خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت شہری زخمی اور شہید ہوئے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائیاں کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشنز شروع کر دیے ہیں۔
لنڈی کوتل میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے پوائنٹ کے قریب دھماکے کی اطلاع ملی ہے۔ ایس ایچ او تھانہ لنڈی کوتل زاہد خان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم دھماکے کی نوعیت اور اس کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
لکی مروت: تختی خیل میں کوارڈ کاپٹر حملے، تین بچوں سمیت 8 افراد زخمی
لکی مروت کے علاقے تختی خیل میں دہشتگردوں کی جانب سے کوارڈ کاپٹر کے ذریعے دو حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں تین بچوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق ایک حملہ فٹ بال گراؤنڈ پر کیا گیا جبکہ دوسرا حملہ امن کمیٹی کے صدر کے گھر کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ دھماکوں کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔زخمیوں کو فوری طور پر سرائے نورنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فرید اللہ شاہ کے مطابق ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دیگر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
بنوں: گل بہار چوک میں پولیس وین پر حملہ ناکام
بنوں کے علاقے گل بہار چوک، تھانہ ہوید کی حدود میں دہشتگردوں نے پولیس وین کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی۔پولیس کے مطابق حملے کے فوراً بعد پولیس اہلکاروں نے موثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی بھرپور مزاحمت کے باعث حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ذرائع کے مطابق متعدد دہشتگردوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان: فائرنگ کے تبادلے میں ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار شہید
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے تھانہ پنیالہ کی حدود وانڈہ بڈھ میں دہشتگردوں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے اس تبادلے میں ایس ایچ او فہیم ممتاز خان مروت سمیت چار اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ڈی ایس پی پہاڑ پور سرکل حافظ عدنان خان شدید زخمی ہوئے ہیں۔واقعے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
باجوڑ: سیاسی رہنما کے گھر پر دستی بم حملہ
باجوڑ میں دہشتگردوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نوبزادہ وحید خان کی رہائش گاہ پر دستی بم حملہ کیا۔پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر اسی نوعیت کے حملے کیے جا چکے ہیں، جس سے سیاسی شخصیات کی سکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اورکزئی: اغوا کے بعد امام مسجد کو شہید کر دیا گیا
ضلع اورکزئی کے علاقے غلجو، تھانہ غلجو کی حدود ڈی ڈی ایم دڑا دڑ (ماما زئی) میں جامع مسجد کے امام اجمل کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق امام مسجد کو تین روز قبل نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا، جبکہ آج ان کی لاش اسی علاقے سے برآمد ہوئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتول کو ذبح کیا گیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعے میں داعش خراسان کے عناصر کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رائے تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی دی جائے گی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری ہیں۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ شرپسند عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