Baaghi TV

Category: سیاست

  • مسلم ویمن لیگ کا القدس مارچ ،تحریر:ارشاداحمد ارشد

    مسلم ویمن لیگ کا القدس مارچ ،تحریر:ارشاداحمد ارشد

    اسلام کی تاریخ خواتین کی جرات وبہادری اور استقامت وشجاعت کے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔اسلام کی آبیاری، تبلیغ واشاعت اور مسلمان ملکوں پر قابض استعماری قوتوں کے خلاف جدوجہد میں خواتین نے بھی جانی ومالی قربانیاں دی ہیں ۔قرون اولیٰ کی سیدہ خدیجہ ، سیدہ عائشہ ، سیدہ فاطمہ ، سیدہ سمیہ، سیدہ ام عمارہ ، سیدہ ام سلیم اور دیگر صحابیات طہرات کی مبارک زندگیاں آج کی خواتین کےلئے مشعل راہ ہیں۔برصغیر میں اسلام کے غلبہ واحیا کےلئے حقیقی معنوں میں جو پہلی اسلامی تحریک چلی وہ سیدین شہدین ۔۔۔سید احمد اور شاہ اسماعیل کی تحریک تھی ۔ سیدین شہدین اور ان کے رفقا جب بغرض جہاد دہلی سے روانہ ہوئے تو اس مشکل اور طویل ترین سفر میں ان کے ساتھ خواتین بھی تھیں جنھوں نے مردوں کے ساتھ سفر کی صعوبتیں اٹھائیں اور مشقتیں برداشت کیں ۔ہندوستان میں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر کی والدہ محترمہ جو کہ تاریخ میں ” بی اماں “ کے نام سے مشہورہوئیں وہ ہندوستان کے سیاسی افق پر پہلی خاتون تھیں جنھوںنے تحریکِ آزادی میں خود بھی حصہ لیا۔1921ءمیں بی اماں کے دونوں بیٹے نظر بند کردیے گئے تو بی اماں وہاں موجود تھیں۔اس اثنا میں حکومتی اہلکار مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی کے پاس ایک ٹائپ شدہ معافی نامہ لے کر آئے اور ان سے کہا گیا کہ اگر وہ معافی نامہ پر دستخط کردیں تو انھیں رہا کردیا جائے گا۔ بی اماں دوسرے کمرے میں بیٹھی یہ گفتگو سن رہی تھیں، ان کو خیال ہوا کہ کہیں ان کے بیٹے دستخط نہ کردیں، انہوں نے بے تابی سے بیٹوں کو پکاراکہ فوراََ میرے پاس پہنچو۔ بیٹے دوڑتے ہوئے آئے کہ نہ معلوم کیا ماجرا ہوگیا ہے اور ماں جی کیا کہنا چاہتی ہیں؟جب سعادت مند بیٹے حاضر ہوئے تو بی اماں بولیں ”تم دونوں معافی نامے پر دستخط نہیں کرو گے، اگر تم نے دستخط کردیے تو میں نہ تمہارا دودھ بخشوں گی اور نہ ہی تمہاری شکل دیکھوں گی۔

    امر واقعی یہ ہے کہ آج امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستانی قوم کو بی اماں جیسی بہادر ماﺅں کی ضرورت ہے ۔ایسی صاحب ایمان وکردار خواتین ہی امت کی رہنمائی کرسکتی ہیں ۔ مسلم ویمن لیگ اسی تحریک کا تسلسل ہے جو بدرواحد سے شروع ہوئی اور جس کاایک کردار بی اماں بھی تھیں ۔ مسلم ویمن لیگ کی رضاکار اسلام کی بیٹیاں ہیں اور ان کی نسبت عہد نبوی کی عظیم خواتین کے ساتھ ہے ۔ جس طرح قرون اولی کی خواتین شرم وحیا کاپیکر تھیں ایسے ہی مسلم ویمن لیگ کی خواتین بھی شرم وحیا کا پیکر ہیں ، جس طرح بی اماں نے حجاب ونقاب میں ملبوس ہوکر تحریک خلافت میں حصہ لیا اسی طرح مسلم ویمن لیگ کی عفت ماٰب مائیں بہنیں اور بیٹیاں بھی اپنے فلسطینی مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے بر سر پیکار اور بر سر میدان ہیں ۔

    عالم اسلام پر کوئی بھی افتاد پڑے اہل پاکستان اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں ۔8 اکتوبر کو فلسطینی مسلمانوں اور قابض اسرائیلی افواج کے درمیان جو معرکہ حق وباطل شروع ہوا اس کی نسبت سے سب سے زیادہ پروگرام مرکزی مسلم لیگ نے کئے ہیں۔ خواتین جو کہ ہماری آبادی کا نصف سے کچھ زائد ہیں کے محاذ پر مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بالکل خاموشی تھی اس خاموشی کو مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خواتین کی جماعت مسلم ویمن لیگ نے جھنجوڑا۔مسلم ویمن لیگ ہی نے ” القدس خواتین مارچ “ کے نام سے پاکستان کے دل لاہور میں ایک بھر پور پروگرام کیا ۔ اہل فلسطین کے ساتھ اظہارکےلئے کم از کم لاہور کی حد تک خواتین کا اس سے قبل اتنا بڑا پروگرام نہیں دیکھاگیا ۔ مال روڈ پر تاحد نگاہ عبایا اور حجاب میں ملبوس خواتین تھیں جن کے ہاتھوں میں پرچم ، کتبے ، فلیکس اور بینرز تھے جن پر قبلہ اول کے تحفظ اور اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ایمان افروز جملے اور اشعار تحریر تھے ۔” القدس خواتین مارچ “ میں شہر بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین ڈاکٹرز ، وکلا، اساتذہ، طالبات اور دیگر ہزاروں خواتین نے شرکت کی۔

    https://twitter.com/PMMLMedia/status/1721129478158426476

    شہدا مسجد کے بالمقابل ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا گیا جس سے مختلف مقررین نے خطاب کیا ۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے اپنے خطاب میں کہا اصولی ، آئینی اور اخلاقی طور دنیا میں اسرائیل نام کا کوئی ملک نہیں ہے ۔ فلسطین میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے یہ درحقیقت صیہونی دہشت گردوں کاایک گروہ ہے جو فلسطینیوں کی زمینوں پر قابض ہے اور ان کا قتل عام کررہا ہے ۔ صیہونی دہشت گردوں کا ٹارگٹ صرف غزہ ہی نہیں بلکہ مسجد اقصی کی شہادت ، ہیکل سلیمانی کی تعمیراور عظیم تر صیہونی ریاست کا قیام ہے ۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان سمیت پورا عالم اسلام اپنا کردار ادا کرے جبکہ پاکستان کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے اسلئے کہ پاکستان پوری دنیا میں واحد اسلامی ایٹمی ملک ہے جس کی آواز پوری دنیا میں سنی جاسکتی ہے۔ حیرت ہے یورپ ایک طرف انسانی حقوق کا علمبردار بنتا ہے لیکن دوسری طرف فلسطین ہونے والے مظالم پر خاموش ہے اور دنیا بھرکی ہیومن رائٹس کی تنظیمیں بھی مسئلہ فلسطین پر خاموش ہیں۔ اقوام متحدہ سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اپنے ناجائز بچے کو لگام دے اور فلسطین فلسطینیوں کو واپس کرے ۔م

    https://twitter.com/PMMLMedia/status/1721128555772268765

    سلم ویمن لیگ کی جنرل سیکرٹری عفت ادریس نے کہا کہ آج ہمارے فلسطینی مسلمان بھائیوں پر آگ اور خون کی بارش ہورہی ہے ، اسرائیلی طیارے بم گرارہے اور آگ کے شعلے برسا رہے ہیں ، غزہ میں ہر آگ ہی آگ اور تباہی ہے۔ پانی ، بجلی ، خوراک اور ادویات ناپید ہوچکی ہیں زخمی اور لہولہان بچے تڑپ رہے اور سسک رہے ہیں اور57اسلامی ملکوں کے سربراہان کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ان حالات میں مسلم ویمن لیگ کی ہزاروں رضاکار جوکہ اسلام کی بیٹیاں ہیں ۔۔۔حماس کی حمایت کااعلان کرتی ہیں اور علی الاعلان یہ کہتی ہیں کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں ۔ مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی رہنما حافظ عبد الروف نے کہا میری مائیں ، بہنیں اور بیٹیاں جس طرح غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے نکلی ہیں اور ان کی مظلومیت کو دیکھ رہی ہیں اسی طرح غزہ کی مسلمان مائیں بہنیں بھی آپ کو دیکھ رہی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان سیسہ پلائی دیوار بن جائیں ، متحد اور متفق ہوجائیں، اپنی معیشت اور تہذیب وثقافت کو اسلام کے سانچے میں ڈھال لیں، یہودیوں کے سودی چنگل سے نکل آئیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کامیابی مسلمانوں کے قدم چومے گی اور یہودی اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ مرکزی مسلم لیگ لاہور ڈویڑن کے صدر چوہدری محمد سرور نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی بچوں کی نسل کشی کررہا ہے۔ فلسطین میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے یہ جنگ نہیں یکطرفہ قتل عام ہے فلسطین میں لگی آگ روس بجھائے گا نہ چین اور نہ ہی کوئی دوسرا ملک بلکہ یہ آگ عالم اسلام کو خود بجھانا ہوگی ۔پاکستان کے دل لاہور کی شاہراہ مال پر مسلم ویمن لیگ کی یہ ہزاروں خواتین کا اجتماع یہ اعلان کررہا ہے کہ ہماری اولادیں ، ہمارا مال اور ہمارا وطن سب کچھ قبلہ اول پر قربان ہے ۔اسلام کی بیٹیوں کا یہ اجتماع پاکستان کے حکمرانوں کو یہ پیغام دے رہاہے کہ مومن بنو ، مجاہد بنو ، مرد بنو ،فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھاﺅ ، ان کی عملی مدد کرو اور قبلہ اول کی بازیابی کےلئے اپناکردار ادا کرو۔۔۔۔اور اگرتم ایسا نہیں کرسکتے تو پھر مسند اقتدار چھوڑ کر ہاتھوں میں چوڑیاں پہن لو اسلئے کہ تم مسلمان ملکوں کے سربراہ بننا تو دور کی بات ہے مسلمان کہلانے کے بھی حق دار نہیں ہو ۔ القدس خواتین مارچ کے شرکاءسے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، عفت ادریس، حافظ عبد الروف ،چوہدری محمد سرورکے علاوہ انجنئیر عادل خلیق، انجنئیر حارث ڈار،حفیظ اللہ بلوچ، عبیدہ، خدیجہ مسعود سمیت دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔
    irshad arshad

  • انوارالحق کاکڑ کا لمز کا دورہ: ایک تنقیدی جائزہ

    انوارالحق کاکڑ کا لمز کا دورہ: ایک تنقیدی جائزہ

    سابق آئی جی پولیس پنجاب اور سابق وزیر داخلہ پنجاب شوکت جاوید نے 31 اکتوبر 2023 کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں آنیوالے مہمان نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کے حالیہ دورے کے دوران طلباء کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے معیار کے حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ شوکت جاوید نے ٹویٹ میں طلباء کے سوالات کے انتخاب کو معمولی قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ سوال طلباء کے متوقع معیار کے مطابق نہیں۔ انہوں نے آئینی بحرانوں کے بارے میں انکوائری کی عدم موجودگی، نگراں سیٹ اپ کا 90 دن سے زیادہ عرصہ تک کا جواز نہ ہونا، سیاسی کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک اور لاپتہ افراد کو انصاف نہ ملنے کی نشاندہی کی۔ تاہم، شوکت جاوید نے تسلیم کیا کہ وزیر اعظم نے پوچھے گئے سوالات کے اچھے جوابات دیئے۔

    لمزکے طلباء کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کی نوعیت کے حوالے سے شوکت جاوید کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر بات ضروری ہے انکے درست نکات ہیں،یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے دوروں اور ان کی اہمیت پر ایک وسیع تناظر پر غور کیا جائے۔

    سب سے پہلے، اس بات پر تشویش ہے کہ تقریب کے دوران پوائنٹ اسکورنگ پر وقت ضائع کیا گیا۔ ویڈیو میں، ہم اس سوال کو دیکھ سکتے ہیں کہ جب ملک کو شدید مسائل کا سامنا تھا تو انوارالحق کاکڑ نے LUMS کا دورہ کیوں کیا؟ یہ بات قابل غور ہے کہ صدور یا وزرائے اعظم کا نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی یونیورسٹیوں اور کالجوں کا دورہ کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، یوکرین کے تیسرے صدر، مسٹر یوشچینکو، اور ان کی اہلیہ، کیتھرین، یوکرین میں جنگ پر بات کرنے کے لیے یونیورسٹی آف مانچسٹر گئے۔ LUMS کے طالب علم کے سوال کے بعد جو تالیاں بجیں وہ بدقسمتی سے اس بارے میں بنیادی آگاہی کی کمی کو ظاہر کرتی ہے کہ اس طرح کے تبادلے کس طرح کچھ بہترین ذہنوں کے ساتھ بات چیت کو آسان بناتے ہیں اور خیالات کے تبادلے کو فروغ دیتے ہیں۔ نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کے دورے پر سوال اٹھانے کے واقعے سے آگہی کی کمی اور تقریب کے دوران وقت ضائع ہونے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ایسے لمحات کو زیادہ اہمیت کے سوالات پوچھ کر بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔

    لمز کی تقریب میں سوالات کو لے کر، کچھ تاریخی مثالوں کو یاد کرنا ضروری ہے۔ 2010 میں، سابق امریکی صدر براک اوباما ہاورڈ یونیورسٹی میں 45 منٹ لیٹ تھے، جہاں ان کی سیکرٹری دفاع سے ملاقات تھی۔ جارج ڈبلیو بش 2001 میں پرنسٹن یونیورسٹی میں 20 منٹ لیٹ تھے، جب وہ سعودی عرب کے ولی عہد سے ملاقات کر رہے تھے۔ اسی طرح ٹونی بلیئر 2002 میں کیمبرج یونین میں 30 منٹ لیٹ تھے کیونکہ وہ فرانس کے وزیر اعظم سے بات چیت کر رہے تھے۔ مارگریٹ تھیچر 1987 میں آکسفورڈ یونین میں ٹریفک کی وجہ سے 45 منٹ تاخیر سے پہنچی تھیں۔

    میڈیا کی ایک معروف شخصیت عمر آر قریشی نے 31 اکتوبر 2023 کو اس مسئلے پر بات کی، انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "میں دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں سے ایک کا طالب علم رہا ہوں۔ میں سمجھ گیا کہ سربراہان حکومت بعض اوقات تاخیر سے آ سکتے ہیں اور میرے پاس ہمیشہ تقریب کو چھوڑنے کا حق تھا، کوئی بھی مہمان سے یہ نہیں پوچھتا کہ وہ دیر سے کیوں آئے ،ایک طرف توہین جبکہ دوسرے تالیاں بجائی جاتی ہیں۔ یہ سلوک نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ نقصان دہ ہے۔”
    ان مشاہدات کی روشنی میں طلباء اور میزبانوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ ایسے مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور معزز مہمانوں کے ساتھ بامعنی گفتگو کریں یہ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ ان واقعات کے دوران گزارا ہوا وقت قیمتی اور نتیجہ خیز ہے

  • انتخابات ، ملکی معیشت کا سنبھلنا بھی ضروری، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    انتخابات ، ملکی معیشت کا سنبھلنا بھی ضروری، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    آمدہ قومی انتخابات کب ہوں گے یہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔تاہم اگر انتخابات ہوئے تو یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ آمدہ قومی انتخابات میں کیا ہونے والا ہے کس کی جیت ہوگی کس کی ہار ہوگی تاہم ملکی سیاسی جماعتوں کو قانون کی حکمرانی آئین اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوامی مسائل سے لے کر ریاستی مسائل کو حل کرنا ہوگا ایک دوسرے کے خلاف انتقام اور انتقامی سیاست کو دفن کر کے اس ملک کی معیشت ملکی وسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ قرضوں میں ڈوبے پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کے خونخوار پنجوں سے آزاد کروانا ہوگا۔ کیا مسلم لیگ (ن) دوبارہ اقتدار میں آئے گی کیا نواز شریف ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کی کرسی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے بہرحال جو چیز پردہ غیب میں ہے اس کے بارے میں قیاس کے گھوڑے دوڑانے کا کچھ حاصل نہیں ہے سیاست بچوں کا کھیل نہیں آج کل ن لیگ بالخصوص میاں محمد نوازشریف کے نزدیک ایسے ایسے لوگ بھی نظر آرہے ہیں جنہو ں نے نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم کیخلاف پروپیگنڈے بھی کئے اور ن لیگ کے خلاف بآواز بلند مخالف جماعت کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے

    ملکی سیاسی گلیاروں میں شاید یہی لوگ کامیاب ہیں۔ تاہم میں نے مریم نواز کو اسلام آباد ہائیکورٹ پیشیاں بھگتے دیکھا ہے مریم نواز خود ہی بتائیں ان کے ساتھ اس مشکل ترین وقت میں کون کھڑا تھا ۔ تاہم ٹکٹ لینے وزیر مشیر بننے کے لئے ایک بار پھر نعرے سننے کو مل رہے ہیں قدم بڑھائو نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اپنے اندر زیادہ خوش گمانی پالنے کی ضرورت نہیں نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سمجھ ہے یہ خوشامد اور خوشامدی کیا ہوتے ہیں ملکی کی سیاسی جماعتیں عوام اور پاکستان کے مستقبل پر توجہ دیں حالات و واقعات تبدیل ہو چکے ہیں۔

  • جمہوریت کا استحکام ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جمہوریت کا استحکام ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک میں کسی بھی جمہوری حکومت میں جمہوریت آئیڈیل نہیں رہی۔ اس کا خمیازہ ملک اور قوم نے بھگتا اوربھگت رہے ہیں۔ جمہوریت کی آڑ میں فیوڈلز لوٹتے رہے ۔ عوامی مفاد کا بل کبھی پارلیمنٹ میں منظور نہیں کیا گیا قانون سازی اشرافیہ کو بچانے کے لئے کی جاتی رہیں۔ جن ممالک میں جمہوریت مضبوط ہوتی ہے وہ قومیں اور ملک ترقی کرتے ہیں۔ اگر ملک میںجمہوریت مستحکم نہیں ہوئی تو ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے گریبان میں جھانکیں ۔ اسکا ذمہ دار کون ہے ؟ جمہوریت کے وہ کھیل کھیلے گئے کہ جمہوریت خود شرمانے لگی ہے ۔ آج اگر نواز شریف نے کہہ ہی دیا ہے کہ آئو مل کر اس ملک اور قوم کی خدمت کریں تو اس پر تمسخر اڑانے اُڑایا جا رہا ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو صدق دل سے جمہوریت کو مستحکم کرنے اور ماضی کی غلطیوں سے تائب ہو کر ملک وقوم کی خاطر آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ جمہوریت کی بہترین شکل آئین ہے ۔ آئین نے تمام ملکی اداروں کی حدیں مقرر کی ہیں۔ اپنی اپنی حدود میں رہ کر کیوں نہ اس ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جائے ۔ انتخابات کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتیں ، کیا قوم کو بتائین گی کہ وہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ا دا کریں گے اور پھر اس پر صدق دل سے قائم رہیں گے؟ پارلیمنٹ میں عوام کی بہبود کے لئے قانون سازی کی جائے گی ؟ 1977 ء کے الیکشن اور پھر بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے میں سیاسی جماعتوں کا کردار کیا تھا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کو جلا وطنی کی زندگی گزارنے میں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا کیا کردار رہا ؟ نواز شریف کوتین بار نہ صرف اقتدار سے الگ کردیا گیا جبکہ جیلیں اور جلا وطنی میں زندگی گزارنے میں سیاستدانوں کا کردار کیا رہا ؟پاک فوج اور جملہ اداروں نے اپنی جانیں قربان کرکے وطن عزیز کی سلامتی کو برقرار رکھا ۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں نے جمہوریت کے لفظ کو شرمسار کیا ۔

  • انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات
    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری، اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نمائندگی کرنے والے وکیل علی ظفر کی درخواست سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بیان بازی پر توجہ دینے کے بجائے، درست طور پر نشاندہی کی کہ 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کے تصور کو عملی تجاویزکودیکھنے کی ضرورت ہے۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے ہیں۔ بنچ جسٹس اطہر من اللہ، اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل ہے۔دوران سماعت سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل معزز ججوں کی طرف سے کچھ بہت اہم سوالات اٹھائے گئے تھے،
    جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ آئین میں یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری اگر ہو چکی ہے تو انتخابات کب ہونے چاہئیں؟
    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین نے نئی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ ہ کیا یہ آئینی شق ہے کہ انتخابات 2017 سے 2021 تک مردم شماری کے بعد ہونے چاہئیں؟ اس سوال پر عابد زبیری نے کہا کہ حالات سے قطع نظر 90 دن کے اندر انتخابات کا مطالبہ ہے۔
    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری مکمل ہونے کے بعد الیکشن کرانے کے لیے آئین میں کیا مقررہ مدت درکار ہے۔
    علی ظفرسے بھی سوال کیا گیا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بروقت مردم شماری کرائی، "مردم شماری کی منظوری میں چار سال کیوں لگے؟ لگتا ہے آپ تاخیر کا الزام کسی اور پر لگا رہے ہیں،بتائیں کہ مردم شماری میں تاخیر کا ذمہ دار کون تھا؟ اگر 2017 میں مردم شماری کی منظوری دی گئی تھی تو جلد کیوں نہیں کرائی گئی؟ آدھا سچ کیوں پیش کرتے ہیں؟ پچھلی حکومت نے مردم شماری نہیں کروائی اور جب نئی حکومت نے کرائی تو آپ اسے غلط کہتے ہیں۔ آپ نے اس وقت مردم شماری کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟” [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اگر آئینی طور پر مردم شماری کی ضرورت ہے تو اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنہوں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں بروقت ادا نہیں کیں وہ اب تاخیر، حلقہ بندیوں، اور متعلقہ مسائل پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔

    نوے دن میں انتخابات کے حوالہ سے کیس کی سماعت کے دوران یہ اٹھائے گئے چند اہم سوالات ہیں۔ ایک چیز جو ظاہر تھی وہ یہ تھی کہ عدالت کی طرف سے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی خواہش تھی ،بیان بازی پر پابندی لگانے کے بجائے "قابل عمل” پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، یہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں تاخیر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

    اندرون خانہ مسائل کو حل کرنے کے بعد حتمی تاریخ دینے کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ تاہم، نہ صرف ابھی کے لیے بلکہ مستقبل کی نظیر کے طور پر بھی، قانون کے سوالات کو طے کرنا ہے بلکہ طے کیا جائے گا۔

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • نواز شریف کی واپسی

    نواز شریف کی واپسی

    لندن میں چار سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد نواز شریف کی لاہور واپسی پر جوش و خروش دیکھے میں آیا، نواز شریف کی آمد سے قبل انہیں تین مقدمات میں 24 اکتوبر تک ضمانت دی گئی، زیر بحث پہلا مقدمہ توشہ خانہ کیس تھا، جہاں نواز شریف پر ابھی تک باضابطہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی، لیکن قانونی کارروائی جاری تھی۔ دیگر دو مقدمات، یعنی ایون فیلڈ کیس اور العزیزیہ کیس، میں ان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

    العزیزیہ کیس میں، نواز شریف نے بیرون ملک علاج کرانے کے لیے ضمانت حاصل کی تھی، لیکن وہ وعدے کے مطابق واپس نہ آئے، ایسی صورتحال جس کے نتیجے میں عام طور پر ایک عام شہری کی فوری گرفتاری ہوتی ہے، جس کے بعد ضمانت کی درخواست دائر کی جاتی ہے۔ تاہم نواز شریف کے کیس میں یہ اصول لاگو نہیں کئے گئے،

    اگرچہ نواز شریف کی واپسی جمہوری عمل کے لیے اہمیت کی حامل ہے، لیکن یہ جس انداز میں ہوا اس کے بارے میں اہم خدشات پیدا کرتا ہے، جس سے قانون کی حکمرانی کی ممکنہ بے توقیری کا اشارہ ملتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال عوام میں پولرائیزیشن کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ عوام کا ایک اہم حصہ اب بھی پاکستان تحریک انصاف حکومت کا حامی ہے.

    نواز شریف کی پاکستان واپسی ، پی ٹی آئی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی، پی ٹی آئی کی محاذ آرائی، فوج پر مسلسل تنقید، 9 مئی کا واقعہ اور سائفر کیس جیسے کیسز میں ملوث ہونے کی وجہ سے فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان دراڑ مزید بڑھ گئی،جس نے ملک کی سفارتی کوششوں پر نقصان دہ اثر ڈالا، یہ جزوی طور پر، پی ٹی آئی کی اپنی غلطی تھی جس نے نواز شریف کے لیے سیاسی منظر نامے میں دوبارہ داخل ہونے کا راستہ پیدا کیا.

    احتساب کی بجائے معاشی بحالی کو ترجیح، نواز شریف کا بیانیہ تجزیہ کاروں کو یہ سوال کرنے پر مجبور کر رہاہے کہ کیا وہ انتخابات میں تاخیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عوامی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ یہ اقدام ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے اور پاکستانی سیاست میں مختلف اداکاروں کی جانب سے استعمال کی جانے والی حکمت عملیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • نواز شریف کا نئے سیاسی سفر کا آغاز ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نواز شریف کا نئے سیاسی سفر کا آغاز ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے ملکی سیاست سے ذاتی انتقام، ذاتی چپقلش اور ہنگامہ آرائی کو دفن کر کے ایک نئے سیاسی اور جمہوری اور معاشی سفر کی طرف ملک کو گامزن کرنے اور مستحکم پاکستان کی منزل کے حصول کو اپنا ہدف قرار دیا ہے۔ دہائیوں سے ڈگمگاتی جمہوریت، ہچکولے کھاتی معیشت عوام میں بے یقینی کی کیفیت اور مہنگائی کا طوفان بلاشبہ سیاسی انتقام اور ذاتی پسند اور ناپسند کے تجربات ہی کے ثمرات ہیں جن کا خمیازہ نہ صرف عوام پاکستان اور سیاستدان بھگت رہے ہیں قوم کو ایک نئے آغاز کی ضرورت تھی ایک نئے عزم حوصلے کی ضرورت تھی نوازشریف نے وطن واپسی پر لاہور میں اپنے خطاب میں قوم کو ایک نئی منزل دکھائی۔ نوازشریف نے ملک کی سیاسی تاریخ میں اپنے ادوار میں موٹرویز ، میٹرو بس سروس، سی پیک اور دیگر ایسے میگا پراجیکٹ متعارف کروائے جن سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات پڑے اور ملکی معیشت اس وقت دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت گردانی جاتی تھی۔ ایشین ٹائیگر بننے کا خواب اپنی تعبیر کے قریب تھا نوازشریف نے اپنے خطاب میں عوام کی ضروریات اور قومی ترقی کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت اور تدبیر کے ساتھ بھانپتے ہوئے جس پاکستان کا خواب دیکھا ہے اس میں ملک کے ہر فرد پر نوجوان مرد و زن کو اس کی تکمیل کے لئے حصہ ڈالنا ہوگا وقت آ پہنچا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک دوسرے پر پوائنٹ سکورنگ سے باز رہنا چاہئے۔ سب سے پہلے پاکستان اور اپنا پاکستان مضبوط کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ بلاشبہ نوازشریف نے قید و بند کی اذیتیں اپنے اور خاندان اپنے عزیز ترین رشتوں کی جدائی کے کے غم اور ستم سہے اس کے باوجود نوازشریف اپنے خطاب میں قوم کو برداشت ، تحمل، بردباری ، صبر اور شکر کی تلقین کر گئے۔ جو قابل تعریف ہے۔

  • نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد آج پاکستان پہنچ گئے ہیں، جیل میں بیمار ہونے والے نواز شریف لندن گئے توپھر چار سال تک پاکستان نہ آئے، بھائی شہباز شریف نے پاکستان میں ڈیڑھ برس حکومت کی، نواز شریف واپس نہ آئے، عمران خان جیل گئے اور نگران حکومت بنی تو نواز شریف کا واپسی کی تاریخ کا اعلان ہوا، غیر یقینی کیفیت تھی ، عدالت میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائر ہوئیں تو عدالت نے مجرم کو ضمانتیں دے دیں،اسکے بعد نواز شریف آج پہلے اسلام آباد پہنچے وہاں سے لاہور آئے اور مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کیا

    نواز شریف سٹیج پر پہنچے تو مریم نواز آبدیدہ ہوئیں، نواز شریف بھی رو پڑے،شہباز شریف نے مختصر خطاب کیا اسکے بعد نواز شریف نے 58 منٹ خطاب کر کے ن لیگ کا نیا بیانیہ قوم کے سامنے رکھا، مینار پاکستان گراؤنڈ میں آج سٹیج سیکرٹری کے فرائض مریم نواز نے سنبھالے رکھے نواز شریف ایئر پورٹ آئے، شاہی قلعہ میں ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ ہوئی مگر مریم اپنے والد نواز شریف کو ملنے نہ گئی بلکہ سٹیج پر ہی انتظار کیا، مریم نواز شرکا کے جذبات کو گرماتی رہیں، لال سوٹ پہنے مریم کے آنکھوں سے آنسو آئے تو ساتھ کھڑی مریم اورنگزیب بھی اپنے آنسو نہ روک سکیں،نواز شریف نے اپنے خطاب میں قوم کو جو بیانیہ دیا اس میں بھارت سے دوستی، انتقام کے راستے بند، ملکی ترقی، آئین پر عملداری، اور متحد ہو کر چلنے کا ہے، نواز شریف آج اپنی تقریر کے آخر میں مولانا بن کر کارکنان کو نصیحتیں بھی کرتے رہے کہ درود شریف پڑھیں، تہجد پڑھیں اور رب سے مانگیں، نواز شریف نے اپنے خطاب میں عمران خان کا نام نہیں لیا لیکن عمران خان پر تنقید کرتے رہے، نواز شریف نے ایک بار اپنے خطاب میں خؤاتین کے بارے پوچھا کہ جلسہ گاہ میں کہاں ہیں، جب نواز شریف کو بتایا گیاکہ خواتین کا پنڈال اس طرف ہیں تو نواز شریف نے کہا کہ ہمارے جلسے میں خواتین آرام سے جلسہ سن رہی ہیں،کوئی ڈھول،ناچ گانا نہیں ہو رہا،

    نواز شریف جب اقتدار سے نکالے گئے تھے تو اس وقت نواز شریف نے نعرہ لگایا تھا کہ مجھے کیوں نکالا؟ وہ نعرہ آج بھی نواز شریف لگاتے نظر آئے، نواز شریف نے شرکاء سے روٹی، پٹرول،ڈالر کی قیمت پوچھی اور اپنے دور کی قیمتیں بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے اس لئے نکالا گیا کہ میرے دور میں روٹی سستی تھی، پٹرول سستا تھا، بجلی سستی تھی، لوڈشیڈنگ نہیں تھی،نواز شریف عوامی ہمدردی ھاصل کرنے کے لئے بجلی کا بل بھی ساتھ لائے اور اپنے دور کے بلوں کے ساتھ موازنہ کیا ،نواز شریف نے اپنے دور کی کارکردگی بتائی موٹرویز گنوائیں، تو وہیں شہباز شریف دور کی صفائیاں پیش کرتے رہے کہ جب وہ وزیراعظم تھے قیمتیں اس سے پہلے کی بڑھنا شروع ہو گئی تھیں،

    نواز شریف نے گرفتاری کے دنوں میں ہونے والے واقعات کا بھی تذکرہ کیا ،اہلیہ کی موت کی خبر کیسے ملی، مریم نواز کو کیسے بتایا، جیل سے نواز شریف کی آنکھوں کے سامنے سے مریم نواز کو کیسے گرفتار کیا، سب بتایا اور ساتھ اللہ سے دعا مانگی کہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا،نواز شریف نے عمران خان کے دور حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کوئی منصوبہ، کوئی کارنامہ انکا ہے تو سامنے لاؤ، نواز شریف نےاپنے کارکنان کو یہ بھی نصیحت کی گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، نواز شریف نے آج جلسے کے شرکا سے عہد لیا کہ ملک کی تعمیر نو کریں گے اور پاکستان کو ایک بار پھر جنت بنائیں گے،

    نواز شریف نے اپنے خطاب میں الیکشن کا ذکر نہیں کیا نہ ہی مطالبہ کیا کہ پاکستان میں الیکشن کروائے جائیں، پاکستان میں نگران حکومت ہے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ جنوری کے آخر میں الیکشن کروائیں گے تا ہم ابھی تک واضح نہیں کہ الیکشن کب ہوں گے، نواز شریف اپنے 58 منٹ کے خطاب میں انتخابات کے حوالہ سے بالکل خاموش رہے،

    نواز شریف کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے مریم نواز نے لندن سے واپس آ‌کر ن لیگ کو متحرک کیا، اجلاس کئے اور ضلعی رہنماؤں کو پابند کیا گیاکہ وہ جلسے میں بندے لائیں گے، ایک فارم جاری کیا گیا جسمیں ہرگاڑی میں سوار افراد کی تعداد لکھنی تھی اور وہ تعداد مانیٹرنگ ٹیم نے چیک کی، ایک ایپ بھی ن لیگ نے بنائی تھی جس کے ذریعے ن لیگ یہ مانیٹر کرتی رہی کہ جلسہ گاہ میں‌جو لوگ آئے ان میں سے باہر کوئی نہ جائے،

    نواز شریف کے جلسے میں لاہوریوں نےکتنی شرکت کی؟ مینار پاکستان گراؤنڈ بھرا ہوا تھا تا ہم اس میں لاہوریوں کی تعدا د نہ ہونےکے برابر تھی، ن لیگ نے لاہور میں محنت کی، تاہم عوام کو نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکی، لاہوری گھروں میں رہے، سارا لاہور کھلا رہا، مارکیٹس بند نہیں ہوئیں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا،لاہور جسے ن لیگ کا گڑھ کہا جاتا تھا اس نے آج کے جلسے سے یہ ثابت کر دیا کہ گڑھ نہیں بلکہ گڑھا ثابت ہوا ہے، جلسہ گاہ میں بیرون لاہور سے آئے افراد تو موجود تھے لیکن لاہوریوں کی تعداد انتہائی کم تھی،اگر لاہوری جلسے میں جاتے تو پھر منظر ہی کچھ اور ہونا تھا تا ہم شہباز شریف دور حکومت کی مہنگائی ،بجلی کے اضافی بل، آٹے کی قیمت میں اضافہ، چینی کے بڑھتے نرخوں نے لاہوریوں کو گھروں پر ہی رہنے کو مجبور کیا.ڈیڑھ لاکھ شرکاء کی تعداد بتائی جا رہی ہے، جس طرح استقبال کی مہم چلائی گئی، وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا، ڈی سی گاڑیاں بک کروا کر دیتے رہے،ہر ضلعے سے باقاعدہ حاضری لگوائی ،ٹکٹ ہولڈر کو پابند کیا گیا کہ بندے نہ آئے تو ٹکٹ نہیں،ایسے میں ڈیڑھ لاکھ شرکاء کی تعداد ن لیگ کی ایک طرف سے کامیابی بھی ہے اور ناکامی بھی کیونکہ یہ وہ بندے تھے جو ازخود نہیں آئے بلکہ زبردستی کہہ کہہ کر لائے گئے،

    نواز شریف کا نیا بیانیہ؟ کیا قوم اس سے متاثر ہو پائے گی؟ کبھی بھی نہیں، نواز شریف نے جلسے میں کوئی نئی بات نہیں کی ،بیانیے میں انتقام نہ لینے کی بات نئی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو گا کیونکہ ن لیگ جتنا انتقام لیتی ہے شاید اس سے زیادہ کوئی اور لیتا ہو، ماضی کھنگال کر دیکھ لیں، بینظیر کے بارے نواز شریف کیا کہتے تھے؟ خواتین کے بارے میں ن لیگی رہنما کیا کہتے رہے؟ کبھی ٹیکسی، تو کبھی ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا رہا،ایسے میں قوم کیسے یقین کرے کہ نواز شریف بدل گئے ہیں؟ نواز شریف متحد ہونے کی بات تو کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار تو ن لیگ بھی متحد نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی جو چند دن قبل لندن میں نواز شریف کو مل کر آئے وہ آج جلسے میں نظر نہ آئے، مفتاح اسماعیل پارٹی چھوڑ چکے، نواز شریف مریم کو آگے لانا چاہتے ہیں لیکن ن لیگ کے متعدد رہنما مریم نواز کو پسند نہیں کرتے ، جب ن لیگ گھر میں متحد نہیں تو وہ سیاسی جماعتوں کو، کیسے متحد کرے گی؟

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

    نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے امریکہ خائف کیوں؟ تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے امریکہ خائف کیوں؟ تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    چین کا قومی دن ہر سال یکم اکتوبر کو منایا جاتا ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ طویل خانہ جنگی سے چھٹکارے کے بعد 21ستمبر 1949ءکو چین کے عظیم راہنما ماﺅزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی جبکہ یکم اکتوبر چین کا قومی دن قراردیا گیا ۔ ہر سال یکم اکتوبر سے سنہری ہفتہ کا آغاز ہوتا ہے، جسے پوری قوم کی طرف سے زبردست تیاریوں کے ساتھ مناتی ہے۔ بیجنگ، شن جن، ہاربین، ہانگ جو اور شیامن سمیت وسیع وعریض ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اسی طرح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی اس مناسب سے تقریبات کااہتمام کیا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو چین کی دوستی پر فخر ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان لازوال دوستی کا سلسلہ گزشتہ 74برسوں سے جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوستی مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ 1951 ءمیں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں سے پاکستان اور چین کے مابین باہمی تعلقات کا آغاز ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ترہوتے چلے گئے د±نیا اور خطے میں سیاسی تغیرو تبدل سے بالا تر دونوں ملکوں کی دوستی پروان چڑھتی رہی جو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی اور علاقائی سطح پر چین کی حمایت کی ہے تائیوان، تبت ودیگر مسائل پر ہمیشہ چین کے اصولی موقف کی تائید کی۔ چین نے بھی پاکستان کی علاقائی سلامتی، آزادی اور حفاظت کے لیے کھلے دل کے ساتھ ہمیشہ مددو حمایت کی ہے ۔

    چین کی عظمت اور ابھرتے ہوئے عالمی کردار کو شاعر مشرق مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے بہت پہلے جان لیا تھا ۔1930ءکی دہائی میں چین میں جب مازﺅتنگ نے اپنی انقلابی تحریک کاآغازکیا اسی وقت شاعرمشرق علامہ محمداقبال نے اپنی شہرہ آفاق نظم ” ساقی نامہ “ لکھی تھی جس کے آخری دوشعریہ ہیں
    گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
    ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
    30ءکی دہائی میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے چینی قوم کے بارے میں جوکچھ کہاتھا آج پوری دنیااسے حرف بحرف درست ثابت ہوتادیکھ رہی ہے۔چین ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن چکا ہے اوریہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چند سالوں میں چین امریکہ کے مقابلے کی طاقت بن جائے گا یا پھر امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔اس وقت چین جس جگہ کھڑاہے وہاں جنگ عظیم اول اوردوم کے وقت امریکہ کھڑاتھا۔اس وقت امریکہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن رہاتھاجبکہ آج چین امریکہ کی جگہ لے رہاہے۔فرق یہ ہے کہ امریکہ کے عالمی طاقت بننے میں جنگ عظیم اول اور دوئم کابنیادی کردار ہے ۔یہ دونوںجنگیں امریکہ کے ساحلوں اورسرحدوں سے دوڑ لڑی گئی تھیں۔تمام متحارب ممالک میدان جنگ بن چکے تھے،ان کی فیکڑیاں اورکارخانے تباہ ہوچکے تھے ایسے وقت میں امریکہ کے ساہوکاروں نے اسلحہ بنابنا کربیچا اوراپنی تجوریاں دولت سے خوب بھریں۔یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگرجنگ عظیم اول اوردوم برپانہ ہوتیں توامریکہ عالمی طاقت کبھی بھی نہ بنتا۔جب امریکہ عالمی طاقت یاسپرطاقت بن گیاتواس کے بعدبھی اب تک اس کا رویہ دنیاکو لڑاﺅ۔۔۔۔اپنااسلحہ بیچو۔۔۔ اوراپنی تجوریاں بھرووالاہے۔امریکہ اس وقت ایسے خونخواردرندے کاروپ دھارچکاہے کہ جس کے منہ کوخون لگ جاتاہے اوروہ خون کی پیاس بجھانے کے لئے ہروقت شکارکی تلاش میں رہتاہے۔امریکہ کے دامن پرلاکھوں کروڑں انسانوں کاخون ہے ، حکومتوں کو گرانے اور بنانے کے گھناﺅنے الزامات ہیں، دنیا کے مختلف ممالک کے حکمرانوں کو قتل کروانے ، پھانسیوں پر لٹکوانے، جلاوطن کروانے کے بدنما داغ ہیں۔الغرض امریکہ کا رویہ خدائی خدمت گار اور تھانیدار والا رہا ہے، ہر ایک کے کام میں ٹانگ اڑانا ، ہر جگہ پنگے لینا ، بدمعاشی کرنا ، قتل وغارت کروانا، ڈاکے ڈالنااور اپنی تجوریاں بھرنا امریکہ کا وطیرہ رہا ہے۔اس کے برعکس چین کارویہ دنیاکے ساتھ مفاہمانہ،دوستانہ ،جیواورجینے دووالا ہے۔ چین دوسرے ملکوں کوروندنے اورپامال کرنے کی بجائے تجارت،معیشت اورصنعت پریقین رکھتاہے۔ چینی قوم ایک طرف صنعت،تجارت،حرفت میں ترقی کررہی ہے تودوسری طرف اپنی زبان کی ترویج کے لئے بھی بھرپورکوشش کررہی ہے اس لئے کہ انسانی تاریخ کی کسی بھی عالمی قوت کی طرح چین کو بھی ا س بات کا ادراک ہے کہ جب تک دنیا چینی زبان نہ سیکھے گی تب تک اس کا امریکہ کے مقابلے میں اپنی جگہ بنانا ناممکن ہے۔ اسی لئے چینی حکومت دنیا کو چینی زبان سکھانے کی طرف خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ترقی یافتہ ممالک تو اپنی ضرورت کے تحت اب بچوں کو چینی زبان سکھانے کی طرف توجہ دے رہے ہیں لیکن بہت سے ملکوں میںچینی حکومت خوداپنی زبان کی ترویج واشاعت کے لئے کوشاں ہے اس مد میںچین اربوں یوآن سالانہ خرچ رہا ہے۔ بہت سے افریقی ممالک جہاں چین نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے ان میں ہر سال سینکڑوں چینی استاد بھیجے جاتے ہیں جو وہاں جا کر چینی زبان کے مقامی استاد تیار کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ چینی حکومت بہت سے ملکوں کے طلباءکیلئے وظائف مہیا کرتی ہے کہ وہ چین جائیں اور چینی زبان سیکھیں۔ ایسے تمام طلباءجو چین میں اعلی تعلیم کے حصول کیلئے جاتے ہیں انکے لئے سال چھ مہینے کا چینی زبان کا نصاب لازمی ہوتا ہے۔الغرض چین کی طرف سے اس ضمن میں نہایت سنجیدہ اور کامیاب کوششیں جاری ہیں۔

    پاکستان اورچین کے تعلقات بہت گہرے اورمضبوط ہیں وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات مضبوط سے مضبوط ترہوتے چلے جارہے ہیں خاص کرسی پیک کے بعدتعلقات کی مضبوطی اورگرم جوشی میں کئی گنااضافہ ہوچکا ہے۔سی پیک کے منصوبوں کے اجرا کے بعد پاکستان میں چینی زبان سیکھنے کا وفاق سمیت چاروں صوبوں میںرجحان بہت بڑھ چکا ہے ۔ چین کی مادی ترقی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے لیکن دنیا میں شائد چینی ہی ہیں جن کی انگریزی سب سے کمزور ہوگی۔ انگریزی زبان میں سب سے زیادہ مہارت رکھنے پر فخر کرنے والے بھارت کی ترقی چین کے مقابلے میں ناقابلِ یقین حد تک کم ہے۔ وجہ سیدھی سی ہے چین نے اپنی زبان پر فخر کرنا سیکھا اور اس کو فروغ دیا۔ کئی عشروں تک فروغ کا عمل اندرونی حد تک محدود رہا۔ شائد ہی دنیا کی کسی زبان کی کوئی قابلِ ذکر کتاب ہو جو چینی زبان میں ترجمہ ہو کر ایک عام چینی کی دسترس میں نہ لائی گئی ہو۔ انٹر نیٹ کا زمانہ آیا تو ہر طرح کی ویب سائٹس کو چینی زبان میں متعارف کروایا گیا اور آج گوگل جیسی تحقیقی ویب سائٹ سے لیکروکی پیڈیا جیسی معلوماتی ویب سائٹ تک اور فیس بک جیسی سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے لیکر یاہو اور جی میل جیسی ذاتی رابطے کی ویب سائٹ تک ، ہر طرح کی انٹر نیٹ کی سہولتیں ایک عام چینی کو اپنی زبان میں میسر کی گئی ہیں اور پھر یہ تمام سہولتیں چین کے اپنے دائرہ اختیار میں ہیں ، کوئی دوسرا ملک جب چاہے اس سے یہ سہولتیں واپس نہیں لے سکتا یا ان ویب سائٹس میں موجود معلومات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا(جیسا کہ ہمارے معاملے میں ہے)عرض صرف اتنی ہے کہ ہمیں چینی زبان سیکھنے کے معاملے میں وہ غلطیاں نہیں دہرانی چاہئیں جو ہم نے انگریزی کے معاملے میں کی ہیں اور کرتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں چینی زبان کے ساتھ ساتھ فرانسیسی، جرمن، روسی، جاپانی اور دوسری اہم زبانیں بھی اپنے بچوں کو سکھانی چاہئیں لیکن ایک بامقصد اور وضع شدہ پروگرام کے ساتھ اور صر ف اپنے قومی مفاد میں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی قومی زبان اردو کو بھی اس کااصل مقام دیں ۔آخری بات یہ ہے کہ ہم اپنے ہمسائے اور قابل فخردوست چین سے سیکھیں کہ کیسے انھوں نے معاشی ترقی کی اور اپنے ملک کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جو کامیابی اور عزت کا راستہ ہے ۔ چین کی لیڈر شپ نے اپنے ملک کو جس راستے پر ڈالا اسے دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ۔۔۔۔اب چین ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بننے جارہا ہے ۔ اس کامیابی پر ہم چین کی لیڈر شپ اور چینی عوام کو خراج تحسین اور مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔

  • عمران خان میرے بغیر حکومت نہیں بناسکتے تھے. پرویزخٹک

    عمران خان میرے بغیر حکومت نہیں بناسکتے تھے. پرویزخٹک

    عمران خان کا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی حکومت نہیں بناسکتے تھے، پرویزخٹک

    سربراہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عمران خان کا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی حکومت نہیں بناسکتے تھے، پی ڈی ایم پر لوگ مزید اعتبار نہیں کرسکتے جبکہ سوات میں کارکنوں سے خطاب میں پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت میں آکر چیئرمین تحریک انصاف کا رویہ بدل گیا، سابق وزیر اعظم کی حکومت ترقی لاتی تو آج پنجاب کی یہ حالت نہ ہوتی۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹیاں عوام سے وعدے کرتی ہیں اور پھر ہمیشہ منشور پر سمجھوتا کرتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک پارٹی بنائی، پی ٹی آئی پارلیمنٹرین حقیقی جمہوری، عوامی پارٹی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    جبکہ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم نے آزمائی ہوئی پارٹی میں جانے کے بجائے اپنی پارٹی بنائی، جلد پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو صوبے کی بڑی پارٹی بنا کردم لیں گے، واضح رہے کہ پرویز خٹک کے کارکنوں سے خطاب سے قبل رہنما ن لیگ حبیب علی شاہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین میں شامل ہوئے۔