Baaghi TV

Category: سیاست

  • سیاست نہیں ریاست بچاؤ۔۔ راؤ فیصل

    سیاست نہیں ریاست بچاؤ۔۔ راؤ فیصل

    چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی نے اپوزیشن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے وہ اپوزیشن جو حجم کے لحاظ سے طاقتور اور بڑی دکھائی دے رہی تھی دراصل وہ سراب تھی، بلاول، مریم، مولانا فضل الرحمان، حاصل بزنجو وغیرہ وغیرہ کے اتحاد کو ان بھان متی کا کنبہ کہا جا رہا ہے اپوزیشن کی سیاست ایک کمزور بیانیے پر کھڑی ہے جس کا تعلق ذاتیات سے متعلق ہے عوامی مسائل کا اس سے دور تک کوئی رشتہ نہیں ہے اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ یہ کھوکھلا بیانیہ نہ تو اپنی سیاسی ساکھ کو راکھ بننے سے روک پا رہا ہے اور نہ ہی اس میں جان ہے

    سینیٹ کی بازی پلٹنے کی بڑی وجہ صادق سنجرانی کی اپنی مثبت شہرت اور ایک سال اور پانچ ماہ اس کرسی پر غیر جانبداری سے کئے گئے فیصلے بھی ہیں ان کے حمایتی کو چھوڑیں ان کے مخالف بھی ان کی شرافت اور کردار کی گواہی دیتے رہے خود حاصل بزنجو بھی ان کے اقدار کا دم بھرتے ہیں اس تحریک عدم اعتماد کو شروع سے ہی بلاجواز قرار دیا جاتا رہا ہے
    وہ پیپلزپارٹی جو ۱۲ مارچ ۲۰۱۸ کو صادق سنجرانی کو ہیرو قرار دے رہی تھی اور ضیاء کی باقیات کو طعنے دے رہی تھی بلاول خود صادق سنجرانی کی فتح کے جشن میں ٹویٹ کررہے تھے

    زرداری بھی نواز شریف کو وکٹری کا نشان بنا کر چڑا رہے تھے اب ایک سال بعد جب ان کے نظریات نے ایک بار پھر جوش مارا تو اسی صادق سنجرانی کے خلاف اب اپنے سینیٹرز کو ووٹ ڈالنے کا حکم صادر کررہے تھے کیا سینیٹرز مٹی کے بت ہیں جو اس لیڈر شپ سے اس یوٹرن پر سوال نہ اٹھائیں اور کیا نون لیگ میں وہ ضیاء کی باقیات بالکل مر چکی ہے جو ایک سال پہلے تک زندہ تھی
    اپوزیشن کی بدترین شکست نے نوازشریف کو بھی بڑا دھچکا پہنچایا ہے کیونکہ میر حاصل بزنجو ان کے امیدوار تھے اگر وہ جیت جاتے تو نون لیگ کو اپنی لگاتار قانونی اور سیاسی رسوائی بھول جاتی لیکن ایسا نہ ہوا کیونکہ میر حاصل بزنجو کا انتخاب ایک خاص ذہنیت کا انتخاب تھا جو اس وقت ریاستی اداروں کے خلاف برسر پیکار ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ بے نقاب ہو رہی ہیں
    وہ میر حاصل بزنجو جو اپنے چھوٹے سے مفاد کی خاطر یہ بھی بھول گئے کہ وہ پاکستان کے ایک ایسے ادارے پر الزام لگا رہے ہیں جو پاکستان کے دفاع کی ضمانت ہے ایسی ذہنیت کے مالک شخص کو کیسے قائم مقام صدر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر اس کی تاریخ میں جائیں تو بات نیشنل عوامی پارٹی(NAP) پر پابندی تک جا پہنچتی ہے جس کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے
    میں نے جولائی کی بارہ کو یہ تجزیہ پیش کیا تھا کہ یہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی اس کی وجوہات میں ایک نمایاں وجہ یہ بھی تھی کہ اگر اس وقت سینیٹ چیئرمین تبدیلی میں اپوزیشن کامیاب ہو جاتی تو پی ٹی آئی کی حکومت کسی صورت بھی چند ماہ سے زیادہ قائم نہیں رہ پائی گی اگرچہ ابھی بھی ان کے سامنے بیشمار مصیبتیں موجود ہیں لیکن تاحال اس سیٹ آپ کو تمام اداروں کا اعتماد حاصل ہے یعنی حکومت کو اندرونی طور پر خطرہ لاحق نہیں اور معیشت کے بحران سے مقابلے کیلئے ریاست اب کسی طرح بھی مقننہ کے معاملات میں الجھاؤ برداشت کرنے کے قابل نہیں تو میرے خیال میں اس تبدیلی کے حمل میں سب سے بڑی وجہ تو یہی تھی کیونکہ اپوزیشن نے اس تبدیلی کے بعد ایوان زیریں پھر بلوچستان اسمبلی اور پھر پنجاب اسمبلی کی طرف بھی بڑھنا تھا سینیٹ کی کامیابی سڑکوں اور گلیوں میں ان کی حمایت کو پرزور کر سکتی تھی
    سینیٹ میں ناکامی سے پہلے وکلا کی تحریک، تاجروں کی تحریک، صنعتکاروں کی تحریک، مذہبی جماعتوں کی تحریک کا بھی حکومت مقابلہ کر چکی ہے جن میں سے تو کچھ ابھی بھی پنپ رہی ہیں لیکن ریاست کے فیصلوں کے آگے کسی کی نہیں چلے گی اگر اصلاحاتی ایجنڈا نامکمل رہا تو اس کا نقصان عوام کو ہی ہوگا جس کے نتیجے میں معاشی بدحالی کا دورانیہ بڑھ جائے گا اور اگر یہ معاملات درست سمت میں بوقت ضرورت چلتے رہے تو یہ دورانیہ زیادہ سے زیادہ ایک سال ہو گا جس کے بعد معیشت سنبھلنے لگے گی
    بہرحال کرپٹ اشرافیہ اور سیاسی مافیا کو کسی قسم کی چھوٹ کا فی الحال کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا ایک اور اہم بات آخر میں بیان کردوں کہ وہ حضرات جو جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت کے بارے میں قیاس آرائیاں کررہے ہیں وہ حوصلہ رکھیں “افراد” اداروں سے زیادہ اہم نہیں ہوتے، ابھی اتنا ہی کہوں گا۔

