Baaghi TV

Category: سیاست

  • ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا
    نواز شریف اورذوالفقار بھٹو کی محنت نے دفاع وطن کو ناقابل تسخیر بنا دیا
    فضائیہ کیلئے موٹرویز کی شکل لاتعداد رن ویز اور نوجوانوں کو جدیدٹیکنالوجی دی گئی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پاکستان کی ایٹمی، صلاحیت پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، پاک چائنہ دوستی کے ثمرات اور دفاعی تعاون پاکستان میں سائبر ٹیکنالوجی کا فروغ ،ایسے عوامل ہیں جنکی بدولت بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیاگیا ، بھارت کی علاقے میں برتری کے خواب چکنا چور ہو گئے، قارئین گرامی! پاکستان کو میسر نصرت خداوندی کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی دستیابی میں کن شخصیات اور قومی محسنوں کا ہاتھ تھا یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے، ایٹمی صلاحیت کے حصول اور پاک چائنہ دوستی کی بنیاد میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت، پاک چائنہ دوستی کو آگے بڑھاتے ہوئے چین اور پاکستان کے مابین جے ایف تھنڈر کی پاکستان میں ہی تیاری کا کرشمہ اور ایٹمی دھماکوں سے لیکر پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر صلاحیت کا نوجوانوں میں فروغ، موٹروے کی صورت میں پاک فضائیہ کو لامحدود رن ویز کی دستیابی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول میں محمد نواز شریف کی بطور وزیر اعظم اوراس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی فنڈز کی فراخدلانہ فراہمی اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھروں اور غلیلوں کے بجائے لیب ٹاپس کے ذریعے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا فروغ کے نتائج آج سامنے آگئے،،اس میں میاں محمد نواز شریف کی سیاسی بصیرت کو داد دینا بنتی ہے، آج ہماری قوم کو فتح مبارک ہو اور ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ذہانت اور بے لوث خدمت، میاں نواز شریف کے جذبہ حب الوطنی سے پاکستان کے استحکام کے لئے اقدامات،بری ، بحری و فضائی افواج کی بہادری اور قربانیوں کو یاد رکھنا ہو گا، ہماری قوم کو یہ بھی عزم کرنا ہو گا کہ اپنے مکار دشمنوں کو نیچا دکھانے کے لئے میاں نواز شریف کے ویژن کے مطابق پاکستان کی ترقی کے لئے ہمہ تن مصروف مریم نوازشریف کی پاکستان میں تعلیم و ترقی کے لئے جاری کاوشوں کو تسلسل دینا ہو گا، کیونکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق لیب ٹاپس، سائبر تعلیم اور پاکستان میں انفراسٹرکچر کی جدت ہی استحکام پاکستان ہے، نوجوانوں کو کمپیوٹر ایجوکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے نہ کہ غلیلوں اور پتھروں کے بل بوتے پر اپنی ہی افواج اور ریاست پاکستان پر تنقید کے نشانے کی!نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے،،ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی،،افواج پاکستان زندہ باد ،،پاکستان پائندہ باد

  • یہ گلشن سدا سلامت رہے .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    یہ گلشن سدا سلامت رہے .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    عمر گریزاں کا سفر بے شک تیزی سے گزررہا ہے لیکن اس کا دورانیہ کچھ بڑھ جائے یا زندگی کی چند سانسوں کی مزید مہلت مل جائے توخوشیاں مسرتیں محبتیں امن ،کرب تکلیفیں مصیبتیں ان کیفیات کا احساس بیدار ہونے لگتا ہے اور سمجھ بوجھ یعنی عقل سلیم عطا ہو تی ہے دینے والا وہ رب ذوالجلال ہے کچھ بھی دے سکتا ہے دکھ غم روگ تکلیفیں خوشیاں محبتیں امن سکون اس شہنشاہ کی اپنی مرضی،
    گزشتہ کچھ روزکربناک اور اعصاب شکن رہے یہ زندگی بس گزر جاتی ہے مقصد بڑا ہو تو یہ بڑی دلچسپ بھی ہو جاتی ہے بے مقصد زندگی تو ویسے ہی فضول سی گزرتی ہے ہم بھی اسی بے مقصد زندگی کا حصہ ہوئے دشوارگزار کٹھن اور ہاں کبھی کبھی کچھ لمحوں کی خوشیاں بھی نصیب ہوئیں یعنی کبھی خوشی کبھی غم۔۔۔۔ لیکن رواں دواں تھی خوب چل رہی تھی ہم سفر ہے کبھی ہنساتی ہے کبھی رلاتی ہے ساتھ تو چلنا ہے نا اسے جینا تو ہے لیکن اچانک سے گھٹیا دشمن اپنی طاقت کے زعم اور اپنی چوہدراہٹ دکھانے۔۔۔ امن کا دشمن بن گیا بدامنی کا خوف چھاگیا اور ایسا چھایا کہ بہت کچھ سکھا گیا ہمارا پڑوسی ملک بھارت گھٹیا ترین دشمن ۔۔۔وہی دشمن جو اپنے دیس کے انسانوں اور مسلمانوں کا بھی دشمن ہے
    اس نے امن کا ماحول تہس نہس کردیا اور ہم پر زبردستی جنگ تھوپ دی نجانے اس خطے کا بدمعاش بننے کا شوق کہاں سے چرا لایا پرامن بستیوں کو اجاڑنے کا خواب تو دیکھ لیا لیکن اس کی تعبیربھی نہ پاسکا کود پڑا ہمیں شکست دینے۔۔۔
    خیر اس نے اپنے دانت کھٹے کروانے اور لیٹ کر مارکھانے کے بعد اپنے آقا سے کہا کہ حضور اب ہمیں بچا لیجئے ہماری صلح کروا دیجئے یہ پاکستان ہمیں کھا جائے گا

