Baaghi TV

Category: سیاست

  • دشمن دن رات سازشوں میں مصروف،ہم کب سمجھیں گے؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    دشمن دن رات سازشوں میں مصروف،ہم کب سمجھیں گے؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    یوم پاکستان حب وطن کا جذبہ یاد کرانے کا دن،آئیں ایک ہوجائیں
    نواز شریف کی قیادت میں ملک وقوم کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا ہوگا
    بلوچستان کے نام پر سی پیک کے خلاف سازش جاری،کیوں؟ملکر سوچیں
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    23 مارچ بحیثیت قو م ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں،یہ دن تاریخ یاد کرنے کی آواز لگاتا ہے،دشمن کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنے کا جذبہ عطا کرتا ہے ،ارض وطن میں خون کی ہولی کھیلنے والوں کو عبرت کا نشان بنانے کا سبق دیتا ہے، ملکی مفادات کے لئے ذاتی مفادات قربان کرنے کا اشارہ کرتا ہے، غیرت و حمیت کا فلسفہ سکھاتا ہے، اسلام کے بنیادی اصول کے مطابق زندگی گزارنے کی صدائیں لگاتا ہے، الفاظ کی شطرنج بچھانے کی بجائے عمل کی تاکید کرتا ہے، جس طرح مسلمانوں کو ایک الگ ریاست کی ضرورت تھی، آج وطن عزیز کو اُسی جذبے کی ضرورت ہے جو اس وقت کے مسلمانوں میں موجود تھا، آئیے! وطن عزیز کی ترقی ،عوام کی خوشحالی میں اپنا کردار اد کریں،یہ وطن ایسے ہی حاصل نہیں ملا،تاریخ اسے کبھی بھلا نہیں پائے گی،وطن عزیز کے حالات کا نقشہ بدلنے کی ضرورت ہے، بھارت روز اول سے ہمارا دشمن ہے اور افغانستان کے راستے بلوچستان میں سرگرم ہے، ہمارے سیاستدان مصلحتوں سے نکل کر قومی سلامتی اور یکجہتی کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں ،اقتدار کی دوڑ میں شامل سیاسی رہنمائوں کی جانب سے قومی یکجہتی اور ملکی وحدت کا خیال نہ رکھنا افسوسناک ہے، یاد رکھیئے اس خطے کے سب سے بڑے منصوبے پاکستان چین اکنامک کوریڈور کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے ، بلوچستان کی ترقی کا یہ منصوبہ نہ صرف بلوچ بہن بھائیوں کے لئے خوشحالی کے دروازے کھولے گا بلکہ وطن عزیز کا معاشی مستقبل بھی اس اہم ترین منصوبے سے جڑا ہے،

    سی پیک پورے ملک کی ترقی کا منصوبہ ہے،کچھ شرپسند عناصر دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، شرپسند عناصر کو پاک فوج اورجملہ اداروں نے زمین بوس کیا اور کررہے ہیں ،ملکی سلامتی کے اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے،سیاسی و مذہبی جماعتوں بلوچ سرداروں اور دیگر کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا، سیاست دانوں کو یاد رکھنا ہوگا بلوچستان اور کے پی کے حالات تقاضا کرتے ہیں اگر عوام میں زندہ رہنا ہے تو سیاسی اورمذہبی جماعتیں دل بڑا کریں اپنے مفادات کو قربان کریں، نواز شریف جیسے زیرک اور بڑے سیاسی لیڈر کی قیادت میں متحد ہو کر امن کے لئے وطن عزیزکے مفاد میں اکٹھے ہوں اور اپنا کردار ادا کریں۔

  • بلوچستان میں امن کی بحالی کیلیے نواز شریف کردار ادا کریں، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان میں امن کی بحالی کیلیے نواز شریف کردار ادا کریں، تجزیہ :شہزاد قریشی

    تجزیہ : شہزاد قریشی
    اس بات پر کیسے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ خود کو نیٹو سے دور کررہا ہے ۔ امریکہ نیٹو کے لئے اور نیٹو امریکہ کے لیے بہت اہم ہے ۔ کچھ بین االاقوامی پالیسیوں کو لے کر امریکہ اوریورپی ممالک میں جو اختلافات نظر آرہے ہیں اُن کو حل کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ آج کی غیر یقینی دنیا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم عالمی حکمرانوں کا زوال ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کے دلخراش حالات پر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنی جماعت کے ایک وفاقی وزیر اور بلوچستان کے دو سینئر وکلاء سے ملاقات کی ہے اور ہدایت کی کہ وہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں اپنا کردار ادا کریں ۔ بلاشبہ ماضی میں بھی بلوچستان میں امن وامان کو لے کر نواز شریف نے اہم کردار کیا تھا اور جس بُحران سے ماضی میں نواز شریف نے نکالا تھا اُس سے ہر خاص و عام آگاہ ہے۔ یوں تو ہمارے بہت سے سیاستدانوں ،سندھ سے تعلق رکھنے والے سیاسی وڈیروں ،بلوچ سرداروں ،سیاسی گلیاروں میں ایک طوفان برپا کر رکھا ہے ۔ پاکستان اور بلوچستان کے حالات پر ان کی بے بسی ایک سوالیہ نشان ہے ؟ تاہم نواز شریف نے جو کردار ماضی میں ادا کیا تھا و ہ کردار آج بھی کر سکتے ہیں، بلوچستان کے سرداروں کو جاتی عمرہ میں دعوت دیں اور اپنا سیاسی کردار ادا کریں۔ یہ ایک حقیقت ہے پاک فوج اور جملہ ادارے ملک وقوم کی حفاظت پر مامور ہیں اور قربانیاں بھی دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے۔ بھارت بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے اپنے مکروہ مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے حالات کا بہتر مطالعہ کرلیا ہے اور وہ اس فساد کو ختم کرنے کے لئے پُر عزم ہیںمگر پاکستان کے اندراور پاکستان کے باہر سوشل میڈیا جو فیک نیوز پھیلانے کے ماہر ہیں بالخصوص دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے حکومت کو ایسے عناصر کو عبرت کا نشان بنانا چاہیئے جو وطن عزیز کی سلامتی اور اس کی سلامتی پر مامور اداروں پر بے بنیاد پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔پاک فوج اور جملہ اداروں نے بلوچستان میں سر اٹھاتی دہشت گردی کو زمین بوس کررہا ہے ۔ وطن عزیز کے خلاف بیرونی اور اندرونی سازش کرنے والے عناصر کو پیغام دیا ہے کہ وطن عزیز اور قوم کی سلامتی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ملک وقوم کی سلامتی کے پیش نظر سیاسی ومذہبی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

  • ظلم ظلم کا راگ الاپنے والے اپنا دور بھول گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ظلم ظلم کا راگ الاپنے والے اپنا دور بھول گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف،مریم ،پرویز رشید،اسحاق ڈار،عرفان صدیقی کے ساتھ کیاکچھ نہیں کیا گیا
    ٹرمپ کی جیت پر خوشیاں منانے والوں کو پھر جواب مل گیا،اب چیخنا بند کریں
    منفی پراپیگنڈہ سے ادراے محفوظ نہ کسی ماں بہن کی عزت،انکولگام کون ڈالے گا؟
    تجزیہ،شہزاد قریشی

    9 جنوری کو میں نے لکھا تھاکہ امریکہ کسی فرد واحد کے لئے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا ،پی ٹی آئی کے دوست ،یوٹیوبر ،وی لاگرز جتنی مرضی ٹرمپ کی کامیابی پر دھمال ڈالیں امریکہ اور امریکی صدر کے سامنے امریکہ اور عالمی دنیا کے بہت سے مسائل ہیں،امریکہ سُپر پاور ہے اور وہ پوری دنیا کو لیڈ کرتا ہے، امریکہ سمیت عالمی دنیا پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی سیاست اورپاکستان جیسے دوسرے ممالک کی جمہوریت سے بھی آگاہ ہے،مذہبی جماعتوں سے بھی عالمی دنیا آگاہ ہے ،مجھ جیسے ادنیٰ لکھاری نے فوجی حکمرانی سے لے کر سول حکمرانی کے دور بھی دیکھے، پی ٹی آئی سمیت پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد بتانا پسند کریں گے کہ کیا آئین پر عمل ماضی یا حال میں ہو رہا ہے؟ کیا آپ اپنے آپ اور عوام کو کتنی بار بے وقوف بنائیں گے؟ اپنے آپ کو بھی شرمندہ کررہے ہیں اور عوام کے سامنے بھی شرمندہ ہو رہے ہیں،انسان نے دنیا سے ایک دن رخصت ہو جانا ہے ،اُس کا کردار زندہ رہتا ہے،ذرا نہیں بہت سوچئے آنے والی نسل آپ کے کس کردار کو یاد کرے گی ، پھر یہ زمین خدا پاک کی ملکیت ہے آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ ایک عطیہ کے طور پر خدا پاک نے دیا جس کا حساب ہوگا ،جمہوریت کا راگ الاپ کر آپ دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتے،

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک زمانے میں جہوریت اور آئین کو لے کر بیان د یا تھا کہ آئیے آئین نے جو حدیں مقرر کی ہیں اس پر عمل کرکے ملک وقوم کی خدمت کریں ،کیا سیاسی اورمذہبی جماعتوں نے نواز شریف کے اس بیان پر عمل کیا؟کیا نواز شریف کو تین بار اقتدار سے ہٹایا نہیں گیا ،کیا وہ جمہوریت اور عوام کے مینڈیٹ پر حملہ نہیں تھا؟ کیا نواز شریف کے انتہائی قریبی ساتھیوں جن میں سینیٹر پرویز رشید جو درویش صفت انسان ہیں سے کسی سیاسی یا مذہبی جماعت نے پوچھا ان سے کس جرم میں وزارت چھینی گئی اور پھرسینٹ کی نشست سے محروم رکھا گیا ؟کیا سینیٹر عرفان صدیقی اور سعد رفیق جیسے افراد کی تذلیل نہیں کی گئی،کیا سینیٹر اسحاق ڈار کے ذاتی گھر کو توڑا نہیں گیا ؟ اس کے علاوہ بھی لاتعداد مثالیں موجود ہیں، جمہوریت اور قانون کہاں تھا؟ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے کہاں تھے؟ آج کی وزیراعلیٰ مریم نواز کو کس جرم میں قید کیا گیا تھا؟ یاد رکھیئے امریکہ سمیت عالمی دنیا ہماری انتقامی جمہوریت اور انتقامی قانون کی حکمرانی سے مکمل آگاہ ہے، جس نحوست نے آج پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ،اسی نحوست نے ہماری خوشیوں کا جنازہ نکال د یا ہے ،جن سیاسی گلیاروں سے قوم کو کبھی مسرت اور شادمانی کی برساتیں ملا کرتی تھیں پوری قوم کے دل خوشی سے کھِل اٹھتے تھے آج نہ ادارے محفوظ نہ کسی کی بہن بیٹی کی عزت محفوظ ،پاک فوج اور نہ جملہ ادارے اور پولیس محفوظ ، جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں ،شہید ہو رہے ہیں اُن کے خلاف غلیظ زبان استعمال ہو رہی ہے،افسوس صد افسوس ،عوام کے لئے پاک فوج اورپاکستان کے آگے کچھ نہیں ،کون نہیں جانتا بلوچستان اور کے پی کے میں کون مداخلت کررہا ہے،آزادی اظہار رائے اپنی جگہ ملکی سلامتی ملکی مفاد بھی کسی بلا کا نام ہے.

