Baaghi TV

Category: کاروبار

  • آئی ایم ایف عالمی ماہرین کی ٹیم کا آج وزارت تجارت کا دورہ

    آئی ایم ایف عالمی ماہرین کی ٹیم کا آج وزارت تجارت کا دورہ

    وزارت تجارت کے مطابق آئی ایم ایف عالمی ماہرین کی ٹیم آج وزارت تجارت کا دورہ کرے گی،مشیر تجارت تجارتی خسارے اور درآمدات میں کمی کے اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے.آئی ایم ایف ٹیم مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد سے ملاقات کرے گی.جو آئی ایم ایف ٹیم کو برآمدات میں اضافے کے حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں گے،

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا ٹیکنیکل مشن سیلزٹیکس سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔ واضح رہے کہ مجموعی ٹیکس محصولات میں سیلز ٹیکس کا حصہ 40 فیصد ہے۔ مشن کی توجہ سیلز ٹیکس اخراجات، استثنیات، اور گنجائش کے مقابلے میں کم محصولات جمع ہونے پر مرکوز رہے گی۔
    کیا آئی ایم ایف ایک بار پھر حکومت کو ٹیکسز بڑھانے کا کہے گا ؟
    سروے آف پاکستان کے مطابق گذشتہ مالی سال میں ٹیکس استثنیٰ سے 972.4 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا جو گذشتہ سے پیوستہ مالی سال کے 431 ارب روپے کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہے۔ اس نقصان میں انکم ٹیکس استثنیات کا حصہ 141.6 ارب روپے تھا۔

    اسد عمر نے آئی ایم ایف بارے خوش کن خبر دے دی

  • کیا آئی ایم ایف ایک بار پھر حکومت کو ٹیکسز بڑھانے کا کہے گا ؟

    کیا آئی ایم ایف ایک بار پھر حکومت کو ٹیکسز بڑھانے کا کہے گا ؟

    عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے ٹیکنیکل مشن نے پاکستان کے زوال پذیر ٹیکس نظام کے جائزے کے لیے مذاکرات کا آغاز کردیا۔

    گزشتہ روز شروع ہونے والے مذاکرات میں ٹیکس سسٹم کے جائزے پر گفت و شنید ہوگی جو رواں برس اضافی ٹیکسوں کی مد میں 734 ارب کی لیوی کے باوجود خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھاسکا۔ آئی ایم ایف مشن خاص طور سے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کو زیر غور لائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس سے استثنیٰ وزیراعظم کے ڈیٹ انکوائری کمیشن کے ریڈار پر بھی ہے۔

    کمیشن نے پاکستان پیپلزپارٹی ( 2008-13 ) اور پاکستان مسلم لیگ ( ن ) ( 2013-18) کے گذشتہ ادوار میں دیے گئے استثنیٰ کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔
    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے مطابق پہلے روز آئی ایم مشن نے ایف بی آر کے ساتھ اجلاس میں سیلزٹیکس اور کارپورٹی انکم ٹیکس کے معملات پر تفصیلی گفتگوکی۔ آئی ایم ایف مشن پاکستان میں 2 ہفتے تک قیام کرے گا اور اس دوران وفاقی اور صوبائی ٹیکس حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔

    ٹیکینکل اسسٹنس ٹیم کی ملاقاتیں 29 نومبر کو ختم ہوں گی اور اسی تاریخ کو آئی ایم ایف کا جائزہ مشن جولائی تا ستمبر کے عرصے کے دوران 6 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا ٹیکنیکل مشن سیلزٹیکس سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔ واضح رہے کہ مجموعی ٹیکس محصولات میں سیلز ٹیکس کا حصہ 40 فیصد ہے۔ مشن کی توجہ سیلز ٹیکس اخراجات، استثنیات، اور گنجائش کے مقابلے میں کم محصولات جمع ہونے پر مرکوز رہے گی۔

    سروے آف پاکستان کے مطابق گذشتہ مالی سال میں ٹیکس استثنیٰ سے 972.4 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا جو گذشتہ سے پیوستہ مالی سال کے 431 ارب روپے کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہے۔ اس نقصان میں انکم ٹیکس استثنیات کا حصہ 141.6 ارب روپے تھا۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم کارپوریٹ ٹیکس اور بڑی فرموں کو دیے جانے والے استثنیٰ کا بھی جائزہ لے گی۔ ٹیم انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکنڈ شیڈول کو بھی تفصیلاً زیربحث لائے گی جو ٹیکس استثنیٰ سے پُر ہے اور جس میں بڑے کاروباروں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کو رعایتیں دی گئی ہیں۔ ٹیم کسٹم ڈیوٹی اسٹرکچر اور کم محصولاتی آمدنی کی وجوہ کا بھی جائزہ لے گی۔

  • پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    اب تک تقریبا ہر شخص یہ تسلیم کرچکا ہے کہ کھپت پر مبنی ترقی کا ماڈل جس پر پاکستان بہتر شرح نمو کو حاصل کرنے کے لئے بھروسہ کرتا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ زیادہ تر مبصرین اس بات سے بھی متفق ہیں کہ پاکستان کو ترقی کے کلیدی محرک کی حیثیت سے برآمدات کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ اس بیانیہ نے موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو استحکام کے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لئے اہم گنجائش فراہم کی ہے جس کا مقصد کھپت پر قابو پانا ہے جبکہ بیک وقت ، صنعتوں کو برآمد کرنے کے لئے مراعات فراہم کرنا ہے۔

    تاہم ، بیشتر مبصرین کی یہ اور اس جیسی پالیسی تجاویز نے اس غلط فہمی کو جنم دیا ہے کہ معاشی عدم توازن کا ازالہ کرنے کے لئے صرف استحکام کی پالیسیاں ہی کسی نہ کسی طرح اعلی نمو کے راستے کو جنم دیتی ہیں جو کہ آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج سے بچا لیتی ہیں یہ غلط ہے۔

    استحکام کی پالیسیاں جس میں مالی اور مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں معیشت کو اس کی بنیادی پیداواری شرح نمو کے گرد مستحکم کرتی ہیں۔ اس کو دیکھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ، جب بھی جی ڈی پی بنیادی پیداواری شرح نمو سے زیادہ بڑھتی ہے ، معاشی عدم توازن سامنے آنا شروع ہوتا ہے ، جس سے پالیسی سازوں کو استحکام کی پالیسیوں کے ساتھ جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اگر 2013 سے 2018 تک کے مالی سال اور ان کی جی ڈی پی گروتھ کی بات کی جائے تو ان سالوں میں شرخ نمو 4 فیصد سے زائد رہی لیکن کرنٹ اکاونٹ خسارہ کل جی ڈی پی کا 1.54- سے 6.14- تک جا پہنچا ، جس کے نتائج ابھی تک موجودہ حکومت بھگت رہی ہے،

    اسی طرح کی صورتحال مالی سال 2004 سے 2008 کے درمیان پیدا ہوئی جب جب ملک کی جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد سے زائد تھی لیکن پانچ سال بعد کرنٹ اکاونٹ خسارہ جو کہ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد تھا وہ 9.2 فیصد تک جا پہنچا، ان دونوں ادوار میں خسارے کی بنیادی وجہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ کا دیر بعد ہونا ثابت ہوئی، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ اپنی ترقی کی شرخ 5 فیصد سے اوپر لیکر جانا چاہتے ہیں تو اس کی بنایدی وجہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے نہ کہ مانیٹری یا مالیاتی پالیسی کی توسیع ہونی چاہیے،

    مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا

    ہماری توجہ کو پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی طرف موڑنے کی اہمیت کو اس اہم کردار کو تسلیم کرکے مزید سراہا جاسکتا ہے جو اس نے ملک کی برآمدات کی کارکردگی میں ادا کیا ہے۔ جرنل آف انٹرنیشنل اکنامکس میں شائع ہونے والے 2002 کے ایک مقالے میں ، محققین ہسپانوی مینوفیکچرنگ فرموں کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ برآمدی منڈی میں داخل ہونے کا امکان زیادہ تر پیداواری فرموں کے پاس ہے۔جائزہ برائے عالمی اقتصادیات میں شائع ہونے والے 2005 کے ایک مقالے میں ، بوکونی یونیورسٹی اور سنٹر فار یورپی اقتصادی تحقیق کے محققین نے جرمن مینوفیکچرنگ فرموں کے لئے اسی طرح کے نتائج برآمد کیے۔ امریکن اکنامک ریویو میں شائع ہونے والا 2008 کا ایک مقالہ تائیوان کے الیکٹرانکس پروڈیوسروں کے لئے بھی یہی دکھایا گیا ہے۔

    معیشت کی پیداواری صلاحیت کا تعین کرنے والے عین عوامل بہت زیادہ چرچ کا موضوع بنے ہوئے ہیں جو ابھی تک حل طلب نہیں ہیں۔ لیکن نسبتا یقین کے ساتھ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ پیداواری شرح نمو اس بات پر منحصر ہے کہ کسی ملک کے معاشی وسائل پیداواری مقاصد کے لئے کس طرح موثر انداز میں اکٹھے ہوسکتے ہیں، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی خاطر، پالیسی سازوں کو اپنی توجہ صرف وسائل کے معیار پر ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ اس کے بجائے ، اور جیسا کہ رابرٹ سولو (ایک اور نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات) کہتا ہے کہ ، معاشرتی اصول اور ادارے بھی کسی ملک کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی جستجو میں عوامل کو محدود کرنے یا ان کو بہتر کرنے میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گوادر پورٹ پوری طرح فعال ہے، برآمدات میں کتنا ہوا اضافہ؟ مشیر تجارت نے بتائی اہم باتیں

    اس پر غور کرتے ہوئے ، ایسی کوئی بھی پالیسی جو کسی ملک کے وسائل یعنی زمین ، مزدوری اور سرمایے کے مابین تعامل کو سہولت فراہم کرتی ہے یا اس طرح کے وسائل کے معیار کو بہتر بناتی ہے وہ معیشت کی پیداوری کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔
    بہت سے معاملات میں ، قدیم اور ناقص تحقیق شدہ قواعد و ضوابط کی بہتات معاشی وسائل کو اکٹھا کرنے میں کلیدی رکاوٹ پیش کرتی ہے۔ دوسرے معاملات میں ، مناسب قوانین کا فقدان وہ ہے جو مارکیٹوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    اسی طرح علاقائی وسطی اور جنوبی ایشین معیشتوں کے ساتھ تجارتی روابط کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ اہم انفراسٹرکچر اور سفارتی راہداری میں رکاوٹوں کا ازالہ کرنا معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں بہت آگے جاسکتا ہے۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کی اصلاح ایک اور شعبہ ہے جس پر ضروری توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے استحکام کے بیشتر اقدامات پہلے ہی کر رکھے ہیں ، لہذا توجہ مرکوز کو پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کی طرف ہونا چاہئے۔ توقع ہے کہ ایک سال کے عرصے میں معیشت مستحکم ہونے لگے گی۔ تاہم ، یہ سارے اسباب کم و بیش چار فیصد کی معمولی شرح سے بڑھ رہے ہیں۔

    اور اب اگر حکومت ان اصلاحات کا آغاز نہیں کرتی تو الیکشن کے قریب حکومت کو ایک بار پھر پرانے گھسے پٹے نعروں اور ترقی کے اشاروں کا سہارا لینا ہوگا جو کہ عین ممکن ہے کہ ایلکشن میں کامیاب نہ کرو سکیں،

  • پنجاب سیڈ کونسل نے 31 اقسام کے بیجوں کی منظوری دے دی

    پنجاب سیڈ کونسل نے 31 اقسام کے بیجوں کی منظوری دے دی

    لاہور: محکمہ زراعت آفس میں صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال کی زیر صدارت میں پنجاب سیڈ کونسل کا 52 واں اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں مجموعی طور پر بیجوں کی 31 اقسام کی منظوری دی گئی جن میں آلو کی 3، شوگر کین کی 4، آئل سیڈ کی 2، چاول کی 2، پیاز کی 2، پھولوں کی 3، مٹر کی 1، جئی کی 2، انکیر کی 1، انگور کی 3، ہائبرڈ چاول کی 1 اور مسعر کی 1 بیج کی منظوری دی گئی،

    محکمہ زراعت ہیڈ آفس ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر عابد اور ڈائریکٹر جنرل فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن مسعود قریشی اور سیڈ کونسل کے دیگر عہدیداران نے شرکت کی، اجلاس میں زراعت کی ترقی کیلئے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

  • گجرات لاری اڈہ جگا ٹیکس۔اڈہ فیس 60 روپے کی بجائے من مانے ریٹ

    گجرات لاری اڈہ جگا ٹیکس۔اڈہ فیس 60 روپے کی بجائے من مانے ریٹ

    گجرات(چوہدری فیضان ارشاد سے )لاری اڈہ جگا ٹیکس کیس۔الفتح سنز کے چوہدری رفعت محمود،چوہدری ہمایوں سرور ساکنائے خونی چک،منشی مسعود اختر،ملک رضوان،محبوب،رفیع عرف اعجاز ججی کے خلاف فردجرم عائد۔سنیئر سول جج گجرات محمد شعیب عدیل نے کیس کی سماعت 5 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے کیس کے تمام گواہان کو طلب کرلیا۔ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے اڈہ فیس فی گاڑی سرکاری ریٹ 60 روپے کی بجائے 350/600 روپے تک وصول کرتے رہے ہیں۔ملزمان کے خلاف تھانہ لاری اڈہ میں خرم شہزاد ڈرائیور کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 105/19درج ہے۔مزید تفتیش جاری۔۔۔

  • سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافے کے باعث اگست 2019 کے دوران سی فوڈ کی برآمدات کا کل حجم ایک کروڑ 88 ڈالر تک پہنچ گیا، گزشتہ سال کی اسی مدت میں برآمدات کا حجم ایک کروڑ 77 لاکھ ڈالر تھا، پی بی ایس
    دنیا بھر میں پاکستان کی سی فوڈ کی طلب میں بتدریج اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ اگست2019 کے دوران عالمی منڈیوں میں پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات 6.2 فیصد بڑھ گئیں جس میں مزید اضافہ متوقع ہے،

    ملائشیا میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں کتنا ہوا اضافہ؟ خبر آ گئی

  • پنجاب حکومت کی بڑی کامیابی

    پنجاب حکومت کی بڑی کامیابی

    رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پنجاب حکومت نے پچھلے سال کی نسبت 44 فیصد زیادہ ٹیکس اکٹھا کر کے باقی صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا،
    وسائل کے وفاقی تقسیم کے تدارک میں صوبوں کے لئے حصہ لینے کے لئے وفاقی حکومت کی سخت شرائط کے باوجود ، گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلہ میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پنجاب کے ٹیکس وصولی میں 44 فیصد اضافے سے 77 ارب روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت نے پیر کو محکمہ خزانہ کے جائزہ اجلاس میں اس کا انکشاف کیا۔

    ہنڈائی موٹرز موبلٹی ٹیکنالوجی پر کتنے بلین ڈالر خرچ کرے گی؟ خبر آ گئی

    اجلاس کو بتایا گیا کہ سابقہ ​​حکومت کے مالی اعداد وشمار کے باوجود موجودہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) قرض پروگرام کی شرائط کی تعمیل کے لئے وفاقی حکومت کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 233 ارب روپے کا فاضل بجٹ دیا، اجلاس کے شرکاء نے نوٹ کیا کہ رواں مالی سال 2019۔20 کے لئے پنجاب کے لئے 388 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا ، جو پچھلے مالی سال سے 44 فیصد زیادہ تھا۔

    مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا

  • پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروبار کا مثبت رجحان

    پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروبار کا مثبت رجحان

    پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروبار کا مثبت رجحان رہا.کاروبارکے دوران100انڈیکس میں 70پوائنٹس کا اضافہ ہوا.کاروبار کے دوران انڈیکس34ہزار259پرٹریڈ کرتے دیکھا گیا.

    آڑو پاکستانی معیشت میں مٹھاس بھر سکتا ہے


    گزشتہ روز بھی مارکیٹ کا رجحان مثبت تھا . اور پچھلے کافی دنوں‌سے ممجبوعی طور پر اسٹاک مارکیٹ کا رجحان مثبت ہی جارہا ہے .واضح رہے کہ پچھلےکچھ عرصے سے مجموعی طور پر ملا رجحان آ رہا ہے اسٹاک مارکیٹ ذرائع کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا آغاز کے ایس ای 100 انڈیکس میں 31 ہزار 658 پوائنٹس پر ہوا۔ کاروبار کے آغاز کے 100 انڈیکس میں 80 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 31 ہزار 578 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا تاہم کاروبار کے اختتام سے دو گھنٹے قبل تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ملا جلا رجحان موجود رہا۔
    پاکستان اور چین کا سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ

  • کراچی میں تاجروں کی بھوک ہڑتال

    کراچی میں ایف بی آر کےاضافی ٹیکسوں کے خلاف تاجر ایکشن کمیٹی کا بھوک ہڑتال کااعلان کیا ہے ، تاجر ایکشن کمیٹی کے چیئرمین شرجیل گوپلانی نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آرہماری بات سننےکوتیار نہیں ہیں ، ہم اس سلسلے کے لیے ملنے گئےتو تاجرون پر تشدد کیاگیا،.ہم اضافی اور بے جا ٹیکسوں کو مسترد کرتے ہیں،

    ادھراجروں کی طرف سے حکومت کی معاشی پالیسیوں کیخلاف آج آبپارہ چوک سے سرینا چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی تاہم سرینا چوک پہنچنے پر جب تاجروں‌ کو روکا گیا تو پولیس اور تاجروں کے درمیان جھڑپیں‌ شروع ہو گئیں اور پتھراؤ کیا گیا، اس موقع پر تاجروں سے سرینا چوک پر ہی احتجاجی دھرنا دے دیا، تاجروں کی جانب سے اس موقع پر آبپارہ سے ایف بی آرکی طرف جانےوالاراستہ بھی بلاک کردیا گیا، تاجروں کے ریڈزون میں داخلے کی کوشش پرپولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا جس کے جواب میں مظاہرین نے اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کردیا جب کہ ایف بی آر حکام سے مذاکرات ناکام ہونے پر انجمن تاجران نے 28 اور 29 اکتوبرکو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا ہے،
    تاجر برادری کا سید آفتاب حسین گیلانی کو بینک آف آزاد جموں و کشمیر کی کا قائم مقام صدر مقرر کرنے کا خیر مقدم

    حاصل بزنجو، چیئرمین سینیٹ کے اپوزیشن کے متقفہ امیدوار،سینیٹر کب بنے؟

    چیئرمین سینیٹ کے امیدوار پر اپوزیشن کا ہو گیا اتفاق،کون ہو گا نیا چیئرمین سینیٹ؟

    وزیراعظم چین سے وطن واپسی کیلئے روانہ، اگلا دورہ کس دوست ملک کا ہو گا؟ خبر آ گئی

  • کون بنا معاشیات کے نوبل انعام کا نیا حقدار ؟

    کون بنا معاشیات کے نوبل انعام کا نیا حقدار ؟

    معاشیات کا نوبل انعام غربت کے خاتمے اور بدحال معیشت کو ترقی کی راہ پر لانے کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کے اعتراف میں تین امریکی ماہرین کو دے دیا گیا، انعام کی رقم 9 لاکھ 15 ہزار ڈالر ہے جو تینوں میں یکساں طور پر تقسیم کی جائے گی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق نوبل انعام برائے معاشیات سے امریکی ماہرین مائیکل کریمر، خاتون ایستھر ڈوفلو اور ابھیجت بینر جی کو نوازا گیا ہے۔ رائل سویڈش اکیڈیمی کی جانب سے خوش نصیب ماہر اقتصادیات کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان تینوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ایک ایسا تحقیقی کام کیا جس سے غربت کے شکار ممالک میں بدحالی کے خاتمے اور لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر کرنے میں مدد ملی۔

    مائیکل کریمر
    نوبل انعام برائے معاشیات حاصل کرنے والے امریکی ماہر معاشیات مائیکل کریمر 1964ء کو پیدا ہوئے اور اس وقت ہارورڈ یونیورسٹی میں ترقی یافتہ معاشروں کے لیے مہمان پروفیسر کے بطور خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اقتصادیات کی دنیا کا ایک معتبر ترین نام ہیں۔ ان کی پیش کی گئیں تھیوریز کریمو او رنگ نے معاشی الجھنوں کو سلجھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    ابھیجیت بینرجی

    نوبل انعام حاصل کرنے والے ماہر معیشت ابھیجت بینر جی نے امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور امریکی اکانومسٹ میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی (MIT) میں معاشیات کے پروفیسر ہیں۔ ابھیجت بینر جی نے دنیا سے غربت کے خاتمے کے لیے ’عبدالطیف جمیل پوورٹی لیب‘ قائم کی تھی۔

    ایستھر ڈوفلو

    معاشیات کے نوبل انعام کی شریک حق دار 46 سالہ ایستھر ڈوفلو فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں سن 1972ء کو پیدا ہوئیں تھیں اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ ابھیجت بینرجی کے ساتھ عالمی تحقیقی مرکز عبدالطیف جمیل پوورٹی لیب کی شریک بانی بھی ہیں۔

    یاد رہے کہ اکنامکس سائنسز کا نوبل انعام الفریڈ نوبل کی یاد میں سویڈن کے مرکزی بینک (Sveriges Riksbank) نے اپنے قیام کی 300 ویں سالگرہ کے موقع پر 1968ء میں شروع کیا تھا۔ سویڈن کے مرکزی بینک کو دنیا کا قدیم ترین بینک سمجھا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ اکنامکس کے پرائز کے اعلان کے ساتھ ہی 7 اکتوبر کو میڈیسن کے شعبے سے شروع ہونے والے نوبل انعام کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔

    وزیراعظم نے مہنگائی کی لہر کو قابو کرنے کا حکم جاری کر دیا