Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی کا دورۂ ایران، جنگ بندی اور آبنائے ہرمز  کھولنے پر  بات چیت

    فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی کا دورۂ ایران، جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے پر بات چیت

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کا ایک روزہ اہم دورہ مکمل کرلیا۔ دورہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حصہ تھا، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے، کشیدگی کم کرنے اور خطے میں مستقل امن و استحکام کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، سپریم لیڈر کے نمائندے برائے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل محسن رضائی، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔

    ملاقاتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے مزید کشیدگی روکنے، تنازع کے جلد خاتمے اور امن کے قیام کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا۔

    بات چیت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں معمول کی صورتحال بحال کرنے کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں جانب سے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور کسی قابل عمل سمجھوتے تک پہنچنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستان اور ایران کے درمیان خطے میں امن و استحکام، کشیدگی میں کمی اور موجودہ بحران کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    ایرانی قیادت نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔

    ایران پہنچنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور دیگر اعلیٰ ایرانی سول و عسکری حکام نے کیا۔ دورے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا ایران تنازع کے سفارتی حل کی کوششوں کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • فتنۃ الخوارج کی سفاکیت،بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 4مزدور قتل

    فتنۃ الخوارج کی سفاکیت،بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 4مزدور قتل

    بلوچستان کے ضلع پشین میں دہشت گردوں نے چار بے گناہ مزدوروں کو بہیمانہ فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

    واقعہ پشین کے علاقے سرانان، سلیمان زئی میں پیش آیا، جہاں مزدور ڈبل روڈ کی تعمیر کے کام میں مصروف تھے اسی دوران دہشتگردوں نے اچانک ان پر فائرنگ کردی،فائرنگ کے نتیجے میں 4مزدور موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک مزدور زخمی ہوا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم فتنۃ الخوارج گزشتہ ایک ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں مسلسل ناکامی کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ مختلف آپریشنز میں 50 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے خلاف کامیابی حاصل نہ ہونے پر دہشت گردوں نے نہتے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ گزشتہ روز نوشکی میں بھی دو شہریوں کو قتل کیا گیا، جبکہ آج 24 اگست کو پشین میں چار مزدوروں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا جن کا تعلق پنجاب سے ہے

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق بے گناہ شہریوں کا قتل کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسے واقعات دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں اور انسانیت سے عاری ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کردی

    موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کردی

    عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ساورن کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کرتے ہوئے اسے Caa1 سے بڑھا کر B3 کردیا ہے۔

    موڈیز کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی اہم وجوہات میں گورننس میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر کا مضبوط ہونا اور مقامی قرض لینے کی لاگت میں کمی شامل ہیں۔ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان میں مسلسل میکرو اکنامک استحکام کو بھی ریٹنگ بہتر ہونے کی اہم وجہ قرار دیا ہے۔موڈیز کا کہنا ہے کہ ان شعبوں میں بہتری سے پاکستان کی بیرونی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ مالیاتی اشاریوں میں بھی بہتری آئے گی۔واضح رہے کہ تقریباً 12 ماہ کے دوران موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں دو درجے بہتری کی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومتی معاشی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معیشت کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کا اعتراف خوش آئند ہے۔ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور عالمی اداروں کی جانب سے ریٹنگ میں بہتری اس کا واضح ثبوت ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے اور بیرونی شعبے میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کی مسلسل محنت اور اصلاحات کے نتیجے میں عالمی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اصلاحات کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔ ہماری منزل پاکستان کو ایک مضبوط، خودکفیل اور پائیدار معیشت بنانا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملاقات کی، جس میں سندھ کے امور، جاری ترقیاتی منصوبوں، باہمی دلچسپی کے معاملات اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ اور علی پرویز ملک بھی شریک تھے۔ملاقات کے دوران صوبہ سندھ کے مختلف امور اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو کی گئی، جبکہ باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات اور سیاسی امور بھی زیرِ بحث آئے۔اس موقع پر سیاسی رواداری اور باہمی مشاورت کا سلسلہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

  • امریکہ سے "وزیراعظم کی کرسی”کیلئے مدد مانگنے والے مولانا فضل الرحمان کی اک بار پھر کرسی کیلئے تڑپ

    امریکہ سے "وزیراعظم کی کرسی”کیلئے مدد مانگنے والے مولانا فضل الرحمان کی اک بار پھر کرسی کیلئے تڑپ

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نئے صوبے صرف ایک ادارے اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کررہا ہے۔ فاٹا انضمام کے پیچھے بھی امریکا تھا تو میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ آج نئے صوبوں اور ملک میں افراتفری کے پیچھے بیرونی دباؤ نہیں ہو گا،

    مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان دوہرے رویئے کا عکاس ہے، مولانا فضل الرحمان وہ مچھلی ہیں جو اقتدار کے لئے ہمیشہ تڑپتی رہتی ہیں، آج مولانا امام ہیں تو پی ٹی آئی پیچھے ہیں، کچھ برس پہلے کا منظر دیکھیں تو پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں مولانا کی صف میں مریم ،شہبازاور بلاول نظر آ رہے تھے،مولانا فضل الرحمان ابھی اپوزیشن میں ہیں انہیں نہ ہی کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ ملی نہ ہی کوئی وزارت،تو ایسے میں تڑپنا تو بنتا ہے، کبھی نو مئی کے کرداروں کے ساتھ ،تو کبھی کسی اور کے ساتھ سٹیج پر اداروں کے خلاف بیان بازی مولانا فضل الرحمان کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے

    نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت اور مولانا کی جانب سے امریکہ کو ذمہ دار قراردینے کی کوشش ایک الزام کے سوا کچھ بھی نہیں،پاکستان کی آبادی بڑھ چکی ایسے میں صوبے بڑھ جائیں تو انتظامی امور بہتر ہو سکتے ہیں لیکن مولانا کو تو کرسی چاہئے اور اگر وہ کرسی امریکہ بھی دلوا دے تو انہیں قبول ہے،اور اس ضمن میں مولانا فضل الرحمان کوشش بھی کر چکے ہیں،اس ضمن میں وکی لیکس نے بھی مولانا فضل الرحمان کی امریکہ کے سامنے وزیراعظم کی کوششوں کے لئے کی جانے والی منتوں کو بےنقاب کیا تھا،


    وکی لیکس کی جانب سے جاری کردہ ایک سفارتی مراسلے کے مطابق امریکی سفیر نے 20 نومبر 2007 کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں آئندہ انتخابات اور ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔مراسلے کے مطابق امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا ایمرجنسی کے خاتمے اور آزاد و منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت آزاد اور منصفانہ انتخابات کی حمایت کرتی ہے، تاہم جے یو آئی (ف) انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔مراسلے کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے امریکی حمایت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ وزیراعظم بنے تو واشنگٹن پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو کو قبل از وقت وزیراعظم نہ سمجھے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مذہبی رہنماؤں سے متعلق بیانات کے باعث وہ ابھی فیصلہ نہیں کر سکے کہ آیا وہ دوبارہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کام کر سکتے ہیں یا نہیں۔مراسلے کے مطابق وہ آئندہ انتخابات میں ممکنہ طور پر فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے امکان سے پُرامید دکھائی دیے۔وکی لیکس کے مطابق مولانا فضل الرحمان اس بات پر خوش ہوئے کہ امریکی حکومت طالبان کے بعض ارکان اور القاعدہ کے رہنماؤں کے درمیان فرق کرنے پر آمادہ ہے۔ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر اعظم سواتی اور ملک سکندر خان بھی شریک تھے۔ مراسلے کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے مترجم کے ذریعے گفتگو کی، تاہم وہ انگریزی میں کی جانے والی گفتگو کا بڑا حصہ واضح طور پر سمجھ رہے تھے۔مراسلے میں یہ بھی درج ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے بعد میں انتخابی کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور جماعت اسلامی سے اختلاف کیا، جو اس وقت تک انتخابات کے بائیکاٹ کے مؤقف پر قائم تھی۔

    وکی لیکس کی جانب سے انکشاف سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی روش نہیں بدلی اور وہ آج بھی اقتدار میں آنے کے لئے امریکی غلامی میں جانے کو تیار ہیں بشرطیکہ کرسی ملے وہ بھی وزیراعظم کی، کیونکہ اپوزیشن میں دل نہیں لگ رہا.مولانا فضل الرحمان تو اس وقت بیٹے کو وزارت ملنے،خیبر پختونخوا حکومت کا حصہ بننے کی بھی کوشش کر رہے ہیں،ٹھیکے بھی ان کو ملنے چاہئے تا کہ ان کا "کام ” چلتا رہے ورنہ الزام ترشی کا سلسلہ رکے گا نہیں.

  • سپریم کورٹ کا حکم،عدالتی توہین کا آغاز پی ٹی آئی سےہوا،دوبارہ درخواست "این آراو”کی تلاش

    سپریم کورٹ کا حکم،عدالتی توہین کا آغاز پی ٹی آئی سےہوا،دوبارہ درخواست "این آراو”کی تلاش

    سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سزا یافتہ قیدی،بانی پی ٹی آئی کا ایک نجی اسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے، اس کے ذاتی معالج اور اہل خانہ کی نگرانی میں طبی معائنہ اور علاج کیا جائے۔

    عدالت کے حکم میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ قیدی کی سیکیورٹی اور حفاظت کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ عدالت نے سلمان اکرم راجا اور ڈاکٹرعظمیٰ سے تحریری ضمانتیں بھی حاصل کی تھیں کہ اسپتال کو سیاسی اجتماع گاہ نہیں بنایا جائے گا اور اس کے گرد کسی قسم کی امن و امان کی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔اگرچہ عدالت کا یہ حکم آئین کے منافی تھا،سزا یافتہ قیدی کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہوتا ہے تاہم حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ جب اپیل منظور نہیں ہوئی تو حکومت نے مزید کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا اور عدالت کی جانب سے متعین کردہ اسپتال، شفا انٹرنیشنل، میں تمام سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات شروع کر دیے تاکہ قیدی کو وہاں منتقل کیا جا سکے۔

    اس کے برعکس پی ٹی آئی رہنماؤں اور بعض صحافیوں نے سوشل میڈیا پر ایسا ماحول پیدا کیا اور اسپتال کے باہر کارکنوں کو جمع کیا۔ پی ٹی آئی کا اپنا سوشل میڈیا اس بات کا ثبوت ہے کہ راتوں رات اسپتال کو ایک سیاسی اجتماع گاہ میں تبدیل کر دیا گیا۔حکومت کے پاس یہ جواز موجود تھا کہ وہ اس صورتحال کو بنیاد بنا کر قیدی کو جیل میں ہی رکھنے اور کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دیتی، لیکن حکومت نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کے حکم کا احترام کیا اور قیدی کو پمز اسپتال منتقل کر دیا۔

    فرق صرف اسپتال کا تھا، جبکہ ماہر ڈاکٹروں کی وہی ٹیم، ذاتی معالج اور اہل خانہ قیدی کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کے عمل میں شامل رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اطلاعات نے اپنے پہلے ہی ٹوئٹ میں واضح کر دیا تھا کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث صرف اسپتال تبدیل کیا گیا ہے، جبکہ دیگر تمام کارروائی عدالت کے حکم کے مطابق کی گئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ توہینِ عدالت کا اتنا شور کیوں؟ کیا عدالت کی جانب سے ایسی بے بنیاد درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرنا اس بات کی علامت نہیں کہ عام فہم اور آئین، دونوں کو سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے؟اگر توہینِ عدالت ہوئی ہے تو پھر سلمان راجا اور ڈاکٹر عظمیٰ کے خلاف ہونی چاہیے، جنہوں نے کارکنوں کو جمع کیا اور عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس کرکے عدالت کو دی گئی اپنی تحریری ضمانتوں کو بھی سرعام مسترد کر دیا۔

    اسی پریس کانفرنس میں ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل نے خود بیان دیا کہ قیدی اپنی طبی حالت کے اعتبار سے 100 فیصد صحت مند ہے۔ ان کے مطابق آنکھوں کا علاج بھی بہترین طریقے سے کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، عدالت نے جس تشویش کا اظہار کیا تھا، وہ بے بنیاد ثابت ہوئی۔

    اب جبکہ عدالت کے حکم پر عمل بھی ہو چکا اور تشویش کا ازالہ بھی ہو گیا، تو مزید کارروائی کے لیے درخواست کی سماعت کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے؟ مقصد طبی علاج فراہم کرنا تھا، نہ کہ قیدی کو نجی اسپتال میں قیام کی سہولت فراہم کرنا، اب کیا پی ٹی آئی این آر او تلاش کر رہی ہے؟

  • عمران بیمار؟ عالمی جرائد نے بھی پی ٹی آئی کا بیانیہ "واڑ” دیا

    عمران بیمار؟ عالمی جرائد نے بھی پی ٹی آئی کا بیانیہ "واڑ” دیا

    دی واشنگٹن پوسٹ ،ایسوسی ایٹ پریس سمیت مختلف عالمی جریدوں نے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت اور میڈیکل چیک اپ کے حوالے سے تبصرہ کیا ہے

    امریکی جریدہ دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق؛پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ اور سیاسی جماعت کے تمام الزامات کو مکمل مسترد کر دیا ہے ،بانی پی ٹی آئی کی جیل میں سختیوں، ذہنی تشدد، تنہائی اور طبی غفلت کے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے،

    ایسوسی ایٹ پریس کے مطابق بانی پی ٹی آئی حکومتی حکم پر نہیں بلکہ عدالتوں کی جانب سے ایک سزا یافتہ قیدی کے طور پر جیل میں ہیں، پاکستانی وزارت اطلاعات بھی بانی پی ٹی آئی کو تنہائی میں رکھنے اور اہلخانہ سے نہ ملنے کے بیانات کی تردید کر چکی ہے،

    امریکی جریدہ دی گوشن نیوز کے مطابق اب تک بانی پی ٹی آئی کی اہلخانہ، وکلاء، ڈاکٹرز اور سیاسی نمائندوں سے 900 سے زائد ملاقاتیں ہوچکی ہیں،بانی پی ٹی آئی کو اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کے علاوہ بیرون ملک رشتہ داروں سے ٹیلیفون رابطے کی اجازت بھی حاصل ہے،

    دی انڈین ایکسپریس کے مطابق پمز، شفا، شوکت خانم اورالشفا آئی اسپتال کے ماہرین اور میڈیکل بورڈز بانی پی ٹی آئی کے30 سے زیادہ طبی معائنے کر چکے ہیں،بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان نے بھی جمعہ کو یہ تسلیم کیا تھا کہ ان کے بھائی 100 فیصد صحت یاب ہیں،

    امریکی جریدہ دی سیئٹل ٹائمز کے مطابق؛بانی پی ٹی آئی کو جیل میں7 سیلزپر مشتمل کمپاؤنڈ دیا گیا ہے جہاں انہیں سونے اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں،بانی پی ٹی آئی کو گوشت، مرغی، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور صاف پانی بھی فراہم کیا جاتا ہے،

  • بھارتی فضائیہ کے سابق نائب سربراہ کی  تیجس Mk-2 پروگرام پر کڑی تنقید

    بھارتی فضائیہ کے سابق نائب سربراہ کی تیجس Mk-2 پروگرام پر کڑی تنقید

    نئی دہلی: بھارتی فضائیہ کے سابق نائب سربراہ ایئر مارشل ناگیش کپور نے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے جنگی طیارے تیجس Mk-2 کی مستقبل میں عملی افادیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب یہ طیارہ 2030ء کی دہائی کے وسط میں بڑی تعداد میں بھارتی فضائیہ میں شامل ہونا شروع ہوگا تو ممکن ہے کہ اگلے محاذ پر اس کی افادیت محدود ہو۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران ایئر مارشل ناگیش کپور سے سوال کیا گیا کہ کیا بھارت کے لیے 2035ء میں چوتھی نسل کا جنگی طیارہ رکھنا معنی رکھتا ہے، جبکہ چین اس وقت تک چھٹی نسل کے جنگی پلیٹ فارم کی جانب بڑھ چکا ہوگا اور پاکستان پانچویں نسل کے طیاروں پر غور کر رہا ہوگا۔اس سوال کے جواب میں ایئر مارشل کپور نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "نہیں، عملی طور پر بالکل نہیں۔”انہوں نے بھارتی جنگی طیاروں کی صلاحیتوں اور مستقبل کے فضائی چیلنجز کے تناظر میں تیجس Mk-2 منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر جنگی طیاروں کی ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی F-22 اور چینی J-20 جیسے پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں میں اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، سینسر فیوژن اور اندرونی طور پر ہتھیار لے جانے کی صلاحیت شامل ہے، جس سے انہیں ریڈار پر تلاش کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔دوسری جانب چین کے J-36 اور J-50 جیسے چھٹی نسل کے جنگی طیاروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کو مزید جدید بناتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی خودمختاری، ڈرون وِنگ مین اور ’’سسٹم آف سسٹمز‘‘ کے تصور کو بروئے کار لائیں گے۔اس تصور میں جنگی طیارہ محض ایک الگ پلیٹ فارم کے بجائے مختلف سینسرز، ڈرونز، ہتھیاروں اور دیگر فضائی و زمینی نظاموں سے منسلک ایک مربوط نیٹ ورک کے حصے کے طور پر کام کرتا ہے۔

    ایئر مارشل ناگیش کپور کے مطابق بھارت کے پاس فی الحال پانچویں یا چھٹی نسل کا کوئی جنگی پلیٹ فارم موجود نہیں۔ ان کے مطابق بعض اندازوں میں کہا جا رہا ہے کہ چین 2030ء تک پانچویں نسل کے تقریباً 500 J-20 لڑاکا طیارے تعینات کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔انہوں نے اس تناظر میں بھارت کے لیے جدید جنگی ٹیکنالوجی کے حصول اور مقامی دفاعی منصوبوں کی رفتار پر بھی سوالات اٹھائے۔

  • عمران خان کے ہسپتال طبی معائنے کے بعد ایک بار پھر گولڈ سمتھ پلان 2 متحرک

    عمران خان کے ہسپتال طبی معائنے کے بعد ایک بار پھر گولڈ سمتھ پلان 2 متحرک

    عمران خان کے ہسپتال چیک اپ کے بعد ایک بار پھر گولڈ سمتھ پلان 2 متحرک ہوگیا ہے اور عمران خان کے سابق سالا صاحب برطانوی حکومت سے فوری طور پر پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں جو کسی صورت درست نہیں بلکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے

    مسٹر زیک گولڈ اسمتھ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں۔ ان کی یہ سرگرمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کا طبی معائنہ ہوچکا ہے اور ان کی ہمشیرہ کا موقف بھی سامنے آچکا ہے،عمران خان کی بہن کا کہنا تھا کہ عمران خان بالکل تندرست ہیں،پمز میں معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے،

    عمران خان کے ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد ایک بار پھر گولڈ اسمتھ کی جانب سے برطانوی حکومت سے پاکستان کے خلاف کارروائی اور دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو کسی صورت درست نہیں، زیک گولڈ اسمتھ کو پاکستان پر لیکچر دینے سے قبل اپنے سیاسی مؤقف اور ممکنہ مفادات کے تضادات کی وضاحت کرنی چاہیے۔ عمران خان سے متعلق یک طرفہ دعووں کو بنیاد بنا کر برطانوی حکومت سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش نہ سفارت کاری ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا معاملہ، بلکہ اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں سیاسی مداخلت قرار دیا جا سکتا ہے۔ گولڈ اسمتھ خاندان کی جانب سے برطانوی حکام کو خطوط لکھ کر پاکستان کے خلاف فضا بنانے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ پاکستان کے معاملات کا فیصلہ پاکستانی عوام اور متعلقہ ادارے خود کرنے کا حق رکھتے ہیں۔گولڈ اسمتھ پاکستان کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے سیاسی اور معاشی مسائل پر توجہ مرکوز کرے اور پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت مون سون بارشوں ،سیلاب سے نقصانات بارے جائزہ اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت مون سون بارشوں ،سیلاب سے نقصانات بارے جائزہ اجلاس

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب میں مکمل اور جزوی تباہ شدہ مکانات کے مالکان کو مالی معاونت فراہم کرنے سمیت متاثرہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام اور سڑکوں کو جلد بحال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انھوں نے یہ ہدایت ملک میں حالیہ مون سون بارشوں اور اُن سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی ۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا،چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز، چیئرمین این ڈی ایم اے سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔ اجلاس میں وزیراعظم کو حالیہ مون سون کے اثرات اور صوبوں اور این ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی کارروائیوں کی پیشرفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وفاقی وزراء اور سیکریٹریز کو متاثرہ علاقوں میں جا کر بارشوں سے ہونے والے نقصان کا خود جائزہ لینے اور بحالی کا کام شروع کروانے کی ہدایت کی ۔ انھوں نے ہدایت کی کہ شدید بارشوں سے متاثرہ تمام ایسے علاقے جہاں رسائی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے امدادی سامان نہیں پہنچ سکا، وہاں جلد سے جلد اشیاء خوردونوش اور دیگر امدادی سامان پہنچایا جائے ۔وزیراعظم نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور سیلاب میں جاں بحق تمام افراد کے خاندانوں کی مالی معاونت فراہم کی جائے ۔ انھوں نے آئندہ بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کو امدادی کارروائیوں کے لیے مکمل تیار رہنے کی بھی ہدایت کی ۔

    اس موقع پر وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ ملک کے تمام متاثرہ علاقوں میں سیلاب متاثرین کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے ۔مزید بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز عوام کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پورے ملک میں مون سون بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں 615 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور مزید امدادی سامان بھیجنے کے حوالے سے اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، اسی طرح شمالی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم فعال ہیں جس کی وجہ سے سیلاب سے قبل متعدد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