آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی ہدایت پرپاک فوج کے سینئرکمانڈرز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں شہید ہونے والے کسٹم اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقات کی ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جنگ میں شہداء کی بے مثال قربانی کا اعتراف اور پاک فوج کی جانب سے بھرپورخراج عقیدت پیش کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ہماری آزادی بہادر جوانوں کی لازوال قربانیوں کی مرہون منت ہے، بحیثیت قوم شہدا کے خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف ایبٹ آباد میں شہید کسٹم انسپکٹر حسنین کے گھر پہنچ گئے، وزیراعظم نے شہید انسپکٹر کو قوم کا ہیرو قرار دیتے ہوئے شہداء کے لواحقین کیلئے پیکیج کا اعلان بھی کیا،وزیراعظم نے شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انسپکٹر حسنین پر فخر ہے، انہوں نے ملک دشمن اسمگلرز کا مقابلہ کرتے ہوئے جان دی،شہباز شریف نے شہید انسپکٹر کی بیوہ اور بچوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں چیک پیش کیا، وزیراعظم نے شہداء کے لواحقین کے لیے پیکیج کا اعلان کیا، سپاہیوں کے لواحقین کو ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اور گھر کے لیے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے،شہید افسران کے لواحقین کو ڈیڑھ کروڑ روپے اور گھرکےلیے ڈھائی کروڑ روپے ادا کیے جائیں گے، شہداء کے بچوں کیلئے فری تعلیم اور انہیں مفت علاج بھی مہیا کیا جائے گا۔
دہشت گردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے، ضلع خیبر میں تین دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے ہیں
سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پرضلع خیبر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا،اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں تین دہشت گرد انجام کو پہنچ گئے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور ایمونیشن برآمد کیا گیا ہے، سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو بھی تباہ کیا ہے، ہلاک دہشتگرد علاقے میں دہشتگردی کی متعدد کاروائیوں میں ملوث تھے،آپریشن 24 اور 25 اپریل کی درمیانی شب دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف ایبٹ آباد میں شہید کسٹم انسپکٹر حسنین کے گھر پہنچ گئے، وزیراعظم نے شہید انسپکٹر کو قوم کا ہیرو قرار دیتے ہوئے شہداء کے لواحقین کیلئے پیکیج کا اعلان بھی کیا،وزیراعظم نے شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انسپکٹر حسنین پر فخر ہے، انہوں نے ملک دشمن اسمگلرز کا مقابلہ کرتے ہوئے جان دی،شہباز شریف نے شہید انسپکٹر کی بیوہ اور بچوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں چیک پیش کیا، وزیراعظم نے شہداء کے لواحقین کے لیے پیکیج کا اعلان کیا، سپاہیوں کے لواحقین کو ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اور گھر کے لیے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے،شہید افسران کے لواحقین کو ڈیڑھ کروڑ روپے اور گھرکےلیے ڈھائی کروڑ روپے ادا کیے جائیں گے، شہداء کے بچوں کیلئے فری تعلیم اور انہیں مفت علاج بھی مہیا کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گرائی گئی عمارت تجوری ہائیٹس کے الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کے کیس کی سماعت ہوئی
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی،عدالت نے استفسار کیا کہ تجوری ہائٹس کس کا ہے ، کوئی نمائندگی کر رہا ہے ، عدالت میں ایک سائل نے آواز دی کہ تجوری ہائٹس گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا ہے ،تجوری ہائٹس گیلانی اسٹیشن پر ہے ، وکیل ریلوے نے کہا کہ یہ زمین پاکستان ریلوے کی ہے ، عابد زبیری ایڈوکیٹ نے کہا کہ تجوری ہائٹس کے کامران ٹیسوری مالک ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ لوگوں کے پیسے واپس کریں ،عابد زبیری نے کہا کہ آپ ہدایت دے دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ہدایت کیوں حکم دیں گے ، یہ کامران ٹیسوری کون ہیں ،عابد زبیری ایڈوکیٹ نے کہا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری ہیں ،
دورانِ سماعت بلڈر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بیشتر متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے، جو رہ گئے ہیں انہیں بھی دے دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو تنگ نہ کریں، عدالت نے 3 ماہ میں متاثرین کو ادائیگی کا حکم دیا تھا، یہ بتائیں کہ بلڈر کون ہے؟ کوئی یہ نہیں بتا رہا ہے کہ بلڈر کون ہے؟ آئندہ سماعت پر بلڈر کا نام بتایا جائے،کثیر المنزلہ پراجیکٹ کس کا ہے؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نوٹس گورنر ہاؤس بھیجیں یا کہاں بھیجیں؟ مالک کو ہی متاثرین کا پیسہ دینا ہے، کم از کم اخلاقی تقاضا تو ہے کہ آپ متاثرین کو پیسے دیں،وکیل نے کہا کہ مجھے کلائنٹ سے ہدایات لینے دیں کچھ وقت دیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تین سال ہو گئے ہیں یہ آج کا آرڈر تو نہیں، کیا کریں توہینِ عدالت کا نوٹس بھیجیں؟ آپ چاہتے ہیں توہینِ عدالت کا نوٹس بھیجیں؟وکیل نے استدعا کی کہ میں اس درخواست میں وکیل نہیں تھا مجھے ٹائم دیا جائے،
دوسری جانب گورنر سندھ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ” تجوری ہائٹس کا گورنر سندھ یا ان کی اہلیہ سے کوئی تعلق نہیں، اس سلسلے میں چلنے والی خبریں بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں، اس طرح کی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی”.
اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں وہ یہ کہہ رہا ہے یہ وہ کہہ رہا ہے اُسے مان لیں لیکن ڈاکومنٹ تو ریکارڈ پر ہی نہیں،یہ تو ایسے ہی ہو گیا کہ قتل ہو گیا، سینے میں کلہاڑی مار دی، گولی مار دی،ڈیڈ باڈی سامنے پڑی ہے لیکن وہ نہیں دکھانی، یہ کہنا ہے کہ فلاں کہہ رہا ہے فلاں کہہ رہا ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے یہ پبلک کر دیا وہ کر دیا کیا پبلک کیا ہے؟
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےکہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ دستاویز سے متعلق اِس گواہ نے یہ کہہ دیا اُس گواہ نے وہ کہہ دیا، اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے کہا کہ میں ابھی آگے چل کر اس متعلق دلائل دوں گا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس ڈاکومنٹ کو ہم تو نہیں جانتے نہ ہی عدالتی ریکارڈ پر ہے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ کیا مواد پبلک ہوا میں اس متعلق دلائل نہیں دے رہا بعد میں دوں گا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ قابلِ احتساب دستاویز کا کیا مطلب ہے؟سائفر گائیڈلائنز کا کتابچہ کب کا ہے؟ پراسیکیوٹر ایف آئی اے نےکہا کہ 2003 میں اس کتابچے میں ترمیم کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ گائیڈلائنز کتابچہ 1947 سے پہلے کا ہے یا بعد کا؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ گائیڈلائنز بُک کی اکثر شقیں تقسیم سے پہلے کی ہیں، 1964 اور 2003 میں ترامیم ہوئیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو یہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ گائیڈلائنز پاکستان بننے سے پہلے کی ہیں،
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ سائفر پاکستانی سفیر اسد مجید نے وزرات خارجہ کو بھیجا تھا ، اس کیس میں چار چیزوں کو عدالت نے دیکھنا ہے، سائفر کی کاپی ملزمان کے پاس پہنچی تھی یا نہیں ؟ ڈاکومنٹ ملزمان کے پاس فزیکل فارم میں موصول ہوا تھا یا نہیں ؟آپ نے ابھی کہا سائفر کا متن پبلک کر دیا گیا وہ ڈاکومنٹ کہاں ہے جو پبلک ہوا ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں آگے چل کر عدالت کو اس سے متعلق بتاؤں گا ،
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے گورنر ہاؤس، وزیرِ اعلیٰ ہاؤس، رینجرز ہیڈ کوارٹر سمیت تمام عمارتوں کے باہر سے رکاوٹیں اور تجاوزات ہٹانے کا حکم دے دیا
کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے کی،سپریم کورٹ نے 3 دن میں تمام تجاوزات ختم کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو عوام کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں، راستے بند کرنا اور رکاوٹیں ڈالنا غیر قانونی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں خود تجاوزات کھڑی کر رہی ہیں، کے ایم سی کی جو سڑکیں ہیں کلیئر کر دیں،سپریم کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو وفاقی اداروں کو آگاہ کرنے کا حکم بھی دیا،سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ اور سیکیورٹی اداروں کو عدالتی حکم کی کاپی بھیجنے کی ہدایت بھی کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم دیا کہ تجاوزات کے خاتمے سے متعلق اخرجات بھی تجاوزات قائم کرنے والوں سے وصول کریں۔
پبلک پر حملے ہوتے رہیں اور آپ محفوظ رہیں، یہ کہاں کا قانون ہے؟چیف جسٹس
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے متاثرین کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے سندھ حکومت کو متاثرین کا معاملہ دیکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا سرکار جہاں انکروچمنٹ کرتی ہے وہاں زیادہ سزا ہونی چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈووکیٹ جنرل نے پوچھا آپ دیکھتے نہیں کہاں سے آتے ہیں آپ؟ نیول، رینجرز ہیڈکوارٹرز،گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس نے فٹ پاتھوں پر بھی قبضہ کیا ہوا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا سکیورٹی کے ایشوز ہیں، بم حملے ہوئے ہیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے جگہ خالی کر دیں، کہیں محفوظ جگہ چلے جائیں، پبلک پر حملے ہوتے رہیں اور آپ محفوظ رہیں، یہ کہاں کا قانون ہے؟ میرے آنے سے پہلے سپریم کورٹ کے باہر بھی سڑک بند تھی میں نے کھول دی، بتائیں رینجرز ہیڈکوارٹر کہاں ہے اور فٹ پاتھ کہاں ہے؟ دنیا میں کہیں ہوتا ہے ایسا؟ جائیں امریکا اور دیکھ کر آئیں، اگر زیادہ ڈر لگتا ہے تو کہیں ریموٹ ایریا میں جاکر بیٹھ جائیں، سکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند مت کریں،جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، میئر بھی آئے ہوئے تھے کہاں ہیں، بجلی کے کھمبے گراتے ہیں وہ پوری سڑک کھود کر چلے جاتے ہیں، کل لگاتے ہیں کیس، بتائیں تفصیل یہ جناح کورٹ کس قانون کے تحت رینجرز کو دیا ہے؟میں نے تو منع کر دیا ہے کہ میرے لیے روٹ نا لگائیں، آئی جی کو کہا ہے اب روٹ لگائیں گے تو توہین عدالت کا نوٹس کریں گے، تھوڑی سی زندگی ہے، کیا اس کو بچاتے رہیں؟ہ کیا طریقہ ہے وی آئی پی بنے پھرتے رہیں، آپ کیوں نہیں ہٹاتے رینجرز ہیڈکوارٹرز کے سامنے سے تجاوزات؟ ہٹائیں یہ سب، چھوٹے لوگوں کے گھر توڑ دیئے، یہ بھی ہٹائیں، بعد میں انہیں بھی معاوضہ دے دیجیے گا، خطرہ ہے تو آپ لوگ کہیں اور چلے جائیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہمیں زیادہ خطرہ ہے، آپ دہشتگرد پکڑتے ہیں ہم سزائے موت دیتے ہیں، ایسے کام کریں جس سے عوام کو پریشانی نہ ہو ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہم کہتے ہیں سپریم کورٹ کے سامنے اگر انکروچمنٹ ہے تو وہ بھی توڑ دیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوئی مانےیا نہ مانے، کسی کو اچھا لگے یا برا، پاکستان میں ضمنی انتخابات کا میلہ لٹ چکا، فتح کا تاج مسلم لیگ ن کے سر ہے، حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا،پنجاب کا شمار سب سے بڑے صوبے کا ہوتا ہے،پنجاب مسلم لیگ ن کا سیاسی قلعہ اور مرکز رہا ہے، 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی جانب سے ن لیگ کے اس قلعے میں شگاف ڈالے گئے لیکن بزدار کے ہاتھ میں دے کر صوبہ پاؤں پر کلہاڑی ماری گئی، وہ روایتی سیاست سے بے خبر تھے،بزدار کی خراب اور فرسودہ کارکردگی تحریک انصاف کی غلطی ثابت ہوئی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ موجودہ ہار کے پیچھے ن لیگ کی کارکردگی اور تحریک انصاف کی نااہلی کا یکساں ہاتھ ہے، جنرل انتخابات کے بعد کسی وزیراعلیٰ کے عملی کام نظر آئیں گے تو وہ صرف مریم نواز کے آئیں گے، ایئر ایمبولینس کاکام کیا تو تنقید کی گئی،رمضان پیکج پر تنقید کی گئی تاہم وہ لاکھوں گھرانوں میں راشن پہنچانے میں کامیاب ہوئیں ، تحریک انصاف کی کارکردگی مایوس رہی، بیانیہ عوامی مسائل نہیں صرف عمران خان کی رہائی ہے،عوامی مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں تو عوام نظر انداز کر دیتی ہے، حقیقت میں تحریک انصاف حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں وہ اپنی سیاست کا بیڑہ غرق کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی بزدار ڈھونڈ لیتی ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک وقت تھا کہ مریم نواز انتخابات لڑنے کے لئے اہل نہیں تھیں،اور اب وہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی صوبے کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن چکی ہیں، وہ شریف خاندان کی چوتھی شخصیت وزیراعلیٰ ہیںَ حالات بتا رہے کہ نواز شریف کی سیاسی میراث کی اصل وارث مریم ہی ہوں گی جس کی انہوں نے قیمت بھی ادا کی ہے والد کے پانامہ کیس میں ہٹائے جانے کے بعد سات سال قبل مریم نے سیاست میں انٹری ماری، حالیہ انتخابات میں مریم نے انتخابی سیاست میں قدم رکھا،اس دوران چیف آرگنائزر بھی بنیں، جیل بھی گئیں،اور انتخابی مہم بھی چلائی،عمران خان نے مینار پاکستان پر جلسہ کیا اور نوجوانوں کو جمع کر کے سب کو حیران کیا، اس اثر کو زائل کرنے کے لئے مریم کو میدان میں لانا پڑا،مریم نے سوشل میڈیا، میڈیا پر توجہ مرکوز کی، مریم نے جارحانہ انداز اپنایا ہوا تھا انکے بارے یہ تاثر ہے کہ انکو مشکل فیصلے کرنے آتے ہیں وہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدہ نہیں رہیں، مریم کے لئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پھولوں کی سیج نہیں انکو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بزدار نہیں، مریم اصول کی بات کرتی ہیں، ڈکٹیشن نہیں لیتی، ضمنی انتخابات کی بات کی جائے توسوشل میڈیا دیکھ کر لگ رہا تھا کہ تحریک انصاف جیت جائے گی تا ہم ن لیگ اور اتحادیوں نے میدان مار لیا،تحریک انصاف اس کو دھاندلی کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے، دس سیٹوں پر صوبائی میں ن لیگ جیتی، پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ کو بدترین شکست ہوئی،پاکستان میں ہر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات سننے کو ملتے ہیں،انٹرنیٹ بندش کے الزامات سامنے آ رہے ہیں کسی بھی جگہ حکومتی وزرا نے جلسوں سے خطاب نہیں کیا ،ترقیاتی منصوبے نہیں چلے، ن لیگ اپنے کارکنان کو نکالنے میں کامیاب رہی تا ہم تحریک انصاف کے ووٹر اس ضمنی الیکشن میں گھر میںرہے، سوشل میڈیا پر بھی کوئی خاص مہم نہیں تھی،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز اپنے منصب کا دفاع کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ضمنی انتخابات کو بڑا معرکہ سمجھا جاتا ہے، موجودہ الیکشن میں خاموشی ضرور رہی ہے لیکن نتائج بیانیے کی تردید کرتے ہیں، ضمنی الیکشن ایک ٹیسٹ کیس تھا جس میں ن لیگ کامیاب ہو گئی،حکومت میں آنے کے بعد ووٹر کو ایک امید کی کرن نظر آئی، جس طرح رمضان میں چیک اینڈ بیلنس رکھا گیا پنجاب میں، وزارت اعلیٰ کا حلف لینے کے بعد مریم نے جس طرح عوامی فلاح کے منصوبوں پر کام شروع کیا، مفت وائی فائی، ہسپتالوں کے دورے، مستحق طلبا کو مالی امداد،اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جانے کے مواقع، سود سے پاک قرضے، ہنرمندتربیت، الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کے منصوبے، یہ سب لوگ سن رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کےلاپتہ افرادکے معاملے پر حکومتی اداروں کے ملوث ہونے کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا،یہ معاملہ چار دہائیوں پر محیط ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر کام شروع کیا جا رہا ہے، کمیٹی کی از سر نو تشکیل دے رہے ہیں،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے حوالہ سے پاکستان میں بہت شور مچ رہا ہے،پروپیگنڈہ میں حقیقت گم ہو کر رہ گئی ہے، پاکستان میں لاپتہ افراد میں زیادہ تر وہ ہیں جو اپنے گھر چھوڑ کر عسکری تنظیم میں شامل ہو جاتے ہیں یا تو وہ مارے جاتے ہیں یا پھر گھر والوں سے رابطے منقطع کرلیتے ہیں، کئی وہ لوگ بھی ہیں جو بیرون ملک ہجرت کر جاتے ہیں، لاپتہ افراد یہ عالمی مسئلہ ہے،پاکستان میں لاپتہ افراد کے مقابلے میں امریکہ بھارت جرمنی و دیگر ممالک میں تناسب بہت زیادہ ہے، لاپتہ افراد میں بین الاقوامی کمیشن کی رپورٹ ہے، تنازعات کی