Baaghi TV

Category: سیاست

  • ترقی کا دوسرا نام ،نواز شریف اور مسلم لیگ ن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ترقی کا دوسرا نام ،نواز شریف اور مسلم لیگ ن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پرویز رشید جیسے کہنہ مشق سیاستدان مریم کی ٹیم کا حصہ،پنجاب ترقی کوئی نہیں روک سکتا
    پرانا دور گیا،قوم باشعور ہوچکی ،اب وہی سیاسی اکھاڑے کا ہیرو بنے گا جو ڈیلیور کرے گا
    اسحاق ڈار کے ترقی کرتی معیشت پر بیان سے قوم کو حوصلہ ملا،مستحکم پاکستان زیادہ دور نہیں
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    وطن عزیز کا کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جو وسائل سے مالا مال نہ ہو ،میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اپنی حکومت اور وسائل کا رخ خلق خدا کی طرف موڑ دیا ہے ،عام لوگوں کے مسائل انکی دہلیز پر حل ہو رہے ہیں، پنجاب میں تعمیراتی کام شروع ہو چکے ہیں ،مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اپوزیشن جماعتوں اور حکومت میں شامل بعض سیاسی قوتوں کی طرف سے مسلم لیگ ن کو تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ کیا مسلم لیگ ن کو تعمیری کام چھوڑ کر توجہ سیاسی تماشوں پر دینی چاہیے؟ یاد رکھیے! آج قوم اور بالخصوص نوجوان طبقہ صرف اس بات پر متحد اور متفق ہےکہ اب وہی ان کا قائد ہوگا جو تعمیر وطن کا جذبہ رکھتاہوگا، جو اس گلشن کی ترقی کا علمبردار ہوگا عوام کا ہمدرد، مخلص اور باکردار ہوگا کون کس سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق رکھتا ہے، آج کے نوجوان کو اس سے کوئی غرض نہیں، اب جذبوں ،کردار، اخلاق اور حب الوطنی کو میزان اور کسوٹی بنایا جائے گا، ستھراپنجاب سمیت دیگر عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں سے مسلم لیگ ن مضبوط اور اسکی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، مقبولیت کا سبب میاں محمد نوازشریف اور مریم نواز کا جذبہ حب الوطنی ہے اور اس کے ساتھ پنجاب میں درویش صفت سینیٹر پرویز رشید اور دیگر کہنہ مشق سیاستدان شامل ہیں جن کی محنت اور لگن سے مسلم لیگ ن بحرانوں سے باہر نکلی ہے، آمدہ قومی انتخابات اور سیاسی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی پوزیشن مستحکم کر رہی ہے ،مسلم لیگ ن کی توجہ کا مرکز عوامی مسائل کا حل اور معیشت کی طرف ہے، مستحکم معیشت کے حوالے سے نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار کا بیان سامنے آیا ہے انہوں نے کہا کہ دفاعی لحاظ سے پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے اب معاشی طاقت کی کمی ہے جس کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، 2017ء میں ملکی معیشت مستحکم تھی کوشش ہے، ملکی معیشت مستحکم ہو ،سینیٹر اسحاق ڈار کے اس بیان کو درست قرار دیا جا سکتا ہے، جب بھی مسلم لیگ ن کو اقتدار ملا تعمیر وطن میں اہم کردار ادا کیا.

  • فری سولر پینل سکیم،مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا،تحریر: جان محمد رمضان

    فری سولر پینل سکیم،مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان میں توانائی کی کمی اور مہنگی بجلی کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، خاص طور پر پنجاب کے صوبے میں جہاں عوام کو بجلی کے بلز کی بھاری ادائیگی کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی ہے۔ لیکن اب اس مسئلے کا ایک انقلابی حل سامنے آیا ہے جسے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعارف کرایا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے سلسلے میں ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر پنجاب فری سولر پینل سکیم کی باضابطہ ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے اس اہم منصوبے کا آغاز کیا۔ اس سکیم کا مقصد نہ صرف توانائی کی فراہمی کے نئے ذرائع کو فروغ دینا ہے بلکہ عوام کو مہنگے بجلی کے بلز سے نجات دلانا بھی ہے۔اس سکیم کے تحت ہزاروں گھروں کو مفت سولر پینلز فراہم کیے جائیں گے۔ سولر توانائی ایک قدرتی اور ماحول دوست توانائی کا ذریعہ ہے، جو نہ صرف توانائی کے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس سکیم کی بدولت لوگوں کو کم قیمت اور مستقل بجلی مل سکے گی، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بجلی کے بلز میں بھی کمی محسوس کریں گے۔

    اس سکیم کے ذریعے ہزاروں افراد کو سولر پینلز فراہم کیے جائیں گے، جس سے وہ بجلی کی مہنگی قیمتوں سے بچ سکیں گے۔ سولر توانائی سے گھروں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا اور صارفین کی مالی حالت میں بہتری آئے گی۔سولر توانائی ایک صاف ستھری توانائی ہے جو ماحول پر کم سے کم اثر ڈالتی ہے۔ اس سکیم کے ذریعے صوبے میں آلودگی کم ہو گی اور قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جائے گا۔ سولر پینلز کی مدد سے گھروں کو بجلی کی مستقل فراہمی ہوگی، جس سے لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قلت کا مسئلہ حل ہو سکے گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف افراد کو توانائی کی بچت ہوگی بلکہ اس کے ذریعے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ سولر پینلز کی تنصیب اور دیکھ بھال کے لیے ماہر افراد کی ضرورت ہوگی، جس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خود مختلف نمبر بتا کر اسکیم کی ڈیجیٹل قرعہ اندازی کی، جس کے نتیجے میں خوش نصیب صارفین کا انتخاب کیا گیا۔ انہوں نے کامیاب ہونے والے افراد کو مبارکباد دی اور سولر پینل انسٹالیشن کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو مہنگی بجلی کے بوجھ سے بچانے کے لیے اس سکیم کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری انرجی نے بتایا کہ مارچ کے آخر تک اسکیم کے تحت فزیکل ویری فکیشن مکمل کر لی جائے گی، جبکہ جولائی کے آخر تک پہلے فیز میں انسٹالیشن مکمل ہوگی۔سیکرٹری انرجی کے مطابق، پہلے مرحلے میں 94483 سولر سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔ یہ سکیم خصوصی طور پر ان گھریلو صارفین کے لیے ہے جو ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اسکیم کے تحت 0.55 کلوواٹ کے 47182 سسٹم نصب کیے جائیں گے۔1.1 کلوواٹ کے 47301 سسٹم نصب کیے جائیں گے۔ان سسٹمز میں جدید ترین انورٹرز اور بیٹری سٹوریج کا نظام بھی شامل ہوگا تاکہ بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔سولر پینلز کی تنصیب میں معیاری آلات اور مستند تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔فری سولر پینل سکیم کے لیے 861000 صارفین نے درخواست دی تھی، جن میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے مستحق افراد کو منتخب کیا گیا۔ یہ تمام عمل اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کے تحت مکمل کیا گیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔اسکیم کے تحت منتخب صارفین کو فزیکل ویری فکیشن کے بعد سولر پینل سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔ ان صارفین کو تربیتی مواد بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے سولر سسٹمز کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔صارفین کی ویری فکیشن ان کے بجلی کے بل پر درج ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ کے ذریعے کی جائے گی۔اسکیم کے تحت صارفین کو ہیلپ لائن کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے گی۔سولر پینلز اور انورٹر کو چوری سے بچانے کے لیے انہیں صارف کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ہر ضلع میں خصوصی سروس سینٹرز قائم کیے جائیں گے جہاں صارفین کو اپنی شکایات اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے مدد فراہم کی جائے گی۔آن لائن پورٹل بھی متعارف کروایا جائے گا جہاں صارفین اپنے درخواست کی حیثیت جانچ سکیں گے اور کسی بھی مسئلے کی رپورٹ درج کروا سکیں گے۔

    پنجاب میں ایک لاکھ سولر سسٹم کی تنصیب سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس اسکیم کے تحت 57 ہزار ٹن کاربن کے اخراج میں کمی ہوگی۔وفاقی حکومت پر سبسڈی کے بوجھ میں کمی آئے گی۔متبادل توانائی کے فروغ سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، جس سے ملک کا زرمبادلہ بچے گا۔بجلی کی طلب اور رسد میں توازن پیدا ہوگا، جس سے لوڈ شیڈنگ کے مسائل میں کمی آئے گی۔گھریلو صارفین کو بجلی کے بل میں 50-60 فیصد تک کمی کا امکان ہوگا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی یہ اسکیم توانائی بحران کے حل کے ساتھ ساتھ عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کا ایک عملی اقدام ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ عوام کے بجلی کے بلوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس اسکیم سے پاکستان میں صاف اور متبادل توانائی کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی اور ملک میں توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں یہ سکیم ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے جو نہ صرف توانائی کے بحران کا حل پیش کرے گی بلکہ عوام کی زندگی میں بھی بہتری لا سکتی ہے۔ اگر یہ سکیم کامیابی کے ساتھ چلتی ہے تو پنجاب میں توانائی کی ضروریات کا بیشتر حصہ سولر توانائی کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے، جس سے پورے ملک کی توانائی کی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔یہ سکیم نہ صرف صوبہ پنجاب کے عوام کے لیے ایک خوشی کی خبر ہے بلکہ پاکستان کی توانائی کی پالیسی میں بھی ایک اہم پیشرفت کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • یورپ اور امریکہ ایک،ٹرمپ  ڈرامہ چین کا راستہ روکنا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    یورپ اور امریکہ ایک،ٹرمپ ڈرامہ چین کا راستہ روکنا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ارض وسماں کا مالک صرف اللہ،ہماری اکڑ کیسی؟جمہور کے نام نہاد علمبردار قوم کو تقسیم سے بچائیں
    ترقی کا راز قانون کی حکمرانی،متکبر افسر یادرکھیں ،آخر موت ہے،عوام کےخادم بنیں،حاکم نہیں
    تجزیہ : شہزاد قریشی
    عالمی قوتیں ایک دوسرے کو دھوکہ دے ر ہی ہیں یا امریکہ ا پنے اتحادیوں کو دھوکہ دے رہا ہے ؟ یہ دنیا کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے؟ کیا امریکی صدر دنیا کے لئے کچھ نیا کرنے جا رہے ہیں۔ کیا امریکہ فسٹ امریکی صدر کا نعرہ کوئی نئی پالیسی دنیا پر مسلط کرنے جا رہے ہیں؟ ٹرمپ انتظامیہ یو کرین سے الگ ہونے کے لئے بے چین کیوں ہے ؟ کیا یہ بین الاقوامی سیاسی ڈرامہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے کیا جارہا ہے؟ کیا دنیا امریکی پالیسی کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے امریکی پالیسی کے خلاف جانا دنیا کے لیے ایک غلطی ہو سکتی ہے ۔ دنیا کے کئی ممالک امریکی پالیسی کے حامی ہیں ۔ تاہم امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے اثرات جلد ہی دنیا میں نظر آنا شروع ہو جائیں گے ۔

