Baaghi TV

Category: سیاست

  • نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    2025 کا آغاز پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے۔ وہی سیاست جو "ووٹ کو عزت دو” کے نعروں سے گونج رہی تھی، آج نعروں کی گونج سناٹوں میں بدل کر اک نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ جن خوابوں کا تانا بانا بُنتی نظر آتی تھی، اندھے کے وہ خواب بہت بڑا سوالیہ نشان بنے بیٹھے ہیں۔ نواز شریف کے جلسے، ایئرپورٹ پر عدالتی کارروائیاں، اور مینارِ پاکستان پر سرکاری جلسے کے مناظر کسی بڑی سیاسی حکمت عملی کا عندیہ تو دیتے تھے، مگر یہ حکمت عملی خود ن لیگ کی سیاست کے لیے کتنی کامیاب رہی؟ اس کا جواب کھلی کتاب کی طرح سامنے آچکا ہے۔

    پی ٹی آئی کی کہانی بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ 2023 کے انتخابات کے بعد جس طرح پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، وہ نہ صرف بانی تحریک انصاف کے بیانیے کو تقویت دے گئی بلکہ اس نے عوام کی حمایت کو بھی ایک نئی سمت دی۔ آج وہی پی ٹی آئی جو کبھی اپنی شناخت کے بحران سے گزر رہی تھی، ایک بار پھر ملک کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت بن چکی ہے۔

    نواز شریف کی وطن واپسی کی شرائط جن میں نیب قوانین میں تبدیلیاں، کیسز کا خاتمہ، اور عدلیہ پر کنٹرول شامل تھے، ایک طرف عوام کو حیران کرتی رہیں تو دوسری جانب ان کی سیاسی حکمت عملی اور سیاسی نظریات کو بھی کمزور کرتی رہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف، جو ہر طرح کے دباؤ اور مشکلات کے باوجود اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، اب حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے۔ لیکن یہ مذاکرات کیا نتیجہ خیز ہوں گے؟ یا یہ بھی سیاسی داؤ پیچ کا ایک حصہ ہیں؟

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج پاکستان کی سیاست ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا غیر متزلزل بیانیہ کہ وہ کسی قسم کی "ڈیل” نہیں کریں گے، ان کے حامیوں میں نئی امید پیدا کرتا ہے۔ لیکن پس پردہ جو کچھ چل رہا ہے، وہ عوام کے ذہنوں میں سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    ن لیگ کے دعوے اور پی ٹی آئی کے جوابی بیانیے نے سیاست میں ایک دلچسپ کشمکش کو جنم دیا ہے۔ یہ کشمکش صرف سیاسی جماعتوں کی بقا کی جنگ نہیں بلکہ عوامی شعور اور مستقبل کی سیاست کی سمت کا تعین بھی کرے گی۔ کیا تحریک انصاف کے مطالبات حکومت مان لے گی؟ کیا ن لیگ ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی عوامی مقبولیت و حمایت واپس حاصل کر سکے گی؟۔ قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مگر بقول ماما پھلا، جلد ہم نواز شریف یہ کہتے پائے گے،”نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم”

  • مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی کے مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گااور حکومتی حلقوں کی سچائیوں کو شکست ہوتی رہے گی۔ وفاقی و صوبائی وزارت اطلاعات کو خواب خرگوش سے جاگنا ہوگا۔ پی ڈی ایم اور بالخصوص (ن) لیگ کے ترجمانوں کو اپنی منجھی تلے ڈانگ پھیرنی ہوگی۔ گذشتہ کئی سالوں سے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کی تحقیقات اور اس میں مبینہ کرپشن کئی سالوں سے اس میں کرپشن کی داستانوں پر فیصلے کا انتظار کرنے والے صاحبان اقتدار خصوصی وفاقی وزیراطلاعات و نشریات اور ان کے مقرر کردہ ترجمان آئے روز ٹی وی مباحثوں میں نوازشریف کے بیانیے کو برتری نہ دلوانے میں اپنی گردنیں جھکائے رکھتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کی ناکامیاں اور کرپشن کو بانی پی ٹی آئی کے سرخرو ہوتے دیکھتے رہتے ہیں۔ القادر یونیورسٹی پر قائم پی ٹی آئی کے بیانیے کوکسی بھی ترجمان کسی بھی حکومتی وزیر نے اس بنیاد پر چیلنج نہ کیا کہ یہ تو سوہاوہ کے نزدیک سنگلاخ چٹانوں پر بے آب زمین پر قائم ہونے والے غیر مکمل عمارت میں موجود ایک یونیورسٹی ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک ڈگری درجے کا کالج ہے جس کی باقاعدہ رجسٹریشن بطور گریجویٹ کالج محکمہ تعلیم کالجز کے ڈائریکٹوریٹ راولپنڈی کے ذریعے ڈی پی آئی کالجز پنجاب کے دفتر میں ہوئی ہے ۔ اور اتنے بڑے نام نہاد پراجیکٹ کے لئے 458 کنال زمین حقیقی مالکان سے کس بھائو خریدی گئی ہے اور بعد میں کس بھائو ٹرسٹ کے نام منتقل ہوئی ۔

    ستم یہ ہے کہ اس کالج کی زمین کے نیچے سنگلاخ چٹانوں میں قابل استعمال زیر زمین پانی بھی میسر نہیں ۔ ادھر وفاقی وزارت خارجہ اور وزارت ہوا بازی نے یورپ میں پی آئی اے کی پروازوں کا دوبارہ آغاز کروایا جو کہ ایک تاریخ ساز کامیابی ہے لیکن وزارت اطلاعات اور پی آئی اے کی پبلسٹی ونگ کی غفلت نے سوشل میڈیا پر حکومتی کامیابی کو جھوٹے اوربے بنیاد بیانیے کے ہاتھوں شکست دلوائی۔ آخر کیوں اور کب تک حکومت اور بالخصوص (ن) لیگ کوا پنی ابلاغیات کی جنگ میں نئی صف بندی کرنی ہوگی ایسے کہنہ مشق اور آزمائے ہوئے مخلص اذہان کو آزمانا ہوگا ۔ جو دلیل مکالمے اور ڈائیلاگ کے کرشمے سے جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ ثابت کرنے کا کمال رکھتے ہوں۔ نواز شریف کی قربانیاں اور مریم نواز کی انتھک محنت اورا ن کی مخلص ٹیم کی کارکردگی جھوٹے نعروں کے بیانیے میں دب جائے گی۔

  • قیدی نمبر 804 کو 14 سال سزا، عدلیہ کا بڑا فیصلہ

    قیدی نمبر 804 کو 14 سال سزا، عدلیہ کا بڑا فیصلہ

    قیدی نمبر 804 کو 14 سال سزا، عدلیہ کا بڑا فیصلہ
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    کہا جاتا ہے کہ انسان جو کچھ بوتا ہے، بالآخر وہی کاٹتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک غیرمعمولی موڑ پر، سابق وزیرِاعظم عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ چوری کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کی سیاست میں ہلچل کا باعث بنا بلکہ اس نے اخلاقیات اور سیاست کے گرد ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا۔ 190 ملین پاؤنڈ کی رقم، جو برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات کے دوران برآمد ہوئی، کو پاکستانی حکومت کو واپس کر دیا گیا تھا۔ عمران خان پر الزام تھا کہ انہوں نے اس رقم کو قومی خزانے کے بجائے اپنے ذاتی اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا اور یہ رقم دوبارہ ملک ریاض کو دے دی۔ اسی رقم کو ایک فلاحی ادارے کے طور پر رجسٹرڈ القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے حصول میں استعمال کیا گیا۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے اس رقم کے بدلے بحریہ ٹاؤن کے مالک سے قیمتی زمین حاصل کی، جو القادر یونیورسٹی کے نام پر منتقل کی گئی۔ احتساب عدالت کی جانب سے عمران خان کو 14 سال قید اور ان کی اہلیہ کو 7 سال قید کی سزا نے ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ فیصلہ جہاں ان کے سیاسی کیریئر پر سنگین اثر ڈالے گا، وہیں ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں۔ عمران خان، جو خود کو ہمیشہ کرپشن کے خلاف ایک مضبوط آواز کے طور پر پیش کرتے رہے، آج اسی کرپشن کے الزامات میں سزا یافتہ ہیں۔

    عمران خان کی سیاست کا محور ہمیشہ انصاف، شفافیت، اور بدعنوانی کے خلاف جنگ رہا ہے۔ وہ دوسروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ان کا دامن صاف ہے اور وہ "نئے پاکستان” کے معمار ہیں۔ لیکن آج ان پر لگنے والے الزامات اور ان کی سزا نے ان دعووں کو متنازع بنا دیا ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان واقعی وہ رہنما ہیں جن کا دامن صاف تھا، یا وہ بھی اس نظام کا حصہ بن چکے تھے جسے وہ بدلنے کا وعدہ کرتے رہے؟

    عمران خان کے حامیوں کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا صدمہ ہے۔ وہ اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو سیاست سے باہر کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا۔ دوسری طرف، ان کے مخالفین اس فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے، جہاں دونوں فریقین اپنی اپنی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عمران خان کی جماعت تحریک انصاف ایک نئی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ قیادت کا خلا، حامیوں میں مایوسی، اور احتجاجی حکمت عملی کے سوالات نے پارٹی کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کو عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کا مظہر قرار دیا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں سیاسی عنصر غالب ہے۔

    یہ کیس پاکستان کے سیاسی کلچر کے لیے ایک اہم سبق ہے۔ اقتدار کے نشے میں اکثر سیاستدان یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ یہ عمل غیر جانبدار اور شفاف ہو۔ اگر عمران خان پر لگے الزامات درست ہیں، تو یہ ان کی ناکامی کا نتیجہ ہے، اور اگر یہ انتقامی سیاست ہے، تو یہ ہمارے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

    عمران خان کی 14 سال قید کی سزا نہ صرف ان کی ذاتی زندگی اور سیاسی کیریئر پر اثر ڈالے گی، بلکہ یہ پاکستان کی سیاست کے لیے بھی ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ عوام، سیاستدان، اور عدلیہ کو اس موقع سے سبق لینا ہوگا۔ آج جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہوا، وہ کل کسی اور کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خود احتسابی کریں اور ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو واقعی انصاف اور شفافیت پر مبنی ہو۔

    آج کا عمل کل کا نتیجہ طے کرتا ہے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے، وہی اس کی تقدیر میں شامل ہو جاتا ہے۔ اچھے اعمال انسان کے لیے خوشیوں اور سکون کا سبب بنتے ہیں، جبکہ برے کام دکھ اور پشیمانی کا۔ قدرت کا قانون یہی ہے کہ انسان کو وہی لوٹایا جاتا ہے جو وہ دوسروں کو دیتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کے لیے اچھائی کریں گے، تو کل ہمیں اچھائی ہی ملے گی۔ برائی کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں سوچ سمجھ کر اپنے اعمال کو چننا چاہیے، کیونکہ آج کا فیصلہ کل کی زندگی کا عکس بنے گا۔ "جس” نے جو کچھ بویا تھا، آج اس کی فصل تیار ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم سب، بحیثیت قوم، اپنے اعمال کی فصل کاٹنے کے لیے کب تیار ہوں گے؟

  • چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    190 ملین پاؤنڈ کے کیس کے فیصلے نے عمران خان کی ایمانداری،ریاست مدینہ کی دعویداری کو نہ صرف بے نقاب کیا ہے بلکہ اس فیصلے کے ذریعے عمران خان کو "سرٹیفائیڈ چور” قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک اہم سبق دیتا ہے اور ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اصولوں کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے نے عمران خان کو بے نقاب کیا ہے جو دوسروں پر الزام لگانے اور جھوٹے دعوے کرنے میں ماہر تھا، مگر خود اس کے اندر اتنی اخلاقی گراوٹ تھی کہ وہ عدالت میں اپنی بے گناہی کے ثبوت بھی پیش نہ کر سکا۔

    اس کیس کے مرکزی کردار عمران خان نے ہمیشہ اپنی تقاریر اور دعووں میں "ریاست مدینہ” کے خیالات اور اصولوں کی بات کی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو ایمانداری، سچائی اور انصاف کا علمبردار ظاہر کیا۔ لیکن 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کے دوران عدالت میں جو کچھ سامنے آیا، وہ اس کے دعووں کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ عمران خان نے ریاست مدینہ کے اصولوں کا دعویٰ کیا، مگر اپنی حقیقت میں اس کے عمل اس دعوے سے کہیں زیادہ متضاد تھے۔سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ تھی کہ عمران خان نے اکثر دوسروں پر چور، ڈاکو اور بدعنوان ہونے کے الزامات لگائے۔ یہ الزامات وہ ایسے موقعوں پر لگاتا تھا جب اس کے اپنے مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا تھا۔ اس نے خواتین کو اسپتال سے گرفتار کرانے جیسے ناپاک عمل کو بھی روا رکھا، تاکہ وہ اپنی چوری چھپانے اور دوسرے لوگوں کو بدنام کر سکے۔آج عمران خان کے پاس عدالت میں اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت نہ تھا۔ بشریٰ بھی اس کی معاون تھی،یہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ اس نے اپنی چوری چھپانے کے لیے جھوٹ بولنے اور دوسروں پر الزام لگانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ جب اسے اپنے اعمال کا جواب دینا پڑا، تو وہ سب کچھ سامنے آ گیا جو اس نے چپکے سے چھپایا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ دراصل مکافات عمل کی ایک شاندار مثال ہے۔ جب انسان دوسروں کو دھوکہ دینے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے تو ایک نہ ایک دن سچائی سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اس کیس نے ثابت کیا کہ جھوٹ اور منافقت کا انجام ہمیشہ رسوائی اور ذلت ہوتا ہے۔ آج عمران خان اسی مقام پر پہنچا ہے جہاں اس کے جھوٹ اور منافقت کا پردہ چاک ہو چکا ہے، اور اسے "سرٹیفائیڈ چور” قرار دیا گیا ہے۔190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انصاف اور سچائی کی راہ ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، مگر بالآخر سچ کا سامنا جھوٹ سے ہوتا ہے۔ وہ شخص جو دوسروں پر الزام لگا کر اپنی چوری چھپاتا تھا، آج وہ خود اپنے جرائم کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ ایک سبق ہے کہ انسان کو اپنے عمل کی بنیاد پر جینا چاہیے، نہ کہ جھوٹ بول کر دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ فیصلہ سب کے لیے ایک انتباہ ہے، بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک پیغام ہے کہ جھوٹ اور بدعنوانی کا آخرکار حساب لیا جاتا ہے اور سچائی ہمیشہ غالب آتی ہے۔

    1980 کی دہائی میں ساحل پرلی گئی تصویر،40 برس بعد3 بہنوں نے دوبارہ بنا لی

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

  • معاشرتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،کیوں؟تجریہ۔ شہزاد قریشی

    معاشرتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،کیوں؟تجریہ۔ شہزاد قریشی

    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
    قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے کان پک گئے،رکھوالے آج بھی مافیازکےزیر اثر
    جھوٹ،نفرت،غیبت،ملاوٹ عام،ملک خاک ترقی کرے گا،جمہوری تماشے بند،محاسبہ ضروری
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،سمجھ سے باہر ہے،امن وامان کو لے کر اسلام آباد راولپنڈی کو کس کی نظر لگی ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے عمر بیت گئی، معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف کسی نے نہ دھرنا دیا نہ لانگ مارچ کیا نہ کسی نے درس دیا، آج اگر معاشرے میں برائیاں سر اُٹھا رہی ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں،معاشرے کو سدھارنے کے لئے کچھ نہیں کیا،بحیثیت مسلمان ہماری ایمانداری ، نیکی ،تقویٰ،دیانت داری ، پاکیزگی کا یہ عالم ہے ملاوٹ شدہ خوراک ، جعلی ادویات فروخت کرنے میں کوئی ندامت نہیں،قتل وغارت ،عریانی ،بے حیائی ایک دوسرے کو کافر قرار دینا، جھوٹ، نفرت ، غیبت ،ملاوٹ کرنے میں ذرا بھر خوف نہیں آتا،ہم سب کی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، پورا ملک لینڈ مافیا کے قبضہ مافیا کے یارانے محلات میں رہنے والوں کے ساتھ ہیں، لینڈ اور قبضہ مافیا نے پورے ملک میں قانون کے رکھوالوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے،

    حکومتوں کی تبدیلی ،سیاسی گٹھ جوڑ میں بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکون ملوث ہیں، سیاسی گلیاروں میں پراپرٹی ٹائیکون جب سے داخل ہوئے ہیں،سیاست اورجمہوریت کسی تماشے سے کم نہیں، حکمران ،سیاسی قائدین ،علماء کرام،گدی نشین ، پیر خانے ،اور عوام اپنا محاسبہ کریں تو ملک افراتفری ،نفسانفسی سے باہر نکل سکتا ہے،ضروریات زندگی سے زیادہ دولت نے انسانوں کو انسانیت سے دور کردیا ہے، ملک کی سول بیورو کریسی ، سول انتظامیہ ، بیوروکریٹ ، پولیس افسروں سمیت ملک کے تمام ادارے اپنا اپنا محاسبہ کریں، تب ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا، وی آئی پی کلچر سے باہر نکل کر سوچیں ، موت کو یاد رکھیں ، قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں اور عمل کریں ، امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے، قانون کی حکمرانی ہے، انصاف ہے،جمہوریت ہے، ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے،ہماری سیاست اورجمہوریت سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے،جعل سازی ،جھوٹ اور فریب جیسی سماجی برائیاں ،سماجی اقدار بن رہی ہیں، ملکی سیاست میں بڑھکوں ،دھمکیوں اور ہلڑ بازی کا شدت اختیار کرتا رحجان بے سبب ہیں اس سے معاشرتی نظام تنزلی کا شکار ہوتا ہے خدارا بس کیجئیے معاشرے کو سدھارنے پر توجہ دیں

  • اڑان پاکستان،  عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اڑان پاکستان، عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اڑان پاکستان ایک اچھا نعرہ ہے ۔ لیکن یاد رکھیئے جب تک عمل نہیں ہوگا اُ س وقت تک کوششیں رنگ نہیں لائیں گی میری عمر کے لوگوں نے اس طرح کے نعرے بہت سنے ،صدق دل سے اس نعرے پر عمل کیا جائے امریکہ اور مغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اورعمل ہے ۔ پیچیدہ بحرانوں کے بوجھ تلے دبی قوم اور پاکستان کے لئے اُمید سے بھرا نعرہ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے توا س نعرے پر عمل شروع کردیاہے۔ باقی صوبے بھی عملی اقدامات کریں ۔ صوبہ سندھ ،سندھ کے دیہی علاقوں میں تعلیم پر توجہ دیں۔ ہم جس عہد کے مسافر ہیں اس عہد میں پُرفتن حالات سوچنے کا تقاضا کرتے ہیں خلق خدا کو اس طوفان بلاخیز سے بچانا ان کی رہنمائی کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ پنجاب میں نوجوان بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے حوالے سے جو کچھ پنجاب کی وزیراعلٰی کر رہی ہیں، وہ قابل تحسین ہے۔ علم کی برکت سے زندگی کے راستے تبدیل ہوتے اور اسلوب زندگی میں عالمگیر انقلاب پیدا ہوتاہ ے۔

    پاکستان جس طرح ایک سُپر اوراسلامی دنیا کا واحد ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے کا ش ہمارے پاس طاقت اور سیاسی لیڈر شپ بھی ہوتی ۔ بدقسمتی سے بھٹو ، بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف ہی سیاسی گلیاروں میں سُپر پاور تھے۔ نواز شریف نے دفاعی لحاظ اور معیشت مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا۔ ملک کی سیاسی جماعتوں نے ہی سازش کی اور نواز شریف کو ایک سازش یعنی نام نہاد پانامہ کیس بنا کر چوراور ڈاکو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی مشرف دور میں طیارہ اغواء اور نہ جانے کیسے کیسے کیسوں میں اُلجھا دیا گیا ۔ آج جو جماعتیں قانون آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کی باتیں کرتی ہیں یہ ان سازشوں کا باقاعدہ حصہ رہیں۔ نام نہاد ڈان لیکس کا کھیل کھیلا گیا اور سینیٹر پرویز شید جیسے بے ضرر انسان کو نشانہ بنا دیا گیا۔ پرویز رشید سیاسی گلیاروں میں سادگی کی عملی مثال ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں بہت ہی کم ایسے لوگ رہ گئے جن کی مثال د ی جا سکتی ہے۔ آج بھی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات اور سیاسی مستقبل کے ایک دوسرے کے خلاف سازش میں مبتلا ہیں ۔

    کے پی کے تحریک انصاف کے پاس ہے ، صوبہ سندھ پیپلزپارٹی اور پنجاب (ن) لیگ ۔ پیپلزپارٹی نے آئینی عہدے اپنے پاس کھے ہوئے ہیں مگر وہ صوبہ پنجاب پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ پنجاب کے کچھ ڈویژن میں اختیارات مانگ کر کیا وہ ملک وقوم کی کونسی خدمات سرانجام دینا چاہتی ہے ؟ پنجاب میں (ن) لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پی پی پی پنجاب میں(ن) لیگ کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

  • نئی ٹرمپ انتظامیہ،پاکستان کی حکمت عملی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نئی ٹرمپ انتظامیہ،پاکستان کی حکمت عملی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان میں سبکدوش ہونے والی امریکی سفیر سے ملاقات میں نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مثبت روابط جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ قارئین نئی ٹرمپ انتظامیہ کو لے کر پاکستان کی سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا کیا ہے ۔ یاد رکھئے امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ ہو یا ماضی کی انتظامیہ سب سے پہلے امریکی مفادات کو دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ میں کانگریس، سینیٹ ، سی آئی اے انسانی حقوق کا پرچار کرنے والوں کے ساتھ پینٹا گان موجود ہے امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پینٹا گان کی پالیسی سب پر حاوی ہوتی ہے۔ امریکہ ملک میں سیاسی جماعتوں کو لے کر آگاہ ہے ملک کی جو سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے پاک فوج اور جملہ اداروں پر تنقید کرتی ہیں وہ اقتدار میں ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے اس کی حمایت کرتے ہیں ملک کی سیاسی جماعتوں میں بدلتے اتحادوں، انحراف آپس کی لڑائی اور اقربا پروری سے امریکہ سمیت مغربی ممالک آگاہ ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے امریکہ پاک فوج کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو اسلامی ممالک اور خطے کا اہم ملک سمجھتا ہے پاکستان ایک جوہری طاقت ہے ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان خطے پر مثبت اثرات مرتب کرے گا امریکہ پاکستان تعلقات پاکستان کی ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ بہت سے امریکی ٹیکنو کریٹس فوجی اور امریکی سفارتکاروں کی نظر میں پاکستان نے بالخصوص پاک فوج اور جملہ اداروں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا اور پاکستان آج بھی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے امریکہ اور مغربی ممالک ماضی میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان کے بعض سیاسی رہنما بعض اوقات امریکہ مخالف جذبات کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یاد رکھیئے امریکہ اور چین دونوں مستحکم پاکستان کے خواہاں ہیں اور نہ ہی دونوں پاکستان کے اندرونی معاملات میں زیادہ الجھنا چاہتے ہیں۔ امریکی ساق صدور سے لے کر بائیڈن انتظامیہ اور اب ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی فرسٹ امریکہ ہی رہی ہے پاکستان کو بھی فرسٹ پاکستان پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ چلنا ہوگا۔ امریکہ کسی فرد واحد سیاستدان کے لئے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا۔ موجودہ وزیر خارجہ کو نئی ٹرمپ انتظامیہ سے اپنے رابطے تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔

  • اقتدار کی لالچ سے باہر نکل کر حقیقی ترقی کی راہ اپنانا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کی لالچ سے باہر نکل کر حقیقی ترقی کی راہ اپنانا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا رُخ اپنے ذاتی مفاد ،اقربا پروری سے ہٹا کر عوام کی طرف موڑنا ہوگا ۔کرپشن سے پاک ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے ۔ عوام کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جعلی نمود ونمائش سے باہر نکل کر خلق خدا کی خدمت کرنا ہوگی۔ عوام اورریاست کو درپیش مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ ملکی سیاستدانوں کو خود کی خدمت کرنے والا غیر مہذب ناقابل اعتماد مذاق سے باہر نکلنا ہو گا۔ سیاسی جماعتوں کو سیاست اور جمہوریت کے مستقبل پر غور کرنا چاہیئے۔ صف اول کی سیاسی قیادت کو ضلعی اور تحصیل سطح کے ارکان اسمبلی کو لینڈ مافیا ، منشیات اسمگلروں ،غنڈوں اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کی پشت پناہی سے روکنا ہوگا۔ اس کے اثرات سیاسی جماعتوں پر پڑتے ہیں اور صف اول کی سیاسی قیادت اس کا خمیازہ داخلی اور خارجی سطح پر ماضی میں بھگت چکی ہے اور بھگت رہی ہے اور بھگت رہی ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت اب ایسے سیاستدانوں ایسی قیادت کی خواہاں ہے جو حقیقت پسند ، بامعنی ، اُمید مند اور بااختیار ہو جو سیاسی قیادت خود کو اپنے شہریوں کے اعتماد کا اہل ثابت کرے گی اُسی پر اعتماد کریں گے۔ ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کے لئے مختلف رکاوٹوں کو بہانا بنا کر اب قوم کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا ۔ معاشی مشکلات سے ملک وقوم کو نکالنے کے اقدامات کرنا ہونگے۔

    قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی دنیا میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک کی مثال دی جا سکتی ہے ۔ دبئی اور سنگاپور کی مثالیں موجود ہیں۔صدق د ل سے سیاستدانوں ،بیورو کریسی ، بیورو کریٹ ،سول انتظامیہ قومی سلامتی کے ادارے مل کر اس ملک وقوم کے روشن مستقبل کی طرف توجہ دیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے ۔ہم عمل سے کوسوں دور ہیں۔کیا ایک اسلامی مملکت کو زیب دیتا ہے کہ وہ نجومیوں اور جادو ٹونے والوں سے پوچھتی پھرے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے ۔ کیا میں اس ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہوں۔

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غور کیجئے کیا ہم اسلامی مملکت کے دعویدار ہیں؟قرآن وحدیث کو چھوڑ کر ہم سامری جادوگر کے پیرو کار بنتے جا رہے ہیں۔ جادوگروں اور نجومیوں کے جھرمٹ میں رہنے والوں پر فوری طور پر امریکہ اور مغربی ممالک نے اعتماد کرنا چھوڑ دیا ہے۔ روس یو کرین کی جنگ میں بھارت کی دوغلی پالیسی امریکہ اور مغربی ممالک پر عیاں ہو چکی ہے ۔ روس پر پابندیوں کے باوجود بھارت مودی حکومت تیل اور برکس رکن ممالک میں شمولیت امریکہ مغربی ممالک کی نظر میں ہیں۔ ٹرمپ برکس ممالک کو صدارتی عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کی امریکہ فسٹ پالیسی مودی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے

    مریم نواز کی کاوشیں، پنجاب بدلنے لگا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

  • حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔

    حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔

    حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    جب تاریخ کا فیصلہ لکھا جائے گا، تو وقت کی گرد میں چھپے کئی راز بے نقاب ہوں گے۔ 9 مئی کا دن پاکستان کی سیاست کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ایک تحریک نے اپنے پیروکاروں کو جنونیت کی حد تک دھکیل دیا۔ آج ان واقعات کے نتیجے میں 60 مزید افراد کو فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی ہیں، اس سے پہلے 80 افراد کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور اب عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو 10 سال قید بامشقت کا سامنا ہے۔

    لیکن ان سزاؤں سے زیادہ اہم، حسان نیازی کے وہ الفاظ ہیں جو انہوں نے عدالت میں اپنی بے بسی کے عالم میں کہے "میں نے اپنے ماموں عمران خان کے لیے جو قربانیاں دیں، ان کا صلہ یہ ہے کہ ڈیڑھ سالہ قید کے دوران نہ تحریک انصاف نے مجھے پوچھا اور نہ ہی عمران خان نے۔

    یہ الفاظ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ان ہزاروں نوجوانوں کی داستان ہیں جو ایک خواب کے پیچھے اپنی زندگیاں برباد کر بیٹھے۔ ایک ایسا خواب جسے خوابوں کے سوداگر بیچتے ہیں اور عام لوگ اس کے دام میں آ کر اپنے مستقبل کا سودا کر لیتے ہیں۔ حسان نیازی جیسے بے شمار افراد، جنہوں نے اپنے گھر بار، عزت اور آزادی کو ایک تحریک کے لیے قربان کیا، آج اپنی تنہائی اور بے بسی پر ماتم کناں ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے لیڈر پر بھروسہ کیا جو ان کی امیدوں کا مرکز تھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ بھروسہ یک طرفہ تھا۔

    حسان کا گلہ ایک چیخ ہے، جو ان تمام لوگوں کے لیے سبق ہے جو شخصی عقیدت کے اندھے پیچھے چلتے ہیں۔ تحریک انصاف اور اس کی قائدانہ بے حسی کی واضح مثال دیکھنی ہے تو حسان نیازی کی داستان تحریک انصاف کی قیادت کی بے حسی کا مظہر ہے۔ سیاسی قیادت کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب ان کے کارکنان مشکل حالات میں ہوں۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اپنے کارکنوں کی حالتِ زار سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ عمران خان جو ایک وقت میں "کپتان” کہلاتے تھے، آج وہ اور ان کی جماعت تحریک انصاف اپنے قریبی قید ہو جانے والے ساتھیوں کے لیے بھی کوئی وقت نہیں نکال پا رہے۔

    یہ رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن صرف ایک زینے کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا۔ نوجوان نسل کے لیے سبق ہے اور یہ وقت ان تمام نوجوانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو سیاسی تحریکوں کا حصہ بننے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگاتے ہیں۔ جذبات، عقیدت اور جوش و خروش وقتی ہوسکتے ہیں، لیکن ان کے اثرات نسلوں تک چلتے ہیں۔ حسان نیازی کے الفاظ ایک آئینہ ہیں، جس میں ہر نوجوان کو اپنا عکس دیکھنا چاہیے۔ کیا کسی تحریک کے لیے اپنی آزادی، عزت اور مستقبل کو قربان کرنا واقعی قابلِ ستائش ہے؟

    سیاست دان چاہے کسی بھی جماعت سے ہوں، خواب بیچنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ وہ عوام کو ایک ایسا مستقبل دکھاتے ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی یہی کیا، نوجوانوں کو تبدیلی کے خواب دکھائے اور ان کے جوش و خروش کا استعمال کیا۔ لیکن جب وقت آیا کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، تو یہ خواب فروش اپنی جادوئی جھولی لپیٹ کر غائب ہوگئے۔

    حسان نیازی کا پیغام ان تمام افراد کے لیے ایک وارننگ ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کے پیچھے اپنی اندھی عقیدت کو قربان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "خدارا، ایسے لوگوں کے پیچھے نہ لگیں اور اپنے مستقبل کو تاریک نہ کریں۔” ان کے یہ الفاظ ان تمام لوگوں کے لیے ایک سبق ہیں جو سیاست کو جذبات کی بجائے شعور سے سمجھنے کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی نسلوں کو ایسے ہی خواب فروشوں کے حوالے کرتے رہیں گے؟ کیا ہمارا مستقبل انہی وعدوں کے پیچھے گم ہوتا رہے گا جو کبھی وفا نہیں ہوتے؟

    حسان نیازی جیسے نوجوانوں کی قربانی ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ سیاستدان آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ان کے وعدوں کی قیمت عام عوام چکاتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خوابوں کے سوداگروں کی حقیقت کو پہچانیں اور اپنی آنکھیں کھول کر اپنے فیصلے کریں۔ اگر ہم نے آج سبق نہ سیکھا تو کل ہماری آنے والی نسلیں بھی ان خوابوں کے جال میں پھنس کر اپنی زندگیاں برباد کریں گی۔

    جو مجرمان تحریک انصاف کے جھانسے میں آ کر اپنی زندگیاں برباد کر بیٹھے اور سزائیں پا چکے ہیں، وہ درج ذیل ہیں، 9 مئی کے حوالے سے حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں، ان میں جناح ہاؤس حملے میں ملوث بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت، میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت، رئیس احمد ولد شفیع اللہ کو 6 سال قید بامشقت، ارزم جنید ولد جنید رزاق کو 6 سال قید بامشقت اور علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

    جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ دانش ولد راجہ عبدالوحید کو 4 سال قید بامشقت اور سید حسن شاہ ولد آصف حسین شاہ کو 9 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی پر حملے میں ملوث علی حسین ولد خلیل الرحمان کو 7 سال قید بامشقت، پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان پر حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد نبی کو 2 سال قید بامشقت کی سزا ہوئی ہے۔ سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو سزائیں سنا دی گئی ہیں، ان سزا پانے والے دیگر ملزمان میں ہیڈکوارٹر دیر سکاؤنٹس تیمرگرہ پر حملے میں ملوث سہراب خان ولد ریاض خان کو 4 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم ولد چودھری محمد اکرم کو 6 سال قید بامشقت،

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم لیاقت ولد لیاقت علی شاہد کو 4 سال قید بامشقت سنا دی گئی ہے۔ قلعہ چکدرہ حملے میں ملوث ذاکر حسین ولد شاہ فیصل کو 7 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث امین شاہ ولد مشتر خان کو 9 سال قید بامشقت، پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث فہیم ساجد ولد محمد خان کو 8 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث حمزہ شریف ولد محمد اعظم کو 2 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد ارسلان ولد محمد سراج کو 7 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمیر ولد عبدالستار کو 6 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث نعمان شاہ ولد محمود احمد شاہ کو 4 سال قید بامشقت اور بنوں کینٹ حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد خانزادہ خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزا ہوئی ہے۔

    راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث محمد احمد ولد محمد نذیر کو 2 سال قید بامشقت، ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ ولد پیرزادہ میاں قمرالدین بھٹہ کو 3 سال قید بامشقت، جی ایچ کیو حملے میں ملوث محمد عبداللہ ولد کنور اشرف خان کو 4 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث امجد علی ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد رحیم ولد نعیم خان کو 6 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث احسان اللہ خان ولد نجیب اللہ خان کو 10 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث منیب احمد ولد نوید احمد بٹ کو 2 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد علی ولد محمد بوٹا کو 2 سال قید بامشقت،

    بنوں کینٹ حملے میں ملوث سمیع اللہ ولد میر داد خان کو 2 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں محمد اکرم عثمان ولد میاں محمد عثمان کو 2 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث مدثر حفیظ ولد حفیظ اللہ کو 6 سال، جناح ہاؤس حملے میں ملوث سجاد احمد ولد محمد اقبال کو 4 سال، بنوں کینٹ حملے میں ملوث خضر حیات ولد عمر قیاض خان کو 9 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد نواز ولد عبدالصمد کو 2 سال، پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث محمد بلال ولد محمد افضل کو 4 سال قید بامشقت کی سزائیں دی گئی ہیں۔

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان کو 2 سال قید بامشقت، ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث اسد اللہ درانی ولد بادشاہ زادہ کو 4 سال قید بامشقت، چکدرہ قلعے پر حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد شاہ زمان کو 4 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد فرخ ولد شمس تبریز کو 5 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث وقاص علی ولد محمد اشرف کو 6 سال قید بامشقت دیدی گئی ہے۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث امیر ذوہیب ولد نذیر احمد شیخ کو 4 سال، اے آئی ایم ایچ راولپنڈی حملے میں ملوث فرہاد خان ولد شاہد حسین کو 7 سال،

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث عزت خان ولد اول خان کو 2 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ کو 2 سال اور بنوں کینٹ حملے میں ملوث ثقلین حیدر ولد رفیع اللہ خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزائیں دی گئی ہیں۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد سلمان ولد زاہد نثار کو 2 سال قید بامشقت، ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث حامد علی ولد سید ہادی شاہ کو 3 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد وقاص ولد ملک محمد کلیم کو 2 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث عزت گل ولد میردادخان کو 9 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث حیدر مجید ولد محمد مجید کو 2 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔

    جناح ہاؤس حملے میں ملوث گروپ کیپٹن وقاص احمد محسن(ریٹائرڈ) ولد بشیر احمد محسن کو 2 سال قید بامشقت ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمر گرہ حملے میں ملوث محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم کو 2 سال قید بامشقت، گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملے میں ملوث محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان کو 2 سال قید بامشقت، چکدرہ قلعے حملے میں ملوث رئیس احمد ولد خستہ رحمان کو 4 سال قید بامشقت اور چکدرہ قلعے حملے میں ملوث گوہر رحمان ولد گل رحمان کو 7 سال قید بامشقت کی سزاؤں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث نیک محمد ولد نصر اللہ جان کو 9 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث فہد عمران ولد محمد عمران شاہد کو 9 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث سفیان ادریس ولد ادریس احمد کو 2 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث رحیم اللہ ولد بیعت اللہ کو 9 سال قید بامشقت جبکہ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خالد نواز ولد حامد خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی فوجی حراست میں لیے جانے والے 9 مئی کے ملزمان پر چلنے والے مقدمات کی سماعت متعلقہ قوانین کے تحت مکمل کر لی گئی ہے۔ فیصلہ میں بتایا گیا ہے کہ تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جیسا کہ آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرمان کو سزائیں سنا دی گئیں۔ حسان نیازی نے نوجوانوں کے نام پیغام دیا ہے خدارا! ان سیاسی دھوکے بازوں سے بچ جاؤ۔ میں عمران خان کا بھانجا ہوں، میں نے جو کچھ کیا عمران خان کے لیے کیا۔۔۔۔لیکن کسی نے بھی میری مدد نہیں کی۔ سوائے میرے باپ کے، کسی نے بھی مجھے پوچھا تک نہیں۔۔۔۔اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے۔۔تو آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔۔۔۔بچ جاؤ ان سے۔۔ان کے ورغلانے سے۔۔۔ان کے جھانسے سے۔۔۔یہی پیغام ہے حسان نیازی کا نوجوانوں کے نام۔۔۔۔۔

  • معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    2024 غزہ کو لے کر دیگر اسلامی ممالک کے لئے ایک خوفناک سال رہاہے۔ پاکستان کو ان ممالک کے حالات کو مد نظر رکھ کر بالخصوص پاک فوج اور جملہ اداروں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی ممالک کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ان ممالک میں وہ آوازیں بند ہو چکی ہیں یا کر دی گئی ہیں جن کی وجہ سے یہ ممالک محفوظ تھے، کسی زمانے میں عراق میں صدام حسین کی گرج تھی تو لیبیا میں کرنل قذافی کی للکار ،ایران میں آیت اللہ خمینی کا وقار تھا۔ سعودی عرب میں شاہ فیصل ایک فراخدل انسان تھے۔ فلسطین میں یاسرعرفات ۔آج اسلامی ممالک کے حالات اقوام عالم کے سامنے ہیں۔ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو نہیں جو عالمی قوتوں کو دھمکی کا جواب دے سکیں۔ نواز شریف کی جگہ اُن کے بھائی نے لے لی ہے ۔ اسی طرح دوسری سیاسی و مذہبی جماعتوں میں وہ شخصیات ہیں جن کی آواز میں وہ طاقت نہیں جو عالمی قوتیں دب جائیں۔

    موجود خطرناک حالات میں عسکری قیادت کو ملکی سلامتی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات خود ہی کرنا ہوں گے۔ اس وقت ملک کو داخلی اور خارجی دبائو سے بچا کر رکھنا سیاسی جماعتوں کے بس کی بات نہیں۔ ملک کی موجودہ سیاست کی تصویر دنیا میں کہیں نہیں ،یہ کیسے سیاستدان ہیں ایک دوسرے کو غدار اور عالمی قوتوں کے ایجنٹ قرار دیتے نہیں تھکتے۔ بلاول بھٹو نےنواز شریف کو مودی کا یار ،آج کل عمران خان کو اسرائیل کا یار کہا ۔ دنیا میں کہیں سیاسی گلیاروں میں ہوتا ہے ؟ مذہبی جماعتیں مدارس کو لے کر آمنے سامنے ہیں۔

    افغان حکومت بہت ہی احسان فراموش ثابت ہوئی ہے ۔ پاکستان کو نیکی کاصلہ بھائی چارگی سے نہیں دیا۔ ایک طرف بین الاقوامی دبائو دوسری طرف افغانستان ۔ان حالات میں ان سیاستدانوں کا ملک وقوم کی حالت پر آنکھ سے آنسو ٹپکا ہو۔ تاہم اپنے ہی قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرنے کا کوئی سلیقہ ان سے سیکھے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کوبقا اور شخصیات کو فنا ہے قوم کے نوجوانوں کو گمراہ کرنا ان کی سیاست رہ گئی ہے ۔ کمال کی سیاست اور لاجواب لیڈر شپ پاکستان میں موجود ہے۔یاد رکھیئے اس طرح کی پاکستان پر عالمی پابندیاں ماضی میں بھی لگیں ۔ ان پابندیوں کا سیاسی طور پر ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو،نواز شریف نے مقابلہ کیا تھا آج کے دور میں معذرت کے ساتھ پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ہو چکا ہے