  • بھارتی آبی دہشتگردی سے بھاری زمین کٹاؤ ، ذمہ دار ورلڈبینک ۔۔۔ انشال راؤ

    بھارتی آبی دہشتگردی سے بھاری زمین کٹاؤ ، ذمہ دار ورلڈبینک ۔۔۔ انشال راؤ

    مردم شماری 2017 کے مطابق پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی دیہی ہے جن کا زریعہ معاش براہ راست یا بالراست زراعت سے وابستہ ہے اس کے علاوہ شہری آبادی کا بھی زراعت سے گہرا تعلق ہے پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، زراعت شماری 2010 کے مطابق پاکستان کی تقریباً سات کروڑ ایکڑ سے زائد اراضی قابل کاشت ہے جس میں سے تقریباً چار کروڑ ایکڑ سے زائد رقبہ آباد اور تقریباً تین کروڑ ایکڑ رقبہ پانی کی قلّت و دیگر وجوہ کی بنا پر غیرآباد ہے، پاکستان کی زراعت کا انحصار تین مغربی دریا سندھ، چناب، جہلم پر ہے جن کے منبع مقبوضہ کشمیر میں ہیں، جنت ارضی جموں و کشمیر تاریخی و جغرافیائی، مذہبی و ثقافتی جملہ اعتبار سے پاکستان کا جزولاینفک ہے اور آبی اعتبار کے نقطہ نظر سے پاکستان کی شہ رگ ہے جو تقسیم ہند کے بنیادی اصول یعنی مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شامل ہونگے کے مطابق قطعی طور پر پاکستان کا حصہ بنتے تھے مگر قادیانیت کی سازش سے بھارت نے غاصبانہ قبضہ کرلیا جس کے خلاف کشمیر کے مسلمانوں نے علم جہاد بلند کیا جن پاکستانی مسلمانوں نے دل و جان سے مدد کی، مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں کئی بار خونریز جنگیں ہوچکی ہیں، اس کے علاوہ دونوں ممالک میں شروع سے ہی پانی پر تنازعہ کھڑا ہوا جوکہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں ایک معاہدے کے تحت حل ہوا جس کے تحت تین مغربی دریا راوی، ستلج، بیاس پر بھارت اور سندھ، چناب، جہلم پر پاکستان کا حق طے پایا مگر بعد میں اس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوے بھارت نے پاکستانی دریاوں پر کنٹرول کرنا شروع کردیا اور کھلم کھلا آبی دہشتگردی کررہا ہے اس ضمن میں بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوے پاکستانی دریاوں پر بڑے پیمانے پر ڈیم بنارہا ہے، اس کے علاوہ انٹرنیشنل واٹر ٹریٹی 1970 کی خلاف ورزی کرتے ہوے ستلج، بیاس، راوی کا پانی روک رہا ہے اس عالمی معاہدے کے مطابق کسی بھی دریا کے زیریں حصے کا سو فیصد پانی نہیں روکا جاسکتا، بھارت سازش کے تحت بارشوں کے موسم میں ایک ساتھ پانی چھوڑ کر سیلابی صورتحال پیدا کردیتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو لاکھوں ایکڑ زراعت و دیگر مالی جانک نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کا زمہ دار عالمی بینک بھی ہے جو بھارت کو پاکستانی دریاوں پر ڈیم بنانے کی اجازت دے رہا ہے جسکے پاکستان پر سنگین اثرات پڑ رہے ہیں ہیں، جن میں صحت کے مسائل، سمندری حیات کو نقصان، جنگلات کی کمی، صحرازدگی، بڑے پیمانے پہ زمینی کٹاو، معاشی و جانی نقصان اور دیگر ماحولیاتی مسائل سرفہرست ہیں، بھارت صنعتوں کا زہریلا پانی اور زہریلے کیمیکل پاکستان میں ایک سازش کے تحت پانی میں چھوڑ کر بڑے پیمانے پر انسانی نسل کشی کا مرتکب ہے اور بھارتی ڈیمز کی تعمیر کے باعث چناب، جہلم اور سندھ جوکہ Meandering دریا ہیں بڑے پیمانے پر زمینی کٹاو کررہے ہیں جس سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کی تباہی ہوچکی ہے لاکھوں ایکڑ جنگلات ختم ہوچکے ہیں، کئی لاکھ خاندان متاثر ہوکر زریعہ معاش سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، دریائے زرد چین پر Sanmenxia Dam کی تعمیر کے باعث 1961 سے 1964 کے درمیان بڑے پیمانے پر Bank Erosion ہوا اور دوسری بار Xiaolangdi Dam کی تکمیل کے باعث 1998 سے 2004 کے درمیان بھاری زمینی کٹاو کا سامنا کرنا پڑا، دریائے ڈینیوب یورپ کا تاریخی و مشہور دریا ہے جسے ہنگری نے navigational اور سیلابی کنٹرول کے مقاصد کے حصول کے تحت modify کیا جس کے نتیجے میں بلغاریہ، سربیا وغیرہ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، دریائے نیل نے انسانی سرگرمیوں کے زیر اثر مصر میں خوب تباہی مچائی، ان نقصانات کے پیش نظر یورپی ممالک سمیت عالمی سطح پر اب اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ دریاوں کے قدرتی بہاو کو زیادہ نہ چھیڑا جائے اور دوبارہ بحال کیا جائے جبکہ بھارت وہ ملک ہے جس کے دریا پہ کنٹرول کے خواب کے باعث پاکستان میں بڑے پیمانے پر لوگ اپنی زرعی اراضی سے محروم ہورہے ہیں دریائے سندھ نے گھوٹکی، راجن پور، مظفر گڑھ کلور کوٹ جھنگ اور دیگر بہت سے اضلاع میں بڑے پیمانے پر زمینی کٹاو کیا ہے، دریائے جہلم اور چناب آج کل وسیع پیمانے پر زمینی کٹاو کررہے ہیں، ملتان ڈویژن کے علاقوں میں لوگ اپنی بےبسی پر رورہے ہیں کیونکہ چناب نے ہزاروں ایکڑ رقبہ کا کٹاو کردیا ہے جوکہ بھارتی آبی دہشتگردی کے باعث ہورہا ہے، نتیجتاً لاکھوں افراد کا زریعہ معاش ختم ہونے کے ساتھ ساتھ بھاری غذائی و زرعی نقصان بھی ہوا ہے، اب سے پہلے پاکستان کے پالیسی سازوں اور حکومتوں نے سنگین غفلت اور غیرزمہ داری کا مظاہرہ کیا جس سے پاکستان کو نہ صرف پانی کی کمی کا سامنا ہے بلکہ ہر سال بھاری نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے، موجودہ حکومت کو پہلی فرصت میں سنجیدگی کے ساتھ بھارتی دہشتگردی اور ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی دنیا کے سامنے رکھنی چاہئے، تمام متعلقہ تنظیموں کو رپورٹس دینی چاہئے اور ان کے اشتراک سے یا عالمی ماہرین کو طلب کرکے بھارتی دہشتگردی کو دنیا کے سامنے رکھنا چاہئے، ورلڈ بینک کی طرف سے بھارت کو ڈیمز کی تعمیر کی اجازت جوکہ میرٹ اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے صرف لابنگ کی بنیاد پہ دی گئی، اس سازشی اجازت کو عالمی عدالت میں فوری طور پہ چیلنج کرکے ورلڈبینک کو بھی گھسیٹے اور ہرجانے کا دعویٰ دائر کرے، عالمی سطح پر مہم چلا کر بھارتی دہشتگردی کو بےنقاب کرے جو آگے چل کر خونریز جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔

  • عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.

    یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.

    سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.

    لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.

    اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.

    متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.

    جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.

    عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.


    عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا.

    Muhammad Abdullah

  • عمران خان کامیاب دورہ امریکہ اور بھارت کا ردعمل — تبریز احمد ممریز ایڈووکیٹ

    قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے سربراہان کی طرف سے امریکہ کے درجنوں دورے کیے جاچکے ہیں. جن سے امریکہ پاکستان تعلقات میں اتارچڑھاؤ کی صورت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.
    کبھی پاکستانی وزیر اعظم کو واشنگٹن لانے کے لیے ذاتی طیارے بھیجے جاتے. کبھی افغانستان میں Do More کی پالیسی پر زور دیا جاتا، کبھی ایڈ نہ دینے کی دھمکی دی جاتی. اور آج یہ حالت کہ عمران خان کا واشنگٹن میں تاریخی اور غیر معمولی جلسے کا انعقاد اور امریکی صدر کی عمران خان کی تعریف کرنا، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سراہنا اور کشمیر کے ایشو پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرنا شامل ہیں.
    مگر اصل بات یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کامیاب رہا یا پھر گزشتہ ادوار کی طرح قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا. ویسے تو اس دورے کی کامیابی، ناکامی یا ردعمل کا آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا.
    مگر میرے نزدیک پاکستان کے کسی بھی قومی یا عالمی رویئے یا واقعہ کے بارے میں اندازہ لگانے کے لئے بھارت اور بھارتی میڈیا کا اہم کردار رہا ہے. میں سمجھتا ہوں کہ دور امریکہ کی کامیابی کا اندازہ لگانے والا صحیح پیمانہ بھارتی میڈیا ہے کیونکہ بھارتی میڈیا بھارتی سرکار کی زبان طوطے کی طرح بولتا ہے
    وزیر اعظم عمران خان کے وائٹ ہاؤس کے دورے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات میں سب سے بڑی پیش رفت جو رہی ہے وہ مسئلہ کشمیر میں امریکہ کا ثالث کا کردار ہے. جو میرے نزدیک ایک اچھی پیش رفت ہو گی. قیام پاکستان سے لے کر اب تک ان 72 سالوں میں بھارت اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جو رہا ہے وہ مسئلہ کشمیر ہے. جس پر بھارت نے ہمیشہ ڈبل پالیسی کا سہارا لیا ہے.
    وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں بڑا انکشاف جو صدر ٹرمپ نے کیا وہ بھارت کی دوغلی پالیسی کا پردہ چاک کر دیا. بھارت نے ہمیشہ عالمی سطح پر یہ ہی واویلا مچایا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے کشمیر کے مسئلہ پر کسی ثالث یا تیسرے ملک کا کردار نہیں چاہتا جبکہ کل صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب سے چند روز قبل G20 کے سالانہ اجلاس میں مودی نے صدر ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ہماری مصلحت اور کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کریں.
    مگر دوسری طرف آج بھارتی میڈیا ہے جو نہ صرف مسئلہ کشمیر پر امریکہ کا ثالث کے کردار پر رو رہے ہیں بلکہ اک عالمی طاقت امریکہ کے اس عمل کو جھوٹا اور غلط بول رہے ہیں.
    جس پر نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی واویلا مچا ہوا ہے.
    جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرانے کی پیشکش کی تو بھارتی ذرائع ابلاغ میں کہرام مچ گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بھارتی ٹی وی چینل نے تو سرخی لگا دی کہ (امریکہ نے بھارت پر کشمیر بم گرادیا ہے۔) بھارتی سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے ڈالے جانے والے بے سر و پا شور شرابے سے مجبور ہوکر بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی بھی امریکی صدر سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی ہے۔انہوں نے گھسا پٹا روایتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تمام درپیش مسائل پر صرف دو طرفہ بات چیت ہوسکتی ہے.
    مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ مودی جن کا شمار دنیا کے سوشل میڈیا کے فعال ترین صارفین میں ہوتا ہے وہ اب تک اپنے یا امریکی صدر کے بیان پر چپ کا سہارا لیے بیٹھے ہیں. جس سے بہت زیادہ نئے سوالات جنم لے رہے ہیں.دلچسپ امر ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی رواں سال ستمبر میں امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں۔

    دوسری جانب کشمیر میں پاکستان کے امریکہ میں ایسے عمل کو ایک مثبت قدم جانا گیا ہے. بزرگ کشمیری رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ہے۔سید علی گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا اور ہم امریکہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا کی ہرزہ سرائی کے سوال و جواب اور مودی کی خاموشی کیا رنگ لاتی ہے. اور ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوشش کیا اثر دکھاتی ہیں.
    میری تو دعا ہے کہ کشمیریوں کے لئے یہ دورہ امریکہ اور پاکستانی کوشش رنگ لائیں. اور کشمیریوں کے لیے ایک روشن اور آزاد صبح کی نوید ثابت ہو.

    خدا کرے میرے ارض پاک پر اترے

    وہ فصل گل جسے اندیشہ۶ زوال نہ ہو

    ایڈووکیٹ تبریز احمد ممریز

  • اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم

    اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم

    پاکستان میں 2018 کے الیکشن میں برسر اقتدار آنے والی جماعت پی ٹی آئی کو اقتدار سنبھالے ہوئے جولائی 2019 میں ایک سال مکمل ہو گیا ۔
    پی ٹی آئی ایک ایسی جماعت ہے جسے نوجوانوں کی جماعت سمجھا جاتا ہے ۔
    پاکستانیوں کی اکثریت نے اس جماعت کو نجات دہندہ سمجھا ہوا ہے ۔کیونکہ اس کے سربراہ عمران خان ہیں جو دنیائے کرکٹ میں ایک بڑا نام ہونے کے ساتھ پاکستان کو اپنی کپتانی میں ورلڈ کپ جتوانے والے تو اس کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ کینسر ہسپتال قائم کرنے والی شخصیت ہیں جہاں غرباء کا مفت علاج بھی ہوتا ہے ۔عمران خان پاکستان کی عوام میں سیاست سے پہلے ہی ہیرو کے طور پہ جانے جاتے ہیں سو لوگوں کو ان سے سیاست میں بھی ہیروئیک کردار کی توقع ہے ۔
    وہ ان سے ملک کے تمام مسائل کے خاتمے کی توقع رکھتے ہیں ۔
    یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر اچھے کام کو بہت زیادہ سراہا جاتا ہے لیکن اگر کوئی کام غلط لگے تو بھی ان کے کارکنان اسے بھی صحیح بنا کر پیش کرنے کی پوری تگ و دو کرتے ہیں ۔
    عوام سمجھتی ہے کہ ملک سے ‘مہنگائی ‘کرپشن ‘دہشت گردی ‘لوٹ مار غرض تمام برائیاں عمران خان صاحب ختم کر دیں گے۔
    اس حکومت نے بہت بڑے بڑے فیصلے کئے خو انتہائی مشکل بھی تھے ۔
    ان میں سے ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے کرپشن کیسز بنانا اور ان کے سربراہان کی گرفتاری بھی شامل ہے ۔
    نواز شریف اور آصف علی زرداری دو بڑے لیڈد جنھیں پکڑنا کسی دیوانے کا خواب لگتا تھا اس حکومت نے پورا کر کے سب کو حیران کردیا ۔
    عمران خان کسی ضدی بچے کی طرح تمام کرپٹ لوگوں سے پیسہ نکلوانے پہ مصر ہیں اور کسی قسم کا کمپرومائز کرنے پہ تیار نہیں ۔
    عوام کی اکثریت ان کے اس کارنامے پہ خوش ہے ۔
    دوسرا کارنامہ خان صاحب کا بیرون ممالک میں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قانون بنانے کا مطالبہ ہے ۔عوام اس کارنامے پہ انھیں ایک اچھے مسلمان کے طور پہ دیکھتی ہے ۔
    خان صاحب کے اچھے کاموں کے ساتھ کچھ ایسے کام بھی تھے جو عوام میں ناپسندیدہ تھے جن میں معاشی بدحالی مہنگائی ‘آسیہ مسیح کی رہائی پہ تو عوام کی اکثریت تڑپ اٹھی ۔
    اس کے علاوہ ملک کی ایک محب وطن جماعت ‘جماعت الدعوہ کو بین کرنا ‘ اور کچھ عرصے بعد اس جماعت کے امیر حافظ محمد سعید صاحب کی گرفتاری یہ ایسے امور ہیں جن پر عوام کا شدید رد عمل سامنے آیا۔
    سوشل میڈیا پہ عمران خان کو زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔
    کیونکہ حافظ سعید صاحب پہ جو دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا وہ بے بنیاد ہے ۔
    حافظ سعید صاحب ایک محب وطن پاکستانی، عالم دین اور پرامن شہری ہیں ۔ان پہ ممبئی حملوں کا جو الزام ہے وہ تو ایک جرمن صحافی بھی ثبوتوں کے ساتھ بتا چکا ہے کہ وہ بھارت کا خودساختہ ڈرامہ تھا ۔
    خان صاحب کے کچھ وزرا بھی اپنی وزارت کو چلانے میں ناکام رہے جن کی خان صاحب کو چھٹی کروانی پڑی ۔
    البتہ حال ہی میں کیے گئے امریکی دورے میں خان صاحب کا وی آئی پی مہنگے طیارے کی بجائے عام طیارے کا استعمال ‘مہنگے روزانہ لاکھوں کے کرائے کے ہوٹل میں قیام کی بجائے پاکستان کے سفارت خانے میں قیام ‘اور امریکی صدر سے دوٹوک بات کرنا اور امریکی صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش کے اظہار کی وجہ سے خان صاحب پھر عوام کہ آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں ۔
    امید ہے خان صاحب کی حکومت پاکستان کو تمام چھوٹے بڑے مسائل سے نکال کر ‘کرپِشن کا پیسہ واپس لا کر اور سی پیک کا منصوبہ مکمل کر کے عوام کی امیدوں پہ پورا اترے گی ۔

  • انتخابات 2018 ء پس منظر سے پیش منظر ۔۔۔ خنیس الرحمان

    یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں الرباط ویب سائٹ چلایا کرتا تھا. ندیم اعوان بھائی معروف ٹورسٹ ہیں ان کے توسط سے فاروق اعظم بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے گیا تھا وہاں کی یادوں کو میں نے قلمبند کیا ہے تو آپ اس سفر نامے کو اپنی ویب سائٹ پر لگادیں میں نے بخوشی لگانے کی حامی بھر لی اور وقفے وقفے کے ساتھ 7 قسطوں پر مشتمل ان کا سفر نامہ حرمین ویب سائٹ پر لگا دیا. فاروق بھائی کا لکھنے کا انداز اور ضبط تحریر انتہائی شاندار تھا. گزشتہ چند ہفتے قبل انہوں نے فیس بک پر ایک کتاب کی تصویر لگائی انتخابات 2018ء پس منظر سے پیش منظر تک جب میں نے نیچے مصنف کا نام دیکھا تو وہ فاروق بھائی ہی کی تصنیف تھی. میں نے فوری فاروق بھائی سے ایک کتاب بھیجنے کا کہا, تقریباََ تین دن بعد کتاب خوبصورت سرورق میں میرے ہاتھوں میں تھی اور کتاب پہنچنے کی ان کو اطلاع دی ساتھ ہی شکریہ بھی ادا کیا. کتاب تو میں نے ایک ہی دن میں پڑھ ڈالی.کتاب کے حوالے سے بات کرنے سے قبل میں فاروق بھائی کے حوالے سے بتاتا چلوں.فاروق اعظم بھائی کا تعلق کراچی سے ہے اور سیاسیات کے طالب علم ہیں, انہوں نے 2014ء میں جامعہ کراچی سے سیاسیات میں بی اے آنر کیا اور 2015 ء میں ایم اے سیاسیات مکمل کیا.اس کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا ممنواتے رہے. فاروق اعظم بھائی آج کل جامعہ کراچی میں شعبہ سیاسیات میں بطور تحقیق کار وابستہ ہیں.
    اب چلتے ہیں فاروق بھائی کی تصنیف کی طرف انہوں نے اس کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے .کتاب کا مقدمہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر مشتمل ہے یعنی انہوں نے مختصر مگر جامع انداز میں پاکستان کے 1947 ء سے 2013 ء تک کے انتخابات کے حوالے سے لکھا. انہوں نے کتاب کا پہلا حصہ انتخابات کا پس منظر کے عنوان سے ترتیب دیا ہے اس میں انہوں نے سب سے پہلے انتخابات کا پس منظر کہ کون کون سی جماعت مد مقابل تھی, کونسی نئی جماعت اور چہروں نے انتخابات میں حصہ لیا, جو مذہبی جماعتیں الیکشن کو درست نہیں سمجھتی تھیں ان کا انتخابات میں حصہ لینا اور نمائندگان کو درپیش مسائل اور جو نااہل ہوئے کس بنیاد پر ہوئے ان وجوہات پر روشنی ڈالی اس کے علاوہ جو انتخابات کے دوران خونریزی دھماکے ہوئے اور کون کون سے سیاستدان شکار ہوئے اس حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کیا .جو کتاب کا دوسرا حصہ ہے اس میں انہوں نے نتائج کے حوالے سے لکھا کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج میں کن جماعتوں نے اپنی بہتر کارگردگی دکھائی, کون کون سے بڑے برج الٹے اور کون سے نئے چہرے سامنے آئے, انہوں نے ہر صوبے کے حوالے سے الگ الگ نتائج اور کارگردگی کو سامنے رکھ کر زبردست رپورٹ مرتب کی, اس میں انہوں نے ووٹوں کی تعداد اور جماعتوں کے ووٹ بنک کا خاکہ الیکشن کمیشن اور دیگر ذرائع کی رپورٹ کے مطابق ترتیب دیا. جو کتاب کا تیسرا حصہ ہے اس میں انہوں نے حکومت سازی کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح سے کلین سویپ کرنے والی جماعت نے وفاق میں اپنی حکومت قائم کی اور دیگر صوبوں میں کس طرح کن جماعتوں نے اپنی حکومت قائم کی, وزیر اعظم, وزرائے اعلی کے انتخابات کے حوالے سے بتایا اس کے علاوہ ممبران کابینہ وفاق اور صوبائی اسمبلیوں کے نام بمع وزارت لکھے . اس میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ فاروق بھائی نے کتاب پہلے ترتیب دی اس لیے 9 ماہ کے اندر حکومت نے وفاق اور صوبائی اسمبلیوں میں کئی چہروں کو ان کی غیر مناسب کارگردگی کی بنیاد پر ہٹا کر نئے چہرے سامنے لائے کچھ کی وزارت تبدیل کی گئی, اس کے بعد اس حصہ کہ آخر میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب پر روشنی ڈالی. اب کتاب کا جو چوتھا حصہ ہے اس میں انہوں نے صدارتی انتخابات کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح کن جماعتوں نے کس لیڈر کو چنا اور اپوزیشن کا صدر کے انتخاب کے لئے نمائندہ منتخب کرنے میں اختلاف کے حوالے سے بتایا اور صدارتی انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالی اس کے بعد صدر عارف علوی کے خطاب پر روشنی ڈالی اور انہوں نے صدر صاحب کے خطاب سے متعلق کہا کہ اگر اس کا موازنہ وزیراعظم کے خطاب سے کیا جائےتو غلط نہ ہوگا. اس کے علاوہ صدارتی اختیارات کے حوالے سے انہوں نے پرانے صدور اور حال پر نظر ڈالی. جو کتاب کا آخری حصہ ہے اس میں انہوں نے ضمنی انتخابات کو سامنے رکھا.
    اس کتاب سے متعلق میں نے کچھ ساتھیوں سے تذکرہ کیا تو وہ کہنے لگے انٹر نیٹ کے دور میں اس کتاب کی ضرورت نہیں تھی میں سمجھتا ہوں جو کچھ فاروق بھائی نے لکھا وہ آسانی سے کسی بھی ویب سائٹ سے نہیں مل سکتا کیونکہ انہوں نے خود انتخابات کے دوران کوریج میں حصہ لیا اور اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سارا احوال لکھا جو کہ ایک سیاسیات کے طالب علم کا بہت بڑا کارنامہ ہے. میں حکومت اور تعلیمی اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو تاریخ پاکستان کے حوالے سے نصاب میں شامل کیا جائے اور تمام لائبریرین اس کو اپنی لائبریری کی زینت بنائیں کیونکہ نا اس میں کسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا نا کوئی انکشافات کیے گئے بلکہ انہوں نے تاریخ پاکستان کی ایک ضرورت کو مکمل کیا۔

  • وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟  … رضی طاہر

    وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟ … رضی طاہر

    وضاحت : کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے، گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو آئینہ دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئی کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور اعلانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں ظلم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا بیان بھارتی موقف کی پسپائی ہے۔ جبکہ پاکستان کی بھارت کے خلاف مسلسل پانچویں فتح ہے۔

    1۔ پہلی فتح : بھارتی طیارے گرانا اور بزدلانہ کاروائی کا منہ توڑ جواب

    2۔ دوسری فتح : بھارتی فنڈنگ کے باوجود قبائلی علاقہ جات میں بھارت کے ہر ہتھکنڈے کو الیکشن اور بیلٹ کے ذریعے شکست دینا، پی ٹی ایم کی ناکامی

    3۔ تیسری فتح : کلبھوشن کو عالمی عدالت سے رہائی نہ ملنا اور عالمی عدالت کا کلبھوشن کے دہشتگرد ہونے پر مہر ثبت کرنا

    4: چوتھی فتح : بلوچستان کو لے کر بھارتی پروپیگنڈے کا اپنی موت آپ مرنا اور بی ایل اے کو عالمی دہشتگرد قرار دیئے جانا۔

    5۔ پانچویں فتح: امریکی صدر کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ ماننا اور ثالثی کی پیشکش کرنا۔


    رضی طاہر

  • FATF کو لے کر جذباتی نہ ہوں …. رضی طاہر

    FATF کو لے کر جذباتی نہ ہوں …. رضی طاہر

    میں حافظ سعید صاحب کو دہشتگرد نہیں سمجھتا، نہ وہ ہیں، نہ ہی واویلا کرنے والے انڈیا کے پاس ان کے خلاف کوئی رتی برابر بھی ثبوت ہیں، وہ پاکستان سے محبت کرنے والے رہنما ہیں، ان کے فلاحی کام ان کی خدمات اور خصوصا کشمیر کاز کیلئے ان کی کاوشیں بے مثال ہیں، اس وقت میں اپنی ریاست کے ساتھ کھڑا ہوں اور ریاست کی بدلتی پالیسی کو گزشتہ کئی سالوں سے دیکھ اور سمجھ رہا ہوں، نہ صرف میں بلکہ انکی جماعت کی قیادت بھی احتجاج کی جانب نہیں جارہی اور وہ بھی ریاست کو مقدم رکھے ہوئے ہے۔ جیسے جیسے حالات بدل رہے ہیں پاکستان غیر ریاستی قوتوں/ فورسز کو قومی دھارے میں شامل کررہا ہے اور کچھ انتہاپسندی کی جانب مائل قوتوں کو ختم کیا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کے موقف کو پہلے کی نسبت پذیرائی مل رہی ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا پالا جس ناپاک دشمن سے ہے وہ طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے، کلبھوشن جیسے دہشتگرد بھیجتا ہے مگر اسے سبق سکھانے کیلئے اب حکمت عملی سفارتی محاذ پر طے ہے اور میدان جنگ میں پاک فوج ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہے۔ داخلی، خارجی سیکیورٹی سے متعلق ریاست کے ادارے چلانے والی قیادت سمجھتی ہے کہ ہماری معیشت بلیک لسٹ ہونے کی متقاضی نہیں ہوسکتی۔ اسلئے ہم FATF کو لے کر جذباتی نہیں ہوسکتے، نہ ہی کوئی جذباتی فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے ہمیں تحفے میں قرضوں کی صورت میں غلامی دی ہے اس سے نکلنے میں وقت لگے گا۔ لہذا حافظ صاحب جیل کے باہر تھے تو بھی پاکستان کیلئے اور اگر اب جیل میں بھی ہیں تو بھی پاکستان کیلئے ہیں۔

    رضی طاہر

  • کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا کلبھوشن یادیو کو قانون نافذکرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات لگے ۔ کلبھوشن یادو عرف مبارک حسین پٹیل نے ان تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا۔ جس پر کلبھوشن کوفوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ شروع میں تو بھارت کلبوشن کی گرفتاری پر لاتعلقی کا ظاہر کرتا رہا۔ اور اسے اپنا شہری تک تسلیم کرنے سے انکاری رہا۔ پھر جب پاکستان نے ٹھوس ثبوت پیش کیے ۔ کلبوشن کا ویڈو پیغام سامنے آیا کہ وہ بھارتی نیوی کا سرونگ افسر ہے اور را کے خفیہ مشن پر پاکستان کا امن و امان برباد کرنے کیلئے خفیہ طور پر جعلی نام سے پاکستان میں سرگرم ہے تو بھارت کو کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کالا ہوتا نظر آیا ۔ پھر بھارت نے تسلیم کیا کہ ۔ کلبوشن بھارتی شہری اور بھارتی نیوی کا سابق کارندہ ہے۔ اس کے بعد بھارت بھاگا بھاگا عالمی عدالت جا پہنچا ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی ۔ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف تین اعتراضات پیش کیے پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن جعلی نام پر پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو تا رہا ۔ بھارت کلبھوشن کی شہریت کا ثبوت دینے میں بھی ناکام رہا ۔ جبکہ کلبوشن پاکستان میں جاسوسی اور دہشتگردی کی کاروائیوں میں بھی ملوث رہا۔ اور ان واقعات میں کئی پاکستانی خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کا موقف انتہائی مضبوط تھا۔ کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان کو 3/1 سے فتح حاصل ہوئی ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کیلئے مندرجہ ذیل چار چیزیں مانگی تھیں۔
    قونصلر رسائی
    جاسوسی اور دہشتگردی کے الزامات سے بریت
    سول کورٹ میں ٹرائل
    کلبھوشن کی بھارت کو حوالگی
    عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں بھارت کو چار میں سے صرف ایک چیز دی ہے۔ عدالت نے کلبھوشن تک بھارت کو قونصلر رسائی کا حق دیا ہے۔عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد بھارتی جاسوس پاکستان کے پاس ہی رہے گا اور یہیں اس کے کیس پر نظر ثانی کی جائے گی جو کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار ہے۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر نظر ثانی کا کہا ہے لیکن یہ حکم نہیں دیا کہ اس کا ٹرائل بھی دوبارہ ہوگا اور نہ ہی ری ٹرائل کیلئے سول کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ صرف اس کی سزائے موت پر نظر ثانی کا کہا ہے۔ آج عالمی عدالت کے فیصلے کے پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ کلبوشن یادو ہندوستان کا جاسوس بیٹا ہے۔ جو امن پسند ملک پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہو ئے پکڑا گیا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑ ہے مانگا انھوں نے کچھ تھا اور ملا کچھ ہے ؟ آج ریاست پاکستان ۔ اداروں اور پاکستانی قوم کی فتح کا دن ہے۔

    ویسے تو بھارت کی مکاری کی مثالیں تاریخ کے صفحات پہ درج ہیں۔ بھارت ہمیشہ دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کی کوششیں کرتا رہا ہے مگر اس بار اس کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں ۔ بھارتی حکومت اپنے ہی عوام کو بھی الو بنا رہی ہے ۔۔ کہ ہم کیس جیت گئے۔ جیت کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    بھارتی میڈیا بھی فیصلے کو بھارت کی فتح قرار دیتے ہوئے بغلیں بجانے میں مصروف ہے ۔ جیسا پہلے وہ جھوٹی سرجیکل سٹرائکس میں خوشی سے پاگل ہو گئے تھے۔ پھر جب ہم نے ان کا ابھی نندن پکڑا تو عقل ٹھکانے آئی۔ اور بھارتی میڈیا نے رنگ بدلتے ہوئے انسانی ہمدردی کا راگ الاپنا شروع کیا۔ اب ایک بار پھر بھارتی میڈیا نے مودی کو سر پر بیٹھا لیا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اب سب پر عیاں ہوچکا ہے کہ بھارت ۔ اسکی ایجنسیاں اور ادارے دوسرے ملکوں میں دہشتگردی اور جاسوسی کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ بھارت پورے خطے اور ہمسائے ممالک کوdestablize کررہا ہے ۔
    We exposed india internationally & caught their monkey red handed
    آج پاکستان کو عالمی عدالت۔ اقوام عالم اور سفارتی سطح پر ایک بڑی فتح حاصل ہوئی ہے۔ انشااللہ وہ دن دور نہیں جب بھارت کو کشمیر کے مقدمہ میں بھی شکت فاش ہو گی ۔
    پاک فوج زندہ باد ۔۔۔
    پاکستان زندہ باد ۔۔۔
    دشمنان وطن مردہ باد ۔۔۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

    ‎@naveedsheikh123

     

     

     

     

     

  • حافظ سعید محب وطن یا ملک دشمن ؟؟ صالح عبداللہ جتوئی

    حافظ سعید محب وطن یا ملک دشمن ؟؟ صالح عبداللہ جتوئی

    خدمت انسانیت کی بدولت میں بچپن سے ایک بندے کا فین ہوں جس نے دین کی پرچار بھی خوب کی اور انسانیت کی خدمت بھی بلاتفریق سرانجام دی خواہ ہندو ہو یا سکھ عیسائی ہو یا مسلمان چھوٹا ہو یا بڑا سب ان کی خدمت اور محبت کے گرویدہ ہیں.

    انہوں نے کبھی بھی فرقہ پرستی فتنہ و فساد کی لہر کو ہوا نہیں دی بلکہ ایسی چیزوں کا رد کیا ہے اور مسلمانوں کو ایک ہو کے اسلام کی تعلیمات پہ عمل پیرا ہونے کی تلقین کی ہے.

    سادہ لباس والے منہ پہ داڑھی سجاۓ یہ معصوم لوگ جن کے پاس انسانیت کی خدمت کے علاوہ کوئی پہچان نہیں ان کو محض دوسروں کی خوشنودی کے لیے بار بار بین کر دیا جاتا ہے اور وہ ہمیشہ اپنے رب پہ بھروسہ رکھتے ہوۓ صبر و استقامت کا دامن مضبوطی سے تھام لیتے ہیں.

    یہ واحد جماعت اور شخصیت ہے جنہوں نے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکی اور اس تحریک کو جاری و ساری رکھتے ہوۓ مزید تقویت بخشی جس کی وجہ سے کشمیری بھی ان سے بے پناہ محبت کرنے لگ گئے.

    یہ وہ جماعت ہے جو تھر کے ریگستانوں میں بھی بلکتے بچوں کا سہارا بن جاتے ہیں اور ان کو راشن مہیا کرتے ہیں حالانکہ تمام وسائل ہونے کے باوجود وہاں کی گورنمنٹ تمام وسائل کو اپنی عیاشیوں اور مے کدوں کی نظر کر دیتے ہیں اور باتیں بناتے ہیں وہ خدمتگاروں پہ.

    مجھے اپنے انتخاب پہ فخر بھی وتا ہے اور حیرانگی بھی بہت ہوتی ہے کہ یہ کیسے لوگ ہے جن پہ جب بھی کوئی پابندی لگتی ہے الزام لگتے ہیں کیس بنتے ہیں یا نظر بندیاں اور پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی گالی گلوچ والا سین نہیں ہوتا اور نہ ہی سڑکیں بند ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ اپنا سامان بھی سرکاری تحویل میں لینے والوں کی گاڑیوں میں خود رکھواتے ہیں.

    اس ملک میں جو بھی مصائب آۓ چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب آندھی ہو یا طوفان انہوں نے بغیر سرکاری وسائل کے قوم کی خوب اچھے طریقے سے خدمت کی اور ان کو راشن پہچانے کے ساتھ ساتھ ان کو گھر بھی تعمیر کر کے دیے.

    بلوچستان میں ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے میں حافظ سعید کا بہت بڑا کردار رہا ہے ان کی وجہ سے بلوچستان میں بھی پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا.

    یہ وہی حافظ سعید ہیں جنہوں نے سب سے پہلے فتنہ و فساد پھیلانے والے تکفیری طالبانوں (داعش و ٹی ٹی پی) کو دہشت گرد قرار دیا اور اس پہ کئی کتابوں کو بھی شائع کروایا.

    محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے انہوں نے کبھی بھی توڑ پھوڑ والا راستہ نہیں اپنایا بلکہ اپنے تمام کارکنان کو بھی پرامن رہنے کی تربیت بھی دی اور کسی قسم کا کوئی جلاؤ گھیراؤ کرنے سے بھی منع کیا.

    ایک بے قصور آدمی جس کا جرم صرف اور صرف انسانیت کی خدمت ہے اور اسے بار بار بین کر دیا جاتا ہے لیکن پھر جب کوئی ثبوت نہیں ملتا تو عدالتیں کئی دفعہ اس کو کلین چٹ دے چکی ہیں کیونکہ ان کا کوئی جرم تو نہیں ہے کوئی تو پھر بار بار کیوں پابندی لگا دی جاتی ہے کیوں کفار کو خوش کر کے محب وطن پاکستانیوں کو تنگ کیا جاتا ہے ہم دوسروں سے بناتے بناتے اپنوں سے ہی بگاڑ رہے ہیں آخر کیوں؟

    گھر کی خاطر
    سو دکھ جھیلیں
    گھر تو آخر اپنا ہے

    بے قصور ہونے کے باوجود اس بندے نے کبھی بھی ریاست سے ٹکرانے توڑ پھوڑ فتنہ و فساد کا کبھی نہیں سوچا کیونکہ یہ محب وطن پاکستانی ہیں ان کا مقصد خدمت ہے اور یہ کام نہیں رکے گا اور پاکستان ترقی بھی کرے گا لیکن پھر بھی بتا دیں کیا جرم ہے ان کا؟

    زندگی کاٹی ہے جبر مسلسل میں
    نا جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    خدمت انسانیت اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے یہ پابندیاں پکڑ دھکڑ سب عارضی ہیں ان شاء اللہ یہ جماعت اور حافظ سعید ہمیشہ کی طرح عدالتوں سے رجوع کریں گے اور ہمیشہ کی طرح سرخرو بھی ہوں گے کیونکہ یہ ملک کو توڑنے والے اور ریاست سے ٹکرانے والے نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اپنی فوج کو للکارا ہے یہ تو امن کے داعی ہیں اور پاکستان کا نام روشن کرنے والے ہیں.

    دوسری طرف جو سیاستدان جیلوں میں قید ہیں انہوں نے اقتدار کی آڑ میں اس ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے کرپشن ہو یا غداری چوری ہو یا بغاوت سب جرم کیے ہیں انہوں نے کبھی یہ اداروں سے ٹکراتے ہیں کبھی عدالتوں سے اور کبھی اپنی ہی فوج پہ گولیاں چلا دیتے ہیں اور کونسا ایسا کام ہے جو انہوں نے اس ملک کے خلاف نہ کیا ہو؟

    کیا چوروں کرپٹ لوگوں اور غنڈوں کا انسانیت کے خدمتگاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟
    بالکل بھی نہیں کیونکہ ہمیں پاکستان سے محبت کرنے والوں سے محبت ہے اور اس کے دشمنوں سے سخت دشمنی ہے.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین
    پاکستان پائندہ باد