وجہ سے مختلف ممالک میں لاپتہ افراد بارے لکھا گیا ہے، 86 ہزار میکسیکو میں لاپتہ ہوئے، عراق میں ڈھائی لاکھ سے دس لاکھ لاپتہ ہیں،ان ممالک کے فیکٹ پر توجہ دی جائے تو پاکستان نے دہشت گردی کا خمیازہ اٹھایا ہے، حکومت پاکستان نے لاپتہ افراد کے خاندانوں کی بحالی کے لئے معاشی پیکج بھی دیا ہے، اموات کے بعد لاشوں کو ٹھکانے والے دو اداروں ایدھی اور چھیپا کے مطابق دو سالوں میں 35 ہزار نامعلوم لاشیں ملی ہیں،اختر مینگل نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان سے 5006 افراد لاپتہ ہیں، بعد میں سامنے آٰیا کہ 685 افراد کی گمشدگی کی تصدیق ہوئی، بلوچستان میں را نوجوانوںکو استعمال کرتی ہے، دشمن مہرنگ بلوچ جیسوںکو استعمال کر رہی ہے، حالانکہ اسکے والد کی موت پر ریاست نے مدد بھی کی تھی، ریاست کوئی عداوت یا انتقام کا مظاہرہ نہیں کرتی،پاکستان دہشت گردی کی لعنت سے نبردآزما ہے،ایرانی سرزمین پر حملہ دہشت گردوں کو بھر پور جواب تھا،عوام کی مایوسی، غربت کا فائدہ دہشت گرد اٹھاتے ہیں، ایرانی سرزمین پر پاکستا ن نے دہشت گرد مارے تھے جو بی ایل ایف کے تھے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لاپتہ افراد میں سے بہت سے لاپتہ لاپتہ نہیں بلکہ دہشت گرد بن چکے ہیں، معاشی طور پر ملک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،
نیب نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں غیرقانونی بھرتیوں کا نوٹس لے لیا ،نیب نے 2018 سے مارچ 2024 تک بھرتیوں کی تفصیلات طلب کرلیں،نیب کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اسد قیصراورراجہ پرویز اشرف ادوار میں بھرتیوں کی تفصیلات دی جائیں،نیب کے مراسلے میں بھرتیوں کے طریقہ کار،وزارت خزانہ سے منظوری متعلق استفسار کیا گیا ہے
واضح رہے کہ باغی ٹی وی نے خبر شائع کی تھی کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں غیر قانونی بھرتیاں کی گئی ہیں،سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور راجہ پرویز اشرف نے انت مچا دی، غیر متعلقہ اور اضافی افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جو حکومت پاکستان کے خزانے کو قوی نقصان پہنچا رہے ہیں، اسد قیصر نے ملازمین کو بھرتی کیا تو وہیں راجہ پرویز اشرف بھی ان سے پیچھے نہ رہے ، قومی خزانے کا بے دردی سے اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ سیکرٹری قومی اسمبلی کا ڈرائیور بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ سے سرکاری گاڑی پر دودھ لینے جاتا ہے، اسمبلی ہاؤس میں ملازمین کی بھر مار، میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کی گئیں،راجہ پرویز اشرف نے اسد قیصر کے غیر قانونی کاموں کو اس لئے تحفظ دیا کیونکہ وہ خود اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے تھے
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میںغیر قانونی بھرتیوں بارے چیئرمین نیب کو بھی درخواست دی گئی تھی جس پر چیئرمین نیب نے نوٹس لیا اور تفصیلات طلب کر لی ہیں،
فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،
سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6رکنی بنچ نے سماعت کی،دوران سماعت بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہاکہ ایک بچے کو ٹرائل کئے بغیر سزایافتہ کیا گیا وہ اب چھپتا پھر رہا ہے،اٹارنی جنرل کی جو پر فیکشن ہوتی ہے وہ اس کیس میں نظر نہیں آئی،جسٹس امین الدین نے استفسار کیا آپ جس کی بات کررہے ہیں وہ اٹارنی جنرل کی جمع فہرست میں ہے؟اعتزاز احسن نے کہاکہ وہ اس فہرست میں شامل ہے، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا رہا ہونے والے ملزمان کیخلاف اب کوئی کیس نہیں؟اعتزاز احسن اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے کہا ان ملزمان کو سزایافتہ کرکے گھر بھیج دیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہاکہ عید پر 20ملزمان رہا ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں،متفرق درخواست کے ذریعے رہائی پانے والوں کی تفصیل جمع کرائی ہے،
حامد خان نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ بار کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دائر کی گئی تھی ،جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ جتنی فریق بننے کی درخواستیں آئی ان کو بعد میں دیکھیں گے ،پہلے اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہاکہ رہا ہونے والے ملزمان کی تفصیلات جمع کرا دی ہیں،سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کی نقول طلب کرلیں،اعتراز احسن اور دیگر وکلا نے فیصلے ریکارڈ پر لانے کی استدعا کردی،وکلا نے کہاکہ 20ملزمان کی حد تک جو فیصلے سنائے گئے ریکارڈ پر لائے جائیں،عدالت نے کہا کہ ہم ان سے فیصلوں کی نقول مانگ لیتے ہیں،جسٹس شاہد وحید نے کہاکہ ہمیں پتہ تو چلے ٹرائل میں کیا طریقہ کار اپنایا گیا،سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے بنچ پر اعتراض اٹھا دیا،وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ 9رکنی بنچ کی تشکیل کیلئے معاملہ دوبارہ ججز کمیٹی کو بھیجا جائے
ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران بھی تحریک انصاف پروپیگنڈے سے باز نہ آئی، تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے ایرانی صدر کی عمران خان سے ملاقات کی فیک خبریں پھیلائی گئیں
ایرانی صدر پاکستان کے دورے پر آئے، تین روزہ دورے کے دوران ایرانی صدر نے اسلام آباد میں وزیراعظم، آرمی چیف، صدر مملک، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، کاروباری شخصیات، علماء کرام سے ملاقات کی تھی، بعد ازاں اگلے روز ایرانی صدر لاہور آئے اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، گورنر پنجاب سے ملاقات کی، علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی، یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب کیا، لاہور سے ہی ایرانی صدر کراچی کے لئے روانہ ہوئے، کراچی میں گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ و دیگر سے ملاقاتیں ہوئیں
ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے دورا ن تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پرپروپیگنڈہ کیا گیا، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا صارفین نے یہ خبر پھیلائی کہ ایرانی صدر کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے تا ہم ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس ملاقات کی ایران کی جانب سے بھی باضابطہ تردید کی گئی ہے،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے دورے کے دوران ایرانی صدر نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی تھی،ٹویٹ میں کہا گیا کہ ایرانی صدر جیل میں عمران خان سے ملاقات کے دوران آبدیدہ ہو گئے اور ایرانی صدر نے عمران خان کی رہائی میں کردار ادا کرنے کا علان کیا،ساتھ ہی ٹویٹ میں میڈیا کا حوالہ دیا گیا –
دوسری جانب ایرانی صدر کی جانب سے عمران خان کے ساتھ جیل میں ملاقات کی تردید کی گئی ہے ،ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق ترجمان ایران حکومت نےپاکستان میں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ایرانی صدر کی بانی پی ٹی آئی سےرولپنڈی جیل میں ملاقات کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر پاکستان کے سابق وزیراعظم کا احترام کرتے ہیں تاہم جیل میں قید لیڈروں سے ملاقات ایرانی پروٹوکول میں شامل نہیں تھی-