Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • لاہور: پولیس کا غیر اخلاقی کارنامہ، 10 ماہ میں 16 ہزار شکایات درج کرنے سے گریز

    لاہور: پولیس کا غیر اخلاقی کارنامہ، 10 ماہ میں 16 ہزار شکایات درج کرنے سے گریز

    لاہور پولیس نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران شہریوں کی جانب سے درج کرائی گئی ‘پرانی شکایات’ پر 16 ہزار سے زائد فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) درج کی ہیں۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ اتنی بڑی تعداد میں جرائم کے اعداد و شمار کو چھپانے کا پہلا واقعہ ہے جس کی نشاندہی ہوئی اور یہ معاملہ پولیس قیادت کے حالیہ اجلاس کے دوران باضابطہ طور پر رپورٹ ہوا۔

    کچھ پولیس ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘برکنگ’ کی اصطلاح کو قانون میں جرم سے جوڑا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ درج کردہ جرم کی معلومات حاصل کرنے میں ناکامی اور جرائم سے متعلق تفتیش کے عمل کو روکنا ہے-

    اس سے باخبر ایک عہدیدار نے کہا کہ جب پولیس جرائم کی شرح کم دکھانے کے لیے گڑ بڑ کرتی ہے تو شکایات کی اطلاع نہیں دی جاتی، اس غیر اخلاقی عمل نے شہریوں کو ان کی چھینی یا چوری شدہ املاک کی برآمدگی کے لیے مجرموں کو قانون کی عدالت میں لے جانے کے بنیادی حق سے محروم کیا۔

    عہدیدار کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس کے 6 ڈویژنز میں شہریوں نے یکم جنوری سے 31 اکتوبر تک 16 ہزار 533 شکایات درج کروائیں یہ تمام شکایات گاڑیاں چھیننے، ڈکیتی، چوری جیسے سنگین جرائم سے متعلق تھیں جنہیں پولیس ریکارڈ میں رپورٹ نہیں کیا گیا۔

    اس پیشرفت کا سب سے پریشان کن حصہ یہ تھا کہ پولیس نے گاڑیوں کی چھیننے اور چوری سے متعلق جرائم میں بھی گڑ بڑ کی جیسا کہ دستیاب اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں اس قسم کے جرائم اتنی بڑی تعداد میں غیر رپورٹ شدہ رہے۔

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چور 10 ماہ کے دوران شہریوں سے 4209 موٹر سائیکلیں اور 139 کاریں یا دیگر گاڑیاں چھیننے کے علاوہ گن پوائنٹ پر 45 موٹر سائیکلیں اور3 کاریں یا دیگر گاڑیاں چوری کی گئیں یہ تمام جرائم نومبر کے مہینے میں درج کیے گئے-

    کراچی میں ٹک ٹاکرز جوڑے اسٹریٹ کرمنلز کا آسان ہدف بن گئے

    یہ صورتحال صوبائی دارالحکومت میں صوبائی پولیس سربراہ اور متعلقہ اداروں کے دیگر افسران کی ناک کے نیچے جرائم کے اعداد و شمار چھپانے کا خوفناک رجحان ظاہر کرتی ہے۔

    پولیس ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کی کارکردگی کا اندازہ عموماً جرائم کی شرح میں اضافے یا کمی سے لگایا جاتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ مدت کے دوران افسران نے جرم کو ریکارڈ نہ کر کے اسے قابو کرنے کی کوشش کی۔

    ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ جرائم کے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کو اکثر غیر پیشہ واریت کی بدترین مثال قرار دیا جاتا ہے جس نے پولیس کے محکموں کو پریشان کر رکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کا اندراج ریاست کی ذمہ داری ہے تا کہ قابل سزا جرائم ہونے کا ریکارڈ رکھا جاسکے جس سے شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

    منشیات کیس میں نامزد ملزم کی درخواست ضمانت خارج

    اتنی بڑی تعداد میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف شکایات درج کرانے کے شہریوں کے بنیادی حقوق سے انکار کے سرکاری اعداد و شمار نے پولیس افسران کے ساتھ ساتھ موجودہ طریقہ کار کو بھی بری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 16 ہزار 533 غیر رپورٹ شدہ شکایات میں ڈکیتیوں کی 16، لوٹ مار کی 2 ہزار 365 ، گاڑیوں کی چھینا جھپٹی کی4 ہزار 413، گھر اور دکانوں میں چوری کی 570، اسٹریٹ کرائم کی ایک ہزار 360، املاک کی 7210 اور 599 متفرق شکایات تھیں۔

    اعداد و شمار کے ڈویژن وار بریک ڈاؤن کے مطابق کنٹونمنٹ ڈویژن مقدمہ درج کرنے کے انکار میں 4 ہزار 188 شکایات کے ساتھ سرِ فہرست، ماڈل ٹاؤن ڈویژن 3 ہزار 356 شکایات کے ساتھ دوسرے اور سول لائنز ڈویژن 2 ہزار 770 شکایات کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

    اسی طرح یکم جنوری سے 31 اکتوبر سٹی ڈویژن نے 2 ہزار 609 شکایات پر فوجداری مقدمات درج نہیں کیے، صدر ڈویژن نے2 ہزار 77 سے انکار کیا جبکہ اقبال ٹاؤن ڈویژن نے ایک ہزار 533 شکایات کو مسترد کیا۔

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

    ایک اور اہلکار نے، جو معلومات سے واقف ہے، کہا کہ پولیس حکام نے یہ سرکاری اعداد و شمار اس سال کے پہلے 10 مہینوں کے دوران رپورٹ نہ ہونے والی شکایات کا تفصیلی تجزیہ کرنے کے بعد کیے ہیں۔

    ایک دو ملاقاتوں میں اس معاملے پر تفصیلی غور و خوض کے بعد، انہوں نے کہا، پولیس کے اعلیٰ افسران نے یہ پرانی غیر رپورٹ شدہ شکایات تمام ڈویژنل ایس پیز کو بھیجی ہیں تاکہ ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے ان کی دوبارہ تصدیق کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں فائدہ اٹھانے والے مجرم/ ڈاکو تھے جو جرم کرنے کے باوجود عدالت سے سزا سے بچ گئے تھے۔

    تصدیق کےعمل کے بعد، اہلکار نے مزید کہا، پولیس نے پرانی شکایات پر 16 ہزار 533 نئی ایف آئی آر درج کیں جس سے تفتیشی ونگ پر بوجھ کئی گنا بڑھ گیا، جو پہلے ہی عملے اور رسد کی کمی تھی۔

    لاہور: لنک روڈ پر گلے پر ڈور پھرنے سے نوجوان جاں بحق، ایس ایچ او معطل

  • اسلام آباد میں آئی جی کے گھر کے سامنے ڈکیتی، ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

    اسلام آباد میں آئی جی کے گھر کے سامنے ڈکیتی، ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

    اسلام آباد میں آئی جی کے گھر کے سامنے ڈکیتی، ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے

    دن دہاڑے ڈکیتی کی وارداتیں ہو رہی ہیں ، پولیس خاموش تماشائی دکھائی دیتی ہے، اب ڈاکوؤں نے آئی جی اسلام آباد کو چیلنج کیا ہے، آئی جی اسلام آباد کے گھر کے سامنے والے گھر میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے ،مسلح ڈاکو دن دہاڑے گھر میں گھسے اور اہلخانہ کو باندھ کر لوٹ مار کی اور فرار ہو گئے،ڈاکوؤن نے گھر کا صفایا کر دیا وار 35 لاکھ روپے نقد اور زیورات لوٹ کر فرار ہوئے، ڈاکو گاڑی میں سوار ہو کر آئے تھے اور گاڑی میں ہی فرار ہوئے، ڈاکو آئی جی ھاوس کے باہر تعینات سیکورٹی اہلکاروں کے سامنے داخل ہوئے۔ واردات پوش سیکٹر ایف سیون تھری کی گلی نمبر 63میں ہوئی

    تھانہ کوہسار میں ڈکیتی کی واردات کے بعد کاروائی کے لئے درخواست دی گئی ابھی تک پولیس کسی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی، لٹنے والے خاندان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد جیسے شہر میں آئی جی اسلام آباد کے گھر کے سامنے والے گھر میں دن دہاڑے ڈکیتی کی واردات نے پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے، گھر کے مالک کا کہنا ہے کہ ڈاکو نقدی،زیور،لیپ ٹاپ، موبائل فون وغیرہ بھی لے گئے ،

    گھر کے مالک ذبیح اللہ کا کہنا ہے کہ وہ 25 سال سے یہاں اس گھر میں مقیم ہیں، میرے گھر کے سامنے آئی جی کا گھر ہے اور حالت یہ ہے کہ ڈکیتی ہوئی اطلاع دی ابھی تک ملزم گرفتار نہیں ہو سکے،

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ دو ہفتوں میں ڈکیتی کی 25 سے زائد وارداتیں ہو چکی ہیں ،قبل ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی دارالحکمومت اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے چوری، ڈکیتی، ریپ، قتل و دیگر جرائم کے واقعات کے تدارک کیلئے اسلام آباد پولیس کی طرف سے امن و امان کو برقرار رکھنے اور جرائم کے تدارک کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے علاوہ سینیٹر نزہت صادق کی F-10 سیکٹر میں واقعہ رہائش گاہ میں ہونے والی ڈکیتی کے واقعہ کے علاوہ اسلام آباد کے سیکٹر G-13 میں ہونے والی چوری کے حوالے سے پولیس کے غیر پیشہ وارانہ رویے اور اس کیلئے قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔چیئرمین و اراکین کمیٹی نے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں امن و امان، چوری، ڈکیتی و دیگر جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کو مناسب متحرک ہونا چاہئے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا فرائض منصبی میں شامل ہے۔ دارلحکومت میں امن و امان کے حالات کی تنزلی سے تمام لوگ پریشان ہیں اور اسلام آباد کے پوش علاقوں میں چوری، ڈکیتی، قتل اور زیادتی کے واقعات ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔

    وزیراعظم نے جہانگیر ترین بارے کیا رپورٹ مانگی تھی؟ بیرسٹر علی ظفر کا انکشاف

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین بارے درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    بریکنگ..شہزاد اکبر کھل کر جہانگیر ترین گروپ کیخلاف آ گئے، مقدمہ درج کروا دیا

    جہانگیر ترین کیخلاف کاروائی سے پہلے عدالت کو بتانا ہو گا،عدالت کا حکم، درخواست ضمانت واپس

    جہانگیر ترین کی شوگر ملز کے‌ حوالہ سے درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تحریری فیصلہ جاری

    جہانگیر ترین فیصلہ کر لیں پارٹی میں رہنا ہے یا نہیں، میرے ساتھ بھی زیادتی ہوتی رہی،پی ٹی آئی رہنما برس پڑے

    جہانگیر ترین گروپ کی آج کس شخصیت سے ملاقات طے؟ پنجاب میں تہلکہ مچ گیا

    جہانگیر ترین گروپ کا آج ہونے والا اجلاس ایک بار پھر موخر

    جہانگیر ترین بارے رپورٹ وزیراعظم کو پیش،اہم شخصیت کا بڑا دعویٰ

    آرڈر پر عمل نہ ہوا تو سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد پیش ہوں،عدالت

    سینیٹر نزہت صادق کی رہائش گاہ پر ہونے والی ڈکیتی کے حوالے سے سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب ایک سفید گاڑی میں پانچ سے چھ افراد ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ گھر کے ملازمین کو یرغمال بنا کر ڈکیتی کی گئی میرے خاوند بھی گھر پر موجود تھے۔ سیکٹر F-10میں گزشتہ چند دنوں کے دوران بہت سی ڈکیتیوں کے وارداتیں ہو چکی ہیں۔ حکومت کی ناک کے نیچے ایسے حالات ہونا لمحہ فکریہ ہے 15پر کال بھی کی نمبر مصروف تھا اور کسی نے 15سے بیک کال نہیں کی۔ ڈکیتی کرنے والے صاف ستھرے اور اچھے کپڑوں میں تھے۔آئی جی اسلام آباد پولیس قاضی جمیل نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ لوگوں کو امن و امان اور تحفظ فراہم کرنا ہمارا فرائض منصبی ہے اور بھر پور کوشش کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد میں جرائم کی شرح کو جتنا زیادہ ممکن ہو سکے کم سے کم کیا جائے اس کے لئے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں بے شمار گروپس اور نئے گینگ بن گئے ہیں۔ محکمہ پولیس امن و امان اور تحفظ کی فراہمی کیلئے نئی اصلاحات عمل میں لا رہی ہے۔ فوری ایکشن کیلئے سسٹم بنائے جا رہے ہیں پولیس کی گاڑیوں اور بائیکس پر ٹریکر لگائے جا رہے ہیں اور موبائل گاڑیوں کی تعداد بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کو سیف سٹی بنانے کیلئے 2008میں سیف سٹی منصوبہ شروع کیا گیا جو 2018میں مکمل ہو ا۔ 1900 کیمرے لگائے گئے 96 فیصد کام کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ دس سال پہلے کی آباد ی کیلئے تھا اب اسلام آباد بہت پھیل چکا ہے اور موجودہ کیمروں سے صرف 30فیصد کوریج کی جا رہی ہے۔1900مزید کیمروں کیلئے پلان بنا کر بھیجا گیا ہے بہتر تحفظ اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے پرائیویٹ تنظیموں کو بھی ساتھ ملایا جا رہا ہے۔ سمارٹ گاڑیاں لی جا رہی ہیں اور صوبہ خیبر پختونخواہ، پنجاب اور سندھ سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کیرمینل لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے بہتر ٹیکنالوجی کے استعمال سے معاملات میں بہتری لائی جا ئے گی۔

    میرا کچرا،میری ذمہ داری،برطانوی ہائی کمشنر ایک بار پھر مارگلہ کی پہاڑیوں پر پہنچ گئے

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو پہلے بتایا گیا تھا کہ ایک چپ کے ذریعے گاڑیوں کی ٹریکنگ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تھانوں میں ثالثی کمیٹیاں بھی ہیں ایک سیکٹر کے چار سب سیکٹرز ہوتے ہیں رضا کاروں کو شامل کیا جائے او ر اسلا م آباد کے مختلف سیکٹرز کے مراکز جرائم کے گڑھ ہیں پولیس کی نفری نظر آنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او تھانے کا انچارج ہوتا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ انچارج کا رویہ عام عوام کے ساتھ انتہائی نا مناسب ہوتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ محکمہ پولیس کے پاس پیٹرولنگ کیلئے 49گاڑیاں اور 130موٹر سائیکل ہیں۔ عام عوام کو تنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف اقدامات اٹھائے جا تے ہیں کچھ اہلکاروں کو معطل اور قید بھی کیا گیا ہے۔ قائمہ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ کرونا کے دوران 52سو کے قریب احتجاج، جلسے، جلوس و دیگر لوگوں کے اجتماع ہوئے اُن کو کنٹرول کرنے کیلئے بھی پولیس نے اقدامات اٹھائے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2017میں اسلا م آباد میں قتل چوری، اغوا اور ڈکیتوں کے 7136، 2018میں 9465، 2019میں 9748، 2020میں 10539کیسز رپورٹ ہوئے۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد کے سیکٹر G-9میں ہونے والی ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کے واقعات پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ان کے تدارک کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ سینیٹر رانا مقبول نے کہا کہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جائے اور ایف آئی آر درج کرنے سے معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔اسلام آباد کے سیکٹر G-13 میں ہونے والی چوری کے حوالے سے پولیس کے غیر پیشہ وارانہ رویے اور اس کیلئے قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ کمیٹی نے جو سفارشات دی تھیں اُن پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔ ملزم ٹریس کر لئے گئے ہیں اور دس دن کے اندر تمام ملزمان کو پکڑ لیا جائے گا۔ سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ جن لوگوں کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آتا ہے وہ تھانے رپورٹ کیلئے جائیں تو آفسران سے لے کر اہلکاروں کا رویہ انتہائی نا مناسب اور پریشان کن ہوتا ہے لوگ تھانے میں مدد کیلئے جاتے ہیں مگر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔ افسران و سٹاف کے رویوں کی بہتری کیلئے محکمہ پولیس کو مناسب تربیت فراہم کرنی چاہئے۔

  • جوہرٹاؤن دھماکہ ، گرفتار ملزمہ عدالت پہنچ گئی

    جوہرٹاؤن دھماکہ ، گرفتار ملزمہ عدالت پہنچ گئی

    جوہرٹاؤن دھماکہ ، گرفتار ملزمہ عدالت پہنچ گئی

    جوہر ٹاؤن بم دھماکے کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ کی ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے پولیس سے آئندہ سماعت پر مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا ،ملزمہ عائشہ بی بی نے ایڈوکیٹ فدا حسین رانا کی وساطت سے درخواست دائر کر رکھی ہے درخواست میں سی ٹی ڈی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے ،پولیس نے بلا وجہ گرفتار کر رکھا ہے ۔ کسی دہشتگرد گروہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے،بے بنیاد گرفتار کیا گیا ہے ۔سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ، ملزمہ موقع پر موجود نہیں تھی ۔ملزمہ سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے کسی قسم کی کوئی ریکوری نہیں ہونی ۔ ملزمہ راہ فرار اختیار نہیں کرے گی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی جائے ۔

    واضح رہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 23 جون کو دھماکہ ہوا تھا اسی علاقے میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی رہائش گاہ بھی قائم ہے ،قبل ازیں دھماکے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی لاہور تھانے میں انسپکٹر عابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں 7 اے ٹی اے، 3/4ایکسپلوزو ایکٹ سميت دیگر دفعات شامل ہیں۔درج ایف آئی آر کے مطابق دہشت گردوں نے کارروائی میں گاڑی اور موٹر سائیکل استعمال کیں۔ مقدمے کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دھماکے میں 3افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوئے۔ مقدمے میں 3 نامعلوم دہشت گردوں کا ذکرکیا گیا ہے۔

    جوہر ٹاون دھماکے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے بعد آئی جی پنجاب انعام غنی نے انکشاف کیا تھا کہ 10 کے قریب پاکستانی جوہر ٹاوَن دھماکے میں ملوث ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا تھا کہ جوہر ٹاؤن دھماکے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی جوہر ٹاؤن دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی 2010میں چھینی گئی ،دہشت گردوں کا ہدف پولیس چوکی تھی پولیس اہلکار نے شک کی بنیاد پر گاڑی کو روکا تھا، ملزمان کا سابقہ کرمینل ریکارڈ بھی چیک کیا جارہا ہے،گرفتار ملزم کے پاس گاڑی کی سپرداری کی دستاویزات تھیں پورے نیٹ ورک کی تفصیلات چند گھنٹوں میں حاصل کرلی گئیں،

    آئی جی پنجاب انعام غنی کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے ماسٹر مائینڈا فراد کی بھی شناخت ہوچکی ہے، ملک دشمن عناصرلوگوں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں،گاڑی کی خریداری،سہولت کاری میں ملوث ملزمان گرفتار کر لیے،ملزم کا آبائی تعلق کے پی ،پنجاب کا رہائشی ہے،گاڑی کی مرمت کرنے والے افرادکو بھی گرفتارکرلیا گیا ہے،10 کے قریب پاکستانی بھی ہمارے پاس ہیں جنہوں نے دہشت گردی میں معاونت کی جن میں مرد اور خواتین شامل ہیں۔

    جوہر ٹاون دھماکہ کیسے ہوا ؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آ گئی

    جوہر ٹاون دھماکہ حافظ محمد سعید کی رہائشگاہ کے قریب ہوا؟ حقیقت سامنے آ گئی،

    جوہر ٹاون دھماکہ۔ زخمیوں کے نام سامنے آ گئے ۔اموات میں اضافہ

    لاہور جوہر ٹاؤن دھماکے میں پڑوسی ملک کے ملوث ہونے کے ثبوت سینئر صحافی سامنے لے آئے

    لاہور میں دھماکہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ، شہباز شریف

    دہشت گردی کے کتنے تھریٹ ملے تھے؟ لاہور دھماکے کے بعد آئی جی کا انکشاف

    جوہرٹاون دھماکہ:تحقیقاتی ادارے ملزم کے قریب پہنچ گئے،

    جوہرٹاؤن دھماکہ؛ بارود سے بھری گاڑی کا مالک کون؟بارود کہاں نصب کیا گیا اورگاڑی کیسے پہنچی؟تہلکہ خیزانکشافات 

    لاہور دھماکہ، ایئر پورٹ سے فرار ہونیوالے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا

    جوہر ٹاؤن دھماکہ،تحقیقات میں زبردست کامیابی حاصل کر لی، شیخ رشید

    جوہر ٹاؤن دھماکہ "را” کے ملوث ہونے کے ثبوت،دو مزید ملزمان گرفتار،ڈیوڈ بارے اہم انکشافات

    جوہر ٹاؤن دھماکہ، سب ملزمان گرفتار، ملک دشمن خفیہ ایجنسی ملوث، بزدار کی پریس کانفرنس

  • لاہور میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی کراچی کی لڑکی کا میڈیکل کروانے سے انکار

    لاہور میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی کراچی کی لڑکی کا میڈیکل کروانے سے انکار

    کراچی : لاہور میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی کراچی کی لڑکی کا میڈیکل کروانے سے انکار،

    متاثرہ لڑکی نے کیس کی مزید پیروی سے بھی معذرت کر لی، عدالت سے پولیس کو زبردستی میڈیکل کروانے سے روکنے کی درخواست کر دی۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور میں کراچی سے آئی لڑکی کو ایک ہفتے کے دوران متعدد مرتبہ مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی نے میڈیکل کروانے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس کیس کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتی۔ متاثرہ لڑکی نے عدالت میں درخواست جمع کروائی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پولیس اس کا زبردستی میڈیکل کروانے کی کوشش کر رہے ہے، پولیس کو اس عمل سے روکا جائے۔

    متاثرہ لڑکی نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ وہ اب اس کیس کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں انکشاف ہوا تھا کہ کراچی کی ایک لڑکی کو لاہور آنے کے بعد ایک ہفتے کے دوران کئی مرتبہ مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ لڑکی کی جانب سے درج کروائی گئی شکایت میں بتایا گیا کہ وہ کراچی شہر کی رہائشی ہے اور آن لائن گیم پب جی کھیلتے ہوئے لاہور کے ایک لڑکے سے دوستی ہو گئی۔ بعد ازاں اس لڑکے نے شادی کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے لاہور آنے کا کہا جس پر میں 23 نومبر کو بذریعہ ریلوے لاہور پہنچی۔
    لاہور پہنچنے کے بعد پب جی کے ذریعے دوست بننے والا لڑکا مجھے ایک ہوٹل میں لے گیا جہاں مجھے 3 دن تک زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ بعد ازاں ملزم مجھے ہوٹل میں چھوڑ کر فرار ہو گیا اور پھر میں ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ جب وہ اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کر رہی تھیں تو دو آدمیوں نے انہیں نوکری دلانے کا وعدہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ مشتبہ افراد انہیں سرور روڈ پر واقع ایک گھر میں لے گئے جہاں اس کا کئی مرتبہ ریپ کیا لیکن وہ بالآخر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے ساتھ ریپ کی ایف آئی آر 28 نومبر کو نارتھ کینٹ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی اور اب کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

  • کراچی میں ٹک ٹاکرز جوڑے اسٹریٹ کرمنلز کا آسان ہدف بن گئے

    کراچی میں ٹک ٹاکرز جوڑے اسٹریٹ کرمنلز کا آسان ہدف بن گئے

    کراچی: شہر میں ٹک ٹاکرز کو اسٹریٹ کرمنلز باآسانی لوٹ لیتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اور اب ٹک ٹاکرز جوڑے اور اکیلی لڑکیاں ملزمان کا آسان ہدف بن چکے ہیں، ایسے ہی شارع نور جہاں پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے ایک اسٹریٹ کرمنل نے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ لاتعداد واردتوں میں سب سے آسان اور منافع بخش ہدف ٹک ٹاکرز ہوتے ہیں جو مہنگے موبائل اور نقدی آسانی سے ہمارے حوالے کردیتے ہیں۔
    ملزم نے اپنے بیان میں بتایا کہ ٹک ٹاکرز مہنگے موبائل فون رکھتے ہیں اور چھیننے پر مزاحمت نہیں کرتے، مختلف پارکس میں ٹک ٹاکرز ویڈیوز بنانے کے لئے آتے ہیں، اس لئے انہیں لوٹنا بہت آسان ہوتا ہے، جب کہ ان سے چھینے گئے موبائل فون مہنگے داموں میں فروخت ہوتے ہیں۔
    ملزم نے بتایا کہ وہ اور اس کے ساتھی اب تک 25 سے زائد ٹک ٹاکر جوڑوں اور سنگل لڑکیوں کو لوٹ چکے ہیں، اس کے علاوہ ہم فوڈ ڈیلوری بوائز اور آن لائن کار سروس کو سنسان جگہ پر بلاتے ہیں اور جب ڈیلوری بوائے ہماری بتائی ہوئی جگہ پر آتا ہے تو ہم اسے لوٹ لیتے ہیں اور اس سے منگوایا گیا کھانا بھی چھین لیتے ہیں، جب کہ آن لائن کار سروس والوں کو بھی لوٹ لیا کرتے ہیں۔
    ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ چھینے گئے موبائل فون، سونا اور موٹرسائیکل بنارس میں عزیز نامی شخص کو فروخت کرتے ہیں، جہاں ایک لاکھ والا موبائل فون 20 ہزار اور 70 ہزار روپے والا موبائل 15 ہزار میں فروخت ہوتا ہے، جب کہ سونے کی انگوٹھی 5 ہزار اور موٹرسائیکل 10 ہزار میں بیچتے ہیں۔
    ملزم نے بتایا کہ وہ اس کے ساتھی بینک سے نکلنے والے شہریوں کو بھی نشانہ بناتے رہے ہیں، بینک کے اندر موجود ساتھی کیش نکلوانے والے کو دیکھ لیتا ہے، اور شہری کے نکلتے ہی اشارہ کیا جاتا ہے اور نشانی بتائی جاتی ہے، جس کے بعد شہریوں سے نقدی لے کر باآسانی فرار ہوجاتے ہیں، اور ان جرائم میں متعدد بار جیل بھی جا چکا ہوں

  • آن لائن گیم پر دوستی،لڑکے سے ملنے لاہور پہنچنے والی لڑکی کے ساتھ خوفناک حادثہ

    آن لائن گیم پر دوستی،لڑکے سے ملنے لاہور پہنچنے والی لڑکی کے ساتھ خوفناک حادثہ

    آن لائن گیم پر دوستی پر لڑکی لڑکے سے ملنے لاہور پہنچی تو نامعلوم گینگ اسے اغوا کرکے تین دن تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق متاثرہ لڑکی کی حارث نامی لڑکےنےسے آن لائن گیم پر دوستی ہوئی ملزم نےلڑکی کوشادی کاجھانسہ دےکرکراچی سےلاہوربلایا اورلڑکی کوریلوےسٹیشن پرچھوڑکرروپوش ہوگیا ریلوےسٹیشن پرایک گینگ لڑکی کواپنےساتھ گیسٹ ہاؤس لےگیا ۔

    ملزمان نےگیسٹ ہاؤس میں لڑکی کےساتھ تین روزتک اجتماعی زیادتی کی متاثرہ لڑکی موقع پاکرفرارہونےمیں کامیاب ہوگئی واقعہ کی اطلاع ملنے پر شمالی چھاؤنی پولیس نےواقعہ کامقدمہ درج کرتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔

    نوکری کے بہانے خاتون سے زیادتی کرنیوالے جج کو جیل بھجوا دیا گیا

    آئی جی پنجاب راؤ سردار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور فیاض دیو سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ گیسٹ ہاؤس انتظامیہ کو بھی شامل تفتیش کرکے ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    خواتین پر تشدد ، زیادتی اور ہراسمنٹ کے واقعات پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے لڑکی سے زیادتی کرنے والے ملزمان کسی رعائیت کے مستحق نہیں ۔سینئر افسران متاثرہ لڑکی سے ملاقات کریں اور اسے ہر ممکن تحفظ اور انصاف فراہم کریں ۔

    واضح رہے کہ اس سے عدالت نے نوکری کے بہانے خاتون سے پیسے بٹورنے والے اور بعد ازاں زیادتی کرنیوالے جج کو جیل بھجوا دیا گیا جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں سول جج کو پیش کیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے جج کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تا ہم عدالت نے سینئر سول جج کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا، جس کے بعد سینئر سول جج کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے

    گھر میں گھس کر خواتین کو باندھ کر گھناؤنا کام کرنیوالے ملزم گرفتار

    سینئر سول جج تیمرگرہ جمشید کنڈی ریپ کے الزام میں گرفتارکئے گئے تھے، واقعہ کا تھانہ بلامبٹ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے متاثرہ لڑکی نے پولیس تھانہ میں تحریری شکایت درج کرائی تھی ، ڈی ایچ کیو تیمرگرہ میں لڑکی کا طبی معائنہ کیا گیا جج نے لڑکی سے نوکری دینے کیلئے مبینہ پندرہ لاکھ روپے لئے تھے ،میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق کے بعد ضلع دیر میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں ملوث سینئر جج گرفتار کر لیا گیا،ڈی پی او لوئر دیر کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی، جج زیر حراست ہے-

    متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ملزم نے بہن کی ملازمت کا جھانسہ دیکر لاکھوں روپے زیورات لیے تھے،زیورات واپس کرنے کے بہانے اپنے ساتھ گھر لے گیا،کہا نوکری کا معاملہ میرے ہاتھ سے نکل گیا، میرے ساتھ چلو اور سامان واپس لے لو،جمشید کنڈی مجھے سرکاری بنگلہ میں لے آئے اور مجھے کہا کہ میری جنسی خواہش پوری کرو، میں نے انکار کیا تو میرے ساتھ زبردستی زنا بالجبر کیا ،زیورات اور رقم بھی واپس نہیں کی،پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے جمشید کنڈی کو گرفتار کر لیا-

    اسی سالہ بزرگ نے کیا 65 سالہ خاتون کا ریپ

    دوسری جانب ضلع دیر میں خاتون سے مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار سینئر سول جج معطل کر دیا گیا ہے،رجسٹرار پشاورہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے عدالت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے،

    واضح رہے کہ نوکری کا جھانسہ دے کر خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، پنجاب میں بھی ایسے بے شمار واقعات ہو رہے ہیں،کئی واقعات رپورٹ نہیں ہوتے،عزت کی خاطر خواتین چپ کر جاتی ہیں بہت کم خواتین حق کے لئے آواز اٹھاتی ہیں،لاہور میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، اچھرہ کی رہائشی چار بچوں کی ماں کو ملزم عمران نے نوکری ک جھانسہ دیکر بلایا، متاثرہ خاتون کے مطابق ملزمان نے کیری ڈبہ میں بٹھا کر نشہ آور بوتل پلائی اور نامعلوم جگہ پر لے گئے۔ متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ تین دن تک ملزم عمران سمیت تین ملزمان اسے زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور تین روز بعد مانگا منڈی مین روڈ پر بے یار و مددگار پھینک دیا۔

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

  • سامان لے کر دینے کے بہانے خاتون کے ساتھ زیادتی کرنیوالے ملزمان گرفتار

    سامان لے کر دینے کے بہانے خاتون کے ساتھ زیادتی کرنیوالے ملزمان گرفتار

    سامان لے کر دینے کے بہانے خاتون کے ساتھ زیادتی کرنیوالے ملزمان گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کے علاقے گوجرخان میں پولیس نے اہم کاروائی کی،گینگ ریپ کے 02 ملزمان گرفتار کر لئے گئے.

    ملزمان نے خاتون کو سامان لے کر دینے کے بہانے ویران جگہ لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا،گینگ ریپ کا مقدمہ متاثرہ خاتون کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ گوجرخان میں درج کیا گیا تھا، ایس پی صدر نے ایس ڈی پی اوگوجرخان کو ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک دیا تھا، ایس ڈی پی او گوجرخان کی زیرنگرانی ایس ایچ او گوجر خان نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 02 ملزمان خداداد اورناظر خان گرفتار کرلیا، ایس ڈی پی اوگوجرخان کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گی،خواتین اوربچوں سے زیادتی ناقابل برداشت ہے،ملزمان کو قرارواقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے راولپنڈی پولیس خواتین اور بچوں پرتشدد اورزیادتی کے حوالے سے زیروٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے،

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کے والد نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

    قبل ازیں ایس ایچ او درابن یاسین خان ہمراہ انچارج درابن چیک پوسٹ اکرام اللہ و نفری پولیس نے بین الصوبائی منشیات سمگلنگ کے خلاف کامیاب کاروائی سرانجام دی ہے ایسں ایچ او درابن یاسین خان ہمراہ نفری پولیس درابن چیک پوسٹ پر موجود تھے کہ ایک گاڑی نمبر ATL-991 جو کہ کوئٹہ سے ڈیرہ اسماعیل خان براستہ درابن روڈ آرہی تھی، جس کو درابن چیک پوسٹ پر روکا گیا، گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نے اپنا نام محمد یاسر ولد عالمگیر خان بتلایا،گاڑی مذکورہ بالا کو مشکوک پاکر گاڑی کو چیک کیا گیا تو گاڑی کے خفیہ خانوں اور سیٹوں میں چھپائے گئے چرس کے 30 پیکٹ برآمد ہوئے،جن کو برموقع بذریعہ ڈیجیٹل سکیل وزن کیا گیا تو چرس کی مجموعی مقدار 36 کلوگرام برآمد ہوئی جس کو برموقع قبضہ پولیس کیا گیا،جب کہ گاڑی کو پولیس کی تحویل میں لے کر ڈرائیور (ملزم) مذکورہ بالا کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کر دیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

  • اقدام قتل میں ملوث ملزم کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام

    اقدام قتل میں ملوث ملزم کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام

    اقدام قتل میں ملوث ملزم کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام

    تھانہ رحمان بابا پولیس نے اقدام قتل میں ملوث ملزم کے افغانستان فرار کی کوشش ناکام بناتے ہوئے گرفتار کر لیا، گرفتار ملزم کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان سے ہے جس نے گزشتہ ہفتے چچازاد پر فائرنگ کی تھی جس کی فائرنگ سے ایک راہگیر شدید زخمی ہوا تھا، ملزم کے قبضہ سے اسلحہ اور آئس بھی برآمد کر لی گئی ہے جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران گزشتہ ہفتے اقدام قتل کی واردات کے بعد نامعلوم مقام فرار ہونے اور موقع ملتے ہی افغانستان فرار کی کوشش کا اعتراف کر لیا ہے، ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے

    گزشتہ روز تھانہ رحمان بابا پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ اقدام قتل میں ملوث ملزم ایاز خان ولد عمرا خان ضروری دستاویزات لے کر ہمسایہ ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے جس پر ایس ایچ او تھانہ رحمان بابا عبداللہ جلال نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم آیاز ولد عمرا خان کو گرفتار کر لیا، ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران گزشتہ ہفتے اقدام قتل کی وارادت کے بعد نامعلوم مقام روپوش ہونے اور گزشتہ روز دستاویزات وغیرہ لے کر افغانستان فرار ہونے کی کوشش کا اعتراف کر لیا ہے جس کے قبضہ سے اسلحہ اور آئس بھی برآمد کر لی گئی ہے جس سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے

    قبل ازیں ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ صدر کی حدود میں چند روز قبل ہونے والی ڈکیتی کا ڈراپ سین مرکزی ملز سمیت پانچ سہولت کار گرفتارکر لئے گئے ، تھانہ صدر کی حدود سے یوسف کے مقام پرتین نقاب پوش ملزمان ڈکیٹ براہ راستہ باب ڈیرہ لائٹ بینک سے یوسف برانچ میں داخل ہوئے نقاب پوش ملزمان نے بینک پر تعینات سکیورٹی گارڈ کو بذریعہ اسلحہ آتش فائرنگ کرکے زخمی کیا اور بینک کے اندر داخل ہو گئے جہاں پر نقاب پوش ملزمان نے بینک کے اندر بینک کے عملے کو یرغمال بنالیا اور بینک سے مجموعی طور پر 42 لاکھ روپے سے زائد کی رقم لوٹ کر فرار ہو گئے واقعے کا مقدمہ تھانہ صدر میں فوری طور پر رجسٹر کیا گیا آر پی او ڈیرہ شوکت عباس اور ڈی پی او ڈیرہ کیپٹن ریٹائرڈ نجم الحسنین لیاقت نے واقعے کی سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایس ڈی پی او صدر سرکل حافظ محمد عدنان خان کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی ٹیم نے تمام حالات اور جائے وقوعہ کا مفصل جائزہ لیا

    ڈی پی او ڈیرہ کی سخت ہدایات و زیر نگرانی ٹیم نے بینک ڈکیتی کے ملزم والی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملنے والے شواہد کی بنیاد پر جدید سائنسی و تکنیکی بنیادوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کا تعاقب کیا بالآخر ایس ڈی پی او صدر سرکل حافظ محمد عدنان خان کے ہمراہ ٹیم نے شب و روز محنت کرتے ہوئے واقعے کا مرکزی ملزم خان محمد عارف جاوید ولد فتح خان قوم بلوچ سکنہ اپر دیر کو ضلع مالاکنڈ سے گرفتار کر لیا اور ملزم کے قبضہ سے مبلغ چار لاکھ روپے بھی برآمد کر لئے اس کے علاوہ ڈکیتی میں ملوث دو مرکزی ملزمان صفدر ولد غلام اختر قوم بلوچ سکنہ تھویا فاضل اور امجد ویعقوب سکنہ صوابی کو گرفتاری کے لیے تاحال چھاپے مارے جارہے ہیں البتہ دو مرکزی ملزمان کو رہائش کھانا اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والے پانچ سہولت کار محمد ارسلان والد ملازم حسین سکنہ کچی پائیند خان محمد سلیمان ولد اختر خان قوم بلوچ سکنہ تو فاضل محمد عرفان ولد قیوم نواز قوم بلوچ سکنہ کو کار محمد ذریعہ ولد شیخ عبد اللطیف قوم شیخ سکنا مندرہ کلاں مدثر علی ولد علی بہادر قوم گنڈاپور سکنہ شیخ یوسف کو بھی گرفتار کر لیا سہولت کار محمد ارسلان کے قبضہ سے مبلغ تین لاکھ روپے جبکہ سہولت کار محمد عرفان کے قبضہ سے چھ لاکھ پچاس ہزار روپے اور دو عدد پسٹل 30 بور برآمد کر لئے جبکہ ملزم مدثر علی کو مرکزی ملزمان کو رہائش اور طعام دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اس کے علاوہ سہولت کاری کے الزام میں ملزم رجب علی ولد اختر قوم بلوچ سکنہ تو یہ فاضل تا حال آدم گرفتار ہے اس کے علاوہ مرکزی آدم گرفتار ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جن کو بہت جلد گرفتار کر کے بقایہ لوٹی گئی رقم برآمد کر لی جائے گی

    قبل ازیں ایس ایچ او درابن یاسین خان ہمراہ انچارج درابن چیک پوسٹ اکرام اللہ و نفری پولیس نے بین الصوبائی منشیات سمگلنگ کے خلاف کامیاب کاروائی سرانجام دی ہے ایسں ایچ او درابن یاسین خان ہمراہ نفری پولیس درابن چیک پوسٹ پر موجود تھے کہ ایک گاڑی نمبر ATL-991 جو کہ کوئٹہ سے ڈیرہ اسماعیل خان براستہ درابن روڈ آرہی تھی، جس کو درابن چیک پوسٹ پر روکا گیا، گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نے اپنا نام محمد یاسر ولد عالمگیر خان بتلایا،گاڑی مذکورہ بالا کو مشکوک پاکر گاڑی کو چیک کیا گیا تو گاڑی کے خفیہ خانوں اور سیٹوں میں چھپائے گئے چرس کے 30 پیکٹ برآمد ہوئے،جن کو برموقع بذریعہ ڈیجیٹل سکیل وزن کیا گیا تو چرس کی مجموعی مقدار 36 کلوگرام برآمد ہوئی جس کو برموقع قبضہ پولیس کیا گیا،جب کہ گاڑی کو پولیس کی تحویل میں لے کر ڈرائیور (ملزم) مذکورہ بالا کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کر دیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کے والد نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

  • عمران فاروق قتل کیس میں سزا یافتہ مجرمان کی اپیلیں حتمی مرحلے میں داخل

    عمران فاروق قتل کیس میں سزا یافتہ مجرمان کی اپیلیں حتمی مرحلے میں داخل

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں سزا یافتہ مجرمان کی اپیلیں حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل خواجہ امتیاز نے دلائل مکمل کر لیے، چارٹ بھی بنا کر پیش کر دیا ڈپٹی اٹارنی جنرل خواجہ امتیاز نے شواہد کا ریکارڈ چارٹ کی صورت میں پیش کردیا ،عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکلاء سے تحریری دلائل طلب کر لیے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ چاقو اور دیگر سامان کا ریکارڈ بھی پیش کیا گیا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کو تیار ہیں،ملزم محسن علی کی جانب سے وکیل مہر محمد بخش عدالت میں پیش ہوئے، وکیل ملزم محسن علی نے کہا کہ میں نے ملزم محسن علی کی جانب سے تحریری دلائل جمع کروا دیے ہیں، عدالت نے حکم دیا کہ دیگر دو ملزمان خالد شمیم اور معظم علی کے وکلاء تحریری دلائل جمع کروائیں، عدالت نے کیس کی سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کر دی

    عمران فاروق قتل کیس میں گرفتارملزمان کو سزا سنا دی گئی

    عمران فاروق قتل کیس، مجرمان کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران اہم انکشاف

    عمران فاروق قتل کیس، دوران سماعت وکیل نے کیا دعویٰ کر دیا؟

    عمران فاروق قتل کیس،عدالتی دائرہ اختیار پر سوال اٹھ گئے

    واضح رہے کہ عدالت نے عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار تینوں ملزمان کو عمر قید اور 10،10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا ئی تھی ،اے ٹی سی اسلام آباد نے عمران فاروق قتل کیس کافیصلہ سنایا تھا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ تینوں ملزمان عمران فاروق کے ورثاء کو 10، 10 لاکھ روپے ادا کریں گے، ملزم معظم علی، محسن علی اور خالد شمیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمے کا فیصلہ سنایا

    تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ثابت ہواعمران فاروق کوقتل کرنے کاحکم متحدہ بانی نے دیا، 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عمران فاروق قتل کیس کی وجوہات جاری کی گئی ہیں۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہاکہ ایم کیوایم لندن کے 2 سینئر رہنماﺅں نے یہ حکم پاکستان پہنچایا ،معظم علی  نے نائن زیروسے قتل کیلئے لڑکوں کاانتخاب کیا،عمران فاروق کے قتل کیلئے محسن علی اور کاشف کامران کو چنا گیا،محسن اورکاشف کوبرطانیہ لےجا کر قتل کیلئے بھر پور مدد کی گئی

    عمران فاروق قتل کیس، محسن علی پر مقدمہ کیسے درج ہوا؟ عدالت

  • تیزاب گردی کا شکار  "مریم”  کا انصاف کا مطالبہ

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

    تیزاب گردی کا شکار مسیحی خاتون "مریم” کا انصاف کا مطالبہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں شادی سے انکار پر جوہر ٹاون کی رہائشی پچیس سالہ لڑکی کو تیزاب گردی کا نشانہ بنانے کے کیس پر سماعت ہوئی

    عدالت نے پراسیکیوشن کو حتمی دلائل کے لیے 2 دسمبر کو طلب کر لیا ،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر مقدمہ پر سماعت کی ،متاثرہ لڑکی کمرہ عدالت میں بیان قلمبند کرا چکی ہے ،تیزاب گردی کا شکار مریم بی بی نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے، مریم کا کہنا تھا کہ شادی سے انکار پر لڑکے نے اپنے دوست سے مل کر تیزاب گردی کا نشانہ بنایا ،ملزم محمد احمد کی تیزاب گردی سے میرا چہرا ،سر اور جسم کے حصے جل گئے ملزمان محمد احمد اور شاہ نواز کے خلاف تھانہ جوہر ٹاون میں انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت درج ہے

    ایف آئی آر میں خاتون نے موقف اپنایا کہ ملزم احمد نے شادی سے انکار پر تیزاب پھینکا چونکی امرسدھو میں جگاور چوک پر احمد اور اس کے ساتھیوں نے مجھے روکا اور کہا ساتھ چلو .متاثرہ خاتون کے مطابق ملزم احمد کے ساتھ جانے سے انکار کیا تو اس نے تیزاب سے بھرا جگ پھینکا جس سے چہرہ، ہاتھ اور گردن جھلس گئے ،متاثرہ خاتون گھروں میں کام کرتی ہیں انہوں نے اعلیٰ حکام سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور میں تیزاب گردی کا شکار خاتون مریم نوشیر کے علاج معالجے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ زخمی خاتون کے علاج معالجے کے تمام اخراجات پنجاب حکومت برداشت کرے گی۔ زخمی خاتون کو بہترین علاج معالجہ فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لڑکی پر تیزاب پھینکنے والا ملزم قانون کے تحت سخت سزا کے مستحق ہیں۔تیزاب پھینکنے والے ملزم کو قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے گی۔

    تیزاب پھینکنے کے واقعہ کا صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین نے نوٹس لیا تھا،اعجاز عالم آگسٹین نے متاثرہ خاتون مریم کی عیادت کی اور طبی سہولیات کیلئے تعاون اور ملزم احمد کو گرفتار کرنے کا یقین بھی دلایا.

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کے والد نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا