Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • ٹویٹر ڈاؤن ہو گیا

    ٹویٹر ڈاؤن ہو گیا

    لاہور :پاکستان میں ٹویٹرصارفین کو مشکلات کا سامنا ، ٹویٹرکے ٹھنڈا پڑنے کی اطلاعات ہیں، باغی ٹی وی کےمطابق آج کا دن سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایک تکلیف دہ اورمشکل ثابت ہورہا ہے کیونکہ پچھلے کئی گھنٹوں سے ٹویٹرکافی ڈاون جارہا ہے اوربالکل کھل نہیں رہا ،

    باغی ٹی وی کے مطابق ملک بھر سے اس وقت سوشل میڈیا پرٹویٹرکی رفتار بالکل بند پڑا ہے اورٹویٹرپیچ بالکل نہیں کھل رہا ، سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے یہ بھی شکایات آرہی ہیں کہ یہ اتنے پڑے سوشل نیٹ ورک کی بہتری پرکیوں توجہ نہیں دی جارہی

    ادھر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہےکہ یہ پہلی مربتہ نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی کئی مربتہ ہوچکا ہے ، لیکن اس کی اس خامی کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ، صارفین کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے فی الفور اس بات کو نوٹس لے اور جتنی جلدی ممکن ہوسکے ٹویٹرکو فعال کرکے صارفین کی مشکلات کو حل کرے

  • ٹویٹر کے بعد زوم بھی ٹھنڈا پڑگیا ، صارفین کو مشکلات کا سامنا

    ٹویٹر کے بعد زوم بھی ٹھنڈا پڑگیا ، صارفین کو مشکلات کا سامنا

    لاہور :ٹویٹر کے بعد زوم بھی ٹھنڈا پڑگیا ، صارفین کو مشکلات کا سامنا،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان میں ان حالات میں جب کرونا وائرس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں تو نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم سوشل میڈیا پرصارفین بہت زیادہ وقت دے رہے ہیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں‌آج صارفین کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، پہلے ٹویٹرکے ڈاون ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں اب ویڈیوکانفسرنسز کی نئی ایپ "زوم ” کے بھی ٹھنڈا پڑنے کی خبریں آرہی ہیں

    اطلاعات کے مطابق زوم صارفین کا کہنا ہے کہ زوم بالکل کام نہیں کررہا جس کی وجہ سے صارفین کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس حوالے سے صارفین پی ٹی اے حکام کو بھی باخبر رکھ رہے ہیں

    یاد رے کہ زوم ایپ ویڈیوکانفسرز کال کا ایک نیا اوربتہرین فیچر ہے جسے دنیا بھر میں کاروباری دنیا کے علاوہ تعلیم سے وابستہ لوگ بھی استعمال کرتے ہیں، یونیورسٹیز ہوں یا کالج سکول زوم کا ہرجگہ بھرپوراستعمال کیا جا تا ہے ،

    کرونا وائرس کے بعد دنیا بھر میں زوم ایپ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا، ماہرین کے مطابق ایک کروڑ کے قریب صارفین گھر سے کام کرنے کے دوران اسی ایپ کے ذریعے ویڈیو کانفرنسنگ کرتے ہیں اور یومیہ 20 کروڑ صارفین اسے استعمال کرتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق زوم ایپ چین سے تعلق رکھنے والے ایرک یوآن کی زیر ملکیت کمپنی ہے جس کے حصص کی مالیت 4 ارب 60 کروڑ یورو کے قریب بنتی ہے۔

    ہیکرز نے زوم کی ویڈیو کانفرنس کالز کا ڈیٹا بھی ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کیا اور خریدار کو پیش کش کی ہے کہ وہ صارفین کے آئی اور پاس ورڈ بھی خرید سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے جن اکاؤنٹس کو فروخت کے لیے پیش کیا اُن میں بینکس، فنانس کمپنیاں اور یونیورسٹیز کے آئی ڈیز شامل ہیں۔سائبر سیکیورٹی پر نظر رکھنے والی کمپنی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیکرز نے اکاؤنٹ نہایت ہی کم قیمت

  • اپنے لوگوں کوکرونا سے بچانے کی تمام تدبیریں اختیارکررہے ہیں ،اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اجمل وزیرنے صاف صاف بتا دیا

    اپنے لوگوں کوکرونا سے بچانے کی تمام تدبیریں اختیارکررہے ہیں ،اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اجمل وزیرنے صاف صاف بتا دیا

    پشاور:اپنے لوگوں کوکرونا سے بچانے کی تمام تدبیریں اختیارکررہے ہیں ،اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اجمل وزیرنے صاف صاف بتا دیا ،اطلاعات کے مطابق مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کی صورت میں لاک ڈاون میں مزید نرمی بھی کی جاسکتی ہے، ایس او پیز پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، مختلف دنوں میں مختلف کاروبار کھولنے کا مقصد بیک وقت بازاروں میں رش اور جم غفیر سے بچنا ہے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پشاور کے مختلف بازاروں میں حجام اور سیلون شاپس کے دورے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔اس موقع پر اجمل وزیر نے کہا کہ حجام اور سیلون شاپس میں ایس او پیز پر عمل درآمد ہورہا ہے جو خوش آئند بات ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعلی محمود خان کے واضح احکامات ہیں جہاں پر ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہوگا تو کاروبار سیل کیا جائے گا۔ حجام اور سیلون شاپس کو حکومت نے ایس او پیز کے تحت ہفتے میں تین دن یعنی جمعہ ہفتہ اور اتوار کو کھولنے کی اجازت دی ہے جبکہ پیر سے جمعرات تک دیگر دکانوں اور بازاروں کو ایس او پیز کے تحت کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے لاک ڈاون میں نرمی عوام کو درپیش مسائل اور معیشت کا پہیہ چلنے کی خاطر کی ہے کیونکہ ہمارا ملک مکمل لاک ڈاون کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لاک ڈاون کورونا کا مکمل حل نہیں ہے ایس او پیز کیساتھ اس مرض کیساتھ چلنا ہوگا۔ اجمل وزیر نے کہا کہ ہمارے ملک کی کافی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور وزیراعظم عمران خان کو اسی طبقے کی فکر کھا رہی ہے۔ جب سے وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالا ہے تو اسی دن سے خان صاحب کو غریب طبقے کی فکر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون میں نرمی بھی غریب اور دیہاڑی دار طبقے کی مشکلات کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے تاجر برادری سے اپیل کی ہے کہ جس طرح انہوں نے لاک ڈاون میں حکومت کا ساتھ دیا ہے اسی طرح ایس او پیز پر عمل درآمد میں بھی حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی میں جو فیصلے ہوتے ہیں ہم ان پر من و عن عمل کریں گے۔

    وزیر اعلیٰ محمود خان صوبے میں کورونا کی صورتحال اور سفارشات کمیٹی میں پیش کرتے ہیں اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار تمام تر فیصلے صوبوں کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے سے کیے جا رہے ہیں۔ اجمل وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ٹھنڈے ڈرائنگ روم سے باہر نکل کر ہماری طرح بازاروں کا دورہ کریں تو پتہ چلے گا کہ مکمل لاک ڈاون کیا چیز ہے اور اسکے نقصانات کیا ہیں۔ لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر تقرریں جھاڑنا اور عوام کو ورغلانا آسان کام ہے اگر اپوزیشن عوام کیساتھ مخلص ہے تو کورونا کو شکست دینے میں حکومت کا ساتھ دے نہ کہ بے جا تنقید کرے۔

    اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق اور وزیراعلی محمود خان کی قیادت میں ہم کورونا اور غربت و افلاس دونوں کو شکست دیں گے۔ہمارے ڈاکٹرز ،طبی عملہ اور پاک فوج سمیت دیگر سیکورٹی ادارے کورونا کے محاذ پر فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کی خدمات کو تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائیگا اور ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔

  • کورونا کے باعث دیگر مریضوں کو اپنی جان  کے لالے پڑ گئے

    کورونا کے باعث دیگر مریضوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے

    بھارت کے مختلف سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں اس وقت سب سے زیادہ وسائل کوروناوائرس سے نپٹنے میں لگے ہیں۔جب کہ اکثر جگہوں پر او پی ڈی اور سنگین بیماریوں سے متعلق محکمے بند ہیں اور ایمرجنسی میں عام مریضوں کو دیکھنے کے لئے ڈاکٹر ہی موجودنہیں ہیں۔ اس کے علاوہ لاک ڈاون کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال پہنچنے میں بھی کافی دشواریوں کا سامنا ہے. ان حالات میں دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا مریض اور ان کے اہل خانہ کے لیے مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔اگر ایمرجنسی میں کوئی کورونا سے ہٹ کر کوئی مریض آجائے اور اس کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنے کی وجہ سے موت واقع ہو جائے تو اسے بھی کورونا کا مریض قرار دے دیا جاتا ہے اور اس کی موت کی وجہ بھی کورونا ہی بتائی جارہی ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں باغی ٹی وی نے معروف خاتون صحافی میناکشی تیواری کی وساطت سے شہر کے مختلف ہسپتالوں میں ایک سروے کیا تو مریضوں نے شکائتوں کے انبار لگا دئیے۔ ایک شخص جو انتہائی افسردہ حالت میں بیٹھا تھا جب اس سے اس کی افسردگی کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ اس کی ماں کو کینسر تھا لیکن اس کا مناسب علاج نہ ہوسکنے کے باعث اس کا انتقال ہو گیا ہے لیکن اب ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اس کی موت کو رونا کی وجہ سے ہوئی حالانکہ وہ کو رونا پازیٹو نہیں تھیں۔دس مہینے پہلے جب ماں کی بیماری (ملٹی پل مائیلوما)کا پتہ چلا تبھی ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ یہ بیماری لاعلاج ہے اور جسم کے مختلف حصوں، بالخصوص کڈنی اور ہڈیوں پر اثر کرتی ہے اس لیے خصوصی مینجمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس شخص کا کہنا تھا کہ اس کی ماں بنارس ہندو یونیورسٹی کی سابق پروفیسر ڈاکٹر سواتی کا 2 مئی کی شام انتقال ہو گیا تھا اس کی بیماری بھی مس مینج کی گئی…میری ماں اکیلی نہیں ہے۔ نہ جانے کتنی بیماریوں کے کتنے مریض روزانہ علاج نہ ہونے کے باعث موت کے منہ میں جارہے ہیں۔بھارت بھر کے مختلف سرکاری اور نجی ہاسپٹل میں زیادہ تر وسا ئل کووڈ 19 سے نپٹنے میں لگے ہیں۔ کئی جگہوں پر او پی ڈی اور سنگین بیماریوں سے متعلق محکمے بند ہیں اور ایمرجنسی میں خاطر خواہ ڈاکٹر نہیں ہیں۔ اکثر نجی ہاسپٹل اور کلنک بند ہیں، جس کی وجہ سے ان بیماریوں سے مریضوں کی مشکلیں اور ان کے اہل خانہ کی پریشانیاں دوگنی ہو گئی ہیں۔بالخصوص کینسر، دل کے مریض اورمستقل ڈائلیسس لینے والے مریضوں کی حالت کافی خراب ہے۔ممبئی کے بھنڈی بازار علاقے کی رہنے والی سید عرشی ان میں سے ایک ہیں۔ وہ بھی نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل ہوئی 40 سالہ عرشی دل کی مریض تھیں، لیکن 22 اپریل کو ان کی موت برین ہیمریج سے ہوئی۔ان کے چھوٹے بھائی سعید اعجاز نے بتایاکہ جس دن ان کی موت ہوئی انہیں بیحد کمزوری تھی۔ دھڑکن بہت تیز ہو رہی تھی اور وہ بول نہیں پا رہی تھیں۔ میں فوراً انہیں لیکر مقامی پرائیویٹ ہاسپٹل پہنچا، لیکن وہاں گارڈ نے بتایا کہ ہاسپٹل بند ہے۔ ہم ایک دوسرے ہاسپٹل گئے لیکن وہاں صرف کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج ہو رہا ہے، جب ڈاکٹر نے وہاں داخل کرنے سے منع کیا تب ہم انہیں سرکاری ہاسپٹل لیکر پہنچے جہاں پہنچنے کے کچھ گھنٹوں کے اندر ہی عرشی نے دم توڑ دیا۔ ان کے مطابق اس ہاسپٹل میں بیحد خراب انتظامات تھے۔جب ہم یہاں پہنچے تو صرف ایک ہی ڈاکٹر تھے۔ ہم خود عرشی کو اسٹریچر پر ڈال کرایمرجنسی وارڈمیں لیکر گئے۔ آدھے گھنٹے تک یہاں انہیں کسی نے نہیں دیکھا، پھر بہت منت سماجت کے بعد ایک ٹرینی ڈاکٹر نے انہیں ایک انجکشن دیا۔کچھ دیر بعد آئے ڈاکٹر نے سٹی اسکین کروانے کو کہا، لیکن دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب عرشی کی سانسیں تھم گئیں۔عرشی کے اہل خانہ کا کہناہے کہ انہیں صحیح وقت پر علاج نہ ملنے کی وجہ سے بچایا نہیں جا سکا۔اعجاز نے بتایا ایمرجنسی وارڈ میں کئی مریض علاج کے انتظار میں پڑے تھے۔ نرسیں لوگوں پر چلا رہی تھیں۔ہم لوگ تین چار گھنٹے وہاں رہے اس دوران ایمرجنسی میں تقریباً 15 اموات ہوئی تھیں۔اتر پردیش کے شہر الہ آباد کی 15 سال کی نائلہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ مدھیہ پردیش کے اندور میں پڑھنے والی نائلہ کو جنوری سے بخار اور کھانسی کی شکایت تھی۔ گھر کے پاس ایک مقامی ڈاکٹر کو دکھایا گیا، جس کی دوا سے فوری طور پر آرام تو ملا، لیکن بخارکھانسی کم نہیں ہوئی۔اس دوران ڈاکٹر نے خون کے ٹیسٹ اور ایکسرے کے لیے کہالیکن اس وقت تک لاک ڈاؤن کااعلان ہو چکا تھا۔ بڑی مشکل سے ٹیسٹ اور ایکسرے کروائے تو معلوم ہوا کہ انہیں ٹی بی ہے اور جلد سے جلد ٹریٹمنٹ شروع کروانے کی ضرورت ہے۔شہر کے تمام ہاسپٹل میں او پی ڈی بند ہیں اور نجی ڈاکٹر اپنے کلینک نہیں کھول رہے۔ ایسے میں مقامی ڈاکٹر اپنے ایک جاننے والے ڈاکٹر کی صلاح سے انہیں ٹی بی کی دوائیاں دے رہے ہیں۔یہ صرف ایک مثال ہے، لیکن اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران ٹی بی کے معاملے سامنے آنے کی تعداد میں بڑی حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 14 سے 29 فروری کے دوران ٹی بی کے 114460 معاملے سامنے آئے تھے، لیکن یکم سے 14 اپریل کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 19145 ہو گئی۔ پہلے مرحلہ کے لاک ڈاؤن کے 21 دنوں میں ٹی بی کے کل 34566 کیسز سامنے آئے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ بھارت میں ٹی بی سے ہرروز ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ متا ثرہ آٹھ ممالک میں بھارت کا شمار ہوتا ہے جب کہ دنیاکے ٹی بی مریضوں کی کل تعداد کے 27 فیصد مریض بھارت میں ہی ہیں۔ 2018 میں دنیا بھر میں ٹی بی سے لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ لوگوں نے جان گنوائی تھی، جس میں 29 فیصد (تقریباً 4.4 لاکھ) مریض بھارت کے تھے۔مارچ 2018 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے2025 تک ملک سے ٹی بی کو ختم کرنے کی بات کہی تھی لیکن کووڈ بحران کے باعث یہ مہم بھی ٹھپ پڑی ہیں۔ایمس دہلی کے ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر ہرجیت سنگھ بھٹی کہتے ہیں اس وقت اگر ملک میں سب سے زیادہ پریشانی میں کوئی ہے تو وہ نان کووڈ مریض ہیں، جو پرانی اور سنگین بیماری سے لڑ رہے ہیں۔ایک سرکاری ہسپتال میں موجود جئے پور میں رہنے والی 50 سالہ سنیتا کا گلے کے کینسر کا2005میں آپریشن ہوا تھا گزشتہ نومبر میں اچانک گلے میں اچانک تکلیف کے بعد پتہ چلا کہ کینسردوبارہ جڑ پکڑ رہا ہے۔دسمبر میں دہلی کے علاقے شالیمار باغ کے ایک نجی ہاسپٹل میں ان کا دوبارہ آپریشن کیا گیا اور وہ ٹریٹمنٹ اب تک جاری ہے۔ ان کے گلے میں نالی لگی ہوئی ہے اورریگولر چیک اپ کروانا ہوتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی حالت میں ان کے ڈاکٹر ویڈیو کال کے ذریعے انہیں دوائیاں بتا رہے ہیں۔ اتر پردیش کے رہنے والے تسلیم کئی سالوں سے مغربی دہلی کے وکاس نگر میں رہتے ہیں اور ایک ٹھیکیدار کے یہاں یومیہ بڑھئی کا کام کرتے ہیں۔ان کی بیوی شاہین (45) کو دو سال پہلے بریسٹ کینسر کا پتہ چلا تھا اور گزشتہ دسمبر میں ان کا دہلی کے ایمس ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کو دوائیں ریگولرکھانی ہوں گی۔تسلیم کی کمزور اقتصادی صورتحال دیکھتے ہوئے ڈاکٹر نے پٹپڑگنج کے ایک این جی او کے بارے میں بتایا، جو مفت میں یہ دوائی مہیا کرواتے ہیں، لیکن کچھ مہینوں سے وہاں یہ دوائی ملنی بند ہو گئی ہے۔تسلیم کا کہنا ہے کہ میں 500 روپے یومیہ کمانے والا آدمی ہوں، اتنی مہنگی دوا کہاں سے لاؤں گا؟ 7300 روپے میں ایک ہفتے کی دوا آتی ہے۔ جب پٹپڑگنج میں دوا ملنی بند ہوئی تو پھر کچھ رشتہ داروں سے پیسے لیکر دوا لی، لیکن کچھ دنوں میں انہوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا۔اب لاک ڈاؤن کے دوران دو مہینے سے ان کی بیوی کو دوا نہیں ملی، تو حالت اور خراب ہونے لگی اب تو نہ کمائی ہے نہ دوائی اور نہ ہی سرکاری ہسپتال میں علاج ہو رہا ہے۔ دہلی کے شاستری پارک کے رہنے والے محمد یونس کی کہانی ایسی ہی ہے۔نومبر 2019 میں دانت کے درد کی دوا لینے پہنچے 40 سالہ یونس کو کچھ جانچ کے بعد انہیں اورل کینسر ہونے کا علم یہ دوسری اسٹیج پر تھا جس کا علاج آپریشن تھا۔ اہل خانہ نے جیسے تیسے روپیوں کا انتظام کیا اور شالیمار باغ کے ایک نجی ہاسپٹل میں دسمبر میں ان کا آپریشن کیا گیا۔اس کے بعد 40 دنوں کے اندر انہیں کیموتھیراپی اور ریڈی ایشن تھیراپی شروع کروانے کو کہا گیا لیکن نجی ہاسپٹل کا خرچ برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے اہل خانہ انہیں لے کرسرکاری ہاسپٹل گئے، جہاں سے انہیں دہلی اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ دلشاد گارڈن بھیجا گیا وہاں ان کی کیمو ہونی تھی۔31 مارچ کویہاں کے ایک ڈاکٹر کو کووڈ پازیٹو پایا گیا، جس کے بعد اپریل کے پہلے ہفتے تک انسٹی ٹیوٹ کے 26 اسٹاف، 4 مریض اور ایک مریض کے اہل خانہ کے کو رونا پازیٹو ملنے کے بعد اس کو بند کر دیا گیا۔ اب ان کی کیمو کب ہوگی کوئی علم نہیں۔ ڈر ہے کہ کہیں اس وجہ سے یونس ایسے حال میں نہ پہنچ جائے جہاں سے انہیں واپس لانا ممکن نہ ہو سکے۔ اپریل کے دوسرے ہفتے میں دہلی کی 45 سال کی کنچن دیوی کووقت پر ڈائلیسس نہ ملنے سے ان کی جان چلی گئی۔ گزشتہ ڈھائی سالوں سے وہ مشرقی دہلی کے ایک ہاسپٹل میں باقاعدگی کے ساتھ ڈائلیسس کروا رہی تھیں، لیکن اس بار ہاسپٹل میں کووڈ انفیکشن ملنے کے بعد اسے بند کر دیا گیا۔ان کے بیٹے نے بتایا کہ انہوں نے تین نجی اور ایک سرکاری ہاسپٹل میں فون کیا لیکن سبھی نے انہیں داخل کرنے سے منع کر دیا۔ ان کی لگاتار بگڑتی حالت کو دیکھ کر اہل خانہ ایک نجی ہاسپٹل کے ایمرجنسی محکمے میں پہنچے، جہاں جب تک ڈائلیسس دیا گیا، بہت دیر ہو چکی تھی۔ وزیرآباد کے سلمان کی ماں شاہدہ (50) کا علاج بھی اسی ہاسپٹل میں چل رہا تھا۔ انہیں شوگراور دل کی بیماری ہے اورریگولر ڈائلیسس کروانا ہوتا ہے۔کتابوں پر جلد چڑھانے کا کام کرنے والے سلمان نے ای ڈبلیو ایس کارڈ بنوایا ہوا تھا جس کی مدد سے مفت علاج مل جاتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ جب سے ہاسپٹل بند ہوا، شہر کے ہر کونے کے ہاسپٹل میں بھٹکنے کے بعد شاہین باغ میں واقع ایک کلینک ڈائلیسس کرنے کے لئے تیار ہوا جہاں ہر سیشن کے لیے تقریباً ڈھائی ہزار روپے فیس دینی پڑرہی ہے۔لیکن دو مہینے سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام بند ہے، دوستوں رشتہ داروں سے پیسے لیکر جیسے تیسے ماں کا علاج کروا رہا ہوں۔ حالانکہ ہاسپٹل کو مرکزی وزارت داخلہ اور دہلی سرکار کی جانب سے باربارسنگین بیماریوں سے متاثر مریضوں کوداخل کرنے اور صحیح علاج فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں لیکن لاک ڈاؤن کے دوران صحیح وقت پر ہاسپٹل تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج ہے۔دہلی کے ایمس سے ڈسچارج ہوئے کئی مریض اور ان کے ساتھ آئے اہل خانہ لاک ڈاؤن کے دوران ہاسپٹل کے پاس بنے سب وے میں رہ رہے ہیں۔ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں، جہاں کسی دوسری بیماری کے علاج کے لیے ہاسپٹل جا رہے مریض کو کو رونا کا انفیکشن ہوا، جو آخر میں جان لیوا ثابت ہوا۔دہلی کے جامعہ نگر کی رفعت کی ایک خاتون رشتہ دارشوگر اور لیور کی بیماری سے جوجھ رہی تھیں، جس کا علاج ایمس میں چل رہا تھا۔ ڈاکٹر نے ایک انجکشن بتایا جسے ریگولر لگوانا ہوتا تھا۔لاک ڈاؤن ہو جانے کے بعد وہ گھر کے پاس کے ایک کلینک میں ہر دوسرے دن یہ انجکشن لگوانے جا رہی تھیں، جب ایک دن انہیں سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی معلوم ہوا کہ انہیں یہ انفیکشن اسی کلینک سے ہوا ہے، جہاں وہ انجکشن لگوانے جاتی تھیں۔ اہل خانہ نے کووڈ 19 کا ٹیسٹ کروایا جو پازیٹو نکلا۔رفعت بتاتی ہیں کہ پریشانی یہیں سے شروع ہوئی۔ بد انتظامیوں کی صورتحال یہ تھی کہ پازیٹو پائے جانے کے 24 گھنٹے بعد ایمبولینس رات کے ڈیڑھ بجے لینے آئی اور ایک سرکاری ہاسپٹل لے گئی۔ یہاں کہا گیا کہ بیڈ نہیں ہے اور انہیں صبح سویرے واپس گھر بھیج دیا گیا۔اس کے بعد کچھ لوگ گھر آئے اور انہیں راجیو گاندھی ہاسپٹل لے جایا گیا، جہاں انہیں آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا۔ رفعت کے مطابق، اس وارڈ میں باہر سے تالا لگا دیا گیا تھا اور اگلے تین دنوں تک کوئی ڈاکٹر دیکھنے نہیں آیا۔اس دوران اہل خانہ نجی ہاسپٹل میں بھی رابطہ کر رہے تھے اور ایک دن بیڈ دستیاب ہو جانے پر انہیں ساکیت کے میکس ہاسپٹل میں لے جایا گیا۔ یہاں آنے تک ان کی طبیعت کافی بگڑ چکی تھی، کئی عضو متاثر تھے۔ انہیں وینٹی لیٹر پر بھی رکھا گیا، لیکن آخر میں انہیں بچایا نہیں جا سکا۔رفعت کہتی ہیں،‘پرائیویٹ ہاسپٹل میں دن کی 50 ہزار روپے فیس تھی، مڈل کلاس لوگ ہیں، کہاں سے اتنا پیسہ لائیں گے، یہی دیکھ کر سرکاری ہاسپٹل میں جانے کا سوچا، لیکن اگر پہلے ہی انہیں پرائیویٹ میں لے جاتے تو شاید جان بچ جاتی۔’ڈاکٹر بھٹی کہتے ہیں کہ ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی آنی تو تھی سرکار اور سسٹم کے اوپر، لیکن یہ آ گئی ہے غیرکووڈ مریضوں کے اوپر، جو اب اس سے اکیلے لڑ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کی ہم ملک کے مزدوروں کی پریشانی کو تو دیکھ پائے ہیں کیونکہ وہ اکٹھے ہوکرسامنے آئے ہیں لیکن نان کووڈ مریض کہیں اکٹھے ہوکر سامنے نہیں آئے ہیں اس لیے ان کا درد ہمیں پتہ نہیں چل رہا ہے۔

  • کرونا کسی کو نہیں چھوڑتا : مشہور سرجن پروفیسر اے آر جمالی بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے

    کرونا کسی کو نہیں چھوڑتا : مشہور سرجن پروفیسر اے آر جمالی بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے

    کراچی :کرونا کسی کو نہیں چھوڑتا : مشہور سرجن پروفیسر اے آر جمالی بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے،اطلاعات کے مطابق معروف پروفیسر سرجن اے آر جمالی کو جنہیں نجی اسپتال میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہر قائد کے مشہور و بڑے سرکاری اسپتال جناح میں خدمات انجام دینے والے معروف پروفیسر سرجن اے آر جمالی کا کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آگیا ہے۔

    واضح رہے کہ سرجن اے آر جمالی جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے شوہر ہیں، جنہوں نے خود اپنے شوہر اور پروفیسر اے آر جمالی کا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پروفیسر اے آر جمالی میں کوویڈ 19 کی تشخیص ہونے کے بعد انہیں نجی اسپتال میں قرنطینہ کردیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کی طرح کرونا وائرس پاکستان میں بھی اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کررہا ہے تاہم تاحال وطن عزیز میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد کم تاہم پھر بھی 38 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

    خیال ہے کہ سندھ بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 674 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ مہلک ترین کوویڈ 19 وائرس نے آج 559 افراد کو شہر قائد میں اپنا شکار بنایا ہے۔

  • وزیراعظم ہاؤس کے چار ملازمین میں کرونا کی تصدیق

    وزیراعظم ہاؤس کے چار ملازمین میں کرونا کی تصدیق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وزیراعظم ہاؤس بھی پہنچ گیا، وزیراعظم ہاؤس کے چار ملازمین میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے

    وزیراعظم ہاؤ س میں معمول کاکوروناٹیسٹ کیاگیا،جس کے بعد وزیراعظم ہاؤس کے 4 ملازمین میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد ملازمین کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے

    ملازمین کے ٹیسٹ مثبت آنے پر وزیراعظم ہاؤس میں تمام احتیاطی اقدامات شروع کردیےگئے ہیں ،ایس اوپیزپرعمل کیاجارہاہے،

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کا بھی ایک بار کرونا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے جو منفی آیا تھا

    کئی اراکین اسمبلی، سینٹر، صوبائی وزیر، گورنر سندھ، سپیکر قومی اسمبلی بھی کرونا کا شکار ہو گئے تھے جن میں سے کچھ صحتیاب ہو چکے ہیں

    وبا کے کامیاب طریقہ علاج کی طرف پیشرفت، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

    عمران خان نے اسمبلیاں توڑنے کے لئے سمری صدر کو کیوں بھیجی؟ سیاسی میدان میں بڑی ہلچل

    ناامیدی کفر ہے، مشکل حالات میں امید کی کرن…مبشر لقمان کی تازہ ترین ویڈیو لازمی دیکھیں

    امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات

    مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

    دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے اور گزشتہ چند دنوں سے روزانہ ایک ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آ رہے ہین

  • آبادی 22 کروڑ، شیخ رشید نے 24 کروڑ افراد کو مسافر بنادیا

    آبادی 22 کروڑ، شیخ رشید نے 24 کروڑ افراد کو مسافر بنادیا

    لاہور :آبادی 22 کروڑ، شیخ رشید نے 24 کروڑ افراد کو مسافر بنادیا،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان ریلوے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ کہہ بیٹھے کہ پاکستان ریلوے میں 24 کروڑ لوگ ٹکٹیں بک کروا چکے ہیں،

    ذرائع کے مطابق شیخ رشید نے فورا ہی اپنے بیان کی تصیح کرتے ہوئے کہا کہ 24 کروڑ افراد نہیں بلکہ 24 کروڑ روپے کی ٹکٹیں خریدیں جا چکی ہیں،

    دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کے رہنما و رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ ملک کی آبادی 22 کروڑ ہے، شیخ رشید نے 24 کروڑ لوگوں کو مسافر بنا دیااپنے ایک بیان میں عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ لگتا ہے پوری حکومت ہوش میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی 22 کروڑ ہے تو 24 کروڑ لوگوں نے ٹرین کے لیے بکنگ کیسے کرائی؟

    رہنما پی پی نے تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے جاپان اور جرمنی کی سرحدیں ملادی تھیں۔عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب شیخ رشید نالہ لائی کے کنارے جہاز اڑاتے نظر آئیں گے۔

  • عثمان بزدار کا عوامی فیصلہ ،کرایوں میں 20 فیصد تک کمی

    عثمان بزدار کا عوامی فیصلہ ،کرایوں میں 20 فیصد تک کمی

    لاہور :عثمان بزدار کا عوامی فیصلہ ،کرایوں میں 20 فیصد تک کمی،مزید کمی کریں گےعثمان بزدار کا وعدہ ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےانٹرسٹی اورڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ کھولنےکی اجازت دے دی اور مسافروں کیلئےٹرانسپورٹ کےکرایوں میں 20 فیصد کمی کااعلان کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق بزدارحکومت کاعام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے بڑا اقدام سامنے آیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےانٹرسٹی اورڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ کھولنےکی اجازت دے دی اور مسافروں کیلئےٹرانسپورٹ کےکرایوں میں 20فیصدکمی کااعلان کردیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کافائدہ عام آدمی کوملےگا، ٹرانسپورٹ کےکرایوں میں کمی سےعام آدمی کوبہت ریلیف ملےگا۔

    عثمان بزدار نے پنجاب میں آن لائن ٹیکسی و ٹرانسپورٹ سروس بھی کھولنے کا بھی فیصلہ کرتے ہوئے کہا پبلک ٹرانسپورٹ کوایس او پیزپر عملدرآمد یقینی بناناہوگا، مسافروں، ڈرائیورز،کنڈیکٹرز کیلئےماسک پہننا لازم قراردیاگیاہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بسوں میں سینی ٹائزرزرکھنے کی پابندی ہوگی، بسوں میں مسافروں کے درمیان ضروری فاصلہ رکھا جائے گا، امیرلوگ گاڑیوں پرسفر کر رہےہیں،غریب کی ٹرانسپورٹ بند ہے، عام آدمی کی سفری مشکلات کادیکھ کرٹرانسپورٹ کھولنےکافیصلہ کیاہے۔

    دوسری جانب چوہدری مجید صدر بس اونر ایسوسیشن کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کھلنے کے ساتھ ہی کرایوں میں کمی کا اطلاق کردیا جائے گا،ہمارے اور حکومت پنجاب کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، ہماری کرایوں میں کمی کی تجویز حکومت پنجاب نے مان لی ہے۔

    یاد رہے حکومت پنجاب نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے لیے ایس او پیز پلان مانگ لیا تھا ، وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کی بندش سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا، مجبوری کے باعث عوام نے مہنگے داموں پرائیویٹ گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ عوام اور ٹرانسپورٹ شعبہ کو ریلیف کے لیے اجازت ضر وری ہے۔

    یاد رہے کہ عثمان بزدار اس بات پربضد تھے کہ کرائے کم از کم 40 فیصد تک کم ہونے چاہیں کیوںکہ پبلک ٹرانسپورٹرز نے پٹرولیم مصنوعات کےبڑھنے پرکرایوں میں دوگنا اضافہ کردیا تھا لیکن اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت کم ہوگئیں ہیں لہذا کرایوں میں‌کمی بھی اسی حساب سے ہونی چاہیے لیکن ٹرانسپورٹرز نے یہ معذوری ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ چونکہ کرونا کی وجہ سے سواریوں‌کوفاصلے پربٹھانے کی ہدایات کی گئی ہیں لہذا اس سے آمدنی بہت کم ہوگی ، جس پروزیراعلی نے ان کی یہ درخواست مشروط طورپرمنظورکرلی

  • 23- رمضان المبارک کی تراویح بادشاہی مسجد سے براہ راست باغی ٹی وی پرپاکستان سمیت دنیا بھرمیں دکھائی جاری ہیں

    23- رمضان المبارک کی تراویح بادشاہی مسجد سے براہ راست باغی ٹی وی پرپاکستان سمیت دنیا بھرمیں دکھائی جاری ہیں

    لاہور:23 – رمضان المبارک کی تراویح بادشاہی مسجد سے براہ راست باغی ٹی وی پردکھائی جاری ہیں ،اطلاعات کے مطابق الحمد للہ باغی ٹی وی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ لاہور کی بادشاہی مسجد سے براہ راست نماز تراویح دنیا بھرمیں پھیلے مسلمانوں تک پہنچا رہا ہے ،

    ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں مسلمان آج تئیسویں دن بھی اپنے دل کو قرآن کی تلاوت سے مزین کرنے کے لیے باغی ٹی وی کے توسط سے بادشاہی مسجد سے براہ راست نماز تراویح دیکھ رہے ہیں‌باغی ٹی و ی: رمضان المبارک کے سعادتوں اور رحمتوں والے میں مہینے میں باغی ٹی وی اپنے ناظرین کےلیے نیکی سے بھرپور موقع فراہم کرتے ہوئے قرآن کی سماعت کا موقع فراہم کر رہا ہے

     

    چونکہ رمضان اور قرآن کا گہرا تعلق ہے اس سلسلے میں نماز تراویح قرآن کی تلاوت اور قرآن کی سماعت کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے اس لیے نماز تراویح کو براہ رست دیکھنے کی سہولت دی جارہی ہے . آپ اب بادشاہی مسجد لاہور میں ادا کی جانے والی نماز تراویح کو دیکھ سکتے ہیں .

    بادشاہی مسجد لاہور سے براہ راست تراویح‌دیکھنے کے لیے آپ باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر جا سکتے ہیں اور اسی طرح باغی کے یو ٹیوب چینل پر بھی نماز تراویح لائیو دیکھ سکتے ہیں. جو کہ بادشاہی مسجد لاہور سے براہ راست نشر کی جائے گی.

    یاد رہے کہ باغی ٹی وی پریہ پاکستان کے سب سے بڑی سوشل میڈیا ٹرانسمیشن ہے جسے دنیا بھرمیں دیکھا جارہاہے ، اس کے علاوہ اس ٹرانسمیشن میں رمضان المبارک کے حوالےسے وعظ ونصیحت کا سلسلہ بھی جاری ہے

  • کسی طبقہ کی بیوقوفی اور اس پر حکومتی مجرمانہ غفلت کب سے ہمارے لیے معیار ہو گئی ؟ تحریر، طہ منیب

    ہم ردعمل کا شکار ہی کیوں ہوں ؟ کیا ہم میں عقل خرد سمجھ بوجھ نہیں رہی جو ہم کسی کے عمل کے ردعمل کی بنیاد پر فیصلہ سازی کریں؟ کسی کا کنویں میں کودنا ہمارے لیے کب سے کودنے کی دلیل بن گیا؟ جو جس نے جتنا غلط کیا اسکی سزا خود کو دینا کسی صورت دانش مندی کا تقاضہ نہیں۔ وائرس پہلے بھی تھا ، اب بھی ہے اور ان کے ان جلوسوں سے یقیناً بڑھے گا اور اسکے ردِعمل کا شکار ہم ہونگے تو پھلے پھولے گا جسکا نتیجہ پوری قوم بھگتے گی،

    وائرس نا رکا تھا نا رکا ہے، کسی کے جاننے والے کو ہوا یا نہیں سے اب اکثر کو یہ لگ چکا ہے، اب ہر طبقہ میں اسکے متاثرین موجود ہیں، اس کو سنبھالنے کے لیے حکومتی وسائل اب ناکافی ہوچکے، قرنطینہ مراکز بھر چکے، اب یہ آپ پر ہے آپ ردِعمل کا شکار ہوکر سب سے پہلے خود، اپنی فیملی، حلقہ احباب ، ملک و قوم کو اسکا شکار بناتے ہیں یا عقلمندی و خرد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جزباتیت اور ردعمل کا شکار ہوئے بغیر احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے سب کی حفاظت کے ضامن بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی کو بروئے کار کر درست فیصلوں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین