خبرہےکہ سمندرسےتیل،گیس نہیں نکلا
دوسری خبرہےکہ پاک فضائیہ اور نیوی نےآفشور ڈرلنگ پوائنٹ کی سکیورٹی سنبھال لی ہے۔ ماجراکیاہے؟
یہ تو طے ہے کہ اندر کھاتے وہ ہو چکا جو دنیا کے چودہ طبق روشن کر دینے کو کافی ہے
ہاں البتہ حکومت کی طرف سے حکمت کے تحت دانستہ منفی خبریں دی جا رہی ہیں
اگر آپ غور کریں تو صاف سمجھ آجاتی ہے کہ جیسے ہی پاکستان نے ڈرلنگ کا عمل شروع کیا اور کچھ حوصلہ افزاء خبریں ملنا شروع ہوئیں تو امریکہ نے ایران کے ساتھ پھڈا ڈال کر اس قدر سرعت کے ساتھ فوج اور بحری بیڑے حرکت میں لائے کہ مورخ حیران و پریشاں رہ گیا، مورخ کا کہنا ہے کہ ٹائمنگ بہت عجیب ہے ایک بار پھر سے ہمیں مرحوم جنرل حمید گل کے الفاظ پر غور کرنا ہوگا کہ افغانستان بہانہ ہے پاکستان نشانہ ہے، بس اب افغانستان کی بجائے ایران لکھ لیں، اب کی بار ایران بہانہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے اور امریکی افواج کا حرکت میں آنا دراصل پاکستان کو تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت یا دریافت کے اعلان سے روکنے کی خاطر ہے جبھی تو پاکستان نے دانستہ 14 ارب ڈالر کے ضیاع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ
*تیل کوئی نئی جے نکلیا*
ایسا کہہ کر دراصل پاکستان نے ایک نیو کلیئر جنگ کو ٹالا ہے
جبکہ لنڈے کے دانشوروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے کہ قوم کا پیسہ ضائع کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ
ایسے لوگوں کو پاکستانی کہلانے کا کوئی حق نہیں دیا جا سکتا کیونکہ دراصل ہائبرڈ وار کے یہی وہ ہراول ہیں جو کسی بھی ملک میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا کر کے دشمن کو دعوت طعام دیتے ہیں تاکہ وہ خانہ جنگی کے شکار ملک میں آکر ہر قسم کے وسائل پر قابض ہو سکے
یقین نہ آئے تو عراق، شام، مصر، لیبیا کی مثالوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جہاں عوام ہی کے ہاتھوں وہاں کی حکومتوں کو گرا دیا گیا
اور پاکستان میں عوام کو مشتعل کرنے کا فریضہ یہی لنڈے کے دانشور انجام دے رہے ہیں
بھائی اگر تیل و گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہویے تو کیا ہوا
دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ تیل دریافت کرنے والے ممالک نے 17 سے زائد بار کوششیں کیں تب جا کر یہ ذخائر دریافت ہویے اور پاکستان میں پہلی ناکام کوشش کو لے کر طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا ہے
لیکن حقیقت تو عیاں ہو چکی ہے کہ امریکی افواج کیوں موو کر رہی ہیں؟ اگر تیل و گیس کے بہت بڑے ذخائر دریافت نہ ہوئے ہوتے تو امریکی افواج بھلا کیوں موو کرتیں، اور پردہ داری کی خاطر سعودی تیل کے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران اور سعودیہ کو آپس میں الجھا کر کسی ایک کی مدد کی خاطر خطے میں آمد کو جواز فراہم کیا جا سکے
اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا کہ قوم زیادہ سے زیادہ دعا کریں اور نوافل ادا کریں اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ کس طرف اشارہ ہے؟ یقینا آسمانی مدد کی طلب کی خاطر، کیونکہ پاکستان سے جو خزانہ نکلا ہے وہ دنیا کو ہضم نہیں ہو پا رہا جبھی تو اس قدر شور برپا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی، اب پاکستان حقیقتا ڈبل گیم کر رہا ہے پہلے امریکہ کو مارتا تھا مانتا نہیں تھا اب ذخائر دریافت کر چکا ہے اور مان نہیں رہا
یاد رکھیے گا کہ پاکستان نے دنیا کی دم پر پاوں رکھ دیا ہے جس کی سب سے زیادہ تکلیف امریکہ بہادر کو ہے کیونکہ پاکستان نے دنیا کایا پلٹ کر رکھ دینی ہے اور جب دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہونے کے ناطے تیل و گیس پر کنٹرول حاصل کرنا ہے تو سب سے پہلے امریکی معیشت دھڑام سے گرے گی کیونکہ جس پاکستان کو امریکہ نے پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکی دی تھی وہی پاکستان اب گن گن کر بدلہ لینے کی پوزیشن میں آرہا ہے اور جب امریکہ بہادر کا ناطقہ بند کرے گا تو سوچیں کہ امریکہ کتنی جلدی پتھر کے دور میں پہنچے گا
*لو وائی ہتھ ہو گیا جے*
امریکی معیشت کیسے گرے گی اس بات کو یوں سمجھئیے کہ سی پیک دنیا کے 70 کے قریب ممالک کو جوڑنے جا رہا ہے جن میں اکثریت یورپی ممالک کی ہے اور امریکی معیشت یورپی منڈیوں کے بل بوتے پر ہی تو کھڑی ہے اور جب یورپی منڈیاں سی پیک سے منسلک ہو جائیں گے تو امریکہ کو کون منہ لگایے گا تو آپ کیا سمجھے کہ امریکہ کیسے دھڑام گرے گا
لہذا امریکہ بار بار بہانے بہانے سے سی پیک کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستان کے اندرونی حالات کبھی ایم کیو ایم سے کبھی پی ٹی ایم سے اور کبھی کسی دوسرے تیسرے گروہ سے خراب کرواتا رہا ہے تاکہ پاکستان کو داخلی محاذ پر غیر یقینی صورتحال کا شکار کر دیا جائے لیکن پاکستان نے جس احسن طریقے سے ان سب کو کاونٹر کیا ہے دنیا اس پر انگشت بدنداں ہے
انڈیا کی طرف سے جس جنگ کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان نے ابھی نندن کو واپس کر کے جس جنگ کو ٹالا ہے اس کے رازوں سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی پردہ اٹھے گا
تو صبر رکھئیے اور مورخ کی بات لکھ لیجیے کہ وہ سب ہو چکا جس پر ایک دنیا سانس روکے کھڑی ہے
جس پاکستان سے لوگ بھاگتے تھے کہ یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے اب وہی ملک دنیا کو لیڈ کرنے جا رہا ہے
بس اک زرا صبر۔
Category: سیاست
-

ارض پاک میں تیل کے ذخائر ۔۔۔ محمد فہیم شاکر
-

عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ
عمران خان کو حکومت میں آئے 9 ماہ گزر چکے ہیں۔ ان 9 ماہ میں جہاں بیورو کریسی میں خوب اکھاڑ پچھاڑ کی گئی وہاں وفاقی اور صوبائی وزیر بھی نہیں بچے۔ تبدیلی ہر جگہ عملی طور پر نظر آئی۔ ویسے تو حکومت لیموں سے لے کر ڈالر تک کی قیمتیں کنڑول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مگر گراؤنڈ پر حالات اس سے بھی برے ہیں۔
سیاست میں نعرے لگانا ، دعوے کرنے ، باتیں بنانا بھی ضروری ہے مگر کام کرنا ایک فن ہے ۔ یہ تو ثابت ہو چکا ہے تحریک انصاف میں باتیں کرنے والے زیادہ ہیں اور کام کرنے والے کم ۔ شاید اسی لیے ہر جگہ ٹیکنو کریٹس سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ بیورو کریسی، وزراء تو دور کی بات وزیر اعلی پنجاب کی بات نہیں سنتی ۔عثمان بزدار کی نااہلی کے چرچے تو زبان زد عام ہیں مگر پھر بھی وہ کپتان کے وسیم اکرم پلس ہیں ۔
