Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سب سے پہلے اللہ کا شکرگزارہوں اورپھرساتھیوں اوراتحادیوں‌ کا:وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب

    سب سے پہلے اللہ کا شکرگزارہوں اورپھرساتھیوں اوراتحادیوں‌ کا:وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب

    اسلام آباد:سب سے پہلے اللہ کا شکرگزارہوں اورپھرساتھیوں اوراتحادیوں‌ کا:وزیراعظم قومی اسمبلی میں خطاب فرمارہےہیں ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزمائیشوں ، کرونا جیسی وبا سے محفوظ رکھنے اورپھرپاکستان کومعاشی دلدل سے نکالنے اورآج بجٹ پاس کروانے پر سب سے پہلے میں اللہ کا شکرادا کرتا ہوں اورپھراس کے بعد اپنے ساتھیوں ، اتحادیوں اور تمام پاکستانیوں کا جنہوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا دیا

    وزیراعظم عمران خان نے خطاب کے شروع میں ہی ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے اورجمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے تمام تراختلافات بھلاتےہوئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے ، وزیراعظم نے خطاب کے آغاز میں اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 1970 کے بعد تمام انتخابات متنازع رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ الیکشن کو قابل قبول بنایاجائے، ہم نے پوری اصلاحات کی ہے جس پر ابھی بحث نہیں ہوئی اور وقت آگیا ہے کہ الیکشن لڑیں لیکن فکر نہ ہو کہ مجھے دھاندلی سے ہرادیا جائے گا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھاکہ پہلے دن تقریر کرنے کی کوشش تو تقریر نہیں کرنے دی گئی، ہم نے 133 میں سے 4 حلقے ڈیمانڈ کیے تھے، عدالت میں جا کر کیس لڑکر وہ حلقے کھلے، 2013 کے الیکشن پر جوڈیشل کمیشن کی سفارشات ہیں، ہم اس نتیجے پر آئے کہ ای وی ایم لائی جائے، اگر اپوزیشن کی اور تجویز ہے تو ہم سننے کیلئے تیار ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ ای وی ایم مشین ہوتو پولنگ ختم ہونے پر سب رزلٹ آجاتا ہے، اگر ہم اصلاحات نہیں کریں گے تو ہر الیکشن میں یہی سلسلہ ہوگا۔

    وزیراعظم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 برس میں ہم نے بہت کوشش کی کہ اس ضمن میں کیا اصلاحات کی جاسکتی ہیں کہ جو بھی الیکشن ہارے اس نتیجے کو قبول کرے، ہم نے اس سلسلے میں تجاویز بھی دی ہیں لیکن ابھی تک ان پر اپوزیشن کی بحث نہیں ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ میں درخواست کروں گا کہ یہ حکومت و اپوزیشن کی بات نہیں ہے یہ پاکستان کی جمہوریت کا مستقبل ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اپنی زندگی کے 21 سال میں بین الاقوامی کرکٹ کھیل کر گزارے تو میں اپنا تجربہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم کرکٹ کھیلتے تھے تو ملک اپنے اپنے امپائر کھڑے کرتے تھے اور جو ہارتا تھا وہ کہتا تھا کہ امپائروں نے ہمیں ہرادیا لیکن پاکستان وہ ملک تھا جس نے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبی نیوٹرل امپائر کھڑے کیے تھے اور اب یہ مسئلہ ختم ہوگیا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اب یہ وقت آگیا ہے کہ ہم الیکشن لڑیں اور کسی کو یہ فکر نا ہو کہ دھاندلی سے ہرادیا جائے گا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پہلے دن جب میں قومی اسمبلی میں تقریر کرنے کھڑا ہوا تھا تو اپوزیشن نے تقریر نہیں کرنے دی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے، اگر الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے تے تو انہیں بتانا چاہیے تھا کہ کیسے ٹھیک نہیں ہوئے۔

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے تو ان کے میڈیا اور عوام نے کہا کہ اس بات کا ثبوت دیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب 2013 میں ہم نے کہا تھا کہ الیکشن درست نہیں ہوئے تو 133 میں سے 4 حلقوں کا مطالبہ کیا تھا کہ ان کا آڈٹ کیا جائے لیکن ان 4 حلقوں کو نہیں کھولا گیا تھا جس کے بعد 2 سے ڈھائی سال بعد کیس لڑکر ہم نے وہ حلقے کھلوائے اور نتائج میں دھاندلی پائی گئی تھی۔

    عمران خان نے کہا کہ میں اپوزیشن سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے پروٹو ٹائپ الیکٹرانک ووٹنگ مشین(ای وی ایم) کیونکہ جب ووٹنگ ختم ہوتی ہے تو بٹن دباتے ہی نتائج فوراً سامنے آجاتے ہیں، اس طرح ڈبل اسٹامپس، تھیلیاں کھلے ہونے کے مسائل ختم ہوتے ہیں اور جو بھی اعتراض کرنا چاہے وہ اٹھاسکتا ہے۔

    اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر اپوزیشن کے پاس کوئی اور تجویز ہے تو ہم وہ سننے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اصلاحات نہیں کی جائیں گی تو یہ مسئلہ ہر الیکشن میں آئے گا جیسا کہ سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں ہوا۔

    بجٹ 22-2021 سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ میں شوکت ترین اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان کے حوالے سے میری وژن کے مطابق بجٹ تیار کیا۔انہوں نے کہا کہ 25 برس قبل جب ہم نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھی جس کے محرکات میں صرف نظریہ پاکستان شامل تھا، جو قراردادِ مقاصد میں بھی واضح ہے کہ اسلامی، فلاحی ریاست ہے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسلامی، فلاحی ریاست کا نظریہ مدینہ کی ریاست سے لیا گیا تھا، جو پہلی فلاحی ریاست تھی، یہ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اسی نظریے پر عمل کرے کیونکہ ہم اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو ہم پاکستان کے نظریے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہمیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا مسئلہ درپیش تھا، جو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ تھا اور اس کی وجہ سے ہماری کرنسی خطرے میں تھی، ڈالرز کی کمی تھی جس کی وجہ سے ڈالر نے اوپر جانا ہی تھی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اتنے بڑے بحران میں ہماری ٹیم نئی تھی، تجربہ نہیں تھا لیکن ہم نے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بہت مشکل اور تکلیف دہ قدم اٹھائے تھے۔

    انہوں نے ملک کو درپیش مالی مسائل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک گھر مقروض ہوجاتا ہے، آمدنی اور خرچے میں بڑا خسارہ ہوجاتا ہے، لوگ پیسے مانگنے کے لیے آرہے ہیں کیونکہ قرضے لیے ہوئے ہیں، وہ صرف 2 چیزیں کرسکتا ہے اپنے خرچے کم کرتا ہے اور آمدنی بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، جب خرچے کم کرتا ہے تو تکلیف ہوتی ہے۔

    وزیراعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسی طرح ہمیں بھی مشکل فیصلے کرنے پڑے، عوام کو تکلیف ہوئی اور کئی ابھی بھی تکلیف سے گزر رہے ہیں لیکن جب ایک ملک مقروض ہوجائے اور مشکل میں پڑجائے تو اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ‘اس دوران ہماری معاشی ٹیم نے جو فیصلے کیے اس پر مجھے خوشی ہے، دنیا میں باہر گئے مالی مدد طلب کی، میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ہمیں ڈیفالٹ سے بچایا’۔

  • وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وزیرخارجہ کے فون ٹیپ کرے، بلاول

    وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وزیرخارجہ کے فون ٹیپ کرے، بلاول

    وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وزیرخارجہ کے فون ٹیپ کرے، بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی بجٹ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے 172نمائندوں نے بجٹ منظور کیا

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بجٹ عوام دوست نہیں اسعد محمود کی با ت سے متفق نہیں ،افغانستان سے متعلق صورتحا ل پر بریفنگ کے لیے وزارت داخلہ میں مدعوکیا تھا خواجہ آصف نے کہا ووٹ کوعزت دینی چاہییے اس بات سے اتفاق کرتے ہیں ،جولوگ حکومتی بنچزپربیٹھے ہیں یہ بھی ووٹ لے کرآئے ہیں،ووٹ کی عزت دونوں طرف سےہوگی یکطرفہ نہیں،بلاول بھٹو کون سی پارلیمانی روایات کی بات کرتےہیں ،سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو بات کرنے کا موقع نہیں دیاجاتا یہ پارلیمانی روایات ہیں،اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں ان کے لیے مختص وقت سے زیادہ دیا گیا،بلاول بھٹو آئینہ دکھاتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں،سندھ کے وزیرخزانہ بحث سمیٹے بغیر چلے گئے،یہ آئینہ دکھاتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں ایک سابق وزیر اعظم سب کے سامنے اسپیکر کو دھمکی دیتا ہے ،اسپیکر کی جانبداری کی بات کیجاتی ہے ،اسپیکر کے صبر کو تحسین پیش کرتے ہیں

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شورشرابہ کیا، شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیا سندھ میں اسٹینڈنگ کمیٹی کوچیئرمین شپ دی گئی؟ یہ بھی جمہوری قدریں کہ اکثریت کی رائے کو تسلیم کیا جائے،قوم جانتی ہےماضی میں قومی خزانےکےساتھ کیا کچھ نہیں ہوا،قوم جانتی ہے کہ تاریخی خسارہ آپ چھوڑکر گئے،بجٹ میں اپوزیشن کوان کے حصے سے زیادہ وقت دیا گیا،اگر عمران خا ن نہیں بولیں گے توبلاول بھٹو اورشہبازشریف بھی نہیں بولیں گے،روایات کی بات تسلیم کریں گے لیکن کسی کے دباوَ میں نہیں آئیں گے کیاسندھ میں اپوزیشن کواسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین شپ دی گئی؟ بلاول بھٹو جب چھوٹے تھے تب سے ان کوجانتا ہوں ،آپ کو پرچی پرلکھ کربھیج دیا جاتا ہے،آپ کا سوئچ آن اورآف ہوجاتا ہے،میری تقریرسے بلاول بھٹو کوتکلیف ہوئی ،

    وزیر خارجہ شاہ محمود شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران بلاول بھٹو مسکراتے رہے ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ میں بھی بلاول اوران کے والد کو جانتا ہوں،بلاول اپنے گریبان میں جھانک کردیکھیں،اصلیت کا پتہ چل جائے گا،

    پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا تھا کہ آپ 3 سال کا سپلیمنٹری بجٹ آج ایوان میں لائے ہیں،آپ کفایت شعاری کے نعرے لگاتے رہے کہاں ہے کفایت شعاری ،آپ نے متفرق اخراجات کی مد میں 233 ملین روپے اضافی خرچ کیا،پاور ڈویژن نے مختص بجٹ کے علاوہ سینکڑوں ملین اضافی خرچ کیا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ جب فلور پر میرا نام لیا گیا تو اس کا جواب دینا میرا حق ہے،شاہ محمود قریشی جب پیپلزپارٹی دورمیں وزیرخارجہ تھے تو وزیراعظم بننے کا مہم چلارہے تھے،وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وزیرخارجہ کے فون ٹیپ کرے ،شاہ محمود جب ہمارے وزیر تھے تو لابنگ کرتے تھے کہ یوسف رضا کی جگہ مجھے وزیراعظم بنایا جائے

  • آخری وقت تک سیشن میں آصف زرداری کو ایوان میں بٹھایا تھا،سپیکر نے دھاندلی کی، بلاول

    آخری وقت تک سیشن میں آصف زرداری کو ایوان میں بٹھایا تھا،سپیکر نے دھاندلی کی، بلاول

    آخری وقت تک سیشن میں آصف زرداری کو ایوان میں بٹھایا تھا،سپیکر نے دھاندلی کی، بلاول

    قومی اسمبلی کا اجلاس ،وزیراعظم عمران خان کچھ دیربعد ایوان سے خطاب کریں گے

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران آج ضمنی بجٹ کی منظوری دی جائے گی ،اسپیکر اسدقیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے ،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو اور خورشید شاہ پارلیمنٹ ہاوَس پہنچ گئے ، پی پی رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو تقریر کرنے دی جائیگی یا نہیں فیصلہ پارٹی کرے گی،اپوزیشن کا کام نشاندہی کرنا ہوتا ہے،پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوا یا ہوگا اس طرح نہیں ہونا چاہیے ،پارلیمنٹ میں لڑائی نہیں ہونی چاہیے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں ایوان میں شہبازشریف پر حملے کی کوشش کی گئی،بجٹ معاشی تباہی کا سبب ہے گزشتہ روز اسپیکر نے ہمیں بولنے کی اجازت نہیں دی 172ووٹ پورے کرنے پر عامر ڈوگرمبارکباد کے مستحق ہیں،گزشتہ روز دھاندلی نہ کرتے تو وزیراعظم کے پاس 172ووٹ نہیں تھے ،گزشتہ روز اسپیکر نے ہم سے ہمارا حق چھینا تھا اسپیکر سے لابی کو سیل کرنے کی گزارش کی وہ نہیں مانی گئی ،حکومتی اراکین اپنے لوگ دھونڈتے رہے،زبانی ووٹ پر اعتراض ہوتو اسپیکر کے لیے ضروری ہے کہ دوبارہ ووٹنگ کراتے،آخری وقت میں خود آپ کے ووٹ کو چیلنج کیا تھا،فنانس بل کی حتمی منظوری پر ووٹنگ نہیں کرائی گئی،فنانس بل کی حتمی منظور ی پر میں نے خود کھڑے ہوکر مطالبہ کیا،میرے مطالبے کے باوجود آپ نے ووٹنگ نہیں کرائی اور چلے گئے،آخری وقت تک سیشن میں آصف زرداری کو ایوان میں بٹھایا تھا،ہمارا رکن رشتہ دار کی فوتگی کے باوجود ایوان میں موجود تھے

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    فواد چودھری، تھپڑ کے بعد صحافیوں کو دھمکیاں، ،متنازعہ ترین بیانات،کیا واقعی کرائے کا ترجمان ہے؟

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

    پارلیمنٹ سپریم، شہبازشریف گھٹنے نہ پکڑیں سیدھا راستہ پکڑیں، بابر اعوان

    فواد چودھری کو مشورہ ہے،اپنی وزارت کا نام وزارت پروپیگنڈا رکھ دیں، شازیہ مری

    آصف زرداری، خورشید شاہ اسمبلی پہنچ گئے، کیسا ہوا استقبال؟

  • سانحہ ساہیوال کا کیا بنا؟ بچوں کو مار دیا گیا، قاتلوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سانحہ ساہیوال کا کیا بنا؟ بچوں کو مار دیا گیا، قاتلوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سانحہ ساہیوال کا کیا بنا؟ بچوں کو مار دیا گیا، قاتلوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے سانحہ ساہیوال سے متعلق جواب طلب کر لیا

    عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سانحہ ساہیوال سے متعلق جواب جمع کرائیں سپریم کورٹ نے سانحہ ساہیوال قتل کیس کے ملزم پولیس کانسٹیبل کی ضمانت منظور کر لی ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کا کیا بنا؟ بچوں کو مار دیا گیا، قاتلوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں،ایک فون کال پر بے گناہ لوگوں کو مار دیا گیا،پنجاب حکومت اور پولیس کیا کر رہی ہے؟ عدالت نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سے سوال کیا کہ سانحہ ساہیوال سے متعلق پنجاب حکومت نے کیا کیا؟ سانحہ ساہیوال سے متعلق معلومات لیکر جواب جمع کرائیں،

    ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل نے عدالت میں جواب دیا کہ میرے خیال میں کیس ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے,

    واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے ساہیوال میں کارسواروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس میں ایک فیملی سوار تھی ،کمسن بچوں کے سامنے ان کے والدین کو گولیاں ماری گئی تھیں،

    سانحہ ساہیوال پر برطرف آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر کو صوبے کی اہم ذمہ داری مل گئی

    سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ کو مقتول خیل کے بھائی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سانحہ ساہیوال، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم نے ایسا حکم دیا کہ سب دنگ رہ گئے

    سانحہ ساہیوال جے آئی ٹی رپورٹ غلط، جودییشیل کمیشن کیلئے درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی تحقیقات نے کیس کی شکل بدل دی، سانحہ ساہئوال کی تفتیش حقائق کو مدنظر رکھ کی نہیں کی گئی۔ جے آئی ٹی نے ویڈیوز سمیت دیگر شواہد ملحوظ خاطر نہیں رکھا، اہم گواہوں کو بھی زیر غور نہیں لایا گیا۔ سپریم کورٹ میں مقتول کے بھائی کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ ا استعمال شاہد اسلحہ گولیوں کے خول قبضے میں نہیں لیے گئے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کرے۔

    واضح رہے کہ سانحہ ساہیوال، اے ٹی سی لاہور نے تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دےدیا ،عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا ،ملزمان کے وکلا کی سرکاری گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل کی گئی

    سانحہ ساہیوال، وکلاء نے عدالت میں ایسا مطالبہ کیا کہ لواحقین پریشان ہو گئے

  • کبھی کوئی جارحانہ اراداہ نہیں تھا اور نہ ہے،بھارت کی جانب سے‌ ڈرون حملوں کے الزام پر وزیر خارجہ کا ردعمل

    کبھی کوئی جارحانہ اراداہ نہیں تھا اور نہ ہے،بھارت کی جانب سے‌ ڈرون حملوں کے الزام پر وزیر خارجہ کا ردعمل

    کبھی کوئی جارحانہ اراداہ نہیں تھا اور نہ ہے،بھارت کی جانب سے‌ ڈرون حملوں کے الزام پر وزیر خارجہ کا ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا کے سامنے پاکستان کی سوچ اوربھارت کی سوچ واضح ہوگئی،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مصالحانہ کردار سے واضح ہو گیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، ہم بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، بھارت نے خیر سگالی کا جواب 5اگست 2019 کے غیر آئینی اقدامات سے دیا، بھارت کی طرف سے یکطرفہ، غیر آئینی اقدامات سے کشیدگی نے جنم لیا،مقبوضہ کشمیر میں بگڑی ہوئی صورتحال کی ذمہ دار بھارت سرکار ہے،کشمیری قیادت جو ماضی میں دلی سرکار کا حصہ رہی وہ بھی ان اقدامات سے ناخوش ہے، بھارتی حکومت کی گزشتہ دنوں بلائی گئی بیٹھک ناکامی سے دوچار ہوئی،مقبوضہ کشمیر سے متعلق سفارتی محاذ پر ہماراموقف آج بھی واضح ہے،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے آصف زرادی کا بیان میری نظر سے گزرا،افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں، ہم نے افغان فریقین کی معاونت کی، صدر بائیڈن بھی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ افغانوں نے حل کرنا ہے، امریکہ ، چین ، روس یا دیگر علاقائی ممالک سب سہولت کاری کر سکتے ہیں اپنے تحفظ کے لیے ہمیں جو اقدامات اٹھانا پڑے ہم ضرور اٹھائیں گے،فیٹف کا تقاضا تھا کہ منی لانڈرنگ کو روکا جائے،وزیر اعظم عمران خان منی لانڈرنگ کا تدارک اور خاتمہ چاہتے ہیں،فیٹف تکنیکی فورم ہے سیاسی نہیں،بھارت اس کوسیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے کچھ اندرونی اوربیرونی قوتیں پاکستان کے امن میں خلل ڈالنا چاہتی ہیں،کچھ اندرونی اور بیرونی قوتیں چاہتی ہیں پاکستان کی توجہ بٹی رہے ،

    جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملوں کے بعد اسکا الزام بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے کے حوالہ سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کا پاکستان پر ڈرونز کا الزام بے بنیاد ہے ،اس وقت بھارت میں معاشی حالات بہت بگڑ چکے ہیں،پاکستان کا کبھی کوئی جارحانہ اراداہ نہیں تھا اور نہ ہے،

    واضح رہے کہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے جموں میں فضائیہ کے اڈے پر تین روز قبل حملہ ہوا تھا جسے ڈرون حملہ کہا گیا، واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں، بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی ٹیم نے جموں کے بھارتی فضائیہ کے اڈے کے دورہ کیا اور ہونے والے دو دھماکوں کی تحقیقات کیں، دھماکوں میں بھارتی فضاییہ کے دو جوان زخمی ہو گئے تھے جبکہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا تھا

    بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی کے ذرائع نے ابتدائی تحقیقات میں دعویٰ کیا ہے کہ دھماکہ خیز مادہ کو ڈرون سے گرایا گیا جس سے دھماکہ ہوا لیکن ابھی بھی سرکاری طور پر اسکی تصدیق نہیں ہو سکی، این آئی اے کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں جلد حقائق سامنے آ جائیں گے، پہلے دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچا اور دوسرا دھماکہ کھلے علاقے میں ہونے کی وجہ سے نقصان نہیں ہوا، البتہ بھارتی فضائیہ کے دو جوان زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    واقعہ کے بعد جموں میں ہائی سیکورٹی والے مقامات پر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی اور بھارتی سیکورٹی اداروں کو مزید چوکس کر دیا گیا،واقعہ کے بعد بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارتی فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر مارشل ایچ ایس اروڑہ سے بات کی ہے

    جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے دھماکوں کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ، فضائیہ اور دیگر ایجنسیاں حملے کی تحقیقات کررہی ہیں ۔ دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہے ۔ اس ڈرون حملے کے بعد پٹھان کوٹ ، امبالہ ، اونتی پور سمیت دیگر مقامات پر سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

  • وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کی تحقیقات بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہے

    بھارتی وزارت داخلہ نے اس ضمن میں این آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ بھارتی فضائیہ کے اڈے پر ہونے والے حملے کا از سر نو تحقیقات کا آغاز کیا جائے،اس سے قبل نیشنل سیکورٹی گارڈ اور این آئی اے مشترکہ طور پر تحقیقات کر رہی تھیں،دوسری جانب حملے کا مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے ، جائے وقوعہ سے ابتدائی شواہد اکٹھے کر فرانزک کے لئے بھجوا دیئے گئے ہیں

    بھارتی فضائیہ کے اڈے پر ہونیوالے حملے کی تحقیقات کرنیوالی بھارتی ایجنیسوں نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے اور کہا ہے کہ اس حملے میں آر ڈی ایکس استعمال ہوا ہے، اس حملے میں کشمیریوں کی عسکری تنظیم لشکر طیبہ یا پاکستان میں فعال عناصر ملوث ہو سکتے ہیں

    قبل ازیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ڈرون حملے کے بعد اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ، سیکرٹری داخلہ اجے بھلا، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈیول سمیت متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس مودی کی رہائشگاہ پر ہوا.اجلاس میں مودی کو ڈرون حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بریفنگ دی گئی،اجلاس میں ڈرون حملوں سے نمٹنے کے لئے جامع پالیسی کی تشکیل پر غور کیا گیا جبکہ بھارتی افواج کو اینٹی ڈرون سسٹم دینے پر بھی مشاورت کی گئی

    قبل ازیں جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ جن ڈرون سے بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملہ کیا گیا وہ بھارت کے اس پار سے آئے تھے، انہوں نے پاکستان کا نام لئے بغیر سرحد پار کہا اور کچھ اہم شواہد ملے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈرون سرحد پار سے آئے تھے، مزید تحقیقات این آئی اے کر رہی ہے اور اسکی ٹیم جموں میں ہے

    دوسری جانب باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی جی پی کشمیر وجے کمار کا کہنا ہے کہ ڈرون خطر ہ ایک تکنیکی خطرہ ہے اور اس کا جواب تکنیکی طور ہی دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہم نے ایک میٹنگ بھی کی اور ہم نے پوری تیاری بھی کی ہے جموں کشمیر میں سیکورٹی صورتحال کا از سر نو جائیزہ لیا گیا اور تمام ہوائی اڈوں کے علاوہ حساس تنصیبات کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے

    دوسری جانب بھارت نے جموں کشمیر میں فضائیہ کے اڈے پر حملے کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھا دیا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت نے کہا ہے کہ مسلح ڈرون استعمال کرنے کے خدشات پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا.باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق.بھارتی وزارت داخلہ امور کے خصوصی سکریٹری برائے داخلی سلامتی وی ایس کے کا کہنا تھا کہ کہ اب عسکریت پسند اپنے ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لئے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، عسکریت پسندوں کی مالی اعانت اور ہر روز نئے طریقے سے کاروائیوں کے بعد اب ڈرون کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے کم لاگت کا آپشن ہونے کی وجہ سے تیزی سے ڈرون کا استعمال بڑھ رہا ہے اور یہ ڈرون باآسانی دستیاب ہوتے ہیں،ڈرون پوری دنیا کے لئے چیلنج اور سیکورٹی ایجنیسوں کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں

    دوسری جانب پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دنکر گپتا کا کہنا تھا کہ کہ ریاست کی سرحدوں پر ڈرون کے خطرات سے نپٹنے کے لیے پولیس اور بارڈر سیکورٹی فورس کے مابین بہتر رابطے ضروری ہیں . باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سرحد پرباڑ لگانے سے سرحد پر سیکورٹی بہتر ہوئی تھی مگر اب ڈرون سے نیا خطرہ سامنے آ گیا ہے جو ہمارے اداروں کے لئے چیلنج ہے ، ڈرون سے نمٹنے کے لئے ملکر حکمت عملی اپنانی ہو گی

    پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دنکر گپتا کا مزید کہنا تھا کہ 2019 میں ڈرون کا استعمال ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لئے کیا گیا تھا اور یہ امرتسر میں ہوا تھا،اب جموں میں حملے کے بعد سیکورٹی تشویشناک میں اضافہ ہو گیا ہے،گزشتہ 20 ماہ میں 60 سے زیادہ ڈرون دیکھے گئے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈرون حملوں کو روکنے کے لئے ہمیں ایک ہونا ہو گا

    واضح رہے کہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے جموں میں فضائیہ کے اڈے پر تین روز قبل حملہ ہوا تھا جسے ڈرون حملہ کہا گیا، واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں، بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی ٹیم نے جموں کے بھارتی فضائیہ کے اڈے کے دورہ کیا اور ہونے والے دو دھماکوں کی تحقیقات کیں، دھماکوں میں بھارتی فضاییہ کے دو جوان زخمی ہو گئے تھے جبکہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا تھا

    بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی کے ذرائع نے ابتدائی تحقیقات میں دعویٰ کیا ہے کہ دھماکہ خیز مادہ کو ڈرون سے گرایا گیا جس سے دھماکہ ہوا لیکن ابھی بھی سرکاری طور پر اسکی تصدیق نہیں ہو سکی، این آئی اے کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں جلد حقائق سامنے آ جائیں گے، پہلے دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچا اور دوسرا دھماکہ کھلے علاقے میں ہونے کی وجہ سے نقصان نہیں ہوا، البتہ بھارتی فضائیہ کے دو جوان زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    واقعہ کے بعد جموں میں ہائی سیکورٹی والے مقامات پر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی اور بھارتی سیکورٹی اداروں کو مزید چوکس کر دیا گیا،واقعہ کے بعد بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارتی فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر مارشل ایچ ایس اروڑہ سے بات کی ہے

    جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے دھماکوں کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ، فضائیہ اور دیگر ایجنسیاں حملے کی تحقیقات کررہی ہیں ۔ دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہے ۔ اس ڈرون حملے کے بعد پٹھان کوٹ ، امبالہ ، اونتی پور سمیت دیگر مقامات پر سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

  • آرمی چیف سےچیئرمین یورپی یونین ملٹری کمیٹی کی جنرل قمرجاوید باجوہ کوویڈیوکال

    آرمی چیف سےچیئرمین یورپی یونین ملٹری کمیٹی کی جنرل قمرجاوید باجوہ کوویڈیوکال

    راولپنڈی:آرمی چیف سےچیئرمین یورپی یونین ملٹری کمیٹی کی جنرل قمرجاوید باجوہ کوویڈیوکال ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ سے آج ابھی تھوڑی دیر پہلے چیئرمین یورپی یونین ملٹری کمیٹی نے ویڈیوکال کے ذریعے رابطہ کیا ہے اوردوطرفہ معاملات پرگفتگو کی ہے

    آرمی چیف سےچیئرمین یورپی یونین ملٹری کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے یورپی یونین ملٹری کمیٹی کے چیئرمین نے باہمی دلچسپی کےامورپربھی گفتگوکی،آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران علاقائی سیکیورٹی صورتحال پربات چیت ہوئی

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے یورپی یونین ملٹری کمیٹی کے چیئرمین نے افغان امن عمل پر بھی گفتگو کی اورپاکستان کی امن کی کوششوں کی تعریف کی

    یورپی یونین کے ملٹری کمیٹی کے چیئرمین نے جنرل باجوہ سے گفتگو کرتے ہوئے یورپی یونین سےتعلقات کےفروغ پربھی زوردیا اور

    اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمرجاوید باوجوہ نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کےساتھ تعلقات کواہمیت دیتاہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یورپی یونین سےمشترکہ مفادپرمبنی تعلقات کافروغ چاہتاہے

    چیئرمین یورپی یونین ملٹری کمیٹی نےامن کیلئےپاکستان کےکردارکوسراہنے کے ساتھ ساتھ فغان امن عمل سےمتعلق پاکستانی کوششوں کی بھی تعریف کی

  • کتنا بھی دباؤہو پاک چین تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے:یک قلب یک جان:چین اورپاکستان:وزیراعظم کاچینی ٹی وی کوانٹریو

    کتنا بھی دباؤہو پاک چین تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے:یک قلب یک جان:چین اورپاکستان:وزیراعظم کاچینی ٹی وی کوانٹریو

    اسلام آباد:دنیا سن لے :کتنا بھی دباؤ ہو پاک چین تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے:یک قلب یک جان:چین اورپاکستان: وزیراعظم کی چینی ٹی وی کوانٹریو،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے کتنا بھی دباؤ ہو پاک چین تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے چینی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان سب کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے ہم جابندار کیوں بنیں، پاک چین تعلقات صرف حکومتی سطح پر نہیں عوامی سطح پر بھی ہیں۔

    وزیراعظم نے دنیا کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چین ہمارا فطری اتحادی ہے صرف اتحادی نہیں بلکہ دنیا کے لیے واضح پیغام ہے کہ چین اورپاکستان یک قلب یک جان ہے

    وزیراعظم نے دنیا کوباورکرایا کہ نہ تو وہ کسی سے ڈرنے والے ہیں اورنہ ہی جھکنے والے ، اپنے فیصلے خود کرتےہیں کسی کے محتاج نہیں‌

    وزیراعظم نے کہا کہ چین نے ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا، مغربی ممالک کا پاکستان پر دباؤ ڈالنا نامناسب ہے، کسی بھی دباؤ کے باوجود چین سے تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا نے چین کے خلاف علاقائی اتحاد قائم کیا ہے، امریکی اتحاد میں بھارت اور دیگر ممالک شامل ہیں، امریکا کا پاکستان جیسے ممالک کو جانبدار ہونے پر مجبور کرنا زیادتی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ نامناسب رویہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کو جانبدار ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے، امریکا اور یورپی ممالک کا جانبدار ہونے کے لیے دباؤ ڈالنا غیرمناسب ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم نے ویکسین فراہمی میں چین کی پاکستان کو جاری مدد اور ویکسین کی تیاری کے عمل میں سہولت فراہم کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین کاتعاون کورونا کےمقابلہ کےلیےپاکستان کی کوششوں کومزیدتیزکرےگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام ممالک کےساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن مغربی طاقتوں کا پاکستان پر کسی ایک اتحاد کو چننے کیلئے دباؤ ڈالنا ٹھیک نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تجارت کے ذریعے چین کیساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) پاکستان کا معاشی مستقبل ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں تعلقات کی مضبوطی کےلیےاجتماعی اور انتھک کوشش کی گئی، دونوں ملکوں نےتعلقات آل ویدراسٹریٹجک کوآپریٹوپارٹنرشپ میں تبدیل کردیے۔

  • قومی اسمبلی: فنانس بل 2021-22(بجٹ) کثرت رائے سے منظور :ن لیگ نے مخالفت جبکہ شین لیگ نے حمایت کی

    قومی اسمبلی: فنانس بل 2021-22(بجٹ) کثرت رائے سے منظور :ن لیگ نے مخالفت جبکہ شین لیگ نے حمایت کی

    اسلام آباد: قومی اسمبلی: فنانس بل 2021-22(بجٹ) کثرت رائے سے منظور :ن لیگ نے مخالفت جبکہ شین لیگ نے حمایت کی ،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی نے فنانس بل2021-22کی کثرت رائے سے منظور ی دیدی ہے ۔

    قومی اسمبلی میں فنانس بل 2021-22ء ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا گیا ہے، تحریک کے حق میں 172 جبکہ مخالفت میں 138 ووٹ آئے ۔ وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب کیلئےایک روڈ میپ دیا، جو اہداف رکھے انہیں پورا کر کے دکھائیں گے، باتیں کرنے والوں میں سے نہیں، کوئی ان ڈائریکٹ ٹیکس نہیں لگایا گیا، آنیوالے دنوں میں نچلی سطح پر خوشحالی آئے گی۔

    اس بل کی منظوری کی خاص وجہ ش لیگ کی طرف سے اس بل کی واضح حمایت تھی جبکہ ن لیگ نے اس بل کی مخالفت میں‌ووٹ دیا

    تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں شروع ہوا تاہم فنانس بل کی منظوری کے دوران سپیکر اسد قیصر ایوان میں پہنچے اور اپنی نشست سنبھال لی. فنانس بل کی منظوری کے دوران وزیر اعظم عمران خان بھی ایوان میں پہنچ گئے، جن کا حکومتی اراکین اسمبلی نے کھڑے ہو کر استقبال کیا ۔

    فنانس بل پیش کرنے کی تحریک کی اپوزیشن کی طرف سے مخالف نے وزیراعظم عمران خان کو ایوان میں آنے پر مجبور کر دیا ،اپوزیشن کے طرف سے سابق صدر آصف علی زرداری بھی تحریک پیش کرنے کی گنتی میں شامل ہوگئے۔

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس ترمیمی بل 2021 ایوان میں پیش کیا جس کی اپوزیشن کی جانب سے مخالفت کی گئی،ایوان نے فنانس بل پیش کرنے کی تحریک کی زبانی منظوری لی، جسے نواب تالپور نے چیلنج کردیا جس کےبعدسپیکر نے گنتی کرنے کی ہدایت کردی.ایوان میں گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نے بل شق وار پیش کیا جبکہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام ترامیم کو وزیر خزانہ نے مسترد کر دیا۔

    فنانس بل پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 172 ووٹ جبکہ مخالفت میں 138 ووٹ آئے۔ حکومت نے مالی سال 22-2021 کیلئے8 ہزار 487 ارب روپے رکھے ہیں،ترقیاتی بجٹ 2 ہزار 102 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جس میں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم900 ارب اور صوبوں کیلئےایک ہزار 202 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں.

    اسی طرح دفاع کیلئے 1373 ارب ، سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 60 ارب، تنخواہوں اور پنشن کیلئے 160 ارب، صوبوں کو این ایف سی کے تحت ایک ہزار186 ارب، صحت کیلئے 30 ارب اور ہائیرایجوکیشن کیلئے 44 ارب مختص کیے ہیں، آزاد کشمیرکا بجٹ 54 ارب سے بڑھا کر60 ارب کردیا گیا جبکہ گلگت بلتستان کا بجٹ32 ار ب سے بڑھاکر47 ارب کرنے کی تجویز ہے.

    ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے 54 ارب روپے, جنوبی بلوچستان کی ترقی کیلئے 20 ارب,گلگت بلتستان کے منصوبوں کیلئے 40 ارب روپے اور سندھ کے 14 اضلاع کیلئے 19 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ امن عامہ کیلئے 178 ارب، ماحولیاتی تحفظ کیلئے 43 کروڑروپے، صحت کیلئے 28 ارب، تفریح ،ثقافت اور مذہبی امورکیلئے 10 ارب مختص کیے ہیں۔ آئندہ مالی سال حکومت ایک ہزار 246 ارب روپے غیرملکی قرض لے گی، اندرون ملک سے 2 ہزار492 ارب روپے قرض لیا جائے گا.

    جے یوآئی کی رکن شاہد اختر کا کہنا تھا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے عوام کی چمڑی ادھیڑی جا رہی ہے، سرکاری ملازمین کے الاؤنسز پر ٹیکس عائد کرنا ظلم ہے، عوام سے 2021 تک بجلی بلوں میں نیلم جہلم سرچارج وصول کیا گیا۔

    خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اب تک 3 وزیر خزانہ تبدیل ہوئے، حکومت نے دعویٰ کیا کہ ٹیکس فری بجٹ ہوگا، حکومت نے 1200 ارب روپے کے ٹیکس لگائے، ملک میں تعلیمی اداروں کو فروغ نہیں دیا گیا، ہیلتھ کارڈ بانٹنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہیلتھ کارڈ بانٹنے کا بڑا اسکینڈل آئے گا، 32 سال سے پارلیمنٹ کو دیکھا ہے، کبھی گالی نہیں سنی، اب مارشل لا کا دور نہیں، دنیا تیزی کے ساتھ آگے جا رہی ہے۔

    پی پی رہنما نے کہا کہ ملک میں غربت انتہا کو پہنچ گئی، غریب کو کچل دیا گیا ہے، زراعت کو آپ نے کیا دیا، کیوں زراعت میں اضافہ نہیں ہوتا ؟ پاکستان زرعی ملک ہے، اس کا کیا حشر کر دیا، ہماری زمین کم ہوتی جا رہی جبکہ آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، سندھ میں 20 لاکھ والا دل کا آپریشن مفت کیا جاتا ہے، جگرکی بیماری کا بھی علاج مفت ہے، سندھ میں مریضوں سے یہ نہیں پوچھا جاتا تم کہاں سے آئے ہو

    تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے قاسم نون نے نے بل میں ترمیم پیش کی جس پر وزیر خزانہ نے مشورہ دیا کہ ترمیم واپس لے لیں، انکے انکار پر فواد چوہدری اور عامر ڈوگر انکے پاس سمجھانے گئے ،جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا ،اپوزیشن کے احتجاج پرسپیکر نے انہیں ترمیم دوبارہ پیش کرنے کا کہا، قاسم نون نے ترمیم دوبارہ پیش کی اور ووٹنگ پر ترمیم منظور کر لی گئی۔ ایوان میں ووٹنگ پر اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئی۔

  • پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کا سندھ اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان:گورنرراج کا امکان

    پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کا سندھ اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان:گورنرراج کا امکان

    کراچی: پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کا سندھ اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان:گورنرراج کا امکان ،اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے سندھ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

    اسمبلی کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ایوان کا رکن بن کراپنے حلقے کی کوئی خدمت نہیں کر سکا، مجھے اسمبلی میں میرا کردار ادا نہیں کرنے دیا جا رہا۔ اس لئے آج احتجاجاً صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 101 کی سیٹ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ یہ اسمبلی آج سے غیر جمہوری ہو گئی ہے، آج ہمارے 5 ایم پی ایز کو اسمبلی کے اندر نہیں جانے دیا گیا۔ ایوان میں اپوزیشن کو کردار ادا نہیں کرنے دیا جا رہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر سڑکوں پر ہی احتجاج کرنا ہے تو پھر ایوان کی رکنیت نہیں چاہیے، میں کل تحریری طور پر سپیکر اسمبلی کو اپنا استعفیٰ پیش کروں گا۔

    یاد رہے کہ اسپیکرسندھ اسمبلی کی طرف سے پی ٹی آئی ممبران کو سندھ اسمبلی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے اوروہ کل سے اسمبلی سے باہراحتئاج کررہےہیں‌

    دوسری طرف اہم حلقوں میں‌ ی خبرگردش کررہی ہے کہ ایم کیو ایم اورپی ٹی آئی حلقوں میں اس وقت وزیراعظم سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس بہتر ہے کہ جس اسمبلی میں ممبراسمبلی کوجانے کی اجازت نہیں اس اسمبلی کا رہنے کا کوئی فائدہ نہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی ، ایم کیوایم اوردیگراتحادی جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے گورنرراج لگانے کا مطالبہ کیا ہے