Baaghi TV

Category: سیاست

  • مسلسل تباہی لیکن آخر کب تک..تجزیہ :شہزاد قریشی

    مسلسل تباہی لیکن آخر کب تک..تجزیہ :شہزاد قریشی

    عالمی افق میں بدلتی صورت حال کے پیش نظر وطن عزیز میں استحکام اور ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے سیاسی اکابرین اور مقتدرہ کو جرات مندانہ فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا ، قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی ۔ تخلیقی سوچ ایماندار اور ترقی پسند و مخلص کردار کی لیڈر شپ مہیا کرنا ہوگی۔ صوبائی تعصب ، اقربا پروری اور کرپشن کسی بھی ملک اور قوم کے لئے زہر قاتل ہیں اور بابائے قوم نے بھی اپنے خطابات میں ان قباحتوں سے بچنے کی تلقین کی تھی۔ اور انہی سے نجات میں ملک کا استحکام پوشیدہ ہے آج وطن عزیز کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے۔ بلاشبہ نواز شریف نے اپنے سابقہ ادوار میں ملک میں موٹرویز ، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے ، بیروزگاری میں کمی ،روزگار کے لئے آسان قرضوں کی فراہمی ،ایٹمی دھماکوں بیرونی قرضوں سے نجات اور خود انحصاری کی جانب کئی اقدامات اٹھائے اور پھر سی پیک جیسے منصوبے کو لاکر پاکستان کوبین الاقوامی معاشی ترقی میں خطے کی اُبھرتی ہوئی معیشت کی صفوں میں لاکھڑا کیا۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی او ر معاشی استحکام کا سفر اُسی جذبے اور بصیرت سے جاری رکھا جائے ۔ آج بھی ماضی کی طرح نواز شریف آج بھی بلوچستان کی دکھتی رگ پراپنا ہاتھ رکھ کر علیحدگی پسند سوچوں کی چنگاریں کو بجھا سکتے ہیں۔ آج بھی نواز شریف اور اُنکی ٹیم مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ استحکام پاکستان خطے میں پائیدار امن اورترقی کا ضامن ہے۔بین الاقوامی طاقتوں اور خطے کے علاقائی طاقتوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ملک کی سیاست اور مقتدرہ کو درست وقت اور درست سمت کا تعین کرنا ہوگا۔ مشرق وسطیٰ کا مستقبل کیا ہے ، کیا ہونے جا رہاہے۔ روس یوکرین جنگ کا خاتمہ ہو گا یا نہیں مشرق وسطی اور کشمیر کی گونج دہائیوں سے عالمی دنیا کے کونے کونے میں سنائی دے رہی ہے ۔ خون ریزی اور تباہی کی کہانیاں کون نہیں جانتا۔دنیا مسلسل غرق ہور ہی ہے امریکہ اور عالمی قوتوں کے سامنے مسلسل تباہی ہو رہی ہے ۔ آخر کب تک ؟

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز  کا عوام دوست وژن.تحریر:نور فاطمہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا عوام دوست وژن.تحریر:نور فاطمہ

    وزیراعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف نے عوامی فلاح و بہبود کی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کر دی ہے۔ اُن کی قیادت میں پنجاب حکومت ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جہاں ہر طبقہ فکر، خاص طور پر پسماندہ اور نظر انداز کیے گئے افراد، کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے۔ حالیہ اعلانات اور اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وزیراعلیٰ کی توجہ صرف اعلانات پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام سرکاری عمارتوں میں خصوصی افراد کے لیے ریمپ بنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اُن افراد کو بھی معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہے جو جسمانی معذوری کے باعث محدود ہیں۔یہ سہولت نہ صرف سرکاری دفاتر تک ان کی رسائی کو آسان بنائے گی بلکہ انہیں احساسِ شمولیت بھی دے گی۔

    مریم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پہلے پانچ ماہ میں 30 ہزار گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں، جو کہ "اپنی چھت، اپنا گھر” پراجیکٹ کا حصہ ہیں۔ یہ کارنامہ پاکستان کی تاریخ میں ایک مثال بن چکا ہے، کیونکہ اس سے پہلے کوئی بھی حکومت عوام کے لیے تین ہزار گھر بھی نہ بنا سکی۔ان کا ہدف ہے کہ سال کے آخر تک 1 لاکھ گھر مکمل کیے جائیں تاکہ ہر بے گھر کو چھت فراہم کی جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا”میں ہر اس شخص تک پہنچنا چاہتی ہوں جو ریاست کا انتظار کر رہا ہے۔”یہ جملہ نہ صرف ان کے وژن کا عکاس ہے بلکہ اُن کی فلاحی سوچ کی گہرائی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ حکومت اب صرف دفتر کے دروازے کھول کر انتظار نہیں کرے گی بلکہ خود عوام کے دروازے تک پہنچے گی۔

