Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • 7 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کرنے والا رشتے دار ملزم گرفتار

    7 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کرنے والا رشتے دار ملزم گرفتار

    لاہور کے علاقے فیکٹری ایریا میں 7 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کرنے والے رشتے دار ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    ایس ایچ او فیکٹری ایریا اسد عباس کے مطابق ملزم رمضان بچی کے گھر مہمان آیا ہوا تھا۔ ملزم نے مبینہ طور پر بچی کو بہلا پھسلا کر چھت پر لے جاکر زیادتی کی کوشش کی۔واقعے کی اطلاع پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ متاثرہ بچی کے والد محمد عمران کی مدعیت میں ملزم رمضان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ایس پی کینٹ کی ہدایت پر بروقت کارروائی کرنے پر ایس ایچ او فیکٹری ایریا اور پولیس ٹیم کو شاباش دی گئی۔ قائم مقام ایس پی کینٹ انویسٹی گیشنز راحیلہ اقبال کا کہنا ہے کہ بچوں اور خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں

  • اٹک: قبرستان سے ملنے والے 3 سالہ بچے کی لاش کا معمہ حل، باپ گرفتار

    اٹک: قبرستان سے ملنے والے 3 سالہ بچے کی لاش کا معمہ حل، باپ گرفتار

    اٹک میں قبرستان سے ملنے والے 3 سالہ بچے کی لاش کا معمہ حل ہوگیا، پولیس نے بچے کے قتل کے الزام میں اس کے والد کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم نے اپنے 3 سالہ بیٹے کو قتل کرنے کے بعد لاش قبرستان میں پھینک دی تھی۔ واقعے کا مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جو چند روز قبل ہی جیل سے ضمانت پر رہا ہوا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اپنی دو بیویوں کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوچکا تھا۔ مقتول بچہ والدہ کے قتل کے بعد اپنی نانی کے گھر رہائش پذیر تھا،پولیس کے مطابق بچے کا والد بہانے سے اسے اپنے ساتھ لے گیا، جہاں مبینہ طور پر اسے قتل کرنے کے بعد لاش قبرستان میں پھینک دی اور فرار ہوگیا،پولیس نے ملزم سے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

  • اپر کوہستان اسکینڈل میں مزید 2 ملزمان گرفتار

    اپر کوہستان اسکینڈل میں مزید 2 ملزمان گرفتار

    ‎اپر کوہستان اسکینڈل میں قومی احتساب بیورو نے مزید دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد پر قومی خزانے سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے غیر قانونی طور پر حاصل کرنے اور مرکزی ملزم کے ساتھ ملی بھگت کا الزام ہے۔
    ‎ایکسپریس نیوز کے مطابق گرفتار ملزمان کو احتساب عدالت کے جج محمد حامد مغل کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ اور تفتیشی افسر بھی موجود تھے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔
    ‎نیب پراسیکیوٹر کے مطابق گرفتار ملزم اعجاز الحق محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس، اپر کوہستان کا ملازم ہے، جسے 9 اگست کو نیب کے وارنٹ پر گرفتار کیا گیا۔ پراسیکیوٹر نے الزام عائد کیا کہ اعجاز الحق نے اسکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے بینک اکاؤنٹس سے 1.126 ارب روپے کی رقم غیر قانونی طور پر نقد نکلوائی اور غبن کیا۔
    ‎دوسرے گرفتار ملزم محمد زبور کے بارے میں نیب نے بتایا کہ وہ نجی ٹھیکیدار اور ایک تعمیراتی کمپنی کا مالک ہے۔ اسے بھی 9 اگست 2026 کو گرفتار کیا گیا۔
    ‎نیب کے مطابق محمد زبور نے داسو میں دو مختلف نجی بینکوں میں اپنے نام سے اکاؤنٹس کھول رکھے تھے۔ الزام ہے کہ اس نے غیر قانونی طور پر جاری کیے گئے ٹریژری چیکس کے ذریعے قومی خزانے سے 11 کروڑ 38 لاکھ روپے حاصل کرکے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔
    ‎پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ملزمان سے مزید تفتیش ضروری ہے تاکہ مبینہ مالی فراڈ میں ملوث دیگر افراد کا بھی سراغ لگایا جاسکے۔
    ‎عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ ملزمان پر عائد الزامات کا حتمی فیصلہ قانونی کارروائی اور عدالت کے فیصلے سے ہوگا۔

  • جی ٹی روڈ پر پٹرول پمپ لٹ گیا، ڈاکو نقدی سمیت گارڈ کی رائفل بھی لے اڑے

    جی ٹی روڈ پر پٹرول پمپ لٹ گیا، ڈاکو نقدی سمیت گارڈ کی رائفل بھی لے اڑے

    شریف فارسٹ پارک کے قریب پٹرول پمپ پر ڈاکوؤں کا دھاوا، آٹھ دس ملازمین کی موجودگی میں لوٹ کرک فرار ہو گے
    واردات کا مقدمہ درج ASI چوہدری ظریف جائے وقوعہ پر پہنچے شواہد اگھٹے کرکے مختلف زاویوں سے تفتیش اور جلد بریک تھرو کا دعویٰ
    گوجرخان (قمرشہزاد) جی ٹی روڈ شریف فارسٹ پارک کے قریب واقع نجی پٹرول پمپ پر موٹرسائیکل سوار دو مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول کر ٹک شاپ سے ہزاروں روپے نقدی لوٹ لی، جبکہ سیکیورٹی گارڈ سے بارہ بور رائفل بھی چھین کر فرار ہوگئے۔ واردات کے وقت پٹرول پمپ پر آٹھ سے دس ملازمین موجود تھے، تاہم مسلح ڈاکو دیدہ دلیری سے واردات کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ قبل ازیں جولائی کے آخری ہفتے میں بھی جی ٹی روڈ پر ہی واقع شیل پٹرول پمپ پر بھی ڈکیتی کی دلیرانہ واردات ہو چکی ہے دو ہفتوں میں دوسری یہ ڈکیتی کی واردات ہے۔ ذرائع کے مطابق دو مسلح ملزمان موٹرسائیکل پر پٹرول پمپ پہنچے، ایک ملزم موٹرسائیکل پر باہر موجود رہا جبکہ دوسرا ٹک شاپ میں داخل ہوا اور اسلحہ کے زور پر وہاں موجود نقدی سمیٹی اور فرار ہوتے وقت سیکیورٹی گارڈ سے بارہ بور رائفل بھی چھین لی۔ واردات کی اطلاع ملتے ہی ڈیوٹی پر مامور اے ایس آئی چوہدری ظریف موقع پر پہنچے اور جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے بعد اہم شواہد اکٹھے کیے۔متاثرین کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واردات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ملزمان تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔ پولیس حکام نے جلد اہم پیش رفت اور بریک تھرو کی امید ظاہر کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

  • مسجد میں 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش، امام گرفتار

    مسجد میں 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش، امام گرفتار

    تھانہ سیت پور کی حدود موضع لتی میں امام مسجد نے 8 سالہ بچی سے مسجد کے اندر زیادتی کی کوشش کی۔

    بچی کے والد کے مطابق ملزم مسجد کی صفائی کرنے کے بہانے بچی کو واش روم تک لے گیا اور برہنہ کرکے زیادتی کی کوشش کی، بچی کے شور کرنے پر ملزم بچی کو برہنہ حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگیا،بچی کے والد کی اطلاع پر مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کر لیا، زیر حراست ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا-

    اس،سے،قبل،تھانہ سٹی کی حدود میں 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی اور قتل کا واقعہ پیش آیا ہےسرگودھا کے بلاک نمبر 8 کی رہائشی 8 سالہ بچی منتہاء کریانہ سٹور سے چیز لینے آئی تھی، دکاندار ارسلان نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،زیادتی کا نشانہ بننے والی بچی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی سفاک ملزم خون میں لت پت بچی کو چھوڑ کر فرار ہوگیا ،پولیس نے بچی کی نعش پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کردی –

  • آسام میں دو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ چلتی کار میں اجتماعی زیادتی  ، 3 نوجوان گرفتار

    آسام میں دو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ چلتی کار میں اجتماعی زیادتی ، 3 نوجوان گرفتار

    بھارتی ریاست آسام میں پولیس نے دو نابالغ لڑکیوں کو مبینہ طور پر میزورام سے اغوا کرکے چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں تین نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت 20 سالہ امجد حسین لسکر، 23 سالہ صدام حسین لسکر اور 25 سالہ رنکو داس کے نام سے ہوئی ہے۔ تینوں کا تعلق آسام کے ضلع کچھار سے بتایا گیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعہ 3 اگست کی علی الصبح اس وقت سامنے آیا جب دونوں لڑکیاں تقریباً رات 2 بج کر 30 منٹ پر دھولائی پولیس اسٹیشن پہنچیں اور پولیس کو بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔کچھار کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجت پال کے مطابق دونوں متاثرہ لڑکیوں نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا کہ انہیں اغوا کیا گیا تھا اور ملزمان نے ان کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ بعد ازاں اپنے بیانات میں لڑکیوں نے الزام عائد کیا کہ مزاحمت کے باوجود انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔پولیس افسر نے بتایا کہ چونکہ دونوں لڑکیوں نے خود کو نابالغ قرار دیا، اس لیے پولیس نے معاملے میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین سمیت تمام متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی شروع کی۔

    پولیس کے مطابق دونوں متاثرہ لڑکیوں کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے ہیں، جبکہ لازمی طبی معائنے بھی کرائے گئے ہیں۔ ابتدائی قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد تینوں گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کردیا گیا۔پولیس نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 70(2) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جو 18 سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ دفعہ 87 کے تحت اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔پولیس نے پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفینسز ایکٹ 2012 کی دفعہ 6 بھی شامل کی ہے، جو بچے کے ساتھ سنگین نوعیت کے جنسی حملے سے متعلق ہے۔حکام کے مطابق معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ تفتیش کے دوران متاثرہ لڑکیوں کے بیانات، طبی رپورٹس اور دیگر شواہد کی بنیاد پر کیس کو آگے بڑھایا جائے گا۔

  • گھر آ جاؤ،چائے پلاتا ہوں،قاری نےدوست کو گھر بلا کر بدفعلی کر ڈالی

    گھر آ جاؤ،چائے پلاتا ہوں،قاری نےدوست کو گھر بلا کر بدفعلی کر ڈالی

    سرگودھا،تھانہ ساہیوال کے علاقے مہر آباد کالونی میں ایک شخص نے قاری محمد عثمان نامی شہری کے خلاف چائے میں مبینہ طور پر نشہ آور چیز ملا کر زیادتی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس سے مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی، جس پر تھانہ ساہیوال پولیس نے دفعہ 376 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار، جس کی عمر تقریباً 28 سے 29 سال، مہر آباد کالونی کا رہائشی کا مؤقف ہے کہ 30 جولائی 2026 کو رات تقریباً 8 بج کر 55 منٹ پر قاری محمد عثمان نے اسے فون کرکے اپنی بیٹھک پر چائے پینے کے لیے بلایا۔درخواست گزار کے مطابق وہ ملزم کی دعوت پر اس کی بیٹھک پر پہنچا، جہاں اسے پہلے پانی اور بعد ازاں چائے پیش کی گئی۔ چائے پینے کے بعد اس پر غنودگی طاری ہوگئی اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں چلا گیا۔ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق متاثرہ شخص کی آنکھ رات تقریباً 9 بج کر 45 منٹ پر کھلی تو اس کے کپڑے اتارے ہوئے تھے اور جسم پر گندگی موجود تھی۔ اس کے شور مچانے پر دو افراد، غلام سجاد اور عون شہزاد، موقع پر پہنچے۔ دونوں افراد نے صورتِ حال دیکھی، جبکہ قاری محمد عثمان انہیں آتا دیکھ کر بیٹھک کے عقبی دروازے سے فرار ہوگیا۔

    درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے چائے میں کوئی نشہ آور چیز پلا کر درخواست گزار کے ساتھ مبینہ زیادتی کی۔ متاثرہ شخص نے پولیس سے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانون کے مطابق کارروائی اور سزا دینے کی استدعا کی۔پولیس ریکارڈ کے مطابق درخواست موصول ہونے کے بعد اس کے مندرجات کو رجسٹر میں درج کیا گیا اور ابتدائی طور پر دفعہ 376 تعزیراتِ پاکستان کے تحت جرم بنتا پایا گیا، جس کے بعد مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی۔پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش متعلقہ تفتیشی افسر کے سپرد کردی گئی ہے۔ واقعے میں عائد کیے گئے الزامات کی قانونی اور شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • ‎براڈ پیک سانحہ: 9 کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد، 2 کی تلاش جاری

    ‎براڈ پیک سانحہ: 9 کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد، 2 کی تلاش جاری

    ‎گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شامل براڈ پیک پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ صدر الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اب تک 9 کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ مزید 2 لاپتہ افراد کی تلاش بدستور جاری ہے۔
    ‎جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر الپائن کلب نے بتایا کہ ریسکیو کارروائی کے پہلے روز دو کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالی گئیں، جبکہ تیسرے لاپتہ شخص کے جسم کے کچھ اعضا بھی برآمد ہوئے تھے۔ بعد ازاں امدادی کارروائیاں مزید تیز کی گئیں اور دیگر لاشوں کو بھی تلاش کر لیا گیا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ پہلے دن برآمد ہونے والی لاشوں میں نیپال سے تعلق رکھنے والے ایک کوہ پیما اور سلطنت عمان کی ایک خاتون کوہ پیما شامل تھیں۔ پاک فوج نے دشوار گزار علاقے میں امدادی کارروائیوں کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم کیے، جن کی مدد سے ابتدائی مرحلے میں پانچ لاشوں کو منتقل کیا گیا۔
    ‎صدر الپائن کلب کے مطابق آج مزید چار نیپالی کوہ پیماؤں اور ایک چینی کوہ پیما کی لاشیں بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور کوہ پیما کی لاش کی شناخت ہو چکی ہے، تاہم وہ انتہائی دشوار گزار اور ناقابلِ رسائی مقام پر موجود ہے، جس کے باعث اسے فوری طور پر منتقل کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ باقی دو لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور خراب موسمی حالات کے باوجود آپریشن جاری رکھا گیا ہے۔
    ‎براڈ پیک پر پیش آنے والا یہ سانحہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی کوہ پیمائی کی تاریخ کے بڑے حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتہ افراد کی تلاش اور لاشوں کی منتقلی تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔

  • کتے کے کاٹنے سے متاثرہ شخص ویکسین کے باوجود جانبر نہ ہو سکا

    کتے کے کاٹنے سے متاثرہ شخص ویکسین کے باوجود جانبر نہ ہو سکا

    ‎پتوکی میں کتے کے کاٹنے کا شکار ہونے والا 51 سالہ شخص علاج کے دوران لاہور کے میو اسپتال میں انتقال کر گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق مریض کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم بروقت مکمل علاج نہ ہونے کے باعث اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔
    ‎ذرائع کے مطابق متاثرہ شخص کو 17 جولائی کو کتے نے کاٹا تھا، جس کے بعد اسے اینٹی ریبیز ویکسین کی تین خوراکیں دی گئیں۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض کی حالت پیچیدہ ہونے کے باوجود اسے ریبیز امیونوگلوبولن (RIG) نہیں لگایا گیا، جو شدید نوعیت کے سگ گزیدگی کے کیسز میں علاج کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
    ‎میو اسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق مریض جب اسپتال پہنچا تو اس میں ریبیز کی علامات نمایاں ہو چکی تھیں اور بیماری خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ ایسی صورتحال میں علاج کے امکانات انتہائی محدود رہ جاتے ہیں، کیونکہ ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
    ‎طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کتے، بلی یا کسی بھی مشتبہ جانور کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے اچھی طرح دھونا، بروقت اینٹی ریبیز ویکسین لگوانا اور اگر زخم گہرا ہو یا چہرے، گردن یا ہاتھوں پر ہو تو ریبیز امیونوگلوبولن کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔ ان تمام مراحل پر مکمل عمل کرنے سے بیماری سے مؤثر تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
    ‎ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ سگ گزیدگی کے کسی بھی واقعے کو معمولی نہ سمجھا جائے اور فوری طور پر مستند طبی مرکز سے رجوع کیا جائے تاکہ مکمل علاج بروقت شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر بھی زور دیا کہ اینٹی ریبیز ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبولن کی دستیابی ہر ضلع میں یقینی بنائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ‎کبل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 7 افراد شہید

    ‎کبل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 7 افراد شہید

    ‎خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں واقع پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں 7 افراد شہید ہوگئے، جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
    ‎ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ملاکنڈ کے مطابق حملہ آور نے خودکش حملے کے ذریعے کبل پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے پولیس کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق حملہ آور نے مرکزی گیٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور 7 افراد شہید ہوگئے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
    ‎دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ سکیورٹی ادارے حملے کی نوعیت اور حملہ آور کے سہولت کاروں سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی بروقت مزاحمت کے باعث حملہ آور اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا، جس سے ممکنہ طور پر بڑے جانی نقصان کو روکا جا سکا۔
    ‎واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