Baaghi TV

Category: سیاست

  • افواہوں  کے موسم میں اچھی خبر،پاکستان کو ملا اعزاز،تجزیہ،شہزاد قریشی

    افواہوں کے موسم میں اچھی خبر،پاکستان کو ملا اعزاز،تجزیہ،شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو عدت ، طلاق، کون بنے گا وزیراعظم ؟ افواہوں اور ا نتشار زدہ سیاسی ماحول میں قوم کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنونشن جو یورپین یونین کے اہم ترین ملک ہالینڈ کے شہر دی ھیگ میں ہوا۔ پاکستان کو پہلی دفعہ سی ایس پی کی چیئر کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ 193 ممبران پر مشتمل کانفرنس نے ایک سال کے لئے پاکستان کو منتخب کیا ہے۔ ایشیائی گروپ نے ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر سلجوق منتصر تارڑ کو نامزد کیا وہ پاکستان کی طرف سے ایک سال کے لیے اس بین الاقوامی تنظیم کے چیئرمین ہوں گے۔

    8 فروری 2024 کا انتظار کریں عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت میں قبول اور منظورکیا جاتا ہے ۔ عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ عام انتخابات میں میں کامیابی حاصل کریں گے اور ایک مخلوط حکومت بنائیں گے جس کے وزیراعظم بلاول بھٹو ہوں گے جبکہ(ن) لیگ کا دعویٰ ہے ہماری حکومت ہوگی نواز شریف وزیراعظم ہوں گے جبکہ پنجاب میں اصل مقابلہ (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کا نظر آرہا ہے ۔پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کررہے ہیں ۔ ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ وہ صوبہ سندھ اور کراچی کے شہری علاقوں میں کامیابی حاصل کریں گے اور (ن) لیگ سمیت صوبہ سندھ میں حکومت بنائیں گے۔ میرے خیال میں کراچی کے شہری حلقوں میں جماعت اسلامی کا غلبہ ہے اس لئے جماعت اسلامی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی نہیں جماعت اسلامی ایک حقیقت ہے افسانہ نہیں۔ تاہم تمام سیاسی جماعتوں کے دعوے اپنی جگہ درست یہ سب عوامی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ عوام پر فرض ہے کہ وہ پاکستان کے بہتر مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔ تاہم(ن) لیگ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے ،غربت کے خاتمے کے لئے بے روزگاری کے خاتمے ، اپنے ملکی وسائل پر بھرپور توجہ دینے کے لئے منشور کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ تاہم فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے کہ آئندہ وزیراعظم کون ہوگا کیونکہ ووٹوں سے منتخب ہونے والی سیاسی جماعت وزیراعظم کی حقدار ہوگی 2024 میں نئے نویلے وزیراعظم کون ہوں گے آنے والے نئے وزیراعظم کیا ان ناگفتہ بہ حالت میں کیا کچھ کر پائیں گے انتظار کیجئے ۔

  • پیپلز پارٹی کو ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت

    پیپلز پارٹی کو ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت

    بینظیر بھٹو سے آصف زرداری کو پیپلز پارٹی کی قیادت کی منتقلی کے بعد، پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے نقطہ نظر میں ایک تبدیلی کی،پیپلز پارٹی نچلی سطح کے رابطوں سے ہٹ کر سیاست کے زیادہ لین دین کے انداز کی طرف بڑھی۔ اس طرز سیاست نے پیپلز پارٹی کو قومی سیاسی منظر نامے میں جہاں اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں مدد کی، وہیں اس نے پارٹی کی طویل مدتی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں.

    پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت میں شامل ہونے کے دوران آصف زرداری نے ہوشیاری کے ساتھ بلاول زرداری کو وفاقی وزیرخارجہ بنوا دیا تا ہم مسلم لیگ ن کی مالیاتی پالیسیوں کو مکمل قبول کرنے سے دور رکھا، اس دانستہ طرز عمل نے ایک خاص عملیت پسندی کو ظاہر کیا لیکن ایک مربوط پارٹی حکمت عملی کی ممکنہ کمی کو اجاگر کیا۔

    پیپلز پارٹی کا اب ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، الیکشن کمیشن نے الیکشن کا اعلان کر دیا ہے اور الیکشن سے قبل سیاسی جوڑ توڑ میں پیپلز پارٹی جو توقع رکھ رہی تھی اس سے کوسوں دور ہے، اب اہم شخصیات نے یا اپنی پارٹی بنا لی یا پھر جہانگیر ترین کی پارٹی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے یا اتحاد کر چکے ، سیاسی افراد کا دوسری پارٹیوں میں جانے کا یہ رجحان اہم کھلاڑیوں کو راغب کرنے اور وسیع البنیاد اتحاد بنانے کی پیپلز پارٹی کی صلاحیت پر سوال اٹھاتا ہے۔دوسری جانب بلوچستان میں پیپلز پارٹی مضبوط ہے تا ہم پنجاب میں اسکی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے ابھی تک پنجاب میں کسی بھی جلسے کا اعلان نہیں کیا ،متوقع طور پر صرف جنوبی پنجاب میں جلسہ کیا جا سکتا ہے، پنجاب روایتی طور پر سیاسی میدان میں اہم ہے ،پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حمایت میں کمی ایک تزویراتی نظر ثانی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے،

    وہیں آصف زرداری اور بلاول کے درمیان اختلافات کی باتیں بھی چل رہی ہیں،آصف زرداری نے ایک حالیہ انٹرویو میں بلاول کی سرعام سرزنش کی۔ انتخابات سے چند ماہ قبل سامنے آنے والی پیپلز پارٹی کی یہ اندرونی کشیدگی پارٹی کی قیادت میں ممکنہ ٹوٹ پھوٹ کا اشارہ دیتی ہے۔

    سندھ میں پیپلز پارٹی کی حمایت کافی ہے تا ہم ایم کیو ایم اور ن لیگ یا ایم کیو اور تحریک انصاف میں سے کسی ایک کا اتحاد اگر ہو گیا تو یہ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے،ایسے میں پیپلز پارٹی کا اثرورسوخ سندھ میں بھی مزید کم ہو سکتا ہے

    موجودہ سیاسی صورتحال کی نزاکت کو تسلیم کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے 56ویں یوم تاسیس کے موقع پر کوئٹہ میں ایک عظیم الشان جلسے میں شریک ہوں گے، یہ تقریب پیپلز پارٹی کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی سیاسی قوت کو دوبارہ ظاہر کرے اور مختلف صوبوں میں اسے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نئے وژن کو بیان کرے۔

    جیسے جیسے سیاسی منظر نامہ تیار ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی کو ایک واضح اور مربوط حکمت عملی اپنانا ہو گی جو کہ مختصر مدتی چالوں سے بالاتر ہو۔ عصر حاضر کی پاکستانی سیاست کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے پارٹی کی اپنی قیادت کو ڈھالنے، متحد کرنے اور ووٹرز سے جڑنے کی صلاحیت بہت اہم ہوگی۔

  • ایم پی اے  کا خواب

    ایم پی اے کا خواب

    دنیا میں دو چیزیں ایسی ہیں جن پر کوئی بھی حکمران پابندی نہیں لگا سکتا ایک خواب دیکھنا اور دوسری خواہش رکھنا۔ اس لیے دنیا کا غریب سے غریب تر اور کمزور ترین شخص بھی کوئی بھی خواب دیکھ سکتا ہے اور کوئی بھی خواہش رکھ سکتا ہے یہ اور بات ہے کہ کسی کسی کی خواہش پوری ہوتی ہے اور اکثریت کی خواہش پوری نہیں ہوتی بقول غالب

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

    اب جبکہ فروری 2024 میں پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کا امکان ہے تو اس کے لیے چھوٹے خواہ بڑے معروف خواہ گمنام اور مقبول خواہ بدنام سیاستدانوں نے بھی خواب دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کی صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں ہیں اور ان دو نشستوں پر دو درجن سے زائد افراد ایم پی اے M P A بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں خواب دیکھنے والے افراد میں سابق ایم پی اے صاحبان بھی ہیں جنہوں نے غربت اور تنگدستی میں سیاست کا سفر شروع کیا بقول نواب اسلم خان رئیسانی

    سیاستدان بنو وزیر بنو گے یا فقیر بنو گے

    اور حقیقت بھی یہی ہے یہاں سیاست میں آ کر کئی لوگ اپنے باپ دادا کی جائیداد بیچ کر فقیر ہو گئے مگر ایم پی اے نہیں بن سکے اور غریب لوگ ایم پی اے منتخب ہونے کے بعد وزیر بن کر ارب پتی بن گئے جن کو اب اپنی جائداد اور مال و دولت کا صحیح اندازہ بھی نہیں ہے۔ جو لوگ پہلے ایم پی اے بنے ہیں وہ دوبارہ ایم پی اے بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کے بچے بھی مستقبل میں ایم پی اے اور وزیر بنیں جبکہ نئے لوگ بھی ایم پی اے بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور وہ بھی منتخب ہو کر وزیر اور ارب پتی بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ یہ اب مقدر کی بات ہے کہ کون کون ایم پی اے بننے والے ہیں ۔

    غالب امکان یہی ہے کہ سابق ایم پی اے ہی دوبارہ ایم پی اے بنیں گے یا پھر ان کی جگہ امیر لوگ ہی یعنی کروڑ پتی اور ارب پتی لوگ ہی ایم پی اے بن سکیں گے کیوں کہ ہمارے فرسودہ نظام میں غریب یا متوسط طبقہ کے لوگ الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیوں کہ اس کیلئے کروڑوں روپے کے اخراجات اور طاقتور افراد کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بہرحال ایم پی اے کوئی بھی بنے لیکن غریبوں کا خواب یہ ہے کہ ان کے حلقہ انتخاب سے کوئی ایسا شخص ایم پی اے بنے جو کہ غریبوں کو تعلیم، صحت ،روزگار ، سڑک، پانی، گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرے ۔

  • پاکستان کو ترقی پسند رہنما کی ضرورت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کو ترقی پسند رہنما کی ضرورت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نمک حلال اور نمک حرام یہ دو وہ الفاظ ہیں جو کثرت سے بولے جاتے ہیں ۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بالخصوص آجکل میاں محمد نواز شریف کو اپنے کچن سے آیوڈین ملا تبدیل کرکے کھیوڑا کا گلابی نمک استعمال کرنا چاہئے کہا جاتا ہے کہ یہ نمک کرداربناتا ہے ۔ تاکہ کردار والے افراد اس ملک و قوم کی خدمت کریں۔ اگر واقعی آپ کو چوتھی بار اقتدار ملنے والا ہے تو بغاوت سونگھنے والی اور نگزیبی حس بھی رکھیں کیونکہ بنگال کے سراج الدولہ اس لیے ناکام رہے اُن کے پاس اورنگزیبی توپ تو تھی اورنگ زیب والی بغاوت سونگھنے والی حس نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے ہی وزیر میر جعفر کی بغاوت سونگھ نہ سکے ۔

    آج کل سیاسی گلیاروں میں جس رفتار میں دشنام طرازیاں اور حرف عتاب کی عذاب ذدہ بارشیں ایک دوسرے پر سیاسی افراد ، سوشل میڈیا پر بغیر کسی تعطل جاری رکھتے ہوئے ہیں خدا کی پناہ معاشرہ اخلاقی طورپر دیوالیہ پن کا شکار ہو رہا ہے ۔ حیرت ہے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ معاشرہ کس طرف جا رہا ہے ۔ بالخصوص ہم نوجوان نسل کی کیا تربیت کررہے ہیں ۔ نہ جانے مغرب پر فحاشی اور عریانیت کے فتوے لگانے والے علماء کہاں ہیں انہیں بیہودہ انٹرویو ، سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی مائوں ،بیٹیوں کی عزت مجروع ہوتی نظر کیوں نہیں آتی ؟ مقام افسوس ہے کہ ایک اسلامی مملکت کے دعویدار ہونے کے باوجود ہم امداد حاصل کرنے کے لئے جادوٹونے کا سہارا لیتے ہیں جو کہ بالکل ہی غلط ہے ۔ قرآن پاک جیسی عظیم تر کتاب جس پر ہمارایمان اس طرح کی حرکتوں سے منع کرتا ہے پھر سامری جادوگر کا قصہ بھی موجود ہے۔ علم حاصل کرنے کی بجائے ہم جادو ٹونے اور نجومیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ہمیں پاکستان کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھ کر ( رب زدنی علما ) پر عمل کرنا ہوگا۔ ملک کو 21 صدی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی ، مواصلاتی ، سی پیک کی تجارت علم وہنر کا فروغ چاہیئے نہ کہ دقیانوسی ٹچکلوں پر وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھنے والے رہنما اگر پاکستان کو عصر حاضرکے مطابق چلنا ہے تو اس وقت ملک کو ترقی پسند رہنما کی ضرورت ہے۔

  • آڈیو ویڈیو کا گندہ کھیل اور سیاست کی عدت سے طلاق تک پہنچ.تجزیہ،شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو کا گندہ کھیل اور سیاست کی عدت سے طلاق تک پہنچ.تجزیہ،شہزاد قریشی

    ملکی سیاست میں افواہ سازی معمول بن چکی، آڈیو ‘ ویڈیو کے گندے کھیل سے شروع ہونے والی سیا ست اب عدت اور طلاق تک پہنچ چکی ہے، جس غلیظ سیاست کا آغاز پی ٹی آئی نے کیا تھا آج وہ خود اس کے گلے پڑی ہے، گزرے زمانے میں سیاستدان قوم کی رہنمائی کرتے تھے، آج معاشرے میں وہ گند پھیلایا جا رہا ہے جس کی اجازت اسلام دیتا ہے نہ اخلاقی روایات .

    سیاستدان ‘ وی لاگر‘یوٹیوبر‘ نام نہاد دانشور ذرا سوچیں ہم قوم کے مستقبل نوجوان بچوں اور بچیوں کے ذہنوں میں کیا بھر رہے ہیں،ہوس اقتدار اوراختیارات نے سیا ستدانوں کو ملکی وقار‘ عزت نوجوان نسل کے مستقبل کو پس پشت ڈال دیا ہے ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو قومی ،عوامی اور ریاستی مفادات کو سامنے رکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا، آج کے خزاں رسیدہ اور پرفتن دور میں ہمارا معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہو رہا ہے، بد اخلاقی معاشرے میں بری طرح سرایت کر چکی ہے، معاشرے کے ناسوروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ،ہمارا معاشرہ جھوٹ‘ حق تلفی‘ الزم تراشی بے شرمی و بے حیائی‘ فریب دھوکے بازی‘ ذخیرہ اندوزی‘ ملاوٹ‘ سود جیسی برائیوں سے بھرا پڑا ہے، علمائے کرام‘ مذہبی جماعتوں کا بھی معاشرے کو سدھارنے میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا، معاشرہ اخلاقی‘ معاشی اور سیاسی اعتبار سے گراوٹ کا شکار ہے جو لوگ اپنے آپ کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں ، ان میں بھی اخلاق اور تربیت کے آثارنہیں پائے جاتے، اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لئے جائیں اور معاشرے کو سدھارنے میں ہرکوئی کردار ادا کرے،

    ہمارا معاشرہ اخلاقی اقدار سے مزین معاشرہ بن سکتا ہے،خبروں کے مطابق دسمبر کے پہلے ہفتے میں الیکشن کا شیڈول آرہا ہے ووٹر نوٹ کے بغیر ووٹ استعمال کرے،جملہ بازوں‘ آزمائے ہوئے لوگوں کو بار بار مت آزمائیں، کسی کی دنیا بنانے کے لئے اپنی آخرت خراب اور بر باد مت کیجیے اچھے معاشرے کی تشکیل کے لئے ووٹ بہترین طاقت ہے،اچھے شہری بن کر شان سے و قار سے رہنا سیکھیے، ملک اور بچوں کا مستقبل سامنے رکھے کہ ووٹ دیں۔

  • جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے  پورے نہ ہونے سے خطرہ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ہمارے سیاستدانوں کی تاریخ کیا لکھی جائے گی ؟ ملک مقروض،عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم،مہنگائی ، بے روزگاری عروج پرہے اور یہ ایک دسرے کو غدار ،سیکورٹی رسک ، انڈیا کا یار، یہودی ایجنٹ ، امریکی ایجنٹ گردانتے ہیں اور اب بات لاڈلا تک پہنچ چکی ہے،یاد رکھیے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی لاڈلا نہیں،اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی یہ سرزمین اور عوام ہیں اسی سرزمین کی سلامتی کی خاطر اسٹیبلشمنٹ قربانیاں دیتی ہے،موجودہ دور میں قومی سلامتی کی تعریف وسیع ہو گئی ہے اور معیشت اس کا ایک بڑا حصہ ہے،فوج کا ساتھ ہر طبقہ فکر کے لوگ دیتے ہیں،تب ہی فوج کا جذبہ جوان رہتا ہے اور وہ کامیاب ہوتی ہے، فوجی کے جذبات دل و دماغ میں پرورش پاتے ہیں اور جنگ کے موقع پر وہا ں کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔

    فوج کے نیچے سے تو سیاستدان زمین کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں،سیاستدان چاہتے ہیں ، فوج آئین اور قانون کے تحت ان کی تابع رہے،یہ بات درست ہے لیکن سیاستدان بھی تو اپنا قبلہ درست رکھیں،فوج کو اپنا ہی سمجھیں اس کی وجہ سے ملک قائم ہے اوریہ فوج ہی ملکی سلامتی کی ذمہ دار ہے، جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہے ۔ خدارا اپنی فوج سے غیریت مت برتیے، سیاستدانوں کو لاڈلاکی سیاست سے بالاتر ہو کر ملکی اور قومی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا،نواز شریف اگر لاڈلے ہوتے تو تین بار وزارت عظمٰی سے کیوں نکالے جاتے ؟نواز شریف کے خلاف کرپشن کی داستانیں آج طوطا میںا کہانیاں ثابت ہورہی ہیں، ان کے ا دوار میں کئی میگا پراجیکٹس آج قومی اثاثے ثابت ہو رہے ہیں، جن میں موٹر ویز سرفہرست ہیں، ایٹمی طاقت کا اظہارقومی دفاع کی علامت بن چکا ہے،

    سیاستدانوں کے لئے بھٹو کی پھانسی، محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل ، نواز شریف کی اقتدار میں انٹری اور ایگزٹ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں اور مقتدر حلقوں میں نوازشریف کی حب الوطنی اور عالمی تناظر میں اہمیت روز روشن کی طرح واضع ہو چکی ہے ،تمام سیاسی قوتوں کو ذاتیات سے بالاتر ہو کر ملکی اور قومی مفادات کودیکھنا ہو گا، ورنہ ذر ا سوچئے اگر جمہوریت کی پری نے مکھڑا پھیر لیا تو پھر کیا ہو گا؟ نواز شریف کیسا لاڈلا ہے 2002 ، 2008 اور 2018 کا الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا، 2013 عدالتی حکم پر الیکشن لڑا،اب فیصلہ عوام کریں لاڈلاکون ہے ؟

  • آئی ایم ایف کا مینڈیٹ اور مستقبل کی پالیسیوں پر عمل درآمد

    آئی ایم ایف کا مینڈیٹ اور مستقبل کی پالیسیوں پر عمل درآمد

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اس وقت مقررہ اقتصادی اہداف کے حصول میں پاکستان کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کررہا ہےیہ کامیابی کی ایک قیمت ہے۔ کیونکہ اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا جس سے افراط زر میں اضافہ ہوا۔ بجلی کے بلوں پر ٹیکس میں اضافے اور یونٹ کی بڑھتی ہوئی لاگت نے نقصان دہ اثر ڈالا ہے۔

    پاکستان کے معاشی دباؤ میں اہم کردار ادا کرنے والا ایک اہم عنصر صنعتوں کی بندش یا محدود کام ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف مذکورہ بالا ٹیکس میں اضافے سے پیدا ہوتا ہے بلکہ ڈالر کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کی بندش سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ ستمبر 2023 تک، ذخائر $1316.80 ملین ڈالر تھے تھے، جو اکتوبر 2023 تک گر کر $12600 ملین رہ گئے۔ نتیجتاً، صارفین کی قوت خرید کم ہو گئی، اور اخراجات کو ضروری ضروریات تک محدود کر دیا گیا۔

    مارچ 2024 کے لیے شیڈول آئی ایم ایف کا آئندہ جائزہ ٹیکس کے ممکنہ اضافے کے لیے تین شعبوں پر روشنی ڈالتا ہے؛ خوردہ مصنوعات ، رئیل اسٹیٹ، اور زرعی مصنوعات۔ یہ اقدامات آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے بہت اہم ہیں لیکن پہلے ہی منفی اثرات سے دوچار معیشت کے لیے چیلنجز ہیں۔

    پاکستانی حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے رجعت پسند موقف نظرآتا ہے۔ مالیاتی پالیسی، جس کا مرکز اسٹیٹ بینک کی جانب سے معیشت میں فنڈز کی فراہمی ہے، جس میں ٹیکس اور اخراجات شامل ہیں، دونوں کا اثر ہوا ہے۔ معاشی صورتحال کے جواب میں، نگراں حکومت نے حال ہی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سے حاصل ہونے والے بینک منافع پر بیک وقت 40 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔ یہ فیصلہ 2021-2022 میں روپے اور ڈالر کی قیاس آرائی پر مبنی تجارت سے 110 بلین روپے کے منافع کے انکشاف کے بعد کیا گیا۔

    پاکستانی ماہر اقتصادیات ہارون شریف، جو سابق وزیر مملکت، اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین ہیں، نے ایک حالیہ ٹویٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ایشیا میں سب سے زیادہ شرح سود کا سامنا ہے اور وہ مالیاتی بحران سے دوچار ہے، جس میں ضروری شعبوں جیسے کہ نئے منصوبوں، ہاؤسنگ، انفراسٹرکچر، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) اور برآمدات کے لیے سستی طویل مدتی فنانسنگ کی کمی ہے۔

    موجودہ معاشی بدحالی میں اضافی اقدامات سے صورتحال کےمزید خراب کرنے کا خطرہ ہے۔ مزید بندشیں اور روزگار کے مواقع کی کمی نہ صرف معاشی ڈپریشن کو مزید گہرا کرے گی، بلکہ ٹیکس وصولی کی کوششوں میں بھی رکاوٹ ہوگی۔ چونکہ قوم ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، پالیسی سازوں کو آئی ایم ایف کی ضروریات کو پورا کرنے، اور معیشت اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے درمیان احتیاط سے جانا چاہیے۔

  • بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا نواز شریف پر اظہار اعتماد،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا نواز شریف پر اظہار اعتماد،تجزیہ:شہزاد قریشی

    صوبہ بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا میاں محمد نواز شریف پر اظہار اعتماد اور مسلم لیگ (ن) میں شمولیت دراصل نواز شریف کی بطور وزیراعظم ان کا وشوں کا اعتراف ہے جو کہ نواز شریف نے بلوچستان کی محرومیوں کو ختم کرنے بلوچی بھائیوں کے زخم پر مرہم رکھنے اور صوبہ کو گوادر سی پورٹ اور مواصلاتی و ترقیاتی منصوبوں سے لیس کرنے کے اقدامات تھے ۔ نواز شریف نے گذشتہ ادوار میں بطور وزیراعظم جہاں پاکستان بھر میں میگا پراجیکٹس کی بھرمار کردی تھی وہاں بلوچستان منصوبہ کو بھی سی پیک و گوادر پورٹ کے منصوبوں سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے تاریخی اقدامات کیے تھے۔ اس ترقی کا عمل وہیں کا وہیں روک دیا گیا جس کا خمیازہ ملک وقوم کو بھگتنا پڑا۔ آج بلوچستان میں نواز شریف کی جو عزت افزائی ہوئی اور قومی سطح کے اعتماد بھائی چارے کی فضا کو جو فروغ ملا اس پر چند سیاسی طالع آزما ئوں کو اور کچھ دانشوروں تجزیہ کاروں کو تاریخ کے صفحات پلٹ کر ایک نظر ان حقائق پر بھی ڈالنی چاہیئے ۔

    جب قومی و جمہوری و مفاہمتی سیاست کے د عویدار جناب آصف علی زرداری نے اپنے خفیہ موکلوں کے بل بوتے پر مسلم لیگ (ن) کی ہی حکومت کو رخصت کیا تھا اور سینٹ میں مسلم لیگ(ن) کی عددی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کروا کر ( ایک زرداری سب پر بھاری ) کے خوشامدانہ نعر ے اور نعروں سے اپنے دامن پرجمہوریت کے قتل کے داغ سجا لئے تھے۔ آج لیول پلنگ فیلڈ کے نام پر اپنے ماضی کے گناہوں سے چشم پوشی کرنے والوں کو وہ وقت بھی یاد رکھنا ہوگا۔ قوم نے نواز شریف کی وزارت عظمٰی سے معزولی کی بھاری قیمت جو ادا کی تھی وہ ترقیاتی عمل سے تنزلی کا سفر ، سی پیک رول بیک ، جی ڈی پی میں کمی ، صحت و تعلیم کے شعبوں میں سہولیات کے فقدان کی صورت میں بھگتا ہے ۔ملکی سیکورٹی اور فوجی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ قومی مفاد سے آشنا ، دانشوروں اور تجزیہ کاروں کو چاہیئے کہ عوام کو باور کرائیں کہ دھرنا دھندوں عقل کے اندھوں سیاسی نعروں سے نکل کر صوبوں میں برابر ترقی کے خواب کو عملی جامعہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کریں .دنیا تیزی سے ترقی کررہی ہے اورہم ذرا سوچئے؟

  • دنیا اقتدار  اختیارات کی دوڑ میں ،مگر کون سمجھائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا اقتدار اختیارات کی دوڑ میں ،مگر کون سمجھائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ لینن آج بھی روسی ۔ ماموزئے تنگ ہر چینی ، امام خمینی ہر ایرانی ، بابائے قوم ہر پاکستانی۔ اس کے علاوہ ایسی شخصیات دنیا کی قوموں میں ز ندہ ہیں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے۔ ان کے ہمسفر نہ کوئی گوگی ،نہ گوگا ، نہ گوگیاں تھیں اور نہ گوگے، آج کی سیاسی جماعتوں میں یہ سب کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ملکی سیاسی تاریخ لکھنے والا کیا تاریخ لکھے گا؟ اس طرح کے سیاستدانوں جن کے ہمراہ اس قسم کی مخلوق ہوتو اپنے ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدار میں پھینک دیتا ہے ۔ سیاستدان اخلاقیات سے عاری اور منافقت کے چلتے پھرتے نمونے بن چکے ہیں۔ حیرت ہے یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا حاصل ہے اور یہ ادارے ملکی بقا اور قومی سلامتی کی علامت ہوتے ہیں ان اداروں کو نہ صرف بدنام کیا جا رہا ہے بلکہ گھٹیا اور غلیظ الزامات لگائے جا رہے ہیں اور اس جرم میں ملکی سیاسی جماعتیں ملوث ہیں ۔ اپنی ناکام پالیسیوں کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر ڈال کر خود کو معصوم قرار دیتے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ بلاشبہ فوجی حکمرانی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا مگر ان قومی سلامتی کے اداروں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔امریکہ سے لے کر مغربی ممالک اور مڈل ایسٹ میں ان قومی سلامتی کے اداروں کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ ان اداروں کو بدنام یا کمزور کرنا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔

    مسجد اقصٰی کا مستقبل نہ امریکہ نہ ہی اسرائیل اور نہ ہی عالمی دنیا کے کسی مسلم ممالک کے ہاتھ میں ہے مسجد اقصٰی کا مستقبل وہی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے ۔ اس کی وہی حفاظت کرے گا جس پر وردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا۔ آج کے عالمی حکمرانوں سمیت مسلمان حکمرانوں کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں اور اپنے اپنے مفادات ،آج کی دنیا میں قیامت کا سماں برپا ہے ۔ نفانفسی کا عالم ہے ۔ دنیا اقتدار اختیارات کی دوڑ میں لگی ۔مگر ان انسانوں کو کون سمجھائے دولت اور حکمرانی خدا پاک کی طرف سے عطا کردہ آزمائشی تحفہ ہے۔ یہ قدرت کا دنیا پر ایک بطور امتحان ہے تاہم یاد رکھیئے نشیب وفراز کی کنجی صرف خدا پاک کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا میں فرعون کے نقش قدم پر چلے توکیا کہا جا سکتا ہے۔؟

  • ووٹروں کو بااختیار بنانا: انتخابات میں NOTA آپشن کی اہمیت

    ووٹروں کو بااختیار بنانا: انتخابات میں NOTA آپشن کی اہمیت

    جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں ، اس بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا انتخابات واقعی لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہیں یا محض شناسا چہروں کے اسی چکر کو برقرار رکھنے کے لئے جو اتحاد بناتے ہیں اور اپنے مفاد کے لیے پارٹیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ I. Rotberg کی کتاب "Transformative Political Leadership” میں ایک تنقیدی مشاہدہ کیا گیا ہے، جس میں ترقی پذیر دنیا میں کامیاب سیاسی رہنماؤں کی کمی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ روٹ برگ سیاسی نظریات کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے واضح حکمت عملی کے حامل رہنماؤں کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، جہاں ادارے کمزور ہوتے ہیں اور بدعنوانی غالب ہوتی ہے، اس معیار کا اکثر فقدان ہوتا ہے۔

    پاکستان میں جمہوریت کے دعوے کے تناظر میں، باریک بینی سے دیکھنے سے ایک کثیر الجماعتی نظام کا پتہ چلتا ہے جہاں سیاسی جماعتیں اکثر کرشماتی افراد پر انحصار کرتی ہیں جو خاندانی حکمرانی کے مجسم شکل میں تیار ہوتے ہیں۔ یہ رجحان، جیسا کہ ریگن کے مشیر، رابرٹ میک فارلین نے بیان کیا ہے، جمہوری فریم ورک کے اندر ایک "جاگیردارانہ کڑی” کے جذبات کی بازگشت ہے (میگنیفیشنٹ ڈیلیوژن: حسین حقانی، صفحہ 304)۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارت بھی اسی طرح کا بیانیہ رکھتا ہے۔

    ان چیلنجوں کے جواب میں، NOTA آپشن کا تعارف جمہوری اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ایک ترقی پسند قدم کے طور پر ابھرتا ہے۔ نوٹا عام شہری کو بیلٹ پیپر پر دستیاب انتخاب پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے یا سیاسی جماعتوں کی طرف سے پیش کردہ تمام آپشنز کو مسترد کرنے کا حق فراہم کر کے بااختیار بناتا ہے۔

    ایک بار جب NOTA کا آپشن منتخب ہو کرایک حد کو عبور کر لیتا ہے، جیسے کہ کسی حلقے میں ڈالے گئے کل ووٹوں کا 50%، اس کے اثرات کافی ہوتے ہیں۔ اس حلقے کے تمام امیدوار، جن کے اجتماعی ووٹ اکثریت سے کم ہوتے ہیں، بعد کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیے جاتے ہیں۔ یہ فیصلہ کن اقدام احتساب کو یقینی بناتا ہے اور روایتی سیاسی منظر نامے کو مسترد کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔ نااہل قرار پانے والے بیک ڈور چینلز کے ذریعے ایڈوائزری پوزیشن حاصل کر کے سسٹم کو خراب نہیں کر سکتے۔ اس طرح کے اصول کا نفاذ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ نااہلی محض ایک تکلیف نہیں بلکہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہنے والوں کے لیے ایک اہم نتیجہ ہے۔

    NOTA ووٹروں کے لیے اپنی عدم اطمینان کا اظہار کرنے اور سیاسی رہنماؤں سے بہتر مطالبہ کرنے کے لیے ایک طاقتور ٹول کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ انتخابات کو محض انتخابی عمل سے احتساب اور حقیقی نمائندگی کے طریقہ کار میں بدل دیتا ہے۔ NOTA کو اپنانے سے، معاشرے ایسے سیاسی ماحول کو پروان چڑھانے کی خواہش کر سکتے ہیں جہاں رہنما لوگوں کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے پر مجبور ہوں، اس طرح ایک زیادہ مضبوط اور جوابدہ جمہوری نظام کو فروغ ملے گا۔