Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • معرکۂ حق میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی برتری نمایاں،  رپورٹ جاری

    معرکۂ حق میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی برتری نمایاں، رپورٹ جاری

    معرکۂ حق میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی برتری نمایاں، برطانوی ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن فرم کی شواہد پر مبنی رپورٹ جاری کر دی گئی

    برطانوی اسٹریٹجک ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن فرم کی رپورٹ کے مطابق معرکہ حق میں پاکستان کی عسکری برتری نمایاں رہی جس میں متعدد بھارتی طیارے بشمول رافیل تباہ ہوئے امریکی اور فرانسیسی انٹیلیجنس حکام نے بھی معرکہ حق میں بھارت کے بھاری نقصانات کی توثیق کی ، بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور دفاعی اتاشی بھی معرکہ حق میں اپنےبھاری نقصانات کا برملا اعتراف کر چکے ہیں، معرکہ حق میں فتح کے بعد امریکہ سمیت دیگر ممالک کیساتھ بہترین اور مضبوط سفارتی تعلقات قائم کرنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار سامنے آیا،معرکہ حق میں پاکستان کی واضح عسکری برتری نے فضائیہ سمیت دیگرشعبوں میں بھارت کی دفاعی کمزوریوں کو عیاں کر دیا، پاکستان کی مؤثر دفاعی حکمت عملی کے باعث آپریشن سندور میں بھارت کے حملے پاکستانی تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہے، پاکستان کی معرکہ حق میں کامیابی جدید جنگی نظام اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کامظہر ہے،

    معرکہ حق کے دوران پاکستان کے مضبوط ایئر ڈیفنس سسٹم کی بدولت بھارتی ڈرونز مؤثر ثابت نہیں ہو سکے، سیٹلائٹ تصاویر اور شواہد اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان کے کسی جنگی طیارے کا نقصان نہیں ہوا، معرکہ حق میں پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود بھارت پر واضح عسکری برتری حاصل کر کے کامیابی حاصل کی، پاکستان کےلڑاکا طیارہ جے 10 سی کی قیمت 40 سے 55 ملین ڈالر جبکہ بھارتی رافیل کی قیمت 115 سے 140 ملین ڈالر ہے ، معرکہ حق میں پاکستان کے نقصانات کی شرح انتہائی کم جبکہ بھارت کو تقریباً 45 سے51 بلین ڈالر کا نقصان برداشت کر نا پڑا، معرکہ حق کے بعد یورپی یونین سمیت بڑے عالمی اداروں سے تعلقات نے پاکستان کے عالمی وقار اور سفارتی ساکھ میں بے پناہ اضافہ کیا، معرکہ حق کے بعد سفارتی کامیابیوں کے تسلسل میں پاکستان کی امریکہ اور ایران امن معاہدہ کی تکمیل کوعالمی سطح پر سراہا گیا،

  • پاک بحریہ کے شہید افسرکی باہمت اہلیہ نے پاکستان نیوی میں بطورآفیسر  کمیشن حاصل کرلیا

    پاک بحریہ کے شہید افسرکی باہمت اہلیہ نے پاکستان نیوی میں بطورآفیسر کمیشن حاصل کرلیا

    کراچی: پاک بحریہ کے شہید افسر لیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد شہید کی باہمت اہلیہ الویرا حمزہ نے پاکستان نیوی میں بطور آفیسر کمیشن حاصل کر کے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کی نئی مثال قائم کر دی۔

    الویرا حمزہ نے پاکستان نیول اکیڈمی سے کامیابی کے ساتھ تربیت مکمل کرنے کے بعد پاک بحریہ کے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) میں بطور آفیسر شمولیت اختیار کی۔ شاندار کارکردگی پر انہیں کمانڈنٹ گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔اس موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے الویرا حمزہ نے کہا کہ ان کے شوہر کی شہادت نے ان کے اندر بھی پاکستان نیوی میں شامل ہو کر ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان احساسات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، جبکہ پاکستان نیول اکیڈمی میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کا یادگار اور قابلِ فخر دور رہا۔الویرا حمزہ کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ میں بطور آفیسر خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور وہ پوری لگن کے ساتھ وطن کے دفاع میں اپنا کردار ادا کریں گی۔

    دفاعی حلقوں کے مطابق الویرا حمزہ کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے عزم اور استقامت کا مظہر ہے بلکہ پاکستان کی خواتین کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے کہ وہ ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں اور قومی خدمت میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

  • کراچی رینجرز کیمپ حملے میں پکڑے گئے افغان دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات

    کراچی رینجرز کیمپ حملے میں پکڑے گئے افغان دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات

    کراچی میں ہفتے کو پاکستان رینجرز کیمپ پر بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے پس پردہ افغان طالبان رجیم کے شواہد سامنے آ گئے ، حملے میں گرفتار ہونے والے افغان دہشتگرد نے تفتیش کے دوران انتہائی ہوشربا اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

    حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے دہشتگرد نے اپنا نام عثمان علی بتایا اورکہا کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے آیا،میرے ساتھ 3اور ساتھی بھی تھے جن کانام عبدالہادی ، جانان اور عمر فاروق تھا حملے میں ملوث دیگر تین دہشتگرد عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق اس کے قریبی ساتھی تھے، جن میں سے اس کے ساتھ آنے والے دہشتگرد جانان نے رینجرز کیمپ پر بم پھینکا تھا اور عبدالہادی موقع پر ہی مارا جا چکا تھا، سب لوگ اس کارروائی سے ٹھیک 7 دن پہلے پاکستان داخل ہوئے تھے۔

    عثمان کے مطابق مارا جانے والا عبدالہادی اصل میں باجوڑ کا رہائشی تھا، اور پاکستان پہنچنے کے بعد ان سب کو ایک زیرِ تعمیر عمارت میں چھپا کر رکھا گیا تھا، جبکہ حملے میں استعمال ہونے والا سارا اسلحہ اور بارود عبدالہادی خود وزیرستان سے لے کر آیا تھا،دوسری طرف جانے کیلئے جب میں بھاگ رہاتھا تو مجھے گولی لگی اور میں وہیں گرگیا میراتعلق جماعت الاحرار سے ہے جس کے افغانستان میں کمانڈر کا نام احرار مولوی ہے،ہم سب کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی،مجھے صرف جیکٹ دی گئی تھی خودکش ہم خود تیارکرلیتے ہیں، افغا نستان میں خود کش جیکٹ اور دیگر ٹریننگ عمر قاری نے دی تھی ،کراچی آنے سے پہلے ہمارے لیےافغانستان سے سب انتظامات ہو گئے تھے،عبدالہادی یہاں سب جانتا تھا،پہلے بھی یہاں آیا تھا۔

    واضح رہے کہ ہفتے کی رات کراچی کے علاقے صفورہ میں یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چورنگی کے قریب واقع پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر جماعت الاحرار کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا۔ دہشتگردوں نے دھماکہ کر کے کیمپ کے اندر گھسنے کی کوشش کی، لیکن وہاں تعینات رینجرز کے جوانوں نے بنا وقت ضائع کیے انتہائی پھرتی سے جوابی کارروائی کر کے ان کا یہ ارادہ مٹی میں ملا دیا،اس شدید مقابلے میں وطنِ عزیز کے تین رینجرز اہلکار شہید اور چار جوان زخمی ہوئے، جبکہ تین حملہ آور مارے گئے اور عثمان کو زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔

    کراچی حملے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر ایک بڑا اور کامیاب انٹیلی جینس آپریشن کیا، جس میں فتنہ الخوارج کے 29 کارندے مارے گئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس جوابی کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ کے علاقے میں 28 جون کو آپریشن کیا، جس میں دہشتگردوں کا بڑا خارجی کمانڈر خان فروش عرف زابل اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا، پاکستانی فورسز نے سرحد پار افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں بھی آپریشن کیا، جہاں مزید 25 دہشتگرد مارے گئے اور ان کے ٹھکانوں میں چھپایا گیا بھاری اسلحہ و گولہ بارود پوری طرح تباہ کر دیا گیا ان تمام دہشتگردوں کا تعلق اسی جماعت الاحرار سے تھا جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی تھی۔

  • آپریشن غضب للحق  کے تحت کارروائیاں:جماعت الاحرار کے اہم کمانڈر سمیت 29 دہشتگرد ہلاک

    آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں:جماعت الاحرار کے اہم کمانڈر سمیت 29 دہشتگرد ہلاک

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد پاک افغان سرحد کے ساتھ بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 29 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پاکستان رینجرز (سندھ) کے کراچی کیمپ پر حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے ساتھ انٹیلی جنس کی بنیاد پر منظم زمینی آپریشن کیا، جس کے بعد سرحدی علاقے میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 29 خوارج ہلاک ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 28 جون 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد کے قریب دہشتگردوں کے ایک گروہ کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی، مؤثر اور پیشہ ورانہ کارروائی کے نتیجے میں انتہائی مطلوب کمانڈر خان فروش عرف زبال، جو بھارتی حمایت یافتہ جماعت الاحرار سے تعلق رکھتا تھا، اپنے 3 ساتھیوں سمیت مارا گیا، جبکہ متعدد دیگر دہشتگرد زخمی ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ’غضب للحق‘ کے تسلسل میں مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر 28 اور 29 جون کی درمیانی شب پاک افغان سرحدی علاقے میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو بھی انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں قائم دہشتگردوں کے 3 مراکز کو کامیاب کارروائیوں میں تباہ کر دیا گیا، جہاں 25 دہشتگرد مارے گئے، ان مراکز میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کوششیں کی ہیں، تاہم ملک اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، کیونکہ عوام کی سلامتی ریاست کی اولین ترجیح ہے، وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشتگردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی، تاکہ بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

  • کراچی ،فتنۃ الخوارج کا گلشنِ اقبال میں حملہ،جوابی کاروائی میں 5 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،فتنۃ الخوارج کا گلشنِ اقبال میں حملہ،جوابی کاروائی میں 5 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی کے علاقے گلستان جوہر بلاک 6 کے قریب فائرنگ اور دھماکے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    کراچی: فتنہ الخوارج (افغان) دہشت گردوں نے گلشنِ اقبال کے قریب رینجرز کی ایک تنصیب پر گاڑی میں نصب بارودی مواد کے ذریعے حملہ کیا۔گیٹ پر تعینات الرٹ اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو مؤثر انداز میں روک لیا۔ کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق گلستان جوہر کے علاقے موسمیات چورنگی کے قریب 8 بجے کشور ہائٹس کے ساتھ واقع رینجرز ہیڈکوارٹر، گلستانِ جوہر بلاک 6، بالمقابل سنڈے بازار گراؤنڈ میں ایک دھماکہ ہو ادھماکے کی شدت کے باعث قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹنے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا اور فائرنگ رینجرز کے دفتر کے قریب ہوئی ہے پہلے دھماکا ہوا جس کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنی گئی اس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہوگئے اور پولیس سمیت متعلقہ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر روانہ کردی گئی، ٹی سی رینجرز ہیڈ کوارٹر کے مرکزی دروازے پر دستی بم حملہ کیا گیا ہے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا ہے واقعے کی نوعیت جاننے کے لیے ادارے تحقیقات کررہے ہیں۔

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فوری طور پر آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رابطہ کیا ور صورتحال سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں ،وزیرا علیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی مکمل رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

    پولیس کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر موسمیات چورنگی سے گلستان جوہر بلاک 6 اور کامران چورنگی جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موسمیات سے اقبال چمن کالونی جانے والے راستے پر بھی آمدورفت معطل کردی گئی ہے، جبکہ شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • پاکستان نیول اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ، وزیراعظم نے نمایاں کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کیے

    پاکستان نیول اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ، وزیراعظم نے نمایاں کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کیے

    پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں 125ویں مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مڈشپ مین اور آفیسر کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کیے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی اکیڈمی آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد وزیراعظم نے پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کیا اور سلامی لی،تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، گورنر سندھ اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی،اس سال پاس آؤٹ ہونے والے افسران میں پاکستان کے علاوہ برادر اور دوست ممالک بحرین، عراق اور جبوتی کے مڈشپ مین بھی شامل تھے، جو پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ تربیت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہیں،تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کورسز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس اور مڈشپ مین میں مختلف اعزازات تقسیم کیے۔

    مڈشپ مین عمر مختار کو بہترین مجموعی کارکردگی پر اعزازی شمشیر (Sword of Honour) سے نوازا گیا، جبکہ مڈشپ مین ہادی عباس خان نے اکیڈمی ڈرک کا اعزاز اپنے نام کیا،اسی طرح آفیسر کیڈٹ الویرہ حمزہ کو کمانڈنٹ گولڈ میڈل جبکہ آفیسر کیڈٹ حافظ محمد احمد منور کو چیف آف ڈیفنس فورسز گولڈ میڈل سے نوازا گیا،تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نے نو منتخب افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ملکی بحری دفاع میں ان کے کردار کو اہم قرار دیا

  • معرکہ حق، بھارتی فوجی ہلاکتوں کا اعتراف ، پاکستانی مؤقف کی سچائی پر سرکاری مہر ثبت

    معرکہ حق، بھارتی فوجی ہلاکتوں کا اعتراف ، پاکستانی مؤقف کی سچائی پر سرکاری مہر ثبت

    بھارت کا سرکاری سطح پر اعتراف شکست، آپریشن سندور میں فوجی ہلاکتیں تسلیم کر لیں

    بھارتی حکومت نے آپریشن سندور میں مارے گئے چھ اہلکاروں کے نام سرکاری طور پر ظاہر کر دیے ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق فوجی ہلاکتیں کے اعتراف نے پاکستانی مؤقف کی سچائی پر سرکاری مہر ثبت کر دی ۔ بھارتی حکومت نے چھ اہلکاروں کے نام نیشنل وار میموریل کے رول آف آنر میں شامل کر دیے ۔ بھارتی حکومت سیاسی مفادات کی خاطر اپنے ہی فوجیوں کی قربانی کو چھپاتی رہی ۔ فوجیوں کے ورثا کے مسلسل دباؤ اور احتجاج کے بعد حکومت ان ناموں کو ظاہر کرنے پر مجبور ہوئی ۔ تسلیم شدہ ہلاکتوں میں صوبیدار میجر پون کمار، رائفل مین سنیل کمار ، لانس نائک دنیش کمار، ایوی ایشن ٹیکنیشن مود مرلی نائیک ، حوالدار سنیل کمار سنگھ، اور سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں- بھارتی اعترافات سے پاکستان کے اس مؤقف کو مزید تقویت ملی ہے کہ آپریشن سندور میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔ بھارت کی جانب سے نقصانات مرحلہ وار سامنے لائے جا رہے ہیں ۔ پاکستان نے ۱۰ انفنٹری بریگیڈ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ صوبیدار میجر پون کمار کا تعلق اسی بریگیڈ ہیڈکوارٹر سے ہے ۔ پاکستان نے ادھم پور میں ایس ۴۰۰ میزائل شکن سسٹم کی بیٹری بھی تباہ کی تھی۔ سارجنٹ سریندر کمار ادھم پور میں ہلاک ہوا اور انہیں وایو میڈل سے نوازا گیا ۔ بھارت نے اپنی عوام کو دھوکا دینے ایس ۴۰۰ کی بیٹری کی تباہی کی تردید کی تھی۔ سیٹیلائٹ اور بھارت کے ریکارڈز اب تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ اہم فارورڈ بیس مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا۔ بین الاقوامی میڈیا نے تصدیق کی کہ پاکستان نے بھارت کے رافیل ، میراج 2000 اور متعدد دوسرے طیاروں کو مار گرایا.

  • خطے میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں جس کے دور رس اثرات ہوں گے، وزیراعظم

    خطے میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں جس کے دور رس اثرات ہوں گے، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ برادرانہ تعلقات ہیں اور یہ پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف تھا۔

    کراچی میں پاک بحریہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاس ہونے والے کیڈٹس کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دوست ممالک کے کیڈٹس کو دیکھ کر خوشی ہوئی، معرکہ حق میں نیوی کا کردار شاندار رہا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے، پاکستان کی مخلصانہ کوششوں سے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے، اسلام آباد اکارڈ پر دستخط پاکستان کے لیے باعث اعزاز ہے، امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت میں دوسمت ممالک کا تعاون قابل قدر رہا جب کہ قیام امن کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر نےشب و روز انتھک محنت کی، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ برادرانہ تعلقات ہیں یہ پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف تھا، خطے میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں جس کے دور رس اثرات ہوں گے، ہمارے مشرقی ہمسائے نے شکست کے بعد پراکسیز کا استعمال شروع کردیا ہے، پاکستان بیرون سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا سامنا کررہا ہے، افواج پاکستان دہشتگردی کو مکمل ناکام بنانےاور اس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان دنیا میں امن کے علمبردار کے طور پر پہنچانا جاتا ہے، پاکستان کشمیر اور فلسطین میں کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا

  • خاران اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 8 دہشتگرد ہلاک

    خاران اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 8 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 8 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 25 اور 26 جون کو فتنہ الہندوستان کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا،آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے خاران میں دہشتگردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا، فورسز کی بروقت اور مؤثرکارروائی میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے 3دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے،اس کے علاوہ 26جون کومستونگ میں ممکنہ خودکش حملہ آور کی موجودگی کی اطلاع پر قبل ازوقت انٹیلی جنس آپریشن کیا گیا جس میں فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 5 دہشتگرد ہلاک ہوگئے جن میں ایک خودکش حملہ آور بھی شامل تھا۔

  • بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، اسلحہ سے بھری گاڑی تباہ، 4 دہشتگرد ہلاک

    بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، اسلحہ سے بھری گاڑی تباہ، 4 دہشتگرد ہلاک

    بنوں: سیکیورٹی فورسز نے ضلع بنوں کے علاقے سردی خیل میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے بھاری اسلحہ اور گولہ بارود سے لدی ایک مشکوک گاڑی کو تباہ کر دیا، جبکہ کارروائی کے دوران چار مبینہ دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 26 جون 2026 کو فورسز کو مصدقہ خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ سردی خیل کے علاقے میں ایک مشکوک گاڑی بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود لے کر نقل و حرکت کر رہی ہے۔ اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کا تعاقب شروع کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سیکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو اس میں سوار مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں فورسز نے مؤثر کارروائی کی۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران گاڑی میں موجود بھاری اسلحہ، جس میں 12.7 ملی میٹر گن، آر پی جی راکٹ اور 75 ملی میٹر مارٹر گولے شامل تھے، زور دار دھماکے سے پھٹ گئے، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ذرائع کے مطابق دھماکے اور جوابی کارروائی کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار مبینہ دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ علاقے میں ممکنہ طور پر فرار ہونے والے دیگر مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی کا عمل مزید تیز کر دیا ہے۔