    معذور اور جسمانی طور پر کمزور افراد کے لیے ایک اور خوشخبری یہ ہے کہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا پورٹل فعال کر دیا گیا ہے۔جو افراد جسمانی کمزوری کا شکار ہیں وہ اس پورٹل پر رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔حکومت ضرورت کے مطابق معاون آلات ان کے گھروں تک پہنچائے گی۔یہ اقدام ان افراد کو زندگی میں مزید آزادی اور خود مختاری دے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے یکم مئی کو ایک اور تاریخی قدم اٹھایا جا رہا ہے،پاکستان کا سب سے بڑا راشن کارڈ پروگرام لانچ کیا جائے گا۔اس پروگرام کے تحت 12.5 لاکھ خاندانوں کو 10 ہزار روپے نقد رقم فراہم کی جائے گی۔یہ اسکیم مہنگائی کے مارے افراد کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف بن کر سامنے آئے گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے کیے گئے یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت صاف ہو اور وژن مضبوط ہو تو تبدیلی ممکن ہے۔ معذور افراد کی سہولت، بے گھر افراد کو چھت، اور غریب طبقے کیلئے معاشی امداد ، یہ سب ایک ہمہ گیر فلاحی وژن کا حصہ ہیں۔اب یہ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں، خود بھی رجسٹریشن کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی آگاہ کریں۔

  • اوورسیز کنونشن اورشہباز شریف سے وابستہ توقعات.تحریر:ملک محمد سلمان

    اوورسیز کنونشن اورشہباز شریف سے وابستہ توقعات.تحریر:ملک محمد سلمان

    اوورسیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9ماہ میں 28 بلین ڈالر جبکہ مارچ میں ریکارڈ4.1بلین ڈالر ترسیلات زر پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاکہ معاشی استحکام کا کریڈٹ چیف آف آرمی سٹاف اور حکومتی ٹیم کے ساتھ ساتھ اورسیز پاکستانیوں کو جاتا ہے جنہوں نے پاکستان کو درپیش فارن ایکسچینج کے چیلنج کے گیپ کو پورا کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کی جلد پروسیڈنگ کیلئے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں قائم کردی گئی ہیں جبکہ پنجاب میں بھی ایسی عدالتوں کے قیام کا عمل جاری ہے، پنجاب میں قانون سازی ہوچکی ہے اور دیگر صوبوں میں بھی بہت جلد یہ کام ہوگا۔ ویڈیو لنک کے ذریعے شواہد کی ای ریکارڈنگ کی سہولت بہت جلد دی جائے گی تاکہ آپ کو پاکستان نہ آنا پڑے اور مقدمات کی بھی ای فائلنگ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے، یہ کام انشااللہ 90 دن کے اندر مکمل ہوجائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی چارٹر یونیورسٹیز میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے 5 فیصد جبکہ میڈکل کالجز میں 15 فیصد کوٹہ دینے کی خوشخبری بھی سنائی۔ ٹیکس ادائیگی میں بڑا ریلیف دیتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کو فائلرز کے طور پر ٹریٹ کرنے کا اعلان کیا جبکہ سرکاری نوکری کی حد عمر میں 10 سال کی خصوصی رعائیت کا اعلان کیا۔ زیادہ ترسیلات زر بھیجنے اور بیرون ممالک پاکستان کا نام روشن کرنے والوں کیلئے سول ایوارڈ کی خوشخبری بھی سنائی گئی۔

    ماضی میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کی تکلیف کو سب سے پہلے شہباز شریف نے محسوس کیا تھا اور بطور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2014ء میں اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب قائم کیا۔ آن لائن کمپلینٹ پورٹل بنایا گیا جہاں اوورسیز پاکستانی دنیا بھر سے اپنی شکایات کا اندرج کراسکتے ہیں۔ شہباز شریف خود ہر ماہ اس کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لیتے تھے جس کی بدولت او پی سی پنجاب کے ذریعے ہزاروں اوورسیزپاکستانیوں کے مسائل حل ہوئے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کنوشن سے خطاب کیلئے آئے تو حال عاصم منیر زندہ آباد پاک آرمی زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔اوورسیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب میں جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا آپ کے جذبات دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ آپ کیلئے ہمارے جذبات اس سے بھی زیادہ مضبوط ہیں، آپ پاکستان کی وہ روشنی ہیں جو پورے اقوام عالم پر پڑتی ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ہمیشہ اپنا سرفخر سے بلند رکھیں کیونکہ آپ ایک عظیم اور طاقتور ملک کے نمائندے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھاکہ دشمن کو غلط فہمی ہے کہ مٹھی بھر دہشت گرد بلوچستان یا پاکستان کی تقدیرکا فیصلہ کرسکتے ہیں؟بلوچستان پاکستان کی تقدیر اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہے، غیور عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور آپ کی فوج ہر مشکل سے نبرد آزما ہونے کیلئے تیار ہے۔ کسی کو بھی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔

    مختلف ممالک سے آئے اوورسیز سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے درخواست کی کہ وزیراعظم تک یہ بات بھی ضرور پہنچایئے گا کہ اوورسیز پاکستانی بیرون ملک کسی تکلیف یا مسئلے کیلئے پاکستانی سفارت خانے جائیں تو کوئی بھی سرکاری بابو ان کی بات سننا تو درکنارملنا گوارا نہیں کرتا۔ فارن آفس کے سفارتی افسران کمیونٹی کی خدمت اور پاکستان کے مثبت ایمج کیلئے سفارتی کوششیں کرنے کی بجائے تحائف اکٹھے کرنے اور اپنے خاندان کے افراد کیلئے وہاں کی نیشنیلٹی لینے کیلئے جان لڑا رہے ہوتے ہیں۔ سفارتی افسران کا ایک ہی طریقہ واردات ہے رشتے داروں کے نام پر ویزہ انویٹیشن لیٹر مانگتے ہیں۔ گفٹ اور ویزہ انویٹیشن دینے کی سکت نہ رکھنے والے عام پاکستانیوں کو حقیر سمجھ کر ملنا بھی گواراہ نہیں کرتے جبکہ بڑے کاروباری افراد کے آگے پیچھے دم ہلاتے ہیں۔ ویزہ پالیسی میں سختی اور پاکستانیوں کی بے قدری کی سب سے بڑی وجہ سفارت خانے کا عدم تعاون ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی آرمی افسر بطور سفیر تعینات کیا جاتا ہے تو ناصرف تحفے تحائف والا سلسلہ رک جاتا ہے بلکہ پاکستانیوں کے لیے بلا روک ٹوک سفارت خانے کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں اس لیے سفارتی سطح پر آرمی افسران کی تقرری سے نہ صرف کرپشن اور عام پاکستانیوں کی تذلیل رکتی ہے بلکہ وہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کی عزت و وقار میں اضافے کو پہلی ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے تمام اہم ممالک میں آرمی افسران کو سفیر مقرر کرکے دنیا بھر میں پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی عزت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں کسی ہائوسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لیتے ہیں تو انکو دکھایا کچھ جاتا ہے اور دیا کچھ ۔قیمت سب سے قیمتی پلاٹ کی لی جاتی ہے اور دیا سب سے ارزاں والا جاتا ہے ۔ لینڈ مافیااور سرکاری افسران کی ملی بھگت سے جعلی کاغذات کے ذریعے اوورسیز کے گھر اور پلاٹوں پر قبضے ہونامعمول بن چکا۔ اوورسیز اسی کو قسمت کا فیصلہ سمجھ کر دوبارہ پاکستان میں انویسٹمنٹ نہ کرنے کا تہیہ کرکے نکل جاتے تھے لیکن ابھی وزیراعظم کی طرف سے خصوصی عدالتوں کے قیام سے انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر ایف آئی اے اہلکاروں کا سخت رویہ اور کسٹم والوں کا قیمتی تحائف رکھنا معمول ہے، اتنے کی چیز نہیں ہوتی جتنا کسٹم ٹیکس ڈال کر قبضے میں رکھ لیتے ہیں ۔وزیراعظم شہباز شریف سے گزارش ہے کہ ایئرپورٹ سے کرپٹ اور بدتمیز افسران اور اہلکاروں کو فوری ہٹایا جائے اور تمام ایئرپورٹس پر اوورسیز فیسلیٹیشن ڈیسک بنائے جائیں۔

  • گیم چینجر سیاسی جماعت اور سیاستدانوں کی ضرورت،تحریر:شہزاد قریشی

    گیم چینجر سیاسی جماعت اور سیاستدانوں کی ضرورت،تحریر:شہزاد قریشی

    دنیا کو کسی اور پھر بے اختیار ادارے کی ضرورت نہیں ،جو خالی بیانات جاری کرے۔ دنیا کو بین الاقوامی سطح پر ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو دنیا کا دفاع کر سکے ۔خلق خدا کو جنگوں سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ میری مراد اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی ،عرب لیگ وغیرہ وغیرہ ۔ اسی طرح دنیا کو کسی ایسی عدالت کی ضرورت نہیں جس کے حکم پر عمل نہ کیا جائے۔ وطن عزیز کی ہنگامہ خیز سیاست ، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو خلق خدا کے لئے اور پاکستان کے وقار سلامتی کے لئے ہنگامی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔ پاکستان کو اس وقت گیم چینجر سیاسی جماعت اور سیاستدانوں کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک کی داخلی اورخارجہ پالیسیاں تبدیلیا ں ہو رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے اثرات بلاشبہ پاکستان پر بھی پڑے گی ۔

    دنیا میں معاشی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے ۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان یعنی امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ پاکستان کی قومتی سلامتی کے اداروں نے بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کا ہماری دفاعی طاقتوں کا کردار قابل ستائش ہے ۔ ملک وقوم کی حفاظت پر مامور دفاعی ادارے جو انمردی سے ان موت کے سوداگروں کو شکست سے دوچار کررہے ہیں۔ ماضی میں دفاعی اداروں نے دہشت گردوں اور ملک سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کیا ، ایک عالم گواہ ہے۔ وطن عزیز کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ بھارت کا ناپاک خواب ہمارے دفاعی ادارے کبھی پورے نہیں ہونے دیں گے۔ موجودہ عالمی تجارتی جنگ میں امریکہ سمیت عالمی دنیامیں تعینات سفیروں کواپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کویقین دلانا ہوگا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے ،اپنی بیگمات کی این جی اوز سے توجہ ہٹا کر وطن عزیز کی معیشت پر توجہ دینی ہوگی۔ دنیا بھر میں تعینات کمرشل قونصلر اپنے آپ کو کمرشل کرنے کی بجائے وطن عزیز کی معیشت اور تجارت پر توجہ دیں۔ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ہنگامی سیاست سے نکل کر وطن عزیز کی سلامتی اوروقار کو مد نظر رکھتے ہوئے سرجوڑ کر بیٹھیں ۔ ملکی مفاد کو اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینا کون سی قومی خدمت ہے۔

  • سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی

    سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی

    سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی

    پاکستان کا زرعی مستقبل اور معاشی استحکام اس کے پانی کے وسائل سے جڑا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ وسائل نہ صرف تیزی سے کم ہو رہے ہیں بلکہ سیاسی تنازعات کی نذر بھی ہو رہے ہیں۔ سندھ میں دریائے سندھ سے چھ نہروں کے مجوزہ منصوبے نے ایک ایسی بحث کو جنم دیا ہے جو پانی کی تقسیم، صوبائی خودمختاری اور سیاسی بیانیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس تناظر میں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی سرگرمیاں اور پیپلز پارٹی کی متضاد پوزیشننگ نے اس بحران کو ایک نیا رنگ دیا ہے۔ اس کالم میں موجودہ پیچیدہ صورتحال کو ایک نئے زاویے سے روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، جہاں ماحولیاتی تحفظ، سیاسی حکمت عملی اور عوامی مفادات کا ٹکراؤ واضح ہوتا ہے۔

