Baaghi TV

Category: سیاست

  • "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔

    قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔

    اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین

  • میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن ابڑو بیٹا ہمیں معاف کرنا ہم نے کبھی اس پاک وطن سے بھٹو کو کبھی مرنے ہی نہیں دیا ۔ ہم نے تو آپ جیسے غریبوں ، بے بس لاچاروں کے ٹیکس کا پیسہ وہ ٹیکس جو آپ لوگ ایک روپے کی ٹافی ، پانچ روپے کی چاکلیٹ پر دیتے ہو وہ سارے کا سارا پیسہ بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دیا ہے ۔ ہم نے ساری محنت بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دی ہے ۔ بیٹا معاف کرنا ہم نے تو تمہارے ایک روپے کی ٹافی سے بھی ٹیکس لیا اور پھر وہ سارا ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتے پالنے پر لگا دیا ۔ میر حسن ابڑو بیٹا اس بات کا قصور وار کون ہے ؟ وہ لوگ جو آج بھی دو دو سو لے کر جٸیے بھٹو کا نعرہ لگا رہے ہیں یا وہ لوگ قصور وار ہیں جن کا آج بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی سنو کے پی پی پی کا صرف ایک ہی ووٹر ہے تو یقین کر لینا کہ وہ میں ہی ہوں ۔

    سندھ کا میر حسن ابڑو جسے کتے نے کاٹا اور کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر وہ کمشنر آفس کے سامنے سسک سسک کر ماں کی گود میں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا ۔ دکھ صرف میر حسن ابڑو کی موت کا نہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ میر حسن کی سسکیاں ، اس کی ماں کی آہیں ، اس کی والدہ کی تڑپ بھی بے ضمیر اور بے شرم حکمرانوں کو نہیں جگا سکی ۔ میر حسن جیسے بچے تو موت کے منہ میں چلتے جارہے ہیں ، تھر میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں پہنچ گٸے لیکن بے ضمیر اور مردہ دل والوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا ، بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔ بھٹو کے نواسے نواسیوں کو ان کے کتوں کے ساتھ دیکھ کر ، ان کتوں کے ساتھ ان کا پیار محبت دیکھ کر بھی کیا سندھ کے لوگوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ لوگ یہی سمجھ لیں کہ ان لوگوں کے نزدیک اہم کون ہے ۔ اپنے ایک ایک روپے کے ٹیکس ادا کرتے ہوٸے کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتوں پر تو خرچ ہو گا لیکن سندھ کی عوام پر حرام سمجھا جاٸے گا ۔

    میر حسن ابڑو کی سسکیاں بھی اگر ہم لوگوں کو ہمارے حکمرانوں کی اوقات دکھا کر ہمارے مردہ ضمیروں کو نہ جگا سکیں تو سمجھ جانا کہ کل کو ہمارا اپنا خون ، ہمارا اپنا لخت جگر ، ہماری گود میں پلنے والا میر حسن بھی ایسی اذیت سے گزر سکتا ہے ۔ آج اگر میر حسن کی آہیں ہمیں نہ جگا پاٸیں تو سمجھ لینا کہ ہم نے بھی اپنی اولاد کو اذیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میر حسن کی موت یہ پیغام دے کر جا رہی ہے کہ آٶ پکڑو ان مردہ ضمیر حکمرانوں کے گریبان اور لو ان سے اپنے بچوں کی ایک ایک روپے کی ٹافی پر دٸیے گے ٹیکس کا حساب ، لو ان سے اپنے بچوں کی پانچ پانچ روپے والی چاکلیٹ کے ٹیکس کا حساب ۔ اگر آج نہیں بولو گے تو کل بھگتو گے ۔ میر حسن کی سکیاں بتا رہی ہیں کہ ہمیں بھٹو کو مارنا ہوگا ورنہ ہماری نسلیں اسی طرح تڑپ تڑپ کر جان دیں گی اور حکمرانوں کے کتے عیاشیاں کریں گے ۔ میر حسن ابڑو کی تڑپ بتا رہی ہے کہ آنکھیں کھولو اس سے پہلے کہ تمہارے بچوں کی آنکھیں بند ہوجاٸیں ۔

    کیا قیامت گزر رہی ہوگی اس ماں کے دل پر جس کا بھٹو زندہ تھا مگر اس کا پیارا بیٹا اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہا تھا اور بے بس ماں اپنے لخت جگر کے لیے کچھ کر نہیں پا رہی تھی ۔ میر حسن کی ماں بھی سوچ رہی ہوگی کاش بھٹو اس کے سامنے ہوتا تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تاکہ اس کے جگر کا ٹکڑا آج ایسی بے بسی کی موت نہ مرتا ۔ ماں بھی سوچ رہی ہوگی کہ کاش بھٹو کے نواسے نواسیاں اس کے سامنے ہوتے یہ بھی ان کو ایسے تڑپاتی ، یہ بھی ان کو ایسی اذیت سے گزارتی تاکہ انہیں بھی پتہ ہوتا کہ انہیں ووٹ ان کے پالے ہوٸے کتے نہیں بلکہ سندھ کے غریب عوام دیتے ہیں ۔ عوام خوراک کی کمی سے مرتی ہے تو مرے ، عوام ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مرتی ہے تو مرے لیکن سندھی عوام کے ووٹ سے جیتنے والی جماعت کا ایک ہی منشور ، ایک ہی مقصد ایک ہی نعرہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے ۔ خدا جانے کب بھٹو مرے گا اور سندھ کی عوام کی طرف توجہ دی جاٸے ۔

    اپنے ووٹ کا جسے پاکستانی عوام محض ایک پرچی سمجھتی ہے اس کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ۔ تاکہ ہم سب کے میر حسن کبھی ہماری گودوں میں اس طرح دم نہ توڑیں ۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے کبھی سوچا ہے کہ جسے ووٹ دے رہے ہو اس کا منشور کیا ہے ، اس کے بچے پاکستان میں ہیں یا کسی انگریز ملک میں کتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔

    نہیں سوچا تو آٸیندہ ضرور سوچنا کیونکہ کتوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کتوں کا تو خیال رکھیں گے لیکن آپ کا نہیں ۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے پاکستان پر مسلط ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور پاکستان کی عوام کو کوٸی ایک ہمدرد عطا فرما دے جو ان کے دکھ درد کا ازالہ کر سکے ۔ آمین

  • قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    انتہاٸی پروقار ، دلفریب ، بلند حوصلہ ،جرأت مند ہستی ، جو نہ کبھی کسی کے آگے جھکے ، نا کبھی ہمت ہاری ، نہ کبھی حوصلہ کم ہوا ، جس بات پر ڈٹ گٸے اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے ،اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پروقار انسان ایسا بہادر ، قوی ، جرأت مند نکلا کہ مسلمانوں نے ان کی قیادت میں صرف چند ماہ میں ہی پاکستان جیسا عظیم ملک بنا لیا ۔
    کون جانتا تھا کہ 25 دسمبر 1876 کو پونجا جناح کے گھر پیدا ہونے والا بچہ ایک دن اپنا نام اتنا روشن کرے گا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے جیتی جاگتی زندہ مثال بن جاٸے گا ۔ لوگ غلامی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس عظیم انسان کی مثالیں دیں گے ۔ کون جانتا تھا کہ مظلوموں کو آزادی دلوانے والے اس عظیم لیڈر کو اپنا راہنما اور مشعل راہ سمجھیں گے ۔

    قاٸد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو ایک تاجر پونجا جناح کے گھر پیدا ہوٸے ۔ والدین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جس کے اثرات پھر پوری دنیا نے دیکھے ۔ والدین نے چھ سال کی عمر میں آپ کو مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ پراٸمری تعلیم کے لیے آپ کو گوگل داس پراٸمری سکول میں داخل کروایا گیا ۔ میٹرک کا امتحان آپ نے اعلی نمبروں کے ساتھ سندھ مدرسة السلام ہاٸی سکول سے پاس کیا ۔ 1892 میں آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا ۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گے اور بیرسٹر بن کر واپس آٸے ۔ پہلے آپ نے کراچی اور پھر ممبٸی میں وکالت کر کے بہت نام کمایا ۔ آپ کو سیاست سے بہت دلچسپی تھی ۔ شروع میں قاٸد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اس لیے آپ نے 1906 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ۔ کچھ مسلمان راہنماٶں نے آپ کومسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی اور آپ کو اس پر راضی بھی کر لیا بالآخر آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ 1913 میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ۔ مسلم لیگ پہلے صرف بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی لیکن آپ کی مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد لوگ اسے عام مسلمانوں یعنی اپنی جماعت سمجھنا شروع ہوگے ۔

    1929میں قاٸداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کٸیے جو درج ذیل ہیں :

    ہندوستان کا آئندہ دستور وفاقی نوعیت کا ہو گا۔

    تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔

    ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔

    مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی حاصل ہو۔

    ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔

    صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔

    ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔

    مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔

    سندھ کو بمبئی سے علاحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔

    صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔

    سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔

    آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔

    کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائی وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔

    ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

    یہ چودہ نکات تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حثیت رکھتے ہیں ۔ 1940 میں لاہور منٹو پارک ( موجودہ نام اقبال پارک ) میں ایک قرار داد پیش کی گٸی جسے قرارد داد پاکستان بھی کہا جاتا ہے اس قرار داد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا ۔ ہندوٶں اور انگریزوں کی طرف سے اس قرارداد کا بہت مذاق اڑایا گیا لیک مسلمان ارادے کے پکے اور ایمان کے سچے تھے انہوں نے قاٸد اعظم جیسے عظیم لیڈر کی راہنماٸی میں 14 اگست 1947 کو مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کر لیا ۔ اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ قاٸد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کی آباد کاری ، پاکستانی معیشیت اور اداروں کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی جس کی وجہ سے آپ بہت زیادہ علیل ہوگے ۔

    آپ کو ڈاکٹرز کے مشورے سے زیارت کے مقام پر بھیج دیا گیا تاکہ آپ کی صحت کچھ سنبھل سکے ۔ لیکن آپ کی صحت جواب دیتی جارہی تھی ۔ 10 ستمبر کو کرنل الہی بخش نے قاٸد اعظم کی صحت کے حوالے سے فاطمہ جناح کو جواب دے دیا ۔ اگلی صبح قاٸد اعظم کو کوٸٹہ سے کراچی اٸیرپورٹ لایا گیا ۔ وہاں سے ایک ایمبولینس میں آپ کا سٹریچر رکھا گیا ۔ ایمبولیس میں آپ کی بہن فاطمہ جناح بھی بیٹھ گٸی ۔ جب ایمبولینس مہاجروں کی ایک گنجان آباد بستی سے زرا آگے پہنچی تو ایمبولینس چلنا رک گٸی ۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ پیٹرول ختم ہوگیا ہے ۔ ایک گھنٹہ بعد دوسری ایمبولینس آٸی اور پھر قاٸد اعظم کو دوسری ایمبولینس کے ذریعے قاٸد اعظم گورنر ہاٶس پہنچایا گیا جہاں انہوں نے کلمہ پڑھتے ہوٸے اپنی جان خالق حقیقی کے حوالے کر دی ۔

    کیا ایمبولینس کا واقعی پیٹرول ختم ہوا تھا یا پھر یہ بھی ایک سازش تھی ۔ اگر پیٹرول واقعی ختم ہوا تھا تو کیا ایمبولینس روانہ کرتے وقت چیک نہ کیا گیا تھا ۔ کیا کوٸی اس قدر احمق بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے محسن کی حالت کو جانتا ہو پھر بھی ایسا کرے ۔ اور اگر یہ ایک سازش تھی تو قاٸد اعظم اور پاکستان کے ساتھ غداری تھی ۔ دونوں صورتوں میں کیا کبھی کسی نے اس سازش کے پیچھے چھپے چہرے تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ کیا کسی نے ان چہروں کو بے نقاب کر کے انہیں سزا دلوانے کی کوشش کی ۔ اگر نہیں تو کیا ہم ایک بے حس قوم نہیں ہیں جنہوں نے اپنے عظیم لیڈر کے احسانات کو بھلا دیا اور کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر کون لوگ تھے جو پاکستان سے دشمنی میں اس قدر آگے نکل گے کہ انہوں نے قاٸد اعظم کی جان کی پرواہ بھی نہ کی ؟

    کیا ہم میں سے کوٸی اس بہن کا درد محسوس کر سکتا ہے جس کے بھاٸی کو ڈاکٹرز جواب دے چکے ہوں اور اس ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا ہو جس میں ایک بہن کے سامنے اس کا بھاٸی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو ۔ جو کہتے ہیں پیٹرول ختم ہو گیا تھا ،ان کی عقل کو داد دیں یا پھر اپنی قوم کی بے حسی کو ۔ اگر پٹرول ختم ہوگیا تھا تو گنجان آبادی قریب تھی وہاں سے کسی گاڑی کا انتظام کیوں نہ ہوا ۔ اس آبادی سے کسی کی گاڑی سے کہیں سے بھی پٹرول مل سکتا تھا پھر ایک گھنٹے تک کیوں اس بہن کو اذیت میں رکھا گیا جس کے بھاٸی نے اپنی بہن کے ساتھ اپنی تمام تر زندگی اس وطن کے نام کر دی ۔ آخر کیوں کون سے وجوہات تھی کہ ہم نے باباٸے قوم اور مادر ملت کو اذیت دینے والوں کے گریبان نہیں پکڑے ۔ آخر کیوں ہم اتنے بے حس ہوگے کہ محسن پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ ان کی بہن کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا ۔ وہ بہن جو مادر ملت تھی کہتی ہیں زندگی میں جتنی بھی مشکلات آٸیں یہ ایک گھنٹہ ان سب مشکلات سے بھاری تھا ، تکلیف دہ تھا ۔ آخر کیوں اس بات کو جاننے کی کوشش نہیں کی گٸی کہ آخر کون تھا جس پر قاٸد اعظم کی سانسیں باعث تکلیف تھی ، آخر ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکنے میں کسی کا کیا فاٸدہ تھا ؟ ہمیں بحثیت قوم ان حقاٸق کو جاننا ہوگا ۔ ان کالی بھیڑوں کو ڈھونڈنا ہوگا جو تب سے لے کر آج تک وطن پاکستان اور اس سے جڑے ہر مخلص انسان کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔

  • پاکستانی ٹیکسٹائل کی ترقی اولین ترجیح ہے، عبدرالرزاق داؤد

    پاکستانی ٹیکسٹائل کی ترقی اولین ترجیح ہے، عبدرالرزاق داؤد

    اسلام اباد: وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ٹیکسٹائل کی صنعت کے فروغ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، جس کے ثمرات آہستہ آہستہ ملنا شروع ہو گئے ہیں
    وزارت ٹیکسٹائل کی جانب سے جاری کردہ اک پریس ریلیز کے مطابق مشیر تجارت عبدرزاق داؤد نے ٹیکسٹائل کے حکومتی نمائندوں سے خصوصی ملاقات کی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کو بڑھانے کے منصوبے پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی

  • ‏بزدار ہٹاٶ پنجاب بچاٶ: علی چاند

    ‏بزدار ہٹاٶ پنجاب بچاٶ: علی چاند

    کل سوشل میڈیا پر سارا دن ایک ٹرینڈ چلتا رہا کہ ” بزدار ہٹاٶ پنجاب بچاٶ ” ۔ یہ ٹرینڈ Pti کارکنان کی طرف سے شروع کیا گیا تھا ۔ اور اس میں لوگوں نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار پر کافی غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب کے عہدے سے ہٹاٸیں اور ان کی جگہ کسی اور تجربہ کار شخصیت کے ہاتھ میں پنجاب کی وزارت اعلی دی جاٸے ۔ اس ٹرینڈ میں باقی پارٹیوں کی طرح pti کارکنان نے بھی بھرپور حصہ لیا ۔ اس ٹرینڈ کی خاص وجہ پنجاب پولیس کے ہاتھوں ایک ذہنی مریض صلاح الدین کی درد ناک موت ہے ۔ صلاح الدین جو کہ ذہنی معذور تھا ۔ اس نے ایک atm مشین توڑی تھی جس کے بدلے دوران تفتیش پنجاب پولیس نے صلاح الدین کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوٸے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ صلاح الدین کی جسمانی حالت سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ اسے دوران تفتیش کس اذیت سے گزار کر موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے ۔ لوگ جو پہلے ہی پنجاب پولیس کی کاروٸیوں سے غیر مطمن تھے انہوں نے وزیر اعلی پنجاب سے استعفی کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم نے pti کو ووٹ اس لیے دٸیے تھے تاکہ ہمارے ادارے راہ راست پر آ سکیں ۔ لوگوں نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار پنجاب میں کسی ادارے کو بہتر نہیں بنا سکے خاص طور پر پولیس کے ادارے میں کوٸی بھی اچھی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی لہذا وزیر اعلی عثمان بزدار کو ان کی وزارت سے فوری طور پر مستعفی کیا جاٸے ۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام اداروں خاص طور پر پنجاب پولیس کی آج بھی وہی کارکردگی ہے جو سابقہ حکومتوں میں تھیں ۔ ساہیوال واقعہ اور اب صلاح الدین کی موت کو لے کر لوگوں میں کافی بے چینی پاٸی جارہی ہے کیونکہ لوگ اس بات کے منتظر تھے کہ وزیر اعظم عمران خاں ان تمام اداروں میں اصلاحات کر کے عوام کی زندگیاں آسان بنا دیں گے ۔ لیکن اب لوگوں کا کہنا ہے کہ ساہیوال واقعہ اور صلاح الدین کے ساتھ وہی کچھ ہوا ہے جو ماڈل ٹاٶن میں لوگوں کے ساتھ ہوا تھا ۔ نا اس وقت کی حکومت نے ایسے پولیس والوں پر ہاتھ ڈالا اور نا ہی اب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے اس حوالے سے کوٸی خاص کارکردگی دیکھاٸی ہے ۔

    pti کارکنان کا کہنا ہے کہ ہم وزیر اعظم عمران خاں سے آج بھی پر امید ہیں کہ وہ ملکی حالات کو ٹھیک کر دیں گے لیکن وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی سے لوگ مایوس ہو چکے ہیں ۔ یہ ٹرینڈ بھی pti کارکنان کی جانب سے شروع کیا گیا تھا ۔ pti کارکنان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ہم سابقہ حکومتوں کے کارکنان جیسے نہیں ہیں جو اپنی حکومت کے ہر غلط کام کو بھی سپورٹ کریں ۔ pti کارکنان کا کہنا ہے کہ ہم غلط کو غلط ضرور کہیں گے اور اس پر عمران خاں سے اپیل بھی کریں گے کہ وہ قابل لوگوں کو آگے لے کر آٸیں تاکہ ہمارا اگلا ووٹ بھی عمران خاں کو جاٸے ۔

    اس ٹرینڈ میں ایک بہت ہی کمال کا شعر دیکھنے کو ملا جس میں اس سارے نظام کی حقیقت کھول کر رکھ دی گٸی ہے

    جو میری آنکھوں نے دیکھا لوگو !! اگر بتادوں تو کیا کرو گے
    جو سُن رہے ہو وہ کچھ نہیں ہے!میں سب سُنا دوں تو کیا کرو گے

    اے گونگو !بہرو !جیو گے کب تک زمیں کے سینے پہ بوجھ بن کے
    میں سارے ناگوں کے سب ٹھکانے تمہیں بتا دوں تو کیا کرو گے

    اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو امن کا گہوارہ بناٸے اور شاد و آباد رکھے ۔ آمین

  • افواج پاکستان کے اصل وفادار کون ؟ علی چاند کا بلاگ

    افواج پاکستان کے اصل وفادار کون ؟ علی چاند کا بلاگ

    سوشل میڈیا پر ایک عام بات جو دیکھنے میں نظر آٸی ہے اور جسے مجھ سمیت اور بھی بہت سارے لوگوں نے محسوس کیا ہے اور تجربے سے سیکھا بھی ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا پر موجود بہن بھاٸی صرف اور صرف اپنے آپ کو یا پھر اپنے چند مختصر دوستوں کے بارے خیال رکھتے ہیں کہ یہی چند لوگ ہیں بس جن کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہیں ، یہی ہیں وہ چند لوگ جو اپنے پیارے پاکستان سے پیار کرتے ہیں اور اپنے پیارے وطن پاکستان کی خاطر اپنی جان و دل صرف یہی لوگ قربان کر سکتے ہیں ، ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ صرف یہی لوگ ہیں جنہیں افواج پاکستان سے محبت ہے ، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے خون میں پاکستان اور افواج پاکستان سے وفا شامل ہے ۔ ایسے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ان کے علاوہ باقی سب غدار ، بزدل اور پاک فوج اور پاکستان کے دشمن ہیں ۔ ایسے لوگ کوٸی اور نہیں صرف اور صرف سیاسی کارکنان ہیں جن کے نزدیک ان کے علاوہ باقی سب ملک دشمن اور غدار وطن ہیں ۔ ایسے لوگ پاکستان کے عام عوام کو تو گالیاں دینے اور غدار کہنے فورا آجاٸیں گے نہ صرف خود آٸیں گے بلکہ اپنے اپنے گروپس کے لوگوں کو بھی دعوت عام دیں گے کہ آٶ اس انسان کو گالیاں دو ، اس کا منہ توڑ کے رکھ دو ، اس کو غدار ثابت کرنے میں زرا سی کسر نہ چھوڑو کیوں کہ ایسے جہلا کو لگتا ہے کہ بات ان کے لیڈر کی پالیسی کے خلاف ہے جس کی وجہ سے انہیں لگتا ہے کہ ان کا لیڈر ہی پاکستان ہے ، ان کا لیڈر ہی افواج پاکستان ہے ، بات ان کے لیڈر کی پالیسی کے خلاف ہوٸی ہے اس لیے یہ اپنے مخالف نظریہ رکھنے والے کو عام طور پر حرامی کہہ کر لکھیں اور پکاریں گے ۔ کیوں کہ ان سے مخالف نظریہ رکھنے والا انسان پاکستان اور افواج پاکستان کا غدار ہے ۔ غدار کیوں ہے کیونکہ ایسے لوگوں کے نزدیک پاکستان ،افواج پاکستان بلکہ ان کا دین ایمان ہی ان کا لیڈر ہوتا ہے ۔ جس کی پالیسی سے اگر خدانخواستہ آپ نے اختلاف کیا تو آپ ایسے لوگوں کے نزدیک داٸرہ اسلام سے ہی خارج ہوجاتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کے مخالف کا دین و ایمان چیک کرنے والی مشین ان کے مخالف کے خلاف بول رہی ہوتی ہے ۔ اسے لوگ اپنے ہم وطنوں کو تو گالیاں دینے اور غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے گروپس کی شکل میں آٸیں گے لیکن جب عالم کفر اور وطن و اسلام دشمنوں کو جواب دینے کی بات آٸے گی تو گونگے ، بہرے اور اندھے ہوجاٸیں گے کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے.

    واہ رے منافقت

    حقیقت تو یہ ہے کہ جب حکومت پی پٕی کی ہوتو بات اگر پی پی کارکنان کے لیڈر کے خلاف ہوتو انہیں لگتا ہے کہ باقی سب ملک دشمن ہیں ۔ اسی طرح جب حکومت نواز شریف کی تھی تو بات اگر نواز پالیسی کے خلاف ہوتی تو ن لیگ کے کارکنان کو لگتا تھا کہ ہمارا مخالف پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف ہے ۔ اور اب اگر یہی بات عمران خاں کی پالیسی کے خلاف ہوتو pti کارکنان کو لگتا ہے کہ عمران خاں کی پالیسی سے اختلاف کرنے والا معاذ اللہ پاکستان اور افواج پاکستان کا غدار ہونے کے ساتھ ساتھ شاید دین اسلام کا بھی دشمن ہے ۔ آج کل تو حالات کچھ یوں چل رہے ہیں کہ کوٸی انسان یہ کہہ دے کہ محمد بن قاسم نے ہندوستان پر حملہ کیوں کیا ، کشمیر کے لیے انڈیا کو فضاٸی حدود بند کرو تو کچھ لوگ غداری کا سرٹیفکیٹ دینے آجاتے ہیں کہ تم نے فوج کے خلاف بات کی ہے کیونکہ ان کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ ان کے لیڈر کو وہ کرنا چاہیے جواس نے نہیں کیا کشمیر کی خاطر ۔ بس پھر کیا دوسروں کو وطن سے غداری کا سرٹیفکیٹ دے کر اپنے دل کی تسلی کی ناکام کوشش کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی کارکنان جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو اپنے اپنے لیڈروں کے ساتھ مل کر افواج پاکستان پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے ہیں اور اپنی سب سے مضبوط خفیہ ایجنسی پر تنقید کرتے نہیں تھکتے ۔ اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان اور افواج پاکستان کے اصل محب اور وفادار وہی ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوٸی تعلق نہیں ، جو ہر حکمران کی اچھاٸی کو اچھا اور براٸی کو غلط کہتے ہیں ۔ ہاں یہی ہیں وہ غیر سیاسی لوگ جو ہر حال میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو چند پوسٹ اور تحریروں کے بدلے معاوضہ نہیں لیتے اور پاکستان سے وفا نبھارہے ہوتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے بیٹے سپاہی بھرتی کرواتے ہیں اور پھر جوان بیٹوں کی لاشیں وصول کرتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے بیٹے شہید کروا کر بھی بارڈر پر سینہ تان کر کھڑا ہونے کے لیے دوسرے بیٹے بھیج دیتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے دو کوڑی کے غدار اور بزدل لیڈروں کی خاطر اپنی افواج پاکستان پر انگلیاں نہیں اٹھاتے ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو سڑک سے گزرنے والے سپاہیوں کو سلوٹ کرتے ہیں ، انہیں سلام پیش کرتے ہیں ، ان پر پھول نچھاور کرتے ہیں ، یہی تو اصل محبت ہے ۔

    ۔ اپنے لیڈر کو افواج پاکستان اور پاکستان سمجھنے والے تو آج ادھر ہیں تو کل دوسری طرف ہیں ۔ آج ادھر سے پیسہ ملا تو یہ لیڈر ، کل وہاں سے پیسہ ملے گا تو ادھر کی ڈیوٹی نبھاٸیں گے ۔

    ہمیں فخر ہے کہ ہماری رگوں میں پاکستان سے وفا کرنے والا خون ہے ، افواج پاکستان پر فخر کرنے والا خون ہے ، اپنے وطن پر جان قربان کرنے والا خون ہے ۔ ہم نے نا تو پیسہ لے کر وفاداریاں بدلی نا کبھی فوج پر انگلی اٹھاٸی ۔ ہاں جب جب کوٸی حکمران میرے کشمیر ، میرے وطن پاکستان ، میرے دین اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا ، بزدلی دکھاٸے گا وہاں ہم ضرور اس حکمران پر انگلی اٹھاٸیں گے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی جاٸدادیں باہر ، بچے باہر ، رشتے داریاں باہر ۔ ہم ضرور ایسے حکمرانوں پر تنقید کریں گے کیونکہ ہم نے اسی وطن میں رہنا ہے انہیں افواج کے ساتھ ، لیڈروں کا کیا ہے آج یہاں تو کل انگلیڈ ، امریکہ ، برطانیہ یا کہیں اور ۔

    ہمیں پاکستان سے محبت ہے تبھی ہم اپنی جان سے زیادہ عزیز فوج کے سربراہان سے پوچھتے ہیں اور پوچھیں گے بھی کہ آخر آپ نے اپنی شہہ رگ کے لیے کیا کیا ہے ۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہی گلے شکوے بھی ہوتے ہیں ، جہاں محبت ہوتی ہے وہی سوال جواب بھی ہوتے ہیں ، جن پر مان ہوتا ہے انہی سے اپنے مساٸل کا حل بھی پوچھا جاتا ہے ۔ اور اگر کسی کو لگے کہ اس کے لیڈر کی پالیسی سے اختلاف پاکستان اور افواج پاکستان یا اسلام سے غداری ہے تو پھر وہ لوگوں کو غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے کی بجاٸے اپنے ایمان ، ضمیر ، اور حب الوطنی کا جاٸزہ لے اور شخصیت پرستی کا علاج کرواٸیں۔

    اللہ پاک میرے وطن اور تمام افواج پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    کشمیراور کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے بعد بھارت نے کل رات بغیر بتائے بھارتی ڈیموں کے سپل ویز کھول دیے اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت شروع کر دی۔ جس سے گلگت بلتستا ن سے کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں شدید سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیاہے ۔ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ستلج میں دو بڑے آبی ریلے چھوڑ نے کے سبب پنجاب اور سندھ کی کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہو نے کے قریب ہیں ۔ پاکستان کے تمام دریاوں سندھ ، ستلج ، راوی ، چناب میں شدید ظغیانی ہے ۔ پاکستان کے تمام ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی پہلے سے ذخیرہ تھا ۔ جبکہ اب بھارت نے پاکستان سے ڈیٹا شیئر نگ بھی بند کر دی ہے ۔ جو سندھ طاس معاہدے اور باقی عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس بھارتی اقدام سے پاکستان کے کئے دیہات اور علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے قریب ہیں ۔

    مزید پڑھئے: کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    گزشتہ رات سے ہی ایل او سی پربھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر پر شدید شیلنگ اور گولہ باری جاری ہے ۔ جس میں متعدد شہری اور فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ مگر حکومتی سطح پر ہمارا احتجاج دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی کونسلرجنرل کو بلا کر جھاڑ پلانے تک ہی محدود ہے ۔ بھارت اپنی جارحیت میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ وہ پاکستانیوںاور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس تک کو بلاک کروا رہا ہے ۔

    گزشتہ تین دن سے بلوچستان اور افغانستان پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہور ہے ہیں اس سب کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں ۔ مگر ہم سب سلامتی کونسل اجلاس کا جشن منا رہے ہیں ۔ ہم نے سب کو سفارتی فتح اور سوشل میڈیا پر مودی کو ہٹلر بنانے پر لگایا ہوا ہے ۔اگر پچاس پچپن برس بعد ڈیڑھ گھنٹے کا بنا کسی نئی قرار داد بند کمرے کا اجلاس ہی تاریخی کامیابی ہے تو پھر تو پاکستان جیت گیا۔ہم کو ہوش کب آئے گا ؟ بھارت سکون سے جو کشمیر میں کرنا چاہ رہاہے وہ کرتا جا رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کے عصمت دری ہو یا کشمیریوں کا ناحق قتل بھارت بڑی بے دردی سے بلاخوف وخطر ہندتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ۔ میرا سوال تمام اہل اقتدار سے ہے ۔
    ۔ بھارت ہم پر چڑھ دوڑھا ہے ۔ کیا ان حالات میں جنگ ٹالی جا سکتی ہے ؟
    ۔ کیا حکومت کو کشمیر کاز پر عوام کے جذبات کا اداراک نہیں ؟
    ۔ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے ۔اب بھارت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں۔
    ۔ افغان ڈیل اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کب تک ہم بھارتی جارحیت برداشت کریں گے ؟
    ۔ ہم کیوں کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ؟

    ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار پھر کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کریڈیٹ نہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ۔ آزادی سے اب تک پاکستان کی تمام پالیسی کا پہلا نکتہ کشمیر ہے۔
    ۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔
    ۔ لیاقت علی خان نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔
    ۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر کامیاب ہوا یا ناکام مگر کچھ کیا تو تھا۔
    ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کاز کے لیے ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔
    ۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی تھی مگر کوشش تو کی تھی۔

    کیا یہ عیاں نہیں ہو چکا کہ کشمیر میں فلسطین طرز پر کام ہو رہا ہے ۔ وقت ہاتھ سے نکلتاجا رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟

    . پتہ نہیں ہم کس کی مدد کے انتظار میں ہیں ؟ ہم نے جارحانہ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟

    ۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے "لالی پاپ ” ملنے کے فوراً بعد ہمیں ملٹری آپشن پرغور نہیں کرناچاہیے تھا؟

    ۔ کیا دفاعی جنگ پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہو گی جب یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں لڑی جا ئے گی ؟

    آخر ہم کیوں جنگ نہ لڑنے پر بضد ہیں جبکہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • 14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک —  محمد عبداللہ اکبر

    14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک — محمد عبداللہ اکبر

    چودہ اگست نام سنتے ہی دل دماغ تھم جاتے ہیں اور ذہن چند دہائیاں قبل کے زمانے میں غوطے کھانے لگتا ہے۔
    نسلِ نو سے تعلق ہونے کی بنا پر کچھ جدت کی لہروں سے تھپیڑے کھا کے اس وقت بڑے ٹھنڈے جذبے سینے میں سموئے بیٹھا ہوں اس لیے شائد وہ والا خلوص، وہ جذبے، وہ ہمت کی داستانیں اور وہ جرات کے علمبرداروں کی ترجمانی میرا قلم اس شدت کے ساتھ نہ کر سکے۔
    ہاں بزرگوں سے وہ جذبے ان کی زبانی ضرور سن چکا ہوں۔ مجھے یاد ہے اپنا کچھ سال پرانا چودہ اگست جب چند الڑ سے جوان جو میرے ہی ہم عمر تھے بابا جی کے سامنے سے اپنے چہروں کو ہلال اور ستاروں سے مزین کئے ہوئے سائلنسر اتارے سیٹیاں بجاتے ہوئے گزرے۔
    میری نظریں گزرنے والے ان جوانوں کا تعاقب کرنے میں محو تھیں کہ اپنے پہلو سے انا للہ وانا الیہ راجعون کی آواز سنی۔ ایک لمحے کے لیے مڑ کے بابا جی کی طرف دیکھا تو یہ الفاظ انہی بابا جی کے تھے جنہوں نے تحریک آزادئ پاکستان میں اپنے جگر گوشوں کو آنکھوں کے سامنے ہندوں کے نیزوں پہ لٹکتے اور اپنی بیٹیوں کی دراؤں کو ان کی برچھوں کے ساتھ لہراتے  دیکھا۔
    میں بزرگوں کے اس جملے کا پس منظر بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا پر پھر بھی سوال کر لیا کہ بابا جی آپ شائد کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ کہنے لگے بیٹا میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن بابا جی کی داڑھی کو تر کرنے والے آنسو مجھے بابا جی کے جذبات اور نکلنے والے الفاظ بہت اچھے انداز سے سمجھا چکے تھے کے بابا جی کیا کہنا چاہتے ہیں۔
    خیر بابا جی نے کہا بیٹا جب قوموں کی نوجوان نسل کو انکی مقصدیت اور نظریے سے دور کر دیا جائے تو ایسے واقعات کا اپنی آنکھوں کے سامنے ہونا کچھ بعید نہیں۔ کہتے پاکستان بنانے میں ہمارا کوئی کمال نہیں، یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر اللہ نے اس نعمت کو ہماری جھولی میں کچھ لے کے اور آپکی جھولی میں بنا کچھ لئے ڈال دیا ہے تو اس کے تقاضے آج کی نسل کے لیے اتنے ہی بڑے ہیں۔
    ان تقاضوں کو پورا کرنا ہے تو بس مقصدیت پاکستان اور نظریہ پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    تب ہی میں نے ان کے پاس کشمیر میں بننے والی حالیہ چند دنوں کی صورت حال کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ بیٹا کشمیری بڑے خالص جذبوں کے ساتھ کھڑے ہیں باقی جو اللہ کو جو منظور ہو گا وہی ہونا ہے۔

    یہ بات تو اٹل ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا یے تو مٹ جاتا ہے۔ کشمیر میں چلنے والی حالیہ ظلم کی لہر اگرچہ بہت بڑی ہے پر آگے سے کشمیریوں کے جذبے بھی اتنے ہی بڑے ہیں یہی وجہ ہے کہ جنرل راوت نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا کہ سنگ باز لوگوں سے نمٹنا بندوق سے زیادہ مشکل ہے۔ اور اس نے یہ بات بھی کہی کہ ’’کاش سنگ بازوں کے ہاتھ میں بندوق ہوتی، کاش وہ ہم پر پتھر نہیں گولیاں چلاتے، پھر مجھے مزہ آتا پھر میں وہی کرتا جو میں چاہتا ہوں۔‘‘ اس جملے کو سلیس کرنا ہو تو مطلب یہ ہے کہ ’’کاش سب سنگ باز جنگ باز ہوتے، تو کھیل کا مزہ آجاتا۔‘‘

    یہ گویا کشمیر انتضاضہ کی اخلاقی فتح  ہے جس کافخریہ اعلان خود ایک جنرل کررہا ہے جو ایک ارب پچیس کروڑ آبادی والے ملک کا سپہ سالار  ہے۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح پوری دنیا پر عیاں ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جب 313 کے عزائم بلند اود جواں ہوں تو شکست ایک ہزار کی تعداد والے لشکر کے نصیب میں ہی ہوتی ہے۔

    لیکن ظاہر سی بات ہے کہ نہایت غیر متناسب جنگ میں طاقت ور فریق ہی غالب رہتا ہے۔
    لیکن وہ ظلم کر کے نہ ظاہری طور پہ تحریک آزادی کو دبا سکے ہیں اور نہ ہی باطنی طور پر۔ 
    کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے باوجود بھارت سرکار ان کی تحریک آزادی کو دبانے کے قابل نہیں ہو سکے۔
    انڈیا کا کشمیر میں پچس ہزار نئی فوجی کمک داخل کرنا بھی انڈیا کی کشمیر میں ہار کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
    اس وقت پاکستان کی عوام سیاسی و عسکری قوت کشمیر کے لیے اپنے عزائم واضح کر چکے ہیں کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ اور اس شہ رگ کو پاکستان کسی بھی قیمت پر ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں یے اور اسی طرح پاکستان کی کشمیر والے معاملے پہ سفارتی سطح پر کی جانے والی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔
    کشمیری بھی حالیہ کرفیو اور آرٹیکلز کو ختم کرنے کے باجود کسی قسم کی ڈھیل اور ڈیل کے موڈ میں نہیں۔
    چند گھنٹوں کے لیے ختم کئے جانے والے کرفیو میں کشمیری واضح پیغام دے چکے ہیں کہ

    ایک ہی نعرہ ہے، آزادی کا نعرہ ہے
    ایک ہی مقصد ہے، آزادی مقصد ہے
    آؤ ستم گرو ہُنر آزماتے ہیں
    تم تیر آزماؤ ‛ہم جگر آزماتے ہیں

  • پارلیمنٹ کی بحث کہ محلے کی لڑائی – – – فرحان رضا

    پارلیمنٹ کی بحث کہ محلے کی لڑائی – – – فرحان رضا

    ایک صاحب نے واقعہ سنایا کہ ان کےمحلے میں دو گھروں میں برسوں سے لڑائی چلی آرہی تھی۔ ان میں سے ایک صاحب کے گرد عموما کم عقل اور بھانڈ ٹائپ کے لوگ زیادہ موجود ہوتے تھے ایک دن دونوں گھروں میں تصادم ہوا اور وہ صاحب جن کے گرد کم عقل اور بھانڈ مزاج لوگ زیادہ تھے وہ زخمی ہوگئے ان کےلڑکے نے ان صاحب کے دوستوں کو بلایا کہ ابا کو ہسپتال لےکر چلیں اور پڑوسیوں کو ذرا رعب میں لائیں لیکن ہوا یہ کہ ان کے دوستوں نے آتے ہی پہلےتو ان صاحب کو دس سنائیں پھر ایکدوسرے کو سنانا شروع کردیں کہ تونےکچھ نہ کیا اوئے تو نے کچھ نہ کیا اور بات گالم گلوچ تک چلی گئی آخر کر لڑکا خود ہی ابا کو ہسپتال لےکر گیا دوسری طرف پڑوسی ہنستے رہے
    یہ واقعہ آج اس وقت یاد آیا جب میں قومی اسمبلی کی کارروائی دیکھ رہا تھا۔ اپوزیشن کو دیکھو تو لگتا تھا کہ لاٹری نکل آئی ہے خان کو رگڑنے کی۔اپوزیشن کے تقریباً ہر شخص کی تقریر دیکھیں تو لگتا تھا کہ اسمبلی میں مودی کے گُن گانے کے لیئے آئے ہیں نہ کہ آئندہ کی حکمت عملی پر بات کرنے۔ صرف آصف زرداری نے اٹھ کر ایک تجویز دی جو کہ سب سے مثبت تقریر تھی۔ رضا ربانی اس موقع پر پھر روایتی بیانیہ سول ملٹری تعلقات کو لےکر بات کرنےلگے اور اس حد تک چلے گئےکہ پاکستان کو امریکا کی کلائنٹ اسٹیٹ نہ بننے دیئے جانے کا مطالبہ کردیا شاید وہ بھول گئے تھے کہ کیری لوگر بل کے ذریعہ کلائنٹ اسٹیٹ کا متبرک رتبہ انہی کی جماعت کی حکومت نے بڑی محنت سے حاصل کیا تھا۔ جو ختم ہونے میں بڑا عرصہ لگا
    پھر مشاہد اللہ کی تقریر جسے سن کر لگتا تھا کہ موصوف شاید ن لیگ کے جلسے سے خطاب کرنے آئے ہیں کیونکہ اصل ن لیگ کے جلسوں میں آج کل شعلہ بیانی کا موقع کم ملتا ہے۔
    سب سے دلچسپ صورتحال اس وقت تھی جب اپوزیشن لیڈر نے بڑی دھواں دھار تقریر کی لیکن حل کوئی نہ دیا تو وزیراعظم نے پوچھا کیا بھارت پر حملہ کردوں آپ کہیں توکردیتاہوں تو فوری طور پر اٹھ کر کہا میں نے تو ایسا نہیں کہا۔ شاید انہیں جندال یاد آگیا ہوگا۔ سوال پھر وزیراعظم کا وہی تھا کہ پھر آپ بتائیں کیا کروں تو جواب کوئی نہ تھا۔ اور جب اپوزیشن کو لگاکہ جواب کوئی نہیں ہے تو پھر ہر تقریر کا رخ صرف تنقید کی طرف موڑ دیا گیا۔
    ایک طرف یہ حال ہے پاکستان کی اسمبلی کا تو دوسری طرف بھارت کی اسمبلی میں اختلاف ہےلیکن ہرگروپ ایک تجویز لےکر آیا ہے اور اس کے حق میں دلائل دے رہا ہے مودی کے حامی ایکطرف اور کانگریس اور اتحادی دوسری طرف ہیں دلائل سے موجودہ حالات اور آئندہ کی حکمت عملی اور منظر نامے پر بات ہورہی ہے۔ کانگریس کی قیادت نے اس فیصلے کو بھارتی آئین پر حملہ کہا اور ان شقوں کی بحالی کا مطالبہ کردیا۔ دوسری طرف بی جےپی کے وزرا نے اس
    واپس آجائیں ہماری پارلیمنٹ کی طرف تو بات شروع ہوتی ہے مودی نے یہ کیا وہ کےا اور پھر ایکدم بات ہمارا لیڈر جیل میں کی طرف چلی جاتی ہے اور آخر میں تو بات یو شٹ اپ یو شٹ اپ تک بھی چلی گئی۔
    ان تقاریر کو دیکھ کر یقینی طور پر نوجوانوں کو ایک بات ہی سمجھ میں آئی ہوگی کہ اسمبلی میں سنجیدہ، تحقیق اور مضبوط دلائل سے بات نہیں ہوسکتی یہ ارکان اسمبلی یقینی طور پر فی الحال کوئی راستہ بتانے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ انہیں تو ایکدوسرے کو کوسنے اور پوائنٹ اسکورنگ سے فرصت نہیں ہے
    ان کے رویوں سے کشمیریوں اور پوری دنیا پر واضع ہوگیا کہ پاکستان کی اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ ان کے لیئے اپنے اختلافات نہیں بھلا سکتے اور یہ ایک مشترکہ بیانیہ لانےکےبھی قابل نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ مشکل کا حل بتانے کے بجائےایک دوسرے کو برا بھلا ہی کہہ سکتے ہیں۔ دوسری طرف کشمیریوں نےدیکھاکہ پاکستان کی فوجی قیادت نے چند لمحوں میں ہی واضع موقف بدیدیا تھا کہ کشمیر کےلیئے ہر سطح تک جاسکتے ہیں۔
    جب قومی اسمبلی کے مبینہ طور پر معزز ارکان کی کم عقلی کا ایک بار مظاہرہ ہوچکا تو اب سوال یہ ہےکہ کیا انہیں عوام کا نمائندہ کہلائےجانے کا حق حاصل ہے۔ کیا یہ لوگ ذہنی سطح پر اس قابل ہیں کہ ملک کے حساس معاملے پر ان سے مشورہ لیا جائے؟
    ان ارکان اسمبلی کے غیر سنجیدہ اور ذاتی مفادات پر مبنی رویوں نے یقینی طور پر آج پارلیمنٹ کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے اپنی قابلیت پر ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی افادیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔کشمیر پر قرارداد تو منظور ہوگئی لیکن جوان ارکان اسمبلی نے تماشا لگایا وہ بھی تاریخ میں ان کےناموں کے ساتھ محفوظ ہوگئی