ڈالر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ قیمت اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ مشرف ، زرداری اور نواز شریف دور میں منصوعی طور پر ڈالر کی قیمت کو روکے رکھا گیا تھا ۔ جبکہ حقائق یہ ہیں کہ پیپلز پارٹی دور میں ڈالر 32 روپے، نواز شریف کے دور میں ڈالر 26 روپے اور تحریک انصاف کے ان 9 مہینوں میں ڈالر 19روپے مہنگا ہوا ہے ۔ عوام کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا ابھی چار سال اور تین ماہ کا دور حکومت باقی ہے ۔
کاروبار ختم ہو چکا ہے ۔ مارکیٹیں سنسان ہیں ۔ گاہک غائب ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بند پڑا ہے ۔پرچیوں پر کاروبار ہو رہا ہے ۔ لوگ پیسہ روک کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کسی کو حکومتی پالیسوں پر اعتماد نہیں ۔ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات 30 فیصد بے روز گاری میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ پیٹرول کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ گزشتہ دور کی حکومتیں منصوعی ٹیکس لگا کر زائد قیمتیں وصول کرتی ہیں ۔ اب شاید نئے پاکستان میں پیٹرول پر صرف ٹیکس ہی وصول کیا جا تا ہے ۔گزشتہ ادوار میں سٹاک مارکیٹ کو بھی منصوعی طور 50 ہزار سے زائد پوائنٹس پر رکھا گیا تھا جو نیا پاکستان بنتے ساتھ ہی اپنی اصل حالت میں واپس آچکی ہے ۔بجلی کے بھی منصوعی کارخانے اور منصوبے لگائے جاتے تھے ۔اسی لیے اب لوڈ شیڈنگ بالکل ختم ہو چکی ہے ۔
موٹرویز ، میٹرو بسیں ، اورنج لائن اور سٹرکوں کے جال بھی جعلی تھے۔ مگر پشاور میں اصلی بی آر ٹی منصوبہ تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ اس لیے روز اس کا ڈیزائن تبدیل ہوتا ہے ۔ لاگت ڈبل ہو چکی ہے ۔ کسی کو نہیں پتہ کہ یہ منصوبہ کب مکمل ہو گا ۔ مگر عمران خان کو یہ یقین ہے کہ اس منصوبے میں کرپشن نہیں ہو ئی اس لیے یہاں نہ کسی سے حساب مانگا جا ئے گا نہ کسی کا احتساب کیا جائے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن ہوئی ۔ نواز شریف سے زرداری تک ، اسفند یار ولی سے محمود اچکزئی تک ، فضل الرحمان سے شیر پاؤ تک ، سب پر کرپشن کے سینکڑوں الزامات ہیں ۔ کئی تو عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں ۔ اکثر پر نیب میں کیسسز چل رہے ہیں ۔ ان 9 ماہ میں تحریک انصاف نے شاید کرپشن نہ کی ہو ۔ مگر نا اہلی کی ایسی مثالیں قائم کیں ہیں کہ عوام کی بس ہو چکی ہے ۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے وہ ووٹر اور سپورٹر جو ان کی خاطر مرنے کو تیار رہتے تھے ۔ وہ بھی اب حکومتی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں ۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ کیوں چوروں ، ڈاکوؤں، لٹیروں کا پرانا پاکستان اس 9 ماہ کے نئے پاکستان سے بہتر تھا۔
کپتان کا اصل امتحان عید کے بعد شروع ہو گا جب ایک جانب اپوزیشن اکٹھی ہو کر لڑنے کے لیے تیار ہو گی تو دوسری طرف بجٹ پیش کرنا ہو گا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتانوں کے کپتان عمران خان اس بجٹ میں ریلیف اپنے ووٹر اور سپورٹر کو دیتے ہیں یا پھر پرانے پاکستان کے چوروں اور لیٹروں کی طرح صرف ایک خاص طبقے کو ۔
تحریک انصاف کے لیے پیغام ہے کہ ہنی مون گزر چکا عمران خان کو اب جلد کچھ عملی طور پر کر کے دکھانا ہو گا ۔ ان دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے مزید کام نہیں چلنا ۔اب عمران خان سے حساب بھی مانگا جائے گا اور حکومت کی کارکردگی کا احتساب بھی کیا جائے گا ۔
اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
naveedsheikh123@hotmail.comٹویٹر پر فالو کریں
Tweets by naveedsheikh123 -
دریائے چناب اور دریائے سندھ پر 10ارب کی لاگت سے نئے پل بنانے کی منظوری
وزیراعظم عمران خان نے تحصیل جتوئی کو ملتان اور راجن پور کو ملانے کیلئے پل بنانے کی منظوری دیدی ۔ممبر قومی اسمبلی سید باسط سلطان کی کاوشوں کے نتیجہ میں وزیر اعظم نے 10 ارب روپے کی لاگت سے دریائے چناب اور سندھ پر پل بنانے کی منظوری دی۔پل کے ذریعےجلالپور کو شہرسلطان اور جتوئی کو جام پور سے ملایا جائیگا اس سے ان تینوں شہروں کے درمیان مسافت انتہائی کم ہوجائے گی۔ممبر قومی اسمبلی سید باسط سلطان بخاری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ 2019 میں دونوں پل بنانے کیلئے فنڈز بھی مختص کیئے جا رہے ہیں اس اہم منصوبے سے تحصیل جتوئی کی پسماندگی کا خاتمہ ہوگا اور ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ تحصیل جتوئی کی عوام وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی مشکور ہے ۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے قاتل روڈ مظفر گڑھ تا علی پور کو دورویہ کرنے کے لیے بھی فنڈز مختص کردیے ہیں۔

-
جمشید دستی بھی پنجاب کے بلدیاتی نمائندے فارغ کرنے کے مخالف نکلے
پاکستان عوامی راج پارٹی کے چیئرمین جمشید احمد دستی کی جانب سے بلدیاتی نظام کی بحالی کے لئے لاہور ہائی کورٹ لاہور میں پرنسپل سیٹ پر پٹیشن دائر کر دی گئی ہے جسکی سماعت اگلے ہفتے ہوگی جمشید دستی نے صحافیوں سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ بلدیاتی نظام کسی بھی معاشرے کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے پنجاب حکومت نے ہزاروں بلدیاتی نمائندوں کو جنبش قلم سے فارغ کر دیا جو کہ سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کے پی کے کی طرح پنجاب میں بھی بلدیاتی اداروں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیئے۔
-

فیلنگ آف اے لوز گورننس ۔۔۔ سلمان آفریدی
صاحب کا ااقبال بلند ہو ۔۔۔ بھاگ لگے رہن ۔۔۔ مسند مبارک تا بہ ابد سلامت رہے ۔۔۔ نادار مگر ناداری کی لکیر سے نیچے ہی گھسٹتا چلا جا رہاہے ۔۔۔ اور غریب ہے کہ ناپید ہی ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔ رہے نام اللہ کا
جناب والا ! جب سے آپ کی حکومت آئی ہے عوام تبدیلی کی راہ تک رہے ہیں ۔ اس میں کچھ قصور تو حضور کے قبل اور بعد از الیکشن بیانات کا ہے جن میں آنجناب کی جانب سے نوے روز میں تبدیلیوں کا سیل رواں برپا کرنے ‘ کھڑے کھڑے ملک و قوم کے مسئلے حل کرنے اور مملکتِ خداداد کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کے بلند و بانگ دعوے تھے جبکہ جلتی پر تیل "انڈیلنے” کا کام آپ کے "نو رتن” سر انجام دیے چلے جاتے ہیں
حضور کے سب دعوے منظور ۔۔۔ آپ کی ہر منطق قبول ۔۔۔ تکلیف کا سبب مگر یہ بات ہے حکومت کے ہوتے ہوئے بھی محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ساکنان سر زمین شاد باد ” بے حکومتے ” ہی بس رہے ہیں۔ آپ کی عقابی نگاہ تلے ڈالر مہاجن کا سود ہوا جاتا ہے جبکہ دواؤں کی قیمتیں گرمی کے تاپ کی طرح چڑھ اور اتر رہی ہیں۔ عین آپ کی ناک کے نیچے ذخیرہ اندوزوں ، گراں فروشوں اور عوام کا خون چوسنے والوں کی چاندی ہوئ پھرتی ہے۔
عالی جناب ! پوچھنا یہ ہے کہ جب آپ اس قدر اچھی تیاری کےساتھ الیکشن میں اترے تھے کہ کامیابی آپ کو واضح نظر آتی تھی تو ایسے میں کوئی ” شیڈو کیبنٹ ” بنانے یا ” پالیسی میکنگ ” نامی کام کرنے کا کوئی تردد کیوں نہیں کیا گیا ؟ حکومت میں آنے سے پہلے اور زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد وزراء کے ناکافی ” ہوم ورک ” ، لمبی چوڑی بیان بازیوں اور کار حکومت چلانے کے تجربہ کی کمیابی کا سد باب کرنے کے واسطے ” قیادت ” نے کونسے اقدامات اٹھاے ؟ اگر یہ معلوم تھا اور لازماً احتمال موجود تھا کہ ” اسٹیٹس کو ” کے حامی سیاسیان اور اسٹیبلیشمنٹ کرپشن کے خلاف جاری مہم کی کامیابی کے اثر کو کم سے کم کرنے کے لیے مصنوعی بحرانوں کا سہارا لے سکتے ہیں تو ان سے نمٹنے کو ہماری دوربین قیادت نے کیا حکمت عملی وضع کی ؟؟؟
والا تبار ! گستاخی کی معافی چاہتا ہوں کہ خو گر حمد سے تھوڑا سا گلہ سننا آپ کے ، اس ملک کے اور سب سے بڑھ کر اس قوم کے فائدے میں ہے ۔ عرض فقط اتنی سی ہے کہ آپ کی دستیابی ، عوام میں موجودگی اور کسی نہ کسی بہانے عوامی رابطہ مہم بہت سی پریشانیوں ، سازشوں اور پراپیگنڈوں کا گلا اپنےآپ گھونٹ دے گی۔ مزید برآں یہ کہ عوام کو یہ احساس ہر آزمائش سے گزرنے پر تیار رکھے گا کہ ہوا کے سرد و گرم تھپیڑوں میں اور کچھ نہ سہی مگر آپ ان کے درمیان کھڑے ہیں اور وہ اس افتاد میں تنہا نہیں وگرنہ هم اس سےبڑھ کر
کہہبھی
کیا سکتے
ہیں
کہ
صاحب کا اقبال بلند ہو ۔۔۔ بھاگ لگے رہن ۔۔۔ مسند مبارک تا بہ ابد سلامت رہے ۔۔۔ نادار مگر ناداری کی لکیر سے نیچے ہی گھسٹتا چلا جا رہاہے ۔۔۔ اور غریب ہے کہ ناپید ہی ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔ رہے نام اللہ کا
-

چوہدری شفاعت حسین سعودی عرب کیوں پہنچ گئے اور کس نے استقبال کیا؟
گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی)سابق ضلع ناظم چوہدری شفاعت حسین سعودی عرب پہنچ گئے عمرہ کی سعادت حاصل کی سعودی عرب میں چیئرمین مسلم لیگ ق چوہدری اظہر عباس وڑائچ نے ساتھیوں کے ہمراہ انکا پرتپاک استقبال کیا اور انکے اعزاز میں افطار پارٹی کا بھی اہتمام کیا چوہدری اظہر عباس وڑائچ ‘چوہدری اللہ دتہ وڑائچ‘ فیصل محمود‘سید اجمل شاہ سمیت دیگر نے سابق ضلع ناظم چوہدری شفاعت حسین کو سعودی عرب میں پارٹی کی مضبوطی اور فعال کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا جس پر چوہدری شفاعت حسین نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں جن ساتھیوں نے پارٹی کےلئے کام کیا وہ قابل تحسین ہیں چوہدری اظہر عباس وڑائچ کی مہمان نوازی کا مشکور رہونگا انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں مسلم لیگ ق کو مزید فعال کرنے کےلئے جہاں بھی میری ضرورت ہو میں حاضر رہونگا جس پر چیئرمین چوہدری اظہر عباس وڑائچ نے کہا ہے کہ چوہدری برادران نے ہی گجرات سمیت ملک وقوم کا نام روشن کیا ہے ہم انکی مشاورت سے سعودی عرب میں پارٹی کی مضبوطی کےلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہینگے ۔
-
موجودہ حکومت نے عوام کو رمضان المبارک میں ریلیف دینے کی بجائے مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے امیر جماعت اسلامی سیالکوٹ محمد اویس
سیالکوٹ (نمائندہ باغی ٹی وی ) موجودہ حکومت نے عوام کو رمضان المبارک میں ریلیف دینے کی بجائے مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ضروریات کی اشیاء شہریو ں کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے پاکستانی غریب عوام فاقہ کشی اورخودکشیاں کرنے پر مجبور ہوچکی ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے دفترجماعت اسلامی سمبڑیال میں یوتھ ونگ کے ماہانہ اجلاس کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا نیز ان کا مزید کہنا تھا کہ تبدیلی کانعرہ لگانے والے حکمرانوں نے سابقہ تما م حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جماعت اسلامی ملک پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک پاکستان کو تمام بحرانوں سے نکالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اس موقع پر عاصم طالب گجر ، ثمران ظفر،عدنان مہر، عنصر چٹھہ ،عمران بھٹہ ،عثمان علی ، محمد عمر، رانا شاہدسمیت سٹی سمبڑیال کے تمام ذمہ داران بھی موجود تھے۔
-

سابق بلدیاتی نمائندوں نے اگلے محاذ کی تیاری شروع کر دی
گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی)بلدیاتی ادارے ٹوٹتے ہی عوامی نمائندگانمتحرک،نئے بلدیاتی نظام کے تحت الیکشن کیلئے جوڑتوڑشروع ہوگئے،متوقع امیدواروں نے اپنے اپنے علاقوں کے عوام سے رابطے بڑھالئے ہیں اور ابھی سے لوگوں کی خوشی ،غمی میں شرکت کرنا شروع کردی ہے ،جبکہ بعض امیدواروں نے ماہ رمضان کوغنیمت جانتے ہوئے باقاعدگی سے باجماعت نمازبھی پڑھنی شروع کردی ہے ،جبکہ عوام کاکہناہے کہ امیدواروں کی سابقہ کارکردگی کودیکھ کرحمائت کافیصلہ کیاجائے گا،پچھلادورضائع کرنے والوں کودوبارہ نہیں آزمائیں گے ،تاہم امیدوار سنجیدگی سے عوام کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
-

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ۔۔۔۔ سلمان آفریدی

بات آگے نہيں سچ پوچھو تو بہت آگے نکل چکی ہے ۔۔ جہاں سب سرے ہاتھ میں آ چکے ہیں ، ڈر دور ہو چکا ہے، خوف کے بادل چھٹ چکے ہیں اور بے بنیاد وسوسے اپنی موت آپ مرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سچ بہت کڑوا ہے جبکہ جھوٹ کے تانے بانے مکڑی کا جال ثابت ہو رہے ہیں۔

سرپھرے سبز لہو سے وفا کی داستان لکھ رہے ہیں جبکہ ٹوپی بردار "انقلابیے” انارکی پھیلانے کو نئی سبیلیں تلاشتے پھرتے ہیں۔۔پیاری چندا! تمہاری سرخ "فتانت” کو سلام ۔۔ ایک زمانے سے رواج چلا آتا ہے کہ بزعم خود ذہین و فطین نابغے زمام اقتدار سنبھالتے ہیں ۔۔ خوب گھڑمس مچاتے ہیں ۔۔ عوام کا لہو جونکوں کی مانند چوستے ہیں ۔۔اربوں روپے ادھر ادھر کرتے ۔۔ اپنی ناقص پالیسیوں ، غلط فیصلوں اور کرسی سے چمٹے رہنے کی ہوس میں ملک و قوم کے گلے پر کند چھریاں پھیرتے ہیں اور جب جاں بلب احوال کی اصلاح شروع ہوتی ہے تو تم سب مل كر”اشارہ ابرو” کو قصوروار ٹھہراتے ہو ۔
چندا رانی! ماجھے کی بھینس یہ خود کھولتے ، چوری کا الزام فوجے پہ دھرتے اور مارتے پنڈ کے مکینوں كو ہيں. صلح صفائی کی تو "تو رہن ای دے” اور واہ وا صرف اللہ بادشاہ کی ہے۔
خدا ہدایت دے !شاہیں کو بے بال و پر کرنا ہو ، چیونٹی کو ہاتھی دکھانا ہو یا پھر سانپ کو نیولہ ثابت کرنے کی سامریت چلانی ہو تمہاری زبان کی کاٹ اور فکر کی کجی کی کوئی حد نہیں۔ رہی حد پر آپ کی شدومد تو ہمارے تو ذمے ہی نگہداری کی خدمت ہے۔ باقی سائیبیرین پرندوں کی سردیاں حرام کرنے "اربوں” کے دہ سالہ مہمان جنہیں اس پاک سرزمین پر فرعونیت کا دعوی تھا کو بھی سبھی جانتے ہیں۔
جان کی امان کے ساتھ ایک محبت بھری گزارش سن لو تو شاید طبیعت کو افاقہ ہو جائے ۔ حالات اب واقعی وہ نہیں رہے بلکه بہت بہتر ہو چکے ہیں بیٹا باپ کے کندھے سے کندھا جوڑے اس کا دست و بازو بنا ہوا ہے ۔۔ جلنے والے کا منہ کالا۔
اری او چندا ! تکنیک کی تو تم بات ہی چھوڑو کہ وہ سب تو ہم نے ” غیروں” کے لیے سنبھال رکھی ہیں رہی نئی نسل تو وہ اب زرد پراپیگنڈوں پہ کان نہیں دھرتی۔ تاریخ کے کوڑے دان سے بیمار اور جانبدار بیانیہ کے بجائے ذکاوت ، دلیل اور ہماری خوبصورت اقدار میں گندھی ہوئی یہ دانی بینی پیڑھی حقیقی اور پائیدار بیانیوں میں یقین رکھتی ہے اور اس سے بڑھ کر لمبی زبانوں کو لگام دینا بھی خوب جانتی ہے ۔
جھلی چندا! خدا لگتی تو یہ ہے کہ چوہدراہٹ والی تو تو نے بونگی ہی ماری ہے۔ کس گھر میں مسئلے نہیں ہوتے ؟ یہ گھر کے مسئلے ہیں اور گھر میں ہی حل ہو جائیں گے۔ان کے لیے پیٹ سے کپڑا اٹھا اٹھا کر جگ ہنسائی کا سامان فراہم کرنا نری بےوقوفی ہے۔
میری مانو تو پرانوں شرانوں کے اشلوک چھوڑو اور قران سے لو لگاؤ کہ ہمارے لیے اصل راہنمائی وہیں سے پھوٹتی ہے۔ چاہو تو وقت نکال کر چائے کی پیالی پر مل بیٹھو کہ تبادلہ خیال تو ہو سکے۔ رہی شہہ تو وہ سرحد پار سے آرہی ہے نہ کہ مقامی کردار سے ۔ نہ جانے تمہاری معلومات ناقص ہیں یا تم جان کے گھنی بنی جاتی ہو۔
باقی دلاری چندا ! دنیا تو دیکھ رہی ہے ۔۔ مان رہی ہے ۔۔ سرپھروں کی لازوال قربانی کو ۔۔ ذرا تم بھی آنکھیں کھول کر دیکھنے کی زحمت کر لو۔ تمہارے بے سر پیر کے "اولامے” پر تو میں اپنے دو عظیم ملکی شاعروں کی روح سے معذرت کے ساتھ اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ
"وہ جدھر بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں”(نوٹ: سفر میں ہونے کی وجہ سے موصوفہ کا کالم تاخیر سے دیکھا ورنہ نقد جواب چکا دیا جاتا۔)
عاصمہ شیرازی کے جس کالم نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا اسے ذیل کے لنک سے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48103207?ocid=socialflow_facebook -
پیپلزپارٹی کے کارکن مہنگائی اور قیادت کے خلاف نیب کے کاروائی پر سراپا احتجاج
مہنگائی،حکومتی پالیسیوں اور نیب کی کاروائیوں کے خلاف مظفرگڑھ میں پیپلز پارٹی نے احتجاجمظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی.مہنگائی،حکومتی پالیسیوں اور نیب کی کاروائیوں کے خلاف مظفرگڑھ میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کچہری چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا.مظاہرے میں شامل پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اس موقع پر حکومت کیخلاف شدید نعرہ بازی کی.احتجاجی مظاہرے میں شریک مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا اور مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے.مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نیب کی ملی بھگت سے اپوزیشن کو دبانا چاہتی ہے جو قابل مذمت امر ہے.