    سندھ کی زمینوں کی زرخیزی کا دارومدار دریائے سندھ کے پانی کی مرہون منت ہےجو آج پانی کی قلت اور تقسیم کے مسائل سے دوچار ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے اس صوبے کے ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ نہ صرف آلودگی اور جنگلات کی کٹائی جیسے موضوعات پر بات کرتے ہیں بلکہ اب پانی کی تقسیم اور نہروں کے منصوبے کو ماحولیاتی نقطہ نظر سے جوڑ کر ایک نیا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ چھ نہروں کا منصوبہ سندھ کے پانی کے حصے کو کم کر کے زرعی معیشت اور ماحولیاتی توازن کو خطرے میں ڈالے گا۔ ان کی سرگرمیوں نے کسانوں، ماہی گیروں اور دیہی کمیونٹیز کے مسائل کو قومی سطح پر پیش کیا ہے جس سے نہروں کے خلاف بننے والا بیانیہ مضبوط ہوا۔

    دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی جو سندھ کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے اس تنازع میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ پارٹی نے ابتدا میں نہروں کے منصوبے کی موجودگی سے ہی انکار کیا لیکن جب عوامی دباؤ بڑھا تو اس نے موقف بدل کر نہروں کی مخالفت شروع کر دی۔ تاہم اس کوشش کو عوام نے شک کی نگاہ سے دیکھا کیونکہ پارٹی کی قیادت وفاقی اتحاد کا حصہ ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی فوائد جیسا کہ بلاول بھٹو کی ممکنہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے سندھ کے پانی کے حقوق پر سمجھوتہ کیا۔ یہ الزامات پارٹی کی ساکھ کے لیے خطرناک ہیں خاص طور پر جب سندھ کے ووٹرز روایتی طور پر وڈیروں اور جاگیرداروں کی وفاداری پر ووٹ دیتے رہے ہیں نہ کہ پارٹی کے نظریے پر۔

    چھ نہروں کا تنازع محض پانی کی تقسیم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ صوبوں کے درمیان اعتماد کی کمی اور سیاسی عزائم کا کھیل بنتا جارہاہے۔ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ نہریں پسماندہ علاقوں میں زرعی ترقی لائیں گی لیکن سندھ کے لوگ اسے اپنے حصے کے پانی پر ڈاکہ قرار دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس بیانیے کو وفاق اور پنجاب کے خلاف موڑنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی۔ عوام یہ سمجھتی ہے کہ پیپلزپارٹی وفاق میں سندھ کا کیس مؤثر طریقے سے پیش نہیں کر سکی۔ اس سے پارٹی کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے اور خاص طور پر جب تحریک انصاف جیسی جماعتیں اس تنازع کو اپنے حق میں استعمال کر رہی ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں نہروں کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی نے اس کی کمزوری کو اجاگر کیا۔ اگر پارٹی تحریک انصاف کی پیش کردہ قرارداد کی حمایت سے گریز کرتی ہے تو اسے سندھ میں سیاسی طور پر بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ پارٹی اب بلاول بھٹو تک پہنچتے پہنچتے اپنی تاریخی افادیت کھو چکی ہے۔ ماضی میں سندھ اور پنجاب میں اس کا بیانیہ یکساں تھا لیکن اب وہ اسے اپنے انداز میں ڈھالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

    پانی کا بحران پاکستان کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے اور اس کا حل سیاسی تنازعات سے بالاتر ہو کر تلاش کرنا ہوگا۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی سرگرمیاں اس بحران کو حل کرنے کے لیے ایک نئی سمت دکھاتی ہیں، جہاں پانی کی تقسیم کو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی سے جوڑا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کرے اور سندھ کے عوام کے مفادات کو ترجیح دے۔ وفاقی حکومت کو تمام صوبوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے شفاف مذاکرات کرنے ہوں گے۔

    اس کے علاوہ پاکستان کو جدید آبپاشی نظام، ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے منصوبوں کو سیاسی تنازعات سے بچا کر مکمل کیا جائے۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ایک مضبوط نگرانی کا نظام بنایا جائے۔ سب سے بڑھ کر عوام کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کے تحفظ میں کردار ادا کر سکیں۔

    سندھ کا پانی صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں ہےبلکہ پاکستان کی زرعی اور معاشی بقا کا سوال ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی سرگرمیاں اس بحران کو ماحولیاتی تناظر میں پیش کر کے ایک نئی امید جگاتی ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی سیاسی ناکامیاں اسے پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ اگر اس تنازع کو قومی اتفاقِ رائے سے حل نہ کیا گیا تو نہ صرف سندھ بلکہ پورا پاکستان پانی کی قلت کے سنگین نتائج بھگتے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی عزائم کو پس پشت ڈال کر پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک متحدہ حکمت عملی بنائی جائے۔ پاکستان کا مستقبل اسی میں ہے کہ ہم اپنے وسائل کو سمجھداری سے استعمال کریں اور قومی مفاد کو سیاسی اختلافات پر مقدم رکھیں۔

  • تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کا ذمہ دار کون؟تحریر:ملک سلمان

    تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کا ذمہ دار کون؟تحریر:ملک سلمان

    ووٹ بینک خراب ہونے کے ڈر سے جتنی بھی حکومتیں آئیں کسی نے بھی تجاوزات کے خلاف ایکشن لینے کی زحمت نہیں کی جس کے نتیجے میں تجاوزات بلین ڈالرز کی اندسڑی بن گئی تھی اور یہی لگتا تھا کہ تجاوزات کا خاتمہ مشن امپاسبل ہوچکا، جتنے بھی حکمران آئے وہ تجاوزات کے اصل بینیفشریز پارلیمنٹیرین اور بیوروکریسی کے سامنے بے بس ہوکر ہار مان جاتے تھے۔ تجاوزات پورے پاکستان کا مسئلہ ہے لیکن سوائے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے کسی نے بھی تجاوزات کے خاتمے کیلئے کوشش نہیں کی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تجاوزات مافیا کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کا حکم دیا تو عارضی اور پختہ تجاوزات کو ہٹایا گیا، کئی ہزار ارب کے زمینیں واگزار ہوئیں۔ مختلف یونیورسٹیز میں ہونے والے سروے اور ریفرنڈم میں مریم نواز نوجوانوں کی مقبول ترین لیڈر بن کرسامنے آئی ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی تجاوزات اور لاقانونیت کے خلاف زیروٹالریشن اور نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف ، خواتین کیلئے سکوٹی سمیت درجنوں منصوبوں کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور پڑھے لکھے طبقے کا اچھا خاصا ووٹ بینک ان کی طرف آیا ہے۔ تجاوزات کے خاتمے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے سندھ اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ نے بھی تجاوزات کے خلاف کاروائی کا حکم دیا۔ تجاوزات کا خاتمہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جرات اور حب الوطنی کی پہچان بن چکا ہے۔سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا مریم نواز نے اٹھایا ہے اس کیلئے پنجاب کا ہر فرد وزیراعلیٰ کے ساتھ ہے۔ انتظامی افسران نے خودساختہ فیصلے کے تحت رمضان اور ’’عید لگانے دو ‘‘ کے نام پر تجاوزات کے خلاف کاروائی روک دی جس کے نتیجے میں صورت حال ایک دفعہ پھر سے زیرو پر آچکی ہے۔ میڈم وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کو بلا تعطل جاری رہنا چاہئے اور ایسے افسران کا بھی احتساب ضروری ہے جو تجاوزات کے خاتمے میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے اس مافیا کا ساتھ دے رہے ہیں۔ تجاوزات قائم کرنے والوں کیلئے تو سزا ہے لیکن تجاوزات کو ہٹانے میں ناکام ہونے والے انتظامی افسران کیلئے بھی عہدوں سے معطلیاں اور نوکری سے برخاستگی کی کاروائی کیے بن یہ مشن ادھورا ہی رہ جائے گا۔ باعزت روزگار کیلئے حکومت پنجاب نے بہترین ریڑھی بازار قائم کیے ہیں۔ ان کے علاوہ تمام ریڑھیاں اور رکشے قبضے میں لے لینے چاہئیں۔ مریم نواز حکومت کو چاہئے کہ جدید پنجاب کو عملی شکل دینے کیلئے سختی اور آہنی ہاتھوں سے ہر طرح کی غیرقانونی پارکنگ اور تجاوزات کا خاتمہ کروائیں۔ چھوٹی بڑی شاہرائیں ریڑھی اور رکشہ شاپ بن چکی ہیں۔ تجاوزات کا سامان ہرگز واپس نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ دن میں کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو شام کو وہی تجاوزات واپس آجاتی ہیں۔ حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنا ہوگی دکانداروں کو بتانا ہوگا کہ صرف دکان تمہاری ہے نہ کہ سامنے والا فٹ پاتھ اورسڑک۔ تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صرف ایک دفعہ کے فوٹو سیشن تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اس کا فالو اپ بھی لیں۔ فیصل آباد، ڈی جی خان، جہلم، مری، حافظ آباد، جھنگ اور ساہیوال کے اضلاع کے علاوہ کہیں بھی تجاوزات کے خلاف قابل ذکر کاروائی نہیں کی گئی۔ اس مشن کی کامیابی اور عوامی شکایات کیلئے وزیراعلیٰ پورٹل بنایا جائے جہاں تجاوزات کی نشان دہی کی ویڈیوز اور تصاویر بھیجی جاسکیں، وزیراعلیٰ آفس ہفتہ وار رپورٹ لے۔ ایڈیشل چیف سیکرٹری کی سپرویژن میں تجاوزات فری پنجاب کے نام سے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کا گروپ بنایا جائے تاکہ کام کرنے والوں کو شاباش اور نہ کرنے والوں کر شرم دلائی جاسکے۔ ہائی ویز اور جی ٹی روڈ پر ابھی تک تجاوزات کی بھرمار ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام اور حادثات معمول بن چکا ہے۔ سڑکوں اور سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کاروائی بھی ناگزیر ہے ۔ سڑک سے تجاوزات ہٹانا صرف ڈی سی کا کام نہیں بلکہ ناجائز پارکنگ اور مختلف کاروباری بورڈ لگا کر سڑکوں اور گلیوں کو بند کرنے پر ٹریفک پولیس کو بھی کاروائی کرنی چاہئے۔ گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی نرسریاں، ایکسٹرا ریمپ اور نوپارکنگ کے نام پر مین شاہراہ اور گلیوں بازاروں میں پتھر رکھ کر ڈیرے اور کاروباری بورڈ لگا کر سڑک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے۔ لاہور سمیت پنجاب میں سرکاری زمینوں پر بنائی گئی پختہ اور عارضی تجاوزات کا ماہانہ کرایہ لینے والے سنئیر افسران اور سیاستدان بہت ساری اہم جگہوں سے تجاوزات کے خاتمے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہئے کہ ایک دفعہ پھر سے واضح احکامات جاری کیے جائیں کہ کسی بھی سیاسی اور انتظامی افسران کے پریشر کو خاطر میں لائے بن تجاوزات مافیا کا قلع قمع کیا جائے تاکہ تجاوزات مافیا کے زیر قبضہ چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمینوں کو حکومت کی تحویل میں لیا جاسکے۔ لاہور کا ذکر کرنا اس لیے ضروری ہے کہ صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے چیف ٹریفک آفیسر ، اسسٹنٹ کمشنرز، میونسپل کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ تجاوزات کی کمائی کھانے کیلئے پنجاب کو لاقانونیت کی بدترین تصویر بنانے والے تجاوزات مافیا اور ان کو سپورٹ کرنے والے انتظامی افسران کو جیل بھیجا جائے تاکہ قانون کا ڈر اور سٹیٹ کی رٹ بحال ہو۔

