Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سعودی سرمایہ کار گروپ کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں دلچسپی

    سعودی سرمایہ کار گروپ کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں دلچسپی

    اسلام آباد: سعودی عرب کے ایک بڑے سرمایہ کار گروپ نے پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جبکہ حکومت نے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت اور مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے گزشتہ روز کاروباری شخصیات، اوورسیز پاکستانیوں اور میڈیا نمائندگان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع، دوطرفہ تجارتی تعاون اور معاشی شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد میں سابق ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز پی ٹی وی اسلام آباد رشید خان نیازی، فالکن وژن کمپنی (جدہ، سعودی عرب) کے نائب چیئرمین و صدر محمد طارق غوث، فالکن وژن پاکستان کے بزنس ہیڈ ذوالفقار، کنٹری ہیڈ ڈاکٹر عصمت اللہ خان، مقبول، کرنل جمشید اور جنوبی کوریا میں مقیم اوورسیز پاکستانی عتیق سمیت لگژری گاڑیوں کے شعبے سے وابستہ معروف کاروباری شخصیات شریک تھیں۔

    ملاقات کے دوران سعودی سرمایہ کار گروپ نے پاکستان میں مختلف اقتصادی شعبوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے سرمایہ کاروں کو حکومت کی جانب سے مکمل سہولت کاری، شفاف پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور دوست ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سعودی سرمایہ کاری سے نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مختلف صنعتی شعبوں میں ترقی کی رفتار بھی تیز ہوگی۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1000 روپے کمی ہو گئی ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج بدھ کے روز فی اونس سونے کی قیمت 10ڈالر کی کمی سے 4ہزار 40ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت ایک ہزار روپے کی کمی سے 4لاکھ 26ہزار 436روپے کی سطح پر آگئی،فی 10 گرام سونے کی قیمت 857روپے کی کمی سے 3لاکھ 65ہزار 600روپے ہو گئی۔

    عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 68 سینٹس کے اضافے سے 58ڈالر 12سینٹس کی سطح پر آنے کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 68روپے کے اضافے سے 6ہزار 291روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 58روپے کے اضافے سے 5ہزار 393روپے کی سطح پر آگئی۔

  • ملک بھر میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے-

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 300 روپے کی بڑی کمی ہوئی، جس کے بعد ملک میں ایک تولہ سونا 4 لاکھ 27 ہزار 436 روپے میں فروخت ہونے لگا،اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 687 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 66 ہزار 457 روپے مقرر ہوگئی،جبکہ،بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 43 ڈالر کی کمی سے 4ہزار 050ڈالر کی سطح پر آگئی،ہے-

    اسی طرح، فی تولہ چاندی کی قیمت 174روپے کی کمی سے 6ہزار 223روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 149روپے کی کمی سے 5ہزار 335روپے کی سطح پر آگئی۔

    صرافہ ڈیلرز کے مطابق حالیہ کمی کے بعد زیورات خریدنے کے خواہشمند افراد کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے، تاہم قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث خریدار اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ چند روز کے دوران مقامی مارکیٹ میں مزید کمی یا استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے، تاہم کسی بھی بڑی عالمی معاشی یا سیاسی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئیں

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پیر کو کاروبار کے اختتام پر ایک ہفتے سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئیں،برینٹ خام تیل کی قیمت 8.42 ڈالر یا 8.7 فیصد کمی کے بعد 88.36 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو 17 جولائی کے بعد اس کی کم ترین سطح ہےامریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 6.70 ڈالر یا 7.5 فیصد کمی کے بعد 82.61 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

    توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے،مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

  • عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    عالمی منڈی میں پیر کو سونے کی قیمت میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔

    اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,110.56 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچر ایک فیصد کے اضافے کے بعد 4,112.10 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا،دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 2.8 فیصد بڑھ کر 59.81 ڈالر، پلاٹینم 2.6 فیصد اضافے سے 1,629.15 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 2.1 فیصد بڑھ کر 1,269.43 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہو گئی ہے امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد قیمت 84 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جو حالیہ دنوں کی بڑی یومیہ کمی میں شمار کی جا رہی ہے برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بھی 4.86 فیصد کمی کے بعد 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربان خام تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔مربان آئل 9.44 فیصد سستا ہو کر 97 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جسے خلیجی منڈی میں نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

    توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

  • ایئر انڈس کا 1دہائی بعد  اندرون ملک پروازوں سے آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

    ایئر انڈس کا 1دہائی بعد اندرون ملک پروازوں سے آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

    نجی فضائی کمپنی ایئر انڈس نے 11 سال سے زائد عرصے بعد اپنی پروازوں کا آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ایئر انڈس کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری معلومات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اندرون ملک پروازیں بحال کی جائیں گی، جبکہ بعد ازاں خلیجی ممالک کے لیے بین الاقوامی فضائی آپریشن کا آغاز کیا جائے گا،کمپنی تنگ باڈی جیٹ طیاروں اور اے ٹی آر 72-600 ٹربو پروپ طیاروں پر مشتمل بیڑے کے ساتھ آپریشن بحال کرنے کی تیاریاں مکمل کر رہی ہے۔

    کمپنی کے مطابق آپریشن کا آغاز کراچی کو مرکزی مرکز بنا کر کیا جائے گا، ابتدائی مرحلے میں کراچی اور اسلام آباد کے درمیان روزانہ 3 جبکہ کراچی اور لاہور کے درمیان روزانہ 2 پروازیں چلانے کا منصوبہ ہے،اس کے علاوہ کراچی سے پشاور، سیالکوٹ، کوئٹہ، گوادر، فیصل آباد، ملتان اور اسکردو کے لیے بھی پروازیں شروع کی جائیں گی، جبکہ کوئٹہ اور اسلام آباد کے درمیان بھی فضائی سروس فراہم کی جائے گی۔

    ایئر انڈس کا کہنا ہے کہ آپریشن کی بحالی کے دوران وقت کی پابندی، مسافروں کی حفاظت اور معیاری کسٹمر سروس کو اولین ترجیح دی جائے گی، ملکی آپریشن بحال ہونے کے بعد دوسرے مرحلے میں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سے دبئی، ابوظہبی، ریاض، جدہ، دمام، دوحہ، کویت سٹی اور مسقط کے لیے بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے،تمام بین الاقوامی روٹس کا آغاز متعلقہ سول ایوی ایشن حکام کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

    ایئر انڈس کے مطابق اس کے نیٹ ورک کی بنیاد جدید تنگ باڈی جیٹ طیاروں پر ہوگی، جو ابتدائی طور پر ملکی روٹس پر استعمال کیے جائیں گے اور بعد ازاں مشرق وسطیٰ کے لیے آپریشن میں بھی شامل ہوں گے،ان طیاروں کا انتخاب ایندھن کی بچت، قابلِ اعتماد کارکردگی، مسافروں کے آرام اور بہتر آپریشنل صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، بعد کے مرحلے میں اے ٹی آر 72-600 طیارے بھی بیڑے میں شامل کیے جائیں گے، جن کے ذریعے چھوٹے شہروں اور شمالی پاکستان کے دور دراز علاقوں کے درمیان فضائی رابطوں کو بہتر بنایا جائے گا۔

    ایئر انڈس نے کہا ہے کہ آپریشن کی بحالی طویل منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے اور کمپنی کا مقصد پاکستان بھر کے مسافروں کو عالمی معیار کی فضائی سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

  • نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج ہوگا

    نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج ہوگا

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج اگلے 50 دنوں کے لیے نئِی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔

    معاشی ماہرین اور مارکیٹ کے نمائندوں کی اکثریت کو توقع ہے کہ مرکزی بینک شرح سود کو بلا تغیر 11.5 فیصد پر ہی برقرار رکھے گا،رواں سال اپریل میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی خدشات کے پیشِ نظر شرح سود میں 120 پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد جون کے اجلاس میں بھی اسے اسی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 97 فیصد معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، جبکہ صرف 3 فیصد افراد 120 پوائنٹس کی کمی کی توقع رکھتے ہیں۔

    اس وقت ملک کے زیادہ تر معاشی اشاریے بہتری کی سمت اشارہ کر رہے ہیں مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 136 ملین ڈالر تک محدود رہا ہے جو کہ ہدف کے مطابق ہے اس خسارے کی بڑی وجہ ملک میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے باعث اشیاء کی واردات میں اضافہ ہے۔

    اس کے علاوہ بھاری غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود جون 2026 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو 18 ارب ڈالر کے ہدف تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہےبیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی خطیر رقم بھی 41.6 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے جس سے معیشت کو بڑا سہارا ملا ہے۔

    ملک کی معاشی سمت پر بات کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ انڈیکیٹرز مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی دیکھنے کو ملے گی۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    اسلام آباد: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں آج خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، اوگرا عالمی مارکیٹ کے تناسب سے نئی قیمتوں کا تعین آج کرے گاعالمی مارکیٹ کے تناسب سے پاکستان میں آج قیمتوں میں بڑی کمی متوقع ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ 60 روپے تک اضافہ ہوا، جس میں پیٹرول 24 اور ڈیزل 60 روپے سے زائد مہنگا کیا گیا،حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں اضافے کو قرار دیا گیا تھا۔

    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے مجوزہ نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے کاروباری منصوبہ بندی، اسٹاک مینجمنٹ اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ضرورت ہے۔

  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرگئیں

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرگئیں

    امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے روکنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آگئیں۔

    امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی قیمت تقریباً ساڑھے 4 ڈالر فی بیرل کم ہونے کے بعد 84 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جو حالیہ دنوں کی بڑی یومیہ کمیوں میں شمار کی جا رہی ہےاسی طرح برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بھی 4.86 فیصد کمی کے بعد 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربان خام تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی مربان آئل 9.44 فیصد سستا ہو کر 97 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جسے خلیجی منڈی میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

    توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی معیشت، ایندھن کی طلب، اوپیک پلس کی پیداوار اور جغرافیائی سیاسی حالات آئندہ ہفتوں میں تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے والے اہم عوامل رہیں گے، جبکہ سرمایہ کار خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 27 جولائی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 27 جولائی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے حالیہ دنوں میں مسلسل اضافوں کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر پر فروخت ہوگا، نئی قیمتیں 27 جولائی تک نافذ العمل رہیں گی، جس کے بعد آئندہ جائزے کی روشنی میں نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 17 جولائی کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی۔