    سو تادم تحریر جنگ بندی کا اعلان ہوچکا ہے سکون کی وہ گھڑیاں واپس لوٹ آئی ہیں اور سکھ کے سانس آنے جانے لگے ہیں ،اگر انسان گھر کی باتیں باہر چوک پر سنانے لگے تو وہ گھر تادیر سلامت نہیں رہتے ہاں گھر کے اندر بہت دفعہ جھگڑے ہوتے ہیں اور ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں لیکن اگر گھر کے دروازے پر کوئی دشمن آتشیں اسلحے سے لیس ہوکر سامنے کھڑا ہو اور اندر جھگڑے جاری ہوں تو تب امن سلامت نہیں رہتا دشمن موقع سے فائدہ اٹھاکرپورے گھرکو ختم کرسکتا ہے

    بہت سے لوگوں کو اپنی افواج سے اختلافات اور تحفظات ہوسکتے ہیں لیکن یہ افواج نہ ہوں تو سلامتی خطرے میں رہتی ہے اور گھر سلامت رہیں تو ہمیشہ کے یہ مسائل بعد میں بھی سلجھائے جاسکتے ہیں چونکہ میں یہ کالم گزرے تکلیف دہ اور اعصاب شکن ایام میں تحریر کررہا تھا جب ملک بھر میں دشمن اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہم پر وار کررہا تھا اس تحریر کو مکمل نہ کرسکا کالم کا بقیہ حصہ آج مکمل کرنے کا وقت ملا تو ہماری فوج تب بھی دشمن کو للکاررہی تھی جب سرحدوں پر دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کررہی تھی اور آج بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے محاذ پر ڈٹی ہوئی ہے یہ ہمارے ہی بیٹے ہیں ہمارے ہی بھائی ہیں بھوک پیاس نیند کو بھلا کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ان کے ہوتے ہوئے ہم راتوں کو سکون کی نیند سوتے ہیں اور ہم سب نے گزشتہ دنوں یہ راتیں بھی سکون سے بے فکر ہوکر گزاری ہیں یہ سکون کی نیندیں انہی ماؤں کے بیٹوں کی بدولت ہیں جن پر ہمیں پوری امیدیں ہیں آج دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے پاگل ہوچکا ہے اور پاگل پن میں تو کچھ بھی کیا جاسکتا ہے اپنی پاک فوج کی ہمت بڑھائیں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں فوج ہے تو ملک ہے اور ملک ہے تو ہم ہیں امن سکون اورترقی کے لئے وطن کے بیٹوں کا حوصلہ بنیں سوشل میڈیا پر فوج مخالف پراپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں یہ دشمن کی وارداتیں ہیں اپنوں کا ساتھ دیں اپنے گھر کی سلامتی کو ترجیح دیں اپنے بچوں کی مسکراہٹوں کو بکھیرنے کا سبب بنیں نہ کہ چیخوں کی ۔۔۔۔

    جنگیں سفاک ہوتی ہیں بے رحم ہوتی ہیں ان کی راہوں میں جو کچھ آتا ہے مٹ جاتا ہے تباہی اور بربادی مقدر بن جاتی ہے ہم امن کے داعی ہیں دونوں طرف انسانیت ہے خون نہیں چاہتے لیکن گھٹیا دشمن ہمارے سر پر سوار ہے پاک فوج انشااللہ ہمیشہ اسے سبق سکھاتی رہے گی یہ فوج ہمارا فخر ہے ہمیں اپنےان جانبازوں پر مان ہے وقت کا تقاضا ہے اپنی فوج کا بھرپور ساتھ دیں دشمن کی کسی بھی سازش کا حصہ نہ بنیں اپنے پیارے وطن کے محافظوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہیں اللہ تعالی ہماری افواج کو سلامت رکھے اوریہ گلشن امن محبتوں اور خوشیوں کا مسکن رہے اور یوں ہی سدا مہکتا رہے
    پاکستان پائندہ باد
    فیڈبیک کے لئے قارئین واٹس ایپ پر رابطہ کرسکتے ہیں
    03004897576

