Baaghi TV

Category: سیاست

  • پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پاکستان تحریک انصاف کسی زمانے میں تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ پارٹی ایک نئے بحران سے دوچار ہے اور تبدیلی سے پاکستان کی تباہی کا سفر بڑی کامیابی سے طے کر لیا ہے، عمران خان سے بشریٰ بی بی کی شادی ہونے کے بعد سے ہی تبدیلی کا سفر تباہی کے راستے پر چل پڑا تھا، بشریٰ بی بی، عمران خان کی اہلیہ اور پارٹی کی غیر رسمی حکمران شخصیت ہیں، جن کے اقتدار کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف پارٹی کے اندر، بلکہ عمران خان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔عمران خان کی رہائی کے لئے ڈی چوک جانے کی ضد، اور پھر وہاں سے فرار، اسکے بعد پارٹی اجلاس میں رہنماوں کے ساتھ بدتمیزی، ہر انگلی بشریٰ بی بی کی طرف اٹھ رہی ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کو گھر سمجھ لیا ہے

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کا پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا ایک بڑے جھٹکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ، جو پی ٹی آئی کے قانونی معاملات میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، کو بشریٰ بی بی نے زوم میٹنگ کے دوران انتہائی غلط انداز میں مخاطب کیا جس کا بشریٰ کو حق نہیں تھا کیونکہ بشریٰ کا پی ٹی آئی کورکمیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ زبردستی اجلاس میں آئیں اور نہ صرف سلمان اکرم راجہ بلکہ سب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی کی، پارٹی رہنماؤں کو بے شرم، بے غیرت تک کہا،سب نے سن لیا لیکن سلمان اکرم راجہ بولے اور بشریٰ کو کھری کھری سنائیں، آج سلمان اکرم راجہ نے عمران خان سے جیل میں ملنے کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہو سکی جس کے بعد وہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

    عمران خان، جو کبھی اپنی جماعت کے قائد اور محسن سمجھے جاتے تھے، اب پارٹی کے معاملات میں اپنی ناکامی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کی خاموشی، یا شاید ان کی بے بسی، یہ واضح کرتی ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کے سامنے بے بس ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی مضبوط گرفت کو تسلیم کرتے ہیں۔حکومت میں رہ کر بھی بشریٰ بی بی ہی درحقیقت وزیراعظم تھی، عمران خان تو ڈمی تھے، جس طرح بزدار کو ڈمی وزیراعلیٰ کہا جاتا تھا اسی طرح عمران خان ڈمی وزیراعظم اور انکا کنٹرول بشریٰ بی بی کے پاس تھا، تمام احکامات بشریٰ بی بی صادر کرتیں اور عمران خان من و عن عمل کرتے،

    پارٹی کے اندرونی حلقوں سے یہ شکایات آئی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے فیصلوں میں دخل اندازی کی ہے اور کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پارٹی پر مکمل کنٹرول نے پی ٹی آئی کی جڑوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان کا یہ طرز عمل تحریک انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے جو عمران خان نے شروع کیے تھے۔بشریٰ کو تو عمران گھریلو عورت کہتے تھے لیکن دو دن غیر مردوں کے ساتھ ایک کینٹینر پر رہنا، کارکنان سے خطاب اور انہیں پھر ڈی چوک جانے پر ابھارنا کیا یہ کسی گھریلو عورت کا کام ہو سکتا ہے، اصل میں بشریٰ بی بی پی ٹی آئی پر مکمل کنٹرول چاہتی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو ایک خاندان کی جاگیر بنا لیا ہے، جس میں صرف چند مخصوص افراد کو ہی اہمیت دی جاتی ہے، باقی سب کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں "انصاف” کا نعرہ لگایا تھا۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں کرپشن اور سیاست میں تبدیلی لائیں گے۔ مگر آج، تحریک انصاف نہ صرف اپنے وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے بلکہ یہ ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جس میں فیصلہ سازی اور طاقت کا مرکز ایک خاندان کے ہاتھ میں ہے۔ بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا "انصاف” اب صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی ایک عوامی تحریک تھی یا صرف ایک خاندان کی جاگیر؟ اگر ہم پارٹی کے حالیہ فیصلوں اور بشریٰ بی بی کے اثرات کو دیکھیں تو یہ سوال جائز لگتا ہے۔ پارٹی کی قیادت میں موجود افراد کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ہر اہم فیصلہ بشریٰ بی بی کے مشوروں یا ان کی مرضی کے مطابق لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر دھڑے بندی کی وجہ بنی ہے، بلکہ اس سے کارکنان کا اعتماد بھی ٹوٹ رہا ہے۔

