Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مون سون کی پیشگی تیاری مکمل کی جائے، وزیراعظم کی اجلاس میں خصوصی ہدایت

    مون سون کی پیشگی تیاری مکمل کی جائے، وزیراعظم کی اجلاس میں خصوصی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی پیشگی تیاریوں اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے موسمی تغیرات سے درپیش خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور جامع تعاون ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کریں اور مون سون سے قبل تمام پیشگی انتظامات کو ہر صورت مکمل بنایا جائے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وزیر منصوبہ بندی و ترقی کی نگرانی میں ایک ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ وفاقی وزارتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی صوبائی اداروں کے ساتھ عملی تعاون کو یقینی بنائے گی اور ہر ہفتے اپنی پیش رفت کا جائزہ لے گی۔

    وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ مون سون کے دوران ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی فنڈ کی تشکیل کی پیشگی تیاری مکمل کی جائے، جبکہ غیر ملکی مالی معاونت سے جاری منصوبوں کو متعلقہ اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت نے بجٹ میں آبی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے 330 ارب روپے کی اضافی رقم مختص کی ہے تاکہ سیلابی خطرات میں کمی اور پانی کے بہتر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعظم نے زور دیا کہ مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے بچاؤ کے لیے تمام اقدامات ایک جامع روڈ میپ کے تحت کیے جائیں، جبکہ تمام صوبے دریاؤں کی گزرگاہوں، سیلابی راستوں میں تجاوزات اور دیگر رکاوٹوں کا بروقت اور مؤثر حل یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے اپنی مکمل ادارہ جاتی اور تکنیکی صلاحیتیں عوام کے تحفظ اور سہولت کے لیے بروئے کار لائیں۔

    اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو مون سون کی پیشگی تیاریوں، ممکنہ سیلابی صورتحال اور موسمیاتی تغیرات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں رواں سال شدید گرمی کی لہروں اور غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں کے واضح امکانات موجود ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی جولائی کے دوران شدید گرمی اور معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ مجوزہ مون سون حکمت عملی کے تحت تمام ضروری انتظامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔

  • افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کیخلاف کارروائی سے متعلق بھارتی بیان مسترد

    افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کیخلاف کارروائی سے متعلق بھارتی بیان مسترد

    پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کیخلاف کارروائی سے متعلق بھارتی بیان مسترد کردیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزارت خارجہ کا بیان بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کیخلاف جائز کارروائیوں پر بھارتی بیان مسترد کرتے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارت خطے میں عدم استحکام اور ہمسایہ ممالک میں مداخلت کی تاریخ رکھتا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں عوام کے حق خودارادیت کو مسلسل دبا رہا ہے، بھارت افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی میں ملوث ہے۔پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ و سلامتی کیلئے اقدامات جاری رکھے گا۔دہشتگردوں کے ٹھکانوں کیخلاف کارروائیوں پر بھارتی بیان مسترد کرتے ہیں، خطے میں مداخلت اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی سرپرستی خود بھارت کا پرانا وطیرہ ہے۔

  • آپریشن سندور پر مودی حکومت کی غلط بیانی بے نقاب، اپوزیشن اور سابق فوجی قیادت کا شدید غصہ

    آپریشن سندور پر مودی حکومت کی غلط بیانی بے نقاب، اپوزیشن اور سابق فوجی قیادت کا شدید غصہ

    آپریشن سندور پر مودی حکومت کی غلط بیانی بے نقاب، اپوزیشن اور سابق فوجی قیادت کا شدید غصہ سامنے آیا ہے

    بھارتی جریدہ دی ہندو کے مطابق؛بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کے سچ کو 13 مہینے تک چھپا کر فوجی جوانوں کی قربانی کا مذاق اڑا دیا،کانگریس رہنما سپریا شرینیت کا کہنا ہے کہ؛راجناتھ سنگھ جوانوں کی ہلاکت پر جھوٹ بول کر ان کی قربانیوں کا سرعام مذاق اڑانے والا بزدل نکلا،ریٹائرڈ ونگ کمانڈر انوما آچاریہ نے مودی حکومت کو سیاسی مفاد کیلئے اپنے فوجیوں کو دھوکہ دینے والی بدترین حکومت قرار دیا، سابق بھارتی فوجی افسر کرنل روہت چوہدری کے مطابق؛مودی کی ہندوتوا پارٹی صرف الیکشن جیتنے کے لیے فوج کے نام پر سیاست چمکانے کا دھندا کرتی ہے،بھارتی اپوزیشن نے جھوٹ پر قائم مودی حکومت سے فوری اقتدار چھوڑتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا، معروف صحافی سوجیت نائر نے انکشاف کیا؛مودی حکومت کے لیے فوجی جوانوں کی جانیں صرف اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے.

  • 
بڑھتی آبادی قومی ترقی کے لیے بڑا چیلنج، نیشنل پاپولیشن کونسل جلد فعال کی جائے گی: وزیراعظم

    
بڑھتی آبادی قومی ترقی کے لیے بڑا چیلنج، نیشنل پاپولیشن کونسل جلد فعال کی جائے گی: وزیراعظم

    ‎وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں بہبود آبادی اور آبادی میں توازن سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، دستیاب وسائل پر اس کے اثرات اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
    ‎اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وسائل اور آبادی کے درمیان متوازن تناسب ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آبادی کی تیز رفتار بڑھوتری قومی وسائل پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہے، جس کے باعث معاشی ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کی مؤثر منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    ‎وزیراعظم نے ہدایت جاری کی کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور قومی سطح پر آبادی سے متعلق مؤثر پالیسی سازی کے لیے کونسل کا مکمل تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود نیشنل پاپولیشن کونسل کی سربراہی کریں گے۔
    ‎اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے قومی سطح پر مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
    ‎بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حکومت سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں کو خاندانی منصوبہ بندی سے منسلک کرے گی، جبکہ خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کو آبادی میں توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا جائے گا۔ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ملک گیر آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ ذمہ دارانہ خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ میں مدد مل سکے۔
    ‎اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران سمیت کئی اسلامی ممالک آبادی پر قابو پانے کے مؤثر پروگراموں کے ذریعے مثبت نتائج حاصل کر چکے ہیں، جن کے تجربات سے پاکستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ نیشنل پاپولیشن کونسل صوبائی حکومتوں کے تعاون سے قومی سطح پر مربوط اقدامات کو یقینی بنائے گی، جبکہ اس کا سیکریٹریٹ وزارت منصوبہ بندی میں قائم کیا جائے گا۔
    ‎اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

  • 
سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچانے کی قیمت خطے کو چکانا پڑے گی، اسحاق ڈار

    
سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچانے کی قیمت خطے کو چکانا پڑے گی، اسحاق ڈار

    ‎اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سرحد پار بہنے والے دریاؤں سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور کرنے یا سبوتاژ کرنے کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات صرف دو ممالک کے درمیان تنازع تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی قوانین، ریاستوں کے درمیان اعتماد، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔
    ‎اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ 25 کروڑ سے زائد شہریوں کی زندگی، زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار اور قومی معیشت سے براہ راست وابستہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کرے گا اور کسی بھی غیرقانونی اقدام کو قبول نہیں کرے گا۔
    ‎وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑنے، اس کی فراہمی روکنے یا آبی حقوق کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام پر دور رس اور سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے تمام تصفیہ طلب معاملات کو مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حل کرنے کی راہ اپنائے۔
    ‎اسحاق ڈار نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ریاستوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے، ممالک کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتی ہے اور اس عالمی نظام کو متاثر کرتی ہے جو قانون کی حکمرانی اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، تعاون اور خوشگوار ہمسایہ تعلقات کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
    ‎سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض، انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم، سابق وفاقی وزیر قانون احمد بلال صوفی، انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ سمیت ملکی و غیر ملکی آبی ماہرین اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے آبی وسائل کے مؤثر تحفظ، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے تنازعات کا حل صرف مذاکرات، اعتماد سازی اور عالمی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔

  • معرکۂ حق میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی برتری نمایاں،  رپورٹ جاری

    معرکۂ حق میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی برتری نمایاں، رپورٹ جاری

    معرکۂ حق میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی برتری نمایاں، برطانوی ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن فرم کی شواہد پر مبنی رپورٹ جاری کر دی گئی

    برطانوی اسٹریٹجک ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن فرم کی رپورٹ کے مطابق معرکہ حق میں پاکستان کی عسکری برتری نمایاں رہی جس میں متعدد بھارتی طیارے بشمول رافیل تباہ ہوئے امریکی اور فرانسیسی انٹیلیجنس حکام نے بھی معرکہ حق میں بھارت کے بھاری نقصانات کی توثیق کی ، بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور دفاعی اتاشی بھی معرکہ حق میں اپنےبھاری نقصانات کا برملا اعتراف کر چکے ہیں، معرکہ حق میں فتح کے بعد امریکہ سمیت دیگر ممالک کیساتھ بہترین اور مضبوط سفارتی تعلقات قائم کرنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار سامنے آیا،معرکہ حق میں پاکستان کی واضح عسکری برتری نے فضائیہ سمیت دیگرشعبوں میں بھارت کی دفاعی کمزوریوں کو عیاں کر دیا، پاکستان کی مؤثر دفاعی حکمت عملی کے باعث آپریشن سندور میں بھارت کے حملے پاکستانی تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہے، پاکستان کی معرکہ حق میں کامیابی جدید جنگی نظام اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کامظہر ہے،

    معرکہ حق کے دوران پاکستان کے مضبوط ایئر ڈیفنس سسٹم کی بدولت بھارتی ڈرونز مؤثر ثابت نہیں ہو سکے، سیٹلائٹ تصاویر اور شواہد اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان کے کسی جنگی طیارے کا نقصان نہیں ہوا، معرکہ حق میں پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود بھارت پر واضح عسکری برتری حاصل کر کے کامیابی حاصل کی، پاکستان کےلڑاکا طیارہ جے 10 سی کی قیمت 40 سے 55 ملین ڈالر جبکہ بھارتی رافیل کی قیمت 115 سے 140 ملین ڈالر ہے ، معرکہ حق میں پاکستان کے نقصانات کی شرح انتہائی کم جبکہ بھارت کو تقریباً 45 سے51 بلین ڈالر کا نقصان برداشت کر نا پڑا، معرکہ حق کے بعد یورپی یونین سمیت بڑے عالمی اداروں سے تعلقات نے پاکستان کے عالمی وقار اور سفارتی ساکھ میں بے پناہ اضافہ کیا، معرکہ حق کے بعد سفارتی کامیابیوں کے تسلسل میں پاکستان کی امریکہ اور ایران امن معاہدہ کی تکمیل کوعالمی سطح پر سراہا گیا،

  • پاک بحریہ کے شہید افسرکی باہمت اہلیہ نے پاکستان نیوی میں بطورآفیسر  کمیشن حاصل کرلیا

    پاک بحریہ کے شہید افسرکی باہمت اہلیہ نے پاکستان نیوی میں بطورآفیسر کمیشن حاصل کرلیا

    کراچی: پاک بحریہ کے شہید افسر لیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد شہید کی باہمت اہلیہ الویرا حمزہ نے پاکستان نیوی میں بطور آفیسر کمیشن حاصل کر کے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کی نئی مثال قائم کر دی۔

    الویرا حمزہ نے پاکستان نیول اکیڈمی سے کامیابی کے ساتھ تربیت مکمل کرنے کے بعد پاک بحریہ کے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) میں بطور آفیسر شمولیت اختیار کی۔ شاندار کارکردگی پر انہیں کمانڈنٹ گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔اس موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے الویرا حمزہ نے کہا کہ ان کے شوہر کی شہادت نے ان کے اندر بھی پاکستان نیوی میں شامل ہو کر ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان احساسات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، جبکہ پاکستان نیول اکیڈمی میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کا یادگار اور قابلِ فخر دور رہا۔الویرا حمزہ کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ میں بطور آفیسر خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور وہ پوری لگن کے ساتھ وطن کے دفاع میں اپنا کردار ادا کریں گی۔

    دفاعی حلقوں کے مطابق الویرا حمزہ کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے عزم اور استقامت کا مظہر ہے بلکہ پاکستان کی خواتین کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے کہ وہ ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں اور قومی خدمت میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

  • کراچی رینجرز کیمپ حملے میں پکڑے گئے افغان دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات

    کراچی رینجرز کیمپ حملے میں پکڑے گئے افغان دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات

    کراچی میں ہفتے کو پاکستان رینجرز کیمپ پر بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے پس پردہ افغان طالبان رجیم کے شواہد سامنے آ گئے ، حملے میں گرفتار ہونے والے افغان دہشتگرد نے تفتیش کے دوران انتہائی ہوشربا اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

    حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے دہشتگرد نے اپنا نام عثمان علی بتایا اورکہا کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے آیا،میرے ساتھ 3اور ساتھی بھی تھے جن کانام عبدالہادی ، جانان اور عمر فاروق تھا حملے میں ملوث دیگر تین دہشتگرد عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق اس کے قریبی ساتھی تھے، جن میں سے اس کے ساتھ آنے والے دہشتگرد جانان نے رینجرز کیمپ پر بم پھینکا تھا اور عبدالہادی موقع پر ہی مارا جا چکا تھا، سب لوگ اس کارروائی سے ٹھیک 7 دن پہلے پاکستان داخل ہوئے تھے۔

    عثمان کے مطابق مارا جانے والا عبدالہادی اصل میں باجوڑ کا رہائشی تھا، اور پاکستان پہنچنے کے بعد ان سب کو ایک زیرِ تعمیر عمارت میں چھپا کر رکھا گیا تھا، جبکہ حملے میں استعمال ہونے والا سارا اسلحہ اور بارود عبدالہادی خود وزیرستان سے لے کر آیا تھا،دوسری طرف جانے کیلئے جب میں بھاگ رہاتھا تو مجھے گولی لگی اور میں وہیں گرگیا میراتعلق جماعت الاحرار سے ہے جس کے افغانستان میں کمانڈر کا نام احرار مولوی ہے،ہم سب کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی،مجھے صرف جیکٹ دی گئی تھی خودکش ہم خود تیارکرلیتے ہیں، افغا نستان میں خود کش جیکٹ اور دیگر ٹریننگ عمر قاری نے دی تھی ،کراچی آنے سے پہلے ہمارے لیےافغانستان سے سب انتظامات ہو گئے تھے،عبدالہادی یہاں سب جانتا تھا،پہلے بھی یہاں آیا تھا۔

    واضح رہے کہ ہفتے کی رات کراچی کے علاقے صفورہ میں یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چورنگی کے قریب واقع پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر جماعت الاحرار کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا۔ دہشتگردوں نے دھماکہ کر کے کیمپ کے اندر گھسنے کی کوشش کی، لیکن وہاں تعینات رینجرز کے جوانوں نے بنا وقت ضائع کیے انتہائی پھرتی سے جوابی کارروائی کر کے ان کا یہ ارادہ مٹی میں ملا دیا،اس شدید مقابلے میں وطنِ عزیز کے تین رینجرز اہلکار شہید اور چار جوان زخمی ہوئے، جبکہ تین حملہ آور مارے گئے اور عثمان کو زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔

    کراچی حملے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر ایک بڑا اور کامیاب انٹیلی جینس آپریشن کیا، جس میں فتنہ الخوارج کے 29 کارندے مارے گئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس جوابی کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ کے علاقے میں 28 جون کو آپریشن کیا، جس میں دہشتگردوں کا بڑا خارجی کمانڈر خان فروش عرف زابل اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا، پاکستانی فورسز نے سرحد پار افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں بھی آپریشن کیا، جہاں مزید 25 دہشتگرد مارے گئے اور ان کے ٹھکانوں میں چھپایا گیا بھاری اسلحہ و گولہ بارود پوری طرح تباہ کر دیا گیا ان تمام دہشتگردوں کا تعلق اسی جماعت الاحرار سے تھا جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی تھی۔

  • آپریشن غضب للحق  کے تحت کارروائیاں:جماعت الاحرار کے اہم کمانڈر سمیت 29 دہشتگرد ہلاک

    آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں:جماعت الاحرار کے اہم کمانڈر سمیت 29 دہشتگرد ہلاک

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد پاک افغان سرحد کے ساتھ بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 29 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پاکستان رینجرز (سندھ) کے کراچی کیمپ پر حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے ساتھ انٹیلی جنس کی بنیاد پر منظم زمینی آپریشن کیا، جس کے بعد سرحدی علاقے میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 29 خوارج ہلاک ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 28 جون 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد کے قریب دہشتگردوں کے ایک گروہ کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی، مؤثر اور پیشہ ورانہ کارروائی کے نتیجے میں انتہائی مطلوب کمانڈر خان فروش عرف زبال، جو بھارتی حمایت یافتہ جماعت الاحرار سے تعلق رکھتا تھا، اپنے 3 ساتھیوں سمیت مارا گیا، جبکہ متعدد دیگر دہشتگرد زخمی ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ’غضب للحق‘ کے تسلسل میں مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر 28 اور 29 جون کی درمیانی شب پاک افغان سرحدی علاقے میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو بھی انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں قائم دہشتگردوں کے 3 مراکز کو کامیاب کارروائیوں میں تباہ کر دیا گیا، جہاں 25 دہشتگرد مارے گئے، ان مراکز میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کوششیں کی ہیں، تاہم ملک اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، کیونکہ عوام کی سلامتی ریاست کی اولین ترجیح ہے، وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشتگردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی، تاکہ بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

  • کراچی ،فتنۃ الخوارج کا گلشنِ اقبال میں حملہ،جوابی کاروائی میں 5 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،فتنۃ الخوارج کا گلشنِ اقبال میں حملہ،جوابی کاروائی میں 5 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی کے علاقے گلستان جوہر بلاک 6 کے قریب فائرنگ اور دھماکے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    کراچی: فتنہ الخوارج (افغان) دہشت گردوں نے گلشنِ اقبال کے قریب رینجرز کی ایک تنصیب پر گاڑی میں نصب بارودی مواد کے ذریعے حملہ کیا۔گیٹ پر تعینات الرٹ اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو مؤثر انداز میں روک لیا۔ کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق گلستان جوہر کے علاقے موسمیات چورنگی کے قریب 8 بجے کشور ہائٹس کے ساتھ واقع رینجرز ہیڈکوارٹر، گلستانِ جوہر بلاک 6، بالمقابل سنڈے بازار گراؤنڈ میں ایک دھماکہ ہو ادھماکے کی شدت کے باعث قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹنے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا اور فائرنگ رینجرز کے دفتر کے قریب ہوئی ہے پہلے دھماکا ہوا جس کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنی گئی اس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہوگئے اور پولیس سمیت متعلقہ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر روانہ کردی گئی، ٹی سی رینجرز ہیڈ کوارٹر کے مرکزی دروازے پر دستی بم حملہ کیا گیا ہے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا ہے واقعے کی نوعیت جاننے کے لیے ادارے تحقیقات کررہے ہیں۔

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فوری طور پر آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رابطہ کیا ور صورتحال سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں ،وزیرا علیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی مکمل رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

    پولیس کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر موسمیات چورنگی سے گلستان جوہر بلاک 6 اور کامران چورنگی جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موسمیات سے اقبال چمن کالونی جانے والے راستے پر بھی آمدورفت معطل کردی گئی ہے، جبکہ شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