  • بھارتی ڈرامے اور پاکستانی منہ توڑ جواب ،تجزیہ : شہزاد احمد قریشی

    بھارتی ڈرامے اور پاکستانی منہ توڑ جواب ،تجزیہ : شہزاد احمد قریشی

    پاکستان کی بری، فضائی، اور بحری افواج نے دنیا کی عسکری تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کروا دیا ، بھارت کو پہلگام میں دہشت گردی کے ڈرامے کو پاکستان کے سر تھوپ کر ، پاکستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم پر اسے نہ صرف شکست فاش ہوئی بلکہ بین الاقوامی برادری نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ پاکستان بھارت جنگ اور باہمی تعلقات کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے ممالک میں تعینات سفراء پریس اور دیگر افسران کو بھی خواب خرگوش سے بیدار ہو کر جعفر ایکسپریس، ٹی ٹی پی کی دہشت گردانہ کارروائیوں، بی ایل اے کی بلوچستان میں کاروائیوں، کلبھوشن سے لیکر جعفر ایکسپریس میں بھارت کے پوشیدہ ہاتھوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اقوام عالم کو بتانا ہو گا بلاشبہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاک بھارت تنازعہ کے دوران شب و روز ہمہ تن مصروف رہے اور تمام دوست ممالک کی اعلی قیادت کیساتھ رابطے میں رہے بیرون ملک تعینات سفارت خانوں میں تعینات افسران کو پاکستان کیساتھ ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کا پرچار کرنا ہو گا (بلاشبہ ہماری عسکری قیادت سرحدوں کی حفاظت پر اپنی بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے) بھارتی وزیر اعظم کے ماضی سے ایک عالم گواہ ہے کہ وہ کن بھارتی شہر گجرات سمیت بہت سی کاروائیوں میں ملوث رہے اصل مسلہ پاکستان کو چین کے قریب ہونے اور سی پیک کی سزا مل رہی ہے بھارت نے پہلگام کروا تو دیا جسکے ثبوت اس کے پاس نہیں بھارت یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ چین بھارت کے راستے میں ایک دیوار بن کر حائل ہے .

    یاد رہے عالمی طاقتوں کے یہ بات نوٹس میں ہے کہ بھارت میں پہلے ہی کئی ریاستوں میں علیحدگی پسند تنظیمیں موجود ہیں، اصل میں بھارت پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے آئی ایم ایف سے بھی کہا کہ پاکستان کو قرض نہ دیا جائے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر نقصان ہو، پاکستان کی موجودہ ابھرتی ہوئی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، حکومت پاکستان کو معیشت کو مستحکم کرنے پر بھرپور توجہ دینی چاہیے بھارت پہلگام کی دہشت گردی پاکستان کے نام کرکے ترقی و حمایت کی راہیں محدود کرنے کی ناکام کوشش کی ہے مودی سرکار ابھی تک دنیا کو پہلگام واقعہ کے ثبوت فراہم نہ کر سکا پاکستان کی ابھرتی معاشی صورتحال کو رکاوٹوں سے دوچار کرنے کے لیے کشیدگیاں و تلخیاں مودی سرکار نگر نگر گھوم رہی ہے کہ کہیں ہندو توا کا تاج گر نہ جائے بلاشبہ امریکی صدر اور دیگر اقوام نے پاک بھارت جنگ میں مداخلت کرکے پورے خطے کو بچا لیا مودی سرکار کو روس اور چین کی بڑھتی ہوئی قربتیں اچھی نہیں لگ رہیں، عالمی ذرائع کے مطابق روس چین تعلقات کو ایک نئے عالمی نظام کے قیام میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے ، نام نہاد جمہوریت کے روپ میں عالمی دنیا اگر آمریت دیکھنا چاہتی ہے تو اسے بھارت کے اندرونی علیحدگی پسند تنظیموں کو دیکھنا ہو گا، مودی کا ماضی اور حال اور پہلگام کے خودساختہ خونی ڈرامے کی نمائش سامنے آجائے گی،

