن اس سے کسی کی زندگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ یہ کہنا کہ طاہر القادری اور عمران خان نے بھی تو دھرنا دیا تھا۔ تواس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر انھوں نے غلط کیا تھا تو

    آپ بھی غلط کریں۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی الگ قسم کی ہے اور اپوزیشن بھی الگ قسم کی ہے حکومت کو چاہئے کہ مولانا فضل الرحمان کومنائے۔یہ عجیب سا منظر نظر آرہاہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کو روک رہی ہے دھرنے کو اکتوبر سے آگے لے جائیں جبکہ حکومت بھی مدارس کے علماسے کہہ رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شامل نہ ہوں۔یہ بات درست ہے کہ اپوزیشن کو ایک کے بعد ایک دھچکا لگاہے اور ایک سال بعد حکومت اگر گرتی ہے تو اس سے معیشت درست نہیں ہوگی۔ حکومت کومختلف اداروں کی حمایت حاصل ہے اس لئے اس وقت احتجاج کرنا اپوزیشن کے فائدے میں نظر نہیں آتا ہے۔

    ۔ چند دن پہلے تک تو حکومت کا خیال تھا کہ مولانا فضل الرحمن کسی نہ کسی بہانے اپنا آزادی مارچ ملتوی کر دیں گے۔حالانکہ آزاد ذرائع کی اطلاعات یہی تھیں کہ وہ اپنے پروگرام پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی حلیف یا حریف کی بات اس سلسلے میں ماننے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔اب حکومت کے سنجیدہ حلقوں کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ دھرنا کے اثرات آخر کیا ہوں گے۔ اب حکومت ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ جبکہ پہلے سب ہر چیز کا مذاق اُڑا رہے تھے۔ اب جب سر پر پڑی ہے تو حکومت سر ڈھر کی بازی لگاتی دیکھائی دے رہی ہے۔اب حکومتی وزیر مولانا کو لیگل نوٹس بھجوارہے ہیں۔ تو کسی عدالت میں مارچ کو روکنے کی استداعا کی جا رہی ہے۔

    ۔ حکومت کا یہ بھی الزام ہے کہ مولانافضل الرحمان مدرسہ ریفارم نہیں چاہتے۔فضل الرحمان مذہب کوسیاست میں استعمال کررہے ہیں۔مولانافضل الرحمان نے مذہب کے نام پرچندہ اکٹھاکیا۔ جبکہ ہم

    نے دھرنے میں مذہب کواستعمال نہیں کیا تھا۔مولانا فضل الرحمان الزاما ت لگا کر لوگوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔ وہ پہلے دن سے ہی بلیک میلنگ کی سیاست کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان الیکشن میں شکست کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی کے کروڑوں روپے کا بجٹ استعمال کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان بچوں کو ڈوبتی سیاست بچانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں مولانا جس ایجنڈے پر ہیں اس سے صر ف مودی کو فائدہ ہور ہاہے۔

    ۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں۔کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل اتفاق رائے ہوگیا ہے۔چارٹر آف ڈیمانڈ کے تین اہم نکات ہیں جس میں حکومت کے استعفے۔صاف شفاف منصفانہ عبوری انتخابات کے انعقاد اور الیکشن کمیشن کے علاوہ کسی اور ادارے کی انتخابی عمل میں مداخلت نہ ہونے۔اسلامی آئینی ترامیم و قوانین کا تحفظ شامل ہیں۔ رہبر کمیٹی نے تمام جماعتوں کی متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ کیلئے تجاویز تحریری طورپر متحدہ حزب اختلاف کے قائدین محمد شہباز شریف۔ بلاول بھٹو زرداری۔مولانا فضل الرحمن۔اسفندیارولی خان۔محمود خان اچکزئی۔آفتاب احمد شیرپاو۔علامہ اویس نورانی۔ سینیٹرپروفیسر ساجد میر کو آگاہ کردیا تھا۔کسی بھی مذاکراتی ٹیم سے چارٹرآف ڈیمانڈ سے ہٹ کربات نہیں کی جائے گی۔

    ۔ اس ملک کے لوگوں کے پاس پیسہ ہے اور ریاست کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ دھرنوں کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے سفارتخانے اپنے اپنے ملکوں کو لکھ کر بھیجتے ہیں کہ پاکستان کا دارالحکومت محفوظ نہیں ہے۔اور جب ایسا ہوتا ہے تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔اسٹاک ایکسینج بیٹھ جاتی ہے۔ کاروبار اور زندگی

    متاثر ہو جاتی ہے۔جس کا اس وقت پاکستان اس کمزور معیشت کے ساتھ کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا۔ ڈی چوک میں ہونیوالی یہ سرگرمی دارالحکومت سمیت پورے ملک کومتاثر کرتی ہے۔ اگر حکومت چاہے تو تمام سیاسی جماعتوں کو انگیج کرسکتی ہے۔مگر اس کے لیے سیاسی بصیریت کی ضرورت ہے۔جو اس وقت حکومت میں بیٹھے لوگوں میں دیکھائی نہیں دے رہی۔

    ۔ مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ حکومت خود ہی مستعفی ہو جائے گی۔لیکن اگر اس دعوے میں مبالغہ ہے تو بھی اتنا ضرور ہے کہ اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی حکومت کے وجود میں ایک بڑا ڈینٹ پڑ جائے گا۔ عین ممکن ہے جو وزیر اس وقت بیان بازی کے مزے لے رہے ہیں کل کو اپنی سیاسی بصیرت پر افسوس کررہے ہوں۔

    اپوزیشن نومبر میں کیا کرنے جارہی ہے

    تحریر ِ عبداللہ باغی

    Muhammad Abdullah
  • 27 اکتوبر اور پندرہ لاکھ کا لشکر۔حقیقت — از — جواد سعید ۔

    27 اکتوبر اور پندرہ لاکھ کا لشکر۔حقیقت — از — جواد سعید ۔

    سوتروں کے انوسار مولانا فضل الرحمن صاحب نے ستائیس اکتوبر کو اسلام آباد دھرنا دینے کی گوشنا کر دی ہے۔لیکن یہ اعلان اتنا ہی کھوکھلا لگ رہا جتنا کہ قوم یوتھ سوچ رہی ہے۔

    مدارس کے دو ہی شعبے پاکستان میں کام کر رہے ۔تنظیم المدارس۔جنھوں نے حمایت کا انکار کر دیا ہے۔اور دوسرا وفاق المدارس۔جن کے مطابق ملک بھر میں مولانا کے حمایت یافتہ مدارس ڈھائی سے تین ہزار ہیں۔اگر ایک مدرسے سے 200 بندے بھی آئیں تو تعداد بنتی ہے پانچ سے چھ لاکھ۔مطلب واضح ہے انکا اعلان صرف پھڑ تک محدود تھا۔

    اسلام آباد آنے کے دو ہی راستے ہیں ،ایک خیبر پختونخواہ دوسرا براستہ پنجاب۔خیبرپختونخوا والا راستہ تو وزیر اعلی خیبر پختونخواہ نے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہےاور دوسرا پنجاب والا راستہ جلد ہی بند کرنے کی اطلاعات موصول ہو سکتی ہیں۔

    اب آتے ہیں بجٹ کی جانب کہ مہنگائ میں پسی عوام کیا اس دھرنے میں پہنچ سکتی ہے۔؟؟

    پندرہ لاکھ افراد کے حساب سے اگر ایک گاڑی میں پانچ بندے سوار ہوتے ہیں تو تقریباً تین لاکھ گاڑیاں اسلام آباد پہنچیں گی۔اور ہر گاڑی پر پانچ سے چھ ہزار کا پٹرول خرچ ہو تو کم ازکم ڈیڑھ ارب روپے خرچہ آئے گااور پھر پندرہ لاکھ شرکاء پر کھانے پینے کا خرچہ کم ازکم 70 کروڑ یومیہ ہے اب کم ازکم پورا ہفتہ بھی یہ دھرنا اسلام آباد رکتا ہے تو سات ارب روپے صرف کھانے پر خرچ، ہو سکتے۔جو کہ عوام کے بس سے باہر ہے۔اور اگر یہ اتنے پیسوں کا انتظام کر ہی لیتے ہیں تو کرپشن مافیا کیطرح نیب کے چنگل میں بآسانی پھنس سکتے۔

