Baaghi TV

Category: سیاست

  • صوابی احتجاج اور پی ٹی آئی کی رسوائی. تحریر: حنا سرور

    صوابی احتجاج اور پی ٹی آئی کی رسوائی. تحریر: حنا سرور

    گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات کو لے کر پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال تو دی اور احتجاج بھی کیا تو خیبر پختونخوا میں،جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے،تاہم پی ٹی آئی کی انتشار، نفرت، تقسیم کی سیاست کو اب خیبر پختونخوا کی عوام نے بھی مسترد کر دیا ہے.پی ٹی آئی کی جانب سے حالیہ جلسے میں عوام کی عدم دلچسپی اور خالی پنڈال نے واضح طور پر یہ ثابت کیا کہ پی ٹی آئی کی سیاست اب عوام کے درمیان کوئی اثر نہیں رکھتی۔ جلسے کی ناکامی نے پارٹی رہنماؤں میں مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے، جو پہلے ہی بحرانوں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ پی ٹی آئی کے ساتھ عوامی تعلق کمزور ہوچکا ہے،درحقیقت پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک انتہا پسند گروپ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔نومئی، 26 نومبر کو جو کچھ ہوا وہ قوم کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا میں حکومت ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کی قیادت نے عوامی مسائل کو نظر انداز کر دیا ،وہاں کے شہری علاج کے لئے پنجاب کا رخ کر رہے ہیں، تعلیم کی سہولیات ناکافی ہیں، پی ٹی آئی صرف اور صرف اپنی ذاتی مفادات کی سیاست کر رہی ہے جس کی وجہ سے عوام مایوس ہو چکی ہے

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال دے کر قوم کو بچوں کو استعمال کر رہی ہے تو وہیں معیار یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے بیٹے بیرون ملک میں آرام سے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ عمران خان کی سیاسی جماعت اپنے ملک کے نوجوانوں کو فسادات اور عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہ حقیقت عوام کے لیے باعث تشویش ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اپنی ذات کی سیاست میں مگن ہیں اور دوسروں کے بچوں کو ملک میں انتشار اور فسادات کی طرف اُکسا رہے ہیں۔ن تحریک انصاف نے مرکز میں 3.5 سال اور خیبر پختونخوا میں 11 سال حکومت کی، لیکن ان برسوں میں ملک اور صوبے کی ترقی کے لیے کچھ خاص نہیں کیا گیا۔ عوام کو ترقی اور خوشحالی کی بجائے، صرف سیاسی مصلحتوں اور ذاتی مفادات کے کھیل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان برسوں میں حکومت نے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے بجائے مسائل میں اضافہ کیا۔

    پی ٹی آئی کا ایجنڈا صرف اور صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا اور انارکی پھیلانا ہے۔ 9 مئی کے واقعات نے پی ٹی آئی کے منفی ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے، جب اس کے کارکنوں نے ملک کے اہم ترین اداروں پر حملہ کیا۔ یہ حملے ملک کی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ ایک گروپ کی سیاسی مفاد کے لیے تھے، جس کا مقصد صرف اور صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔9 مئی 2023 کو ہونے والے واقعات نے پی ٹی آئی کے سیاسی ایجنڈے کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے سیاسی مفادات کے لیے پاکستان کے مختلف اہم اداروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ملک کی سلامتی اور استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، جنہیں پی ٹی آئی کی طرف سے صوبے کی ترقی کی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ جلسوں، احتجاجوں ، دھرنوں میں خیبر پختونخوا کے خزانے کا پیسہ لٹا رہے ہیں،عوامی مسائل کا حل انکی ترجیح نہیں ہے. خیبر پختونخوا کی عوام کو سڑکوں کی بہتر حالت، صحت کے بہتر نظام اور تعلیم کے شعبے میں ترقی کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے بجائے، علی امین گنڈا پور عمران خان کی رہائی کا نعرہ لگا کر اور دھمکیاں دے کر اپنی سیاست کر رہے ہیں، وفاق کو دھمکیاں دینا علی امین گنڈا پور کی مستقل پالیسی بن چکی ہے جو خطرناک ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام پی ٹی آئی کو اب مسترد کر چکی، جلسے کی ناکامی، پارٹی کے اندر کی لڑائیاں، اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ناکامیوں نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس جماعت کا ایجنڈا صرف اور صرف ذاتی مفادات پر مبنی ہے، نہ کہ ملک کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لیے۔خیبر پختونخوا کے عوام ترقی اور استحکام چاہتے ہیں، نہ کہ انتشار اور سیاسی لڑائیاں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے مسائل حل کرے، نہ کہ سیاسی نعروں میں وقت ضائع کیا جائے۔ پی ٹی آئی کا ایجنڈا اب عوام کے مفاد میں نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے اس جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔

  • ٹرمپ پالیسیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی،چوکنا رہنا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ پالیسیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی،چوکنا رہنا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں مسخرے پن کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا،بھانت بھانت کی بولیاں
    دنیا بھر میں بدلتی صورتحال پر پاکستان کیلئے زیادہ احتیاط کی ضرورت،سب ایک ہوجائیں
    تجزیہ شہزاد قریشی
    بین الاقوامی بدلتی ہوئی پالیسیوں کے پیش نظر پاکستان کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی گلیاروں میں مسخر ے پن کی حدوں کو کراس کرنے والوں کی اکثریت میں اضافہ ہو چکاہے۔ لہذا ذمہ داران ریاست کو بہت ہی زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان خطے کا ایک انتہائی ملک ہے۔ بین الاقوامی پالیسیاں بالخصوص نئے امریکی صدر ٹرمپ کے تابڑ توڑ فیصلوں سے عالمی سیاست میں ہلچل سی پیدا کردی ہے۔ امریکی صدر کے فیصلوں کااثر دنیا کے کئی ملکوںپر پڑنے والا ہے۔ جس سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایران کو دھمکی دے دی گئی ہے۔ بھارت کی مثال لے لیں ،ٹرمپ کی کامیابی پر بھارتی میڈیا ڈھول کی تھاپ پر ناچنے کے مترادف اُچھل رہا تھا۔ ٹرمپ اور مودی کی دوستی کے چرچے ہو رہے تھے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ امریکہ سے غیر قانونی بھارتی شہریوں کو پکڑ پکڑ کرنکالا جا رہا ۔ ابھی مودی حکومت جو روس اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر برکس میں شامل ہوا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ اسکا بھی بھارت سے جواب طلبی کرنے والا ہے ۔ غزہ میں جنگ بندی تو ہو گئی ہے تاہم مشرق وسطی کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ روس اور یو کرین کا کیا ہوگا ان دنیا کے بدلتے ہوئے حالات پر اور امریکی سیاست نے جو انگڑائی لی ہے اس سلسلے میں سردست کچھ لکھنے کی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں نفرت کی سیاست میں اضافہ ہورہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ دور کی نفرت کی سیاست میں ملک وقوم کا خیر خواہ کون ہے؟ موجودہ نفرت کی سیاست میں اور بین الاقوامی بدلتی پالیسیوں کو دیکھ کر پاک فوج اور جملہ اداروں پر ملک وقوم کی حفاظت ان کی سلامتی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ امریکہ نے چین ،کینیڈا، میکسیکواور دوسرے ممالک پر ٹیرف لگا کر ایک نیا پنڈورہ بکس کھول دیا ہے۔ اس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑیں گے ۔ ادھر یورپی یونین ایک نیا اقتصادی ماڈل بنا رہا ہے ۔ بین الاقوامی حالات اور پالیسیوں کے موجودہ دور میں فہم فراست اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا جائے۔ سیاستدان مسخرے پن کی سیاست سے باہر نکل کر ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر سیاست کریں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں کے بارے میں افوا ہ سازی سے گریز کریں ۔

    یادرکھیئے اداروں کو بقا اور شخصیات کوفناحاصل ہے جس ملک میں ادارے مضبوط ہوں وہاں فیوڈل روئیے دم توڑ دیتے ہیں جہاں فیوڈل نفسیات غالب ہوں وہاں اداروں کے لئے آکاس بیل بنی رہتی ہےنہ خودبرگ و آب ہوتی ہے اور نہ کسی کو ثمر آور ہونے دیتی ہے۔بین الاقوامی اُفق پر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کو زمانہ حاضر کے مطابق ترجیحات اور اہداف مقررکرنا ہو

  • "بولنا منع ہے!” .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "بولنا منع ہے!” .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں انصاف و قانون کی تعریف ذرا مختلف ہے۔ یہاں قانون طاقتور کے لیے سہولت، اور کمزور کے لیے سزا ہوتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے، حکومت نے ایک اور کمال کاریگری دکھاتے ہوئے پیکا ایکٹ متعارف کرایا، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ حکومت جو کہے، وہی سچ ہے، اور جو عام عوام کہے، وہ جھوٹ، پروپیگنڈہ اور فتنہ پروری۔ یعنی اگر آپ کہیے کہ ملک میں سب اچھا نہیں، تو آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے،لیکن اگر کوئی سرکاری ترجمان کہے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، تو اس پر چپ چاپ یقین کرلینا ہے۔ کیونکہ بولنا منع ہے۔

    دوسری طرف، حکومت نے ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ پنجاب میں بھکاریوں پر پابندی لگا دی جائے۔ گویا ملک میں غربت ختم ہو چکی ہے، بس ایک مسئلہ باقی تھا کہ سڑکوں پر بیٹھے یہ لوگ جو بھوک سے مجبور ہو کر ہاتھ پھیلا رہے ہیں، انہیں جیل میں ڈال کر غربت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ یعنی مسئلہ غربت نہیں، بلکہ غربت کا نظر آنا ہے!

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ قوانین بناتے کون ہیں؟ یقیناً وہی لوگ جو خود عوام کے پیسوں پر عیاشیاں کرتے ہیں، ان کے ٹیکسوں سے چلنے والے ایوانوں میں بیٹھ کر ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن بنا دیتی ہیں۔ اگر بھکاریوں پر پابندی لگانی ہے، تو کیا ملک کے وہ "اعلیٰ درجے” کے بھکاری بھی اس میں شامل ہوں گے جو بیرون ملک سے قرضے مانگ کر ملک کو گروی رکھ دیتے ہیں؟ یا یہ قانون صرف عام عوام کے لیے ہے؟

    پیکا ایکٹ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اب صرف وہی خبر معتبر ہوگی جو حکومت کی نظر میں قابلِ قبول ہو۔ اگر آپ نے کچھ ایسا لکھ دیا جو حکمرانوں کے مزاج کے خلاف ہوا، تو سیدھا جیل کی سیر کرنی ہوگی۔ اب اگر کوئی کہے کہ مہنگائی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکی ہے، تو یہ افواہ ہوگی۔ اگر کوئی کہے کہ لوگ فاقے کر رہے ہیں، تو یہ ریاست مخالف بیانیہ ہوگا۔ اور اگر کسی نے لکھ دیا کہ "حکومت نااہل ہے”، تو یہ یقیناً ریاست کے خلاف سازش تصور ہوگا۔یعنی اب عوام کی مرضی کی رائے نہیں چلے گی، صرف حکومت کی پسندیدہ رائے ہی سچ ہوگی۔ اگر سرکاری میڈیا کہے کہ ملک میں سب اچھا ہے، تو آپ کو ماننا پڑے گا۔ اگر حکومتی وزرا بیان دیں کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے، تو آپ کو اپنے خالی ہاتھ اور خالی جیب کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ اور اگر کوئی صحافی یا عام شہری حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے گا، تو وہ ریاست مخالف، ملک دشمن، یا کسی غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والا قرار پائے گا۔

    یہ قانون ایک طرح سے اس خیال کو عملی جامہ پہنا رہا ہے کہ "عوام کو وہی دیکھنا اور سننا چاہیے جو حکومت انہیں دکھانا اور سنوانا چاہتی ہے۔” گویا جمہوریت اب بس ایک دکھاوا ہے، اصل طاقت وہی ہے جو چند طاقتور افراد کے ہاتھ میں ہے۔

    بھکاریوں پر پابندی لگانے کا قانون بھی ایک انوکھا تماشا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر سڑکوں پر بیٹھے فقیر نظر نہیں آئیں گے، تو غربت خودبخود ختم ہو جائے گی۔ بھئی، کوئی ان عقل کے اندھوں کو سمجھائے کہ غربت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے معیشت کو بہتر بنانا پڑتا ہے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے پڑتے ہیں، نہ کہ ان غریبوں کو پولیس کے حوالے کر دینا ہوتا ہے۔

    اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی، تو سب سے پہلے وہ یہ دیکھتی کہ ملک میں لاکھوں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے چوراہوں پر بھیک منگوانے پر مجبور ہیں۔ ان بچوں کے پاس تعلیم، صحت اور روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں، اس لیے وہ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے کوئی پالیسی بنانے کے بجائے حکومت نے آسان راستہ اختیار کیا،بھیک مانگنے پر ہی پابندی لگا دو، مسئلہ خود حل ہو جائے گا!

    یہاں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا واقعی یہ قانون پیشہ ور بھکاریوں کے لیے ہے؟ یا پھر اس کے ذریعے ان لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو حقیقتاً مجبور ہیں؟ پاکستان میں کئی ایسے گروہ موجود ہیں جو بھکاریوں کے نام پر مافیا چلا رہے ہیں، بچوں کو اغوا کر کے ان سے زبردستی بھیک منگوائی جاتی ہے۔ لیکن کیا یہ قانون ان مافیاز کے خلاف استعمال ہوگا؟ یا پھر صرف سڑک کنارے بیٹھے اس بوڑھے شخص کے خلاف، جو دو وقت کی روٹی کے لیے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے؟
    اب اگر ہم یہ دیکھیں کہ ہمارے حکمران عوام کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں، تو ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ جب بات اپنی تنخواہوں اور مراعات بڑھانے کی ہو، تو حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آ جاتی ہے۔ ان کے بل چند منٹوں میں منظور ہو جاتے ہیں، کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ لیکن جب عوام کی فلاح کے لیے کوئی پالیسی بنانے کی بات آتی ہے، تو یہی سیاستدان ایک دوسرے کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں جو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، مگر عوام کو کہتے ہیں کہ صبر کرو، قربانی دو، اور حب الوطنی کا ثبوت دو۔ ان کے اپنے گھروں میں دنیا کی ہر سہولت موجود ہے، ان کے بچوں کے لیے بہترین تعلیمی ادارے ہیں، ان کے علاج کے لیے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن عوام کے لیے نہ صحت کی کوئی سہولت ہے، نہ تعلیم، نہ روزگار۔

    یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے کتوں کے لیے بھی خصوصی خوراک درآمد کرواتے ہیں، لیکن عوام کو روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ جنہیں دو وقت کا کھانا میسر نہیں، انہیں یہ لوگ سمجھاتے ہیں کہ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کم کر دیں۔ سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ غریب ہی کیوں دے؟ حکمران اپنی عیاشیوں میں کمی کیوں نہیں کرتے؟ خیر بات کسی اور طرف چل نکلی ہے۔یہ دونوں قوانین پیکا ایکٹ اور بھکاریوں پر پابندی۔۔۔۔۔۔درحقیقت اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں قوانین بنانے کا مقصد عوام کی زندگی آسان بنانا نہیں، بلکہ ان پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے حکومت نے یہ واضح کر دیا کہ آزادیٔ اظہار صرف طاقتوروں کے لیے ہے، اور بھکاریوں پر پابندی کے قانون کے ذریعے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ غربت کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ غریبوں کو جیل میں ڈال دیا جائے۔

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بھکاریوں پر پابندی لگانی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں غربت کی وجوہات ختم کیے بغیر صرف بھیک مانگنے پر پابندی لگانا سراسر ظلم ہے۔ اور یہی حال پیکا ایکٹ کا ہے۔ اگر حکومت واقعی صحافت اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کو روکنا چاہتی ہے، تو اسے شفاف نظام بنانا ہوگا، نہ کہ ایسا قانون جس سے سچ بولنے والوں کی زبان بندی کی جائے۔

    لیکن ہوگا تو وہی جو "وہ” چاہیں گے۔ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب تک حکمران عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی طاقت کو مزید مضبوط کرنے میں لگے رہیں گے، تب تک یہی صورتحال رہے گی۔ جو سوال کرے گا، وہ مجرم ٹھہرے گا۔ جو بھوکا ہوگا، وہ قید میں جائے گا۔ اور جو حکمران ہوگا، وہ ہمیشہ دودھ اور شہد کی نہروں میں نہاتا رہے گا۔ یہی ہے پاکستان میں قوانین کا تلخ مگر اصل چہرہ ہے…

  • بتی چلی گئی،بتی آگئی،توہاڈا بل کتنا آیا،گیس آرہی یا نہیں،یہ ہیں قوم کے دکھ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    بتی چلی گئی،بتی آگئی،توہاڈا بل کتنا آیا،گیس آرہی یا نہیں،یہ ہیں قوم کے دکھ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    دنیا مریخ پر گھر بنانے میں مصروف،ہمیں خوشامدی لے ڈوبے
    خوشامد کے جراثیم سیاست کا حصہ،سائیکل پر آیا سیاسی کار بنگلے کا مالک بن گیا
    ذرا نہیں پورا سوچئے احکامات خداوندی اور سیرت النبیﷺ پر کتنا عمل ہورہا
    ملکی قرض آسمان پر پہنچ جائے دینا قوم نے ہی ہے،لینے والے ذمہ دار نہیں
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہم وہ بدنصیب قوم ہیں آج تک گیس چلی گئی ،گیس آ گئی ، بجلی چلی گئی ،بجلی آگئی،ہر سو انتشار ہی انتشار ، ذاتی مفادات ،اقربا پروری ، علم اور عمل سے دور،علم اور عمل والوں کی قدر نہیں، خوشامد ایک ایسا ہنر ہے جس سے سب کو کاٹا جا سکتا ہے جو تیز دھار تلواروں سے کٹ سکے،انہیں خوشا مد اور قصیدہ خوانی نے بام عروج پر پہنچا دیا زمانہ ہی خوشامد خوروں کا ہے؟اگرسیاست کی بات کی جائے تو غربت سیاسی گلیاروں میں نہیں ہوتی ، بے روزگاری ،سیاسی گلیاروں میں نہیں دیکھی جا سکتی ، نہ کبھی نظر آئی ، ریاست کے سارے وسائل اس سیاست کی دسترس میں ہوتے ہیں، قرضے جتنے بھی بڑھ جائیں وہ عوام نے اُتارنے ہیں، سیاسی گلیاروں میں دیکھاجائے تو سیاستدانوں کی اکثریت اپنے آپ کو ملائکہ کرام کہلوانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیتی ہے، دنیا بھرمیں جمہوریت ،جمہور کی خدمت ہے ریاستی مفادات میں ہماری جمہوریت ذاتی مفادات،اقربا پروری ،جھوٹ ، فریب ،دھوکے ، خوشامد پر قائم ہے،مفاد پرستی کی سیاست نے اتنے پَر پھیلائے کہ فوج محفوظ نہ عدلیہ،ان حالات میں سیاسی عدم استحکام نہ ہو تو کیا ہو، ایک طرف آئین کھڑا ہے وہ اپنی بے بسی کا رونا رو رہا ہے،معیشت کا حال تو مت پوچھیئے وہ اس وقت کہاں کھڑی ہے خود ساختہ خوشحالی کے قصے اور کہانیاں سنانے والے سنا رہے ہیں،المیہ یہ ہے کہ عوام ان مفادات پرست سیاستدانوں کو مسیحا اور ہیرو مانتی ہے، کل تک 1980 ء میں جن کے پاس موٹر سائیکل اور سائیکل تھی آج اُن کے پوش علاقوں میں محل نما گھر ، پلازے ، مارکیٹیں ، کروڑوں روپے کی گاڑیاں کہاں سے آگئیں ؟سیاسی جماعتوں میں خود ساختہ ا یسے رہنمائوں کو میں جانتا ہوں جن کو اپنا راستہ معلوم نہیں وہ قوم یا اپنے حلقے کےعوام کو کیسے راستہ دکھائیں گے یا رہنمائی کریں گے، کہیں فکر اسلام کی باتیں ہوتی ہیں،لیکن اسلامی مملکت میں احکامات خدا وندی سیرت النبی ؐ پر کتنا عمل کیا جاتا ہے ؟ عدل وانصاف کی بات کی جائے تو آج بھی جسٹس رانا بھگوان داس ،جسٹس کارنولیئس،جسٹس دراب پٹیل کا نام سنہری الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سیاستدانوں اور عوام کو رائٹ مین فار جاب حقیقت پسندی اور اخلاص کے پیمانوں پر شخصیات کو تولہ جائے اور شعبہ ہائے زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ قوم کی تعمیر اور ترقی کا سفر جاری ہو سکے۔

  • "ٹرمپ کی واپسی،امریکی سیاست اور عالمی منظرنامے پر اثرات”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "ٹرمپ کی واپسی،امریکی سیاست اور عالمی منظرنامے پر اثرات”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    دنیا کے سیاسی نقشے پر امریکہ کی اہمیت اور اس کے فیصلوں کی گونج کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسی شخصیت دوبارہ امریکی صدارت کی گدی پر بیٹھتی ہے، تو دنیا کے کئی ملکوں کے سیاسی و معاشی نظاموں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ 20 جنوری 2025 کو ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک نئی داستان لکھی جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان کامیابی اور امن کی ہوگی یا تنازعات اور مشکلات کی؟

    ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی کا بنیادی اصول ان کے معروف نعرے "امریکہ فرسٹ” میں مضمر ہے۔ وہ اپنی مہم میں ہمیشہ یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ امریکہ کو باقی دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں، بلکہ اسے اپنے مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی فلسفے کے تحت انہوں نے 2016 میں صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد کئی عالمی معاہدوں سے امریکہ کو نکال دیا، جن میں پیرس ماحولیاتی معاہدہ اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ شامل تھے۔ یہی فلسفہ ان کے دوسرے دور اقتدار میں بھی غالب نظر آتا ہے۔ ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ وہ امریکہ کی معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدام کریں، چاہے اس سے ماحولیات، انسانی حقوق، یا عالمی تعلقات پر کتنا ہی برا اثر پڑے۔ ان کی پالیسیوں کے مطابق امریکہ کا سب سے بڑا دشمن غیر ملکی مداخلت، امیگریشن، اور صنعتی معیشت پر لگائی گئی قدغنیں ہیں۔ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں ان کی امیگریشن پالیسی نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا اعلان ان کی سب سے متنازع اور پہچانی جانے والی پالیسی تھی۔ یہ دیوار محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں، بلکہ ٹرمپ کی سیاست کا علامتی مظہر تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقریباً دو ہزار میل طویل سرحد پر وہ محض ساڑھے چار سو میل کی دیوار بنا سکے۔ کانگرس اور عدلیہ کی مخالفت نے اس منصوبے کو مکمل طور پر ناکام کر دیا۔ اب دوسرے دور اقتدار میں ٹرمپ اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ساتھ ہی وہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی ماحولیاتی پالیسی کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ صنعتی ترقی کو کسی بھی قیمت پر روکنا نہیں چاہتے۔ پیرس معاہدے سے نکلنے کا ان کا فیصلہ عالمی ماحولیات کے تحفظ کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا تھا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ماحولیات کے حوالے سے عائد کردہ قوانین امریکی معیشت پر غیر ضروری بوجھ ہیں۔ وہ گیس اور تیل کی پیداوار کو بڑھانے اور توانائی کے متبادل ذرائع پر انحصار کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ پالیسی طویل مدت میں امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ بڑھتا ہوا ماحولیاتی بحران اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال عالمی معیشت اور ماحول کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تعلقات کا انداز روایتی سفارت کاری سے بالکل مختلف ہے۔ وہ اقوام متحدہ اور نیٹو جیسے اداروں کو غیر ضروری قرار دے چکے ہیں اور چین، روس، اور ایران جیسے ملکوں کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسی کا ایک بڑا امتحان مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں ہوگا۔ ایران کے ساتھ تعلقات پہلے ہی خراب ہیں، اور ٹرمپ کی پالیسی انہیں مزید بگاڑ سکتی ہے۔ اسی طرح چین کے ساتھ تجارتی جنگ اور روس کے ساتھ تعلقات کی غیر یقینی صورتحال بھی ان کے لیے ایک چیلنج ہے۔

    ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکی معیشت کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔ ان کے دور میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھنے کو ملا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیوں کا طویل مدتی اثر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ٹیکس میں کمی،غیر ضروری اخراجات، اور صنعتی قوانین میں نرمی امریکی معیشت کو عارضی طور پر فائدہ پہنچا سکتے ہیں، لیکن قرضوں کا بوجھ بڑھنے اور اقتصادی عدم توازن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ٹرمپ کی سیاست کا ایک تاریک پہلو ان کا انتقامی رویہ ہے۔ 6 جنوری 2021 کو کانگرس پر حملے کے بعد ان کے حامیوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب ٹرمپ نےان افراد کو معاف کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے نئے قوانین اور احکامات جاری کر سکتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت امریکی جمہوریت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کی پالیسیاں نہ صرف داخلی بلکہ خارجی سطح پر بھی تنازعات کو ہوا دے سکتی ہیں۔ اگرچہ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا طرز حکمرانی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے چار سالوں میں ٹرمپ دنیا میں کتنی بڑی تبدیلی لا سکیں گے، لیکن ایک بات طے ہے کہ ان کا دوسرا دور اقتدار امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے چیلنجز کا باعث بنے گا

  • مریم نواز کا کھیلتا پنجاب پروگرام .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مریم نواز کا کھیلتا پنجاب پروگرام .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کھیلتا پنجاب گیمز 2025 کے ڈویژنل مقابلے جیتنے والے 2200 کھلاڑی لڑکے، لڑکیوں کے لیے مفت ای بائیکس کا اعلان کیا،جوکہ نہایت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو ہارس اینڈ کیٹل شو میں بھی مفت داخلے کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا، "میں پنجاب کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر جیتتے دیکھنا چاہتی ہوں۔” وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیمپئنز کو صرف اپنی کھیلوں کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی اور ملک میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کے لیے شرپسندوں کے ہاتھوں گمراہ نہیں ہونا چاہیے، اگر کوئی آپ سے ملک میں انتشار پھیلانے کا کہے تو نوجوان توجہ نہ دیں۔ اگر کوئی آپ سے رینجرز کو مارنے، میٹرو بس کو جلانے، پیٹرول بم پھینکنے کے لیے کہے، تو آپ کو صاف صاف انکار کر دینا چاہیے۔ صرف تعلیم حاصل کریں تاکہ ترقی کریں۔اس راست پر چلانے والے آپ کے دوست ہیں، جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور آپ کو اپنا حصہ بننے پر آمادہ کرتے ہیں وہ آپ کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی آپ کو اپنے ملک کو آگ لگانے پر اکساتا ہے، اداروں پر حملہ کرنے کا کہتا ہے وہ آپ کا سب سے بڑا دشمن ہے، صرف پاکستان کو سب کی ‘ریڈ لائن’ ہونا چاہیے، وطن عزیز کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی اور صرف ترقی ہوگی۔ انشاالله

    کھیلوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرتے دیکھنا ان کا خواب ہے۔ حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کو مفت ای بائیکس فراہم کرنا ایک ایسا عملی اقدام ہے جو نوجوانوں کو نقل و حرکت میں آسانی فراہم کرے گا اور انہیں اپنے کھیل پر زیادہ توجہ دینے میں مدد دے گا۔مریم نواز نے یہ بھی اعلان کیا کہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو ہارس اینڈ کیٹل شو میں مفت داخلے کی سہولت دی جائے گی۔ اس سے نہ صرف ان کھلاڑیوں کی عزت افزائی ہوگی بلکہ انہیں مزید مواقع ملیں گے تاکہ وہ معاشرتی اور ثقافتی سرگرمیوں کا حصہ بن سکیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے نوجوانوں کو واضح پیغام دیا کہ وہ صرف اپنی تعلیم اور کھیلوں پر توجہ دیں اور کسی بھی ایسے عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں جو انہیں ملک میں انتشار اور بدامنی کی طرف لے جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک تاریخی اعلان کیا ہے۔

    "کھیلتا پنجاب گیمز 2025” کے ڈویژنل مقابلے جیتنے والے 2200 کھلاڑیوں کے لیے مفت ای بائیکس دینے کا فیصلہ ایک ایسا اقدام ہے جو نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرے گا اور انہیں مزید محنت کرنے کی ترغیب دے گا۔کھیلوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرتے دیکھنا ان کا خواب ہے۔ حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کو مفت ای بائیکس فراہم کرنا ایک ایسا عملی اقدام ہے جو نوجوانوں کو نقل و حرکت میں آسانی فراہم کرے گا اور انہیں اپنے کھیل پر زیادہ توجہ دینے میں مدد دے گا۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کر چکی ہیں۔

    مفت ای بائیکس کی فراہمی، کھیلوں کے لیے اضافی بجٹ اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کا پیغام—یہ تمام فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنجاب حکومت نوجوان نسل کو ایک روشن اور محفوظ مستقبل فراہم کرنا چاہتی ہے۔یہ اقدامات نہ صرف کھیلوں کو فروغ دیں گے بلکہ نوجوانوں میں حب الوطنی اور مثبت سوچ کو بھی پروان چڑھائیں گے، جو ایک ترقی یافتہ اور مستحکم پاکستان کی جانب اہم قدم ہے۔۔”یہ پیغام نوجوانوں کو ایک صاف اور مثبت راہ دکھانے کے لیے دیا گیا ہے، تاکہ وہ اپنی توانائیاں منفی سرگرمیوں میں ضائع کرنے کے بجائے اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔یہ تمام فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنجاب حکومت نوجوان نسل کو ایک روشن اور محفوظ مستقبل فراہم کرنا چاہتی ہے۔یہ اقدامات نہ صرف کھیلوں کو فروغ دیں گے بلکہ نوجوانوں میں حب الوطنی اور مثبت سوچ کو بھی پروان چڑھائیں گے، جو ایک ترقی یافتہ اور مستحکم پاکستان کی جانب اہم قدم ہے۔

  • پیکا ترمیمی ایکٹ ،صحافی برادری سڑکوں پر،تحریر: جان محمد رمضان

    پیکا ترمیمی ایکٹ ،صحافی برادری سڑکوں پر،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان میں حالیہ دنوں میں حکومت نے پیکا ترمیمی ایکٹ میں تبدیلیوں کی منظوری دی، جس کے بعد صحافیوں اور میڈیا تنظیموں نے اس پر شدید اعتراض کیا۔ اس قانون کی منظوری کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا۔ اس احتجاج کا مقصد حکومت کے اس اقدام کو مسترد کرنا تھا، جو صحافتی آزادی اور اظہار رائے کے حق پر ضرب لگانے کے مترادف قرار دیا جا رہا تھا۔ پیکا ایکٹ کا مقصد سائبر کرائمز اور آن لائن جرائم کے خلاف اقدامات کیے جا سکیں۔ اس کے تحت سوشل میڈیا اور دیگر الیکٹرانک ذرائع پر کسی بھی قسم کے ہتک عزت، جھوٹے مواد یا ریاستی اداروں کی بدنامی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس قانون میں حالیہ ترمیمیں مزید سخت اور وسیع کی گئی ہیں، جس کے باعث صحافتی حلقوں میں اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی اپیل پر، مختلف صحافتی تنظیموں نے جمعہ کو یوم سیاہ کے طور منایا۔ اس دن کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، سکھر، کندھکوٹ، جیکب آباد اور دیگر بڑے شہر شامل تھے۔ صحافتی تنظیموں کے نمائندگان اور میڈیا کارکنان اس احتجاج کا حصہ بنے اور اس قانون کی مخالفت کی۔اسلام آباد میں یوم سیاہ کے سلسلے میں نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر صحافیوں نے سیاہ پرچم لہرائے اور پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس احتجاج میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے نمائندگان، آر آئی یو جے (اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس)، اور دیگر صحافتی تنظیموں کے افراد نے شرکت کی۔ نیشنل پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرا کر اس احتجاج کا اظہار کیا گیا۔لاہور پریس کلب میں بھی یوم سیاہ کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل ،صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے قیادت کی، اس احتجاج میں سی پی این ای، پی بی اے، ایمنڈ، اے پی این ایس، پی یوجے، لاہور پریس کلب، پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی اور دیگر صحافتی تنظیموں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ارشد انصاری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ترمیمی ایکٹ ایک کالا قانون ہے جو صحافتی آزادی کو چھیننے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس قانون کے پیچھے حکومت کے غیر جمہوری اقدامات کو بے نقاب کیا اور اس پر زور دیا کہ حکومت اس قانون کو واپس لے۔ اس قانون کے ذریعے حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پیکا ترمیمی ایکٹ میں کی گئی تبدیلیوں پر صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون صحافیوں کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق، یہ قانون آزادی اظہار رائے اور صحافت کے حق کو متاثر کرتا ہے۔ صحافیوں کا ماننا ہے کہ یہ قانون سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، جو کہ ایک جمہوری معاشرت کے لیے خطرناک ہے۔اس قانون کے ذریعے حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف میڈیا کی آزادی متاثر ہوگی بلکہ عوام کی آواز بھی خاموش کر دی جائے گی۔

    یوم سیاہ کے اس احتجاجی مظاہرے کے بعد صحافی تنظیموں نے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ وہ اس متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو واپس لے اور صحافت کی آزادی کو یقینی بنائے۔ صحافتی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ آزادی اظہار رائے اور صحافت کی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرت کا بنیادی ستون ہے، جسے ہر صورت میں محفوظ رکھا جانا چاہیے۔پیکا ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے خلاف صحافیوں کا احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں صحافتی آزادی کو لے کر ایک سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے۔ حکومت کے اس متنازعہ اقدام کے خلاف صحافتی تنظیموں کی جدوجہد اب ایک بڑے قومی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کا اثر نہ صرف صحافیوں پر پڑے گا بلکہ پورے ملک میں جمہوریت اور آزادی اظہار پر بھی اس کے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔صحافتی تنظیمیں اپنے احتجاج کو مزید بڑھا کر حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں تاکہ اس قانون کو واپس لیا جائے اور میڈیا کی آزادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ پاکستان کے عوام، خاص طور پر میڈیا کارکنان، اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے ایک ہو چکے ہیں اور اس جدوجہد میں ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں

    jaan

  • پیکاایکٹ، کیا آزادی صحافت کو دبانے کی کوشش ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پیکاایکٹ، کیا آزادی صحافت کو دبانے کی کوشش ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پیکا او پیکا تیری کون سی کل سیدھی۔ پارلیمنٹ ہائوس میں جمہوریت کے علمبرداروں نے مشترکہ طور پر پہلے قومی اسمبلی ،پھر سینٹ میں ایک قانون پاس کرکے صدر ہائوس بھجوایا۔ اب وہ قانون بن گیا ۔ ملک بھر کے صحافی سراپا احتجاج ہیں۔ التجا ہی کی جا سکتی ہے کہ لکھنے والے اور بولنے والوں کو نہ ستائیں ۔ ہر صحافی فروخت کنندہ نہیں۔ گو کہ صحافیوں کی صفوں میں بھی ایسی مخلوق داخل ہو چکی ہے جو قومی فریضہ سے کوسوں دور ہیں۔ا یسے لوگوں کی اکثریت سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے۔جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے۔ میڈیا کاکوئی فرد جب وہ جانبدار بن گیا تو وہ ختم ہو گیا، یعنی اس نے اپنی حیثیت اور وقار کو ختم کردیا ۔ میڈیا کی آزادی کے لئے ماضی میں بڑی قربانیاں دی گئی ہیں ۔ماضی میں قومی مسائل اور تحریکوں میں میڈیا کا کردار بہت اہم رہاہے۔ لیکن جب پیسہ بولنے اور لکھنے لگتا ہے تو پھر سوالیہ نشان میڈیا پر آتا ہے۔ آج میڈیا کو لکھنے اور بولنے کی آزادی ہے ۔

    قربانیو ں کی لمبی کہانی ہے ایک ا یسا وقت بھی آیا ان پر کوڑے برسائے گئے۔ جیلوں میں بند کردیا گیا۔ اظہار رائے کی آج جو آزادی ہے اس کا کریڈٹ ماضی کے اُن صحافیوں کو جاتا ہے جنہوں نے قربانیاں دیں۔ اُن صحافیوں کی ایک لمبی کہانی ہے ۔ پیکا قانون بنانے والوں کو یاد رکھنا چاہیئے میڈیا آپ کا اُس وقت تک کچھ بگاڑ نہیں سکتا جب تک آپ خود اپنے بگاڑ پر آمادہ نہ ہوں۔یہ بھی حقیقت ہے صحافت کا گلہ دبانے والے خود اپنے پھندے تیار کررہے ہوتے ہیں۔

    نئے امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کی طرف سے آنے والے دنوں میں بھارت کے لئے اچھی خبریں نہیں ہیں ۔ روسی صدرپیوٹن جو برکس کی میٹنگ بلائی تھی اس میں بھارت بھی شامل تھا۔ اُ س میٹنگ کا مطلب امریکہ کو ایشیا سے باہر نکالنا تھا یعنی ڈالر کو ختم کیا جائے ۔ روس کو کامیابی تو حاصل نہ ہوسکی تاہم مودی کی لومڑی کی چال امریکہ اور خاص طور پر ٹرمپ یہ جان چکے ہیں کہ مودی امریکہ اور یورپ کو روس کے ساتھ مل کر کمزورکرنے میں شامل رہا۔ ٹرمپ کے آنے سے امریکہ کو ایشیا سے دورکرنے والا روس خود دور جاتے دکھائی دینے لگا ہے۔ چین نارتھ کوریا کا حال دیکھ کر امریکہ کے خلاف کسی بھی سازش میں جانے کا ارادہ نہیں کرے گا۔ افغانستان اور ایران کو لے کر پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔ ویسے بھی سعودی عرب امریکہ میں ٹرمپ کے کہنے پر 6 سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مستحکم تعلقات ہیں۔ صدر ٹرمپ لاطینی امریکہ یورپ اور مشرق وسطٰی کے نقشوں میں تبدیلی کرکے دنیا کو چونکا دے گا۔ صدر ٹرمپ صدارتی کرسی پر بیٹھ کر گھوم گھوم کر فائلیں دیکھ رہے ہیں۔ اور امریکہ فسٹ اور امریکہ گریٹ بنانے کا نعرہ لگا رہے ہیں

  • دوسروں کیلئے بنایا گیا پھندہ، اپنے ہی گلے میں آگیا

    دوسروں کیلئے بنایا گیا پھندہ، اپنے ہی گلے میں آگیا

    دوسروں کیلئے بنایا گیا پھندہ، اپنے ہی گلے میں آگیا
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں حالیہ تبدیلیوں نے ایک نئی سمت اختیار کرلی ہے اور ایک طرف جہاں سیاسی استحکام کی علامات دکھائی دے رہی ہیں تو وہیں دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اور اس کی قیادت کی سیاسی مشکلات اور چیلنجز میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آ رہا ہے کہ وہ پھندہ جو کبھی پی ٹی آئی نے حکومت میں ہوتے ہوئے سیاسی مخالفین کے لیے تیار کیا تھا اوروہی پھندہ اب پی ٹی آئی اور اس کے بانی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

    اس وقت جب پاکستانی معیشت کے بارے میں مثبت خبریں آ رہی ہیں اور امریکی سرمایہ کاروں کے ایک وفدنے پاکستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے تو یہ ایک ایسا موقع ہے جس کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران جینٹری بیچ کی قیادت میں امریکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں مصنوعی ذہانت، توانائی، معدنیات اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔

    جینٹری بیچ نے اس بات کو واضح کیا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت اور نئی امریکی انتظامیہ کی سوچ میں ہم آہنگی ہے اور پاکستان میں امریکہ کی سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نئی سیاسی حقیقت کا مظہر ہے۔یہ تبدیلی نہ صرف اقتصادی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس نے پاکستانی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے امریکی انتخابات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے بہت سی سیاسی توقعات وابستہ کی تھیں، لیکن جینٹری بیچ کے اس دورے نے ان تمام امیدوں کو ختم کر دیا ہے .

    امریکہ کے اس نئے رخ سے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھل جائیں گی ۔ لیکن شہبازشریف کی حکومت سے ٹرمپ انتظامیہ کے روابط سے پاکستان تحریک انصاف کے لیے یہ ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔پی ٹی آئی کی قیادت اس وقت ایک دائرے میں پھنس چکی ہے جہاں اس کے لیے دو آپشن ہیں، دونوں ہی سیاسی طور پربہت مشکل ہیں۔ اگر وہ حکومت کے ساتھ کسی معاہدے یا ڈیل کی طرف بڑھتے ہیں تو اس کا نتیجہ سیاسی موت کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر وہ ڈیل سے انکار کرتے ہیں توعمران خان اور ان کی اہلیہ کو طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ وہ پھندا ہے جو پی ٹی آئی نے اپنے مخالفین کے لیے تیار کیا تھا اور اب یہ ان کے اپنے گلے میں آچکا ہے کیونکہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیچیدگیاں آ چکی ہیں اور مذاکرات تقریباََ ختم ہوچکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن نہ بنائے جانے پر مذاکراتی عمل ختم کرنے کا اعلان کر دیا، منگل کے روز حکومتی مذاکراتی ٹیم انتظار کرتی رہی مگر پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نہ پہنچے۔ پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کی بجائے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور گرینڈ الائنس بنانے پر مشاورت شروع کی۔لیکن اس کے باوجود یہ صورتحال پی ٹی آئی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

    یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی انتشاری سیاست جو ہمیشہ مخالفین کو دبا ئومیں رکھنے اور اپنی حکومت کی طاقت دکھانے کے لیے استعمال کی گئی، اب وہی سیاست عمران خان اور ان کی جماعت کے لیے ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔ دوسروں کے لیے بنایا گیا پھندہ اب ان کے اپنے گلے میں آچکا ہے اور ان کے سامنے ایک سنگین سیاسی بحران ہے۔ یہ وہ پھندہ ہے جو انہوں نے اپنے مخالفین کے لیے تیار کیا تھا، لیکن اب یہ ان کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا ثابت ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورتحال میں عمران خان اور ان کی جماعت کو اپنی سابقہ حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ اگر وہ اسی روش پر چلتے ہیں تو ان کے لیے مشکلات اور چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگا اور اگر وہ مذاکرات یا معاہدے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، تو ان کے لیے سیاسی موت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ ان کے لیے یہ وقت ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، جہاں ان کی سیاست کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے اور یہ وقت ہی بتائے گا کہ وہ اس پھندے سے کیسے نکلتے ہیں اور اپنے سیاسی وجود کو کس طرح بچاتے ہیں۔

  • "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن’.تحریر اعجازالحق عثمانی

    "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن’.تحریر اعجازالحق عثمانی

    پاکستانی سیاست میں جو نظر آتا ہے، وہ حقیقت نہیں ہوتی، اور جو حقیقت ہوتی ہے، وہ نظر نہیں آتی۔ آج کل ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بازی عشق کی بازی ہے، جو ہارے گا، وہ جیتے گا، اور جو جیتے گا، وہ ہارے گا۔
    عمران خان جیل میں ہیں، ان کی جماعت کٹی پھٹی حالت میں ہے، عدالتوں میں مقدمے، پارٹی میں بغاوتیں، اور مخالفین کا دباؤ۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی وہ ملکی سیاست کے سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔ سیاسی میدان میں سب سے زیادہ اسکور اس وقت بھی ان کے بیانیے کا ہی ہے۔چاہے عدالتوں کے فیصلے ان کے خلاف آئیں، چاہے پارٹی پر پابندیاں لگیں، عوام کے دلوں میں ان کی جگہ اب بھی قائم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی اس مقبولیت کو بچا پائیں گے؟ یا پھر اس کہانی کا انجام وہی ہوگا، جو اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے؟
    دوسری طرف، وہی پرانا کھیل جاری ہے۔ مذاکرات کی خبریں گرم ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بات چیت ہو رہی ہے، کوئی درمیانی راستہ نکالا جا رہا ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ حکومت محض ایک مہرہ ہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوگا۔ جنہیں مذاکرات کرنا ہیں، وہ ٹیبل پر نہیں بیٹھے، اور جو بیٹھے ہیں، وہ اصل فیصلے کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سب کچھ طے شدہ ہے، بس اسکرپٹ پر عمل ہو رہا ہے۔ اور سنا ہے رائیٹر اب سکرپٹ بدلنے لگا ہے۔

    عمران خان جانتے ہیں کہ اگر وہ جیل سے باہر آتے ہیں تو عوام یہ سمجھے گی، کہ یہ کسی معاہدے کا نتیجہ ہے، تو ان کا سارا بیانیہ برباد ہو جائے گا۔ وہ اب تک ایک مزاحمت کار، ایک نظریاتی لیڈر، اور "حقیقی آزادی” کی علامت بن چکے ہیں۔ لیکن اگر یہی شخص ایک دن خاموشی سے باہر آتا ہے، کیسز ختم ہو جاتے ہیں، اور سیاست میں نرمی آ جاتی ہے، تو کیا یہ سب اتفاق ہوگا؟ نہیں! یہ وہی سیاست ہوگی، جو سالہا سال سے چل رہی ہے۔

    لیکن کھیل صرف عمران خان کے گرد نہیں گھوم رہا۔ اسٹیبلشمنٹ بھی ایک امتحان میں ہے۔ اگر عمران خان کو مکمل دیوار سے لگا دیا جاتا ہے، تو ملک میں بے چینی بڑھے گی۔ اگر انہیں کھلی آزادی دی جاتی ہے، تو وہ پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھریں گے۔ اس صورتحال میں درمیانی راستہ نکالنا سب سے ضروری مگر ایک مشکل کام ہے۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ عمران خان باہر بھی آ جائیں، لیکن یہ تاثر بھی نہ جائے کہ وہ جیت گئے ہیں۔ دوسری طرف، عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ وہ باہر آئیں، لیکن ایسا نہ لگے کہ وہ کسی ڈیل کے تحت آئے ہیں۔
    یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اور طاقت کا اصل کھیل شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کچھ فیصلے پس پردہ کیے جاتے ہیں، اور عوام کو ایک اور کہانی سنا دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بار یہ کہانی کس کے حق میں لکھی جائے گی؟ کیا عمران خان ایک نئے انداز میں سیاست میں واپسی کریں گے؟ یا یہ ایک اور سبق ہوگا، جو پاکستانی سیاست کی کتاب میں شامل کر دیا جائے گا؟

    یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر واقعی ایک "سیاسی مفاہمت” ہونے جا رہی ہے، تو اس کے پیچھے محرکات کیا ہیں؟ کیا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے؟ یا پھر پس پردہ کوئی ایسا دباؤ ہے جو ان دونوں کو دوبارہ کسی نہ کسی شکل میں اکٹھا کر رہا ہے؟ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ عمران خان کو دیوار سے لگانے کی حکمتِ عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ عوام کا ردعمل، عدالتی فیصلے، اور بین الاقوامی دباؤ، سب نے مل کر ایک ایسی فضا بنا دی ہے جہاں عمران خان کو سیاست سے مکمل طور پر بے دخل کرنا ممکن نہیں رہا۔ دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ یہ بھی نہیں چاہتی کہ عمران خان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئیں۔

    عمران خان کی سیاست میں ایک چیز واضح ہے کہ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں، لیکن ان کی مقبولیت ان کی حکمتِ عملی کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ اگر وہ اپنے حامیوں کو یہ یقین دلا پاتے ہیں کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے باہر آئے ہیں، تو ان کی سیاست مزید مضبوط ہو گی۔ لیکن اگر عوام کو ذرا سا بھی یہ تاثر گیا کہ عمران خان نے کسی ڈیل کے نتیجے میں اپنی مشکلات کم کی ہیں، تو ان کے لیے اپنی موجودہ مقبولیت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وہ توازن ہے جسے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی یہ ایک نازک موڑ ہے۔ اگر عمران خان بغیر کسی واضح سمجھوتے کے باہر آتے ہیں، تو ان کا بیانیہ مزید مضبوط ہو گا۔ لیکن اگر انہیں کسی شرط کے ساتھ ریلیف دیا جاتا ہے، تو عوام میں یہ تاثر جائے گا کہ یہ بھی وہی پرانی سیاسی بساط ہے، جہاں سب آخر میں ایک ہی میز پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پس پردہ بہت کچھ چل رہا ہے، اور عوام کو صرف اتنا دکھایا جا رہا ہے جتنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر عمران خان واقعی باہر آ جاتے ہیں، تو کیا وہ دوبارہ اُسی انداز میں سیاست کر سکیں گے؟ یا پھر ان کے لیے ایسے حالات بنا دیے جائیں گے جہاں وہ محدود ہو کر رہ جائیں؟ کیا ان کی جماعت کو مکمل طور پر بحال ہونے دیا جائے گا؟ کیا انہیں الیکشن میں آزادانہ حصہ لینے دیا جائے گا؟ یا پھر وہ ایک کنٹرولڈ سیاست کا حصہ بننے پر مجبور ہو جائیں گے؟ یہ تمام سوالات اس وقت پاکستانی سیاست کے گرد گھوم رہے ہیں، لیکن ان کے جوابات آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔

    کھیل جاری ہے، اسکرپٹ پر کام ہو رہا ہے، کردار اپنے اپنے ڈائیلاگ یاد کر رہے ہیں۔ بس پردہ اٹھنے کی دیر ہے، دیکھتے ہیں کہ اس بار پردے پر کون ہیرو بن کر آتا ہے