  • ’’میرا نام مزدور ہے…‘‘ تحریر: شاہد نسیم چوہدری

    ’’میرا نام مزدور ہے…‘‘ تحریر: شاہد نسیم چوہدری

    0300-6668477

    میرا نام مزدور ہے۔میں صبح کے دھندلکے میں گھر سے نکلتا ہوں، جب تمہاری۔آنکھیں ینند کی وادیوں میں کھوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ میں وہ ہوں جو تمہارے لیے عمارتیں کھڑی کرتا ہے، تمہاری سڑکیں بناتا ہے، تمہاری فیکٹریاں چلاتا ہے، تمہارے بچوں کی کاپیاں بناتا ہے، اور کبھی کبھی تمہارے بچوں کو اپنی محنت کا خون پلا کر تعلیم سے محروم کر دیتا ہے۔
    میں وہ ہوں جو رکشہ چلاتا ہے، جو نالی صاف کرتا ہے، جو اینٹیں ڈھوتا ہے، جو ہوٹل پر برتن مانجھتا ہے۔ میرے ہاتھ کھردرے ہیں، میرے ناخنوں میں مٹی ہے، میرے جسم سے پسینہ بہتا ہے۔ مگر تمہیں شاید اس کی بو آتی ہے۔ تم مجھے سلام کرنے سے بھی کتراتے ہو۔
    سال میں ایک دن تم مجھے یاد کرتے ہو — یکم مئی کو۔
    مجھے عجیب لگتا ہے جب سفید پوش لوگ، اے سی ہالوں میں بیٹھ کر، میرا دن مناتے ہیں۔ میری غربت پر تقریریں کرتے ہیں، میری مزدوری پر اشعار پڑھتے ہیں، میرے بچوں کے لیے فلاحی اداروں کے وعدے کرتے ہیں۔ میں ان کے بیچ اپنی میلی قمیض اور پائوں میں ٹوٹی چپل لیے کھڑا ہوتا ہوں، جیسے کوئی مزار پر فقیر کھڑا ہو — ہاتھ پھیلائے، آنکھیں بند کیے، دعا کی امید میں۔
    مگر کیا تم جانتے ہو؟
    مجھے صرف ایک دن کی ہمدردی نہیں چاہیے۔
    مجھے انصاف چاہیے، عزت چاہیے، زندہ رہنے کا حق چاہیے۔
    میں خیرات نہیں مانگتا، حق مانگتا ہوں۔
    تم کہتے ہو غلامی ختم ہو چکی۔ میں کہتا ہوں، نہیں!
    میں آج بھی اُس فیکٹری میں غلام ہوں جہاں مجھے کم از کم تنخواہ سے بھی کم پیسے ملتے ہیں۔
    میں اُس کھیت میں غلام ہوں جہاں زمین کا مالک صرف مجھے ’’ہاری‘‘ کہہ کر بلاتا ہے، نام سے نہیں۔
    میں اُس گھر میں غلام ہوں جہاں میں بیوی بچوں سمیت چوبیس گھنٹے ملازم ہوں اور چھٹی کا تصور تک نہیں۔
    تم نے غلامی کا نام بدل دیا ہے — بس!
    اب یہ "ٹھیکیداری نظام” کہلاتا ہے، "کنٹریکٹ ورکر” کہلاتا ہے، "ڈیلی ویجز” کہلاتا ہے۔
    میری چھت نہیں ہے، میرے گھر میں چولہا اکثر نہیں جلتا۔
    اسی لیے میرا دس سالہ بچہ بھی مزدور ہے۔ تم نے اسے "چائلڈ لیبر” کہا، میں نے اسے "روزی” کہا۔
    تم نے اس پر قانون بنایا، میں نے اس پر آنسو بہائے۔
    کیا تمہیں کبھی سڑک کنارے شیشہ صاف کرنے والے، چائے کے ہوٹل میں کام کرنے والے، یا فٹ پاتھ پر جوتے پالش کرنے والے بچے نظر آئے؟ وہ سب میرے بچے ہیں۔
    ان کے کندھوں پر بستے نہیں، ذمہ داریاں ہیں۔ ان کی انگلیوں میں پین نہیں، چھالے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں خواب نہیں، تھکن ہے۔
    یکم مئی کو میرے نام پر بینرز مت لگاؤ، مجھے تقریروں میں مت یاد کرو، میری تصاویر کو سجاوٹ نہ بناؤ۔
    مجھے وہ قانون دو جو میری محنت کا تحفظ کرے۔
    مجھے وہ سہولت دو جو میرے بچوں کو تعلیم دے، میری بیوی کو دوا دے، اور میرے بڑھاپے کو تنہائی سے بچائے۔
    میری یونینیں مت خریدو، میرے نمائندے مت جھوٹے وعدوں میں جکڑو۔
    مجھے میرے حق کا ایک سچا، مختصر سا وعدہ دے دو — ’’میرے پسینے کا پورا معاوضہ۔‘ میں خواب دیکھتا تھا — چھوٹے سے مکان کا، بچوں کی تعلیم کا، اور بیماری سے نجات کا۔
    مگر تم نے ان خوابوں کو ’’مہنگائی‘‘ کے شکنجے میں دبا دیا۔
    ہر مہینے آٹے کی قیمت بڑھتی ہے، ہر ہفتے بجلی کا بل دوگنا ہوتا ہے، اور ہر دن میری اُجرت کم لگنے لگتی ہے۔
    مجھے بتایا جاتا ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے — مگر میرا چولہا آج بھی ٹھنڈا ہے۔
    میں اکیلا ہوں مگر کمزور نہیں۔
    میری محنت سے تمہارے شہر روشن ہیں، تمہاری فیکٹریاں آباد ہیں، تمہاری زندگی رواں ہے۔
    اگر میں ہڑتال کر دوں تو تمہاری سہولتیں رک جائیں۔ اگر میں سڑک پر آ جاؤں تو تمہیں اپنی گاڑی سے اترنا پڑے گا۔مگر میں فساد نہیں چاہتا۔ میں فقط عزت چاہتا ہوں۔
    اگر واقعی تم میرا دن منانا چاہتے ہو تو:
    میرے بچوں کو اسکول بھیجو۔
    میری تنخواہ بروقت اور پوری ادا کرو۔
    مجھے دو وقت کی عزت دار روٹی دے دو۔
    میری بیماری کا علاج کروا دو۔
    میرے بڑھاپے کو سڑک پر نہ چھوڑو۔
    میرا نام مزدور ہے — میں تمہاری بنیاد ہوں، تمہاری طاقت ہوں، تمہاری ترقی کا پہیہ ہوں۔
    اگر تم نے مجھے پہچان لیا تو کل کا پاکستان روشن ہوگا۔ اگر مجھے بھلا دیا تو صرف عالیشان عمارتیں بچیں گی — اندر سے خالی، باہر سے روشن۔
    تم آج یکم مئی مناتے ہو؟
    چلو مان لیا — مگر خدا کے لیے، کل مجھے پھر نہ بھول جانا…….!
    تپتی سڑکوں پر ننگے پاؤں سفر کرتے ہیں
    یہ وہ لوگ ہیں جو پتھر کو بھی تر کرتے ہیں
    دھوپ سہتے ہیں، پسینے میں نہاتے ہیں مگر
    یہ تو ہر حال میں ہمت کو بشر کرتے ہیں
    بھوک چپ چاپ لبوں پر جو سجا رکھی ہے
    دل کے زخموں کو ہنستے ہوئے پر کرتے ہیں
    کب کوئی پوچھتا ہے اِن کے دکھوں کا موسم
    وہ دعاؤں سے ہی قسمت پر صبر کرتے ہیں
    خون ، پسینہ، خواہشیں ، ان کی ہیں شاہد
    شہر کے خواب کو وہ ، تعبیر سفر کرتے ہیں