  • سینٹرل سلیکشن بورڈ ’’ریویو ‘‘ ناگزیر ہوچکا.تحریر: ملک سلمان

    سینٹرل سلیکشن بورڈ ’’ریویو ‘‘ ناگزیر ہوچکا.تحریر: ملک سلمان

    گذشتہ دنوں ہونے والے سینٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارشات نے پاکستان کی بیوروکریسی کو اضطراب میں مبتلا کررکھا ہے۔سینٹرل سلیکشن بورڈ کے سرپرائز فیصلوں سے اعلیٰ سرکاری ملازمین چکرا کررہ گئے ،خاص طور پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان کے آدھے سے بھی زائد افسران کو پرموٹ نہیں کیا گیا۔ پرموٹ نہ کیے گئے افسران کی اکثریت کا اشارہ تین اہم شخصیات کی طرف تھا کہ اس وقت وہ پاکستان کے زمینی خدا بن کر انتقامی فیصلے کر رہے ہیں، بیوروکریسی نے بورڈ میٹنگ کو رسمی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے کی پرچی پہلے سے تھما کر بھیجا گیا تھا۔ ایک سینئر افیسر کا کہنا تھا کہ سارے کیرئیر میں ایک روپے کی کرپشن یا کوئی خراب رپورٹ ثابت کردیں وہ خود استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرضی اور سفارشی رپورٹوں پر انہیں ’’فکس‘‘ کیا گیا ہے جبکہ کچھ افسران کے معاملے میں نئی رپورٹس کی بجائے پرانی رپورٹس پیش کی گئیں جو اس گریڈ میں ترقی کیلئے ریلیوینٹ ہی نہیں تھیں۔ بلوچستان ٹرین حادثے کی وجہ سے سیکرٹری داخلہ، آئی جی اور چیف سیکرٹری بلوچستان سینٹرل سلیکشن بورڈ میٹنگ کا حصہ نہیں بن سکے، ان کی غیرموجودگی میں ایف آئی اے اور بلوچستان کے افسران کی پرموشن کا فیصلہ کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ بیوروکریسی کی اکثریت نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے وزیراعظم ’’ریویو بورڈ‘‘ میں سید توقیر حسین شاہ جیسی غیر جانبدار شخصیات کو شامل کریں، فرضی اور جعلی رپورٹس کی بجائے سب کو قابل قبول سپیشل ویٹنگ ایجنسی کے طور پر آئی ایس آئی کی رپورٹ پر فیصلہ کریں، ہم من و عن تسلیم کریں گے۔ جناب وزیراعظم سینٹرل سلیکشن بورڈ جس قدر متنازع ہوچکا ہے صورت حال کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ ریویو بورڈ کیا جائے۔ اگر اس متنازع بورڈ پر ’’ریویو‘‘ نہیں لیتے تو بیوروکریسی سے سروس ڈلیوری کی امید چھوڑ دیں کیونکہ جن افسران کو ناحق ترقی سے محروم کیا جائے گا تو وہ اپنی فرسٹیشن کیلئے عوامی و فلاحی کاموں میں دلچسپی نہیں لیں گے اور کرپشن کا راستہ اختیار کریں گے۔

    جو واقعی کرپٹ ہے اس کی سزا صرف ترقی نہ دینا کیوں؟ کرپٹ افراد کو نہ صرف نوکری سے نکالا جائے بلکہ لوٹی ہوئی رقم جرمانہ سمیت واپس لی جائے۔
    ان افسران کو بھی ترقی سے محروم کیا گیا جو حکومتی رٹ بحال کرنے کیلئے مخالف سیاسی جماعت کی ”ہٹ لسٹ” پر ہیں،انکا مذاق اڑایا جارہا ہے کہ حکومت نے انہیں استعمال کرکے پھینک دیا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ آئندہ کوئی آفیسر حکومتی رٹ کی بحالی کیلئے کام نہ کرے ؟یہی وجوہات ہیں کہ بہت سارے افسران سول سروس کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔

    حکومت کی مثبت ایمج سازی کیلئے دن رات ایک کرنے والے انفارمیشن گروپ کے افسران کی ترقی کا سفر انتہائی سست اور ناکافی سہولیات الم ناک ہیں۔ ایف بی آر، آفس مینجمنٹ، ریلوے اور آڈٹ اینڈ اکائونٹس کے افسران کی زبوں حالی کا تذکرہ تفصیلی کالم میں۔ ارباب حکومت کی طرف سے دیے گئے اختیارات کا ’’مس یوز‘‘ بلکہ ’’ابیوز‘‘ کرکے چند بیوروکریٹ اپنے ہی افسران کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں جس سے ترقیوں سے محروم افسران کا کیرئیر خراب ہو رہا ہے۔ چند شخصیات وفاقی اجارہ داری کے ساتھ صوبوں میں بھی اہم ترین سیٹوں پر اپنے منظور نظرافسران لگا کر تمام صوبوں خاص طور پر پنجاب پر اپنی مکمل اور سخت گرپ بنا کر اپنی بالادستی منوا رہے ہیں۔ پنجاب کے ایک سیکرٹری اپنے ماتحت بدنام زمانہ کرپٹ آفیسر کو کئی ماہ سے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن صرف اس لیے نہیں ہٹا پا رہے کہ مذکورہ کرپٹ افیسر سینٹرل سلیکشن بورڈ کے ایک ممبر کا کارخاص ہے وہ ناراض نہ ہو جائے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو صوبائی سروس کے افسران کی بیچارگی بھی ختم کرنا ہوگی۔ پی پی جی مکمل کرنے کے باوجود 100سے زائد افسران تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پرموشن بورڈ کی راہ تک رہے ہیں۔اسی طرح پی ایس ایم جی کرنے والے افسران بھی دوسال سے ترقی سے محروم ہیں۔ ایک ساتھ ایس ایم سی کرنے کے باوجود دوسرے گروپ پرموٹ ہوگئے اور پی ایم ایس والے ابھی تک بورڈ کے منتظر ہیں۔ پی ایم ایس افسران کو ترقی اور پوسٹنگ کے مساوی حقوق دیے بنا صوبائی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ چند افسران اپنی بالادستی منوانے اور اپنے چہیتے افسران کو سیاہ و سفید کی ملکیت دینے کیلئے جو خطرناک اقدامات کررہے ہیں وہ کسی بھی طور پر پاکستان کے بھلے میں نہیں ہیں۔ گریڈ بیس کی سیٹوں پر گریڈ اٹھارہ والے کنسیپٹ کلئیر افسران تعینات ہیں جبکہ سینئر افسران کی خلاف میرٹ خواہشات سے انکار کی جسارت کرنے والے ایماندار افسران مہینوں سے او ایس ڈی ہیں یا پھر کھڈے لائن پوسٹنگ۔

    وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سول سروس اور پاکستان کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ ابھی بھی وقت ہے ملکی باگ ڈور چند افراد کے حوالے کرنے کی بجائے ہر کسی کے اختیارات کا تعین کیا جائے۔پختہ شواہد کے بغیر کسی کو بھی ترقی سے محروم نہ کیا جائے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم پاکستان کو ترقی و کامیابی کی منزلوں پر لے جانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سی پیک، سپیشل انوسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل اور بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے استحکام پاکستان کیلئے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ خود پسند افرادسے گذارش ہے کہ خدارا! چیف آف آرمی سٹاف اور وزیراعظم کی کوششوں کو رائیگاں نہ کریں۔

  • قوم کا فخر ۔۔۔قوم کا مان۔۔۔ افواج پاکستان.تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    قوم کا فخر ۔۔۔قوم کا مان۔۔۔ افواج پاکستان.تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    انسانی جسم بے شمار اعضا اور ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے جسم میں کچھ عضو ایسے بھی ہیں جو نہ بھی ہوں تو انسان زندہ رہ سکتا ہے جبکہ کچھ عضو ایسے بھی ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور محال ہے جیسا کہ شہ رگ ہے ، دل ہے یا سر ہے ۔ ایسے ہی پاکستانی قوم پچیس کروڑ افراد پر مشتمل ہے ۔ پچیس کروڑ افراد پر مشتمل ملک میں بے شمار جماعتیں ہیں۔ حکومتی ا و رنجی سطح پر لاتعداد شعبہ جات پائے جاتے ہیں ۔ مختلف شعبہ جات کی اپنی اپنی اہمیت ہے ۔ تاہم بہت سے شعبہ جات ایسے ہیں جو نہ بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ملک قائم رہے گا لیکن افواج پاکستان کا شعبہ ایک شعبہ ہے کہ جس کے بغیر پاکستان کا تصور بھی محال ہے ۔ افواج کے بغیر پاکستان کی آزادی اور خود مختاری ختم ہوکر رہ جائے گی ۔ آج اگر ہم اپنے ملک میں آرام و سکون سے رہ ہیں اور اپنے گھروں میں آرام اور سکون کی نیند سو رہے ہیں تو افواج کی بدولت ہی رہ رہے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے افواج کی قدر وقیمت کا اندازہ قوم 12اور13مارچ کو کرچکی ہے کہ جب دہشت گردوں نے بلوچستان میں ڈھاڈر کے مقام پر ٹرین میں سوار 400مسافروں کو یرغمال بنا لیا ۔ قوم کے لیے یہ بہت مشکل وقت تھا ۔ دہشت گردوں کے انتظامات اور یرغمالی مسافروں کی بے بسی کے بارے میں جس طرح کی اطلاعات آرہی تھیں اس سے خدشہ تھا کہ یا تو 400مسافر خون میں نہا جائیں گے یا پھر ریاست کو دہشت گردوں کے سامنے سرنڈر کرنا پڑے گا ۔ دونوں صورتوں میں ہی پاکستان کےلئے بے حد مشکلات تھیں۔ اس مشکل وقت میں سکیورٹی فورسز کے تمام اہلکاروں نے جس جرا¿ت وبہادری اور دانشمندی وبہترین حکمت علمی سے دہشت گردوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا ہے اس سے قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے ۔قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے ۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ اس سے قبل جب بھی قوم پر مشکل وقت آیا افواج پاکستان کے بہادر آفیسروں اور جوانوں نے جانوں پر کھیل کر وطن اور قوم کی حفاظت کی ہے ۔ 6ستمبر 1965ءکی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضاﺅں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کو دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ ا±سے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت ان کا جذبہ شہادت اور ”جہاد فی سبیل اللہ“کا ماٹو ہے۔۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں ۔اس وقت بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گرد پھر سراٹھا رہے ہیں ۔ بہادر افواج کے جوان اپنی جانوں پر کھیل کر ان وطن دشمنوں اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کررہے ہیں ۔ جب ہم رات کے وقت اپنے گھروں میں اور اپنے بستروں آرام کی نیند سورہے ہوتے ہیں اس وقت ہمارے وطن کے جیالے پاسبان راتوں کو جاگ کر سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ۔
    آج ہمارا دشمن پاکستان میں بھی 1971ءجیسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ 9مئی 2024ء کے دن جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے کئے گئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام واقعات 1970ءمیں ملک کے خلاف کی جانے والی دشمنی کا ہی تسلسل ہے ۔وطن اور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے کسی قسم کی رعایت کے حقدار نہیں ۔ ایسے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا اور تختہ دار پر لٹکانا بے حد ضروری ہے ۔ فوج چاہے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو ، تعداد میں بھی زیادہ ہو ، جدید ترین اسلحہ سے لیس ہو ۔۔۔۔لیکن جب تک قوم فوج کے ساتھ نہ ہو وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے ۔ آج ہمارا ملک حالت جنگ میں ہے ۔ ملک اور قووم کے دفاع کے لیے روزانہ فوجی جوان جام شہادت نوش کررہے ہیں ۔حالات بے حد نازک ہیں ۔ یہ وقت ہمارے باہمی اتحاد واتفاق کا ہے۔ آئیں ! اس بات کا عہد کریں کہ ہم ملک اور قوم کے دفاع کےلئے اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ہیں ۔ ہمیں جیسے اپنے گھر سے محبت ہے ایسے ہی ہمیں اپنے وطن سے محبت ہے ۔ جیسے اپنے اہلخانہ سے محبت ہے اس سے کہیں بڑھ کر ہمیں اپنے فوجی جوانوں سے محبت ہے

  • سینٹرل سلیکشن بورڈ کی کولیکٹو ویزدم پر سوالیہ نشان؟  تحریر:ملک سلمان

    سینٹرل سلیکشن بورڈ کی کولیکٹو ویزدم پر سوالیہ نشان؟ تحریر:ملک سلمان

    سینٹرل سلیکشن بورڈ کی کولیکٹو ویزدم پر سوالیہ نشان؟

    ہائی پاور بورڈ کے حوالے سے ہونے والی سیاسی "پک اینڈ چوز” کو افسران نے اپنی قسمت کا فیصلہ سمجھ لیا تھا اس لیے پہلے ہی ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں کہ ہائی پاوربورڈ میں جو بھی حکومت ہوگی اس کے منظور نظر ہی گریڈ بائیس میں جانے کا خواب شرمندہ تعبیر کر پائیں گے لیکن ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کو ”سلاٹر ہاؤس“ بنا دیا جائے کیسا نظام ہے جہاں ایک سنئیر ترین افسر کی زندگی بھر کے فخر اور پچھتاوے کا فیصلہ پچاس سیکنڈ سے لیکر زیادہ سے زیادہ 2 منٹ میں کردیا جاتا ہے۔

    اگر پک اینڈ چور ہی کرنا ہے تو سلیکشن بورڈ کی میٹنگ والا تکلف کیوں؟

    خاص طور پر مریم نواز شریف نے ماہانہ بنیادوں پر ”کے پی آئی“ کے زریعے افسران کی کارگردگی کا جائزہ لینے کے بعد خود ”اے سی آرز“ ”کاؤنڑ سائن“ کیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی 13ماہ کی ویزدم کو سینٹرل سلیکیشن بورڈ نے پچاس سیکنڈ کی ویزدم میں یکسر نظر انداز کردیا۔

    جناب وزیراعظم اگر آپ اس بورڈ پر”رویو“ نہیں لیتے تو یاد رکھیے گا کہ یہ سول سرنٹ کو پرسنل سرونٹ بنانے کا نقظہ آغاز ہے۔ اگر اسی طرح کے فیصلے ہوتے رہے تو ملکی ترقی کا سفر رک جائے گا اور کرپشن انڈیکس میں ٹاپ کرجائیں گے۔کیونکہ جن افسران کو ناحق ترقی سے محروم کیا جائے گا تو وہ اپنی فرسٹیشن کیلئے عوامی و فلاحی کاموں میں عدم دلچسپی لیں گے اور کرپشن کا راستہ اختیار کریں گے۔ دنیا بھر میں سرکاری ملازمین کو نہ صرف بہترین سہولیات اور بھاری بھرکم تنخواہیں دی جاتی ہیں بلکہ بلا تعطل ترقی کا سفر جاری وساری رہتا ہے۔

    جناب وزیراعظم میں نے کبھی کسی سیاسی شخصیت کی تعریف نہیں کہ لیکن آپ واحد شخص ہیں جسے ہمیشہ سپورٹ کیا کہ آپ اپنی ذات کی بجائے پاکستان کا سوچتے ہیں لیکن گذشتہ دنوں آپ کے ”وزیرخاص“ کی سپرویژن میں پاکستان کی بجائے ذاتی پسند و ناپسند کو ترجیح دینے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”سانحہ بیوروکریٹک قتل عام“ کیا گیا۔

    جناب شہباز شریف جب آپ ناحق قید تھے تو میں واحد کالم نویس تھاجو انہی افسران سے آف ریکارڈ گفتگو کی بنیاد پر اپنے کالمز میں لکھتا ہوتا تھا کہ نیب، ایف آئی اے اور جے آئی ٹی اراکین آف ریکارڈ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کے خلاف ایک پینی کی کرپشن یا بے ظابطگی کے ثبوت نہیں ملے لیکن ہم جیل میں رکھنے کیلئے مجبور ہیں۔ اس وقت کے زمینی خدا بنے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھری عدالت میں کہا تھا کہ اوپر اللہ اور نیچے میں مالک ہوں۔ آج وہی ثاقب نثار کس حالت میں ہے سب کو معلوم ہے۔

    جناب وزیراعظم بیوروکریسی آپ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ آپ کا نام لیکر زمینی خدا بنے بیٹھی شخصیات جو خود براوقت گزار کر بھی پھر سے فرعونیت اور زمینی خدایت کے دعویدار بنے بیٹھے ہیں ان کے بارے افسران کا کہنا تھا کہ وہ آخرت بھول بیٹھے ہیں جبکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔

    جناب وزاعظم اپریل 2022سے اب تک اس رجیم چینج میں جن افسران نے حکومتی رٹ کی بحالی میں آپ کا ساتھ دیا تھا ان افسران کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی طرف سے بائی نیم دھمکیوں کا سامنا رہا لیکن بدقسمتی اور لاپرواہی کی انتہا ہے ان افسران میں بہت ساروں کو کھڈے لائن کردیا گیا جب کہ رہتی سہتی کسر پرموشن نہ دے کر نکال دے گئی۔

    جناب وزیراعظم آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بننے افسران کی پی ٹی آئی حکومت میں رپورٹس خراب کیں گئیں۔ اس وقت کی رپورٹ کی بنیاد پر آج ان افسران کا پرموشن لسٹ میں نہ ہونا وفاداری کرنے والوں کیلئے بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

    جن افسران کو پرموشن نہیں دی گئی ان میں اکثریت ایسے افسران کی ہے جو ہفتہ اتوار بھی دفتری کاموں میں لگادیتے ہیں۔ اگر کام کرنے والوں کو یہ صلہ ملے گا تو پھر کوئی بھی کام والی سیٹ پر نہیں آئے گا، جسکو لگایا جائے گا وہ اس ڈر سے محنت نہیں کرے گا کہ پتا نہیں کونسی نیکی کب گناہ بن جائے۔

    ترقی کی امید لیے افسران اے سی آر لکھوانے اور مکمل کرنے کیلئے دور دراز شہروں اورصوبوں کی خاک چھانتے رہ گئے، اے سی آر میں ملی ایکسلینٹ کی رپورٹیں اور کارگردگی والے”ڈبے“ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے گئے۔

    زبان زدعام ہے کہ جو افسران وزیراعظم ہاؤس کے بااثرکیمپ کے رابطے میں تھے وہی پرموٹ ہوئے ہیں پرموٹ ہونے والوں میں میرٹ پر آنے والے افسران کے علاوہ بزداریے اور کرپٹ افسران بھی رابطوں کی بدولت پرموٹ ہوگئے۔

    جبکہ جنہوں نے رابطوں کی بجائے اپنی کارگردگی پر یقین رکھتے ہوئے بورڈ کا انتطار کیا ان میں سے کچھ افسران کی ”ٹارگٹ کلنگ“ کیلئے نئی رپورٹس کی بجائے پرانی رپورٹس پیش کی گئیں جو اس گریڈ میں ترقی کیلئے ریلیوینٹ ہی نہیں تھیں جبکہ کچھ افسران کو ترقی سے محروم کرنے کیلئے خود سے”فرمائشی رپورٹیں“ تیار کروائی گئیں۔

    جناب وزیراعظم صورت حال کی سنگینی کی پیش نظر آپ اپنی زیرنگرانی میرٹ پر انکوائری کروائیں جن افسران پر جیسے بھی الزامات ہیں انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ افسران کو ان الزامات سے اگاہ کرکے صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائےجناب وزیراعظم سینٹرل سلیکشن بورڈ کا رویو اجلاس ناگزیر ہوچکا۔

    ہر شخص حیران ہے کہ یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے اراکین پارلیمنٹ، وزیروں مشیروں کیلئے تو تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کرتی ہے اس ملک کی خدمت کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کمی۔ جناب وزیراعظم، اللہ نے بھی عبادت کے بدلے انعام اور جنت کا وعدہ کیا ہے لیکن ہمارے دنیاوی حکمران کام کے بدلے ترقی سے محرومی اور پنشن کٹوتی والا خلاف فطرت کام کر رہے ہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ہولی کے دن بیوروکریسی کے ارمانوں کی ہولی .تحریر: ملک سلمان

    ہولی کے دن بیوروکریسی کے ارمانوں کی ہولی .تحریر: ملک سلمان

    کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے دوسال کے طویل انتظار کے بعد ہائی پاور بورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کا انعقاد ممکن ہوسکا، بورڈ کا انتظار کرتے درجنوں افسران اگلے گریڈ میں ترقی حاصل کیے بن ہی ریٹائرڈ ہوگئے۔

    پی ایم ایس افسران کے ساتھ ناانصافی اور حقوق غضب کرنے کا سلسلہ پہلے سے چلتا آ رہا تھا لیکن ابھی تو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان سمیت دیگر سی ایس پی افسران پر بھی کلہاڑا چلا دیا گیا۔
    ہولی کے دن بیوروکریسی کے ارمانوں کی ہولی کھیلی گئی۔ پرموشن ٹریننگ کورس کرنے اور اے سی آر میں ریکمینڈڈ فار پرموشن کے کمینٹس حاصل کرنے کے باوجود بہت سارے افسران کو پرموٹ نہیں کیا گیا۔ افسران کی ترقی میں رکاوٹ بننے اور پوسٹنگ سے محروم کیے جانے کی وجوہات میں کچھ کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے موجودہ کرتا دھرتا افسران کو ماضی میں Favour نہیں کیا انکو اس گستاخی کا سبق سکھایا جا رہا ہے۔

