Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • لاہور   سے اغوا ہونے والی 5 سالہ بچی ساہیوال سے بازیاب،ملزمہ گرفتار

    لاہور سے اغوا ہونے والی 5 سالہ بچی ساہیوال سے بازیاب،ملزمہ گرفتار

    لاہور پولیس نے لیاقت آبادسے اغوا ہونے والی 5 سالہ بچی ایمان فاطمہ کو ساہیوال سے بازیاب کرکے ایک ملزمہ کو گرفتار کرلیا۔

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے بچی کے اغواء کا نوٹس لے کر ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن شاہد نواز کی سربراہی میں بچی کی بازیابی کے لئے ٹیم تشکیل دی تھی،انچارج انویسٹی گیشن تھانہ لیاقت آباد ولید حسین نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کر کے ملزمہ کو گرفتار کر کے بچی کو بازیاب کروایا۔

    ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن شاہد نواز کے مطابق بچی کے اغوا کا مقدمہ اس کے والد نے تھانہ لیاقت آباد درج کروایا تھا، خاتون ملزمہ بچی کو اغوا کر کے ساہیوال لے گئی تھی، جدید ٹیکنالوجی سمیت ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے ملزمہ کو گرفتار کر کے بچی کو بازیاب کرایا گیابچی کو اس کے والدین کے حوالے کردیا گیا ہے جنہوں نے بحفاظت بازیابی پر پولیس ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

    
بلغاریہ ورک فرام ہوم کرنے والوں کے لیے خوش آمدید کہنے والا یورپی ملک

    قصور باغی ٹی وی کے دفتر میں 14ویں سالگِرہ کی تقریب

    بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے کا سال 2026 کا پہلا مشن ناکام ہو گیا

  • سنگین وارداتوں میں ملوث 2 ملزمان گرفتار

    سنگین وارداتوں میں ملوث 2 ملزمان گرفتار

    اے وی ایل سی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے100 سے زائد ڈکیتی اورموٹرسائیکل چوری جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث 2ملزمان کو گرفتارکرلیا-

    تفصیلات کےمطابق اینٹی لفٹنگ سیل پولیس نےکارروائی کرتے ہوئے100 سے زائد ڈکیتی اورموٹرسائیکل چوری جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث 2 ملزمان صدام حسین ولد کریم بخش اور تابش ولد غلام کوگرفتارکرکے ان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فون اورموٹر سائیکلیں برآمد کرلیں،گرفتارملزمان منگھوپیر کے رہائشی ہیں اور شہر بھر سے موٹر سائیکل چوری اورموبائل فون چھیننے کی متعدد وارداتیں کر چکے ہیں-

    اے وی ایل سی پولیس کے مطابق گرفتارملزمان چوری شدہ موٹرسائیکلوں اورچھینےگئے موبائل فون کو بلوچستان کے علاقے حب لے جا کر فروخت کرتے تھےگرفتارملزمان کے قبضے سے ملنے والی دو موٹر سائیکلوں میں سے ایک تھانہ زمان ٹاؤن کی حدود سے جبکہ دوسری تھانہ فیروز اباد کے علاقے سے چوری شدہ ہے برآمد شدہ موبائل فون میں سے ایک آئی فون جبکہ دوسرا انفینکس ہے اوردونوں منگھوپیرکے علاقے سے ملزمان نے ایک واردات کے دوران چھینے تھے۔

    اے وی ایل سی پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان گزشتہ چار برسوں سے شہر کے مختلف علاقوں میں وارداتیں کررہے تھے۔ دوران تفتیش ملزمان نے بتایا کہ اب تک وہ 80 سے 90 بیش قیمت موبائل فون چھیننے اور دو درجن سے زائد موٹر سائیکل چوری کی وارداتیں کر چکے ہیں ملزمان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہیں جبکہ ملزمان سے منسلک اس گھناؤنے جرم میں ملوث مزید ملزمان کی گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔

  • 
گومل بازار روڈ پر پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 5 اہلکار شہید

    
گومل بازار روڈ پر پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 5 اہلکار شہید

    خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں گومل بازار روڈ پر پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
    پولیس کے مطابق بکتر بند گاڑی تھانہ گومل سے ٹانک کی جانب روانہ تھی کہ گومل بازار روڈ پر اسے نشانہ بنایا گیا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ بکتر بند گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
    ‎پولیس حکام نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں تھانہ گومل کے ایڈیشنل ایس ایچ او اسحاق خان بھی شامل ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جبکہ سرچ آپریشن بھی شروع کردیا گیا ہے۔
    ‎واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

  • احمد پور شرقیہ: چار روز سے لاپتہ نوجوان کی لاش کھالے سے برآمد، تحقیقات جاری

    احمد پور شرقیہ: چار روز سے لاپتہ نوجوان کی لاش کھالے سے برآمد، تحقیقات جاری

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تحصیل احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے موضع فرید آباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں چار روز سے لاپتہ 20 سالہ نوجوان کی لاش کھالے سے برآمد ہوئی۔

    جاں بحق نوجوان کی شناخت یاسر ولد نور محمد، سکنہ موضع بقا پور، تحصیل احمد پور شرقیہ کے طور پر ہوئی ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یاسر ذہنی طور پر معذور تھا اور گزشتہ چار دن سے گھر سے لاپتہ تھا، جس پر اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا تھے۔

    مقامی افراد نے کھالے میں لاش دیکھ کر فوری طور پر پولیس اور ریسکیو کو اطلاع دی۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور پولیس کی موجودگی میں ریسکیو اہلکاروں نے لاش کو کھالے سے نکال کر قانونی کارروائی کے لیے ٹی ایچ کیو اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں افسوس اور سوگ کی فضا قائم ہے۔

  • سوشل میڈیا پر من گھڑت الزامات بے نقاب، ڈی پی او ڈیرہ غازی خان کا دوٹوک مؤقف

    سوشل میڈیا پر من گھڑت الزامات بے نقاب، ڈی پی او ڈیرہ غازی خان کا دوٹوک مؤقف

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹر)ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سردار صادق خان بلوچ نے حالیہ پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے من گھڑت، بے بنیاد اور گمراہ کن مواد کے حوالے سے اپنا واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کیا۔

    ڈی پی او سردار صادق خان بلوچ نے کہا کہ ان کا تعلق ایک معزز بلوچ خاندان سے ہے، جہاں خواتین کی عزت و احترام کو ہمیشہ اولین ترجیح دی گئی ہے۔ ایک حساس اور ذمہ دار سرکاری عہدے پر فائز ہونے کے ناطے ان کی بنیادی ذمہ داریاں عوامی خدمت، قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی ہیں۔

    انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا پر “عائشہ” نامی آئی ڈی سے مسلسل جھوٹ پر مبنی اور گمراہ کن ویڈیوز اپلوڈ کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد ان کی ذاتی، خاندانی اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ ڈی پی او کے مطابق ان کے خلاف پھیلایا جانے والا تمام مواد بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جون 2023 سے جون 2024 تک اپنی دوسری اہلیہ کے ساتھ ازدواجی رشتے میں منسلک رہے، تاہم باہمی اختلافات کے باعث جون 2024 میں باقاعدہ طور پر طلاق ہو گئی۔ اس شادی سے ان کا ایک بیٹا ہے، جس کی کفالت اور پرورش وہ پوری ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شادی اور طلاق سے متعلق تمام حقائق ان کے سینئر افسران اور قریبی ساتھیوں کے علم میں پہلے ہی موجود تھے۔

    ڈی پی او نے بتایا کہ اس معاملے پر قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں باضابطہ درخواست دائر کی گئی، جس پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی اور انکوائری اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق انکوائری میں ان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا، جہاں انصاف کے تقاضوں کے مطابق ان الزامات کو درست قرار نہیں دیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے قانون، عدالتی نظام اور ریاستی اداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

    آخر میں ڈی پی او سردار صادق خان بلوچ نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ، جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پر یقین کرنے کے بجائے حقائق اور ذمہ دارانہ صحافت کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی تمام تر توجہ ضلع میں امن و امان کے قیام، عوامی خدمت اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔

  • 
لاڑکانہ میں منشیات رکھنے کے الزام میں لیڈی پولیس کانسٹیبل گرفتار

    
لاڑکانہ میں منشیات رکھنے کے الزام میں لیڈی پولیس کانسٹیبل گرفتار

    
لاڑکانہ میں منشیات رکھنے کے الزام میں لیڈی پولیس کانسٹیبل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گزشتہ شب ملزمہ کے گھر پر چھاپے کے دوران 150 گرام آئس برآمد ہوئی۔
    پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران گرفتار لیڈی کانسٹیبل کی والدہ سے بھی 2 کلو چرس برآمد کی گئی۔ مزید تفتیش پر ملزمہ کی نشاندہی پر اس کے تین ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 12 کلو چرس برآمد ہوئی۔
    ‎پولیس کے مطابق گرفتار لیڈی کانسٹیبل کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ وومن تھانے میں مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

  • خیبر میں دلہے کی گاڑی کو  حادثہ : 2 سگے بھائیوں سمیت  5 دوست جاں بحق

    خیبر میں دلہے کی گاڑی کو حادثہ : 2 سگے بھائیوں سمیت 5 دوست جاں بحق

    خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں دلہے کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 2 سگے بھائیوں سمیت 5 دوست جاں بحق ہوگئے جبکہ دلہا معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ بابِ خیبر کے سامنے تیز رفتاری کے باعث پیش آیا جس میں کار اور ٹرک کے درمیان خوفناک تصادم ہوا، دلہا کی آج شادی ہونے والی تھی اور حادثہ اس وقت پیش آیا جب دلہا کو سیلون میں تیار کرنے کے بعد اس کے دوست اسے واپس گھر لے جا رہے تھے، حادثے کے نیتجے میں کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی،اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور پولیس موقع پر پہنچ گئیں، لاشوں کو گاڑی سے نکال کر قریبی جمرود اسپتال منتقل کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی وجہ تیز رفتاری اور لاپرواہی سامنے آئی ہے، تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    احسن اقبال کی لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے سے متعلق وضاحت

    آپریشن سندور:ہندوستانی دفاعی تجزیہ کار نے فاشسٹ مودی حکومت کا پردہ چاک کر دیا

    تہران نے اسرائیل اور امریکا کو خبردار کر دیا

  • غیر اخلاقی ویڈیو (عمیری) میں ملوث خاتون گرفتار،مقدمہ درج

    غیر اخلاقی ویڈیو (عمیری) میں ملوث خاتون گرفتار،مقدمہ درج

    گوجرانوالہ پولیس نے سوشل میڈیا پر وائرل غیر اخلاقی ویڈیو (عمیری) میں ملوث خاتون کو حراست میں لے لیا ، زنا کا مقدمہ درج کر لیا گیا

    سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کے نوٹس پر پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا۔ تھانہ اروپ پولیس نے جدید سائنٹفک طریقہ کار سے تفتیش کرتے ہوئے خاتون کو ٹریس کر کے حراست میں لیا، مقدمہ درج کر لیا گیا،ویڈیو میں نظر آنے والے ملزم کی گرفتاری کے لیے ڈی ایس پی کینٹ کی زیر نگرانی پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں،سی پی او کا کہنا ہے کہ مقدمہ کی تفتیش میرٹ پر کرتے ہوئے ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی ۔

    دوسری جانب سی سی ڈی لاہور کے ذمہ دار افسر ایس پی آفتاب پھلروان کا کہنا ہے کہ مذکورہ کیس ز نا بالرضا کا ہے اس میں زیا دتی کا پہلو ہوتا تو یہ کیس سنگین ہوتا ۔ سی سی ڈی صرف سنگین نوعیت کے ریپ کیسز کو ہینڈل کرتی ہے ، کیونکہ ہمیں ریاست نے اس سلسلے میں واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ظلم کو کسی صورت برداشت نہیں کرنا ۔ عمیری کے نیفے میں پستول چلنے یا اسکے پار ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں ، حقیقت میں سی سی ڈی کے پاس عمیری کا کیس ہی نہیں ، یہ مقامی پولیس کے جینڈر سیل کا کیس ہے وہی اسے دیکھ رہے ہیں ، جب یہ معاملہ وائرل ہوا تو سی سی ڈی نے بنیادی طور پر کیس کا جائزہ ضرور لیا لیکن ہمارے افسران نے فیصلہ کیا کہ یہ ہمارا کیس نہیں ہے چنانچہ ہم پیچھے ہٹ گئے ،سی سی ڈی جرائم کے خلاف ایک معتبر ادارہ ہے ۔ عوام کے اندر اسکی عزت ہے اور ہم انشااللہ اپنے دائرہ کار سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کریں گے اور عوام سے ملنے والی عزت اور نام کو سنبھال ک رکھیں گے

    یاد رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک مبینہ نازیبا ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جسے صارفین عمیری لیک ویڈیو کا نام دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو تقریباً 7 منٹ 11 سیکنڈ کی بتائی گئی اور اس میں ایک نوجوان شخص جسے عمیری کہا جا رہا ہے ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ازواجی عمل میں ملوث نظر آیا۔ویڈیو کے کلپس ایکس پر پارٹس میں شیئر کیے جا رہے ہیں جہاں ایک شادی شدہ خاتون نشے کی حالت میں عمیری نامی شخص سے غیر قانونی طور پر ازواجی عمل میں مصروف ہے جبکہ اس دوران خاتون عمیری نامی شخص سے سے بار بار نکاح کرنے کی بات کرتی نظر آتی ہے۔خاتون شدید غصے کی حالت میں اپنے شوہر، والدین اور بھائیوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے کروائی گئی جو اس کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ ویڈیو میں خاتون کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ویڈیو بنا کر میرے بھائیوں اور والد کو بھیج دو جبکہ عمیری کا جواب ہے کہ اگر سرمایہ ہوتا تو دو سال پہلے نکاح کر لیتا۔

    اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ایکس پر میمز، جوکس اور طنزیہ پوسٹس کا سیلاب آ گیا ہے ،یہ معاملہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں وائرل ہونے والے دیگر لیک ویڈیو سکینڈلز (جیسے مناہل ملک، امشا رحمان، متھیرا اور دیگر ٹک ٹاکرز) کی طرح پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی کا باعث بن رہا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیوز اکثر ہیکنگ، بلیک میلنگ یا ذاتی انتقام کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایکس پر کئی پوسٹس میں جعلی لنکس شیئر کیے جا رہے ہیں جو وائرس یا فراڈ کا سبب بن سکتے ہیں،سائبر کرائم ایکسپرٹس نے خبردار کیا ہے کہ حساس مواد شیئر کرنا یا مشکوک لنکس پر کلک کرنا قانونی طور پر جرم ہے اور پیکا ایکٹ کے تحت سخت سزا ہو سکتی ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: دستی پل پر بس کی موٹر سائیکل اور چنگچی رکشہ کو ٹکر، 3 جاں بحق، ریسکیو آپریشن پر سوالات

    ڈیرہ غازی خان: دستی پل پر بس کی موٹر سائیکل اور چنگچی رکشہ کو ٹکر، 3 جاں بحق، ریسکیو آپریشن پر سوالات

    ڈیرہ غازیخان (نیوز رپورٹر)ڈیرہ غازی خان کے علاقے دستی پل پر 10 جنوری 2026 کو پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے میں ایک مسافر بس کی موٹر سائیکل اور چنگچی رکشہ سے ٹکر کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم کو دن 11 بج کر 32 منٹ پر موصول ہوئی۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق کراچی سے ڈیرہ غازی خان آنے والی بس کے ڈرائیور نے غلط موڑ لینے والی موٹر سائیکل کو بچانے کی کوشش میں اچانک لین تبدیل کی، جس کے باعث سامنے سے آنے والے چنگچی رکشہ سے تصادم ہو گیا، جبکہ موٹر سائیکل سوار بھی بس کی زد میں آ گئے۔

    حادثے کے بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بس کے نیچے پھنسے دو موٹر سائیکل سواروں کو نکالنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اسی حادثے میں چنگچی رکشہ ڈرائیور بھی موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ تینوں لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ غازی خان منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    جاں بحق ہونے والوں میں حاجی محمد نواز ولد حافظ شیر محمد، عمر 55 سال، چنگچی رکشہ ڈرائیور، سکنہ رشید آباد نزد خدا بخش چوک شامل ہیں۔
    دوسرا جاں بحق شخص اللہ ڈیوایا ولد غلام یاسین، عمر 19 سال، موٹر سائیکل سوار، سکنہ لوہار والا ڈیرہ غازی خان تھا، جس کا سر کچلنے کے باعث موقع پر ہی انتقال ہو گیا۔
    تیسرا جاں بحق شخص ابراہیم ولد حافظ حنیف، عمر 17 سال، موٹر سائیکل سوار، سکنہ رشید آباد نزد خدا بخش چوک تھا، جو شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    دوسری جانب شہریوں نے ریسکیو آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو بس کے نیچے سے نکالنے کے لیے ریسکیو 1122 نے موقع پر نہ تو کرین یا ایکسیویٹر منگوایا اور نہ ہی کوئی بھاری مشینری استعمال کی گئی، جس کے باعث امدادی کارروائی مؤثر ثابت نہ ہو سکی۔ شہریوں کے مطابق صرف لفٹر کے ذریعے زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کی گئی، جبکہ اگر بروقت کرین یا ایکسیویٹر طلب کیا جاتا تو ممکن تھا کہ کوئی قیمتی جان بچائی جا سکتی۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے میں ممکنہ غفلت کا تفصیلی جائزہ لے کر ریسکیو 1122 یا ضلعی انتظامیہ کی سطح پر ذمہ دار افراد کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کے دوران بروقت اور مؤثر امدادی کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے والا مبینہ فراڈ نیٹ ورک بے نقاب، مرکزی ملزم ڈاکٹر سمیع اللہ سہرانی گرفتار

    سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے والا مبینہ فراڈ نیٹ ورک بے نقاب، مرکزی ملزم ڈاکٹر سمیع اللہ سہرانی گرفتار

    اسلام آباد/ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ)ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے محمد طارق خان سہرانی، سابق ریڈر سٹی مجسٹریٹ ڈیرہ غازی خان کے بیٹے ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی کو اسلام آباد میں دھوکہ دہی، فراڈ اور بوگس چیک دینے کے مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت سے عبوری ضمانت خارج ہونے پر پولیس تھانہ رمنا نے ملزم کو موقع پر گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی کے خلاف اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج تھے، جن میں ایف آئی آر نمبر 268/24 مورخہ 18 مئی 2024 بجرم 489-F تعزیرات پاکستان تھانہ گولڑہ، ایف آئی آر نمبر 707/24 مورخہ 6 اگست 2024 بجرم 489-F تھانہ رمنا اور ایف آئی آر نمبر 705/24 مورخہ 5 اگست 2024 بجرم 420/506 تعزیرات پاکستان تھانہ رمنا شامل ہیں۔

    ان مقدمات میں ڈاکٹر سمیع اللہ خان کے علاوہ ہمایوں طارق خان ولد محمد طارق سہرانی، محمد طارق خان سہرانی اور محمد عبیداللہ ولد محمد طاہر سلطان اعوان کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ یہ تمام ملزمان عرصہ دراز سے عدالتی مفرور تھے، جس کے باعث ان کے شناختی کارڈز نادرا اور پاسپورٹس بھی بلاک کر دیے گئے تھے۔

    بعد ازاں محمد طارق خان سہرانی، ہمایوں خان سہرانی اور عبیداللہ اعوان نے سیشن جج اسلام آباد کی عدالت سے ضمانتیں حاصل کر لیں، تاہم ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی طویل عرصے تک روپوش رہا۔ گزشتہ ہفتے ایف آئی آر نمبر 707/24 میں اس نے عبوری ضمانت حاصل کی، جس کی باقاعدہ سماعت 9 جنوری 2026 کو ہوئی، جہاں جرم ثابت ہونے پر عدالت نے ضمانت خارج کر دی۔

    ضمانت مسترد ہونے پر پولیس نے ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کر لیا، جبکہ 10 جنوری 2026 کو علاقہ مجسٹریٹ اسلام آباد نے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل راولپنڈی بھیج دیا۔ ایف آئی آر نمبر 268/24 تھانہ گولڑہ کا مقدمہ تاحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔

    ذرائع کے مطابق ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی، اس کا حقیقی بھائی ہمایوں خان سہرانی اور دوست عبیداللہ اعوان منظم انداز میں لوگوں کو کاروبار کا جھانسہ دے کر بھاری رقوم ہتھیاتے رہے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ رقم وصول کرنے کے بعد ملزمان غائب ہو جاتے، فون نمبرز بند کر دیتے اور نئے شہروں میں منتقل ہو جاتے تھے۔ واپسی کا مطالبہ کرنے پر متاثرین کو سنگین دھمکیاں اور گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث متعدد افراد اپنی رقوم سے محروم ہو چکے ہیں۔