    تحریک انصاف کی موجودہ حالت ایک جھوٹے انقلاب کی موت کا اعلان کرتی ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کے تحت ایک ایسا وعدہ کیا تھا جس کے بارے میں آج ہر طرف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی تباہی، بشریٰ بی بی کے اقتدار کی تفصیلات اور عمران خان کی خاموشی نہ صرف ایک سیاسی المیہ ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انقلاب کے نام پر ایک طاقتور طبقے نے پارٹی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔یقیناً، یہ تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی اس بحران سے نکل پائے گی یا یہ پارٹی ایک خاندان کی سلطنت بن کر رہ جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    پاکستان کی تاریخ کئی سانحات کی گواہ ہے، لیکن کچھ سانحات ایسے ہیں جو زخم بن کر رہ جاتے ہیں، اور کچھ ایسی سازشیں جو قوم کے شعور پر حملہ کرتی ہیں۔ لاشوں کی سیاست، جسے آج کے دور کی سب سے مکروہ اور شیطانی حکمت عملی کہا جا سکتا ہے، ان ہی سازشوں میں سے ایک ہے۔ یہ سیاست کسی نظریے کی جنگ نہیں بلکہ خوفناک اور خطرناک سازش ہے، جس کا مقصد نہ صرف عوام کو گمراہ کرنا بلکہ ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ 9 مئی اور 26 نومبر اس شیطانی کھیل کی دو بدترین اور واضع مثالیں ہیں، جو سیاست کے نام پر پاکستان کی سالمیت پر حملہ تھے۔

    9 مئی اور 26 نومبر کو تحریک انتشار کے نام نہاد رہنماؤں نے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جو ملک کو خانہ جنگی کی دہلیز پر لے جائے۔ ان کے منصوبے کا بنیادی مقصد تھا خون بہے، لاشیں گریں، اور اس فساد کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جائے۔ 9 مئی کو قومی املاک اور دفاعی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جبکہ 26 نومبر کو قتل و غارت گری کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دیا گیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی، جس کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست بن چکا ہے۔

    لاشوں کی سیاست کے اس کھیل کو ہوا دینے میں سب سے بڑا کردار ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کا ہے، جو سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانیے عام کرتے ہیں۔ یہ عناصر، جو بظاہر آزاد صحافت کے علمبردار بنتے ہیں، درحقیقت پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف عوامی شعور کو مسخ کرنا ہے بلکہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنا بھی ہے۔ 26 نومبر کے بعد جھوٹے بیانیوں اور جعلی خبروں کا جو طوفان کھڑا کیا گیا، اس نے واضح کر دیا کہ یہ عناصر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

    تحریک انتشار کے رہنماؤں نے احتجاج کو پرتشدد بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا۔ علی امین گنڈا پور اور دیگر نے کھلے عام “مارنے اور مرنے” کی باتیں کیں، جبکہ اس مارچ سے قبل جو افغانی اسلحے سمیت گرفتار ہوئے انہوں نے ان کے ناپاک ارادوں کو بے نقاب کر دیاہے کہ یہ اسلحہ مظاہرین کے ہاتھوں قتل عام کے لیے استعمال کیا جانا تھا، تاکہ پاکستان میں بدامنی کی ایک ایسی لہر پیدا کی جا سکے جو قابو سے باہر ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی مہذب معاشرے میں اس طرح کی دہشت گردی کو سیاست کہا جا سکتا ہے؟

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہایت پیشہ ورانہ حکمت عملی سے اس انتشار کو قابو کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہے؟ ان جھوٹے پراپیگنڈہ کرنے والوں، چاہے وہ سیاستدان ہوں صحافی ہوں یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہوں کو کب قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ یہ عناصر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش میں مصروف ہیں اور ان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہ جھوٹا پروپیگنڈہ صرف وقتی فساد نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست کے لیے ایک طویل مدتی چیلنج بن سکتا ہے۔ اگر اس جھوٹ کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سازشی عناصر مستقبل میں مزید شدت سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ حکومت،ریاست، عوام، اور میڈیا مل کر ان عناصر کے خلاف سخت موقف اپنائیں۔کیونکہ لاشوں کی سیاست دراصل پاکستان کی سالمیت پر ایک حملہ ہے۔ یہ کوئی معمولی سیاسی کھیل نہیں بلکہ ایک منظم عالمی سازش ہے، جس کا مقصد پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔ قوم کو اس وقت اتحاد اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ ان سازشوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ان کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنا اور ذمہ دران کو سخت سزا دینا ہی پاکستان کے وقار اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔ یہ وقت کسی نرمی یا رعایت کا نہیں بلکہ دشمنان وطن کو ہر محاذ پر شکست دینے کا ہے۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • انتشار،فساد،پی ٹی آئی کا وطیرہ

    انتشار،فساد،پی ٹی آئی کا وطیرہ

    پاکستان کی سیاست میں ایک طرف جہاں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے عوامی حمایت کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے کچھ ارکان اور رہنما اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اداروں اور عوام کے ساتھ دشمنی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مختلف مواقع پر احتجاج اور شور شرابے کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس میں ملک میں عدم استحکام اور تشویش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان احتجاجات کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا یا سیاسی مخالفین کو کمزور کرنا ہوتا ہے، لیکن ان مظاہروں میں پُرتشدد واقعات اور غیر قانونی سرگرمیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

    حال ہی میں پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے جدید ترین اسلحہ سے لیس شرپسندوں کو اسلام آباد بھیجا، جہاں ان لوگوں کا مقصد صرف دھرنا دینا نہیں تھا بلکہ 2014ء کی طرح پارلیمنٹ ہاؤس پر قبضہ کرنا تھا۔ 2014ء میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پارلیمنٹ اور سرکاری ٹی وی پر حملہ کیا تھا، جو ایک سنگین قدم تھا اور جس نے ملکی جمہوریت کو نقصان پہنچایا تھا۔پی ٹی آئی کی سیاست میں پرتشدد احتجاج ایک معمول بن چکا ہے۔ پارٹی کے کارکنوں نے نہ صرف سڑکوں پر تشدد کی راہ اپنائی، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر بھی حملہ کیا۔ 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات پر حملے کیے، جس سے ملک میں افراتفری پھیل گئی۔ یہ حملے پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کی تضحیک کرنے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش تھے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا یہ رویہ نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ ایک ایسی سیاست کی عکاسی کرتا ہے جس میں طاقت اور تشدد کو جواز بنا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے اور سرکاری ٹی وی پر قبضے کی کوششیں اس بات کا غماز ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی میں پُرتشدد طریقے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔2014ء میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا، جس میں پارٹی کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر حکومت کی عمارتوں کو گھیر لیا تھا۔ یہ دھرنا طویل عرصے تک جاری رہا، جس کی وجہ سے حکومتی اداروں کے کاموں میں خلل آیا اور ملک کے آئینی نظام کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ اس دھرنے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اپنے مطالبات کی حمایت میں عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ان کے اقدامات نے پاکستان کی جمہوری روایات اور آئین کی بالادستی کو چیلنج کیا تھا۔

    اب، 2024ء میں، پی ٹی آئی نے دوبارہ اسلام آباد میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مرتبہ ان کے احتجاج کا مقصد وفاقی حکومت کو کمزور کرنا اور اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنا تھا۔ تاہم، ایسے احتجاجوں سے نہ صرف ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا بلکہ عوام کی زندگی بھی متاثر ہوئی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی معیشتی مشکلات اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے غیر قانونی اقدامات ملکی استحکام کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔ایک اور تشویش کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ کی حکومت کے سرکاری وسائل کا استعمال کر کے احتجاج کو مزید منظم اور طاقتور بنانے کی کوشش کی۔ خیبر پختونخواہ میں حکومت کا اقتدار رکھنے والی پی ٹی آئی نے ریاستی وسائل کا استعمال کر کے عوامی احتجاج کی شدت بڑھانے کی کوشش کی۔ اس سے نہ صرف حکومت کی انتظامیہ پر بوجھ بڑھا، بلکہ اس کے ذریعے ملک کی سیاسی فضا میں مزید تلخی پیدا ہوئی۔

    اس احتجاج کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے رہنما کی رہائی کے لیے پرتشدد احتجاج کیا۔ عمران خان پر بدعنوانی اور کرپشن کے سنگین الزامات ہیں، اور ان کے خلاف کئی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ ان پر کرپشن کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، اور ان کی رہائی کے لئے کیے گئے احتجاجات دراصل ان مقدمات سے بچنے کی ایک کوشش ہیں۔بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نے ان کے خلاف چلنے والی سماعتوں میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ عمران خان کے مقدمات کو طول دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، ان پر لندن میں ضبط شدہ رقم کو وائٹ منی میں تبدیل کرنے کا الزام بھی ہے۔ ان الزامات سے متعلق ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اس نوعیت کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔

    کسی بھی جمہوری ملک میں ایسے پرتشدد احتجاج اور سیاسی عدم استحکام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی کا پرتشدد احتجاج اور سیاسی مقاصد کے لئے غیر قانونی حربوں کا استعمال ایک تشویش کا باعث ہے۔ اس کے باوجود، پاکستان کے عوام اور ادارے ہمیشہ ان قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں جو ملک کے آئینی اور جمہوری اصولوں کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتی ہیں

  • قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے یقینی ، مایوسی ،فساد ،انتشار وطن عزیز کے گلشن میں کانٹے بکھیرنے کا کام جو جاری ہے ہر طرف کانٹے بکھیرے جا رہے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں تماش بین افراد کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ بین الاقوامی دنیا میں ملک کے وقار، اس کی عزت کو داغدار کیا جا رہاہے ۔ قوم منتشر ہو چکی ہے ۔ منتشر قوم کے لئے نواز شریف، مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی میں موجود بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمسفر افراد اور دیگر سنجیدہ سیاستدان اپنا کردارادا کریں ۔پی ٹی آئی کی سنجیدہ قیادت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ تلاش کریں۔ نواز شریف خود اس وطن عزیز کی عزت اور وقار کے لئے میدان میں نکلیں ۔ قیادت کریں سیاسی راہنمائوں کے دروازے پر دستک دیں- انہیں ایک جگہ جمع کریں وطن عزیز میں ترقی کے لئے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے ۔ ملک کے معاشی حالات کیا ہیں ؟ سب جانتے ہیں ان حالات میں ملک کسی انتشار اور فساد ،قتل وغارت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

    کیا تخلیق پاکستان کا مقصد یہی تھاکہ یہاں بے روزگاری ،لاقانونیت ،ناانصافی ، بدانتظامی ، منافقت ، ملاوٹ ، ناجائزمنافع خوری ، اقربا پروری ، بے اصولی ، کرپشن کو فروغ دیا جائے ؟نہیں ،نہیں پاکستان اس کے لئے نہیں بنایا گیا تھا ہرگز نہیں خدا را بابائے قوم بزرگوں ،لاکھوں شہداء کی روحوں کو اتنا نہ تڑپائو ۔ اللہ کا خوف دلوں میں پیدا کرو۔ تبدیلی اور حقیقی انقلاب اور حقیقی آزادی والی جماعت سے گزارش ہے پاکستان کا قیام بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا محض نعرہ نہیں تھا ،پوری وضاحت کے ساتھ اس انقلاب کے مقاصد تھے۔بھارت سے مسلمانوں نے ہجرت کی ،سر کٹوائے ، گھر بار چھوڑے ، یہ سب انقلابی تھے جو بابائے قوم کی صاف ستھری اور بہادر قیادت میں انقلاب لے کر آئے پاکستان کی صورت میں اس گلشن میں کانٹے بکھیرنے کی بجائے اس گلشن کو آبادرکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔قصر دل میں نرم گوشہ رکھنے والے ہی دلوں پر راج کرتے ہیں ۔کائنات کی خوبصورتی حسن اخلاق میں ہے۔ چنگیز خان ،ہلاکو اور ہٹلر نے توانسانیت کا خون بہایا تھا اچھے الفاظ کی خوشبو سے ہی قبائے دل میں خوبصورت پھول کِھلتے ہیں

  • پی ٹی آئی احتجاج،کیا  حکومت صرف بڑھکیں مارنے  کیلیے ہے؟

    پی ٹی آئی احتجاج،کیا حکومت صرف بڑھکیں مارنے کیلیے ہے؟

    پاکستان میں گزشتہ چند دنوں سے احتجاجی تحریک نے سیاسی اور سماجی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لئے اسلام آباد کی جانب احتجاج کا اعلان کیا، جس کے بعد اسلام آباد اور پنجاب میں جاری ان احتجاجات نے حکومت کی حکمت عملی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں ڈی چوک تک پہنچ چکے ہیں،پرتشدد احتجاج کے دوران تین رینجرز اہلکار ،دو پولیس اہلکار شہید ہوئے،حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کیں، راستے بند کئے، کینیٹینر لگائے،اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کیا، اس کے باوجود پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، احتجاجی شرپسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور ان کی جانب سے اہم مقامات تک پہنچنا اس بات کا غماز ہے کہ حکومت اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اور فوج کے جوانوں کی شہادتیں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

    اسلام آباد میں جاری احتجاجی تحریک نے شہر کے متعدد علاقوں کو بند کر رکھا تھا، اور کنٹینرز کی مدد سے سڑکوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود، احتجاجی گروہ ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس پر حکومت کی حکمت عملی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ احتجاجی تحریک کے شرپسند ایک ایک انچ آگے بڑھتے رہے، اور حکومت کی جانب سے صرف بیانات اور بڑھکیں دینے کے سوا کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔

    مختلف سیاسی رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے حکومتی رٹ کو ایک بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ حکومت نے اس تماشے کے لیے کنٹینرز کیوں لگائے؟ اگر سڑکیں بند کی گئی تھیں اور راستے روکے گئے تھے، تو ان اقدامات کا کیا مقصد تھا؟ اور یہ تمام انتظامات کس لیے کیے گئے جب احتجاجی شرپسند ایک کے بعد ایک قدم آگے بڑھتے رہے؟اسلام آباد سے داخلی و خارجی راستوں کو بندش، میٹرو بند، ریلوے سٹیشن بند، ہوٹلز،گیسٹ ہاؤس بند،اس سب اقدامات کے باوجود سوال اٹھتا ہے کہ حکومت نے کیا حکمت عملی اختیار کی؟ اسی دوران، پولیس اور رینجرز کے جوانوں کی شہادت اور زخمی ہونے کے واقعات نے عوام کے ذہنوں میں مزید شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ ان تمام واقعات نے حکومت کی بے بسیت اور بے تدبیری کو اجاگر کیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ احتجاجی تحریک کے پیچھے "خفیہ ہاتھ” کارفرما ہیں، لیکن اب یہ بیانات بے کار ثابت ہو رہے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوالات ابھرنے لگے ہیں کہ اگر حکومت اس قدر کمزور ہے کہ وہ چند کلومیٹر کے علاقے کو بھی کنٹرول نہیں کر سکتی، ایک طرف احتجاجی تحریک کی شدت بڑھتی جا رہی ہے، دوسری طرف حکومت کی طرف سے نہ کوئی موثر حکمت عملی سامنے آ رہی ہے اور نہ ہی کوئی حقیقی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چند دنوں سے حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محض بیانات دے رہے ہیں، جب کہ عوام کی حفاظت کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ولیس کے جوانوں کی قربانیاں ہو رہی ہیں، دوسری طرف حکومت محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اگر حکومت یاست کی رٹ کو قائم نہیں رکھ سکتی،عوام کا تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا، تو ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت کا کام کیا ہے؟ کیا یہ حکومت صرف بڑھکیں مارنے اور بیانات دینے کے لیے ہے، یا پھر اسے عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے؟ ریاست کی طاقت کو محض شوپیس کی طرح نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ اسے حقیقی چیلنجز کے سامنے ثابت کرنا ہوگا۔

    موجودہ حالات واقعی حکومت کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت عملی اقدامات کرے، نہ کہ صرف بیانات دے کر حالات کو نظر انداز کرے۔9مئی کے واقعے سے بڑا واقعہ رونما ہو چکا، حکومت اب تک کیا کرتی رہی، بلوائیوں نے پاکستان کو پہلے بھی نقصان پہنچایا اب بھی پہنچا رہے ہین، بشریٰ بی بی کی قیادت میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا رہا ہے، ایسے میں حکومت کو سخت ردعمل ،فوری ایکشن کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے………

    پی ٹی آئی مظاہرین کا ڈی چوک پر خاتون صحافی قراۃ العین شیرازی پر تشدد

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

  • کچھوے کی چال، واقعی چال ہے؟.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کچھوے کی چال، واقعی چال ہے؟.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    پاکستان کی موٹر وے اور پنڈی و اسلام آباد اور مری کے تعلیمی ادارے بوجہ مرمت بند رہیں گے۔ یہ اعلان تو سنا دیا گیا۔ مگر بتایا نہیں گیا کہ مرمت کس کی ہورہی ہے۔ سکول اور موٹر ویز پر تو مرمتی ٹھیکے داروں نے گندگی نگاہ تک نہیں ڈالی۔ خیر چھوڑیے۔۔۔۔۔
    سنا ہے کہ قیدی آزاد ہے،اور بادشاہ فیصلے کرنے میں مفلوج۔ جسے سیاہ ست نہیں آتی تھی، اس نے ڈنگی لگا کر آنے والوں کو وخطہ ڈالا ہوا ہے۔ آزاد قیدی نے جمہوریت کے چیمپئنز کے منہ سے نہ صرف نقاب اتار ڈالا ہے۔بلکہ میدان چال میں اپنا خیمہ اتنا مضبوط کر ڈالا ہے کہ اس کے مخالفین کا سانس خود اپنی چالوں سے گھٹ رہا ہے۔
    پہلے حکومتوں کے سیاسی مخالفین اپنے مطالبات کے لیے ملک کی شاہراؤں کو بند کرتے تھے۔مگر اس بار آزاد قیدی نے تاریخ بدل ڈالی۔ جیل کے سلاخوں کے پیچھے بیٹھا وہ شخص اس قدر مقبول ہوگیا ہے کہ وہ جیل میں بیٹھ کر دھرنوں اور جلسوں کا اعلان کرتا ہے۔ اور اس کے مخالفین کو ایک روز پہلے ہی نہ صرف کچھ اہم شاہرائیں بلکہ ملک کو عملی صورت میں بند کرنا پڑ جاتا ہے۔
    24 نومبر کو بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اڈیالہ جیل سے فائنل کال کا اعلان کیا۔ اور کارکنان کو اسلام آباد اپنی رہائی کی غرض سے ہر حال میں پہنچنے کا کہا۔ تاکہ احتجاج کرکے شہر اقتدار کو بند کیا جائے۔ اور حکومت سے مذکرات اور مطالبات منوائے جائیں۔ مگر حکومت نے اپنے سیاسی مخالف کی خواہش خود ہی پوری کر دی۔ 23 نومبر کو ملک کی اہم ترین موٹر ویز اور شاہراؤں کو حکومت نے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا۔ اور ملک کی تقریباً 60 فی صد آبادی کو گھروں اور اپنی گلیوں میں محصور کر دیا گیا۔ دوسری جانب علی امین گنڈا پور کے پی کے کے تمام تر سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کےلیے روانہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور کے قافلے میں سرکاری ملازم، سرکاری مشینری اور بعض اطلاعات کے مطابق پولیس فورسز کے لوگ بھی شامل ہیں۔ جو تاحال 25 نومبر شام 7 بجے اسلام آباد نہیں پہنچے۔

    کیا یہ کچھوے کی چال، آزاد قیدی کی چال تو نہیں؟۔ حکومتی رپورٹس کے مطابق احتجاج کی صورت میں ملک کی معیشت کو 190 ارب کا روزانہ نقصان ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی تو احتجاج ہی اس لیے کر رہے ہیں کہ حکومت معاشی دباؤ میں آکر ان کے مطالبات مانے۔ مگر حکومت نے 23 نومبر کو خود ہی ملک کو بند کردیا۔ اور قیدی کی چال کو مزید کامیاب بنانے کےلیے راہ ہموار کی۔ علی امین گنڈاپور جس رفتار سے چل رہے ہیں لگتا یہی ہے کہ یہ کچھوے کی چال 27٫26 نومبر کو بھی چلے گی۔ اور یوں حکومتی حلقوں میں ٹینشن بڑھے گی۔”علی امین گنڈاپور جب لیٹ آئے گا تو ٹینشن بڑھے گا، جب علی امین گنڈاپور زیادہ لیٹ آئے گا تو زیادہ ٹینشن بڑھے گا”۔
    یوں 24 نومبر کو شروع ہونے والا احتجاج 26 نومبر کو شروع ہوگا،لیکن ختم ہونے کا وقت نہیں مقرر۔ مگر تاحال ڈوبتی معیشت کو 580 ارب کا مزید غوطہ دیا جا چکا ہے۔ اور کئی ارب کا مزید خسارہ ہوگیا،مگر قیدی کو معیشت نہیں رہائی چاہیے

  • اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دہشت گردی ،قتل و غارت گری، سماجی معمول کا درجہ اختیار کر جائیں، رشتے مٹ رہے ہوں، احساس ماند پڑ جائے، بیروزگاری، ناخواندگی عام ہو ۔۔کوئی راستہ کوئی منزل نظر نہ آئے ۔ بدعنوانی اور منافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر لیں تو سیاست اور جمہوریت کیسی؟ ان حالات میں ریاست کی حالت کیا ہوگی؟ تاہم بدترین داخلی انتشار کے باوجود پاک فوج اور جملہ اداروں نے ریاست کے ساتھ ساتھ دفاع کو بھی اپنی حفاظت میں لیا ہوا ہے۔ یاد رکھیئے! ریاست کے نگہبانوں کو فساد اور انتشار کا سدباب کرنا آتا ہے ریاست کے استحکام پر کسی فرد واحد کو اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ ریاست کے استحکام کے لئے پاک فوج اور جملہ ادارے دیوار چین کی طرح کھڑے ہیں۔

    قوم نے طویل تین مارشل لاء دیکھے موجودہ صدی کے پیروں، نام نہاد گدی نشینوں ، ججز، وڈیروں، سیاستدانوں، نام نہاد دانشوروں، سرمایہ داروں نے ان مارشل لاء لگانے والوں کا بھرپور ساتھ دیا ،میڈیا نے بھی بھرپور ساتھ دیا الزام صرف فوج پر نہیں لگایا جا سکتا۔ میاں محمد نوازشریف کو تین بار حکومت سے علیحدہ کیا گیا اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ہی آتی ہے۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعت میں نہ سیاست اور نہ جمہوریت ہے، پانامہ لیکس ایک غلط اور بے بنیاد مقدمہ بنا کر نوازشریف اور اسکے خاندان کو بدنام کیا گیا اس مقدمے کے پیچھے سیاستدان ہی تھے، عمران خان جو آج جمہوریت آئین کی بات کرتے تھکتے نہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری حکومت کیخلاف سازش میں کیوں شامل ہوئے؟ 2018ء کے الیکشن میں انہوں نے کس طرح کامیابی حاصل کی وہ کن ملاحوں کی مدد سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ،نوازشریف کا اس وقت گناہ کیا تھا؟ 2024ء کے الیکشن پر سینہ کوبی کرنے والے بتا سکتے ہیں 2018ء کا الیکشن ہی تھا؟

    یاد رکھیئے۔ پاکستان کی سیاست سیاستدانوں اورنام نہاد جمہوریت سے امریکہ سمیت عالمی دنیا آگاہ ہے سوشل میڈیا جھوٹ بولنے کی فیکٹریاں ہیں بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا بھی سوشل میڈیا کا اسیر بن چکا ہے۔ کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولتے ہیں سیاستدانوں کی اکثریت نام نہاد پیروں اور گدی نشینوں، نام نہاد عالم دین، خدا کے عذاب سے ڈرتے نہیں روز محشر خدا کی عدالت میں کس منہ سے کھڑے ہوں گے پاکستان کی سرزمین بھی خدا پاک کی ملکیت ہے اس سرزمین پر بسنے والے خدا پاک کی مخلوق ہے اپنے اقتدار اور اختیارات کی خاطر مذہبی تاویلیں دے کر خدا پاک کو ناراض نہ کریں دین اسلام پر عمل کریں

  • پاکستان میں جاری عدم استحکام، سیاست اور عالمی تناظر.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں جاری عدم استحکام، سیاست اور عالمی تناظر.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک میں جاری عدم استحکام ،سیاسی جماعتوں کے آپس میں تنازعات ،ان تنازعات سے پاکستان بطور ریاست اور بے بس لاچار عوام ۔جمہوریت سیاسی رہنمائوں کو پکار رہی ہے اب اس میں فتوے لگانے والوں نے بھی شمولیت اختیار کرلی ہے۔ فتویٰ تو ملاوٹ شدہ خوراک ادویات فروخت کرنے والوں پر لگانا چاہئے۔ فتویٰ صفائی نصف ایمان ہے ،جو اپنی دکانوں گلی محلوں کی صفائی نہیں کرتے جس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مخلوق خدا کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں ان کے خلاف فتوے جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس علمائے کرام اور مشائخ ایک حدیث پر عمل کروانے سےقاصر ہیں ’’جس نے ملاوٹ کی ، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ دین اسلام کا ذمہ اگر اللہ تعالیٰ نے نہ لیا ہوتا تو آج کا مسلمان اسے کب کا گنوا چکا ہوتا ۔مسلم امہ کا ہدف دین اسلام کی سربلندی نہیں ،اپنی ذاتی نفسیات خواہشات ذاتی مفادات کے گرد گھومتا ہے مسلم امہ کا ہر کام مذمت تک محدود ہے۔

    بین الاقوامی سیاستدان نئے امریکی صدر ٹرمپ کو اور ان کے دنیا کے ساتھ معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہ نئے امریکی صدر بل کلنٹن بھی نہیں بائیڈن بھی نہیں ٹرمپ ہنری کسنجر کی طرح دانشور یا جمی کارٹر کی طرح شائستہ نہیں ہو سکتے لیکن کاروبار، سرمایہ کاری کے پس منظر سے آنے والے امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک میں ان کے فائدے میں ہے، نئے امریکی صدر ٹرمپ تجزیہ کاروں کی زبان استعمال نہیں کرتا اور تجزیہ کار سیاستدانوں کی شائستگی یا چالبازی کے لئے نہیں جانا جاتا، ٹرمپ نے اپنے سابقہ دور صدارت میں دنیا بھر کے مسلمان ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب کیا تھا ٹرمپ کو اس وقت امریکی سیاستدانوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا ایک بار پھر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات مستحکم ہوں گے ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ روس یوکرین جنگ، غزہ، لبنان کی جنگ کو ختم کروا سکتے ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کو نئی شکل دیں گے معاہدوں اور پابندیوں کے ذریعے دیکھیں گے جنگوں سے نہیں دیکھیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کی صورت میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگا مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لئے سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگا۔ مشرق وسطیٰ کو نئی تبدیلیوں کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ یاد رہےموجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے ادوار میں دنیا میں بغیر جنگ کے حکومت کی ہے

  • ٹرمپ کی کامیابی اور پاکستانی دانشوروں کے لایعنی تبصرے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ٹرمپ کی کامیابی اور پاکستانی دانشوروں کے لایعنی تبصرے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدارتی ا نتخابات اور ٹرمپ کی کامیابی کے بعد ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر ہمارے دانشور اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ایسے ایسے تبصرے شروع کردئیے ان تبصروں سے نہ تو امریکہ کو فرق پڑتا ہے نہ پاکستانی معاشرے پر ان تبصروں سے کوئی نقصان یا فائدہ ہوتا ہے جس معاشرے کو تباہ کرتے ہیں، نجومی درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش ، جھوٹے راوی ، غنڈے خود ساختہ حق اور سچ کے دعویدار زائچے بنانے والے خوشامدی موقع پرست سیاستدان افواہ پھیلانے والوں کی بہتات ہو ،الیکٹرانک میڈیا پر معاشرے کو سدھارنے کی باتیں کی جائیں، خوراک اور ادویات میں ملاوٹ کے خلاف جہاد کریں، مخلوق خدا کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف جہاد کریں۔ امریکی صدر کو کسی نجومی ، کسی زائچے بنانے والے نے کامیاب نہیں کروایا امریکہ میں موجود مخلوق خدا نے کامیاب کروایا ہے۔

    امریکہ بطور ریاست اور ٹرمپ بطور امریکی صدر کو بین الاقوامی تنازعات کا سامنا ہے ، امریکی پالیسی اُسی راستے پر چلتی رہے گی تاہم امریکی پالیسی کا انداز اور لہجہ مختلف ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جیت ایک خبر کی کہانی اور سیاسی پنڈتوں کے لئے موضوع بحث ہے کچھ زیادہ نہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی سعودی حکمرانوں کے لئے بھی اچھی خبر ہے ٹرمپ کے ساتھ سعودی حکمرانوں کے اچھے تعلقات ہیں تاہم دیکھنا ہوگا کہ اسرائیل فلسطین ،لبنان ،ایران کے درمیان جاری جنگ کو ٹرمپ اور سعودی حکمران کیا کردار ادا کرتے ہیں ، بائیڈن کی رخصتی اورٹرمپ کی آمد دنیا میں جاری جنگی ممالک میں کیا رُخ دیتی ہے ٹرمپ کے مزاج و انداز میں کیا کوئی تبدیلی آئے گی؟تاہم پاکستان کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کیا ہوگی اس کے لئے چند ماہ انتظار کرنا پڑے گا

  • آؤٹ آف ٹرن چیف جسٹس.تحریر:تصدق حسین

    آؤٹ آف ٹرن چیف جسٹس.تحریر:تصدق حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں حال ہی میں کی گئی 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت طے طریقہ کار کے مطابق جج جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ سب سے سینیئر جبکہ جسٹس منیب اختر دوسرے نمبر پر سینیئر ترین جج تھے۔نئی آئینی ترمیم سے قبل تو یہ پہلے ہی سے سب کو معلوم ہوتا تھا کہ انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر آئندہ کون بیٹھے گا کیوں کہ عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سینیئر ترین جج ہی آئندہ کے لیے چیف جسٹس ہوتا تھا۔

    پہلی مرتبہ 1994 میں سب سے سینیئر ترین جج کی بجائے جسٹس سجاد علی شاہ کو اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی ایڈوائس پر چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔1994 میں چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی ریٹائرمنٹ پر جسٹس سعد سعود سپریم کورٹ میں سب سے سینیئر ترین جج تھے لیکن اس وقت سینیارٹی لسٹ میں سجاد علی شاہ تیسرے نمبر پر تھے لیکن انہیں چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔بےنظیر بھٹو کو اس وقت کے صدر پاکستان فاروق لغاری نے برطرف کر دیا تھا اور جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے پاس گیا تو چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ان کی برطرفی کے صدارتی فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔چیف جسٹس سجاد علی شاہ اپنے دور میں خاصے متنازع رہے۔انہوں نے 1997 میں، اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے دور میں جب 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر پاکستان سے وزیراعظم اور قومی اسمبلی کو برطرف کرنے کا اختیار ختم کیا تھا تو سجاد علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے ان کے اختیارات کو بحال کر دیا تھا۔لیکن اسی روز جسٹس سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک اور بینچ نے وہ فیصلہ معطل کر دیا جس سے ناصرف چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت سے اختلافات کھل کر سامنے آئے بلکہ عدلیہ بھی منقسم ہو گئی۔

    انہی حالات میں منقسم عدلیہ کے بعض ججوں نے سجاد علی شاہ کو بطور چیف جسٹس ماننے سے انکار کیا اور سپریم کورٹ کی کوئٹہ میں رجسٹری نے ان کی تعیناتی پر سوالات اٹھائے اور پھر عدالت کے 10 رکنی بینچ نے ان کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹیفیکشن مسترد کر دیا تھا اور یوں ان کے دور کا اختتام ہوا۔

    سپریم کورٹ میں خلاف معمول ایک اور چیف جسٹس اس وقت سامنے آئے جب تین نومبر 2007 کو اس وقت کے صدر سابق جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کر دیا تھا۔جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی تو اس وقت سپریم کورٹ کے سینیئر ترین ججوں میں عبدالحمید ڈوگر چوتھے نمبر پر تھے لیکن ایمرجنسی کے بعد دیگر سینیئر ججوں نے صدر کے عبوری حکم نامے (پی سی او) کے تحت حلف اٹھانے سے معذرت کی تھی مگر عبدالحمید ڈوگر نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا تھا اور انہیں چیف جسٹس بنا دیا گیا۔ایمرجنسی کے خاتمے پر جب آئین بحال کیا گیا تو عبدالحمید ڈوگر سمیت پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں نے دوبارہ حلف بھی اٹھایا۔چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے بطور پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی اور اس کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کو نظریہ ضرورت تحت بھی جائز قرار دیا تھا۔ان کے دور میں بھی عدلیہ منقسم رہی اور عدلیہ کی بحال کے لئے وکلاء تنظیموں نے بھرپور مہم بھی چلائی اور پھر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ عبدالحمید ڈوگر کی ریٹائرمنٹ پر معزول کیے گئے چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری کو 9 مارچ 2009 کو بحال کر دیا گیا۔

    اب جبکہ سینیارٹی لسٹ پر تیسرے نمبر پر موجود جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے اور وہ 26 اکتوبر سے یہ منصب سنبھالیں گے تو ان کے لئے ایک اہم چیلنج عدلیہ کو مزید منقسم ہونے سے بچانا بھی ہو گا۔
    اگرچہ کئی وکلاء رہنما اور تنظیموں کی طرف سے جسٹس یحییٰ آفریدی بطور چیف جسٹس تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور انہوں نے اس کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ بھی دیا ہے لیکن اگر عدالت عظمٰی کے موجودہ ججوں کی اکثریت کی انہیں حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو ان کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانا قدرے آسان ہو گا
    tasadeq