Baaghi TV

Category: سیاست

  • سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم۔۔۔شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا،ذمہ دار کون؟ از–عرفان قیوم

    سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم۔۔۔شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا،ذمہ دار کون؟ از–عرفان قیوم

    پاکستان میں دیگر شعبہ جات کی طرح میدان سیاست بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں عوام کی طاقت بھرپور اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ اس لیے اس محاذ کے سپاہی اپنا ووٹ بنک بنانے کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کرتے ہیں، جس میں جلسے اور ریلیاں منعقد اور پوسٹرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔ اپنی پہچان کروانے کے لیے ہر دوکان اور گھر میں پمفلٹ تقسیم کیے جاتے ہیں۔

    مزید تسلی کے لیے لوگوں کے سینوں پر سٹیکر اور بیج سجا دیے جاتےہیں۔ گویا کہ ایک بڑی رقم ایوان تک پہنچنے کے لیے صرف ہو جاتی ہےتاکہ کسی طرح کامیابی مقدر بن جائے۔ چونکہ اس میدان کے اُمیدوار ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں اس لیے ہر کوئی اپنی اپنی ہمت کے مطابق عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر عوام آزادی رائے کے فلسفہ کے تحت اپنےاپنے پسندیدہ اُمیدوارکی بھر پورحمایت کرتے ہیں اور جس کے ایجنڈے سےاتفاق نہ ہو اسے ووٹ نہ دے کر ریجیکٹ کرتے ہیں۔ اس طرح مسترد امیدوار کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔لیکن یہ ہارنے والے امیدواربھی کچھ نہ کچھ عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اگرچہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ شاعر کےالفاظ میں

    میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
    لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

    اس کارواں میں امیر، غریب ، چھوٹے اور بڑے سب شامل ہیں کیونکہ قوموں کا مستقبل سیاستدانوں کے فیصلوں سے وابستہ ہوتا ہے ۔اس لیےزمانہ قدیم سے ہی سیاست عموماًزیادہ زیربحث رہنے والا موضوع رہا ہےمگر اب اس بحث میں کچھ تیزی سی آگئی ہے سبب کیاہے؟ وہ دن گئے جب لوگ اکھٹے ہونے پر ہی سیاست پر بات کرتے تھے۔ اب فاصلے ختم ہوچکے ہر کوئی ہر وقت رابطے میں رہتا ہے۔ موجودہ دور گلوبل ویلیج کے نام سے پہچانا جانے لگا ہے ۔

    انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد ڈویلپرز کی بھرپور جدوجہد سے فیس بک ، ٹوئیٹر، واٹس ایپ، انسٹاگرام، ایمو اور یوٹیوب جیسی دیگر رابطے کی ویب سائیٹس اور اپلیکشنز بن چکی ہیں ۔جو کہ پیغام رسانی کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ جن کے استعمال نے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی زندگی کو سہل بنا دیا ہے۔ جس سے روپے اور وقت دونوں کی بچت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے میدان سیاست کے شہسوار بھی ان کے استعمال سے کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تھا

    ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
    احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

    مگر بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ میدان سیاست میں سوشل میڈیا کا استعمال اخلاقیات کے لیے ایک ناسور ثابت ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی اُمیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کے نام سے ایسے پیج اور لنکس ملتے ہیں جن پرسیاسی مخالفین پر بھرپور کیچڑ اُچھالا جاتا ہے۔ اُچھالے جانے والے کیچڑ میں شکلوں کا بگاڑنا، جھوٹ کا بولنا، لعن طعن ،گالیاں دینا، اور اُلٹے اُلٹے ناموں سے پکارا جانا جیسی ناپاک حرکات ملتی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے۔
    حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً روایت ہے
    "مومن لعن طعن کرنے والا بدخلق اور فحش گو نہیں ہوتا”۔امام ترمذی نےاسے حسن قراردیاہے( بلوغ المرام:حدیث نمبر۱۲۹۹) ۔

    میں خود بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہوں ۔فیس بُک کو چلایا تو ایک صاحب نے ایسی پوسٹ شیئر کی ہوئی تھی جس میں جماعت اسلامی کے صدر سراج الحق صاحب کو "سراجو” اور جمعیت علمائے سلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن صاحب کو "فضلو ” اور ڈیزل کے نام سے پکارا گیا تھا۔ ماضی قریب میں وزیر ریلوے شیخ رشید صاحب کو شیدا ٹلّی کے نام سے پکارا جاتا رہا اور یہ نام آج تک سوشل میڈیا پر بھی پوری دھوم دھام سے چلتا آرہا ہے۔

    مسلم لیگ ن کے ہم خیالوں کو "پٹواری” اور پاکستان تحریک انصاف سے محبت کرنے والوں کو "یوتھیے ” جیسے القاب دیےجاتےہیں۔ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی میاں شہباز شریف صاحب کو "شوباز شریف ” کے نام سے نوازا گیا ہے اور حال ہی میں ایک حکومتی نمائندے کے گلے میں "ڈبو” کاہار پہنایا گیا ہے۔ دیگر بد عنوانیوں جھوٹ ، لعن طعن ، گالیوں اور شکلوں کا بگاڑنا وغیرہ کی بھی ایک لمبی چوڑی فہرست ہے جن کو تحریر کا حصہ بنانا تو دور کی بات، زبان پر لانا بھی زیب نہیں دیتا ہے۔ اسی لیےصرف ان مثالوں پر ہی اکتفا کرتاہوں ۔ظاہر ہے یہ سب کچھ سیاسی مخالفین کو اذیت اور تکلیف پہنچانے اور پریشان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے مگر اپنی عزت تو ہرکسی کو محبوب ہوتی ہے۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

    "دو بُرابھلا کہنے والے جوکچھ کہتے ہیں اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہےتا وقتیکہ مظلوم زیادتی نہ کرے” [مسلم( بلوغ المرام :۱۲۹۶ حدیث)]

    اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے۔ حضرت ابوصرمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

    "جوشخص کسی مسلمان کو تکلیف پہنچائے تواللہ اسے تکلیف پہنچائے گااور جو کسی مسلمان کومشقت میں مبتلا کر دے تو اللہ اسے مشقت میں مبتلا کرے گا”۔ [(ابودائود ، ترمذی) اور اسے حسن قراردیا ہے( بلوغ المرام:۱۲۹۷حدیث)]

    ہاں ہاں نظریے سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن نظریے کو آڑ بنا کر کسی کی شخصیت پر حملہ آور ہونا کہاں کی دانائی ہے؟ اس تحریر سے قبل میں”پٹواری اور یوتھیے تک کا سفر” کے نام سے بھی تحریر لکھ چکاہوں جسے پڑھ لینا مناسب ہوگا ۔مگر اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں یا آزاد اُمیدواروں سےاتفاق کرنے والے ان نازیبا پوسٹوں کوپورے جوش و خروش سے شئیر ، لائک اور محبت بھرے کمنٹ کرتے نظر آتے ہیں۔ بلکہ پھر اپنے کیے پر فخر بھی کیا جاتاہے۔ شاعر بشیر بدر نے اسی لیے کہا تھا۔

    دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
    جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

    ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی نے اپنی کتاب” اسلام کا نظام حیات ” میں لکھا کہ علامہ سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ اور علامہ شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ سیرت النبیﷺجلد ششم کے صفحہ ۶ پر رقمطراز ہیں : ــ

    "اقوام کی ترقی و تہذیب میں اخلاق کی بڑی اہمیت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملت کی تعمیر کا اہم جزواخلاق کی صحیح تربیت ہے”۔

    اور اسی طرح ڈاکٹرلیاقت علی خان نیازی نے لکھا

    محمد عربی ﷺ نے اخلاق پر درس دیتے ہوئے فرما یا ہے” کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق بہتر ہے (رواہ البخاری و مسلم) "۔

    مگر سچی بات ہے یہاں تو معاملہ ہی بالکل اُلٹ ہو چکاہے۔آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہر کوئی دوسرے سے بدلا لینے پر تُلاّ ہواہے۔ خالد ملک ساحل نے کہاتھا۔

    ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحلؔ
    ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے

    بہر حال سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تعلیم ناپید ہوگئی یا جہالت پروان چڑھ گئی ہے؟ ریاست پاکستان میں تعلیم و تربیت پر ہر سال ایک بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ دکھ سے کہتا ہوں کہ یہ رقم ڈوبتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔مزید کہوں تو لگتا ہے کہ شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑ گیاہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کےلیےاخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔

    اگر کیچڑ اچھالنےوالے صاحبان کی تعلیم و تربیت پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتاہے کہ نفرت انگیز ،اشتعال سے لبریزاور شر کے لباس میں ملبوس پوسٹ کولائک ، محبت بھرے کمنٹ اور شیئر کرنے والےاعلٰی سے اعلٰی تعلیم یافتہ جن میں ڈاکٹرز، پروفیسرز،نامور یونیورسٹیوں کے طالبعلم،مدرسوں کے فاضل حفاظ کرام یا کسی اعلٰی عہدے پر فائزشخصیات ہیں۔بھلے مانس نہیں جانتے کہ سوشل میڈیا پرلگائی جانے والی ان اخلاقیات سے گری پوسٹوں سےگناہ کا ارتکاب تو ہو ہی رہاہے مگر اس سے عوام میں نفرت، بغض، عداوت، دشمنی جنم لے رہی ہے جو کہ نحوست کا باعث ہے۔جبکہ اس امت محمدکو اتحاد کی ضرورت ہے۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

    نحوست ‘ بدخلقی (کی وجہ سے ) ہے۔ [( بلوغ المرام ،حدیث:۱۳۰۸)

    ایک طرف اعلٰی سے اعلٰی نصاب اور تعلیمی ادارے جبکہ دوسری طرف نئی نسل کو اخلاقیات سے گر ا ہوا درس دیا جارہاہے۔کون ہے ذمہ دار؟کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا کہ اس ناسور کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے ۔اگر آج ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ ایسے نتائج بھگتنےپڑیں جو شرمندگی کا باعث ہوں۔ شاعر کے الفاظ میں

    دھواں جو کچھ گھروں سے اٹھ رہا ہے
    نہ پورے شہر پر چھائے تو کہنا

    یہ بات ایک اٹل حقیقت ہے کہ عوام ریاست کےلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتےہیں۔ جن کے جان و مال اور عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنا حکمران وقت کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہےاوریہ فلسفہ روز اوّل سے تا حال ببانگ دہل اور ڈنکے کی چوٹ کہا جاتاہے۔اگرریاست کے اہم عہدوں پر فائز لوگ اپنی ذمہ داریاں نبھانےسے ناکام رہتے ہیں تو عوام کا حق بنتا ہے کہ ان سےاخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کریں۔اگر مسئلہ حل نہیں ہوتاتو اُن سے جان چھڑائیں اور آئندہ کےلیے مستردکردیں۔ مشہور شاعر رانا نے کہاتھا

    ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
    تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا

    مگر تما م تر ذمہ داریاں حکمرانوں پر تھونپ کرعوام کااپنے فرائض سے بری الذمہ ہوجانا بھی درست نہیں ہے۔

    بقلم: عرفان قیوم

  • ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔

    ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔

    دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔

  • صداقت عباسی کے وعدوں پہ وعدے کارکن مایوس ———— از -آصف شاہ

    صداقت عباسی کے وعدوں پہ وعدے کارکن مایوس ———— از -آصف شاہ

    پاکستان خالصتاً جمہوری عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا، مگر افسوس کہ قیام کے بعد سب سے زیادہ غیر جمہوری صدموں سے دوچار رہا، ستر برس گزرنے کے بعد بھی پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری ادارے ایک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں، گوکہ آدھے سے زیادہ عرصہ آمریت کی نذر ہو چکا ہے لیکن بقیہ رہ جانے والے عرصے میں جمہوریت کے نام پر جمہوری بادشاہ ملک پر مسلط رہے ہیںاور انہوں نے بھی عوام کو لولی پاپ کے سواکچھ نہ دیا

    اقوام متحدہ میں‌ عظیم الشان خطاب ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، صحافی اور علماء بھی واہ واہ کراٹھے ، خراج تحسین پیش کیا

    موجودہ حکومت کی بات کی جائے تواقتدار میں آنے سے پہلے ان کا منشور جو عوام کے سامنے رکھا گیاوہ کچھ اور تھا جبکہ محاورةہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور مصداق حلقوں سے منتخب نمائندے وعدوں کی بارات کے ساتھ اپنی لیڈر شپ سے کوسوں فاصلہ طے کر چکے ہیںحلقہ این اے57اور59پر اگر نظر ڈالی جائے تو تاحال لولی پاپ کی مصنوعی بارش جاری ہے این اے59میں غلام سرور خان نے ایم پی اے حاجی امجدکے ساتھ مل کر عوام کو کچھ ریلیف دینے کی اپنے تہی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ واثق قیوم عباسی تاحال سیاسی اننگز میں ترقیاتی کاموںکا کھاتہ نہ کھول سکے ہیں،لیکن وہ سیلفیوں سے اپنی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ پی پی 10اور این اے57کی قیادت تاحال قانو گو ساگری کی عوام کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں

    سابق وفاقی وزیر داخلہ تاحال حلف نہ اٹھانے کی اکڑ کے ساتھ موجود ہیں،اور ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ تحریک انصاف کی قیادت عوام کو بخوبی چکر دینے میں کامیاب نظر آتی ہے اگر چوہدری نثار اپنی سیاست کو اس حلقہ میں ایکٹیو کریں تو دونوں حلقوں کی عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکتا ہے،دوسری جانب ان کے حلف نہ اٹھانے کے خلاف حلقہ کے شہری فرخ عارف بھٹی ہائیکورٹ پہنچ گے ہیں اللہ کرے عدالت ان کو اس کٹہرے میں لائے کہ حلف اٹھائیں یا گھر جائیں کہ پوزیشن سامنے آجائے سیاست میں جہاں اپوزیشن موجود نہ ہو وہاں پر عوام کی حالت فٹبال کی سی ہو تی ہے اور اس وقت اس حلقہ میں قانو گو ساگری کی عوام کے ساتھ صداقت عباسی اینڈ کمپنی کرنے میں مصروف ہے ،ایک سال اور تقریبا تین ماہ ہونے کو ہیں لیکن ایک روپے تک کی گرانٹ نہ دی جا سکی

     

    عمران خان سچے،ایماندار اور حقیقی لیڈر ہیں ،اسلام،مسلمان اورکشمیر پرواضح موقف پیش کرنے پر سلام، شوبز کی دنیا کا وزیراعظم کو خراج تحسین

    اعلانات کے حوالہ سے اگر دیکھا جائے تو ہر یوسی کے لیے اٹھائیس لاکھ کی ایک گرانٹ اس کے بعد چالیس لاکھ فی یوسی اور پھر ایک ایک کروڑ کی گرانٹوں کے اعلانات کیے گے لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے،،ترقیاتی کاموں کو تو ایک طرف رکھ دیں انہوں نے ایک سال قبل یہ اعلان کیا تھا کہ ہر مہینے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے گا لیکن تاحال کون سی عوام اور کون سی کھلی یا بندکچہری کچھ نہ کیا جا سکا موصوف نے دو ہفتے قبل قانو گو ساگری کا دورہ کیا اور جلسے میں بھر پور شرکت پر صرف شاباش پر ٹرخاتے ہوئے ہوئے کلر سیداں اور حلقہ کے متعدد علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا بالمشافہ افتتاح کیا ،

    یاد رہے کہ ہاس سے پہلے انہوں نے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے جانا تھا تو اسی سے ملتے جلتے اعلانات کیے تھے لیکن اس قانو گو کی عوام کی کوش قسمتی دیکھے جہاں پر کھلی کچہری کا انعقاد نہ کیا جا سکا اپنی الیکشن کمپین کے دوران پچیس تاریخ تک عوام کا ساتھ مانگنے والے تاحال عوام کو کچھ نہ دے سکے دوسری طرف ان کی جانب سے بنائی جانے والی کمیٹیاں اور ان کے نمائندگان بھی اب اپنے ہی عوام کے سامنے شرمشار سے نظر آتے ہیں اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ قانو گو ساگری کے دورے کلرسیداں کے وہ سیاسی کھڑپینچ کرنے لگے ہیں

    جن کو اپنی یوسی میں کوئی مکمل طور پر نہیں جانتا لیکن ان کے اشارے پر قانو گو ساگری کے سیاسی قیادت عضو معطل نظر آتی ہے اور موصوف کے کان میں شائید انہی کھڑپینچوں نے ہی یہ بات ڈال رکھی ہے کہ اس قانو گو کو چھوڑ دیں اگلے الیکشنوں میں قانو گو ساگری ہمارے حلقہ کا حصہ نہیں ہو گااسی سیاسی چھپن چھپائی میں تاحال اس قانو گو کی عوام کی قسمت کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا اگر ملکی خزانے کی جانب نظر ڈالی جائے تو اس وقت ہر زی شعور پاکستانی یہ بات جانتا ہے

     

    اقوام متحدہ میں‌ عظیم الشان خطاب ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، صحافی اور علماء بھی واہ واہ کراٹھے ، خراج تحسین پیش کیا

    خزانے کی حالت مخدوش ہے تو پھر منتخب نمائندوں کو حلقہ کی عوام کو حقائق سے اگاہ کرنا چاہیے لیکن ہر ماہ کے بعد ایک نیاءشوشا چھوڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کیا تک ہے ان کی اسی روش پر گزشتہ روز کہوٹہ میں ہونے والے گیس کی افتتاحی تقریب میں اپنی ہی پارٹی کے ایک رہنماءکے ہاتھوں جہاں پر گزشتہ دور حکومت کے منصوبوں پر اپنے افتتاح کی تختی لگانے پر ان کی جو درگت بنی اس سے ان کو سبق حاصل کرنا چاہیے دوسری طرف ان کے اپنی ہی پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرمرتضی ستی بھی اب ان کے سیاسی بلنڈروں کو نجی اور عوامی محافل میں آڑھے ہاتھوں لینے لگے ہیں،اگر یہی حالت رہی تو جلد یا بدیرقانو گو ساگری میں ،،کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو کے مصداق ،،کہوٹہ جیسی عزت افزائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    صداقت عباسی کے وعدوں پہ وعدے کارکن مایوس ———— از -آصف شاہ

  • شکریہ عمران آپ نے 72 سال کا قرض اتار دیا——-تحریر:احمد طارق

    شکریہ عمران آپ نے 72 سال کا قرض اتار دیا——-تحریر:احمد طارق

    وزیراعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی میں تاریخی خطاب نے جہاں کروڑوں لوگوں کا دل جیتا وہیں یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ بیشک اللہ نے عمران کو پاکستانیوں اور خاص طور پر کشمیریوں کیلئے ایک نعمت بنا کر بھیجا ہے۔

    اگر میں آپ کو سچ بتاوں تو حقیقت یہ ہے کہ عمران کا خطاب جب شروع ہوا تو میں ڈر گیا، میں نے دیکھا کہ خان صاحب تو یہاں بھی پرچی نہیں لائے، ٹھیک ہے وہ اکثر پرچی کے بغیر ہی بولتے ہیں، لیکن یہ تو موقع ہی بہت بڑا تھا، یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم خطاب ہونے جارہا تھا، یہاں بیشک وہ پرچی سے دیکھ کہ نہ پڑتے لیکن چند ضروری پوانٹس تو پرچی پر لکھ کر لاسکتے تھے نا؟ ظاہر سی بات ہے انسان ہیں وہ بھی، غلطی ہوسکتی ہے، زبان پھسل سکتی ہے، جس کی وجہ سے گیم الٹ بھی ہوسکتی ہے اور ایسا نہ ہو کہ ہمارے ہمسائے ہم پر تنقید کرنے لگ جائیں۔ میں تھوڑا ڈر گیا اور ساتھ دعا بھی کرنے لگا کہ اللہ عمران اور پاکستان کی عزت رکھ لینا۔

    خیر خطاب شروع ہوا!!! چہرے پر غصہ، لہجے میں سختی، پراعتمادی، اور بھارت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے جواب دینا، اسے کہتے ہیں حقیقی لیڈر۔ میں بھی ہر پاکستانی کی طرح تاریخی خطاب بہت غور سے سن رہا تھا، جس طرح خطاب چلتا گیا، میرا ڈر ختم ہوتا گیا مجھے پتا چلا کہ واقعی جو حقیقی لیڈر ہو اسے کسی پرچی کی ضرورت نہیں، یقینی طور پر تعلیم آپ کی شخصیت کو نکھار دیتی ہے۔ خطاب پر بات کرنے سے قبل ایک اہم ترین بات یہ کرنا چاہوں گا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں پرچی اس لیے بھی ضروری ہے کہ خطاب کے دوران اہم پوائنٹس نہ بھول جائیں، لیکن ایسے لوگوں کو آج کے خطاب کے بعد جواب مل گیا ہوگا، جو بات آپ کے دل سے نکلے وہ کسی بھی پرچی سے بہت بہتر ہوتی ہے۔

    اب بات کرتے ہیں اہم ترین خطاب پر، عمران کی یہ تقریر کسی بھی پاکستانی وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میں تقریر سے بڑی اور شاندار تھی۔ جی ہاں! یہ تقریر بھٹو صاحب کے جنرل اسمبلی میں خطاب سے بھی اچھی تقریر تھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی وزیراعظم کشمیر کا مسئلہ اتنے مضبوط انداز میں لڑ پاتا۔ خطاب کے دوران عمران نے جنرل اسمبلی میں موجود ہر مذہب کے لوگوں کو انسانیت یاد دلائی، احساس دلایا۔ اس خطاب کو پسند کرنے کیلئے آپ کا پاکستانی ہونا ضروری نہیں.

    ایک بات یہاں یہ بھی قابل غور ہے کہ اگر یہی تقریر انہی الفاظ کے ساتھ، بغیر پرچی کے نوازشریف صاحب یا زرداری صاحب بھی کرتے تو پھر بھی اس تقریر کا اتنا اچھا تاثر دنیا پر نہ جاتا، کیونکہ انداز کرنے کا بیان بھی اپنا اپنا ہوتا ہے اور جس انداز اور غصے سے عمران نے کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے، یہ فن بھی صرف و صرف عمران کے پاس ہی ہے۔ میرا اپنا ماننا ہے کہ نریندر مودی نے بھی شاید اسی لیے کشمیر پر اپنا موقف پیش نہیں کیا کہ وہ بھی عمران کی فطرت سے خوب واقف ہیں اور وہ یقینی طور پر جانتے ہوں گے کہ عمران کا ردعمل مزید سخت ہوسکتا ہے، اسی لیے کشمیر کے مسئلہ پر خاموش ہی رہا جائے۔

    ہالی وڈ فلم "ڈیتھ وش” کا ذکر اور بتایا کہ جب فلم کے ہیرو کو انصاف نہیں ملتا تو وہ بندوق لیکر باہر نکل جاتا ہے اور سب کرمنلز کو مارنا شروع کردیتا ہے اور سینما میں موجود کس طرح تمام لوگ اس کو کھڑے ہوکر داد دیتے ہیں. دنیا والوں سن لو! اگر کشمیری بھی ایسا کریں تو انہیں بھی ہیرو کہنا، دہشتگرد نہ کہنا…… جی ہاں! یہ ہی الفاظ تھے وزیراعظم صاحب کے جنہوں نےاقوام متحدہ میں ایسا کہا. کیا کوئی اور وزیراعظم ایسا کہہ سکتا تھا، میں سمجھتا ہوں اتنا مضبوط مقدمہ تو کوئی حریت رہنما بھی نہ لڑپاتا اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے میں کامیاب ہوجائے گا اور اس کے بعد جو ہوگا اس کا ذکر خان صاحب کرچکے ہیں.

    ‘لا الہ اللہ ہم جنگ کیلئے تیار ہیں’ کیا ہی خوبصورت بات کہہ دی۔ میں نے سوچا عمران آپ صرف یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ ‘ہم جنگ کیلئے تیار ہیں’ لیکن عمران نے یہاں بھی دل جیت لیا۔ اگر میری یاداشت کمزور نہیں تو میرا نہیں خیال کہ آج سے پہلے کسی بھی مسلمان لیڈر نے جنرل اسمبلی میں کھڑے ہوکر کبھی بھی ‘لا الہ اللہ’ کہا ہو۔ اتنا مضبوط ایمان ہونے پر بھی اللہ کیوں نہ مدد کرتے؟ میں سمجھتا ہوں یہاں عمران پلس پوائنٹ لے گے ہیں، انہوں نے وعدہ تو کشمیر کا مقدمہ لڑنے کا کیا تھا، لیکن وہ اسلام کا مقدمہ بھی لڑ رہے ہیں، بار بار دنیا کو بتا رہے ہیں کہ اسلام صرف 1 ہی ہے، اور وہ ہے ہمارے نبی پاک ﷺ کا اسلام۔ ہمارا اسلام دہشتگردی کا درس نہیں دیتا۔ حضرت محمد ﷺ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، لہذا ان کی توہین نہ کی جائے، ان کی توہین سے ہمارے دلوں میں تکلیف ہوتی ہے. یقینی طور پر مغرب میں اسلام کی اتنی اچھی تعریف کسی مسلمان لیڈر نے نہیں کی ہوگی.

    خان صاحب کے خطاب کے دوران جنرل اسمبلی میں بھارتی وفد کے جس طرح ہوش اڑ گئے اور پسینے چھوٹ گئے تھے، اس سے یہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر پر آنے والے دنوں میں پاکستان کی پوزیشن کتنی مضبوط ہونے جارہی ہے۔ بھارتی میڈیا بھی زیادہ سے زیادہ اسی بات پر تنقید کر رہا ہے کہ یہ تقریر بہت لمبی تھی، شاید ان کے پاس تنقید کیلئے کچھ اور تھا بھی نہیں۔ لیکن عمران کی فطرت سے وہ ناواقف نظر آتے ہیں، جو کہتا ہے کہ آزادی کیلئے پہلی گولی مجھے کھانا پڑی تو وہ بھی کھانے کیلئے تیار ہوں.

    مجھے اکثر عمران کی پالیسیوں سے اختلاف رہتا ہے جو کہ رہنا بھی چاہیئے کیونکہ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے اور ہر ایک کو اختلاف رکھنے کا حق بھی حاصل ہے، لیکن اس شاندار خطاب پر بھی جو لوگ تنقید کر رہے ہیں، ان سے میرا سوال ہے کہ کیا آپ میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو جنرل اسمبلی میں 50 منٹ بغیر پرچی کے تقریر کرسکے؟ جب کہ اسے پوری دنیا کا میڈیا بھی دکھا رہا ہو اور کشمیر کا مقدمہ بھی لڑنا ہو؟

    عمران خان کا یہ خطاب ان کی زندگی کا بہترین خطاب ثابت ہوا جو کہ بہت لمبے عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی ہر مسئلہ کو وہ جس طرح باریکی انداز سے بغیر پرچی کے لیکر چلے اور کشمیر کا مقدمہ جس بخوبی انداز میں دنیا کے سامنے لڑا ہے، میرا اپنا خیال ہے کہ اگر سیکیورٹی کا مسئلہ نہ ہوتا تو قوم نے اس بار کپتان کا استقبال 1992 ورلڈ کپ کی جیت کے بعد سے بھی بڑا کرنا تھا۔ کیونکہ کشمیر کا مقدمہ آدھے سے زیادہ تو وہ جیت ہی گئے ہیں۔
    میری طرف سے جناب عمران خان صاحب کی اس تقریر کو 100 میں سے 200 نمبر۔

  • مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان  :علی چاند

    مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان :علی چاند

    امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں امریکیوں اور ہندوستانیوں سے بھرے سٹیڈیم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک دوسرے کو تھپکی دیتے ہوٸے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر دنیا سے اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ یہ بات امریکی صدر نے کہی ہے کہ
    ” ہم بےقصور شہریوں کی انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خطرہ سے حفاظت کے لئے پرعزم ہیں ”

    کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنا عقل و شعور اور سمجھ ہوتی کہ کافر ، عیساٸی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنی غیرت ہوتی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھاٸیوں کی جہاد کے ساتھ مدد کرتے ہمارے حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ صرف معیشیت کا ہی رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جنگیں ہار جیت اور معشیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت بہتر بنانے کے چکروں اپنا وقار مٹی میں ملا دیا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت کی خاطر ان ہندوٶں کو اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف مندر تعمیر کر کے دٸیے ہیں بلکہ ان مندروں کا افتتاح بھی اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ یہی مسلمان حکمران ان یہود و ہنود کو نہ صرف مندر تعمیر کر کے دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے اعلی سول اعزازات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ کسی کو پچاس لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ہار پہنایا جارہا ہے اور کسی کو سول اعزاز دیا جارہا ہے ۔ اور بدلے میں کیا مل رہا ہے ان مسلمان حکمرانوں کو ۔ خود ہم پاکستانی حکمران اپنی نمک جیسی نعمت کو انہی یہود و ہنود کو کوڑیوں کے دام دے رہے ہیں ۔ بدلے میں مسلمانوں کو کیا مل رہا ہے سود در سود قرض تلے ساری قوم جھکڑی جارہی ہے ۔

    کشمیر ، فلسطین ، عراق ، برما ، وہ کون سا علاقہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں ۔ ؟ امریکہ ہو یا بھارت جیسا ملک مسلمانوں کو کہاں سکون لینے دے رہے ہیں ۔ اور مسلمان شہید ہورہے ہیں ، بچے یتیم ہورہے ہیں ، بہنوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہو رہا اس پر تو اب تک شاید آسمان بھی پھٹ جاتا لیکن ان مسلمان بزدل حکمرانوں نے غیرت مند مسلمانوں کی بھی غیرت ڈالر اور معیشیت کے بدلے گروی رکھ دی ۔ ہر جگہ مسلمان اپنی عزتیں لٹا رہے ہیں ، جانیں دے رہے ہیں پھر بھی ملا کیا اسلامی دہشت گردی کا طعنہ ؟ بزدل حکمرانوں نے جتنا امن امن کا راگ الاپا اتنا ہی ہم دہشت گرد ٹھہرے ۔ وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور پھر اس بزدلی کو امن کا نام دینا ۔ محمد بن قاسم صرف ایک مسلمان بچی کی فریاد پر پورا سندھ ہلا گے ۔ نا معیشیت کا سوچا نہ امن کا سوچا ۔ ہے کسی کی جرأت کے محمد بن قاسم کو دہشت گرد لکھے ؟ محمود غزنوی جس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے سو منات کا مندر توڑا ، سترہ حملے کرتے وقت محمود غزنوی نے معیشیت کا سوچا ؟ سو منات کا مندر توڑتے وقت محمود غزنوی نے سوچا کہ دنیا مجھے دہشت گردکہے گی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان بزدلی کو امن کا نام نہیں دیتے بلکہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ہے کسی کی جرأت کے محمود غزنوی کو دہشت گرد لکھے ؟ ٹیپو سلطان نے جنگ کی جنگ ہار گے لیکن کسی بزدل یہود وہنود کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ۔ ہے کسی کی جرأت کہ ٹیپو سلطان کو ہارا ہوا لکھے ۔ تاریخ ہارا ہوا اور دہشت گرد صرف اسی کو لکھتی ہے جو بزدلی کو امن کا نام دے کر گھٹنے ٹیک لے ۔

    غیرت مندوں کو ہارا ہوا اور دہشت گرد لکھنے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی ۔ طارق بن زیاد ، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، ٹیپو سلطان ان سب کو کیا اسلام امن کا درس نہیں دیتا تھا ؟ کیا اسلام امن کا درس صرف آج کے ڈرپوک بزدل اور ڈالر کے غلام مسلمان حکمرانوں کو دیتا ہے ؟ مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ نہ ہی بزدل ہوتا ہے ۔ مسلمان صرف اور صرف غیرت مند ہوتا ہے ۔

    مودی اور ٹرمپ کے بیان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران غیرت کی گولی کھاٸیں اور ایسے غیرت اور جرأت مندانہ خطاب کریں کہ ان نمک حرام یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو جاٸیں ۔ اور انہیں نہ صرف مسلم مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑیں بلکہ اپنی معیشیت کی بھی فکر لاحق ہوجاٸے ۔ لیکن ایسا صرف تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان حکمران غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ ابھی ساری دنیا کی نظریں وزیر اعظم عمران خاں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر لگی ہوٸی ہیں ۔ عرب حکمران تو ان یہود و ہنود کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر انہیں اعلی اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ کیا جواب دیں گے اور کیا غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ یہ ہی وقت ہے جب عمران خان پوری امت کا دل جیت بھی سکتے ہیں اور پوری امت کے دل سے اتر بھی سکتے ہیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب عمران خاں یا تو ہیرو بن جاٸے گا یا پھر زیرو ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں کے دل سے یہود و ہنود اور ڈالر کی محبت نکال کر انہیں جرأت مندی اور غیرت کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر:  محمد عبداللہ

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے کچھ عرصہ قبل عمران خان کے دورہ امریکہ اور ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بیان کی گئی باتوں پر بھی لکھا تھا ریاست پاکستان اپنا بیانیہ تبدیل کرچکی ہے. ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اور جس کی بنیاد پر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا پاکستان اس کا واضح انکار کرے گا کہ ماضی میں ہم نے غلط کیا ہے. جیسا کہ آج وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نیویارک میں کونسل فار فارن ریلیشنز میں بات چیت کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ امریکہ کی جنگ میں کودنا پاکستان کی غلطی تھی وہ ہماری جنگ نہیں تھی، آئی ایس آئی نے مجاہدین، طالبان و دیگر کو ٹرین کیا جن کو نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گرد کہنا شروع کردیا تھا. ہم نے اس جنگ کے نتیجے میں ستر ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، اس جنگ کیں ہمیں 200 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں غربت ہے جبکہ مودی آگ سے کھیل رہا ہے ہم بارہا ان کو کہہ رہے ہیں کہ آؤ امن کی طرف خطے سے غربت کے خاتمے کے لیے کام کرو. لیکن بھارت کی طرف سے ہمارے خلاف اقدامات ہو رہے ہیں جیسا کہ پلوامہ کا واقعہ پیش آیا تو بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام لگا دیا اسی طرح بھارت نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں دھکیلا، خان کا مزید کہنا تھا کہ میں جنگ مخالف ہوں کیونکہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی.

    مزید پڑھیں ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ

    یہ بیانیہ اگرچہ پاکستان کے بہت سارے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا. اس پر بڑی باتیں اور بڑے تجزیئے ہونگے، الزامات کی بوچھاڑ ہوگی لیکن یاد رکھیے کہ پاکستان کے مسائل صرف معاشی، اقتصادی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام ہی نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے بہت بڑے بڑے مسائل میں سے پاکستان کا عالمی سطح پر سفارتی تنہائی، ایف اے ٹی ایف میں پکڑ (جس کی وجہ سے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تجارت اور تعلقات میں مسائل کا پیدا ہونا)، مسئلہ کشمیر، افغان امن پراسس، دہشت گردی وغیرہ وغیرہ. ان سب مسائل سے بیک وقت نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنا رویہ تبدیل کرے، اپنے اوپر لگے ہوئے سارے الزامات دھوئے، ماضی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور ان پر پاکستان کے ردعمل کے حوالے سے ٹھوس موقف اختیار کیا جائے اور اسی کا پرچار دنیا میں ہو اور یہ وہی کام ہے جو عمران خان اس وقت کر رہا ہے. یہ فقط عمران خان یا جی ایچ کیو یا دیگر سیاسی گروہوں کا بیانیہ نہیں ہے بلکہ یہ ریاست پاکستان کا بیانیہ ہے اور موجودہ سنگین حالات میں یہی بیانیہ کارگر ہوگا. اس کے ساتھ ساتھ ایک کام کا ہونا بہت ضروری ہے اور بڑی خوشی ہے کہ یہ کام ہو بھی رہا ہے وہ ہے کہ پاکستان کے دشمنوں اور ان کی سازشوں کو اقوام عالم کے سامنے بالکل کھول کے رکھ دینا اور انکو کاؤنٹر کرنا.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • کیابلدیاتی الیکشنوں کا طبل جنگ حکومت کے گلے کی ہڈی بن جائے گا —– از آصف شاہ

    کیابلدیاتی الیکشنوں کا طبل جنگ حکومت کے گلے کی ہڈی بن جائے گا —– از آصف شاہ

    بلدیاتی اداروں کا قیام برصغیر پاک و ہند میں 1885کو انگریز سرکار نے رکھا اورمیونسپل کارپوریشن کے نظام کا آغاز کیا جس کے کل 27 ممبران تھے جن میں 26 ممبران میونسپل کمیشنر اور 27 واں میئر کہلایا۔ اس نظام کی مْدت 10 سال مقرر کی گئی قیام پاکستان کے بعد ایوب خان نے 1962 ء میں اسی نظام کو بی ڈی (DemocraticBasic) ممبر کے نام سے متعارف کروایا بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو دَور میں دوبارہ کونسلرز سسٹم رائج ہوا لیکن ضیاء دَور میں بھی 1979ء اور 1980 ء میں یہ نظام نافذ کردیا گیا اسکے بعد 1998 میں بلدیاتی انتخابات کروائے گئے۔

    ملکی سیاست میں بلدیاتی نظام کا جو سب سے کامیاب دَور گزرا وہ مشرف کا تھا جس نے 2001 ء اور 2005ء میں یہ نظام مضبوط بنیادوں پر نہ صرف استوار کیا بلکہ ناظمین کو مفاد عامہ اور انتظامی امور کے میدان میں لامحدود اِختیارات سونپے گئے۔ بلدیاتی نظام میں نمائندوں کا اپنے علاقہ سے منتخب ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت پر مامور رہتے ہیں۔ اس نظام کی ایک اور اہم خوبی خواتین کی انتخابات میں شمولیت ہے اہلِ علاقہ سے ہونے کی بناء پر وہ ان خواتین اْمیدواروں کا چناؤ کر سکتی ہیں جن پر وہ نہ صرف بھروسہ کرتی ہیں بلکہ اْنہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے مسائل کو اْجاگر کرنے اور حل کرنے کی بھر پور سعی کریں گی۔ یہ عوام کو ریلیف دینے کا فوری اور مضبوط ذریعہ ہے۔

    موجودہ دَور حکومت نے ایک بارپھر بلدیاتی انتخابات منعقد کروانے اور اس کو نئے انداز میں لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بننے سے پہلے ان کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ بلدیات کو مضبوط بنا کر عوام کو ریلیف دیا جائے گا اگر اس پر بھی یوٹرن کی روایات کو نہ اپنایا گیا تو اْمید کی جاتی ہے کہ یہ نظام اپنی اَصل شکل میں رائج ہوگیا توجس سے نہ صرف ملکی سطح پر عوامی نمائندگی ہوسکے گی بلکہ عام لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے بھی خاطر خواہ کام کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں جو باری باری کی سیاست کرتی رہی ہیں وہ ایک مرتبہ بھی بلدیاتی نظام کو مضبوط نہ بنا سکی یا اس سے مخلص نہ تھی ن لیگ کے گزشتہ دور میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت کی واضع کامیابی کے باوجودبھی تقریبا تین سال تک ضلع راولپنڈی کے ضلعی چیئرمین کا انتخاب نہ کیا جا سکا جس کا سہرا ن لیگ کے اس وقت کے چہیتے چوہدری نثار علی خان کے سر جاتا ہے کیونکہ منتخب نمائندوں کی موجودگی میں ان کے ترقیاتی فنڈز کو ہڑپ کرنا کسی صورت بھی ممکن نہ تھا لیکن جب منتخب نمائندے خود ہی مخلص نہ ہوں تو عوام کی حالت کیسے بدل سکتی ہے،اب ایک بار پھر تحریک انصاف نے بلدیاتی انتخابات کو ڈھول پیٹنا شروع کر دیا ہے اور ایک جامع پروگرام کے دعوے کے ساتھ اس کو عملی جامہ پہنانے کا دعوی بھی شروع کیا گیا ہے لیکن اس کے اصلی خدوخال اس وقت واضع ہونگے جب اس پر عمل درآمد ہوگا

    اب سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کی موجودہ حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ بلدیاتی انتخاب کا نہ صرف انعقاد کر واسکے بلکہ اس میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر سکے یقینا اب تک کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے لیے ہمیشہ سے حکومتی پارٹی عوامی مسائل کے زریعہ سے گراونڈ تیار کرتی لیکن موجودہ حکومت نے اس کے برعکس ایک فیصلہ کیا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں سامنے آسکتے ہیں،این اے57اور این اے59ضلع راولپنڈی کے بڑے اہم حلقے ہیں ہمیشہ الیکشنوں میں ان حلقوں پر پورے پاکستان کی نظریں لگی ہوتی ہیں

