Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں بڑی کمی ہوئی ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل قیمت میں 7 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے جس کے بعد امریکی خام تیل 80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے برطانوی برینٹ خام تیل 82 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے متحدہ عرب امارات کا مربن تیل 77 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے کھل چکی ہے جس کے بعد جہازوں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے، ایران امریکا معاہدے کے بعد اب پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمت بھی کم ہونے کا امکان ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں حتمی فیصلہ حکومت کرے گی، امید ہے عوام کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔

  • سونے اور چاندی کی  قیمت میں اچانک بڑا اضافہ

    سونے اور چاندی کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں آج اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج پیر کے روز فی اونس سونے کی قیمت مسلسل تیسرے دن بھی 108ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 327ڈالر کی سطح پر آ گئی جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی کاروباری ہفتے کے پہلے روز فی تولہ سونے کی قیمت مزید 10ہزار 800روپے کے بڑے اضافے سے 4لاکھ 55ہزار 136روپے کی سطح پر آگئی اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 9ہزار 720روپے کے اضافے سے 3لاکھ 89ہزار 600روپے کی سطح پر آگئی۔

    اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2ڈالر 30سینٹس کے اضافے سے 70ڈالر 30سینٹس کی سطح پر آگئی، جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 230روپے کے اضافے سے 7ہزار 509روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 197روپے کے اضافے سے 6ہزار 396روپے کی سطح پر آگئی۔

  • امریکا ایران معاہدہ ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

    امریکا ایران معاہدہ ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

    امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد گر گئیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی اطلاعات کے بعد عالمی سرمایہ کاروں کے خدشوں میں کمی آئی، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک کمی دیکھی گئی-

    عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں 4 ڈالر کی کمی ہوئی جس کے بعد برطانوی خام تیل کی نئی قیمت 83.70 ڈالر فی بیرل ہو گئی اس کے علاوہ امریکی خام تیل کی قیمت 3.75 ڈالر کمی کے بعد 80.76 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔متحدہ عرب امارات کے مربن کروڈ آئل کی قیمت بھی مندی کی لہر سے متاثر ہوئی مربن کروڈ آئل کی قیمت میں پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 83 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی۔

    معاشی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور امن معاہدے کی پیش رفت کی خبریں عالمی توانائی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے اور قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

    یاد رہے کہ امریکا ایران کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے امن معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزر لینڈ میں ہوں گے۔

  • تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے-

    امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہونے کی خبروں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گر گئیں برطانوی خام تیل کی قیمت تقریباً 3 فیصد کم ہونے کے بعد 87 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 3 فیصد کمی کے ساتھ 85 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا متحدہ عرب امارات کا مربن کروڈ آئل چار فیصدسے زائد سستا ہونے کے بعد فی بیرل 83 ڈالر فروخت ہو رہا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 3.37 فیصد کمی کے بعد 87.33 ڈالر فی بیرل پر آ گئی تھی، جو مارچ کے اوائل کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے، اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3.23 فیصد کمی کے ساتھ 84.88 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا تھا، جو اپریل کے بعد کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کھل جائے گی جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا اثر پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے، معاہدہ ہو جانے کی صورت میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی ہو سکتی ہے لیکن حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔

    ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس بات پر زیادہ پراعتماد ہو رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان خلیجی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MOU) جلد طے پا سکتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اتوار تک دستخط ہو سکتا ہے جبکہ جنیوا ممکنہ مقام کے طور پر سامنے آیا ہے-

  • سونے کی قیمتوں میں  مزید  اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں آج بھی اضافہ ریکارڈ ہوا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 43ڈالر 70سینٹس کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 219ڈالر کی سطح پر آگئی، صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 4370روپے کے اضافے سے 4لاکھ 44ہزار 336روپے اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 3933روپے بڑھ کر 3لاکھ 79ہزار 880روپے کی سطح پر آگئی۔

    اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 200 روپے کے اضافے سے 7ہزار 279 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 171روپے کے اضافے سے 6ہزار 199روپے کی سطح پر آگئی۔

  • توانائی کے انفرااسٹرکچر پر دباؤ موجود ہے،وزیرخزانہ

    توانائی کے انفرااسٹرکچر پر دباؤ موجود ہے،وزیرخزانہ

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات کے فروغ اور معاشی استحکام کو ترجیح دی ہے، جبکہ برآمدی شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی مختص کی گئی ہے۔

    اسلام آباد میں وفاقی وزراء کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں ایسے قابلِ عمل اقدامات شامل کیے ہیں جن سے برآمدات میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹرز کو ساڑھے چار فیصد شرح پر فنانسنگ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 70 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے زرعی مشینری پر عائد کسٹم ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ زرعی قرضوں کی فراہمی کا حجم 20 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرے گی اور ٹیکس وصولی کے لیے جدید خودکار نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ توانائی کے انفرااسٹرکچر پر دباؤ موجود ہے اور آئندہ مالی سال میں بھی یہ دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ انہوں نے صوبوں کی جانب سے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کی معاونت کا موجودہ انتظام آئندہ تین مالی سال تک جاری رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے اب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کے مطابق حکومتِ سندھ نے اس شعبے میں کامیاب مثال قائم کی ہے، جبکہ حکومت صرف انہی ترقیاتی منصوبوں پر سرکاری وسائل خرچ کرے گی جنہیں تجارتی بنیادوں پر مکمل کرنا ممکن نہ ہو۔

    اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بجٹ کو "عوامی اور صنعت دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے، صنعت کاروں، ایکسپورٹرز اور تعمیراتی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کاروباری برادری سے مشاورت کے بعد مختلف شعبوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا، جبکہ شپنگ انڈسٹری کے لیے بھی ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے۔بلال اظہر کیانی کے مطابق ماہانہ دو لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد پر مجموعی ٹیکس 13 ہزار 500 روپے ماہانہ بنتا ہے، جبکہ ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر صرف 500 روپے ماہانہ ٹیکس عائد ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سالانہ چھ لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح صفر رکھی گئی ہے۔

    وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت نے ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے سفارش کلچر کا خاتمہ کر دیا ہے اور وزیرِ اعظم نے بجٹ سے متعلق اپنے وعدے پورے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور لیکیج کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔عطاء تارڑ نے دعویٰ کیا کہ شوگر انڈسٹری میں تقریباً 60 ارب روپے کی لیکیج موجود تھی، جس کا بوجھ بالآخر عام ٹیکس دہندگان خصوصاً تنخواہ دار طبقے کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے اقدامات سے معاشی حالات میں بہتری آئے گی اور پاکستان معاشی استحکام کے بعد اب ترقی اور معاشی نمو کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

  • سونے کی قیمتوں میں  نمایاں اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 7 ہزار 250 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 39 ہزار 966 روپے تک پہنچ گیا۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 39 ہزار 966 روپے ہو گئی ہے اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 6 ہزار 525 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کا نرخ 3 لاکھ 75 ہزار 947 روپے تک پہنچ گیا، دوسری جانب عالمی مار کیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں تیزی دیکھی گئی، جہاں سونا 72 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 175 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھات کی قیمت بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔

  • پچھلے 2 سال میں مہنگائی بتدریج کم ہوئی،وزیر خزانہ نے اقتصادی سروے پیش کر دیا

    پچھلے 2 سال میں مہنگائی بتدریج کم ہوئی،وزیر خزانہ نے اقتصادی سروے پیش کر دیا

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے۔

    اسلام آباد میں قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا تھا، مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی، امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوئی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معشیت نے بہتر کارکردگی دکھائی، حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، معاشی ترقی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی،عالمی سطح پر غیر یقینی صورتِ حال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا، مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، سیمنٹ سیکٹر میں 10 فیصد اور فرٹیلائزر سیکٹر کی گروتھ 17 فیصد رہی، پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالر سے بڑھ کر 1901ڈالر ہوگئی، مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی، جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالرز مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی،ڈیری اور لائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصد حصہ ہے، برآمدات میں کمی کی وجہ چاول اور چینی کی برآمدات میں ڈیڑھ ارب ڈالر کمی ہے، فوڈ اور ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان رہا، فری لانسرز کی برآمدات 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالرز ہیں، جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر ہو جائیں گے، مینوفیکچرنگ کے 22 شعبوں میں سے 16 شعبوں میں بہتری آئی ہے، اشیاء کی طلب میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا، ڈیجیٹل معیشت کا اس میں بڑا اہم کردار ہے،خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.9 رہی، مالیاتی خسارہ 0.7 فیصد اور پرائمری بیلنس سرپلس ہے، مہنگائی 38 فیصد سے کم ہوئی، مالیاتی سائیڈ پر پاکستان سرپلس رہا اور بہتری دکھائی۔ ترسیلات زر بھی گزشتہ ماہ تاریخی طور پر وصول ہوئیں، وزیرِ اعظم برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں، ترسیلات زر کا بھی دنیا کی معیشتوں میں بڑا اہم کردار ہے، بیرون ملک پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں کہ وہ ترسیلات زر بھیج رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر خزانہ کا مزیدکہنا تھا کہ مالی نظم ضبط کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی، جولائی تا مارچ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا، ملک کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے مقابلے میں کم ہو کر 68.5 فیصد پر آگیا۔جولائی تا مئی اوسطاً مہنگائی کی شرح 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، 29 مئی 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے، زرمبادلہ کے ذخائر میں سالانہ بنیادوں پر 49 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ ہوا،انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نمایاں کمی کے بعد محض 252 ملین ڈالر رہ گیا، پاکستان کے پاس 2.75 ماہ کی درآمدات کا احاطہ کرنے کے لیے امپورٹ کور موجود ہے، جولائی تا مئی اوورسیز پاکستانیوں نے 33.9 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر بھجوائیں، اپریل 2026ء میں ایک ماہ کے دوران 4.3 ارب ڈالر کی تاریخی ترسیلات حاصل ہوئیں، آئی ٹی اور ٹیک برآمدات جولائی تا اپریل 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 959 ملین ڈالر رہا، 1 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع رقم 12.7 ارب ڈالر کی تاریخی سطح کو چھو گئی،رواں سال اب تک ریکارڈ 11 نئی کمپنیوں کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ ہوئی، ملک میں 39000 سے زیادہ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں جو مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے اوپر ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں جولائی تا مارچ 934 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا، زرعی شعبے کے لیے جولائی تا مارچ 2162 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، غریب خاندانوں کے لیے بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھا کر 722.5 ارب روپے کر دیا گیا، پی آئی اے، ایف ڈبلیو بی ایل اور ڈسکوز سمیت سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام تیز کیا گیا، وزارتوں کے انضمام اور پی ڈبلیو ڈی سمیت متعدد محکموں کو بند کرنے کے لیے رائٹ سائزنگ شروع کی گئی۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے محصولات میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، افراط زر میں گزشتہ 2 سال میں بتدریج کمی ہوئی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا، رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، غریب خاندانوں کے لیے بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھا کر 722.5 ارب روپے کر دیا گیا، پچھلے 2 سال میں مہنگائی بتدریج کم ہوئی،فیفا فٹبال ورلڈکپ میں پاکستانی فٹبال استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایکسپورٹس 3.8 بلین ڈالرز کراس کر چکی ہیں جبکہ 4.5 بلین ڈالرز کی آئی ٹی ایکسپورٹس ہونی ہیں

  • وفاقی وزیر  جام کمال سے پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر جام کمال سے پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر جام کمال سے پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں تمباکو صنعت کو درپیش مسائل، بجٹ تجاویز اور غیر قانونی تجارت پر تبادلہ خیال کیا گیا،پی ٹی سی وفد نے غیر قانونی سگریٹ تجارت کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے مثبت نتائج سے آگاہ کیا،وفاقی وزیر تجارت جام کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سازگار ماحول ضروری ہے، رسمی معیشت سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کی بنیاد ہے،غیر دستاویزی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانا پائیدار ریونیو میں اضافے کا مؤثر ذریعہ ہے،پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کی بدولت سرمایہ کاری کے بڑے مواقع رکھتا ہے،دنیا سرمایہ کاری کے حصول کے لیے مسابقت کر رہی ہے ،

    پی ٹی سی نے اسمگل شدہ اور نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کیا،تمباکو صنعت کی درآمدات کے لیے فائنل ٹیکس رجیم بحال کرنے کی درخواست کی،جام کمال خان نے تمباکو صنعت کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کی یقین دہانی کروائی،وزیر تجارت نے پی ٹی سی کو اپنی سفارشات باضابطہ طور پر جمع کرانے کو کہا اور کہا کہ تمباکو صنعت کے مسائل اور تجاویز متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائے جائیں گے،

  • نیپال میں بھی بھارتی آموں پر پابندی

    نیپال میں بھی بھارتی آموں پر پابندی

    نیپال نےبھارتی آموں کی امپورٹ پر اپنے ملک میں پابندی عائد کر دی ہے جبکہ نیپال حکومت کے اس اچانک فیصلے کی وجہ سے مقامی بازاروں میں پھلوں کی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم بھارتی آموں میں کیڑے مار ادویات کی ضرورت سے زیادہ مقدار پائے جانے اور سرحدی علاقوں میں ضروری ٹیسٹنگ یعنی کوارنٹائن کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے اس کے علاوہ اس فیصلے کے پیچھے ایک اور مقصد مقامی سطح پر اگائے جانے والے پھلوں کو فروغ دینا بھی بتایا جا رہا ہے۔

    نیپالی نیوز ویب سائٹ ’دی رائسنگ نیپال‘ کے مطابق اس پابندی کے بعد نیپال کے شہر جنک پور دھام کے بازاروں میں مقامی آم تو نظر آ رہے ہیں، لیکن پھل فروشوں کا کہنا ہے کہ وہ کاروبار اور سپلائی کو لے کر شدید پریشان ہیں مقامی تاجروں کا ماننا ہے کہ ملکی پیداوار کو بڑھاوا دینا اچھی بات ہے، لیکن بغیر کسی طویل مدتی منصوبے کے اچانک امپورٹ روکنے سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

    بڑے ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے،وزیراعظم کی ہدایت

    نیپال میں آموں کی اپنی پیداوار صرف دو مہینے ہی چلتی ہے،اس لیے ملک میں آم کی بڑی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بھارت سے آنے والا مال بہت ضروری سمجھا جاتا ہے جنک پور دھام کے فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بھوبنیشور پُربے کے مطابق گرمیوں کے موسم میں آم کی مانگ بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

    انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی امپورٹ پر پابندی کی وجہ سے مارکیٹ میں مال کی شدید کمی ہو سکتی ہےسپتری، سیراہا، مہوتری، دھنوشا اور سرلاہی جیسے اضلاع سے روزانہ 50 ٹن سے زیادہ آم جنک پور دھام پہنچ رہا ہے، لیکن صرف مقامی پیداوار سے پورے بازار کی مانگ کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوگا،امپورٹ پر پوری طرح پابندی لگانے کے بجائے حکومت کو سرحدوں پر کوارنٹائن سسٹم کو مضبوط کرنا چاہیے اور بھارتی پھلوں کو کوالٹی ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد ملک میں آنے کی اجازت دینی چاہیے اگر آموں پر یہ پابندی زیادہ عرصے تک برقرار رہی تو عام گاہکوں کو دگنی قیمتیں چکانی ہوں گی اور کاروباریوں کو بھی بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

    منشیات ڈیلر پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے

    دوسری طرف، بھارت کو صرف نیپال ہی سے نہیں بلکہ جاپان سے بھی دھچکا لگا ہے جاپان حکومت نے کیڑوں پر قابو پانے کے ناقص انتظامات اور ’ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ‘ کےمعیار پر پورا نہ اترنے کا حوالہ دیتے ہوئے 25 مارچ 2026 کےبعد جاری ہونے والےسرٹیفکیٹ والے بھارتی آموں کی کھیپ پر روک لگا دی ہے جاپان نے یہ سخت قدم تقریباً دو دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد اٹھایا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے ضلع امروہہ کے وسیع باغات سے ہر سال بڑی مقدار میں آم خلیجی ممالک، امریکہ، جاپان اور یورپ بھیجے جاتے ہیں-