  • بی ایل اے  کی ملک دشمنی،کاروائی ضروری.تحریر:جان محمد رمضان

    بی ایل اے کی ملک دشمنی،کاروائی ضروری.تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان، پاکستان کا وہ خطہ ہے جو قدرتی وسائل، ثقافت اور حب الوطنی میں بے مثال ہے۔ بلوچ قوم نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا ہے، چاہے وہ دفاع وطن ہو، ترقیاتی منصوبے ہوں یا قومی یکجہتی کی بات۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ شرپسند عناصر اور بیرونی ایجنڈوں پر کام کرنے والی تنظیمیں، خصوصاً بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی)، اس خطے کی خوبصورتی کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔بی ایل اے ایک شدت پسند تنظیم ہے جو خود کو بلوچوں کی نمائندہ ظاہر کرتی ہے، مگر درحقیقت یہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اور دیگر غیر ملکی طاقتوں کی آلہ کار بن چکی ہے۔ ان کا ایجنڈا صرف اور صرف پاکستان دشمنی پر مبنی ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان میں بدامنی، تخریب کاری اور معصوم شہریوں کے قتل جیسے جرائم میں ملوث ہے۔

    بی ایل اے اور ان کے حمایتی "مسنگ پرسن” کے نام پر اداروں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ چلا رہے ہیں۔ یہ ایک پرانی چال ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا، ریاستی اداروں پر بداعتمادی پھیلانا اور دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نام نہاد "لاپتہ افراد” خود دہشت گرد تنظیموں کا حصہ ہوتے ہیں یا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں۔اب وقت آ چکا ہے کہ ریاست ان اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔ بی ایل اے جیسے عناصر اور ان کے بیرونی آقا، چاہے وہ بھارت ہو یا کوئی اور ملک، پاکستان کی سالمیت کے خلاف کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ان کے ناپاک عزائم کو روکنے کے لیے ہر سطح پر قومی اتحاد اور مضبوط پالیسی کی ضرورت ہے۔

    ملک کے اندر ہر محب وطن شہری، چاہے وہ بلوچ ہو، پنجابی، سندھی، پٹھان یا کشمیری، سب کی یہی خواہش ہے کہ پاکستان امن و ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ پاکستان دشمن عناصر کے خلاف ایک مضبوط اور منظم ردعمل ہی ہمیں اس منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہاں سے دہشتگرد عناصر کا مکمل صفایا کیا جائے۔بلوچ قوم پاکستان کی ایک غیرت مند اور باوقار قوم ہے۔ بی ایل اے جیسے شدت پسند گروہ اس قوم کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ یہ پاکستان دشمن طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ریاست اور عوام مل کر ان سازشوں کو ناکام بنائیں اور بلوچستان کو امن، خوشحالی اور ترقی کا گہوارہ بنائیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ غیر ملکی مداخلت کو روکا جائے اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کیا جائے۔بلوچ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ان دہشت گرد گروہوں سے دور رہیں۔ انہیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، اور یہاں کے لوگ محب وطن پاکستانی ہیں۔ ہمیں مل کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

  • خیبر سے کشمیرتک،ملکی ترقی میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    خیبر سے کشمیرتک،ملکی ترقی میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نوازشریف نے 1985ء میں ترقی کے سفر کی بنیاد رکھی ،آج تک جاری ہے
    پاکستان میں کئی لیڈرآئے اور گئے،قوم کو نواز شریف جیسا کوئی نہ مل سکا
    ٹرمپ غیر مسلم،اللہ پر یقین پختہ،ہم مسلمان ہوکر اللہ کی جانب راغب کیوں نہیں ہوتے
    تجزیہ،شہزا د قریشی

    قوموں کے عروج و زوال ترقی و تنزلی میں قائدین کا اہم کرادر ہوتا ہے،قوموں کی ترقی میں قائدین کی بصیرت اور حکمت عملی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،جو قائدین اپنی قوم اور ملک کے لئے فکر مند ہوں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ قوم بھی اپنے قائدین کی قدر اور ان پر اعتماد کرے،بلاشبہ وطن عزیز میں ایسے قائدین رہے ہیں جنہیں ملک وقوم کی فکر تھی، جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتے تھے،وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی دیکھنا چاہتے تھے، آج کی سیاست میں اقتدار ،اختیارات ،غرور وتکبر ،ہوس زر کے پیچھے بھاگتی نظر آتی ہے،ماضی میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک و قوم کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا،1985 ء سے شروع ہونے والا تعمیر وترقی کا یہ سلسلہ تین بار وزارت عظمیٰ تک جاری رہا ،نواز شریف کابطور وزیراعظم تعمیر و ترقی میں بلوچستان اور گلگت بلتستان تک جاری رہا، گلگت بلتستان کو شناخت دی ، تعمیر وترقی کے لئے بجٹ مختص کیا،بجٹ میں اضافہ کیا ، جس سے گلگت بلتستان کی عوام کی زندگیوں میں خوشحالی آئی، جب سے امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی سطح کے فیصلے کرنا شروع کئے ہیں،دنیا میں افراتفری کا سماں ہے تاہم امریکی عوام ٹرمپ کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں،ٹرمپ کی زندگی کی کہانی اور ان کی جدوجہد کئی عشروں سے لوگوں کے سامنے ہے، ٹرمپ ونڈر فل سیاستدان ہونے کے ساتھ ونڈر فل کرسچین بھی ہیں ، ان کے کان کے نزدیک گولی گزری تو کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے بچایا ،ہر فیصلے کے بعد ٹرمپ کی زبان پرGOD HELP ME ہوتا ہے،روس اور یوکرین کے درمیان معاملات طے ہونے والے ہیں بلکہ بہت ہی قریب ہیں، ایران کو امریکہ نے دھمکی ضرور دی ہے تاہم ایران کے تین یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات جنیوا میں جاری ہیں، اندازہ ہے کہ امریکہ اور ایران بات چیت سے اپنے مسائل حل کرلیں گے

  • تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    گذشتہ روز ہر کوئی نئے کپڑے زیب تن کیے عید کی خوشیاں منانے میں مشغول تھا، بینک کے اے ٹی ایم پر گیا تو بینک گارڈ کو دیکھا کہ وہ نئے کپڑوں کی جگہ اپنی وردی میں کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا کہ انکل جی آپ کو عید کی چھٹی نہیں ملی اس نے کہا کہ سر اتنی قسمت کہاں دو میں سے کسی ایک عید کی ہی چھٹی ملتی ہے۔ میں نے پیسے نکلواتے وقت فیصلہ کیا کہ اگر کوئی عیدی کا حقدار ہے تو ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھر اور خاندان سے دور رہ کر اپنی عید قربان کرکے رزق حلال کما رہے ہیں۔میں نے اسے پیسے تھماتے ہوئے کہا کہ چاچا عیدی اس نے دعائیں دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح چند اور مقامات پر ڈیوٹی پر مامور افراد کو عیدی دی۔ خاص طور پر لاہور اور گاؤں دونوں جگہ گھریلو ملازمین اور محلے کے گارڈ کو عیدی دی۔ رات کو دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کیلئے ریسٹوران کا رخ کیا تو وہاں بھی ویٹر کو روٹین سے زیادہ ٹپ بطور عیدی دی۔ ان تھوڑی تنخواہ والے ملازمین کو تھوڑی سی رقم بطور عیدی دیکر نیکی کی فوری قبولیت کا احساس ہوا۔ یقین کریں قبولیت کا احساس نماز، روزہ اور عبادات سے بھی زیادہ تھا، حقیقی سکون اور خوشی۔

    نماز، روزہ اور عبادات لازم ہیں اور ریگولر کرتے بھی ہیں اس کے باوجود اللہ سے قبولیت کیلئے دعا گو بھی ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے وقت پتا نہیں کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ عبادات بھی ایسے اعمال سے ہی قبول کرے گا۔ چند ہفتے قبل دوران سفر ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کیلئے رکا، گاڑی سے مصلیٰ (جائے نماز) لی، جمعہ کی دوسری اور آخری رکعت میں سلام پھیرنے سے چند لمحے قبل ایک نمازی ساتھ شامل ہوا اور میرے ساتھ سڑک پر تشہد کی حالت میں بیٹھ گیا، میں سفر میں بھی تھا اور جلدی بھی تھی لیکن سوچا کہ ”سلمان“ اللہ ایسا جلدی والا جمعہ قبول کرے نہ کرے لیکن اس بندے کو نماز کیلئے مصلیٰ دینے سے اللہ ضرور راضی ہو گا، میں سلام پھیر کر کھڑا ہوگیا اور جائے نماز اسکی طرف کردی کہ اپنی نماز مکمل کرلو یقین کریں واقعی ایسا ہوا، بہت سکون ملا کہ اللہ نے یہ عمل ضرور قبول کیا ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے عبادات کا اصل مقصد انسانیت ہی رکھا ہے اگر نماز اور عبادات کے بعد بھی ہم میں احترام انسانیت نہیں تو پھر اپنا محاسبہ اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ مجھے بینک کے پریمئم ورلڈ کارڈ پر اچھا خاصا ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، روٹین میں کسی نہ کسی بیکری سے ڈسکائنٹ پر بریڈ لیکر گاڑی میں رکھ لیتا ہوں جہاں کوئی کتا، بلی یا جانور نظر آتا ہے گاڑی آہستہ یا روک کر اسے کھلا دیتا ہوں یقین کریں ان بے زبان جانوروں کو معمولی سا کھانا کھلا کر جو تسکین ملتی ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔ ریسٹوران پر جاتا ہوں تو اگر کھانا بچ جائے تو پیک کروا کر خود راستے میں کسی نہ کسی جانور کو کھلا دیتا ہوں۔
    ہر عید پر نئے کپڑے پہنتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں، عید آتی ہے اور گزر جاتی ہیں لیکن جس عید پر حقیقی خوشی ملی وہ 2005کی عید ہے۔ اکتوبر2005کے زلزلے میں اپنے گھر سے کمبل رضائیاں، کھانے کی اشیاء سمیت اچھا خاصاسامان لیا۔ ابو، امی، بہن بھائیوں سب کے نئے کپڑے اور جوتیاں زلزلہ زدگان کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور پڑھتا تھا تو اسلامی جمیعت طلبہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے ”عید کاروان“ روانہ کرنا تھا۔ عید کاروان کیلئے بہت سارے طلبہ رضاکارانہ طور پر مدد کیلئے جارہے تھے ضلع قصور سے میں، جواد سلیم اور عرفان چوہدری بھی کاروان میں شامل ہوگئے۔ اپنے نئے کپڑے زلزلہ زدگان کو عطیہ کرکے خود پرانے کپڑوں کے ساتھ گھڑھی حبیب اللہ بالاکوٹ آزاد کشمیر میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے گزاری اس عید کی حقیقی خوشی کو آج بھی محسوس کرسکتا ہوں۔
    میرے قریبی دوست اکثر کہتے ہیں کہ آپ اشرافیہ اور بدمعاشیہ سے جتنے پنگے لیتے ہیں غریبوں اور بے زبان جانوروں کی دعائیں ہی ہیں جو آپ کو بچا دیتی ہیں۔

  • ہم بھول گئے ہر بات،مگر،،،،،،،،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہم بھول گئے ہر بات،مگر،،،،،،،،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تحریک انصاف کااقتدارجمہوری تھا،اپوزیشن موجیں کرتی رہی؟
    نواز شریف،خاندان اور ساتھیوں کے خلاف جو کچھ کیا گیا وہ سب جمہوری تھا؟
    پی ٹی آئی کو اب کچھ بھی یاد نہیں ،اگر وہ دور جمہوری تھا آج جمہوریت پر واویلا کیسا؟
    سیاسی لڑائی لڑیں ،فوج اورملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف پراپیگنڈا بند کیا جائے
    تجزیہ شہزاد قریشی
    پریسلر ترمیم۔ کیری لوگر بل اور اب پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ ۔ موجودہ ایکٹ امریکی کانگریس میں اس وقت پیش کیا گیا جب سابق صدر پاکستان عارف علوی خود امریکہ میں موجود ہیں اور وہ وہاں کانگریس کے اراکین اور سینٹ کے ارکان سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ افسوس ا س پر ہے کہ جن کے کاندھوں پر اس ملک کی سلامتی اور قوم کی سلامتی ہے جنہوں نے ملک و قوم کی خاطر قربانیاں دی ، شہید ہوئے ، شہید ہو رہے ہیں ، کئی غازی ہیں ۔اُن کی قیادت کرنے والوں کے خلاف یہ زہریلا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ اس بل ڈیمو کریسی ایکٹ کا آگے چل کر کیا ہو گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟ وطن عزیز کے خلاف اس سے بڑی اور کیا سازش ہوگی وطن عزیز اس وقت نہ صرف بیرونی دشمنوں میں گھرا ہوا ہے اس کے اندر بھی بااثر لوگوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ ملک کے مسائل بے شمار ہیں ،عالمی قوتوں کے لئے اس کی ایٹمی گستاخی سرفہرست ہے اور اس ایٹمی حامل پاکستان پر مامور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف افوا سازی پھیلانا کون سا قومی فریضہ ہے ؟ اپنی زندگی میں فوجی حکمرانی بھی دیکھی ، سول حکمرانی بھی ،جمہوریت کا مطلب جمہور کی خدمت ،جمہور تو تادم تحریر گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے ۔کیا جمہوریت صرف اقتدار کا نام ہے؟ سیاسی گلیاروں میں جب سے تکبر اور غرور نام نہاد رہنما پیداہوئے ان سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔ کیا فوجی حکمرانوں کو سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کندھا نہیں دیا ؟ کیا پی ٹی آئی کو تھیوری انداز میں اقتدار ملا تھا؟ جو ظلم اور زیادتی پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں اپوزیشن کے ساتھ کیا گیا ، کیا وہ جمہوری تھا؟ نواز شریف کے او ران کے خاندان پر اور جماعت پر کیا گیا وہ جمہوری عمل تھا؟ سابق صدر عارف علوی بتانا پسند فرمائیں گے کیامریم نواز و جیل بھیجنا جمہوری عمل تھا؟کون ساظلم ہے جو پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں اپوزیشن پر نہیں کیا ؟ یاد رکھیئے ہماری جمہوریت سے دنیا آگاہ ہے ۔ قوم کو بالخصوص نوجوان نسل کو ایک بات یاد رکھنی چاہیئے ملک و قوم کی حفاظت پر مامورپاک فوج اورجملہ ادارے نہ ہوتے تو آج ہماری حالت عراق، شام ، لیبیا اور افغانستان سے ہرگز مختلف نہ ہوتی ۔ نام نہاد سیاسی نام نہاد قائد اور نام نہاد لیڈر اس ملک وقوم پر رحم کریں۔