چھانگا مانگا کے علاقے ویرسنگھ والا میں افسوسناک حادثے کے دوران چار کمسن بچے تالاب میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور کارروائی کے بعد چاروں بچوں کی لاشیں تالاب سے نکال لیں۔ جاں بحق بچوں کی عمریں 9 سے 11 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق بچے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے ننھیال آئے ہوئے تھے۔ واقعے کے وقت ان کے والدین قریبی جنگل میں لکڑیاں لینے گئے ہوئے تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک بچہ کھیلتے ہوئے اچانک تالاب میں گر گیا۔ اسے بچانے کی کوشش میں دیگر تین بچے بھی پانی میں اتر گئے، تاہم تالاب کی گہرائی 8 سے 10 فٹ ہونے کے باعث چاروں بچے ڈوب گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے بعد لاشوں کو ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ حادثے سے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔
Category: جرائم و حادثات
-

چھانگا مانگا میں تالاب میں ڈوب کر 4 بچے جاں بحق
-

اٹک میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 5 خطرناک دہشت گرد ہلاک
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے اٹک کے سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بڑی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف اہم آپریشن کیا،جس میں 5 خطرناک دہشت گرد ہو گئے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی ٹیم کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی، جس کے جواب میں فورسز نے مؤثر کارروائی کی، جوابی کارروائی کے نتیجے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور دستی بم بھی برآمد کیے گئے ہیں، برآمد ہونے والا اسلحہ اور دھماکا خیز مواد تحویل میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد پنجاب میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر چکے تھے اور ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے حساس معلومات موصول ہوئی تھیں، جس کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا اٹک کے سرحدی علاقوں میں سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ ممکنہ سہولت کاروں اور فرار ہونے والے عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات بھی جاری ہیں صوبے میں امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔
-

لکی مروت میں فائرنگ، 4 افراد جاں بحق
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے جبار خیل میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے چار افراد کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو تحویل میں لے کر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولین کی شناخت اور واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی طور پر حملہ آوروں کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آ سکیں، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن اور شواہد جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے واقعے سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ شہریوں نے سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ -

حانیہ عد یل کے جاں بحق ہونے کے بعد سی سی ڈی سربراہ کا غلطی کا اعتراف
چکوال میں 10 جون کی رات پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے مقامی پولیس اور کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مسلسل چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی ڈکیتی کی وارداتوں کے بعد ایک مبینہ پولیس فائرنگ میں 9 سالہ حانیہ عدیل جان کی بازی ہار گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق دو مسلح ڈاکوؤں نے رات کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں کم از کم پانچ وارداتیں کیں۔ پہلی واردات کالج روڈ پر واقع ایک دکان پر ہوئی جہاں سیف سٹی کیمروں کی موجودگی کے باوجود ملزمان فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ بعد ازاں ڈاکو مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے رہے اور آخری واقعہ سی سی ڈی تھانے کے قریب پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق اسی دوران سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے گاڑی میں موجود 9 سالہ حانیہ عدیل گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی۔ واقعے میں اس کا والد عدیل احمد اور بھائی بھی زخمی ہوئے، جو تاحال زیر علاج ہیں۔
حانیہ کی ہلاکت کے مقدمے میں ابتدا میں دفعہ 322 شامل کی گئی تھی، جو غفلت یا لاپرواہی سے موت واقع ہونے سے متعلق ہے، تاہم بعد ازاں متاثرہ خاندان کے مطالبے پر مقدمے میں دفعہ 302 بھی شامل کر لی گئی، جو قتل کی دفعات میں شمار ہوتی ہے۔
واقعے کے بعد سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے ابتدائی طور پر ادارے کی جانب سے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آپریشنل ایس او پیز مزید سخت کیے جائیں گے۔
متاثرہ خاندان اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اصل سوال صرف ایک اہلکار کی غلطی کا نہیں بلکہ پورے نظام کی کارکردگی کا ہے۔ ان کے مطابق اگر کروڑوں روپے مالیت کا سیف سٹی منصوبہ فعال تھا تو ڈاکو چار گھنٹے تک مختلف وارداتیں کیسے کرتے رہے؟ شہری یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کسی واضح تصدیق کے بغیر فائرنگ کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔
چکوال کے شہریوں نے امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حانیہ عدیل کے کیس میں شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ضروری ہے۔ -

ڈی جی خان میں دہشت گرد حملہ، 2 پولیس اہلکار شہید
ڈیرہ غازی خان میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر قائم عمر فاروق چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایلیٹ فورس کے دو اہلکار شہید جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔
پولیس ترجمان کے مطابق دہشت گردوں نے رات کے وقت چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی۔ حملے کے دوران ایلیٹ فورس کے جوانوں نے بھرپور مزاحمت کی، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندی بھی کی گئی تاکہ فرار ہونے والے عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ سیکیورٹی ادارے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ڈیرہ غازی خان اور خیبر پختونخوا سے ملحقہ سرحدی علاقے ماضی میں بھی دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران پنجاب پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے متعدد دہشت گرد حملوں اور دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کی گئی ہے۔
سیاسی اور سماجی حلقوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں قوم کے لیے باعث فخر ہیں اور ملک دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ -

ہانیہ احمد قتل کیس: سی سی ڈی اہلکار کیخلاف قتل کا مقدمہ درج
چکوال میں 9 سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی بچی ہانیہ احمد کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے بچی کی موت کے بعد ملزم اہلکار کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں نامزد سی سی ڈی اہلکار سے فائرنگ میں استعمال ہونے والی سرکاری رائفل برآمد کر لی گئی ہے۔ ابتدائی قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی حساسیت کے پیش نظر اسلحہ اور دیگر شواہد فرانزک تجزیے کے لیے بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقدمے کی تفتیش پہلے تھانہ سٹی پولیس کے پاس تھی، تاہم بعد ازاں تحقیقات واپس لے کر کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مبینہ طور پر فائرنگ کے دوران طے شدہ آپریشنل طریقہ کار اور حفاظتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق سی سی ڈی اہلکار شجاعت پر الزام ہے کہ اس نے بغیر مناسب وارننگ کے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں معصوم بچی جان کی بازی ہار گئی جبکہ اس کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان بھی زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاندان ڈھڈیال سے چکوال آیا تھا اور نوگزی دربار کے قریب مبینہ ڈکیتی کی کوشش کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار افراد زخمی ہوئے جبکہ 9 سالہ ہانیہ احمد شدید زخموں کے باعث دم توڑ گئی۔
دوسری جانب سی سی ڈی پنجاب کے ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کے چکوال دورے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ متاثرہ خاندان سے ملاقات اور تعزیت کریں گے جبکہ واقعے کی تحقیقات اور پیش رفت کا جائزہ بھی لیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی حتمی رپورٹ جلد متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔ متاثرہ خاندان اور عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ تحقیقات کے بعد انصاف کے تقاضے کس حد تک پورے کیے جاتے ہیں۔ -

کراچی : ایک کروڑ روپے مالیت کا بھارتی گٹکا برآمد
کراچی کے علاقے سائٹ انڈسٹریل ایریا میں پولیس نےایک کروڑ روپے مالیت کا مضر صحت بھارتی گٹکا اور چھالیہ برآمد کرلیا۔
ترجمان ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق سائٹ اے پولیس نے انڈسٹریل ایریا میں واقعے ایک گودام پر چھاپہ مار کر ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کا اسمگل شدہ چھالیہ اور مضرِ صحت انڈین گٹکا برآمد کر لیا سائٹ اے پولیس نے مخبر کی اطلاع پر سائٹ انڈسٹریل ایریا میں واقع ایک گودام پر چھاپہ مار کر 57 بورے اسمگل شدہ چھالیہ اور 219 بورے انڈین گٹکا سفینہ، آداب اور رجنی برامد کر لیا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق برآمد شدہ چھالیہ اور گٹکا ڈمپر میں کریش کے نیچے خفیہ طور پر چھپا کر گودام تک پہنچایا گیا تھا، برآمد شدہ سامان کی گنتی، دستاویزی کارروائی اور دیگر قانونی مراحل جاری ہیں، برآمد شدہ مال کے مالکان اور اس غیر قانونی سر گر می میں ملوث عناصر کی شناخت، تصدیق اور مقدمات کے اندراج کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب گڈاپ سٹی پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب کارروائی کرتے ہوئے چھالیہ و گٹکا ماوا سپلائی کرنے کی کوشش ناکام بنا دی اور سپلائی میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ترجمان ملیر پولیس کے مطابق گرفتار ملزم شاہ لم خان آئل ڈرمز میں چھالیہ چھپا کر مختلف علاقوں میں منتقل کرتا تھا، کارروائی میں چھالیہ سے بھرے 4 آئل ڈرم جس میں بنائے گئے خفیہ خانوں سے 90 کلو گرام سے زائد چھالیہ اور مضر صحت گٹکا ماوا برآمد کر کے قبضے میں لے لیا ہے گر فتار ملزم کی 125 موٹرسائیکل جو وہ چھالیہ اور گٹکا ماوار کی ترسیل میں استعمال کرتا تھا اس کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ، گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔
-

مری ٹریفک حادثہ، 10 افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں مفرور ڈرائیور گرفتار
مری: مری ایکسپریس وے پر پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے کے بعد فرار ہونے والے ڈرائیور کو موٹر وے پولیس نے گرفتار کر لیا۔
ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق مفرور ڈرائیور کو خفیہ اطلاع کی بنیاد پر اسلام آباد کے پمز اسپتال سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے مری پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ موٹر وے پولیس کی مدعیت میں تھانہ مری میں ڈرائیور کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے، جبکہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ مری ایکسپریس وے پر کجوٹ کے مقام پر پی ٹی ڈی سی ٹورسٹ اسپاٹ کے قریب ایک وین بے قابو ہو کر حفاظتی دیوار سے ٹکرا گئی تھی۔ حادثے کے نتیجے میں گاڑی کا فیول ٹینک پھٹ گیا اور وین میں آگ بھڑک اٹھی۔اس افسوسناک حادثے میں ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جس پر ملک بھر میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار ڈرائیور سے تفتیش جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
-

لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے نازیبا ویڈیوز شیئر کرنے والا گینگ گرفتار
راولپنڈی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے نازیبا ویڈیوز انٹرنیٹ پر شیئر کرنے والے ایک گینگ کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار گینگ میں 11 ملکی و غیر ملکی افراد شامل ہیں، جن میں ایک غیر ملکی خاتون سمیت 7 خواتین بھی شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں اور لائیو اسٹریمنگ میں استعمال ہونے والا موبائل فون، لیپ ٹاپ سمیت دیگر الیکٹرانک آلات بھی برآمد کر لیے گئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر غیراخلاقی ویڈیوز تیار کرکے مختلف ویب سائٹس پر اپ لوڈ کرتے تھے۔ گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق گینگ کے دیگر ساتھیوں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں نیشنل سائبر کرائم ادارے (این سی سی آئی اے) سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
-

خواجہ سراؤں کے گھر پر حملہ کرنے والے دو ملزمان گرفتار
کراچی کے علاقے کورنگی نمبر ڈیڑھ کی نورانی کالونی میں خواجہ سراؤں کے گھر پر حملے کے واقعے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ گزشتہ روز پیش آیا تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ وائرل ویڈیو میں دو افراد کو گھر میں زبردستی داخل ہو کر خواجہ سراؤں پر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ زمان ٹاؤن تھانے میں درج کر لیا گیا ہے، جبکہ گرفتار ملزمان کی شناخت انیس اور علی کے نام سے ہوئی ہے۔تحقیقات کے مطابق ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ خواجہ سراؤں کے گھر پر دھاوا بولا، انہیں گھر خالی کرنے کا کہا اور دعویٰ کیا کہ مذکورہ مکان ان کی ملکیت ہے۔پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