    پاکستان کی سیاست اور جمہوریت پر تبصرہ کیا کرنا بس قوم سے التجا ہی ہے کہ و طن انسان کی پہچان اور اس کا وقار ہوتا ہے ۔وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہر شہری اسکی ترقی ، اس کی خوشحالی ، امن وامان میں ہر ممکن تعاون کرے ۔ وطن کی املاک ، سڑکیں ، گلیاں ، اسکول ، ہسپتال ، دفاتر کی حفاظت کی ذمہ داری ہر شہری کی ہے ۔ ملک وقوم کی سربلندی ہر شہری کا خواب ہونا چاہیئے ۔ منتشر اور خستہ حال ملک کے شہریوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔پوری دنیا کی سرزمین اللہ تعالی کی ملکیت ہے پاکستان کی سرزمین بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اس زمین پر فتنہ فساد پھیلانے والوں کی بھی باز پرس ہو گی اس زمین پر جتنی بھی نعمتیں ہیں آسمانی نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں سے ہم فائدے اٹھاتے ہیں اس سرزمین کی آغوش میں نہ جانے کتنی نسلیںسو گئیں یہ کائنات صدیوں سے تھی اللہ تعالٰی کے حکم سے رہے گی ہم سب راہ گیر ہیں اور حقیر ہیں آج ہیں کل نہیںہوں گے ۔ نام نہاد سیاستدانوں اور نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے قوم کو تقسیم در تقسیم کردیا ہے۔جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر قوم کو دھوکہ ہی دیا ہے۔ دنیا کی ترقی کا راز قانون کی حکمرانی ہے ۔ انصاف ہے ۔ ہمارے اقربا پروری کی انتہا ہے رائٹ مین فار رائٹ جاب کا فقدان ہے۔ یہ میرا افسر یہ تیرا افسر ، یہ میرا بیورو کریٹ ، یہ تیرا بیورو کریٹ ،تکبر و غرور کی انتہا کی بلندیوں کو چھونے والے سیاستدان ،بیورو کریٹ ، بیوروکریسی کے افسران پولیس کے افسران اوردیگر محکمہ جات میں بیٹھے افسران خدا کی زمین پر اکڑ کر چلنے والے اپنی موت سے بے خبر زمین بوس ہونے والے کب سدھریں گے؟ یاد رکھیئے امریکہ اور یورپ میں مفاہمت اور اتحاد کا پرانا ریکارڈہے دوسری جنگ عظیم کے بعدافغانستان کی جنگ تک یورپ اور امریکہ ہر قدم پر ساتھ رہے ۔ امریکہ یورپ روس یو کرین کی سیاست سے باہر نکلیں ،اسلامی ممالک کے لیے موجودہ عالمی سیاست میں سعودی عرب کا کردار انتہائی اہم ہوگااپنی پالیسیوں پر توجہ دیں.

  • چالیس ارب ڈالر خوش آئند لیکن مانیٹرنگ اتھارٹی ناگزیر.تحریر:ملک محمد سلمان

    چالیس ارب ڈالر خوش آئند لیکن مانیٹرنگ اتھارٹی ناگزیر.تحریر:ملک محمد سلمان

    عالمی بینک کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کرتے ہوئے 10 سالہ کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک (سی پی ایف) کی منظوری دے دی ہے، ورلڈ بینک نے پاکستان کو پہلے ایسے ملک کے طور پر منتخب کیا ہے جہاں وہ 10 سالہ شراکت داری کی حکمت عملی متعارف کرانے جا رہا ہے۔ عالمی بینک پاکستان کو 20 بلین ڈالر کے قرضوں کے علاوہ نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت عالمی بینک کے ذیلی اداروں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے ذریعے مزید 20 بلین ڈالر کے نجی قرضے کی حمایت بھی کرے گا اس طرح کل پیکج 40 بلین ڈالر ہو جائے گا ۔ وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب پالیسیوں اور انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ ملکی معیشت صحیح سمت اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں چالیس ارب ڈالر کا تاریخی پیکچ پاکستان کی تقدیر بدل دے گا لیکن وزیراعظم سے گزارش ہے کہ اس وقت پاکستان سرکاری ملازمین کی مزید کرپشن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ماضی سے لیکر حال تک یہی ہوتا آ رہا ہے کہ اربوں روپے کے فنڈز کو عوام کیلئے استعمال کرنے کی بجائے وہاں تعینات افسران خود کو ورلڈ بینک اور باقی سب کو حقیر سمجھ کر ٹریٹ کرتے ہیں، پراجیکٹ ہیڈ لگنے والے افسر کاسب سے پہلے نعرہ ہی یہی ہوتا ہے کہ میں اتنے سو ارب کا مالک اور اکیلا ہائرنگ فائرنگ اتھارٹی ہوں۔ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے عوام کے نام پر حاصل کیے گئے ہزاروں ارب لوٹ کر بیرون ملک اپنی جنت بنانے والے سرکاری افسران پاکستان کو عام آدمی کیلئے جہنم بنا رہے ہیں۔ ہوش ربا کرپشن کی واردات رقم کرنے کیلئے اربوں روپے کی خطیر رقم کے منصوبے میں گریڈ 18کے جونئیر کو ’’آل ان آل‘‘ لگانے والا اور شیلڑ دینے والے سینئر افسران برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔ تین سے چار افسران مل کر مجموعی منصوبے کا بیس سے چالیس فیصد لوٹ لیٹے ہیں۔ حکومت کو ان منصوبوں کیلئے افسران کے لاڈلے اور کمائوپتر افراد کی بجائے ایماندار افسران کا تقرر کرنا چاہئے۔ کرپٹ ترین افسران کو ڈوئیر کا نام دے کر سیاہ و سفید کی آزادی دینا ہرگز عقلمندی نہیں۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک ورلڈ بینک سے ہم 363پراجیکٹ کی مد میں 49183ملین ڈالرز یعنی 14ہزار ارب لے چکے ہیں۔ ورلڈ بینک کی فنڈنگ اور قرضوں سے حالیہ رننگ پراجیکٹس کی رقم لگ بھگ چار ہزار ارب سے زائد ہے۔ وفاق میں ایک ہزار ارب سے زائد کے پراجیکٹس ورلڈ بینک کی فنڈنگ سے چل رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں ڈیمز کی ایکسٹیشن اور تعمیر کے 772ارب کے علاوہ 576ارب کے مختلف پراجیکٹس چل رہے ہیں۔ سب سے زیادہ 992ارب کے پراجیکٹس سندھ میں جبکہ پنجاب میں 621ارب اور بلوچستان میں 76ارب کے پراجیکٹس چل رہے ہیں۔ یہ ڈیٹا صرف رننگ پراجیکٹس کا ہے۔ ورلڈ بنک فنڈنگ والے منصوبوں میں 30ارب سے لیکر 500ارب تک کے پراجیکٹس ہیں۔ درجنوں ایسے پروگرام چل رہے ہیں اور سینکڑوں آئے اور ختم بھی ہوگئے۔ پچیس کروڑ عوام کے نام پر کئی سو کھرب روپے کے فنڈز مخصوص افسران کھاگئے۔ پہلے والوں کااحتساب جب ہوگا تب سہی کم از کم موجودہ لوٹ مارکرنے والوں کا ہاتھ روکنے کیلئے ’’ انٹرنیشنل فنڈز مانیٹرنگ اتھارٹی‘‘ بنائی جائے۔ ضروری ہے کہ اس اتھارٹی میں آرمی کے افسران، آڈیٹر اور ایکسپرٹس رکھے جائیں۔احتساب اور میرٹ کیلئے واحد حل آرمی افسران پر مبنی اتھارٹی کا قیام ہے اگر سول افسران رکھے گئے تو یہ بھی ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کی طرح فنڈنگ پراجیکٹس والے افسران کی کرپشن روکنے کی بجائے حصہ وصول کر کے سب اچھا کی رپورٹ کر دیں گے۔ آئی ایم ایف، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، یو ایس ایڈ اور دیگر بین الاقوامی پراجیکٹس میں عجب کرپشن کی غضب داستانیں ہیں۔ ماضی میں سب سے زیادہ کرپشن صاف پانی، زراعت، کلائمیٹ چینج، وائلڈ لائف و جنگلات، حقوق نسواں، صحت اور تعلیم کے فنڈڈ پروگراموں میں کی گئی ہے۔ اربوں روپے کے ان میگا پراجیکٹس کے باوجود ان شعبوں میں بہتری اس لیے نہیں ہوسکی کہ جن پراجیکٹس کے نام پر کھربوں روپے کے قرضے لیے اور کھائے گئے عام آدمی تو درکنار سرکاری ملازمین کی اکثریت نے انکا نام تک نہیں سنا۔ فائیو سٹار ہوٹل میں رہائشیں اور سیمینار کرکے بلز بنائے جاتے ہیں۔ مارکیٹ ریٹ سے کئی گنا زائد ریٹ پر پرائیویٹ عمارتیں کرایہ پر لیکر من پسند افراد کو نوازا جاتا ہے اور کک بیک کی صورت ریگولر کمائی کی جاتی ہے۔ ایک پراجیکٹ میں درجنوں دفعہ اسیسمنٹ اور ویلوایشن کے نام پر کنسلٹینسی فیسیں دی جاتی ہیں۔ من پسند افراد کو من مرضی کے پیکج بانٹے جاتے ہیں۔ اگر سرکاری افسران کی یہ ساری جعل سازیاں اور دونمبریاں بند نہ کیں تو آج لیا ہوا چالیس ارب ڈالر یعنی 11158ارب روپیہ، ڈالر کے بڑھتے ہوئے ریٹ کی پیش نظر مستقبل میں تیس سے چالیس ہزار ارب ڈالر کرکے واپس کرنا پڑے گا۔ ڈالر کے بڑھتے ہوئے ریٹ کو روکنے اور روپے کی قدر میں اضافے اور بیرونی قرضے کے درست استعمال کیلئے آزاد اور خود مختار مانیٹرنگ ایجنسی بنانا ناگزیر ہے۔ مانیٹرنگ ایجنسی وفاق سمیت تمام صوبوں میں موجود انٹرنیشنل فنڈنگ کے تمام منصوبوں کی تحقیقات میں بالکل آزاد ہونی چاہئے کیونکہ اس بیرونی قرض کے منصوبوں میں سندھ اور خیبرپختونخوا میں جو ریکارڈ ساز لین دین ہوئی ہے اس کا خمیازہ تو حکومت پاکستان اور عوام کو ہی بھگتنا ہے۔

  • مذہبی ٹچ،غربت کارڈ اور بدمعاشی نہیں حکومتی رٹ بحال کریں۔تحریر:ملک سلمان

    مذہبی ٹچ،غربت کارڈ اور بدمعاشی نہیں حکومتی رٹ بحال کریں۔تحریر:ملک سلمان

    این ایم سی، ایس ایم سی اور ایم سی ایم سی پرموشن ٹریننگ کورس پر لاہور آئے آفیسر مجھ سے ملنے گھر آئے تو وزیراعلیٰ پنجاب کے درجنوں کاموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تجاوزات کے خلاف ایکشن سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ سنئیر افسران کا کہنا تھا کہ انکے صوبوں کے وزراء اعلیٰ تجاوزات کے خلاف اس لیے جرات نہیں کر رہے کہ ان کے قریبی عزیز و اقارب کروڑوں اور اربوں روپے کی تجاوزات کے بینیفشریز ہیں دوسرا ووٹ بینک خراب ہونے کا خدشہ۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تجاوزات اور ریڑی والوں کا ووٹ کبھی بھی کسی کو میرٹ پر نہیں ملا، ریڑی والوں نے ہر دفعہ پیسوں کے عوض شناختی کارڈ ہی بیچا ہے۔
    وزیراعلیٰ پنجاب کی تجاوزات اور لاقانونیت کے خلاف زیروٹالریشن کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور پڑھے لکھے طبقے کا اچھا خاصا ووٹ بینک ان کی طرف آیا ہے۔ سنئیر افسران کا کہنا تھا کہ انکی خواہش ہے کہ وہ ٹریننگ کے بعد ویژنری وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں کام کرنے کیلئے پنجاب آجائیں۔

    سوشل میڈیا پر تجاوزات کی صورت ہٹائے گئے ایک بورڈ کی تصویر کے ساتھ کیپشن تھا کہ ختم نبوت کا بورڈ زمین پر گرانے والے ڈپٹی کمشنر اور انتظامی افسران توہین مذہب کررہے ہیں،ان پر اللہ کا عذاب ہو۔
    میں نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو وہ پوسٹ شئیر کرتے ہوئے کال کی کہ بھائی ان سب کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کروا کر انکا سارا مذہبی ٹچ نکالا جائے کہ ذاتی فائدے کیلئے جس پر مرضی توہین مذہب کا الزام لگادیتے ہیں۔ علماء اکرام سے گزارش ہے کہ جذباتی اور جنونی مذہبی ٹچ کی بجائے اصل دین سیکھایا جائے۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ راستے سے پتھر ہٹانا بھی نیکی ہے۔ جب پتھر ہٹانا نیکی ہے تو راستوں میں پتھر لگانا اور تجاوزات قائم کرنا گناہ نہیں تو اور کیا ہے؟سرکاری سڑک اور زمین پر ختم نبوت کا بورڈ لگا کر قائم کی گئی تجاوزات کو ہٹانا توہین مذہب نہیں بلکہ تجاوزات قائم کرنا اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی ہے۔ بیچ سڑک مسافروں کو تنگ کرکے دکانداری کرنا حرام عمل نہیں؟

    سب سے زیادہ ٹریفک حادثات رمضان کے مہینے اور افطاری کے وقت ہوتے ہیں، افطاری سے گھنٹہ پہلے ٹریفک پولیس سڑکوں سے غائب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے فل سپیڈ سے گرم گرم سموسے پکوڑے لیکر گھر پہنچ جائے لیکن راستے میں موجود تجاوزات سے ٹکرا کر گھر کی بجائے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔رمضان کے مبارک مہینے میں تجاوزات قائم کرکے آپ شیطان کے چیلے والا کام کرتے ہو۔
    درجنوں نہیں سینکڑوں کی تعداد میں دربار اور مسجدیں سرکاری زمینوں پر قبضے کرکے قائم کی گئی ہیں۔ علماء کو چاہئے کہ انتظامیہ اور حکومت کو خود سے آفر کریں کے وہ درباروں اور مسجدوں کا غیرقانونی حصہ مسمار کرکے باقیوں کیلیے بھی مثال قائم کریں کہ عبادت بھی تب قبول ہوگی جب غیرقانونی قبضہ کی گئی جگہ چھوڑ کر قانون کی پاسداری کریں گے۔ ایسا کرنا کوئی احسان نہیں علماء کا فرض ہے اگر وہ یہ فرض ادا نہیں کریں گے تو اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے اور اپنے سارے نیک اعمال ضائع کروا لیں گے۔

    راجہ مارکیٹ گارڈن ٹاؤن جہاں سپیکر پنجاب اسمبلی میرے ہمسائے ہیں اب تک آٹھ دفعہ ریڑی والوں کو ہٹایا گیا ہے پھر واپس آجاتے ہیں جب ان کی ریڑی کو زبردستی سرکاری تحویل میں لیا جائے گا تو سوشل میڈیا پر غربت کارڈ شروع ہوجائے گا غریب پر ظلم ہے اس کو وارننگ دے دیتے۔ آٹھ دفعہ ہٹایا گیا، کیا وہ وارننگ نہیں؟
    سرکاری زمینوں پر قبضے اور شاہرائیں بند کرنا غربت کا علاج نہیں۔ باعزت روزگار کیلئے حکومت پنجاب نے بہترین ریڑی بازار قائم کیے ہیں ان کے علاوہ تمام ریڑیاں اور رکشے قبضے میں لے لینے چاہئے۔ ریڑی بازار میں بھی سختی کی ضرورت ہے کوئی بھی ریڑی سے باہر سڑک پر نا تو سامان رکھے اور نہ ہی ریڈ لائن سے باہر نکلے۔
    مذہبی راہنماؤں کو چاہئے کہ درس قران اور جمعہ کے خطبات بھی ناحق زمین پر قبضے کرنے اور راستوں کی بندش کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالیں۔

    حقیقی بات یہی ہے کہ ہمارا معاشرہ اس قدر بے حس اور بے شرم ہوچکا ہے کہ اپنے مفاد کے خلاف احکامات الہی اور فرمان نبوی کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس لیے اس قوم کا ایک ہی علاج ہے وہ ہے بھاری جرمانے اور سخت سزائیں۔ اگر تجاوزات قائم کرنے والوں کو پتا ہوگا کہ انتظامی افسران ہر بار انکی منتیں نہیں کریں گے بلکہ تجاوزات کے جرم میں انکو جرمانہ ہوگا یا جیل جانا پڑسکتا ہے تو تین دن میں سارے ٹھیک ہوجائیں گے۔ سب سے ضروری بات تجاوزات قائم کرنے والوں کیلئے تو سزا ہے لیکن تجاوزات کو ہٹانے میں ناکام ہونے والے انتظامی افسران کیلئے بھی عہدوں سے معطلیاں اور نوکری سے برخاستگی کی کاروائی کیے بن یہ مشن ادھورا ہی رہ جائے گا۔
    میرے آبائی ضلع قصور میں سابق ڈپٹی کمشنر قصور نے تجاوزات کے خلاف اچھا آپریشن شروع کیا تھا لیکن جیسے ہی وہ گئے ہیں ایک دفعہ پھر سے ضلع قصور تجاوزستان بن گیا ہے۔ فیصل آباد اور ڈی جی خان کے اضلاع میں تجاوزات کے خلاف مثالی کاروائی کی جارہی ہے۔

    ملک سلمان

  • برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف خوش آئند ،تحریر: جان محمد رمضان

    برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف خوش آئند ،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے وزیر خزانہ کی جانب سے 3 سے 5 سال کے دوران برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ یہ ہدف صنعتی شعبے کی ترقی اور ملکی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، مگر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کچھ اہم مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔پاکستان کی حکومت نے گزشتہ 12 سے 14 ماہ کے دوران معیشت کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں کمی کے فیصلے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے ہیں اور دوہرے خسارے کو قابو کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ سرکاری نقصانات کو کم کرنے کے لیے اداروں کی رائٹ سائزنگ کی گئی ہے، جس سے حکومتی اخراجات میں واضح کمی آئی ہے۔

    پاکستان کا صنعتی شعبہ ہمیشہ سے برآمدات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اگر حکومت پاکستان کی تجارتی شراکت داریوں کو بڑھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہو گا۔ تاہم، پاکستانی معیشت کو ایک بڑی پریشانی کا سامنا برآمدات میں جمود کی صورت میں ہے۔ پاکستان کو اپنے تجارتی خسارے کو پورا کرنے، بیرونی شعبے کو بہتر بنانے اور مالیاتی ترقی کے لیے برآمدات کو بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔حکومت کے حالیہ اقدامات کے برخلاف، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا جا رہا ہے، جو کہ صنعتی شعبے کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ صنعتی مقاصد کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ماہانہ، سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ اور نئے ٹیکسوں کی بھرمار نے صنعتی شعبے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل ملز اور بڑی فیکٹریوں کا بند ہونا ہزاروں مزدوروں کی بے روزگاری کا سبب بن رہا ہے۔آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ جب پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں، جس کا اثر بیرون ملک ان کی مانگ پر پڑتا ہے۔ نتیجتاً، برآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں تنزلی کا سامنا ہوتا ہے۔

    اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو فوری طور پر صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں کمی لانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی، فیول ایڈجسٹمنٹ کے نظام میں اصلاحات اور صنعتوں کو سہولت دینے کے لیے ٹیکسوں میں کمی ضروری ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو اور 60 ارب ڈالر تک برآمدات کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔پاکستان کی حکومت کو صنعتی شعبے کی حمایت میں فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ وہ 60 ارب ڈالر کے برآمداتی ہدف کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکے۔ اگر ان چیلنجز پر قابو پایا جاتا ہے تو پاکستان کی معیشت میں بہتری ممکن ہو گی اور برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔

  • مریم نواز ثابت قدم رہنا. آپ تاریخ کا روشن باب رقم کرنے جا رہی ہیں. تحریر: ملک سلمان

    مریم نواز ثابت قدم رہنا. آپ تاریخ کا روشن باب رقم کرنے جا رہی ہیں. تحریر: ملک سلمان

    ڈی جی پی آئی ڈی شفقت عباس نے سنئیر صحافیوں اور حکومت پاکستان کی دعوت پر آئے بنگلہ دیشی صحافیوں کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔
    ایک بجے کا وقت تھا مہمان پونے دوبجے کے قریب پہنچے تو ہم نے پی آئی ڈی والوں سے پوچھا کہ آپ خود لیٹ پہنچے ہیں تو انکا کہنا تھا کہ ہر طرف ٹریفک جام اور تجاوزات ہیں کیا کریں، مینار پاکستان سے گلبرگ پہنچنے میں 55منٹ لگے اگر غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات نہ ہوں تو یہ فاصلہ صرف پندررہ منٹ کا ہے۔
    سنئیر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ شکرکریں ابھی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کرچکی ہیں ورنہ آپکو اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا تھا۔ بنگالی مہمانوں نے لاہور کی خوبصورتی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سے واپس جانے کو دل نہیں چاہتا۔ ایک اور بنگالی صحافی نے کہا کہ ہارس اینڈ کیٹل شو کے ایڈورٹائزنگ بینرز اور بورڈ مجبور کر رہے ہیں کہ ہمیں بھی یہ ثقافتی میلہ لازمی دیکھنا چاہئے۔ ایک بنگالی صحافی نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ تاریخی اہمیت کے حامل شہر لاہور میں بغیر نمبر پلیٹ گاڑیاں کیسے چل سکتی ہیں، پاکستان کی میزبانی میں چیمپئن ٹرافی جیسا اہم ایونٹ شروع ہوچکا ہے تو بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں اور رکشے سکیورٹی تھریٹ نہیں؟چند ہفتے پہلے چائنیز نے بھی بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    بدقسمتی کی انتہا ہے کہ پنجاب کی ٹریفک پولیس آوورآل جبکہ لاہور ٹریفک پولیس خاص طور پر ناجائز پارکنگ مافیا کے خاتمے کی بجائے انکو سپورٹ کرنے سے باز نہیں آرہی۔ فلیشر لائٹ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی۔ سڑکوں بازاروں اور عام گلیوں میں بھی ناجائز پارکنگ سٹینڈ بن چکے ہیں۔ چوک چوراہوں اور بیچ سڑک پارکنگ اور تجاوزات مافیا کا راج ہے۔سنئیر صحافی مجیب الرحمٰن شامی، سلمان غنی، حسین پراچہ، نوید چوہدری، محمد مہدی سمیت اکثریت کا کہنا تھا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ایسا کام ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا اقبال ٹاؤن، گرین ٹاؤن اور ٹاؤن شپ لاہور کا حصہ نہیں وہاں تو تجاوزات ویسے کی ویسے ہیں۔ میں نے انہیں اپنی مثال دی کی میری رہائش احمد بلاک گارڈن ٹاؤن ہے میں چھے دفعہ راجہ مارکیٹ اور برکت مارکیٹ گارڈن ٹاؤن تجاوزات کی ویڈیوز بھیج چکا ہے۔ ویڈیو کے فوری بعد ڈپٹی کمشنر تجاوزات ہٹوا دیتے ہیں لیکن ٹھیک دو چار گھنٹے بعد ساری تجاوزات واپس آجاتی ہیں۔ ماضی کی حکومت میں اتنے جعلی آپریشن ہوئے ہیں کہ اب تجاوزات مافیا کو قانون کا ڈر ہی نہیں رہا۔
    میڈم وزیراعلیٰ کو سمجھنا چاہئے کہ بیوروکریسی ایک دفعہ کا فوٹو شوٹ کرکے جعلی کارگردگی شو کر رہی ہے۔ جو تجاوزات چھے دفعہ شکایت کرنے کے بعد واپس آگئیں باقی علاقوں کا کیا حال ہوگا۔ گذشتہ دنوں راولپنڈی جانے کا اتفاق ہوا تو ایسا لگا کا تجاوزات کے ہیڈ آفس آگیا ہوں۔

    آج کل اتنی شادیاں اٹینڈ کرنا پڑ رہی ہیں کہ پورے پنجاب کے کئی چکر لگ چکے ہیں۔ ذاتی مشاہدے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ خانیوال، خوشاب، بہاولپور سیالکوٹ، گجرات، چکوال اور اوکاڑہ کے اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے، ہر طرف گندگی جبکہ فوٹو شوٹ کے بعد تجاوزات وہیں کی وہیں ہیں۔

    معروف کالم نویس حسین پراچہ کا کہنا تھا کہ بار بار تجاوزات ہٹانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ سرکاری جگہوں پر قبضے کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سزائیں دینے سے ہی قانون کی رٹ بحال ہوگی۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سٹیٹ لینڈ کی حفاظت اور تجاوزات کے خاتمے کے مشن میں اپنے اراکین پارلیمنٹ کو ناراض کرکے اس مشن کو چلائے ہوئے ہیں اب بیوروکریسی کو بھی شرم کرنی چاہئے کہ قانون پسند وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا ساتھ دیں نہ کہ تجاوزات مافیا کا۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ہمارا ڈپٹی کمشنر تو تجاوزات ہٹوانے میں رتی برابر ا سیریس نہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے تجاوزات کا خاتمہ آپکی جرات اور حب الوطنی کی پہچان بن چکا ہے۔تجاوزات فری پنجاب مریم نواز کا ٹریڈ مارک ہونا چاہئے۔سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا مریم نواز نے اٹھایا ہے اس کیلئے پنجاب کا ہر فرد وزیراعلیٰ کے ساتھ ہے۔ اس نیک کام کو روکنے کیلئے تجاوزات کی کمائی کھانے والے چند سیاستدان اور سرکاری ملازم پورا زور لگا رہے ہیں کہ انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو لیکن میڈم وزیراعلیٰ آپ نے ثابت قدم اور مضبوط رہنا ہے انشاء اللہ آپ کا یہ کارنامہ تاریخ کا روشن باب ہوگا۔

    میڈم وزیراعلیٰ آپ اپنی اپیکس کمیٹی کی میٹنگ سے اندازہ لگا لیں کہ وہاں بھی کچھ لوگ تجاوزات کے خلاف ایکشن میں نرمی کا کہہ کرحقیقت میں تجاوزات مافیا کو سپورٹ کرنا چاہ رہے تھے لیکن آپ کی استقامت اور دوراندیشی کو سلام کہ آپ نے سمپل جواب دے کر سب کا منہ بند کروادیا کہ تجاوزات کے خلاف ایکشن ریاست کے مفاد میں ہے؟ اگر ریاست کے مفاد میں ہے تو جاری رہے گا، مجھے کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہیں میرے لیے اس مٹی کی حفاظت زیادہ عزیز ہے۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ نے 70ہزار ارب کی سٹیٹ لینڈ کو ریکور کروا کر پاکستان کو اندرونی اور بیرونی قرضوں سے نجات دلانی ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کی ٹریفک پولیس پارکنگ مافیا کی بی ٹیم بن چکی ہیں۔ ٹریفک پولیس میں سخت بھل صفائی کی ضروت ہے۔

    حکومت دہشت گردوں ، سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق آپریشن کرے.حافظ خالد نیک

    پاکستان میں کاروباری اعتماد میں بتدریج اضافہ ہوا،گیلپ سروے

    malik salman

  • دو ریاستی حل  پر مبنی امن کے لئے عرب وژن ضروری،تجزیہ شہزاد قریشی

    دو ریاستی حل پر مبنی امن کے لئے عرب وژن ضروری،تجزیہ شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل اور دیگر عالمی فورم پر سوالیہ نشان ہے ؟عالمی طاقتیں اپنے ریاستی مفادات کے لئے استعمال کرتی آرہی ہیں۔عرب بادشاہوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ فلسطین اور کشمیری عوام پر وحشیانہ تشدد جاری رہا۔ اقوام متحدہ اورد یگر عالمی ادارے فلسطینی عوام اور کشمیری عوام کو انصاف دلانے میں تادم تحریر ناکام رہے۔ روسی اور چینی حکمرانوں کی پالیسیاں بھی معاشی مفادات کے گرد گھوم رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں نے فلسطین اورکشمیر کو داخلی دوکانداری کے لئے استعمال کیا۔ غزہ اور کشمیر دونوں میں کھلی اور آزاد فضا میں سانس لینا مشکل ترین ہے۔ دونوں کی عوام قید خانوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ غزہ میں جب خیموں میں لپٹی ہوئی آبادی پر گولہ باری اور بھوک پوری طرح سے گر رہی تھی۔ اقوام متحدہ ، دیگر عالمی ادارے ،عالمی طاقتیں ،عرب بادشاہ ،د یگر جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعویدار اسلامی ممالک کہاں تھے؟ وہ عرب بادشاہ اور عرب ممالک کہاں تھے ،جب غزہ کی خواتین اور بچے چیخ رہے ہیں تھے، مدد کو پکار رہے تھے ۔ عالمی دنیا بھی کہاں تھی۔عالمی تبصرہ نگاروں کے مطابق امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے مطابق فلسطینی علاقوں ایران اور یوکرین میں اہم ڈیڈ لائنز قریب آرہی ہیں دو رسیاستی حل پر مبنی امن کے لئے عرب وژن ضروری ہے، اس جاری مسئلے کا واحد حل کا یہی راستہ ہے سعودی عرب ایک سرکردہ عرب اور دیگر اسلامی ممالک جو اس مسئلے کے حل کے لئے صلاحیت رکھتے ہیں،کردار ادا کریں ٹرمپ کی تجاویز کا متبادل منصوبہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر تیار کریں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بات کریں دنیا بدل رہی ہے پاکستان کو بھی اگر بدلنا ہے تو ہمارے حکمرانوں ،سیاسی جماعتوں کے قائدین اورطاقتور حلقوں کو بدلنا ہوگا دنیا کے ساتھ نئے طور طریقے بدلنا ہوں گے۔ ریاستی مفادات اور قومی مفادات کو سامنے رکھ کر بدلنا ہوگا۔ داخلی بُحران کا حل تلاش کرنا ہوگا ۔بلاشبہ مسائل پیچیدہ ہیں لیکن ان کا حل ناممکن نہیں۔ اداروں کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو تسلیم کرنا ہوگا ۔ اس پاکستان کی بقا اور سلامتی کی خاطر اس مقدس سرزمین کے لئے بڑی قربانیاں دی گئیں اس کے وقار میں اضافے کا سبب بنیں ۔ پاکستان خطے کا اور اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے۔ اس کا کردار عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک میں اہم ہی ہونا چاہیئے ۔ اس کے لئے صدق دل سے اپنے ذاتی مفادات کو وطن عزیز کے لئے قربان کرنا ہوگا۔

  • مریم کی قیادت میں پنجاب بدل رہا. تحریر: نور فاطمہ

    مریم کی قیادت میں پنجاب بدل رہا. تحریر: نور فاطمہ

    پاکستان کی سیاست میں خواتین کی نمائندگی ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ایک ایسی شخصیت بن کر ابھری ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی بصیرت، قائدانہ صلاحیتوں اور عوامی خدمت کے جذبے سے سب کو متاثر کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پنجاب نے ترقی کی نئی منازل طے کی ہیں اور عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔مریم نواز نے جیل بھی کاٹی. گرفتاریاں بھی دیں لیکن والد کا ساتھ نہ چھوڑا.

    وزیراعلیٰ پنجاب مریمنواز کا سیاسی سفر ایک عام کارکن سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی محنت، لگن اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کی تقاریر میں ہمیشہ ایک واضح پیغام ہوتا ہے جو عوام کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ عوام کے مسائل کو سمجھا اور ان کے حل کے لئے کوششیں کیں۔عام انتخابات میں مریم نواز الیکشن جیتیں تو انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے پر نامز د کیا گیا، وہ وزیراعلیٰ بنیں تو پنجاب بدلنے لگا.وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں پنجاب نے کئی ترقیاتی منصوبے دیکھے ہیں۔ تعلیم، صحت، زراعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں ان کی توجہ قابل ستائش ہے۔ طلبا کو سکالر شپ،لیپ ٹاپ، غریب عوام کے لئے اپنا گھر منصوبہ، کسانوں کے لئے کسان کارڈ، معذوروں کے لیے وہیل چیئر،آلہ سماعت، غرض جس شعبے میں جائیں، ہر طرف وزیراعلیٰ مریم نوا ز کا نام اور کام بول رہا ہے

    وزیراعلیٰ پنجاب کی مقبولیت کا راز ان کی عوام سے قربت ہے۔ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہتی ہیں اور ان کے مسائل کو سنتی ہیں۔ ان کی سادگی اور اخلاص نے عوام کو ان کا گرویدہ بنا لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی فعال موجودگی ہے جہاں وہ عوام سے براہ راست رابطے میں رہتی ہیں۔یقینی طور پر، وزیراعلیٰ پنجاب کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان جیسے مسائل ابھی تک موجود ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔ تاہم، ان کی قیادت میں پنجاب حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ ایک بہترین سیاستدان بن کر ابھری ہیں۔ ان کی قیادت میں پنجاب کا مستقبل روشن ہے۔ امید ہے کہ وہ اپنی محنت اور لگن سے عوام کی خدمت کرتی رہیں گی اور پنجاب کو ترقی کی مزید منازل تک لے کر جائیں گی۔
    noor fatima

  • روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی میں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی میں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بین الاقوامی اُفق پر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں بین الاقوامی سیاسی کھلاڑیوں اور پالیسی سازوں نے زمانہ حاضر کے مطابق ترجیحات اور اہداف مقرر کرنے اور عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکہ اور یورپی تعلقات کو لے کر پینٹگان کے سربراہ نے نیٹو کے اجلاس کے لئے یورپ کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ روس اور یو کرین کی جنگ کو لے کر امریکی صدر اور روس کے صدر کی طویل ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ عالمی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یورپ میں ایک مضبوط اور مصروف امریکہ نہ صرف براعظم کے لئے فائدہ مند ہے بلکہ یہ امریکی قومی سلامتی اور اقتصادی خوشحالی کے لئے ضروری ہے ۔ یورپ امریکی معیشت کی بہتری کے لئے بہت اہم ہے۔

    ادھر گزشتہ ہفتے ترکیہ کے صدر نے تین ممالک کے دورے کئے ہیں جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ترکیہ کی مصروفیت کو بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ترکی کے صدر نے ملائیشیا ، انڈونیشیا اور پاکستان ک ا دورہ کیا۔ ترکی کے صدر نے ان تین ممالک کے دورے کے دوران غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کی شریک سربراہی کا وعدہ کیا ۔غزہ سمیت عالمی انسانی مسائل جیسے پلیٹ فارمز کی ڈی ایٹ اور او آئی سی وغیرہ کی اہمیت پر زور دیا ۔ ترکیہ اور پاکستان کا صدیوں سے ایک رشتہ چلا آرہا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ نے کئی معاہدوں پر دستخط کئے ۔دفاعی ،جدید ٹیکنالوجی بالخصوص فوجی تعاون نے ترکی اور پاکستان کے تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔ ایک اہم شراکت دار کے طور پر ترکی کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔ مغرب سے مشرق کی طرف طاقت کی عالمی تبدیلی ایشیاء کی طرف محور کا رحجان مشرق وسطیٰ میں بدلتی صورت حال ترکی کی عملی خارجہ پالیسی نے ایشیا ء کی طرف انقرہ نے ایک اہم موڑ کو تشکیل دیا ہے۔تاہم انقرہ کو مزید اور مستقل توجہ کی ضرورت ہے۔

    پاکستان نے اگر دنیا کے ساتھ ترقی کرنی ہے تو رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل کرنا ہوگا۔ نااہل کرپٹ ، بددیانت ، ذاتی مفادات ، اقربا پروری ، متکبر اور چاپلوس ، خوشامدی ٹولے سے جان چھڑانی ہوگی ۔ روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی پر ہے۔ پہلے پاکستان پالیسی پر ہے ۔ پاکستان کے مفاد پر ہے ۔ تباہ کن انداز کو اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو بدلنا ہوگا۔ بہت ہو چکا اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات ایک طرف رکھیں،پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ مشرق وسطیٰ ، امریکی نئی پالیسی اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی کو مد نظر رکھیں اور پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں.