Baaghi TV

Category: سیاست

  • س سیٹھ ص صحافی …

    س سیٹھ ص صحافی …

    کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
    مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں‌ بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
    وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
    حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
    یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
    اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
    اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔

    پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
    اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔

    جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔

    لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
    رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے  ہونے والے استحصال پر نہیں

    لیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
    آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
    آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .

     

  • حکمرانوں کے نام ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    حکمرانوں کے نام ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    اے میرے وطن کے حکمرانو….! وہ وقت یاد کرو جب حکمرانی کو اعزاز و اقتدار نہیں بلکہ بوجھ اور ذمہ داری سمجھا جاتا تھا…. جب ایک ادنیٰ اور غریب کا بیٹا حاکم وقت سے پوچھ سکتا تھا کہ مال غنیمت کی اس چادر کا لباس تو نے کن پیسوں سے حاصل کیا…. وہ وقت یاد کرو جب مسلم حکمرانوں کی طرف سے بیت المال اور ذاتی مال کی اصلاحات متعارف کی گئیں…. وہ وقت یاد کرو جب خلیفہ وقت آدھی رات کو اٹھ کر اپنی قوم کا پہرہ دیا کرتا تھا….. وہ وقت جب حاکم وقت دریائے فرات کے کنارے مرنے والے کتے کے حساب سے بھی خوفزدہ رہتا تھا…. اور وہ وقت جب مسلم حکمران بادل کے ٹکڑے کو دیکھ کر کہتا تھا کہ آے بادل کے ٹکڑے….! تو نے جہاں بھی برسنا ہے جا برس. لیکن تو نے جہاں بھی برسنا ہے اس کھیتی کا غلہ میرے پاس پہنچے گا. مسلم علاقے میں ٹیکس کی مد میں اور غیر مسلم علاقے میں خراج کی صورت میں….!

    تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
    ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے

    ہفت کشور جس سے ہو تسخیر بے تیغ و تفنگ
    تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے

    وہ صرف گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی تھے. وہ فاتحین عرب و عجم ہی نہیں…. بلکہ عرب و عجم میں بسنے والے ہر مسلمان کے دل کے حکمران تھے. انہوں نے دنیا کو مرنے کا فن اور جینے کا ڈھنگ سکھایا. انہوں نے امت مسلمہ کو خالق حقیقی کے آگے گردن جھکانا اور باطل کے سامنے اسی گردن کو جھکائے بغیر کٹوانا سکھایا.

    حکمت، تدبر، سیاست اور دور اندیشی کے بل بوتے پر اور سب سے بڑھ کر اللہ کی توفیق سے ان کا ہر فیصلہ امت مسلمہ کے لیے خیر کا پیغام لیکر آتا تھا. وہ تین سو تیرہ ہوتے مگر ہزاروں سے ٹکرا جاتے…. وہ تنہا ہوتے مگر ان کا عزم پہاڑوں کے کلیجے پھاڑ دیتا. وہ ساحلوں پر کشتیاں چلاتے اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتے. وہ کھجوروں کی ایک چھوٹی سی بستی سے نکلے مگر ان کی بصیرت اور ان کی سیاست نے اللہ کی مدد کے ساتھ قیصر کے شہر قسطنطنیہ کی فصیلیں، کسری کے قصر ابیض کے دروازے اور شام کے پھاٹک کھول دیے….. دنیا کے تمام خزانے ان کے قدموں میں ڈھیر کر دیے….یہ دنیا کے اندر انعام تھا بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ رب العزت کی غلامی میں دینے کا. انہوں نے دہشت گردی سے پاک اور مالی آسودگی سے مزین ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا کہ ایک پردہ دار خاتون حیرہ شہر سے نکل کر مکہ مکرمہ بیت اللہ کے طواف کی نیت سے سفر کرتی اور اسے اللہ کے علاوہ اور کسی کا خوف نہ ہوتا ….ایک مسلمان صدقہ کرنے کی نیت سے گھر سے باہر نکلتا لیکن اس کو کوئی صدقہ لینے والا نہ ملتا.

    صرف یہی نہیں…. مسلم حکمرانوں نے اپنی رعایا پر علم و فنون کے دروازے کھول دیئے. جس وقت سارا یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا…. سپین کے صرف ایک شہر کے اندر ہزاروں لائبریریاں موجود تھیں. جب لوگ غاروں اور جنگلوں میں رہنے پر مجبور تھے…. اندلس کے حکمران عبدالرحمن ثالث اور اس کے جانشین فن تعمیر کو نقطہ ِمعراج تک پہنچا چکے تھے…! اور جس وقت صلیبی پادری سائنس اور دینی علوم و فنون کے خلاف فتوے لگا رہے تھے…. مسلمان سائنسدان کیمسٹری، بیالوجی، ریاضی، علم الارضیات، اور فلکیات کے میدانوں میں اپنی ذہانت کا لوہا منوا رہے تھے.

    اے مسلمان حکمران…! آج پھر اسی عہد کو دہرانے کا وقت ہے. ابو بکر کی صداقت، عمر کی عدالت، عثمان کی سخاوت اور علی کی شجاعت کو دہرانے کا وقت ہے. اسلام کے نام پر بنی اس پاک سر زمین پر اسلام کے سنہری اصولوں کو آزمانے کا وقت ہے…. امت مسلمہ کے ہر پریشان و غمگین دل کو آپس میں ملانے کا وقت ہے…. اور عالم کفر کی ہر چال کو مٹانے کا وقت ہے.

    اے مسلم حکمراں ! توحید کا پرچم اٹھا پھر سے
    ذرا تکبیر کے نعروں سے امت کو جگا پھر سے
    ہر اک نفرت ختم کر کے دلوں کو اب ملا پھر سے
    یہ ملت جسدِ واحد ہے یہ دنیا کو بتا پھر سے

    سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

  • محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    جب محبت اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو پھر اس کی راہ میں بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی زیر ہو جایا کرتی ہے….. ایسا ہی کچھ معاملہ بلوچوں کے دلوں کی دھڑکن، محب وطن بلوچ رہنما جناب سراج رئیسانی شہید کا تھا، وہ وطن کی محبت میں مارے مارے پھرتے تھے، ان کا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا.
    اپنے ہر پروگرام اور سفر میں سبز ہلالی پرچم کو اپنے ساتھ رکھتے تھے….. یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس پرچم کے بغیر ان کی زندگی نامکمل ہے…… اور واقعتاً یہ بات حقیقت ثابت ہوئی.
    انہوں نے پاکستان کی محبت میں ڈیڑھ کلو میٹر لمبا جھنڈا بنوایا اور ان کی یہ خواہش تھی کہ یہ جھنڈا بلوچستان کے بلند و بالا پہاڑوں پر اس انداز سے لہرایا جائے کہ دور سے آنے والے لوگوں نظر آئے اور وطن دشمنوں کو للکارے.
    بلوچستان کہ جہاں اس قدر وطن دشمن تنظیمیں موجود ہوں، وہاں پاکستان کا جھنڈا اتنی دلیری سے لہرانا کوئی عام بات نہیں کیونکہ ایک وقت تھا کہ وہاں پاکستان کا نام لینے والوں کو گولی مار دی جاتی تھی.
    افسوس کہ انڈین فنڈڈ بی ایل اے نے سراج رئیسانی کو شہید کر دیا لیکن یہ جھنڈا اس کے بعد ان کے بہادر بیٹے جمال رئیسانی نے اس پہاڑی پر لگا کر اپنے والد کی خواہش پورا کر دیا ایسا بہادر بلوچوں اور افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے آج دشمن کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ ہو گئی۔
    وہ بلوچستان کہ جہاں لوگ عدالتوں میں کھڑے ہو کر پاکستان مخالف نعرے لگاتے تھے آج وہی نادانی میں بھٹک جانے والے بلوچ جوق در جوق ریاست پاکستان کو تسلیم کر کے پہاڑوں سے اتر کر ، ہتھیار پھینک کر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔
    ان کے بیٹے جمال کا کہنا ہے کہ بابا کی یہ خواہش تھی کہ وطن کی محبت میں جان قربان کر جاؤں اور وہی ہوا کہ بابا جان کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے اور سبز ہلالی پرچم لہرانے کی پاداش میں شہید کیا گیا اور ہمیں اس بات پر فخر ہے.
    آج وہی بلوچستان ہے کہ جس میں دشمن کی مسلسل سازشوں کی وجہ سے پاکستان کا نام لینا بھی مشکل تھا آج وہاں محب وطن بلوچوں اور افواج پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کی وجہ سے ہر شخص وطن پر جاں نچھاور کرنے کو تیار ہے.
    اللہ تعالٰی دشمن کی سازشوں کو ناکام کرے اور جناب رئیسانی کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمائے. آمین
    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن
    تم کو زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک

  • بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ویسے تو بھارت خطے میں ایشین ٹائیگر بن کر نہ صرف پاکستان بلکہ چین کو بھی ناکوں چنے چبوانے کا خواہشمند ہے مگر زمینی حقیقت پر غور کیا جائے تو حقائق اس کے بلکل برعکس ہیں۔ بھارتی الیکشن ہوں یا پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار۔ بھارت نے ہمیشہ بمبئی حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور پلوامہ جیسے گھناونے کھیل کھیلے اور اس کے فورا بعد بھارتی میڈیا اپنے ٹوپی ڈرامے شروع کر دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا بھارت کو دنیا کی ہیبت ناک جنگی طاقت اور تیسری بڑی فوجی قوت قرار دیتا ہے۔ مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔

    1948 کی کشمیر جنگ ہو ۔ 1965 کی جنگ ہو۔ کارگل ہو۔ سرحدی جھڑپیں ہوں یا حالیہ فلاپ ایئر سڑائکس بھارتی فوج کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی ہے ۔ یہاں تک کہ جنگ کے محاذ پر بھی مار کھائی اور انفارمیشن وار فیر میں بھی مار کھائی۔ بھارتی فوج کے پاس موجود اسلحہ نہ صرف میوزیم میں رکھنے کے قابل ہے بلکہ بھارتی فوجی خود بھی بدحالی کا شکار ہے. یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج میں اوسطا سالانہ 113 اور ماہانہ 9 اہلکاراپنی زندگی کا خاتمہ کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ ان کی کسمپرسی اور مورال کا فقدان ہے۔ اکثر بھارتی فوجیوں کو جنگی محاذ پر کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی تک نہیں مل پاتی ۔ بھارتی ہواباز پاکستانی ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر کا سامنا کرنے سے ایسے گھبراتے ہیں جیسے کوا غلیل سے ۔ کبھی انکا سربجیت پکڑا جاتا ہے تو کبھی ابھی نندن چائے پینے یہاں چلا آتاہے۔کیونکہ
    The tea is fantastic
    بھارت کے زیر قبضہ کشمیر سے روز اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ اتنے فوجی فلاں نہتے نوجوان نے مار دیے ۔ توکبھی فوج کے کمیپوں میں گھس کر مجاہدین نے قیامت برپا کر دی۔ جوکہ بزدل بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے ذلت آمیز سوالیہ نشان ہے۔ بھارت کے چالیس فیصد میزائل تجربات کی ناکامیاں ان کی نا اہلیوں کا واضح ثبوت ہیں۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    کاش ۔۔۔ پاکستان کو عبرتناک سبق کی دھمکیاں دینے والا بھارتی میڈیا خواب خرگوش سے باہر آ کر پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کے کرشمات دیکھے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گےاور یہی میزائل ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔دہلی،کولکتہ ، مدراس ، ممبئی سمیت شاید ہی بھارت کا کوئی شہر۔ قصبہ ۔ ٹکڑا یا جزیرہ ہو جو پاکستانی میزائلوں کی زد میں نہ ہو۔ بھارت کی
    Cold start doctrine کو پہلے ہی پاکستانیtactical nuclear arms کی بدولت
    old start doctrine بن چکی ہے ۔ جس کا اعتراف بھارتی فوج کے چیف وی کے سنگھ پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ پاکستانی مسلح افواج کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کوئی راز نہیں ۔ پاکستانی فوج کے اخراجات بھارتی فوج کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں۔ مگر دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو یا روایتی دشمن بھارت کی جانب سے جارحیت کا مظاہرہ پاک فوج ہمیشہ سرخرو ہوئی ہے۔ جس طرح پاک فوج نے سوات۔ شمالی اور جنوبی وزیر ستان سے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا ہے پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پاک افواج ایک battle hardened فوج ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ماہرین کے مطابق اگر بڑی جنگ چھڑ جائے تو بھارت جنگ میں مصروف اپنی فوج کو زیادہ سے زیادہ 10 روز تک اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرسکتا ہے۔ بھارتی فوج کے پاس موجود 68 فیصد اسلحہ اور آلات بہت پرانے ہیں۔ بھارتی ایئر فورس کے جہاز اڑتے تابوت ہیں جواکثر اپنے وزن سے آپ ہی گرتے رہتے ہیں . یہ جہاز کسی بھی لحاظ سے ایف سولہ تو ایک طرف جے ایف 17تھنڈر کا ہی مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین پائیلٹ موجود ہیں۔ ہیومن ریسورس اور ٹریننگ کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت کی فوج کا کوئی مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    اگر بھارتی نیوی پر نظر ڈالی جائے تو آپ کو آئے روز خبریں ملیں گی کہ وہ اپنے ہی جہاز اور آبدوزوں کو اُڑانے میں مصروف ہیں۔ کبھی بھارتی نیوی کے شرمناک اسکینڈل سامنے آتے ہیں تو کبھی انکی کھڑی نیوکلیئر آبدوز چھوٹی سی غلطی کے سبب سمندر برد ہو جاتی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتااور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ بلوچستان میں دہشتگردی ہو یا عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کروانے کی سازش ہر معاملے کے پیچھے بھارت ہی نظر آتا ہے ۔ ان تمام محاذوں پر بھی بھارت کے مقدر میں سبکی ہی ہے ۔ اس سال کے آغاز میں بھارتی دھمکیوں کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ
    ” انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے تاہم وہ ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا”
    بے شک اس فوج کی وجہ سے ہی یہ ملک محفوظ اور قائم ودائم ہے ۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں اور ایماندار لوگوں کے لیے احتساب کے عمل سے گزرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک تنگ گلی ہو اور وہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ عبور کرکے آپ کو منزل مقصود کی طرف گامزن ہونا ہو اور یہ ایسے ہی ممکن نہیں ہے اس کے لیے یا تو کپڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروا کر زخمی حالت میں عبور کیا جا سکے گا یا پھر اس گلی یا رستے کو ہی صاف کروا لیا جاۓ گا.