  • مودی پھنس چکا،پانی زندگی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مودی پھنس چکا،پانی زندگی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے حق میں نہیں تاہم کشمیر میں ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگا کر مودی حکومت خود پھنس چکی ہے بلاشبہ عالمی دنیا نے اس واقعہ کی مذمت کی مگر عالمی دنیا سوال اٹھا رہی ہے کہ بغیر ثبوت بھارت کس طرح پاکستان پر الزام تراشی کر سکتا ہے بھارت کو اب عالمی دنیا کو جواب دینا ہوگا۔ وطن عزیز کی علاقائی و صوبائی سیاسی جماعتیں پانی کی نہروں کو لے کر سینہ کوبی کرتی نظر آرہی ہیں کالا باغ ڈیم جیسے عظیم قومی منصوبے کی مخالفت کس نے کی اس قومی منصوبے کو پیپلزپارٹی نے دفن کیوں کیا؟ کون سی سیاسی جماعت یہ نہیں جانتی تھی کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسائل میں بھی اضافہ ہوگا ڈیمز بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ نوازشریف نے اپنے دور اقتدار میں ایک ٹیم کی رپورٹ پر بھی عملی اقدامات اٹھائے جس رپورٹ میں کہا گیا کہ ریت کے نیچے پانی ہے پر عمل کرنا چاہا جس سے چولستان کو زرخیز بنایا جا سکتا ہے سیاسی افراتفری کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرنے دیا گیا پھر دوبارہ پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے نوازشریف نے قدم بڑھایا تو نام نہاد پانامہ لیکس اور سیاسی افراتفری نے اس قومی منصوبے پر عمل نہیں ہونے دیا۔ پانی کو لے کر سینیٹر پرویز رشید اس وقت بار بار اپنی آواز بلند کرتے رہے مگر حوس اقتدار اور حکومت کرنے کے خواہشمندوں نے اس قومی منصوبے پر عمل نہیں ہونے دیا نہروں کو لے کر پیپلزپارٹی اج سینہ کوبی کر رہی ہے 1990ء میں نہروں کو لے کر جو منصوبہ نوازشریف نے بنایا تھا اس پر صوبہ سندھ سے لے کر تمام صوبوں کا اتفاق تھا۔

    2022ء میں ایک آبی ماہر حسن عباس نے ایک رپورٹ بنائی جس کو گرین پاکستان کا نام دیا گیا تھا اس منصوبے پر جناب آصف زرداری نے اتفاق کیا تھا منصوبے کے تحت چار نہریں پنجاب دو سندھ تھرپارکر میں بنائی جانی تھیں پی پی پی آج سیاسی منافقت سے کام لے رہی ہے۔ پیپلزپارٹی یاد رکھے گرین پاکستان منصوبہ ترک نہیں کیا جا سکتا اس میں وطن عزیز اور کروڑوں پاکستانیوں کی بقا کا مسئلہ ہے ویسے بھی دریائے سندھ پر صرف سندھ کا لفظ ہونے کی بنا پر سندھ کا قبضہ نہیں ہو جاتا یہ دریا کے پی کے بالائی علاقوں سے نکلتا ہے اس منصوبے سے پاکستان کی بھلائی ہے، یاد رکھیئے! پاکستان اور عوام کی ضروریات کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ سمجھ نہیں آتا ہماری سیاست اور جمہوریت کیسی ہے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لئے ملک و قوم کے مفادات کو پس پشت کیوں ڈال دیتے ہیں آپ نوازشریف سے اختلاف کر سکتے ہیں نوازشریف کسی ولی یا فرشتہ کا نام نہیں لیکن وطن عزیز اور قوم کے لئے ان کی خدمات قابل تحسین ہیں اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی ملک و قوم کے لئے خدمات کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین بھی کرتے ہیں بلاول بھٹو اگر اپنے نانا اور اپنی والدہ محترمہ کی سیاسی زندگی پر عمل کریں تو پیپلزپارٹی دوبارہ قومی جماعت بن سکتی ہے ورنہ ایک صوبے تک ہی محدود رہے گی۔

  • بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دینا محض ایک سیاسی چال نہیں بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے امن پر کھلا وار اور آبی دہشتگردی کے مترادف ہے۔ یہ اقدام بھارت کے اُس توسیع پسندانہ عزائم کی ایک نئی قسط ہے جس کی ابتدا مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور پاکستان دشمنی پر مبنی بیانات سے ہو چکی ہے۔ اب پانی جیسی قدرتی نعمت کو ہتھیار بنا کر بھارت نے ثابت کر دیا ہے کہ نہ اسے بین الاقوامی قوانین کی پروا ہے اور نہ ہی انسانیت کا لحاظ۔
    1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی معاونت سے سندھ طاس معاہدہ طے پایا، جس کے تحت تین مشرقی دریا (ستلج، بیاس، راوی) بھارت کو جبکہ تین مغربی دریا (جہلم، چناب، سندھ) پاکستان کو دیے گئے۔ اس معاہدے نے پاکستان کی زراعت اور معیشت کو وہ پانی فراہم کیا جس پر ہماری لاکھوں ایکڑ زمین انحصار کرتی ہے۔ بھارت کو اس معاہدے کی بدولت مشرقی دریا مکمل طور پر ملے، جب کہ پاکستان نے اعتماد، مروت اور عالمی ثالثی پر بھروسا کرتے ہوئے اس تاریخی دستاویز پر دستخط کیے۔بھارت کا اس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان، دراصل اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ یہ بات یاد رکھی جانی چاہیے کہ سندھ طاس معاہدہ کسی عام دو طرفہ مفاہمت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی حیثیت اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی ثالثی قوانین کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا مطلب ہے کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف آبی جنگ کا آغاز کر رہا ہے بلکہ وہ جنوبی ایشیا میں تباہ کن تنازع کی بنیاد رکھ رہا ہے۔
    پاکستان کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہم نے ہمیشہ سفارتکاری کو ترجیح دی، لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے اگر جواب دینے کا فیصلہ کر لیا، تو وہ محض الفاظ یا احتجاج تک محدود نہ ہوگا۔ اگر ہماری زمینیں بنجر ہوئیں، تو بھارت کی فضائیں بھی محفوظ نہ رہیں گی۔ اگر ہمارے کسان پیاسے مرے، تو بھارتی معیشت بھی پانی کے ایک قطرے کو ترسے گی۔ جنگ ہم نہیں چاہتے، لیکن اگر دشمن ہم پر مسلط کرے گا تو ہم تاریخ کو یہ بھی دکھا دیں گے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے کیسے دیا جاتا ہے۔بدقسمتی سے بین الاقوامی طاقتیں، جو ہر چھوٹے مسئلے پر بیان بازی کرتی ہیں، آج بھارت کے اس سنگین اقدام پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کو اب جاگنا ہو گا، کیونکہ اگر بھارت کو کھلی چھوٹ دی گئی تو دنیا کے کئی خطوں میں آبی وسائل کی جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔
    بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان صرف زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے گا تو یہ اُس کی سب سے بڑی بھول ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں لیکن کمزوری نہیں۔ اگر بھارت نے کسی بھی مغربی دریا پر پانی روکا، تو یہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ہم نہ صرف بھرپور سفارتی، قانونی اور عسکری جواب دیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کو آبی دہشتگرد اور معاہدہ شکن ملک کے طور پر بے نقاب کریں گے۔سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، بقاء کا مسئلہ ہے۔ بھارت اگر سمجھتا ہے کہ وہ پانی روک کر پاکستان کو زیر کر لے گا تو اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے ایٹمی دھماکے بھی اپنے دفاع میں کیے تھے، پانی کے ایک قطرے کے لیے بھی ہم وہی جذبہ رکھیں گے۔ دشمن کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم متحد ہو جائے تو نہ صرف دریاؤں کا رخ موڑ سکتی ہے بلکہ تاریخ کا دھارا بھی بدل سکتی ہے۔
    اب جب کہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی بھارت کو سخت جواب دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ اب صرف الفاظ سے کام نہیں چلے گا۔ قومی سلامتی کے ادارے، عسکری قیادت اور سیاسی قیادت سب ایک صفحے پر ہیں اور یہ پیغام بھارت سمیت پوری دنیا کو پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی آبی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دشمن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم امن پسند ضرور ہیں، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو پھر ہر میدان، ہر محاذ اور ہر دریا پر پاکستان کی جیت ہو گی۔ سندھ طاس معاہدہ ہماری زندگی کی ضمانت ہے، اور اس کی حفاظت کے لیے ہم ہر حد تک جائیں گے — چاہے وہ سفارتی محاذ ہو یا سرحدی مورچے۔

  • بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا مضبوط جوابی وار.تحریر:جان محمد رمضان

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا مضبوط جوابی وار.تحریر:جان محمد رمضان

    پاکستان نے بھارت کے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی، تو یہ جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ وزیر اعظم پاکستان اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اس بیان کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور عوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پانی پاکستان کے عوام کا حق ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی مداخلت یا دھاندلی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان ایک سنگین عالمی تنازعہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کے پانی کے حصے طے کیے گئے تھے۔ بھارت نے اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تین دریا یعنی سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کا حق دیا تھا، جبکہ بھارت کو پانچ دریا ملے تھے۔پاکستان نے بھارت کے اس اعلان کو نہ صرف غیر قانونی بلکہ عالمی سطح پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے میں مداخلت کی، تو اس کا نہ صرف پانی کی فراہمی پر اثر پڑے گا، بلکہ یہ ایک فوجی تنازعہ کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کے لیے پانی کی فراہمی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ پانی پاکستان کی قومی سلامتی کا حصہ ہے اور اس پر کسی قسم کی رکاوٹ کو جنگی اقدام کے طور پر لیا جائے گا۔ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ میں مداخلت کی، تو پاکستان ہر سطح پر اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔پاکستان کے مفادات کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

    بھارتی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان نے واہگہ بارڈر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واہگہ بارڈر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اہم تجارتی راستہ ہے، اور اس کے بند ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور نقل و حرکت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔پاکستان نے بھارت کے سارک ویزے بھی منسوخ کر دیے ہیں۔ سارک (جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم) کے تمام رکن ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر روابط قائم ہیں، اور بھارت کے ساتھ پاکستان کا یہ اقدام اس تنظیم میں بھارت کی بڑھتی ہوئی اجارہ داری کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے۔

    پاکستان نے بھارتی مشیر کو ناپسندیدہ شخص قرار دے دیا ہے، جس کے تحت انہیں پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی طرف سے ایک سخت پیغام ہے کہ بھارت کے غیر جمہوری اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر پاکستان خاموش نہیں بیٹھے گا۔پاکستان نے بھارت کی فضائی حدود کو بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر متاثر ہو گا، بلکہ اس کا اثر عالمی تجارت پر بھی پڑے گا۔ پاکستان نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر سخت ردعمل دیا جائے گا۔

    پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بھارتی اعلان کو مسترد کر کے نہ صرف اپنے موقف کو عالمی سطح پر مضبوط کیا ہے، بلکہ بھارت کو یہ واضح پیغام بھی دیا ہے کہ وہ پاکستان کے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان کے عوام اور فوج اس وقت متحد ہیں اور کسی بھی بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔پاکستان کے اس موقف سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کو اس اہم مسئلے پر فوری اور سنجیدہ ردعمل دینے کی ضرورت ہے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رہ سکے۔

  • پاک بھارت جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں .تحریر:ملک سلمان

    پاک بھارت جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں .تحریر:ملک سلمان

    کچھ دن قبل میرے قریبی دوست میجر زاہد کی شادی کا کارڈ ملا کہ بھائی آپ نے 27اپریل کو لازمی شرکت کرنی ہے۔ ابھی تھوڑی دیر قبل میجر زاہدکی کال آئی کہ میں نے اپنے شادی کینسل کردی ہے، جس وقت وطن کو سرحد پر میری ضرورت ہے ایسے وقت میں گھر پر نہیں بیٹھ سکتا، جب امن قائم ہوگا تو نئی تاریخ سے اگاہ کردوں گا۔ یہی جذبہ آرمی، ائیر فورس اور نیوی کے دیگر افسران اور جوانوں کا ہے جو جو چھٹی پر تھا سب نے رضاکارانہ طور پر اپنی چھٹی کینسل کی درخواست دیتے ہوئے بری، بحری اور ہوائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے خود کو پیش کر دیا۔
    گذشتہ روز سے ہونے والی پاک بھارت کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خطرے کے باوجود میرے سمیت سارا پاکستان بہت سکون اور اطمینان میں ہے۔ شادیاں، فرینڈز گیدرنگ، کاروبار، سینما اور کھیل کے میدان سب ویسے ہی آباد ہیں۔کسی کو بھی جنگ کی فکر نہیں سب روٹین کے کاموں میں مشغول ہیں کیونکہ سارے پاکستان کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ہماری بہادر افواج اپنے سے دس گناہ بڑی انڈین آرمی کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ افواج پاکستان پر قوم کا اعتماد اور یقین یہی وہ طاقت ہے جو افواج کے جوانوں کو ہر طرح کے خطرے سے ٹکرا جانے کا جذبہ دیتی ہے۔
    سوائے افواج پاکستان کے سارا پاکستان روٹین لائف انجوائے کر رہا ہے کیونکہ انکو معلوم ہے کہ جب بھی وطن کو ضرورت ہوگی تو ایم ایم عالم بن کر خود ٹینکوں کے نیچے لیٹ جائیں گے لیکن عوام پاکستان کو خراش بھی نہیں آنے دیں گے۔ پاکستانی عوام تاریخ سے اگاہ ہے کہ وطن عزیز کیلئے راشد منہاس بن کر موت کو ترجیح دیں گے لیکن اس کی ایک انچ پر بھی دشمن کے ناپاک قدم نہیں پڑنے دیں گے۔
    بھارت کے 88ارب ڈالر سالانہ بجٹ کے مقابلے میں افواج پاکستان کا سالانہ بجٹ صرف ساڑھے سات ارب ڈالر ہے۔
    مسلح افواج کیلئے سالانہ بجٹ کے لحاظ سے امریکہ، چائنہ اور روس کے بعد بھارت چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان چالیسویں نمبر پر ہے۔ چالیسویں نمبر پر کم ترین بجٹ رکھنے والا پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کی موسٹ پاورفل افواج میں ٹاپ تھری میں ہے۔ گذشتہ ماہ بلوچستان ٹرین ہائی جیکنگ کو جس طرح ناکام بنا کر تمام مسافروں کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ایسا کامیاب آپریشن دنیا کی تاریخ میں پہلے نہیں دیکھا گیا، اس لیے پاکستان آرمی کے اس کامیاب آپریشن کودرجنوں ممالک کی "وارسٹڈی” کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بیسوں ممالک کی آرمی کے سنئیر افسران جنہوں نے ملکی کمانڈ کرنی ہوتی ہے وہ "وارکورس” کیلئے نیشنل ڈفینس یونیورسٹی اسلام آباد آتے ہیں۔ پاکستان کی بہادر افواج کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔
    میں خود بھی روٹین معاملات میں مگن ہوں اور آپ سے بھی یہی کہوں گا کہ آپ اپنی روزمرہ لائف کو انجوائے کریں لیکن اس خود اعتمادی، سکون اور تحفظ کا باعث بننے والی افواج پاکستان کیلئے دل سے شکریہ افواج پاکستان ضرور کہیں، فیس بک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ہیش ٹیگ میں بھارت کو مینشن کرکے بتائیں کہ ہم بے فکر ہیں، یہ دیکھو کھیل کی میدانوں میں، سینماؤں، ریسٹورنٹ اور تفریح گاہوں میں میں انجوائے کررہے ہیں کیونکہ ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور افواج پاکستان ہماری محافظ ہے۔
    افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، فوجی افسروں اور جوانوں نے ہرمشکل موقع پر وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنا اعزاز جانا، ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کی بدولت ہی ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ نا گہانی صورت حال یا آفت میں فوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی ہے۔ زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ومصیبت یا ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا اور کچلنا ہو، افواج پاکستان نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ کورونا کی وبا، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے اور مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں ان کا فوری بروقت اور موثر کردار نمایاں ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے اس کردار کی معترف ہے اور اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔

  • بھارتی دہشتگردی بے نقاب،دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھارتی دہشتگردی بے نقاب،دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہر الزام پاکستان پر مسلط کرنا مودی کا وطیرہ،بھارتی میڈیا بھی اقدار بھول گیا
    کشمیر جنت نظیر وادی کو خون میں کس نے نہلایا ،دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہیئں
    بزدل مودی سرکار جاہلیت کی ہر حد پار کرگئی،ناٹک پر ناٹک گھٹیا سوچ کےعکاس
    تجزیہ، شہزاد قریشی
    بھارت کی جانب سے بھارت میں دہشت گردی کے بعد سندھ طاس معاہدہ کی معطلی فیصلہ بھارتی جارحیت اور انتہاپسندی کی نشاندہی کرتا ہے، پاکستان کیخلاف اسی طرح کے دوسرے اقدامات جو سامنے آئے ہیں اس سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ بھارت ایک غیر سنجیدہ ملک ہے مودی حکومت اپنے اندرونی مسائل کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر دنیا کو گمراہ نہیں کر سکتا، پاکستان خود دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے مودی حکومت بتائے بلوچستان میں دہشت گردوں کی مالی امداد کون کر رہا ہے؟ افغانستان میں دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟ ماضی اور حال میں بھی پاکستان کے امن کو کون تباہ کر رہا ہے؟ مقبوضہ جموں و کشمیر تو بھارتی فوج کے کنٹرول میں ہے جہاں بھارتی فوج نے خون کی ندیاں بہا دیں اس جنت نظیر کو برباد کرنے والا کوئی اور نہیں بھارت خود ہے کشمیر میں دہشت گردی کے بعد مودی حکومت بھارتی سوشل اور الیکٹرونک میڈیا نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا ، ایک طوفان برپا کر دیا ، پاکستان نے دہشت گردی کی مذمت بھی کی ہے ،بھارت کی سکیورٹی ایجنسی کہاں تھی، بھارتی سلامتی کے ذمہ دار ادارے کہاں تھے؟ بغیر تحقیق پاکستان پر الزام لگانا اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے، سوال یہ بھی ہے کہ مودی حکومت نے اپنی بقا ءکے لئے یہ دہشت گردی کروائی ہو جیسا کہ سینیٹر مشاہد حسین نے بیان دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کے لئے بھارت نے بہانہ بنایا، سچ تو یہ ہے کہ بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا ،بیشمار دفعہ جنگی صورتحال پیدا ہوئی تاشقند سے لے کر شملہ اور لاہور سے لے کر آگرہ تک مصنوعی معاہدے بھی ہوئے لیکن ایسے ہر دور کے بعد صورتحال ماضی سے زیادہ ابتر ہوتی چلی گئی، بالخصوص موجودہ مودی سرکار ایک ناٹکی حکومت ہی قرار دی جا سکتی ہے ناٹک پر ناٹک

  • مسلسل تباہی لیکن آخر کب تک..تجزیہ :شہزاد قریشی

    مسلسل تباہی لیکن آخر کب تک..تجزیہ :شہزاد قریشی

    عالمی افق میں بدلتی صورت حال کے پیش نظر وطن عزیز میں استحکام اور ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے سیاسی اکابرین اور مقتدرہ کو جرات مندانہ فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا ، قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی ۔ تخلیقی سوچ ایماندار اور ترقی پسند و مخلص کردار کی لیڈر شپ مہیا کرنا ہوگی۔ صوبائی تعصب ، اقربا پروری اور کرپشن کسی بھی ملک اور قوم کے لئے زہر قاتل ہیں اور بابائے قوم نے بھی اپنے خطابات میں ان قباحتوں سے بچنے کی تلقین کی تھی۔ اور انہی سے نجات میں ملک کا استحکام پوشیدہ ہے آج وطن عزیز کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے۔ بلاشبہ نواز شریف نے اپنے سابقہ ادوار میں ملک میں موٹرویز ، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے ، بیروزگاری میں کمی ،روزگار کے لئے آسان قرضوں کی فراہمی ،ایٹمی دھماکوں بیرونی قرضوں سے نجات اور خود انحصاری کی جانب کئی اقدامات اٹھائے اور پھر سی پیک جیسے منصوبے کو لاکر پاکستان کوبین الاقوامی معاشی ترقی میں خطے کی اُبھرتی ہوئی معیشت کی صفوں میں لاکھڑا کیا۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی او ر معاشی استحکام کا سفر اُسی جذبے اور بصیرت سے جاری رکھا جائے ۔ آج بھی ماضی کی طرح نواز شریف آج بھی بلوچستان کی دکھتی رگ پراپنا ہاتھ رکھ کر علیحدگی پسند سوچوں کی چنگاریں کو بجھا سکتے ہیں۔ آج بھی نواز شریف اور اُنکی ٹیم مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ استحکام پاکستان خطے میں پائیدار امن اورترقی کا ضامن ہے۔بین الاقوامی طاقتوں اور خطے کے علاقائی طاقتوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ملک کی سیاست اور مقتدرہ کو درست وقت اور درست سمت کا تعین کرنا ہوگا۔ مشرق وسطیٰ کا مستقبل کیا ہے ، کیا ہونے جا رہاہے۔ روس یوکرین جنگ کا خاتمہ ہو گا یا نہیں مشرق وسطی اور کشمیر کی گونج دہائیوں سے عالمی دنیا کے کونے کونے میں سنائی دے رہی ہے ۔ خون ریزی اور تباہی کی کہانیاں کون نہیں جانتا۔دنیا مسلسل غرق ہور ہی ہے امریکہ اور عالمی قوتوں کے سامنے مسلسل تباہی ہو رہی ہے ۔ آخر کب تک ؟