Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بجٹ تقریر، عمران خان نے اپوزیشن اراکین کی جانب دیکھ کر ایسا کیا کیا کہ اراکین مسکرائے بغیر نہ رہ سکے

    بجٹ تقریر، عمران خان نے اپوزیشن اراکین کی جانب دیکھ کر ایسا کیا کیا کہ اراکین مسکرائے بغیر نہ رہ سکے

    وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں‌ وزیر مملکت برائے داخلہ حماد اظہر کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد اپوزیشن کی جانب فاتحانہ انداز میں ہاتھ اٹھا کر میوزک کمپوزر کی طرح اشارے کیے جس پر پی ٹی آئی حکومت کی طرح دیگر اراکین بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے زبردست شورشرابا اور ہنگامہ آرائی کی گئی تاہم وزیر مملکت نے بغیر کسی دباؤ کے بجٹ پیش کیا. اس دوران جب ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود رہے اور مسلسل تسبیح‌ کرتے رہے. بجٹ پیش کئے جانے کے بعد جونہی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اجلاس ملتوی ہونے کے اعلان کیا گیا تو وزیر اعظم عمران خان مسکراتے ہوئے اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور اپوزیشن کے احتجاج کی طرف ایک میوزک کمپوزر کی طرح اپنے ہاتھوں سے اشارے کیے۔

    وزیراعظم عمران خان کے اس خوبصورت انداز پر ان کے اردگرد موجود اسمبلی ارکان بھی مسکراتے رہے جبکہ وزیراعظم اسمبلی سے باہر نکل گئے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے گزشتہ روز پہلا بجٹ‌ پیش کیا گیا ہے. اپوزیشن کی طرف سے بجٹ پر سخت تنقید کی جارہی ہے جبکہ حکومتی اراکین اسے تاریخی بجٹ قرار دے رے ہیں.

  • سگریٹ نوشوں کیلئے بری خبر، پیکٹ اتنا مہنگا ہو گا کہ کئی لوگ توبہ پر مجبور ہو جائیں‌ گے

    سگریٹ نوشوں کیلئے بری خبر، پیکٹ اتنا مہنگا ہو گا کہ کئی لوگ توبہ پر مجبور ہو جائیں‌ گے

    وفاقی وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بجٹ اجلاس کے دوران بتایا ہے کہ سگریٹ کاپیکٹ 10سے 14 روپےمہنگاہوجائےگا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران حماد اظہر نے بتایا کہ ایک ہزارسگریٹ پرپہلےٹیکس 4ہزار 500 روپےتھا جبکہ ایک ہزارسگریٹ پرٹیکس 5ہزار 200 روپےکردیاگیا ہے.

    ان کا کہنا تھا کہ اضافی ٹیکسوں سےسالانہ 147ارب روپےکی اضافی آمدن ہوگی. یاد رہے کہ عوامی سطح پر بعض حلقوں‌کی جانب سے پہلے سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ کھانے پینے کی بجائے سگریٹ جیسی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے.

  • بجٹ اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی، حکومتی اراکین عمران خان کے سامنے ڈھال بن گئے

    وزیر مملکت برائے ریو نیو حماد اظہر کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی کی گئی اور ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا. اس دوران اپوزیشن ممبران گو عمران گو، مک گیا تیرا شو نیازی اور گو نیازی گو کے نعرے لگاتے رہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران وزیر مملکت کے خطاب کے موقع پر اپوزیشن کے شورشرابا پر کان پڑی آواز سنائی نہیں‌ دے رہی تھی. حماد اظہر کے تقریر کا آغاز کرتے ہوئی اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور احتجاجی نعرے بازی شروع کردی. اپوزیشن ارکان بجٹ تقریر کے دوران شور شرابا کرتے ہوئے سپیکر ڈائس کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے جس پر حکومتی ارکان اپنی نشستوں سے اٹھے اور وزیر اعظم کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ بد مزگی سے بچا جا سکے ۔

    بعض اپوزیشن اراکین نے بازوؤں‌ پر سیاہ پٹیاں بھی باندھ رکھی تھیں اور ہاتھوں میں‌ پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے. اپوزیشن اراکین نے بجٹ کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں تاہم اس شور شرابا او رہنگامہ آرائی کے دوران وزیر مملکت حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا اور کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں‌ ہوئے.

  • بجٹ میں کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کتنی کمی کر دی گئی؟ سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

    بجٹ میں کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کتنی کمی کر دی گئی؟ سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

    وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ بجٹ میں نئی روایت قائم کرتے ہوئے کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کمی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکومت میں‌ کابینہ کے تمام وزراء کی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے. بجٹ میں حکومت کی طرف سے کئے گئے اس فیصلہ کو اچھی نظر سے دیکھا جارہا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بتایا کہ کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کمی کر دی گئی ہے. ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہمیشہ کابینہ اپنی تنخواہیں بڑھاتی تھی لیکن وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کابینہ کے تمام وزرا نے اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے وزرا ، وزرائے مملکت اور پارلیمانی سیکرٹریز کے ساتھ کام کرنے والے سپیشل پرائیویٹ سیکرٹریز کے سپیشل الاﺅنس میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے گریڈ 21 اور 22 کے ملاز مین کی تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ وفاقی کابینہ کی گریڈ 1 تا 16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دی گئی ہے جبکہ گریڈ 17 سے 20 تک پانچ فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے.

    حماد اظہ کا کہنا تھا کہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا کیونکہ انہوں نے وطن عزیز پاکستان کی معاشی صورتحال کے پیش نظر تنخواہوں میں‌ اضافہ نہ کئے جانے کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے.

    واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے گریڈ 1 تا16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دے دی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے.

  • غربت میں کمی کیسے ہو گی اور سالانہ کتنے لوگوں‌ کو بلا سود قرض ملے گا؟ حماد اظہر نے بتا دیا

    وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں‌ خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نےغربت میں کمی کے لیے ایک نئی وزارت قائم کی ہے. 80ہزار مستحق لوگوں کوہرمہینے بلاسود قرضے دیے جائیں گے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں. بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے. اکتیس لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں. تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالرہے،
    ہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپےسے کم کرکے26ارب روپےتک لے آئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا . بہت سے کمرشل قرضہ جات زیادہ شرح سود پر لیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگے لانے کا وقت ہے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں جن میں سے 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات تھے۔ پچھلے ادوار میں بعض کمرشل قرضے زیادہ سود پر لیے گئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب سے کم ہو کر 10 ارب ڈالر سے کم رہ گئے۔ عالمی سطح پر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔

    حماد اظہر نےکہا کہ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جس پر 38 ارب روپے ماہانہ سود ادا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم درآمدات کو 49ارب ڈالر سے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے ہیں. ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے. انہوں نے کہاکہ احتساب کے نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں.

  • حکومت نے آبی وسائل کیلئے کتنی رقم مختص کی؟ اعلان کر دیا گیا

    حکومت نے آبی وسائل کیلئے کتنی رقم مختص کی؟ اعلان کر دیا گیا

    قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ آبی وسائل کیلیے70 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں. آیندہ سال کے دوران سبسڈی کیلیے271ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق وزیر مملکت حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا . بہت سے کمرشل قرضہ جات زیادہ شرح سود پر لیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگے لانے کا وقت ہے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں جن میں سے 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات تھے۔ پچھلے ادوار میں بعض کمرشل قرضے زیادہ سود پر لیے گئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب سے کم ہو کر 10 ارب ڈالر سے کم رہ گئے۔ عالمی سطح پر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔

    حماد اظہر نےکہا کہ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جس پر 38 ارب روپے ماہانہ سود ادا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم درآمدات کو 49ارب ڈالر سے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے ہیں. ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے. انہوں نے کہاکہ احتساب کے نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں.

  • دفاعی بجٹ کتنا ہو گا؟ قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا گیا

    دفاعی بجٹ کتنا ہو گا؟ قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا گیا

    قومی اسمبلی میں‌ پیش کردہ بجٹ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ دفاعی اخراجات ، سروسز پر 1152 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، سول اورعسکری حکام نےبجٹ میں مثالی کمی کی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ملک کے عسکری بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریرکے دوران بتایا کہ پاکستان کے فوجی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا اور یہ گزشتہ سال کے 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی بجٹ کے حوالے سے وہ وزیر اعظم عمران خان اور عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی خود مختاری ہر شے پر مقدم ہے. حکومت یہ بات یقینی بنائے گی کہ پاک فوج کی صلاحیت میں کمی نہ آئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا . بہت سے کمرشل قرضہ جات زیادہ شرح سود پر لیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگے لانے کا وقت ہے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں جن میں سے 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات تھے۔ پچھلے ادوار میں بعض کمرشل قرضے زیادہ سود پر لیے گئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب سے کم ہو کر 10 ارب ڈالر سے کم رہ گئے۔ عالمی سطح پر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔

    یاد رہے کہ چند دن قبل پاک فوج کی جانب سے ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر اپنے اخراجات میں کمی لانے کا اعلان کیا گیا تھا اور آج بجٹ دستاویزات پیش کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کر دی گئی ہے.

  • حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے. وزیر مملکت حماد اظہر

    وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں. بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے. اکتیس لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں. تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالرہے،
    ہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپےسے کم کرکے26ارب روپےتک لے آئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا . بہت سے کمرشل قرضہ جات زیادہ شرح سود پر لیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگے لانے کا وقت ہے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں جن میں سے 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات تھے۔ پچھلے ادوار میں بعض کمرشل قرضے زیادہ سود پر لیے گئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب سے کم ہو کر 10 ارب ڈالر سے کم رہ گئے۔ عالمی سطح پر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔

    حماد اظہر نےکہا کہ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جس پر 38 ارب روپے ماہانہ سود ادا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم درآمدات کو 49ارب ڈالر سے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے ہیں. ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے. انہوں نے کہاکہ احتساب کے نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں.

  • سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری، گریڈ 1 سے 16 تک تنخواہوں‌ میں‌ دس فیصد اضافہ کی منظوری

    سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری، گریڈ 1 سے 16 تک تنخواہوں‌ میں‌ دس فیصد اضافہ کی منظوری

    وفاقی کابینہ کی گریڈ 1 تا16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دے دی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق گریڈ 21 اور 22 کے ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا. وفاقی کابینہ کی گریڈ 17 تا 20 سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے.

    واضح رہے کہ کابینہ کے خصوصی اجلاس میں‌ آج پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کیا جارہا ہے جبکہ کابینہ اجلاس میں مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ بجٹ تجاویز پیش کریں گے جس کے بعد کابینہ بجٹ کی منظوری دے گی.

  • آصف زرداری کو پھانسی دی جائے. پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ نے بڑا مطالبہ کر دیا

    آصف زرداری کو پھانسی دی جائے. پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ نے بڑا مطالبہ کر دیا

    پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ میر مرتضی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے مبینہ قاتل آصف زرداری کو پھانسی دی جائے. پی پی شہید بھٹو گروپ کی جانب سے اس سلسلہ میں سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی جارہی ہے جبکہ قبل ازیں مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو نے بھی سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایک بیٹی کے طور پر آصف زرداری کی گرفتاری میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی ، یہ میرے پیارے ابو جان کو واپس نہیں لا سکتی ، جنہیں میں نے اپنے سامنے وفات پاتے ہوئے دیکھا تھا” ۔


    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری کی گرفتاری پر پی پی شہید بھٹو کی جانب سے سوشل میڈیا پر آصف زرداری کو مرتضی بھٹو کے قتل کے جرم میں سزا دینے سے متعلق پوسٹرز شیئر کئے جارہے ہیں جبکہ مرتضی بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بیٹی ہونے کے ناطے، میں صرف خدا کے انصاف کا ہی انتظار کر سکتی ہوں کہ کوئی بھی اس درد اور تشدد سے نہ گزرے جو کہ میرے باپ مرتضیٰ بھٹو ، ان کے چھ ساتھیوں اور ان کے اہل خانہ کو اس وقت برداشت کرنا پڑا تھا جب انہیں 23 سال پہلے قتل کیا گیا تھا .

    یاد رہے کہ مرتضیٰ بھٹو 20 ستمبر1996 کو کراچی میں اپنے گھر کے قریب فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے جس کا الزام پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی طرف سے آصف زرداری پر عائد کیا جاتا رہا ہے.