    اب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گلی کو طویل محنت و کاوش سے صاف کروا کے گزر جائیں گے اور کئی ہوں گے جو وہاں پہ کھڑے شور ہی مچاتے رہ جائیں گے اور الزام تراشی کا سہارا لے کے دوسروں کو کوستے رہیں گے.

    کچھ ایسی ہی مثال ان کرپٹ سیاستدانوں کی بھی ہے جو برسوں سے اس ملک کو لوٹ کے کھا چکے ہیں اور اپنی من مرضی کے قوانین بنا کے ان قوانین کی آڑ میں بدمعاشیاں کرتے پھرتے ہیں اور اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر گرداننا شروع کر دیتے ہیں.

    جب بھی احتساب کی بات شروع ہوتی ہے تو یہ کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کانٹوں بھری گلی میں پھنسنے کی بجاۓ کسی چور رستے سے فرار ہو جائیں اس کے لیے کبھی وہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فوج پہ تنقید شروع ہو جاتی ہے.

    مریم صاحبہ کی کل والی پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو سواۓ پروپیگنڈے اور سازش کے کچھ نہیں ہے اس میں انہوں نے ایک جج صاحب کی ویڈیو جاری کی ہے اور بقول مریم صاحبہ کے ارشد ملک صاحب بتانا چاہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سزا دینے کے لیے زبردستی فیصلہ لیا گیا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ محض جھوٹ اور سازش کا پلندہ ہے کیونکہ آج جج صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت بھی پیش ہوۓ ہیں.

    آئیے آپ کی خدمت میں اس ویڈیو کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہیں ویڈیو کے پہلے حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ استغاثہ لندن پراپرٹیز کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا یہ بات تو اس نے دسمبر 2018 والے فیصلے میں بھی کہی تھی اس میں سرپرائز یا دھماکے دار بریکنگ نیوز والی بات تو نہیں ہے.

    دوسرے حصے میں وہ کہہ رہے ہیں سازندے سرنگی بجاتے وقت مطلوبہ میوزک حاصل کرنے کے لیے کہیں سے تار ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کہیں سے ڈھیلے کر دیتے ہیں. اب یہاں پہ مریم صاحبہ اس کی تعبیر لے رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی میاں صاحب کو سزا دلوائی حالانکہ اس کی تعبیر کچھ یوں بنتی ہے کہ میاں صاحب کو سزا تو تینوں کیسز میں ملنی چاہئے تھی لیکن اوپر سے شاید ایک کیس پہ سزا کا حکم تھا.

    مریم صاحبہ کے اپنے الفاظ کے پیش نظر کہ آڈیو اور ویڈیو ساؤنڈ علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اس لیے ان میں مطابقت نہیں پائی جا رہی اب یہ مان بھی لیا جاۓ تو جس طرح ویڈیوز کے ٹوٹے ملا کے یہ بنائی گئی ہے یہ فرانزک رپورٹ میں ہی ایکسپوز ہو جاۓ گی اور یہ کورٹ میں بطور ثبوت ناکافی ہو گی.

    دوسری اہم بات جو یہاں محسوس کی گئی ہے اگر یہ آواز ارشد ملک کی ہے تو قوی امکان ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلا کے اسے نشے میں دھت کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناصر بٹ جس طرح اسے ورغلا رہا ہے اور اس سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نشے کی حالت میں بھی وہ العزیزیہ اسٹیل مل میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس غلط تھا یا اسے غلط سزا دی گئی ہو. یاد رہے کہ ناصر بٹ خود ماضی میں کئی کیسوں میں اشتہاری بھی رہ چکا ہے اور یہ ارشد ملک کا بہت قریبی دوست بھی ہے جو اسے نشہ آور چیز دے کے اس سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان دلوانا چاہ رہا تھا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو وہ اگل دیتا.

    یہ پروپیگنڈہ صرف اور صرف احتساب کے عمل کو شک میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی اس پہ یقین نہ کرے اور حکومت و فوج پہ تنقید کرکے ان کو بدنام کیا جا سکے اور چوروں اور لٹیروں کے بیانیے کو تقویت ملے اور عوام ان چوروں کا ساتھ دیتے ہوۓ سڑکوں پہ نکلیں لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب عوام کسی بھی سازش میں نہیں آۓ گی اور اس ملک کو کھانے والے اس کے دشمنوں کا کھل کے مقابلہ کرے گی اور احتساب کے عمل میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان پائندہ باد

  • ہمارا سیاسی کلچر ۔۔۔ زین خٹک

    ہمارا سیاسی کلچر ۔۔۔ زین خٹک

    کارکن کسی بھی سیاسی جماعت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں۔ کارکن دن رات، گرمی سردی، طوفان، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات انسانی تقاضوں کی پرواہ کیے بغیر جماعت کے لیے کام کرتے ہیں۔ جلسے جلوس میں آگے آگے ہوتے ہیں۔ نہ جیل کی سلاخوں کی پرواہ،نہ مار پیٹ سے ڈر، نہ بھوک و افلاس سے گھبراہٹ، جان تک پارٹی کے لئے وقف کرتے ہیں۔ دراصل کارکن کسی بھی پارٹی کا اثاثہ ہوتے ہیں۔
    بنیادی طور پر لوگ سیاسی پارٹیاں اور سیاست میں شمولیت تین وجوہات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
    پہلی اور بنیادی وجہ نظریاتی سیاست ہے۔ یہ سیاست نظریے کی بنیاد پر قائم دائم رہتی ہے۔ نظریہ انسانی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت دنیا میں پانچ اہم سیاسی نظریات موجود ہیں۔ جن میں اسلامزم، سوشلزم، کمیونزم، لبرلزم اور آمر شاہی قابل ذکر ہیں۔ اسلام ازم کے نظریے پر کاربند کارکن ہمیشہ اپنی نظریے کی خاطر قربانیاں برداشت کرے گا۔ اور اپنے نظریے پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔ اسی طرح سوشلزم کا حامی کبھی سوشلسٹ نظریات پر سمجھوتہ نہیں کرےگا۔ یہ کارکن ہر سیاسی جماعت میں موجود ہوتے ہیں۔ یہی جماعت کی اصل روح کےمطابق کام کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر پارٹی میں اور ہر وقت نظریاتی لوگ قربانیاں دیتے ہیں۔ نہ پارٹی سے ناراضگی، نہ پارٹی اصولوں پر سمجھوتہ، نہ چاپلوسی، اور نہ چمچہ گیری کرسکتے ہیں۔ لہذا ہمیشہ پارٹیوں میں نظریاتی کارکن نظر انداز ہوتے ہیں۔ اس قسم کے کارکن مرتے دم تک اپنی پارٹی سے منسلک رہتے ہیں۔ تقریبا 4 سے 6 فیصد لوگ نظریہ کی سیاست کرتے ہیں۔
    دوسری وجہ ذاتی مفادات اور ترجیحات ہیں۔ یہ لوگ بنیادی طور پر مفاد پرست ہوتے ہیں۔ ان کا نظریے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لیے کبھی ایک پارٹی تو کبھی دوسری پارٹی یا ایک ہی جماعت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ ان کا مطمع نظر ذاتی مفادات کا حصول ہے۔ بے روزگار کارکن نوکری کے چکر میں، ٹھیکیدار کارکن ٹھیکوں اور پرمٹ کے لیے، کاروباری کارکن کاروبار کی بڑھوتری، ٹیکسوں سے چھوٹ، کاروبار کی ترویج، سرکاری ملازمین اعلی عہدوں پر تعیناتی، اور سیاست کے پیچھے اسی طرح کے بعض دیگر اغراض و مقاصد کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ پیدا گری کارکن ہوتے ہیں۔ یہ کارکن پارٹی سے زیادہ ذاتی خواہشات کے لیے سرگرم عمل ہوتے ہیں۔ ہر پارٹی میں اس قسم کے لوگ اعلی عہدوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ کیونکہ لینڈ کروزر، پراڈو، بنگلوں، ہوٹلوں میں کنونشنز اور پارٹی فنڈز میں پیسے ڈال کر ذاتی مفادات اور مراعات لے لیتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں یہ طبقہ خوشحال ہوتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت میں تقریبا 52 سے60 فیصد کارکن ذاتی مفادات کے لیے سیاست کرتے ہیں۔
    تیسری وجہ گروپس اور با اثر افراد کی چاپلوسی اور چمچہ گیر ی کرنا ہے۔ یہ کارکن خانوں، نوابوں، جاگیرداروں، بدمعاشوں، کارخانہ داروں، وڈیروں اور جاگیر داروں کی وجہ سے کسی پارٹی میں آتے ہیں۔ یہ وہی روایتی ذہن اور سوچ کو لیکر سیاسی جماعت پر قبضہ جما لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کارکن جماعت کی بجائے گروپس کی نوکری کرتے ہیں۔ ہر وقت اور ہر موقع پر ان کے گیت گنگناتے رہتے ہیں۔ آج کل تو سوشل میڈیا پر اس طرح کے کارکن دن رات گروپس اور اپنے آقاؤں کی پوسٹس لگاتے رہتے ہیں ان کی ثناخوانی اور تعریفوں میں زمین آسمان ایک کرتے ہیں۔ تعریفوں کے ایسے پل باندھتے ہیں ۔کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ یہ سب سے خطرناک اور مضر کارکن ہوتے ہیں۔ اور ان کو ہر سیاسی جماعت میں باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پر ہر سیاسی جماعت میں 30 سے 36 فیصد تک ان کارکنوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔

  • وطن عزیز فسطائیت کی زد میں … رانا اسد منہاس

    وطن عزیز فسطائیت کی زد میں … رانا اسد منہاس

         فسطائیت کا لفظ ان دنوں پاکستانی سیاست میں زبان زد عام ہے۔انگریزی میں فسطائیت کو  فاشزم کہتے ہیں۔گزشتہ دنوں سے پاکستانی میڈیا پر اس لفظ کا خوب پرچار ہورہا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے بھی اپنے مختلف بیانات میں اس لفظ کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فسطائیت پروان چڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب فاشزم سے متاثر شخص ہیں اور وطن عزیز میں فسطائیت کے نظریات کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم وطن عزیز میں فسطائیت کو پروان نہیں چڑنے دیں گے بلکہ خان صاحب کے ان نظریات کا رد کر کے ان کا مقابلہ کریں گے۔میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں رانا ثناء اللہ کی گرفتاری اور دوسرے اپوزیشن ارکان،خصوصی طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو فسطائیت قرار دیا۔    
    قارئین کرام آج کے کالم میں ہم لفظ فسطائیت کے مفہوم اور اس کی تاریخ سے پردہ ہٹانے کی کوشش کریں گے۔بنیادی طور پر لفظ فسطائیت لاطینی زبان کے لفظ Fascio سے ماخوذ ہے۔لاطینی زبان کی اگر بات کی جائے تو یہ زبان قدیم روم میں بولی جاتی تھی۔لاطینی زبان میں لفظ Fascio کے معنی ڈنڈوں کے مجموعہ کے ہیں۔یہ ڈنڈوں کا مجموعہ اس وقت کے مجسٹریٹ کے پاس ہوتا تھا۔مجسٹریٹ ان ڈنڈوں کواپنے سپاہیوں کو دے دیتا اور وہ ان ڈنڈوں کو ہاتھوں میں لیے بازاروں میں گشت کرتے تھے۔بازار میں اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرتے پکڑا جاتاتو وہ سپاہی اسی وقت اسے پکڑ کر سزا دیتے تھے۔ یہاں تک کے ان سپاہیوں کے پاس بڑی سے بڑی سزا دینے کے بھی اختیارات ہوتے تھے۔ڈنڈوں کا یہ مجموعہ وقت کے مجسٹریٹ کا نشان تھا جو بعد میں فاشزم یعنی فسطائیت بن گیا۔اگر ہم سیاسی تناظر میں اس لفظ کی وضاحت کریں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی قوم پرستی یا شدید وطن پرستی ہے جو آمریت کا رجحان رکھتی ہے۔عام فہم میں آمریت سے مراد طاقت کا استعمال کر کے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانا اور اپنے نظریات کی پاسداری کرانا ہے۔
         فاشزم کا آغاز بیسوی صدی میں ہوا،بنیادی طور پر یہ یورپ کی ایک تحریک تھی۔اس تحریک سے ایسے لوگوں کی اکژیت وابستہ تھی جو سوسائٹی پر اپنا کنٹرول چاہتے تھے۔فاشزم نے انڈسٹری،مارکیٹ،کامرس اور بینکنگ پر بھی کنٹرول حاصل کیا۔فسطائیت کی تحریک ایک جرمن فلاسفر فریڈرک نیطشے کی سوچ کا مظہر تھی۔اس کا خیال تھا کہ عیسائیت ایک غلام مذہب ہے،اور یہ لوگوں میں غلامی کو فروغ دیتا ہے۔لہٰذا ہمیں ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہونے کے لیے مذہب کو چھوڑ کر جدید سائنس کو اپنانا چاہیے۔فریڈرک نیطشے کا مشہور مقولہ ہے کہ God is dead جس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط میں سے خدا کو نکال کر زندگی کے تمام اصول اور قوانین خود طے کیے جائیں۔اس نے ایک سپر مین super men کا تصور بھی متعارف کرایا،جس کے مطابق انسان میں طاقت ہونی چاہیے کہ وہ مقتدر بن کر اقتدار کی قوت کو حاصل کر سکے۔فریڈک کے مطابق ہر وہ چیز اور نظریہ جو انسان کو طاقتور بنائے اچھا ہے جبکہ اس کے برعکس ہر وہ نظریہ جو اس طاقت کو حاصل کرنے سے روکے وہ برا ہے۔قارئین کرام اگر ہم فریڈک نیطشے کے فسطائیت کے مفہوم کو مختصر بیان کرنا چاہیں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس نظریے کے مطابق طاقت اور اقتدار ہی اچھائی کا محور و مرکز ہیں۔اس طاقت اور اقتدار کو پانے کے لیے کوئی بھی اچھا یا برا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔یہاں تک کہ اس مقصد کے لیے تشدد کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔فسطائیت کا آغاز سب سے پہلے اٹلی میں ہوااور اس کاپہلا بانی بینیٹو مسولینی تھا۔مسولینی سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی کا ممبر تھا۔جنگ عظیم اول میں سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی نے حکومت کا ساتھ دینے کی بجائے اس کی مخالفت کی جس وجہ سے مسولینی نے اس پارٹی کو خیر باد کہہ کر فاشسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔اس پارٹی سے منسلک لوگ سیاہ شرٹ پہنتے تھے۔ان کا یہ دعوٰی تھا کہ وہ اٹلی کو ایک عظیم ملک بنائیں گے۔انہوں نے اٹلی کی عوام کو تبدیلی کا ایک نیا تصور دیا۔آغاز ہی میں انہوں نے اٹلی کی ایک مزدوروں پہ مشتمل منظم تحریک کو طاقت کا استعمال کرکے ختم کر دیا۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اٹلی کے جاگیرداروں اور سرمایہ دار طبقے نے اس تحریک کو تقویت بخشی اور اس کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔اس طرح فسطائیت کی یہ تحریک اٹلی کے ساتھ ساتھ پورے یورپ میں پھیل گئی،اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات منوانے میں کامیاب ہو گئی۔قارئین کرام اس تحریک کا اصل مقصد نیشنلزم اور جمہوریت کی آڑ میں آمریت قائم کرنا تھا۔اگلے کالم میں ہم فسطائیت پہ مبنی نظریات اور اس کی علامات پہ روشنی ڈالیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا واقعی وزیر اعظم عمران خان وطن عزیز میں فسطائیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں،اور وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اپوزیشن کی جانب سے خان صاحب پہ یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
    رانا اسد منہاس جڑانولہ
    adiminhas562@gmail.com

  • سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ٹرینڈز اور گالم گلوچ کا ذمہ دار کون؟؟ … رضی طاہر

    سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ٹرینڈز اور گالم گلوچ کا ذمہ دار کون؟؟ … رضی طاہر

    پاکستان تحریک انصاف ملک کی بڑی سیاسی جماعت ضرور ہے مگر اس کا تنظیمی ڈھانچہ، تنظیمی تربیتی ماحول اور یونٹ کی سطح سے مرکزی سطح تک کسی قسم کا کوئی نظام نہیں، جس کی وجہ سے کارکنان کی تربیت سازی کا کوئی رواج ہی نہیں۔ جب ہم قوم یوتھ کہتے ہیں تو اس سے مراد گزشتہ الیکشن میں پہلی دفعہ ووٹ دینے والے نوجوان ہیں، جن کو بڑے بڑے صحافی خود ہی "یوتھیے” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، ان کی جانب سے گھٹیا ٹرینڈز آنا اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں، اسی طرح مسلم لیگ ن کا سٹرکچر بھی ایسا ہی ہے، وہاں نوجوانوں کا دیہاتی طبقہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ یوتھیے اور نونی قوم کے اخلاقی زوال کی ترجمانی کررہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب جماعتی ماحول میں تربیت پانے والے کارکنان گالم گلوچ کے بجائے دلیل سے بات کرتے ہیں، عوامی تحریک، جماعت اسلامی، ملی مسلم لیگ وغیرہ کے کارکنان سوشل میڈیا پر میری اس بات کے گواہ ہیں۔ لہذا جماعتوں کو چاہیے کہ نظام بنائیں اور کارکنان سازی کریں۔ محض ووٹرز کے دم پر چلنے والی جماعتیں جلد زوال کا شکار ہوجایا کرتی ہیں جبکہ کارکنان کے زور بازو پر پنپنے والی تحریکیں صدیوں زندہ رہتی ہیں۔

  • کے پی  ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی پہلی  ٹورازم موبائل ایپ متعارف کرا دی

    کے پی ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی پہلی ٹورازم موبائل ایپ متعارف کرا دی

    خیبر پختون خواہ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی پہلی ٹورازم موبائل ایپ اور ویب پورٹل ”کے پی ٹورازم“ متعارف کرا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شمالی علاقہ میں سیاحت کے لیے آنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی معاونت کرنا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ملک میں سیاحت کےفروغ کی جانب اہم قدم خیبر پختونخواہ کے سینئر وزیر برائے سپورٹس، ٹورازم، آرکیالوجی، کلچر، میوزیم اور یوتھ افیئر عاطف خان نے بدھ کو اس موبائل ایپ کا افتتاح کیا۔

    سیاحت کے متعلق وزراء اور ذمہ داران بتایا کہ انہوں نے خیبر پختونخواہ صوبے میں سیاحت کی پروموشن کے لیے موبائل ایپ شروع کی ہے، پائپ لائن میں موجود دیگر پراجیکٹ اس شعبے کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات سے اگلے پانچ سالوں میں 1 کروڑ غیر ملکی سیاح صوبے میں سیاحت کے لیے آئیں گے جس سے 10 ارب ڈالر کی آمدن ہوگی۔

  • ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت اور ترقی پر اثر … فرحان شبیر

    ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت اور ترقی پر اثر … فرحان شبیر

    چلی میں ڈالر 680 پیسو کا
    کولمبیا میں 3198 پیسو کا
    ہنگری میں 284 فارنٹ کا
    آئس لینڈ میں 124 کرونا کا
    انڈیا میں 69 روپے کا
    انڈونیشیا میں 14139 روپیہ کا
    ایران میں 42086 ریال کا
    جاپان میں 107 ین کا
    قازقستان میں 379 ٹینگے کا
    نیپال میں 110 روپے کا
    روس میں 63 ربل کا
    جنوبی کوریا میں 1158 وان کا
    سری لنکا میں 176 روپے کا
    وغیرہ وغیرہ
    اب ذرا ان میں سے چلی، ہنگری، جاپان، روس، آئس لینڈ اور جنوبی کوریا پہ نظر ڈالیں
    یہ سب کے سب ہم سے کوئی 40, 50 سال آگے ہیں
    یہی نہیں بلکہ ہم سے تو انڈونیشیا، انڈیا اور قازقستان بهی آگے ہیں
    ہائیں؟ کیسے؟
    ڈالر اتنا مہنگا ان کے ہاں اور یہ ترقی بهی کر گئے؟چلیں چلی پہلے سامنے آگیا تو پہلے اسی کی ہی مثال لے لیں ۔ چلی میں ایک امریکی ڈالر 680 پیسو کا ہے یعنی ہم سے تقریبا 400% کم ویلیو کا لیکن اسکے باوجود بھی چلی لاطینی امریکہ کا سب سے مستحکم معیشت رکھنے والا خوشحال ملک ہے ۔ چلی کو 2006 میں OECD (آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ) کا رکن بھی بنا لیا گیا ۔ چلی میں گو کہ inequality ہے لیکن پھر بھی غربت کی لکیر سے نیچے گذر بسر کرنے والے لوگوں کا تناسب صرف پونے تین فیصد ہے ۔

    بات یہ ہے کہ کرنسی کا گرنا یا ایک ایک ڈالر کے بدلے میں جھولیاں بھر بھر کر مقامی کرنسی کا مل جانا ہی معیشت کی کمزوری یا ترقی کا واحد پیمانہ نہیں ہوتا بلکہ کرنسی ایکسچینچ ریٹ تو کبھی بھی معاشی کارکردگی یا معاشی ترقی کا ثبوت نہیں ہوتے ۔ دنیا ہنسے گی اگر آپ نے ایسی کوئی مثال بھی دی ۔ مثلا اس وقت ایک امریکی ڈالر 163 پاکستانی روپے کا ہے اور ایک کویتی دینار 537 روپے کا ہے تو کیا پھر کویتی دینار امریکی ڈالر سے بھی مضبوط کرنسی بن گیا یا کویت کی معیشت امریکہ سے تین سو فیصد بڑی گئی کیونکہ اس لحاظ سے تو ایک کویتی دینار ایک امریکی ڈالر کے تین گنا سے بھی زیادہ ہے ۔ لیکن کویتی دینار کے امریکی ڈالر سے مہنگا ہونے کا بھی یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کویت کی اکانومی ایک مضبوط اکانومی ہے ۔ ملکوں کی معیشت ڈالر کے ایکسچینج ریٹس سے نہیں بلکہ برآمدات ، فارن ریزرو ، قومی پیدوار اور بچتوں میں اضافے سے ہوتی ہے ورنہ تو GDP تو چلی کا بھی 300 اب ڈالرز ہے جبکہ پاکستان کا 330-340 ارب ڈالرز ۔ اب پاکستان کی پتلی حالت بھی سامنے ہے اور چلی کی خوشحالی بھی ۔

    چلی میں چلی کے لوگوں کو ایک ڈالر 680 peso میں مل رہا ہے یعنی ہمارے ملک کے دانشوڑوں کے لحاظ سے تو اندھیر ہی مچ گئ لیکن چلی میں کرنسی کی قدر کو کم رکھنے کا ٹرینڈ تو پچھلے کئی سالوں سے ہے اور ہر ایکسپورٹ اورینٹڈ اکانومی والے ملک کا یہی طریقہ ہونا بھی چاہئیے ۔ دس سال پہلے 2009 میں چلی کا پیسو 550 کے قریب تھا اب 2019 میں 680 کے قریب ہے اور مزے کی بات یہ کہ اتنی ڈی ویلیو کرنسی کے باوجود چلی کی معیشت "مضبوط معیشت” ہے کیونکہ چلی کی” آمدنی "اسکے "اخراجات” سے زیادہ ہے ۔ یا یوں کہئیے کہ اس نے اپنے اخراجات اپنی کمائی سے کم رکھے ہیں ۔ یعنی ایکسپورٹ زیادہ اور امپورٹ کم لہذا بیلنس آف ٹریڈ بھی پوزیٹو ہے ۔ 2017 میں چلی کی ایکسپورٹ 23۔69 ارب ڈالرز رہیں تھیں (جس میں سے تیس ارب ڈالرز کی تو صرف کاپر کی ایکسپورٹ ہے چین اور امریکہ کو) اور امپورٹس 31۔61 ارب ڈالرز ۔ یعنی آمدنی ذیادہ خرچہ کم باقی کی رقم منافع اور سیونگ ۔ چلی میں ملکی ڈپازٹس کا 20 فیصد قومی بچت سے آتا ہے ۔ یعنی کل ملا ایک ڈالر میں 635 پیسو دینے والے چلی کے فارن ریزرو میں تو اس 39-40 ارب ڈالرز پڑے ہیں لیکن پچھلے پانچ سالوں سے اسحاق ڈالر کے ڈالر کو 100 کے آس پاس رکھنے والے پاکستان کے پاس 10 ارب ڈالرز کے فارن ریزرو بھی بمشکل جمع ہو پاتے ہیں۔ ایک ڈالر کے 680 پیسو دینے والے چلی کی تو ورلڈ بینک کے ڈوئنگ بزنس انڈیکس میں رینکنگ 48 ہے اور 100 پر ڈالر کو "پھڑیئے "رکھنے والا پاکستان 158 نمبر پے ۔ 2017 میں چلی میں بیرونی سرمایہ کاری یعنی فارن ڈائریکٹ انویسٹمینٹ FDI , 206 ارب ڈالرز کی ہوئی اور ادھر پاکستان میں بمشکل سوا 3 ارب ڈالرز ۔

    پاکستان اور چلی میں فرق صرف یہ ہے چلی میں وہ دانشوڑ طبقہ نہیں ہے جن کے 45 گروتھ والے دماغوں کو انکے پے ماسٹرز نے صرف ڈالر کا ریٹ اور اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس پڑھنا ہی سکھایا یے ۔ جسکی وجہ سے قوم کے سامنے صحیح معاشی صورتحال آ ہی نہیں پاتی ۔ حالانکہ ذرا سی بھی معاشی سمجھ بوجھ رکھنے والا معیشت دان پانچ سال سے 24 ارب ڈالرز کے آس پاس کھڑی ایکسپورٹ اور پہاڑ کی طرح بڑھتے ہوئے امپورٹ بل کو دیکھ کر سہمے جا رہا تھا اور روپیہ ڈی ویلیو کرنے کے لئیے پچھلے تین چار سالوں سے ہر بڑا معیشت دان چیخ چیخ کر ہلکان ہوئے جارہا تھا کہ آنے والوں دنوں میں بیلنس آف پیمنٹ کا گیپ اتنا بڑھ جائگا کہ بھیک تک مانگنا پڑ جائیگی لیکن اسحاق ڈار نے اکنامک ہٹ مین کا کردار ادا کرتے ہوئے وہی کیا جو ایک دشمن کر سکتا تھا ۔ پانچ سالہ دور اقدار میں لئیے گئے 41 ارب ڈالرز کے قرضے میں سے 7 ارب ڈالرز کی بڑی رقم ڈالر کی قمیت کو 100 پر "پھڑیے” رکھنے میں جھونک دی ۔ جسکا زیادہ فائدہ امپورٹرز کو ہوا اور اس فائدے سے کئی گنا زیادہ نقصان ایکسپورٹرز کو ہوتا رہا ۔ جس ڈالر کے روکے رکھنے کو ن لیگ کی اقتصادی شہہ دماغوں کی قابلیت باور کرایا جاتا رہا ہے وہ تو پورا پلان تھا پاکستان کی معیشت کو بیلنس آف پیمنٹ اور قرضوں کے پہاڑ کے نیچے دبا کر جانے کا تاکہ آنے والی حکومت قرضوں کی قسطیں بھر بھر کے اور معیشت کے جسم کو لگے گھاو کو بھرتے بھرتے خود ہی گھائل ہو کر منہ کے بل گر جائے ۔ اور یہ صرف معیشت کا ہی گرنا نہ ہوتا ملکی سلامتی اور سیکیورٹی بھی منہ کے بل گر چکی ہوتی ۔

    اسحاق ڈالر کا ڈالر کو 100 روپے پر روکے رکھنا پاکستان کو 35 ارب ڈالرز کے تجارتی خسارے کا مریض بنا گیا گیا ۔ ایکسپورٹ تو پانچ سال تک 24 ارب ڈالرز پر ہی رہی رہیں لیکن ڈالر سستا رکھنے سے امپورٹس کا جو بل ن لیگ کی حکومت کے آغاز میں تقریبا 35 ارب ڈالرز سالانہ تھا وہ 56 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا جبکہ ایکسپورٹ 24 ارب ڈالرز پر ہی کھڑی رہیں ۔ اب ظاہر ہے آپ کے گھر والے کما تو وہی 24-25 روپے رہے ہوں لیکن اللے تللوں اور خریداریوں میں 55-56 روپے لگا رہے ہوں تو باقی کا پیسہ یا تو بھیک سے آئیگا یا قرضوں اور گھر کا سامان گروی رکھنے سے ۔ اور یہی ہوا ۔ پچھلے پانچ سالوں ملکی ادارے سستے قرضوں کے بدلے گروی رکھے جاتے رہے، مارکیٹ اور آئی ایم ایف سے قرضے لیکر امپورٹ بل بھرے جاتے رہے اور ڈالر کو” پھڑیے” رکھنے میں جھونکے جاتے رہے ۔ اسکا نتیجہ یہ ہے عمران خان کی حکومت کو آنے سے پہلے ہی اسحاق ڈار کی ڈارنامکس کا بوجھ ڈھونا پڑ گیا ۔ قرضہ لیا پچھلوں نے ، لیکن حکومت میں آتے ہی اس سال میں اس حکومت کو 7۔9 ارب ڈالرز کا پچھلوں کا یعنی ن لیگ کا لیا ہوا قرضہ اتارنا پڑا ۔ جی ہاں 7۔9 ارب ڈالرز کا ۔ اور کان کھول کر یہ بھی سن لیں کہ اگلے دو سالوں میں 27 ارب ڈالرز کا قرضہ مذید میچیور ہو جائگا ۔ یعنی پاکستان کو اگلے دو سالوں میں صرف اور صرف afloat رہنے یعنی اپنی معاشی بقا کے لئیے 50-55 ارب ڈالرز کی ضرورت ہوگی تاکہ 27 ارب ڈالرز کے قرضے دے سکے وہ جو ن لیگ اور زرداری دور میں لئیے گئے ۔ اب ننگا نہائے گا اور نچوڑے گا کیا ؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنی اکنامک لٹریسی بڑھانی ہوگی ۔ 45 فیصد والے دانشوڑوں کو چھوڑیں انہیں سمجھ نہیں آنی لیکن پاکستانی قوم کو سمجھنا ہوگا کہ کسی ملک کی ترقی یا بدحالی کا دارومدار ڈالر یا کسی بهی بیرونی کرنسی پہ نہیں ہوتا یہ وہاں کی معیشت اور ملک کے اندر موجود حالات کے ساتھ ساتھ درآمدات اور برآمدات پہ ہوتا ہے ۔ آپ کی برآمدات اگر درآمدات سے زیادہ ہوں آپ کے ملک پہ بے تحاشا قرضے نہ ہوں اور ہیومن ریسورسز پوری طرح سے جدید بنیادوں پہ استوار کی گئی ہوں تعلیم کی ریشو کم سے کم 80 فیصد ہو تو پهر ڈالر چاہے ایک ہزار روپے کا ہو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان میں نا تعلیم ہے معیشت کا کباڑا ہو چکا ہے قرضوں کی بهرمار ہے اس لیے مہنگائی ہے تنخواہیں کم ہیں تو تهوڑا زیادہ محسوس ہو رہا ہے اور رہی سہی کسر واویلے نے پوری کر دی ہے اس لیے زیادہ ہی ہائے ہائے ہو رہی ہے ۔ اور دوسری بات یہ کہ نظام انصاف اور کرپشن کی جڑ کاٹے بغیر inclusive growth کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔

    جنوبی کوریا پاکستان کے ایک صوبے جتنا ہے وہی جنوبی کوریا جہاں کی سامسنگ کمپنی کا موبائل لے کر خوشی سے پهٹنے والے ہو جاتے ہو اسی ملک کی کرنسی ہم سے بهی پیچهے ہے مگر ان کے ہاں قانون اور انصاف کا راج ہے وہاں کوئی بهی جا کر کرپشن میں پهنسے بندے کی حمایت نہیں کرتا بلکہ وہاں کرپٹ افراد سے ان کے اپنے خاندان والے بهی تعلقات ختم کر لیتے ہیں دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آج تک گرفتار کیے جانے والے تمام کرپٹ افراد میں سے 90 فیصد نے خودکشی کر لی کیوں کہ عوام ان پہ تهوکتی پهرتی تهی رہائی کے بعد بهی ۔

    دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کو قتل سے بھی بڑ جرم سمجھا جاتا ہے اور قتل کی سزاوں سے بھی سخت سزائیں منی لانڈرنگ اور کرپشن کی ہیں ۔ کیونکہ ایک شخص کو قتل کرکے تو ایک شخص یا زیادہ سے زیادہ اسکے خاندان کو نقصان پہنچتا ہے لیکن منی لانڈرنگ تو ملک کی معیشت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا بہیمانہ اور شرمناک جرم تصور کیا جاتاہے کیونکہ منی لانڈرنگ سے خاندانوں کے خاندان متاثر ہوتے ہیں غربت کی لکیر سے نیچے جا گرپڑتے ہیں ۔ اور یہی ہمارے ملک کے ساتھ ہوا ۔ سندھ اور پنجاب پر حکمران خاندانوں کی سربراہی میں باقاعدہ بینک بنا کر منی لانڈرنگ کے دھندے کئیے گئے ۔ اب جب منی لانڈرنگ کی جڑ کاٹی جارہی ہے تو پاکستان کے دانشوڑوں کو معیشت کی بحالی کے حقیقی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ۔ FBR کا 5 کروڑ 30 لاکھ افراد کا ڈیٹا منظر عام پر لانا ، FBR کا Chinese ٹیکس سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹ کیئے جانا ، NAB کا چائنا کا ساتھ کرپشن مکاو MOU سائن کرنا اور 40 ہزار کے پرائز بانڈ کا سلسلہ روکنا ، یہ اور اس جیسے کئی اقدامات ایسے ہیں جو صرف اور صرف اسی دور میں اٹھائے جارہے ہیں ۔ صرف 40 ہزار والے پرائز بانڈ کو دیکھیں تو اس کھیل کی ڈائنامکس سمجھ کر ہوش اڑ جائیں ۔ اس وقت ملک میں تقریبا نو سو ارب یعنی 6 بلین ڈالرز کے پرائز بانڈ سرکولیشن میں ھیں۔۔6 ارب ڈالر ، یہ اتنا ہی جتنا ہم نے IMF سے قرضہ لیا ہے ۔کہا جاتا ھے، یہ پرائز بانڈز ملک میں سب سے زیادہ کرپشن کو فروغ دیتے تھے، کیونکہ ایک تو ان کا سائز یعنی چالیس ھزار کے بونڈ کی سو کی گڈی چالیس لاکھ بنتی ھے ۔۔اور یہ آسانی سے ایک ھاتھ سے دوسرے ھاتھ میں منتقل ھوجاتے ھیں۔۔۔اور کسی کو پتہ نہی چلتا ۔۔ یہ پرائز بانڈز کئ دھائیوں سے ملک میں کالا دھن کا بہترین اور آسان زریعہ بنا ھوا تھا جس کو کسی حکومت نے روکنے کو کوشش نہی کی۔اب جب ان بانڈز کے اجراع کو بند کیا جارھا ھے تو جن جن حضرات کے پاس یہ سارے ہرائز بانڈز موجود ھیں ان کو بینک جاکر روپے میں تبدیل کروانا پڑے گا، جہاں ان کو اس انکم کا حساب دینا پڑے گا کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا اور اس کا ٹیکس دیا تھا یا نہی۔۔۔

    دانشوڑوں سے درخواست ہے کہیہ ڈالر کی اونچی اڑان والا واویلا بند کریں ۔ ہم 22 کروڑ میں سے تقریباً 98 فیصد نے تو ڈالر کو ہاتھ میں پکڑ کر بھی نہیں دیکھا ۔ جب کہ دانشوڑوں کا گریہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جیسے روزانہ ڈالر ہی کهاتے ہیں اور مہنگے ہونے کی وجہ سے یہ سارے دانشوڑ بهوکے مر جائیں گے۔ قسمے اگر جہالت پہ اگر کوئی انعام ہوتا یا سینگ لگتے تو ہمارے پاکستانی دانشوڑ بارہ سنگھے ضرور ہوتے ۔