    اب آتے ہیں اس سوال پر کیا اپوزیشن اس دھرنے میں مدد کرے گی؟؟

    یاد رکھیں یہ دھرنا سارے کا سارا جمیعت کے مدارس مولویوں پر مشتمل ہو گایقینی سوچ ہے کہ بلاول بھٹو اس دھرنے میں کیونکر شریک ہو گا۔؟؟ سندھ سے عوام کیسے آ پائے گی۔؟؟شہباز شریف معذرت کر چکے بلاول کو یہ سمجھاتے ہوئے کہ دھرنے سے حکومت تبدیل نہیں ہوتی۔اور مولانا کی سب سے بڑی کمزوری مذہب کارڈ ہے۔جس کو اپوزیشن سیاست میں مانتی نہیں ۔اگرچہ نواز شریف نے حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    مگر پھر بھی یقین سے کہا جا سکتا کہ نواز شریف جیسا مکار سیاست دان اس جیسے بکرے کو صرف حلال ہوتا دیکھ سکتا مگر ساتھ حلال نہیں ہو سکتا۔اور نہ ہی اپنی عوام بھیج کر خود سے متنفر کروائے گا۔اور تازہ خبر کے مطابق ایجنسی جمیعتی مدارس کا ریکارڈ سرکار کو دے رہی۔اور یہی کام تابوت پر آخری کیل ٹھوکنا ہے۔اور اگر ان سب کے بعد بھی یہ دھرنا دے بھی دیتے ہیں تو انکا وہی حال ہو گا۔جو الشیخ خادم رضوی صاحب کے دھرنے کیساتھ ہوا تھا شاید۔واللہ اعلم

    بقلم جواد سعید

  • "کانگریسی مولوی آج پھر پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں” تحریر: فیصل ندیم

    "کانگریسی مولوی آج پھر پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں” تحریر: فیصل ندیم

    تحریک پاکستان چل رہی تھی مسلم لیگ کا مطالبہ تھا مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن قائم کیا جائے اور ہندوستان کے گلی کوچے بٹ کے رہے گا ہندوستان لے رہیں گے پاکستان کے نعروں سے گونج رہے تھے ایسے میں کچھ مولوی حضرات کانگریس کی زبان بولتے ہوئے متحدہ ہندوستان پر مصر تھے قائداعظم کو کافر اعظم کہا جارہا تھا ان کے ساتھ چلنے والے لوگ بھی کم از کم منافق قرار دئیے جارہے تھے ہندوستان کے مسلمانوں کی غالب اکثریت نے ان مولوی حضرات کو یکسر مسترد کرکے قائداعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا نتیجہ ہندوستان کے بطن سے دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست کے قیام کی صورت نکلا قیام پاکستان کے بعد ان کانگریسی مولویوں نے پاکستان پر لعن طعن کا سلسلہ جاری رکھا پاکستان میں رہنے والے پاکستان کا کھانے والے یہ مولوی مسلسل پاک سرزمین پر فساد برپا کرنے میں مصروف رہے پاکستان کو گالیاں دینے والے یہ مولوی آج پاکستان میں بڑی شان و شوکت کے ساتھ رہائش پزیر ہیں ان میں سے کتنے وزیر مشیر بنے اور کتنے ارب پتی لیکن پاکستان کے ساتھ ان کا بغض آج بھی جاری ہے آج بھی یہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ان کے نزدیک پاکستان کے سارے مسائل کا حل ان کی ذات میں پنہاں ہے آج پاکستان کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دیں آج سب کچھ ٹھیک راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہوگا ( ثبوت کے طور پر سابقہ ادوار ملاحظہ فرمائے جاسکتے ہیں جب یہ حضرات کسی نہ کسی طرح حکومتوں کا حصہ تھے اور انہیں حکمرانوں کا پیشاب بھی شہد دکھائی دیتا تھا )
    یہ کانگریسی مولوی آج پھر پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں ان کا سب سے بڑا ہتھیار ان کے کفر و نفاق کے فتوے ہیں جو انہوں نے اپنے ہر مخالف کیلئے تیار رکھے ہوتے ہیں قرآن کیا ہے حدیث کسے کہتے ہیں اس سے انہیں کوئی غرض نہیں ان کے کردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار سے خالی ہیں مفاد پرستی اور ابن الوقتی ان کا شیوہ ہے یہی لوگ پاکستان میں آج اہل دین کے زوال کا اصل سبب ہیں یہ کتنا اچھلیں کتنا شور مچائیں یہ اسی طرح مسترد ہیں جس طرح کل متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ان کے بڑوں کو مسترد کیا تھا ۔۔۔

  • "سندھ کے شہروں میں بسنے والے مہاجروں سے ایک دردمندانہ درخواست” تحریر : فیصل ندیم

    "سندھ کے شہروں میں بسنے والے مہاجروں سے ایک دردمندانہ درخواست” تحریر : فیصل ندیم

    کیا فیصلے کا وقت نہیں آیا ہم کب تک دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھیں گے ہمارے لئے ہی کہا گیا ہے رند کے رند ہی رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی لیکن جان لیں دو طرفہ کھیلنے والوں کی اکثر مثال دھوبی کے کتے کی ہوتی ہے جو نہ گھر کا ہوتا ہے نہ گھاٹ کا پھر معاملہ اللہ رسول کی بغاوت و اطاعت کے مابین ہو تو معاملے کی سنگینی بڑھ جاتی ہے وہ مفرور قیادت جسے ہم نے ہمیشہ ہم نے اپنی پلکوں پر بٹھایا اور اس نے ہمیں قتل ، خون ہماری تعلیم ہماری اقدار کی تباہی کے سوا کچھ نہ دیا اسے پوجنے کی کوئی وجہ تو ہونی ہی چاہئے حقوق کے نعرے لگاتے بتیس سال گزر گئے مفرور قیادت اور اس کے گماشتوں کے گھر ضرور بھرے لیکن ہمیں سوائے بربادی کے کچھ نہ ملا ۔۔۔۔
    ہم خود کہتے ہیں کہ ہمارے اجداد نے بیس لاکھ جانوں کی قربانی دی تو پاکستان بنا تو بھائی اتنی بڑی قیمت دے کر حاصل ہونے والے پاکستان کو ذاتی مفادات اور چند ٹکوں کے عوض دشمن کو بیچ دیا جائے ؟؟؟؟
    کیا ہم انکار کرسکتے ہیں کہ جن لوگوں نے تحریک پاکستان میں پاکستان کیلئے جانیں دی تھی تو ان کی زبان پر کلمہ تھا توحید کی صدا تھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا تھی اور آج ہم جس ڈگر پر ہیں اس پر نہ دین بچتا ہے نہ ایمان , نہ قرآن بچتا ہے نہ محمد ذیشان علیہ الصلوة والسلام سے کوئی تعلق تو کہاں جارہے ہیں ہم بھائی ۔۔۔۔
    ہم پاکستان میں سب سے زیادہ دین دار سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور سب سے زیادہ محب وطن تھے لیکن ان ملک و ملت کے سوداگروں کے پیچھے لگ کر کیا کمایا ؟؟؟؟؟
    دین گیا ایمان گیا تعلیم گئی اقدار گئیں آج ہماری پہچان قاتل بھتہ خور اور وطن فروش کی ہوگئی ہے برائے مہربانی سنبھالیں اپنے آپ کو سب سے بڑھ کر ہم پاکستانی ہیں اور سب سے بڑھ کر پاکستان ہمارا ہے۔۔۔۔
    آج ہمارے دین ایمان اور حب الوطنی پر ڈاکہ ڈالنے والے کھل کر سامنے آچُکے ہیں ایسے وقت میں جب ساری دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہورہا ہے ایک کالا سور اور اس کے حواری بھارت کے نمک کا حق ادا کرنے میں مصروف ہیں ایسے میں کہ جب کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے والے بھارت کو دنیا بھر میں سبکی کا سامنا ہے یہ حرامخور کراچی اور بلوچستان کی دہائی دے کر دنیا کو گمراہ کرتے ہوئے بھارتیوں کو پروپیگنڈہ کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں یہ بات حقیقت ہے کہ کراچی حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے ہیں یہ علاقے ایک عرصہ بھتہ خوری غنڈہ گردی اور لسانی دہشتگردی کے شکنجے میں پھنسے رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ اس وقت ہوا تھا جب یہ بدبخت کراچی حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں پر مسلط تھے ان کی آنکھ کے اشاروں پر یہ شہر کھلتے اور بند ہوتے تھے جب سے ان شہروں نے ان بدمعاشوں سے نجات پائی ہے ان میں امن ہی امن ہے ۔۔۔۔
    یہ بات یقینی ہے کہ ان شاءاللہ پاکستان الطاف حسین نامی ناسور سے نجات حاصل کرچکا ہے ان شاءاللہ اب کبھی بھی یہ وطن فروش غدار ٹولہ پاک سر زمین پر قدم نہیں رکھ پائے گا یہ دشمن کی گود میں بیٹھ کر بھونکتے رہیں گے لیکن وطن کی سرزمین انہیں کبھی نصیب نہیں ہوگی ان شاءاللہ
    اس لئے برائے مہربانی اپنی عاقبت و آخرت برباد نہ کریں پاکستان آپ کے آباؤاجداد نے بنایا اس سے محبت کریں اس کی حفاظت کریں ہمارا جینا مرنا سب کچھ اسی وطن میں ہے ان شاءاللہ ہاں کبھی اگر ذہن میں بد خیالات پیدا ہوں تو وہ ہندوستان جس کے گن الطاف حسین بدبخت گانے میں مصروف ہے اس کے طول و عرض میں مسلمانوں کی بے توقیری اور مسلسل بہنے والا ان کا خون ناحق ضرور دیکھ لیں اللہ ہم سب کو حق کو پہچان کر اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے