Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)
    ملک کی سیاسی جماعتوں کے ووٹرز پرامید ہیں کہ ان کی جماعتوں کے قائد وزیراعظم بنیں گے۔ انتخابات سے قبل بے لگام قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کو صرف وزیراعظم نہیں بلکہ ایسا وزیراعظم اور اس کے ساتھ ایسی ٹیم چاہئے جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور اس کی عوام کی نمائندگی کر سکے۔ جو ملک کو درپیش مسائل کا خاتمہ کر سکے بالخصوص ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کر سکے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت تادم تحریر بتانے سے قاصر ہے کہ وہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف سے کیسے نجات دلائے گی۔

    پاکستان بطور ریاست اور عوام معیشت کی وجہ سے مشکلات میں گھری ہے۔ تاہم سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے اندھا دھند بیانات سامنے آرہے ہیں۔ بہت ہو چکا ماضی کی غلطیوں اور غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ دنیا کا مقابلہ کرنے کےلئے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اسکولوں میں پانچویں جماعت سے ہی طلبا کو کمپیوٹر پر تعلیم دی جائے بچوں کو اسلام کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے زراعت پر بھرپور توجہ دی جائے۔ ملکی وسائل پر صدق دل سے توجہ دی جائے۔ حدیث نبوی ؐ ہے لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ ہم من حیث القوم اپنے لوگوں کے ساتھ دو نمبری کرتے ہیں دنیا کو کیا فائدہ پہنچائیں گے؟ انسانوں کی جان بچانے والی ادویات میں ملاوٹ، خوراک میں ملاوٹ، جعلی ڈاکٹرز، جعلی حکیم، ملک کے مستقبل بچوں کو جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ، غیب کا علم صرف خدا پاک کو ہے ہمارے معاشرے میں غیب کا علم گلی محلوں اور گلیوں میں بتانے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ سامری جادوگر کا قصہ قرآن پاک میں موجود ہے ہمارے ہاں کئی سامری جادوگر پائے جاتے ہیں۔ جو لوگوں کو گمراہ کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    دنیا میں رہ کر اگر ترقی کرنی ہے تو یہ فطرت کا قانون ہے کوئی بھی فرد، قوم یا ملک جو قانون کی پابندی نہیں کرتا وہ زندگی میں کبھی ترقی نہیں کر سکتا جن کو ہم صبح و شام گالیاں اور بددعائیں دیتے ہیں انہوں نے رب زدنی علما پر عمل کر کے ہمیں موبائل فون، کمپیوٹر، کیمرا، ایٹمی ہتھیار، ادویات، گوگل، فیس بک اور نہ جانے کیا کیا دیا ۔ سوچئے ہم نے رب زدنی علما پر عمل کیا؟ تعلیمی نظام میں انقلاب لانے کے لئے ماہرین تعلیم کو سیکرٹری اور وزیرتعلیم لگانا ہوگا محکمہ صحت کو جدید اور عوام کے درد شناس بنانے کے لئے اعلیٰ کارکردگی کے حامل ماہرین صحت کو وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کی ذمہ داریاں دینا ہوں گی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ اقوام کی روش پر چلنے کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی ہی کے ماہرین پر محکمانہ قیادت قائم کرنا ہوگی ورنہ ہم ترقی کے سفر میں پے در پے پستی کا شکار ہوتے رہیں گے۔

  • ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    2024 انتخابات کا سال ہے۔ انتخابات کی تاریخ نزدیک آرہی ہے سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین کی شدید دھند اور شدیدسردی میں گرجدار آوازیں سنائی دیر ہی ہیں۔ ا پنے ووٹروں کو شدید سردی کے موسم میں گرمارہی ہیں۔ عوام کے مقدرمیں سردیوں میں گیس نایاب ہے ۔ اس لئے اپنی آوازوں سے ان کو گرما رہے ہیں۔ گونگی اور بہری عوام ان سے سوال کرنے سے قاصر ہے کہ سردی میں گیس اور گرمی میں لوڈ شیڈنگ کیوں ہوتی ہے اور اس کا ذمہ دارن کون ہے ؟ملکی سیاسی جماعتوں میں اضافہ بھی ہوا ہے ۔ نئی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ہمنوا اقتدار ، اختیارات کے مزے لوٹ چکے ہیں۔ ملک کے طول وعرض میں پھیلے گدی نشین اپنی اپنی پسندیدہ جماعت کے لئے اپنے مریدوں کو ووٹ دینے کی تاکید رہے ہیں۔ ان گدی نشین افراد کو کون سمجھائے کے ان کے آباو اجداد نے خدا اور رسول کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی تبلیغ کی تھی نہ کے سیاسی پنڈتوں کے ساتھ چل کر سیاسی تبلیغ ،

    آج ان گدی نشینوں کے سامنے ملاوٹ شدہ خوراک ۔ ملاوٹ شدہ ادویات جس کے بارے میں آپﷺ کا فرمان ہے جوملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں کاش یہ موجودہ گدی نشین اس ایک حدیث مبارکہ پر عمل کرواتے ۔

    بلاول بھٹو پیپلزپارٹی میں نئی رو ح پھونکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جبکہ میاں محمد نواز شریف زیرک مدبر اور سیاسی دائو پیچ کے ماہرسیاستدان ہیں۔پی ٹی آئی کے قائد اس وقت جیل میں ہیں وہ کب تک جیل میں رہیں گے یہ قانونی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ماضی کو یاد کرکے وقت ضائع نہ کریں ۔ پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ دیں ۔ عوام کو محض الزام تراشیوں کی سیاست اور نرگسی جھانسوں سے تسلی دینے کی بجائے حقیقی تعمیراتی سیاست کریں ۔ ملک بنیادی طورپر ایک مقروض ملک ہے اور معاشی طور پر خود مختار نہیں ہے ایسی پالیسیاں بنائیں ملک معاشی مستحکم ہو۔ بلوچستان کی محرومی کا رونا ہر دور میں رویا گیا ۔ اب ترقی کی جانب بلوچستان گامزن ہے غور طلب بات ہے کہ اس ترقی کو روکنے والے کونسے عناصر ہیں؟ چین اکنامک کو ریڈور کے راستے میں کون رکاوٹ بن رہا ہے یہ بلوچی بھائیوں کے لئے خوشحالی کے دروازے کھولے گا۔ شرپسند عناصر سے ڈرانے کی فرصت نہیں کچھ شرپسند بلوچستان کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ ہوس زر اور ہو س اقتدار کے سرکش گھوڑے پر سواروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

  • آرمی چیف کا دورہ امریکہ انتہائی اہم،تجزیہ، شہزاد قریشی

    آرمی چیف کا دورہ امریکہ انتہائی اہم،تجزیہ، شہزاد قریشی

    امریکہ سمیت چین، عرب ممالک کے اپنے اپنے مفادات ہیں ۔پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کو حمایت اس وقت حاصل نہیں ہے ۔بالخصوص لاڈلے کا الزام لگانے والوں کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ میاں محمد نوازشریف کو بھی نہ ہی امریکہ اور نہ ہی کسی دوسری عالمی طاقت کی حمایت ہے اس کو سیاسی پروپیگنڈہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ عوام کے لئے عرض ہے کہ دنیا میں اس وقت جنگی بادل چھائے ہیں روس اور یوکرائن کی جنگ اسرائیل اور حماس کی جنگ غزہ جل رہا ہے۔ روس اور یوکرائن جنگ کے اثرات یورپی معیشت پر پڑے ہیں۔ امریکہ اس وقت خود کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے۔

    چین کا بڑھتا اثر و رسوخ روس کے صدر کا عرب ممالک کا دورہ اور دیگر عالمی سیاسی اتار چڑھاؤ۔ اس جنگی ماحول میں عالمی دنیا کی توجہ معیشت پر ہے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پاک فوج ملکی سلامتی کے ساتھ معیشت کو مستحکم کرنے کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ ملک کی دو طاقتور شخصیات چیف آف آرمی سٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا دورہ امریکہ انتہائی اہم قرار دیا جاسکتاہے، مسئلہ کشمیر اور غزہ جنگ پر بات چیت سمیت معاشی حالت کو مستحکم کرنے کے لئے دونوں شخصیات نے اہم کردار ادا کیا ہے، اس سے قبل خلیجی ممالک نے بھی آرمی چیف کی اکنامک ڈپلومیسی کی وجہ سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے کا یقین دلایا۔

    امریکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور پھر آئی ایم ایف سے کاروباری تعلقات میں پاکستان کو امریکہ کے تعاون کی ضرورت بھی رہتی ہے تاہم آرمی چیف کی ان کوششوں سے پاکستان معاشی گرداب سے نکلتا نظر آرہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان سے تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری پر بات چیت کی ہے سچ تو یہ ہے اس وقت پاکستان کی عزت پاک فوج نے ہی بچا کر رکھی ہے عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار کو بحال کرنے میں پاک فوج کا کردار صاف نظر آتا ہے سیاسی جماعتوں کے کردار صبح شام ایک دوسرے کو غدار، افواہ سازی ، اقتدار اختیارات کے کھیل نے ان کے کردار کو مشکوک بنا دیا ہے۔ جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔
    shehad qureshi

  • آٹھ فروری، پاکستانی قوم کا بھی امتحان، تجزیہ، شہزاد قریشی

    آٹھ فروری، پاکستانی قوم کا بھی امتحان، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    الیکشن سے قبل بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ملک کا مسئلہ اس وقت یہ نہیں ہے کہ کون بنے گا وزیراعظم؟ ملک کے بہت سے مسائل میں بڑا مسئلہ معیشت اور خارجہ پالیسی کا ہے۔ معیشت مستحکم ہوگی تو ملک اور عوام کے بنیادی مسائل کا خاتمہ ہوگا۔ معیشت مستحکم ہوگی تو ملک اور عوام کے بنیادی مسائل کا خاتمہ ہوگا۔ سیاست کے شطرنج کی بساط بچھ چکی ہے سیاست کوئی تفریحی کھیل نہیں ہے۔ آج کی دنیا ترقی کی منازل طے کر رہی ہے آج ملک جس دہانے پر آکر کھڑا ہو گیا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ معیشت ہماری مستحکم نہیں خارجہ پالیسی کی کیا سمت ہے اس کی ہمیں خبر نہیں۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں ملک اور عوام کی تقدیر بدلنے کانعرہ لگا رہی ہیں۔
    بقول شاعر
    بدلنا ہے تو رندوں سے کہو اپنا چلن بدلیں
    ساقی بدلا دینے سے میخانہ نہ بدلے گ
    ا
    جمہوریت کے گلیاروں میں جاری ہلڑ بازی اور افراتفری، جاگیرداری ، سرمایہ کاری، گدی نشینوں کی پیداوار، سیاستدانوں کے کردار اور تفسیات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ نودولتیوں اور نوزائیدہ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی حقیقت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ان کی گفتگو اور حرکات و سکنات سب کچھ عیاں کر رہی ہے بلکہ انسانوں کو تعفن زدہ کر رہی ہے اس ماحول اور اس تعفن زدہ سیاست میں ملک و قوم کیونکر ترقی کرے اور کیسے کرے؟ نوراکشتیوں کا بازار گرم ہے جس ملک کی سیاست فنانسروں کی تابع ہو جائے وہ سیاستدان اپنے آپ کو بھی اور ملک و قوم کو بھی دھوکا دے رہا ہے۔ عوام پر 8 فروری ووٹ کے دن فرض ہے کہ وہ ایسی قیادت اور ایسی سیاسی جماعت کا چنائو کریں جو ملکی اور قومی مفادات کو اولیت دے۔ یاد رکھیئے ! پاکستان کی شناخت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے مزید اس کی گنجائش نہیں ہے۔ عوام ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو ملکی اور قومی مفادات کو اولین ترجیح دے۔ نہ لینڈ مافیا سے ،ان کی ہائوسنگ سوسائٹیوں سے اپنے محلات فارم ہائوس تعمیر کروائے اور ٹھیکیداروں سے کمیشن وصول کرے ۔ملک کو اس وقت اپنی معیشت مستحکم اور تعمیر و مضبوطی کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ بیرونی ممالک کی سرمایہ کاری اور دوست ممالک اور دیگر خیرخواہوں کے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام بخوبی آگاہ ہیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں ترقی کے سفر کو پورا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

  • شاہد خاقان عباسی  مریم نواز سے اختلافات کے باعث مستعفی

    شاہد خاقان عباسی مریم نواز سے اختلافات کے باعث مستعفی

    پاکستان مسلم لیگ ن کی اہم شخصیت شاہد خاقان عباسی نے پارٹی کے سینئر نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ شاہد خاقا عباسی نے اپنے فیصلے کا اظہارن لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے لیے "کھلا میدان” فراہم کرنے کے اقدام کے طور پر کیا ہے۔ اپنےعہدے سے سبکدوش ہونے کے باوجود، شاہد خاقان عباسی نے Reimagining Pakistan کے پلیٹ فارم کے ذریعے ملک کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    جیسا کہ یکم فروری 2023 کو دی نیوز نے رپورٹ کیا، شاہد خاقان عباسی نے تقریباً تین سال قبل کہا تھا کہ اگر مریم نواز پارٹی کے اعلیٰ عہدے پر چلی جاتی ہیں تو ان کے لیے اپنی وابستگی جاری رکھنا ناقابل برداشت ہو گا۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ Reimagining فورم کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، انہوں نے ناقدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے مقاصد کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کے بجائے فورم کے ساتھ تعاون کریں۔شاہد خاقان عباسی نے قوم کو درپیش پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے کہا، "ہم لوگوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے راستہ تلاش کریں۔”

    سماء نیوز کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے تصدیق کی کہ مریم کی تقرری کے وقت انہوں نے اپنا استعفیٰ اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کر دیا تھا۔ انہوں نے مایوسی کا اظہار کیا کہ پارٹی نے باضابطہ اعلان نہیں کیا جیسا کہ ان کی توقع تھی۔

    نواز شریف کی ممکنہ وارث مریم نواز کو سیاسی اسپاٹ لائٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ اپنی قابل ذکر صلاحیتوں کے باوجود، وہ فی الحال پارٹی کے اندر کچھ حلقوں کی طرف سے سیاسی نظریات میں اختلافات کی وجہ سے شکوک و شبہات کا سامنا کر رہی ہیں، مبینہ طور پر حمزہ شہباز کا مسلم لیگ ن کی سیاست میں مستقبل میں کوئی کردار نہ ہونے کا اشارہ دیا گیا ہے۔

    جہاں مریم نواز نے پانامہ کیس کے دوران لچک کا مظاہرہ کیا، جو نواز شریف کے لیے ایک کڑا امتحان تھا، وہ وقتاً فوقتاً ان لوگوں پر غصہ ظاہر کرتی رہی ہیں جنہیں وہ اپنے والد کی حالت کے لیے ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا استعفیٰ اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی کے اندر مریم کے اوپر جانے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ تمام اراکین ان کی سیاست کی حمایت نہیں کرتے۔

  • جذباتی سیاست نہیں معیشت مستحکم چاہیے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جذباتی سیاست نہیں معیشت مستحکم چاہیے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    دنیا 2023ء کو الوداع کہنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ 2024ء میں دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں صدارتی نظام ہے وہاں بھی الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور ان ممالک میں بھی جہاں پارلیمانی نظام ہے وہاں بھی۔ پاکستان میں 2024ء الیکشن کا سال ہے۔ دنیا کے ممالک کی توجہ معیشت پر ہے امریکہ سمیت دنیا کی توجہ اپنے شہریوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنا ہے عوام اور ریاستی مسائل کے خاتمہ پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے

    ملک میں انتخابی شیڈول کے ساتھ ہی سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچتی جا رہی ہے پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی سمیت مذہبی جماعتیں بھی الیکشن میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں وزارت عظمیٰ کی دعویدار تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ہیں۔ اس بار نوزائیدہ سیاسی جماعتیں بھی میدان میں ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ کر اپنی سیاسی جماعتیں بنالی ہیں ان نوزائیدہ سیاسی جماعتوں نے پی ٹی آئی میں رہ کر اقتدار کے مزے لئے اور اب سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر دوبارہ مزے لوٹنے کے لئے پرتول رہی ہیں۔ عوامی خدمت کی دعویدار تمام سیاسی جماعتیں ہیں مگر خدمت کا عالم یہ ہے کہ عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے بیزار ہیں موسم گرما میں بجلی اور موسم سرما میں گیس کی لوڈشیڈنگ یہ عوامی خدمت کا پہلا تحفہ عوام سالوں سے بھگت رہے ہیں یہ بات تو طے ہے کہ کسی سیاست جماعت کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہوگی ایک مخلوط حکومت کے لئے عوام تیار رہیں۔ تاہم نوازشریف نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے آواز بلند کی ہے نوازشریف معیشت کو ملکی اثاثہ قرار دے رہے ہیں۔ عوام کو الیکشن سے قبل معیشت کو مستحکم کرنے کے اقدامات سے آگاہ کریں کہ وہ معیشت کو کس طرح مستحکم کریں گے کسی بھی ملک کی مضبوط معیشت ملازمتوں کی تخلیق مہنگائی میں کمی کا باعث بنتی ہے بلاول بھٹو نے پشاور میں دوبارہ روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ لگایا ہے ان کے پاس معیشت کو مستحکم کرنے کا کیا پلان ہے ملک میں پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار ہیں۔ عوام بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور ہیں ملکی معیشت کو اس وقت انقلابی اصلاحات اور قیادت کی ضرورت ہے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ملکی وسائل پر بھرپور توجہ دے پوری دنیا میں اقتصادی ترقی کی دوڑ لگی ہے جذباتی اور نعرہ بازی کی سیاست سے نکل کر معیشت کے حوالے سے عملی اقدامات کئے جائیں۔

  • 12 دسمبر، تاریخی دن، تجزیہ، شہزاد قریشی

    12 دسمبر، تاریخی دن، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزا قریشی)
    اگر کوئی پاکستان کی تاریخ لکھ رہا ہے تو اٰسے 12 دسمبر2023 کے دن کو تاریخی دن قرار دے کر لکھنا چاہیئے ۔ آج ایک بین الاقوامی قد آور سیاسی شخصیت سابق وزیرعظم ذوالفقار بھٹو کا کیس یعنی صدارتی ریفرنس عدالت میں زیر سماعت تھا جب کہ ایک سابقہ وزیراعظم جو اس ملک کے تین بار وزارت عظمیٰ پر رہے میاں محمد نواز شریف کا کیس بھی زیر سماعت تھا جبکہ ایک سابقہ وزیراعظم عمران خان کا بھی آج ہی کیس زیر سماعت تھا ۔ اس طرح آج ملک کے تین وزرائے اعظم جن میں ایک اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور دو وزرائے اعظم حیات ہیں۔ا ن کے کیس زیر سماعت ہیں۔ بھٹو خاندان مظلوم خاندان ہے ۔ سیاسی سفیر حیات ہیں بھٹو خاندان نے بہت زخم کھائے ، زخم کھاتے کھاتے پورا خاندان منوں مٹی تلے دفن ہو گیا ۔ لیکن آج کی سیاسی گلیاروں میں اقتدار ، اختیارات ، عہدے اور وہ سیاستدان جن کے آبائو اجداد نے 8 ستاروں پر مشتمل قومی اتحاد تشکیل دیا جس کو پی این اے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ سیاسی گلیاروں میں سیاست کرنے والی سیاسی اور مذہبی جماعتیں تاریخ کے اوراق پلٹیں اور دیکھیں کے ان کے آبائو اجداد نے بھٹو جیسے عظیم لیڈر کے خلاف کس کے کہنے پر اور کس بین الاقوامی طاقت کے کہنے پر تحریک شروع کی تھی ؟

    ملکی سیاست کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے وہ گل کھلائے جس سے جمہوریت بھی پناہ مانگتی نظر آئے گی۔ آج کی سیاست پر کالی و سفید دولت کا غلبہ ہے ۔ آڈیو ، ویڈیو اور سوشل میڈیا پر جو گندگی پھیلائی جا رہی ہے کیا اس سے ملک کی معیشت مستحکم ہو گی ؟ دنیا کہاں پہنچ رہی ہے ا ور کہاں پہنچ گئی ہے ۔ ایک دوسرے پر الزام در الزام کی دوڑ میں آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔سیاستدانوں بالخصوص سیاسی جماعتوں کے عمائدین کو کون سمجھائے عروج اور زوال کی داستانوں سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ اگر کوئی تاریخ سے سبق حاصل نہ کرئے تو کیا کہا جا سکا ہے ۔ آج کی سیاست کا دارو مدار ، ایک دوسرے کی مخبری ، اقربا پروری ، مفاد پرستی ، حصول اقتدار ، جاہ و جلال تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ تاہم آج کی ملکی سیاسی جماعتیں کبھی کبھی سینہ کوبی کرتی نظر آتی ہیں کہ ہمیں سچا پیار نہیں ملا ۔ بھٹو بننے کے لئے بقول اقبال ۔
    ہو صداقت کے لئے جس کے دل میں مرنے کی تڑپ
    پہلے اپنے پیکر خاکی میں جان پیدا کرئے

  • انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    الیکشن سے قبل ٹکٹوں کی تقسیم سیاسی نام نہاد رہنماؤں جو ہر ضلع اور ڈویژن کی سطح پر پائے جاتے ہیں اپنی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو گمراہ کر کے اپنی دولت میں تو اضافہ کرتے ہیں مگر سیاسی جماعتوں اور اپنی قیادت کی بھی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں سودے بازی میں ملوث ہوتے ہیں یہ وہ نام نہاد رہنما ہیں جو حقیقی اور مخلص کارکنان اور نظریاتی شخصیات کے حقوق پر ڈاکے کے مترادف ہے یہ لوگ سیاسی جماعتوں کی ارتقائی پرورش میں بڑی رکاوٹ ہے۔ راولپنڈی ضلع اور ڈویژن میں جاری یہ روش مسلم لیگ (ن) کے کئی نام نہاد رہنما اس میں ملوث ہیں۔ میاں محمد نوازشریف جلاوطنی کی ایک طویل رات گزارنے کے بعد ایسے عناصر سے بخوبی آگاہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابات کی آمد پر مسلم لیگ (ن) کو مکمل بیداری کے ساتھ ایسے نام نہاد سیاسی رہنمائوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرنا ہوگی بلکہ حقیقی معنوں میں وفادار، اچھی شہرت، رکھنے والی شخصیات کو الیکشن ٹکٹ دینے ہوں گے۔

    مسلم لیگ ن کو یہ پرکھ کرنی ہوگی کہ کون لوگ لینڈ مافیا، کرپٹ پولیس افسران اور جرائم پیشہ حلقوں کے ہم نوالہ رہے ہیں اور کون اپنی جان کی بازی لگا کر پارٹی قیادت کے ساتھ مشکل کھڑے رہے پارٹی قیادت کو دیکھنا ہوگا اپنے نیچے امیدواروں کو اس گارنٹی پر ٹکٹ دلوانے پر کوشاں ہیں کہ ان کے الیکشن کے اخراجات بھی ان کے مرہون منت امیدواران برداشت کریں گے ان لٹیروں کی تلاش اور کرپٹ سہاروں کے بل بوتے پر انتخابی دنگل میں اترنے والے پہلوان حقیقی مخلص کارکنوں کو دوسرے پارٹی عہدیداروں کو مایوس کر دیتے ہیں۔ بلاشبہ کئی رہنمائوں نے جیلیں کاٹی مقدمات کا سامنا کیا لیکن ان سزائوں اور مقدمات میں مسلم لیگ (ن) کو یہ جانچنا ہوگا کون اپنے کردہ جرائم کی وجہ سے جیلوں میں گیا اور کون ناکردہ گناہوں کی سزا محض میاں نوازشریف اور پارٹی قیادت سے وفاداری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سیاسی سفر حیات کے نشیب و فراز سے میاں محمد نوازشریف، مریم نواز اور دیگر پارٹی قیادت سے بہتر کون جانتا ہے۔ شباب کی چوکھٹ پر قیام پذیر افراد کو کیا معلوم جو اپنی معیشت مستحکم کرنے میں مصروف ہیں وہ ملکی معیشت مستحکم کرنے میں کیا کردار ادا کریں گے؟

  • نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    2024ء کی آمد آمد ہے الیکشن کمیشن نے قومی انتخابات کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ نوازشریف نے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ لندن سے واپسی پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دیئے۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لئے سفر کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اس بات کی گواہی ہے کہ نوازشریف کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ دیہی علاقوں میں عوام کی اکثریت کان لیگ میں شامل ہونا نوازشریف کی ووٹروں پر مسلسل گرفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس گرفت کا سہرا ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنے والد کی سیاست اور مقبولیت کو کم نہیں ہونے دیا پابندیوں کے باوجود وہ اپنے والد کا مقدمہ گلی کوچوں بازاروں میں پہنچاتی رہی۔

    بلاشبہ نواز شریف کے دور حکومتوں میں پاکستان نے حقیقی ترقی کی تھی معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں بڑے بڑے میگا پراجیکٹ موٹرویز، ایرپورٹ ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوطی میں بھی نوازشریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ملک کو دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    بلاشبہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کا دبائو رہتا ہے اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے ملکی سلامتی کے ذمہ دار پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو لے کر چاک و چوبند ہیں۔ چین اور امریکہ کے اپنے اپنے مفادات ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے ذمہ داران ریاست کے بھی اس ملک کی سلامتی اور بقا کے مفادات ہیں اس سلسلے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کی قربانیوں کو فراموش میں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پاک فوج ملک کو 1971ء کے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کی علیحدگی ہوئی۔ افسوس صد افسوس ملک میں رہنے والے بعض دانشور، سیاسی تجزیہ نگار، سوشل میڈیا پر عمران خان کی محبت میں ملکی سلامتی اور بقا کو بھی پس پشت ڈال رہے ہیں۔ بلاشبہ عمران خان مقبول سیاسی لیڈر ہیں مگر وہ ہوش نہیں جوش سے کام لینے والے لیڈر ہیں۔ سیاست میں بردباری اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • سوشل میڈیا پر بیہودہ الفاظ کی پذیرائی کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    سوشل میڈیا پر بیہودہ الفاظ کی پذیرائی کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    کیا عجب تماشا ہے ۔پوری قوم پی ٹی آئی کے ایک سینئر عہدیدار کے ایک بولے گئے بیہودہ الفاظ کو اپنا تکیہ کلام بنا چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان بیہودہ الفاظ کو پذیرائی مل رہی ہے ۔افسوس صد افسوس کیا کسی مذہب معاشرے میں اس کی اجازت دی جا سکتی ہے ؟ الفاظ بولنے والے شخص کو قومی ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر ہمارا معیار یہ ہے تو پھر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں مصروف ہیں۔ کچھ سیاستدان پاک فوج اور جملہ اداروں کو سرعام سوشل میڈیا پر اور کچھ پردہ اسکرین کے پیچھے حملہ آور ہیں افسوس جس فوج نے ملکی سلامتی کی خاطر قربانیاں دیں کل ہی کی بات ہے ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن کر کے اس ملک کو دہشت گردی اور انتہاپسندی سے آزاد کروایا ایک عالم ان واقعات سے آگاہ ہے پاک فوج کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ملک کی نوجوان نسل کی ہم کیا تربیت کر رہے ہیں پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی ریاست کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

    ملکی سیاستدانوں کی رنگین داستانیں، معاشقوں کی کہانیاں، واہیات کتابیں پھر اس قوم اور ملک پر ظلم یہ ہے کہ واہیات کتابیں لکھنے والوں کے انٹرویو ، خدا کی پناہ سستی شہرت حاصل کرنے والوں کو موت یاد نہیں پھر موت کے بعد زندہ ہو کر خدا کی عدالت میں پیش ہونا یاد نہیں کیا ان کے گھروں میں مائیں، بیٹیاں اور بچے نہیں؟ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے خوف کھائیں اپنا طرز زندگی بدل ڈالیں۔ انسانیت کی فلاح کے لئے کام کریں۔ اس ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں ذرا سوچئے! آج ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے ملک کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت ہے جو وڈیروں اور جاگیرداروں کے قبضے میں ہے اور وہی حکومتیں چلاتے ہیں ٹیکس بھی نہیں دیتے بڑے بڑے کاروباری بنکوں سے قرض لیتے ہیں اور قرضے معاف کرواتے ہیں۔ جن سیاستدانوں نے طرح طرح کے نعرے لگا کر عوام سے ووٹ لئے وہ پارلیمنٹ ہائوس میں جا کر جمہور کے مسائل کو نظر انداز کر کے اپنے ذاتی مفادات کی جنگ میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لائے۔ کوئی اصلاحات نہیں کیں۔ بچوں کو کوالٹی تعلیم، نہ ہی صحت کے لئے بنیادی سہولتیں۔ نوجوانوں کو فنی اور ہنر مندی کی تعلیم دینے میں ناکام اور گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں ناکام۔ ملک اور عوام کے مسائل دیکھیں کیا دنیا کی قومیں اسی طرز سے حکومتیں چلاتے ہیں؟