    کرپشن اور پی ٹی آئی کا قریبی ہونے جیسے بیہودہ الزامات لگا کر پرموشن اور پوسٹنگ سے محروم رکھنا، ارباب حکومت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ ثبوت کے طور پر پی ٹی آئی دور حکومت کی پوسٹنگ نکال کر موازنہ کرلیں، پی ٹی آئی دور میں ”اہم پوزیشن“ انجوائے کرنے اور کرپشن کے ریکارڈ توڑنے والے ناصرف موجودہ حکومت میں پہلے سے بھی اچھی پوسٹنگ انجوائے کر رہے ہیں بلکہ پرموٹ بھی کردیے گئے ہیں۔ اگر عثمان بزدار کا قریبی ساتھی اور پرنسپل سیکرٹری عامر جان پرموٹ ہوسکتا ہے تو پھر باقیوں پر پی ٹی آئی کا ٹیگ کیوں؟
    جن افسران کو پرموٹ نہیں کیا گیا اگر وہ اتنے ہی برے ہیں تو انکو اہم سیٹوں پر کیوں لگایا گیا؟ان افسران کو بھی ترقی سے محروم کیا گیا جو حکومتی رٹ بحال کرنے کیلئے مخالف سیاسی جماعت کی "ہٹ لسٹ” پر ہیں۔
    جناب وزیراعظم اگر افسران خود ترقی سے محروم ہوں گے تو عام عوام کیلئے خلوص نیت سے کیسے کام کر سکیں گے؟
    جناب وزیراعظم آپ کے بارے تو بیوروکریسی کا پختہ یقین رہا ہے کہ آپ بیوروکریسی کے دوست ہیں آپ کے ہوتے ہوئے میرٹ کا بول بالا ہوتا ہے۔ جناب وزیراعظم آپ اپنی زیرنگرانی میرٹ پر انکوائری کروائیں جن افسران پر جیسے بھی الزامات ہیں انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ افسران کو ان الزامات سے اگاہ کرکے صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

    ابھی چند ماہ قبل ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے انفارمیشن گروپ کے آفیسر طاہر حسن کی درخواست پر انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر افسر کو گریڈ 20 سے 21 میں ترقی نا دینے کا سنٹرل سلیکشن بورڈ کا فیصلہ کالعدم کر دیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں بھی یہی لکھا گیا تھا کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ ایسی انٹیلی جنس رپورٹ کی پرواہ نا کرے جس میں افسر کو محکمانہ سطح پر اپنے دفاع کا موقع نا ملا ہو، عدالت نے تحریری فیصلے میں ایسے کسی الزام پر دفاع کا موقع نا دینے کو بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔جناب وزیراعظم پاکستانی عوام اور بیوروکریسی ہی نہیں عدلیہ بھی آپ کی قابلیت اور دوراندیشی کی قائل ہے اسی لئے معزز جج نے جناب وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا آپ جیسا قابل وزیراعظم بیوروکریسی کو ثبوت کے بغیر انٹیلی جنس رپورٹس کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتا ہے؟

    بیوروکریسی کے سنئیر افسران کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئی بی کی بجائے آئی ایس آئی کی رپورٹس دیکھ کر فیصلہ کرلیں وہاں جو بھی لکھا ہو گا ہمیں قبول ہے۔ افسران کی اکثریت کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ پر کسی کا اختیارنہیں چلتا اس لیے جن افسران کو فائدہ یا نقصان پہنچانا مقصود تھا ان کو آئی بی کی رپورٹس پر نوازا اور فکس کیا گیا ہے۔انتہائی مصدقہ رپورٹ ہیں کہ چند افسران کی ”ٹارگٹگ“ کیلئے نئی رپورٹس کی بجائے پرانی اور فرمائشی رپورٹس پیش کی گئں۔ انٹیلیجنس بیورو کی رپورٹس کو ملٹری انٹیلیجنس سے کاؤنٹر ویریفائی کروایا جائے تاکہ کسی بھی افیسر کے خلاف فیک اور من مرضی کی رپورٹ کا سہارا لے کر ویکٹیمائز نہ کیا جائے۔ ملٹری انٹیلیجنس کے کام کرنے کا طریقہ کار میرٹ اور شفافیت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں قابل تعریف حد تک سراہا جاتا ہے کیونکہ ملٹری انٹیلیجنس واحد ایجنسی ہے جس کو کسی کے حق یا مخالفت میں انفلینس نہیں کیا جا سکتا۔

    جناب وزیراعظم بیوروکریسی کی ایک ہی درخواست ہے کہ آپ خود انکوائری کریں آئی ایس آئی رپورٹ اور ملٹری انٹیلجنس کی کاؤنٹر رپورٹس میں جو بھی آئے انہیں من و عن منظور ہے لہذا آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ ہائی پاوربورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کا رویو اجلاس بلایا جائے۔ جبکہ زمینی خدا بنے سی ایس بی کے سرکاری و غیر سرکاری ممبران سے گزارش ہے کہ انصاف کے قتل عام کے فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔ترقی سے محروم افسران کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ ان کا احترام اور رکھ رکھاؤ بھول کر عدالتوں کا رخ کریں۔
    آخر پر سب سے ضروری بات پوسٹنگ اور ترقی سے محرومی کا جتنا دکھ بیوروکریسی کو ہوتا ہے اتنا ہے رینکر اور دوسرے چھوٹے ملازمین کو بھی ہوتا ہے۔ اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اپنے ماتحت چھوٹے ملازمین کے ساتھ انصاف کریں تاکہ کل کو آپ کے ساتھ بھی انصاف ہو، وہ کہتے ہیں نہ کر بھلا سو ہو بھلا۔

  • دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات.تحریر:ملک سلمان

    دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات.تحریر:ملک سلمان

    تمام قومی اور بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق سیاسی اور عسکری قیادت کی کوششوں سے پاکستان معاشی مسائل سے نکل کر کامیابی کے راستے پر گامزن ہو رہا ہے۔ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری وفود کی آمد سے جہاں محبان وطن خوش ہیں تو وہیں پاکستان کے دشمنوں کی نیندیں حرام ہیں۔ پاکستان میں امن و امان اور معاشی استحکام کی راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے دہشت گرد عناصر دوبارہ سے منظم ہو کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کی نئی لہر کے ذریعے ملک میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔بلوچستان اربوں ڈالر کے ’’سی پیک‘‘ کا اہم ترین روٹ ہے۔ گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا افتتاح اور گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر پاکستان کو جس مقام پر لے جائیں گے وہ بھارت اور دیگر عالمی طاقتوں کو قبول نہیں اس لئے انہوں نے بلوچستان کو اپنا مرکزی ہدف بنا رکھا ہے۔ دہشت گردی نے نہ صرف ہمیں اندرونی طور پر بہت نقصان پہنچایا ہے بلکہ بیرونی دنیا میں ہماری ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی نے بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ معاشی ترقی کے پہیے کو رواں رکھنے کے لئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ہمیں دہشتگردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا ہو گا، کیونکہ سہولت کاری اور اندرونی مدد کے بغیر ایسی کارروائیاں ممکن نہیں۔ جاننا ہوگا کہ دہشت گرد بن جانے والے ہم وطنوں کو اپنے ہی ملک میں اپنی جانیں دائو پر لگا کر دہشت گردی پر آمادہ کرنے کے اسباب کیا ہیں، یہ لوگ بیرونی طاقتوں کے آلہ کار کیوں بن جاتے ہیں؟

    اے ڈی سی آر قبضہ گروپ اور رسہ گیروں کے ساتھ سرکاری و نیم سرکاری زمینوں پر قبضے کروانے میں لگے ہوئے ہیں۔ پولیس اشرافیہ اور بدماشیہ کی بی ٹیم کا کردار ادا کرنے سے باز نہیں آرہی۔ طاقتور افراد کی زور زبردستی اور لاقانونیت کے خلاف مظلوم اور کمزور افراد ملک دشمن دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ کر مزاحمت اور ردعمل کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔ دشمن اس عمل میں شامل ہو جائے تو یہ رد ِعمل دہشت گردی کی شکل بھی اختیار لیتا ہے۔

    فرقہ واریت کی نفرت امن و امان کی قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ اور دہشت گردی کی جڑ ہے۔ ایک ہی حل ہے کہ جو بھی کسی مذہب اور فرقے کی توہین کرے، اشتعال انگیز گفتگو کرے اسے قانون کے کٹہرے میں لاتے ہوئے نشان عبرت بنا دیں۔ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف آپریشن مکمل خاتمے تک جاری رہنا چاہئے کیونکہ یہی دہشت گردی استحکام پاکستان اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرنے والے طالبان اور علیحدگی پسند تنظیموں کو بھارت اور افغانستان کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے ہماری معیشت شدید دبائو کا شکار ہے۔ دہشت گردی اور عدم تحفظ کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کا عمل مفلوج ہو چکا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان کیا، ان میں سیکورٹی فورسز اور بے گناہ شہری دونوں شامل ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں اقتصادی نقصانات کا تخمینہ 200ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ پاک فوج نے لا زوال قربانیوں کی داستان رقم کرکے ملک میں جو امن قائم کیا تھا کچھ اندرونی وبیرونی قوتیں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر اس کو سبوتاز کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کسی بھی ملک میں دہشت گردی معاشرے پر دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے پاکستان مخالف قوتیں شرپسندی کو ہوا دے کر ملک کو کھوکھلا کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے فوجی آپریشن مسئلے کے حل کا ایک اہم حصہ ہے لیکن جب تک دہشت گردی کے اسباب کو سمجھ کر سویلین حکومت اور ادارے اس کے سیاسی، معاشرتی اور مذہبی حل کے لئے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کریں گے، دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لازوال قربانیاں قابل ستائش ہیں اور ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ان محسنوں کی قربانیوں اور لہو کو رائیگاں نہ جانے دیا جائے۔ بدقسمتی کی انتہا ہے کہ پولیس اور سول انتظامی افسران دہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کرنے کی بجائے دہشت گردوں کی سہولت کاری والا کام کر رہے ہیں۔ ایجنسیز اور وزارت داخلہ کی طرف سے بار بار توجہ دلانے کے باوجود بنا نمبر پلیٹ، مبہم اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔ پولیس اور سرکاری ملازمین بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں میں سفر کرکے دہشت گردوں کو بنا شناخت کھلے عام آزادی سے امن و امان سبوتاژ کرنے کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کو چاہئے کہ بنا نمبر پلیٹ ،مہبم اور غیرنمونہ نمبر پلیٹ والی تمام سرکاری اور غیرسرکاری گاڑیوں کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر کرکے ان تمام افسران و افراد کو پابند سلاسل کیا جائے ۔کیونکہ ان افسران کی دیکھا دیکھا دہشت گردبھی بنا نمبر پلیٹ اور راڈ لگا کر چھپائی گئی گاڑیوں میں سفر کرکے آسانی سے اپنے اہداف پورے کررہے ہیں۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کو بیرونی سرمایہ کاری اور استحکام پاکستان عزیز ہے یا کرپٹ سرکاری ملازمین کا تحفظ۔

    لاہور ٹریفک پولیس کی نااہلی کی وجہ سے لاہور بنا نمبرپلیٹ گاڑیوں میں سرفہرست ہے جہاں قانون کی رٹ نظر نہیں آ رہی۔ ٹریفک پولیس کی کرپشن کی قیمت معصوم پاکستانیوں کی جان و مال کی قربانیوں کی صورت ادا کرنا پڑتی ہے۔ حکومت کی رٹ بحال نہ کروانے والے سرکاری افسران کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے ۔

  • دنیا بدل رہی،پاکستان مخالف قوتیں سرگرم ہوگئیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا بدل رہی،پاکستان مخالف قوتیں سرگرم ہوگئیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیکیورٹی ادارے،پولیس اور عوام دہشتگردی جنگ کے خلاف قربانیاں دے رہے
    نواز شریف نے سیاسی بصیرت سے بلوچستان میں امن قائم کیا،اب بھی اسی پالیسی کی ضرورت
    بلوچی سرداروں کو بھارتی مداخلت کا ادراک ،دشمن نوجوانوں کو گمراہ کرنے لگا
    تجزیہ شہزا د قریشی
    دنیا میں غیریقینی صورت حال بڑھ رہی ہے امریکہ سمیت دنیا بھرمیں خارجہ پالیسی تبدیل ہو رہی ہیں چین، امریکہ یورپی یونین اپنے ملکی اور قومی مفادات کو سامنے رکھ کر تبدیلیاں کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورپی ممالک امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کی نئی پالیسی پر عمل کریں گے یا امریکی پالیسی سے راہیں جدا کرلیں گے ۔یہ ایک بہت بڑ سوال ہے جس کاجواب تا دم تحریر نہیں مل رہا کیا، یورپی ممالک چین کے ساتھ بہتر تجارت اور ترقی کا خواب دیکھنے کی ہمیت کریں گے؟ وطن عزیز میں بھی بین الاقوامی خارجہ پالیسیوں کی تبدیلی کے اثرات یقینی طورپر پڑیںگے ۔ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے رمضان کے مقدس مہینے میں بلوچستان میں جو خون کی ہولی کھیلی ہے ۔ پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا ہے ۔بھارت اور کچھ دیگر ممالک کو سی پیک ہضم نہیں ہو رہا ۔ بی ایل اے اور افغانستان میں موجودہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کویاد رکھناہوگا وطن کی پاک فوج جملہ ادارے او ر پولیس ماضی میں بھی قربانیاں دیتے رہے اور وطن عزیز کے امن کو بحال کرنے میںکردار ادا کرتے رہے ایک عالم گو اہ ہے کہ ضرب عضب سے لے کر ردالفساد تک پاک فوج جملہ اداروں پولیس اور عوام نے قربانیاں دی ہیں تاہم ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ بعض غیر ملکی بلوچستان کی مخصوص صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا بلوچستان کے سرداروں کو بخوبی احساس ہے بھارت کی بلوچستان میں مداخلت کسی سردار سے پوشیدہ نہیں، بھارت بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے اور دہشت گردوں کو وسائل فراہم کرتا ہے۔ ملکی سیاسی جماعتوں کو بلوچستان میں اپنا سیاسی کردار بھی ادا کرنا چاہیئے صرف اقتداراوربس اقتدار نہیں کردار بھی ادا کرنا ہوگا پاک فوج اور جملہ ادارے وطن عزیز کی سلامتی کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں۔اقتدار کی کرسی پر بیٹھے سیاستدانوں اور اپوزیشن جماعتوں کی بھی آخر کوئی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان برادر یوں اور مختلف قبیلوں کی نفسیات اور مزاج کو سمجھنے والے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ماضی میں کچھ اسی طرح کے حالات کا بلوچستان کو سامنا تھا تو میاں محمد نواز شریف نے بلوچستان میں (ن) لیگ کی حکومت جو بنانے کی پوزیشن میں تھے قربان کردی تھی۔ بلوچستان کے تناظر میں نواز شریف نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک کو بطور وزیراعلیٰ قبول کرکے قوم پرستوں میں ایک اچھی مفاہمت کا عندیہ تھا ۔ ذمہ داران ریاست اور حکومت دونوں کو مل کر بلوچستان کے مسئلے پرسرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا سیاسی اور مذہبی جماعتوں کبھی کردار ادا کرنا ہوگا.

  • ٹک ٹاک سٹارسرکاری ملازمین کا احتساب ناگزیر.تحریر: ملک سلمان

    ٹک ٹاک سٹارسرکاری ملازمین کا احتساب ناگزیر.تحریر: ملک سلمان

    چاہئے تو یہ تھا کہ بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین حکومت کا دست بازو بن کر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی مثبت ایمج سازی کے لیے کام کریں لیکن سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد خود ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر حکومتی پارٹی اور حکومتی شخصیات کے حوالے سے ذومعنی اور تنقیدی مواد شئیر کر رہے ہیں۔ سرکاری ملازم جو اپنا اصل کام چھوڑ کر صحافی، کالم نویس اور یوٹیوبر بنے ہوئے ہیں ان کی سرعام تنقید کے نتیجے میں عوامی رائے قائم ہو رہی ہے کہ یہ حکومت بے اختیار و بے بس ہے جو سرکاری ملازمین بلاخوف و خطر تنقید کر رہے ہیں۔

    حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ سرکاری ملازم کی تنقید سے عوامی رائے عامہ خراب ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل قائم کرے اور حکومت مخالف مواد شئیر کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت سخت کاروائی کی جائے۔پیکا صرف صحافیوں کے لیے نہیں ہر اس فرد کے لیے ہے جو مایوسی اور گمراہی پھیلاتا ہے ۔ حکومت مخالف تنقید کرنے والے تمام سرکاری ملازمین کو بھی پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جائے۔

    سول ملازمین کے مقابلے میں آرمی اور جوڈیشری کے افسران کبھی بھی سیاسی معاملات پر رائے نہیں دیتے خاص طور پر آرمی افسران کیلئے سوشل میڈیا استعمال پر سخت پابندی ہے، مس کنڈکٹ پر نہ صرف فوری نوکری سے فارغ کیا جاتا ہے بلکہ کورٹ مارشل سمیت دیگر سزاؤں سے مثال قائم کی جاتی ہے اس لیے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی سوشل میڈیا فورم پر آرمی افسران کسی بھی حکومت یا ادارے کے حوالے سے تنقید کریں۔
    اس کے برعکس سول افسران میں احتساب کا ڈر ختم ہوچکا ہے۔ ایک سول سرکاری ملازم بہت فخر سے بتا رہا تھا کہ میری ویڈیوز پر ہزاروں ویوز آئے ہیں، میں نے کہا کہ سرکاری نوکری کرتے ہوئے یوٹیوب چینل چلانا اور سیلف پروجیکشن غیر قانونی نہیں۔؟ مذکورہ سرکاری ملازم سوشل میڈیا سٹار نے کہا کہ سارے افسر ہی بنا رہے ہیں میں کونسا اکیلا ہوں۔

    میں پہلے بھی بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ سرکاری ملازمین اصل کام چھوڑ کر شہرت کی ہوس میں پاگل ہوچکے ہیں۔ حکومتی مثبت ایمج سازی کی بجائے سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ ملازمین کی صحافتی سرگرمیاں کالم نویسی، وی لاگ، پوڈکاسٹ پر واضح اور مکمل پابندی ہونی چاہیے۔سرکاری ملازمین سارا دن میڈیا والوں کی منتیں ترلے کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے انٹرویو کرو۔بیرون ملک پوسٹڈ افسران کی اکثریت اوورسیز کمیونٹی کی خدمت کی بجائے اپنی ذاتی پروجیکشن، صحافتی سرگرمیوں پوڈکاسٹ اور تحائف اکٹھے کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس وجہ سے اوورسیز پاکستانی حکومت سے سخت ناراض ہیں۔

    وزیراعظم اور وزیراعلی کو چاہیے کہ بلا تاخیر سرکاری ملازمین کی صحافتی سرگرمیوں اور سیلف پروجیکشن پر پابندی عائد کریں۔ حکومتی امور کی تشہیر کے علاوہ افسران کے ہر طرح کے ذاتی انٹرویوز پر بھی مکمل پابندی ہونی چاہیے۔