    پنجاب میں بلدیاتی الیکشنوں کے حوالہ سے کہیں سے آواز بلند ہوئی یا نہ ہوئی لیکن اس حلقہ سے دو آوازیں سامنے آگئی ہیں ان میں اگر یوسی لیول کے الیکشن کے لیے ن لیگ کے سینئر رہنماء زبیر کیانی کے بھائی فرحت زمان کیانی نے لنگوٹ کس لیاہے وہ گزشتہ ادوار میں بھی اسی یوسی سے کونسلر رہے ہیں اور انہوں نے عوامی خدمت کی سیاست کی ہے لیکن تاحال حکومتی پارٹی اور ان کے سیاسی مخالفین نے چپ سادھ رکھی ہے یقینا ان کے سامنے کسی نہ کسی امیدوار نے آنا ہے لیکن مقابلہ کرنے والوں کو ان کے بھائی اور سابق چیئرمین یوسی بشندوٹ زبیر کیانی کے تحصیل ٹاپر ہونے اور عوامی خدمات کو بھی سامنے رکھنا ہو گاجبکہ چند ماہ قبل یوسی گف سے تعلق رکھنے والے سابق چیئرمین یوسی گف فیصل منورنے بھی تحصیل سطح پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا

    جواب میں تاحال کسی کی جانب سے اعلان نہ کیا گیا تھا اس کی بڑی وجہ شائید یہ بھی تھی کہ اس وقت حکومت کی جانب کوئی اعلان نہ کیا گیا تھا اب جب ڈھول بجنے کا اعلان کیا گیا ہے تو اس کا ری ایکشن سامنے آسکتا ہے اور ن لیگ کا ایک دھڑا موجود ہے جو سابق ایم پی اے قمرالسلام راجہ جو کہ فیصل منور کے قریبی عزیز ہیں کی مخالفت کر سکتا ہے اس کے علاوہ ن لیگ سے ہی کچھ بااثر اور قد آورسیاسی شخصیات بھی سامنے آسکتی ہیں اگر بلدیاتی انتخابات موجودہ حالات میں ہوتے ہیں تو اس کا زیادہ نقصان حکومتی پارٹی کا ہی متوقع ہے اور اس کے زیادہ دھڑے بن سکتے ہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ بنے گے عوام کو کچھ دیے بغیربلدیاتی الیکشن موجودہ حکومت کے گے کی ہڈی بن سکتے ہیں جو نہ نگلی جا سکے گی اور نہ اگلی جاسکے گی۔

    تحریر از آصف شاہ

  • کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟  تحریر:  حجاب رندھاوا

    کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟ تحریر: حجاب رندھاوا

    لیاقت قائمخانی کی پوری دولت ابھی سامنے آنے میں کچھ دن لگے گے لیکن 20 گریڈ کے افسر کا محل نما گھر اور گھر سے 10 ارب روپے مالیت کی جائدادوں کی فائلیں، گاڑیاں، زیور، بانڈ، کرنسی ملنا لمحہ فکریہ ہے

    لیاقت قائمخانی جس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ملازمت کا آغاز کیا اور اس نے آخری تنخواہ سوا لاکھ روپے وصول کی تھی اس کا محل نما گھر؟؟ ؟
    سوا لاکھ تنخواہ میں؟
    اور گھر سے دس ارب مالیت کی اشیاء کی برآمدگی؟؟؟ ؟

    کیا سندھ میں اس طرح جنگل کا قانون تھا کہ جو چاہتا لوٹتا رہا
    لیاقت قائم خانی نے کراچی کے باغات کی بحالی۔اور تزئین و آرائش کے نام پر لوٹ مار کی جس کی تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں ۔
    لیاقت قائمخانی نے 20 سالوں میں کراچی کے 71 پارکس کو صرف کاغذات میں بنایا اور سابق ڈی جی پارکس نے ایک ارب سے زائد روپے ہڑپ کر لیے

    مئیرکراچی کے مشیر لیاقت قائم خانی 2012 میں شہید بے نظیر بھٹو پارک کے نام پر قومی خزانے کو 24کروڑ کا چونا لگا چکے ہیں۔

    شہید بے نظیر بھٹو پارک میں لوٹ مار پر لیاقت قائم خانی پر اینٹی کرپشن نے مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

    سابق گورنر اور پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے دباؤ پر لیاقت قائم خانی پردرج مقدمات کو سرد خانے کی نظرکر دیا گیا۔

    لیاقت قائم خانی نے باغ ابن قاسم کی طرح شہید بے نظیر بھٹو پارک میں بھی جعلی کام کرائے۔
    لیاقت قائم خانی کراچی کے باغات پر بھالو مٹی کے بجائے سمندری مٹی ڈالتا تھا۔ لیاقت قائم خانی نے صرف شہید بے نظیر بھٹو پارک پر ایک کروڑ کے جعلی درخت اور پودے لگائے

    کے ایم سی محکمہ باغات کے 14ملازمین لیاقت کے گھر پر اور 7 ملازم اہم شخصیات کے گھروں پر کام کرتے تھے۔

    باتھ آئی لینڈ کلفٹن میں لیاقت علی نے گلشن فیصل پارک کے نام پر 40 لاکھ ہڑپ کئے۔۔

    لیاقت قائم خانی کے گھر سے برآمد ہونے والی گاڑیوں جائیداد کی دستاویزات پرائز بانڈز سونے ہیرے اور قیمتی ساز و سامان کی مالیت کا اندازہ 3 ارب روپے سے اوپر ہے جبکہ ملزم سے ایک لاکر مزید کھلوایا جانا باقی ہے۔ ملزم کی دیگر جائیدادوں کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔

    لیاقت قایم خانی کے قریبی افسران میں سابق ڈی جی پارک طاہر درانی ایڈیشنل ڈائریکٹر اخلاق بیگ شامل تھے۔ آزاد نامی افسر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر خورشید بھی لیاقت خانی کے قریبی افسرتھے۔جو اس کے کرپشن پارٹنر تھے

    لیاقت قائمخانی نے پارکس میں جعلی کام کرانے کے لیے جعلی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں، جعلی کمپنیوں کے نام پر فنڈز ریلیز کئے جاتے تھے جس سے کسی کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا

    نیب ذرائع کے مطابق لیاقت قائم کی کرپشن کے سیاسی حصے داروں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں کی اہم شخصیات شامل ہیں۔

    لیاقت قائم خانی کے گھر سے برامد ہونے والی گاڑیاں اس نے ٹھیکدار کمپنی فیضان اینڈکو کے مالک چوہدری فیاض، ٹھیکیدار سلیم بھیا، مصطفی ٹھیکیدار سے لیں۔ لیاقت قائم خانی اہم شخصیات کی گاڑیوں کی مرمت بھی کےایم سی کے فنڈز سے کرا کر دیتے تھے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت قائمخانی 2007 سے غیر قانونی طور پر کے ایم سی کے مشیر باغات تھے، گریڈ 21 میں ریٹائرمنٹ کے بعد کے ایم سی سے ایک لاکھ روپے پینشن بھی وصول کرتے تھے
    کراچی میونسپل کارپوریشن میں انیس سو اناسی میں بھرتی ہونے والے لیاقت علی قائم خانی کے ایم سی کے بااثر ترین افسر کیسے بنے یہ اب کوئی معمہ نہیں رہا
    اس کو بنانے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہے

    لیاری کے علاقے گٹر باغیچہ کے رہائشی لیاقت علی قائم خانی نے انیس سو اناسی کے ایم سی میں گریڈ سولہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شمولیت اختیار کی اور اس وقت کے میئر کراچی عبدل ستار افغانی ماتحت محکمہ باغات میں بطور ہارٹیکلچرسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا ، تینتیس سالہ سروس کابیشتر حصہ محکمہ باغات میں گزارا اور پی ای سی ایچ ایس میں قیمتی بنگلے کے مالک بن گئے۔

    سن دو ہزار پانچ میں نئے بلدیاتی نظام کے وجود میں آنے کے بعد لیاقت علی قائم خانی نے حیرت انگیز طور تیزی کے ساتھ ترقی کی ۔
    سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے دور میں گریڈ اٹھارہ کے ڈائریکٹر لیاقت علی قائم خانی کے لئے ڈی جی پارکس کی پوسٹ بنائی گئی اور انہیں کراچی میں باغات اور کھیلوں کے میدانوں کی بحالی کے حوالے سے سیاہ سفید کا مالک بنا دیا گیا

    باغ ابن قاسم کی بحالی کے بعد لیاقت علی قائم خانی سابق گورنر سندھ عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کے سب سے قریبی افسر سمجھے جانے لگے۔

    سن دو ہزار دس میں بلدیاتی نظام تو لپیٹ دیا گیا لیکن لیاقت علی قائم خانی اپنے عہدے پر براجمان رہے اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے قرب حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔

    بتایا جاتا ہے کہ بوٹ بیسن پارک کی تعمیر نو کے لئے وفاق سے آنے والا تمام فنڈ حکومت سندھ کے بجائے براہ راست لیاقت علی خان کو دیا گیا ، اعتماد اور قربت کا یہ عالم تھا کہ دو ہزار آٹھ میں سابق صدر آصف علی زرداری نے لیاقت علی قائم خانی کو تمغہ امتیازعطا کیا گیا اور پھر دو ہزار گیارہ میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔

    اپریل دو ہزار گیارہ میں لیاقت علی قائم خانی گریڈ بیس سے ریٹائرڈ تو ہو گئے لیکن اس وقت کے ایڈمینسٹریٹر کراچی لالہ فضل الرحمن نے انہیں تین سال کی توسیع دے دی جو اگلے ہی سال یعنی دو ہزار بارہ میں سپریم کورٹ کے حکم پر کالعدم قرار دے دی گئی ۔

    دو ہزار سولہ میں جیسے ہی بلدیاتی حکومت وجود میں آئی تو موجودہ میئر کراچی وسیم اختر نے لیاقت علی قائمخانی کو بطور مشیر باغات ایک بار پھر محکمہ باغات کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیا
    اج لیاقت قائم خانی نیب حراست میں ہے جبکہ مئیر کراچی وسیم اختر دوبئ جا چکا ہے
    نیب ذرائع کے مطابق میئر کراچی کے مشیر لیاقت قائمخانی کے خلاف تین مزید ریفرنسز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیاقت قائمخانی پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کرپشن اور جعلی دستاویزات کے ریفرنس بھی دائر ہوں گے
    حجاب رندھاوا

  • معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    شکارپور کے گاؤں داؤد ابڑو کے رہائشی محنت کش صفدر ابڑو کا 10 سالہ بیٹا میر حسن ویکسین نہ ملنے پر کمشنر آفیس کے سامنے فرش پر تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گیا۔بچے کی موت پر غم سے نڈھال والد کا کہنا تھا کہ بچے کو شکارپور، سلطان کوٹ اور دیگر مقامات پر لے کر گئے لیکن داد رسی نہ ہو سکی۔ دوسری جانب اے آر وی سینٹر کے انچارج ڈاکٹر نور الدین قاضی کا کہنا تھا کہ شکارپور، جیکب آباد سمیت ڈویژن بھر میں ویکسین کی کمی ہے، ویکسین نہ ملنے سے مرض بگڑ چکا تھا اس نے اب دو دن ہی زندہ رہنا تھا کیوں کہ اس کا اثر10 سالہ میر حسن کے دماغ پر ہو چکا تھا۔

    ویسے تو دس سالہ میر حسن نے تو بڑے ہو کر بھی مر ہی جانا تھا . اسی لیے گزشتہ روز بلاول کو پریس کانفرنس میں خورشید شاہ کا رونا تو یاد رہا ۔ جمہوریت میں خطرے پڑ چکی ہے یہ بتانا تو یاد رہا ۔ مگر وہ یہ ضرور بھول گئے کہ ان کی اس لولی لنگڑی ، کرپٹ اور نکمی حکومت کی بدولت میر حسن جیسے بچوں کی زندگیا ں داو پر لگی ہوئی ہیں ۔ بلاول ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ میں ان کی بادشاہت دہائیوں سے چلتی آرہی اور اسی حکومت کی بدولت عوام کی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    لوگ کہتے ہیں کہ کیسا صوبہ اور کیسی حکومت ہے جہاں لوگ اس لئے مر جاتے ہیں کہ کتا کاٹ لے تو ہسپتالوں میں ویکسین نہیں ملتی۔ مگر لوگوں کو کیا پتہ جمہوریت کیا ہوتی ہے ۔ جمہوریت کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے خون دینا پڑتا ہے ۔کل کو جب بلاول اس ملک کے وزیر اعظم بنیں گے تب عوام کو پتہ چلے گا کہ جمہوریت بہترین انتقام کیوں ہے ۔ سندھ میں لبرل سیکولر ترقی پسند پروگریسو پیپلزپارٹی کی دہاییوں سے حکومت ہے۔ مگر سندھ اور سندھیوں کے حالات زندگی بدلنے میں پیپلز پارٹی بری طرح ناکام رہی ہے ۔ مگر تمام جیالے لیڈروں نے اپنی قسمت ضرور بدل لی ہے ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس کی دبئی میں پراپرٹی نہ ہو ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس پر کرپشن کا الزام نہ ہو ۔ معذرت کے ساتھ جس طرح پیپلز پارٹی نے بھٹو کا نام زندہ رکھا ہوا ہے اس سے تو بہتر تھا بھٹو پیدا ہوتے ساتھ ہی مر جاتا ۔ کیونکہ تھر میں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ مگر بھٹو زندہ رہتا ہے ۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    سندھ چاہے ایڈز زدہ ہو جائے مگر بھٹو اور بھٹو خاندان کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ جمہوریت کے لیے بھٹو خاندان نے قربانیاں دیں ہیں ۔ یہ صرف ان کا ہی حق ہے کہ سندھ پر وہ حکومت کریں ۔ چاہیے سندھی سسک سسک کر مرجائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اس ملک کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کب تک بھٹو ، شریف ، زرداری ، فضل الرحمان ، اچکزئی ، باچا خان ، ان جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولادوں کی غلامیاں کرتے رہیں گے ۔ ان غلامی کی زنجیروں کو توڑیں اور ان خاندانوں اور لیڈروں کو نشان عبرت بنا دیں ۔ سندھیوں اور اس ملک کی غریب عوام کے پاس اب صرف کھونے کے لیے غلامی کی زنجیریں باقی رہ گئیں ہیں ۔ یہ غلامی کی زنجیریں توڑیں ۔ اور اس اشرفیہ کو غارت کردیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

     

     

  • "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔

    قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔

    اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین