Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ہرنائی: کوئلہ کان میں گیس دھماکا، 4 کان کن جاں بحق، 5 بحفاظت ریسکیو

    ہرنائی: کوئلہ کان میں گیس دھماکا، 4 کان کن جاں بحق، 5 بحفاظت ریسکیو

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے کے باعث ہونے والے خوفناک دھماکے کے بعد پاک فوج نے ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا۔ کان کے اندر پھنسنے والے 5 مزدوروں کو طویل جدوجہد کے بعد بحفاظت زندہ باہر نکال لیا گیا۔

    حادثہ کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں کان کے اندر موجود متعدد مزدور گہرائی میں پھنس گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج کی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں اور پھنسے ہوئے مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

    پاک فوج کی ریسکیو ٹیموں نے طویل اور مشکل جدوجہد کے بعد کان کے اندر پھنسے 5 مزدوروں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ حادثے میں 4 کان کن جاں بحق ہوگئے، جبکہ 5 مزدور زخمی ہوئے ہیں۔

    زخمی مزدوروں کو طبی امداد کے لیے کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ پاک فوج کی جانب سے ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔

  • گھوٹکی پولیس کی بے بنیاد الزامات کی تردید، قانون اور میرٹ کی بالادستی کا عزم

    گھوٹکی پولیس کی بے بنیاد الزامات کی تردید، قانون اور میرٹ کی بالادستی کا عزم

    گھوٹکی ( باغی ٹی وی / نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی پولیس نے سابق ایس ایچ او قابل بھیو اور احاطہ عدالت میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس آئین، قانون اور میرٹ کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہی ہے، جبکہ پولیس کے خلاف عائد دیگر الزامات بے بنیاد ہیں۔

    گھوٹکی پولیس کے مطابق قانون کی نظر میں تمام افراد برابر ہیں اور عدالتی احکامات و فیصلوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ سابق ایس ایچ او قابل بھیو کے خلاف عائد الزامات پر قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ہے، جبکہ احاطہ عدالت میں ان پر مبینہ حملے اور تشدد کے واقعے کا مقدمہ بھی قانونی تقاضوں کے مطابق درج کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایت پر معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری بھی جاری ہے۔ انکوائری کے دوران کسی بے گناہ شخص کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جو شخص بے گناہ ثابت ہوا، اس کا نام مقدمے سے خارج کیا جائے گا، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    گھوٹکی پولیس نے عوام اور صحافتی برادری سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں سے گریز کیا جائے اور کسی بھی خبر کی اشاعت یا نشر کرنے سے قبل حقائق کی مکمل تصدیق کی جائے۔

  • حنا جاوید قتل کیس: اہلخانہ کے پولیس تفتیش پر تحفظات، آزاد تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ

    حنا جاوید قتل کیس: اہلخانہ کے پولیس تفتیش پر تحفظات، آزاد تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ

    راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس میں اہلخانہ نے پولیس کی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات آزاد تفتیشی ٹیم کے سپرد کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    حنا جاوید کے بھائی نے چیئرمین قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو خط لکھا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے وزارت قانون اور پارلیمنٹ کی کاکس کمیٹی کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔اہلخانہ نے خطوط میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قتل کیس کی تفتیش ایف آئی آر کے مطابق نہیں کی جا رہی اور حنا جاوید کے قتل کے اصل حقائق چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔خط کے متن کے مطابق تفتیش کا رخ اصل ملزم کے بجائے گھریلو ملازم کی جانب موڑا جا رہا ہے، جبکہ کیس کے اہم شواہد کو بھی مبینہ طور پر درست طریقے سے محفوظ نہیں کیا گیا۔اہلخانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی ملزم اور گھریلو ملازم کے تمام الیکٹرانک آلات کا فوری فرانزک کرایا جائے تاکہ کیس سے متعلق اہم شواہد سامنے آسکیں۔متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ حنا جاوید قتل کیس کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کے لیے تفتیش آزاد تحقیقاتی ٹیم کے سپرد کی جائے۔

  • گھوٹکی: عدالت کے احاطے میں مبینہ جھگڑا، ملڻ شر سمیت 5 افراد گرفتار

    گھوٹکی: عدالت کے احاطے میں مبینہ جھگڑا، ملڻ شر سمیت 5 افراد گرفتار

    گھوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی میں عدالت کے احاطے کے اندر مبینہ جھگڑے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد اے سیکشن پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملڻ شر سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق عدالت کے احاطے میں جھگڑے کی اطلاع ملتے ہی اے سیکشن پولیس موقع پر پہنچ گئی اور صورتحال کو قابو میں کرتے ہوئے مبینہ طور پر جھگڑے میں ملوث پانچ افراد کو حراست میں لے لیا۔گرفتار افراد میں ملڻ شر کا نام بھی سامنے آیا ہے، جبکہ دیگر گرفتار افراد کے نام اور واقعے سے متعلق مکمل تفصیلات پولیس کی جانب سے تاحال باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں۔پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے۔ واقعے کی اصل وجہ، جھگڑے کے محرکات اور اس سلسلے میں کون سی قانونی دفعات عائد کی گئی ہیں، اس بارے میں مزید معلومات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔

    عدالت جیسے حساس اور اہم مقام کے احاطے میں مبینہ جھگڑے کے واقعے نے سیکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عدالت میں آنے والے سائلین، وکلا اور دیگر افراد کے تحفظ کے لیے مؤثر سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

  • خوشاب میں گھر سے مرد اور خاتون کی لاشیں برآمد

    خوشاب میں گھر سے مرد اور خاتون کی لاشیں برآمد

    پنجاب کے ضلع خوشاب کے گاؤں مردوال میں ایک گھر سے مرد اور خاتون کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد علاقے میں تشویش پھیل گئی۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد کے جسموں پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں، جس کے باعث واقعے کو فائرنگ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرد نے خاتون کو مبینہ طور پر فائرنگ کرکے قتل کرنے کے بعد خودکشی کی۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے اصل محرکات اور دونوں افراد کی موت کے حالات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور گھر کا جائزہ لینے کے بعد شواہد اکٹھے کیے۔ دونوں لاشوں کو ضروری کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق پوسٹ مارٹم اور دیگر شواہد کی روشنی میں اموات کی وجوہات اور واقعے کی مکمل صورتحال مزید واضح ہوگی۔

    پولیس اس بات کا بھی تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ دونوں افراد کے درمیان کیا تعلق تھا اور واقعے سے قبل ان کے درمیان کسی قسم کا تنازع یا اختلاف موجود تھا یا نہیں۔ واقعے کے حوالے سے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔

    دریں اثنا، خوشاب میں ہلاک ہونے والے شخص کی ایک مبینہ آڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ آڈیو کی صداقت اور اس میں موجود دعوؤں کی تاحال آزادانہ یا پولیس کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی، تاہم پولیس واقعے سے متعلق دستیاب تمام شواہد اور معلومات کا جائزہ لے رہی ہے۔

    پولیس کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ دونوں اموات کس طرح اور کن حالات میں پیش آئیں۔

  • اڈیالہ روڈ پر بس کی موٹرسائیکل کو ٹکر،9  سالہ بچی جاں بحق

    اڈیالہ روڈ پر بس کی موٹرسائیکل کو ٹکر،9 سالہ بچی جاں بحق

    راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ پر بس کی موٹر سائیکل کو ٹکر کے نتیجے میں والد کے ساتھ بیٹھی 9 سالہ کمسن بچی جاں بحق ہوگئی، جبکہ موٹر سائیکل سوار والد اور دوسری بچی محفوظ رہے۔

    پولیس کے مطابق افسوسناک حادثہ اڈیالہ روڈ پر منور کالونی کے قریب ایک نجی مارٹ کے سامنے پیش آیا، جہاں ایک بس نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر والد کے ساتھ بیٹھی 9 سالہ عائشہ شدید زخمی ہوئی اور موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی۔ بچی کا سر بس کے نیچے آکر کچلا گیا، جبکہ اس کا والد اور دوسری کمسن بچی محفوظ رہے۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور بس کے ڈرائیور کو مشتعل شہریوں سے اپنی تحویل میں لے لیا۔ کمسن بچی کی ہلاکت پر علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور اڈیالہ روڈ پر احتجاج شروع کردیا۔

    مشتعل افراد نے بس پر پتھراؤ کیا اور اسے نذرِ آتش کرنے کی کوشش بھی کی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بس کو آگ لگانے کی کوشش ناکام بنادی اور احتجاج میں ملوث 10 افراد کو حراست میں لے لیا۔

  • تین بچوں کی ماں سے محبت نوجوان کو مہنگی پڑ گئی

    تین بچوں کی ماں سے محبت نوجوان کو مہنگی پڑ گئی

    کانپور: بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں محبت کا ایک عجیب و غریب واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک نوجوان کو اپنے سے 13 سال بڑی اور تین بچوں کی ماں سے محبت کرنا مہنگا پڑ گیا۔ خاتون سے ملاقات کے لیے گاؤں پہنچنے والے نوجوان کو اہلِ خانہ نے پکڑ کر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور تقریباً 30 گھنٹے تک ایک کمرے میں قید رکھا۔

    رپورٹ کے مطابق واقعہ کانپور کے ساڑ تھانہ علاقے کے چھانجا گاؤں میں پیش آیا۔ نوجوان اپنی خاتون دوست سے ملنے وہاں پہنچا تھا، تاہم اہلِ خانہ نے اسے پکڑ لیا۔ خاتون کی عمر نوجوان سے 13 سال زیادہ بتائی گئی ہے اور وہ تین بچوں کی ماں ہے۔اہلِ خانہ نے نوجوان کا موبائل فون بھی چھین لیا اور اسے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ نوجوان تقریباً 30 گھنٹے تک قید رہا۔ دوسری جانب خاتون اپنے دوست کی سلامتی کے حوالے سے پریشان ہوگئی اور اسے خدشہ ہوا کہ نوجوان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔خاتون موقع ملنے پر ساڑ تھانے پہنچ گئی اور پولیس کو صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس گاؤں پہنچی اور نوجوان کو کمرے سے باہر نکالا۔ پولیس نے نوجوان اور خاتون کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر تھانے منتقل کرنے کی کوشش کی تو گاؤں والے مشتعل ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق مشتعل افراد نے پولیس کی گاڑی کو گھیر لیا اور دونوں کو لے جانے کی مخالفت کی۔ اس دوران پولیس اہلکاروں اور گاؤں والوں کے درمیان تلخ کلامی، دھکم پیل اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی، جبکہ بعض خواتین نے نوجوان کو پولیس کی گاڑی سے اتارنے کی کوشش بھی کی۔صورتحال کشیدہ ہونے پر نوجوان کو بچانے کے لیے پہنچنے والے سب انسپکٹر آشیِش سنگھ سے بھی خواتین کی جھڑپ ہوگئی۔ ہنگامہ بڑھنے پر ساڑ پولیس نے قریبی تھانوں سے اضافی نفری طلب کی۔ کافی کوشش کے بعد پولیس دونوں کو بحفاظت تھانے لے جانے میں کامیاب ہوگئی۔

    پولیس کے ساتھ مبینہ ہاتھا پائی کے معاملے میں 11 نامزد افراد سمیت دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں

  • ٹک ٹاکر ارشم کی ہلاکت کیس میں نیا موڑ،سابق شوہر کو پولیس نے کیا گرفتار

    ٹک ٹاکر ارشم کی ہلاکت کیس میں نیا موڑ،سابق شوہر کو پولیس نے کیا گرفتار

    لاہور کے علاقے اسلام پورہ میں خاتون ارشم مقصود کی پھندا لگی لاش ملنے کے معاملے میں پولیس نے نامزد ملزم سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا۔

    ٹک ٹاکر، بیوٹیشن ارشم کی ہلاکت میں نیا موڑ،پولیس نے واقعہ کے 5 روز بعد قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ مقتولہ کے والد کے بیان پر درج کیا گیا۔ ابتدائی طور پر پولیس نے معاملے کو خودکشی قرار دیا تھا۔ پولیس نے قتل کے مقدمہ کے بعد دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے ملزمان میں مقتولہ کا سابق شوہر اکرم بھی شامل ہے۔ ارشم مقصود چار ستمبر کو اپنے فلیٹ میں مردہ پائی گئی تھی۔ قریبی فلیٹوں پر موجود افراد نے فلیٹ سے تعفن اٹھنے پر پولیس کو اطلاع دی تھی۔ ارشم بیوٹشن تھی اور اس نے ان کپڑوں کی فروخت کا کام بھی شروع کیا تھا۔ابتدائی طور پر واقعہ خود کشی معلوم ہوا، تاہم پولیس نے تمام پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی تھیں۔تھانہ اسلام پورہ پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کیا۔ ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق پولیس نے نامزد ملزم اکرم سمیت دو افراد کو حراست میں لیا ہے، جبکہ واقعے کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد کے واقعے میں ممکنہ کردار کا تعین شواہد کی روشنی میں کیا جا رہا ہے۔ مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی پولیس کو موصول ہو چکی ہے، جسے تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ، موقع سے ملنے والے شواہد اور دیگر حقائق کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ خاتون کی موت خود کشی تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور پہلو کارفرما تھا، پولیس مختلف زاویوں سے جانچ کر رہی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین اور شواہد کی روشنی میں حتمی نتیجے تک پہنچا جائے گا۔

  • متعدد افراد پر جھوٹے زیادتی کے الزامات،خواجہ سرا کو ساڑھے سات سال قید

    متعدد افراد پر جھوٹے زیادتی کے الزامات،خواجہ سرا کو ساڑھے سات سال قید

    لندن: برطانیہ میں متعدد مردوں کے خلاف جنسی زیادتی کے جھوٹے الزامات عائد کرنے والی 26 سالہ خواجہ سراخاتون خلوئی سیمنڈز کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں ساڑھے سات سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

    خلوئی سیمنڈز نے کئی برس کے دوران متعدد مردوں پر ریپ اور جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے، جس کے نتیجے میں پولیس کا سیکڑوں گھنٹے کا وقت ان مقدمات کی تحقیقات میں صرف ہوا اور کئی افراد کو گرفتار کرکے بعد میں رہا کرنا پڑا۔ہارو کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ جولائی 2018 سے جنوری 2026 تک سیمنڈز کی جانب سے جھوٹے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رہا۔ جج نے اسے محض ایک واقعہ قرار دینے کے بجائے ’’مسلسل طرزِ عمل‘‘ قرار دیا۔عدالت کے مطابق ایک موقع پر خلوئی سیمنڈز کے الزامات ہارو، شمال مغربی لندن میں رپورٹ ہونے والے ریپ اور سنگین جنسی حملوں کے مجموعی مقدمات کا تقریباً 2.5 فیصد بن گئے تھے۔جج نے ریمارکس دیے کہ جھوٹے الزامات نے پولیس کو سنگین جرائم کے حقیقی متاثرین کی تحقیقات سے دور کیا اور پولیس کے قیمتی وسائل ضائع ہوئے۔

    ایک مقدمے میں سیمنڈز نے دعویٰ کیا کہ ایک افغان شخص نے چاقو کے زور پر اسے زبانی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مذکورہ شخص گرفتار ہوا اور تقریباً 88 روز تک تحقیقات کا سامنا کرتا رہا، تاہم اس نے مؤقف اختیار کیا کہ سیمنڈز نے خود اس سے قربت اختیار کرنے کی کوشش کی تھی جسے اس نے مسترد کر دیا تھا۔ایک اور واقعے میں ایک شیف کو سیمنڈز نے گرائنڈر پر ملاقات کے بعد اپنے فلیٹ پر بلایا۔ وہ شخص مبینہ طور پر بے آرامی محسوس کرنے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔ اس کے بعد سیمنڈز نے ایمرجنسی نمبر 999 پر کال کرکے الزام عائد کیا کہ مذکورہ شخص نے اس کے مشروب میں کوئی چیز ملانے کے بعد اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے اس شخص کو اس کے گھر سے گرفتار کیا اور اسے تقریباً 20 گھنٹے پولیس اسٹیشن میں گزارنے پڑے۔ایک اور واقعے میں سیمنڈز نے ایک ڈیٹ کے بعد ٹیکسی کے ذریعے گھر جاتے ہوئے ڈرائیور پر ریپ کا الزام عائد کیا۔ تاہم پولیس کی تحقیقات میں ٹیکسی کے جی پی ایس ڈیٹا نے دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ جی پی ایس ریکارڈ کے مطابق گاڑی راستے میں رکی ہی نہیں تھی اور اس کی رفتار 25 میل فی گھنٹہ سے کم بھی نہیں ہوئی تھی۔بعد ازاں سیمنڈز نے اعتراف کیا کہ ٹیکسی ڈرائیور کے خلاف عائد الزام جھوٹا تھا۔ اس واقعے کے بعد اسے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔

    سیمنڈز نے عدالت میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے آٹھ الزامات کا اعتراف کیا۔دفاعی وکیل ڈومینک بینتھل نے عدالت کو بتایا کہ سیمنڈز کو آٹزم، اور شراب پر انحصار جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ وکیل کے مطابق اس وقت ایک بنیادی ذہنی صحت کی مشکل بھی موجود تھی۔سیمنڈز نے سزا سنائے جانے کی کارروائی کا آغاز لندن کی ورم ووڈ اسکرَبز جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے دیکھا، تاہم بعد میں وہ واپس اپنے سیل میں چلی گئی اور عدالت میں کارروائی میں مزید شرکت سے انکار کر دیا۔عدالت نے مسلسل جھوٹے الزامات اور پولیس کے وسائل کے بڑے پیمانے پر استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی۔

  • لیٹ نائٹ پارٹیوں پر اعتراض، بہو نے مبینہ طور پر سسر کو قتل کروا دیا

    لیٹ نائٹ پارٹیوں پر اعتراض، بہو نے مبینہ طور پر سسر کو قتل کروا دیا

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی اور رات گئے پارٹیوں پر سسر کے اعتراضات سے مبینہ طور پر تنگ بہو نے اپنے سسر کو قتل کروا دیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 63 سالہ فارماسیوٹیکل تاجر وینیت مینوچا اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا تو شک خاندان کے سابق ملازم وشال اور اس کے ساتھی راج کشور پر گیا، جنہیں گرفتار کر لیا گیا۔

    تفتیش میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب وشال نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ قتل وینیت مینوچا کی 36 سالہ بہو شالو کے کہنے پر کیا گیا۔ اس کے مطابق شالو نے اسے قتل کے عوض رقم دینے کا وعدہ کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے بہو کو بھی تحویل میں لے لیا۔

    تفتیش کاروں کے مطابق شالو نے ابتدائی طور پر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تاہم بعد ازاں پوچھ گچھ کے دوران مبینہ طور پر اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ شالو نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اس کا سسر گھر کے اندر ہونے والی سرگرمیوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کڑی نظر رکھتا تھا اور اس کے رات گئے پارٹیوں میں جانے یا دیر سے گھر واپس آنے پر اعتراض کرتا تھا۔

    پولیس کے مطابق شالو نے یہ بھی بتایا کہ ایک امیر خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود گھر کے اخراجات پر اس کا اختیار نہیں تھا اور اسے اپنے اور شوہر کے معمولی اخراجات کے لیے بھی سسر سے رقم مانگنا پڑتی تھی۔

    تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ شالو نے سسر کو قتل کرنے کے لیے 6 لاکھ روپے کی پیشکش کی۔ مبینہ طور پر اس نے فلیٹ کی ڈپلیکیٹ چابی حاصل کرکے وشال کے حوالے کی۔ پولیس کے مطابق 4 ستمبر کو شالو نے کچھ اشیا دینے کے بہانے وشال کو بلایا، جہاں مبینہ طور پر قتل کے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔

    پولیس مقتول کے بیٹے سبرت کے کال ریکارڈز کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اسے مبینہ سازش کا علم تھا یا وہ کسی بھی طرح قتل میں ملوث تھا۔