Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع

    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع

    لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے جناح ہاؤس پر حملے سمیت چھ مقدمات میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت میں آٹھ اگست تک توسیع کر دی ہے جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت کی جج نے جناح ہاؤس حملہ سمیت 6 مقدمات کے کیس کی سماعت کی ہے۔

    وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع کردی۔ یاد رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف جناح ہاؤس، عسکری ٹاور اور شادمان پولیس اسٹیشن پر حملے کے الزام میں بھی مقدمات درج ہیں، جبکہ عدالت نے ظل شاہ قتل اور ہنگامہ آرائی کے 2 مقدمات میں عبوری ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے

    دوسری طرف انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے شاہ محمود قریشی کی تینوں مقدمات میں عبوری ضمانتوں میں 8 اگست تک توسیع کردی ہے جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت میں وائس چیئر مین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کی جناح ہاؤس اورعسکری ٹاور سمیت تین مقدمات میں عبوری ضمانت پرسماعت ہوئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو سائفر کے سیاسی استعمال کی قیمت چکانا پڑے گی۔ خواجہ آصف
    بھتہ طلبی پر ایس ایچ او سول لائن کو ساتھیوں سمیت مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا
    ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں. امریکہ
    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع

    ڈیوٹی جج نے وکلاء کو دلائل کے لیے طلب کرلیا۔شاہ محمود قریشی کیخلاف تھانہ سرور روڑ، گلبرگ اور ریس کورس میں مقدمات درج ہیں۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنماء و سابق وزیر خارجہ اسد عمر بھی عدالت میں حاضری کیلئے پیش ہوئے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عبوری ضمانت پر دلائل طلب کر تے ہوئے اسد عمر کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع کردی۔ علاوہ ازیں یاد رہے کہ پولیس نے پی ٹی آئی رہنماء کو جناح ہاؤس اور گلبرگ عسکری ٹاور حملہ کیس سمیت چھ مقدمات میں نامزد کر رکھا ہے۔

    جبکہ سابق وزیر خارجہ پر ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن کے آفس اور گلبرگ میں کینٹینر جلانے کا الزام ہے۔ دوسری طرف عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے کیس میں لاہور کی انسدادہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کی عبوری ضمانت میں آٹھ اگست تک توسیع کر دی۔

    اس کیس کی سماعت بھی انسداد دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل خان نے کی، سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر حاضری کیلئے عدالت میں پیش ہوئے۔ گلبرگ پولیس نے اسد عمر کو عسکری ٹاور حملہ کیس میں ملوث کر رکھا ہے۔

  • سیاسی انتقام کی آگ میں جلنے والوں کو دنیا میں تو جواب مل گیا. وزیر اعظم

    سیاسی انتقام کی آگ میں جلنے والوں کو دنیا میں تو جواب مل گیا. وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے احتساب عدالت کی طرف سے منی لانڈرنگ کیس میں بری ہونے پر رد عمل دیتے اپنے ٹوئیٹر پر لکھا کہ "الحمداللہ، لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کے سیاسی انتقام پر مبنی جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں آج مجھے اور حمزہ شہبازکو بری کردیا.”


    جبکہ انہوں نے مزید لکھا کہ "جس پر اللہ تعالی کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے۔سیاسی انتقام میں لتھڑا یہ وہی مقدمہ ہے جس میں برطانیہ کی عالمی ساکھ رکھنے والی نیشنل کرائم ایجنسی نے تین ممالک میں 40 سال کا ریکارڈدو سال تک کھنگالا اور کچھ نہ ملنے پر ہمیں کلین چٹ دی تھی۔ برطانیہ کے ڈیلی میل میں ڈیفیڈ کے فنڈز میں غبن کی جھوٹی خبر دانستہ شائع کرائی گئی تھی لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا اور ڈیلی میل کو معافی مانگنا پڑی۔”

    وزیر اعظم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا "یہ وہی مقدمہ تھا جس میں ناحق مجھے دو مرتبہ گرفتار کیاگیا، حمزہ شہبازکو قید رکھاگیا اور کورونا وبا کے دوران سخت بیمار ہونے کے باوجودحمزہ کو ڈاکٹر کے پاس بھی نہ لیجایا گیا۔ اس کی معصوم بیٹی سے ملنے تک نہ دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’واٹس ایپ‘ احتساب ، بدترین میڈیا ٹرائل اور بے گناہی کی قید کا آج کوئی ازالہ ہوسکتا ہے ؟”
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم
    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری
    وزیر اعظم کے مطابق "سیاسی انتقام کی آگ میں جلنے والوں کو دنیا میں تو جواب مل گیا لیکن انہیں آخری اور سب سے بڑی عدالت میں اس ظلم کا حساب دینا پڑے گا۔ انتقامی اندھیرنگری کے اُس سیاہ دور میں ہمارا ساتھ دینے، ہماری بے گناہی پر اعتماد رکھنے اور ہر جگہ ہمارا حوصلہ بڑھانے والے محسنوں، دوستوں، احباب، وکیلوں اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں”

  • اسمبلیاں12 اگست کو تحلیل ہوئیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک

    اسمبلیاں12 اگست کو تحلیل ہوئیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک

    اسمبلیاں12 اگست کو تحلیل ہوئیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک کرا دیں گے، سیکریٹری الیکشن کمیشن

    اسلام آباد،عام انتخاب میں تاخیر کے ساتھ نئے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا سیکرٹری الیکشن کمیشن عمرحمید نے کہاہے کہ ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں چاہے 60دن میں ہوں یا 90دن میں ہوں اگر حکومت نے نئی مردم شماری کی منظوری دے دی تو نئی حلقہ بندیوں میں 4ماہ لگیں گے ۔

    جمعرات کو سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے ای سی پی بیٹ رپورٹرز سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ عام انتخابات سے قبل آپ لوگوں سے ملاقات ہوتی رہے گی کوشش ہے کہ میڈیا سے رابطے میں رہیں انتخابی اصلاحات کمیٹی کو الیکشن کمیشن نے 60 سے زائد سفارشات دی تھیں میری معلومات کے مطابق ہماری تقریبا ساری سفارشات مان لی گئی ہیں جب تک باضابطہ ہماری سفارشات منظور نہیں ہوجاتیں اس وقت تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔الیکشن کے حوالے سے سوالات پر جواب دیتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے کہاکہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کے انعقاد کے لئے تیار ہےاگر اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں تو 60دن یا پہلے تحلیل ہوتی ہے تو پھر 90 روز میں الیکشن ہوں گے ہم الیکشن کے لئے تیار ہیں اگر نئی مردم شماری کی منظوری ہو جاتی ہے تو ہمیں حلقہ بندیوں کے لئے 4 ماہ لگیں گے۔

    سپیشل سیکر ٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے کہاکہ اگر اسمبلیاں بارہ اگست کو تحلیل ہوتی ہیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک کرا دیں گے۔ایڈیشنل ڈی جی الیکشن کمیشن مسعود شیروانی نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے اندر پولیٹیکل فنانس ونگ کی خاص ذمے داری ہے قانون کے مطابق ہر سیاست دان اپنے اثاثے الیکشن کمیشن کو بتانے کا پابند ہے ہر الیکشن میں امیدوار اپنی مہم پر کئے گئے خرچہ بتانے کا بھی پابند ہوتا ہے پولیٹیکل فنانس ونگ کسی بھی سیاسی جماعت میں انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان الاٹ کرتا ہےالیکشن کمیشن کے پاس 168 سیاسی پارٹیاں رجسٹرڈ ہیں تمام ڈیٹا ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے پارلیمنٹیرینز کے سالانہ گوشوارہ کا ریکارڈز ہمارے موجود ہوتا ہے۔
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    باغی ٹی وی کی ویڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    اسمبلیوں کی تحلیل۔۔۔ آئین کیا کہتا ہے؟

  • توشہ خانہ کیس، گواہوں کے بیان ریکارڈ کرنیکا فیصلہ

    توشہ خانہ کیس، گواہوں کے بیان ریکارڈ کرنیکا فیصلہ

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن اور امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے،خواجہ حارث کی جانب سے ڈاکٹر یاسر عمان عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ حارث 12 بجے پیش ہوں گے وکیل علی بخاری نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے عزیز کی فوتگی ہوہی ہے اور خواجہ حارث سپریم کورٹ ہیں ،عدالت سے استدعا ہے کہ 12 بجے تک وقفہ کیا جائے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں،عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت میں 12 بجے تک وقفہ کر دیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا ہے،عدالت نے خواجہ حارث کو چیئرمین پی ٹی آئی کا پلیڈر مقرر کردیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم صرف ایک بار عدالت میں پیش ہوئے عدالت میں دوسرے کیسز بھی زیرسماعت ہیں،خواجہ حارث کو پلیڈر مقرر کررہا ہوں،عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن کو ہدایت کہ آپ اپنے گواہ کا بیان ریکارڈ کروائیں

    خواجہ حارث نے کہا آپ ہمارا اعتراض لکھ لیں یہ ممکن نہیں ہے ، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وقاص ملک نے بطور گواہ بیان قلبند کراتے ہوئے کہا کہ 2022 سے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اسلام آباد تعینات ہوں الیکشن کمیشن نے 7 نومبر 2022 کو بذریعہ خط کمپلینٹ دائر کرنے کا اختیار دیا، عدالت نے دوسرے گواہ کو عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کردی،گواہ وقاص ملک نے کہا کہ 7نومبر 2022 کا الیکشن کمشن کا اتھارٹی لیٹر ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف میں نے کمپلینٹ دائر کی، خواجہ حارث نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ لیڈنگ سوالات پوچھے جا رہے ہیں ،عدالت نے وکیل الیکشن کمشنر کو ہدایت کی کہ آپ انہیں خود بیان ریکارڈ کروانے دیں آپ کسی سے مدد نہ لیں کسی کے دبائو میں آکر بیان نہ دیں

    توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ ہوئی،ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں گواہ وقاص ملک کا بیان قلمبند کیا گیا، وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویز نے کہا کہ خواجہ حارث نے دورانِ وقفہ چائے آفر نہیں کی،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ اِس ترازو کو ہم ابھی بیلنس کرلیتے ہیں، گواہ وقاص ملک نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی نےالیکشن کمیشن کوبتایا کہ توشہ خانہ سے2020-21 میں 5 قیمتی تحائف لیے،چیرمین پی ٹی آئی نےالیکشن کمیشن کے فارم بی میں پانچوں تحائف کوبطورقیمتی تحائف ظاہرکیا،چیرمین پی ٹی آئی نے تحائف کے نام اور تفصیلات الیکشن کمیشن کےفارم بی میں ظاہر نہیں کیں،چیرمین پی ٹی آئی نے فارم بی میں ظاہر نہیں کیا کہ تحائف کی نوعیت کیا تھی

    جج ہمایوں دلاور نے الیکشن کمیشن کے وکیل امجدپرویز کو دوران سماعت چائے منگوا دی، گواہ وقاص ملک نے کہا کہ حقائق سے معلوم ہوا کہ چیرمین پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں جھوٹ پر مبنی گوشوارے جمع کروائے،گوشوارے ظاہر نہ کرنا چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن ایکٹ کی خلاف وزری ہے،توشہ خانہ کیس کے پہلے گواہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وقاص ملک کا عدالت میں بیان قلمبند ہوگیا

    پی ٹی آئی وکلاء کے بار بار بولنے پر جج ہمایوں دلاور نے اظہارِ برہمی کیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو کنڈکٹ نہ سکھائیں، اپنا رویہ دیکھیں،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • عمران خان نے تعاون نہ کیا تو گرفتاری ہوگی، وزیر داخلہ

    عمران خان نے تعاون نہ کیا تو گرفتاری ہوگی، وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سائفر تحقیقات میں ایف آئی اے نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو طلب کر رکھا ہے

    اس حوالہ سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسی (FIA) نے سائفر کے معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو 25 Jul کو طلب کرلیاہے، تحقیقات میں تعاون نہ کیاتو انکوائری کے مرحلے پر ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔تحقیقات کر کے ایف آئی اے سفارش کرے گی کہ شواہد اور C. PTI کے بیان کے بعد کون شریکِ جرم ہے اور کس کس کے خلاف جرم کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔

    واضح ریے کہ گزشتہ روز عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سائفر کے حوالہ سے عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں، اعظم خان نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے، اعظم خان اور عمران خان کی ایک آڈیو بھی سائفر کے حوالہ سے لیک ہوئی تھی جس کے بعد ایف آئی اے نے عمران خان کو طلب کیا تھا تا ہم عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی اور تحقیقات رکوانے کی کوشش کی، گزشتہ سماعت پر عدالت نے تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا، جس کے بعد ایف آئی اے نے دوبارہ عمران خان کو طلب کر رکھا ہے

    سائفر کی تحقیقات کا معاملہ ،ایف ائی اے نے چئیرمین پی ٹی آئی کو طلب کر لیا،ایف ائی اے کے اہلکار نے زمان پارک میں نوٹس وصول کروا دیا،چیئرمین پی ٹی آئی کو 25 جولائی کو طلب کیا گیا ہے

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    9 مئی کو حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، تھانہ سول لائن فیصل آباد میں درج مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان کو طلب کیا گیا ہے تھانہ سول لائن فیصل آباد کے 2 اہلکارلاہور آئے اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک پہنچے،اہلکاروں نے عمران خان کی کو طلبی کا نوٹس وصول کروایا۔ مذکورہ نوٹس میں عمران خان کو 21 جولائی کو شامل تفتیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے،چئیرمین پی ٹی آئی کو دن 3 بجے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے،پولیس نے گرفتار ملزمان کے بیان پر چئیرمین پی ٹی آئی کو شامل تفتیش کیا تھا مقدمے میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کی دفعات بھی شامل ہیں سابق چئیرمین پی ٹی آئی کو 9 مئی کے دو مقدمات میں شامل تفتیش کیا گیا ہے

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    ہ اعظم خان وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں،

    جو بات ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے وہ آج اعظم خان نے کہہ دی ،

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تھی تو اسوقت عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ایک جلسے میں ایک خط لہرایا تھا اور اس خط کو انکی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کہا تھا، بعد ازاں بتایا گیا تھا کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کی جائے، عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد ابھی تک اسی بیانئے کو لے کر چل رہے تھے تا ہم سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں واضح کہا گیا کہ کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی، عمران خان اسی سائفر کو لے کر اپنی تحریک چلا رہے ہیں اور عمران خان کا غیر ملکی سازش و مداخلت کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو چکا ہے تا ہم سائفر کے حوالہ سے عمران خان کی دو آڈیو لیک ہو چکی ہیں جس کے بعد سائفر کا بیانیہ پٹ گیا

    سائفر کے حوالہ سے 25 اپریل کو ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار سے سوال کیا گیا کہ مراسلہ سے متعلق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد بہت کنفیوژن ہے،جس کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں ہونے والی بحث کو دیکھنا ہو گا،این ایس سی کے دونوں اجلاسوں میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا ہے،سیکیورٹی ایجنسیز نے بتایا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی،اسد مجید کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد تھیں، اور ہیں کمیٹی اجلاس میں سفیر اسد مجید ہو کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا کسی سفیر پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا.ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخارکا مزید کہنا تھا کہ مراسلے کوکئی روز تک کو دبانے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔ ٹیلیگرام جیسے ہی دفترخارجہ پہنچا اور قانون کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا اور پھر ڈی مارش دیا گیا

    پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی نے 30 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ دھمکی آمیز خط شاہ محمود قریشی نے خود دفتر خارجہ کے سفارت کار سے لکھوایا،علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ فارن آفس کے ڈپلومیٹ نے شاہ محمود قریشی کے کہنے پر یہ خط وزیر خارجہ شاہ محمود کو بھجوایا,ڈپلومیٹ سے خود ساختہ خط موصول ہونے کے بعد شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو خط پہنچایا,اس معاملے کے حقائق جلد قوم کے سامنے آئیں گے, شاہ محمود قریشی اور فارن آفس اس جعلی سازی کے اصل کرادر ہیں,شاہ محمود قریشی اور فارن آفس لیڑ گیٹ سکینڈل میں بری طرح پھنس چکے ہیں,ہم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور فارن آفس کے ملوث کرداروں کو اس کیس سے نہیں نکلنے دیں گے,

  • عدت کے دوران نکاح کیس،عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور

    عدت کے دوران نکاح کیس،عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی غیر شرعی نکاح سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت سول جج قدرت اللہ نے کی ،درخواستگزار محمد حنیف عدالت میں پیش ہوئے ،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے ،چیئرمین پی ٹی آئی کی آج کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کر دی گئی،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی آج کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کر لی

    وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے وکالت نامہ بھی جمع کروا دیا گیا،وکیل نے کہا کہ سیشن جج کے فیصلہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر رکھا ہے،ایک درخواست دائر کرنا چاہتا ہوں عدت کیس بے بنیاد اور سیاسی مقاصد کیلئے بنایا گیا،جج قدرت اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ درخواست دائر کردیں نوٹس کر کے درخواستگزار کا موقف جانا ضروری ہے،عدالت نے سماعت میں وقفہ کر دیا

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

  • توہین الیکشن کمیشن کیس، فواد چودھری نے معافی مانگ لی

    توہین الیکشن کمیشن کیس، فواد چودھری نے معافی مانگ لی

    فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی

    کئی بار طلبی کے باوجود فواد چودھری پیش نہ ہوئے، آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پرفواد چوہدری ذاتی حیثیت میں پیش ہو گئے،فواد چوہدری نے ذاتی حیثیت میں کمیشن سے معذرت کر لی جس پر الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو تحریری معافی نامہ جمع کرانے کا حکم دے دیا. فواد چودھری نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں، اس وقت پارٹی کا ترجمان تھا،

    وکیل فواد چودھری فیصل چودھری نے کہا کہ ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ غلط پتے پر بھیجے گئے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کے علم میں تو آ گیا تھا،وکیل نے کہا کہ میں اکثر گھر نہیں ہوتا،الیکشن کمیشن نے شوکاز نوٹس جاری کیا ہوا ہے، وہ شو کاز نوٹس ہائیکورٹ میں چیلنج ہے ، جس کا فیصلہ محفوظ ہے ، ہم ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کر لیتے ہیں، ہم اگلی سماعت پر شو کاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیں گے،

    فواد چودھری نے کہا کہ میں اپنی جماعت کا سفیر تھا، میں ذاتی حیثیت میں معذرت کر سکتا ہوں، میری معذرت قبول کریں ، شو کاز نوٹس واپس لے لیں، پارٹی ایک ادارہ ہے، میں انکا ترجمان تھا، ذاتی حیثیت میں معذرت کر سکتا ہوں، میں قانونی کیسز میں نہیں پڑنا چاہتا،آپ کے لیے احترام ہے، اس وقت پارٹی کی پوزیشن تھی جو میں بیان کی، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے فواد چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی چیئرمین آپ سے قتل کروائیں تو آپ کریں گے، فواد چودھری نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پارٹی چئیرمین کو ئی غلط بات کرے تو مان لیں گے،آپ کی جماعت نے کمیشن اور میری ذات کے حوالے سے کیا کیا نہیں کہا، آپ نے الیکشن کمیشن کی توہین کی ،آپ کے چیئرمین نے میری اہلیہ کے بارے مین غلط الفاظ استعمال کیے،میری بیوی کے بارے میں اوپن جلسے میں کہا گیا، پھر میڈیا کے سامنے مکر بھی گئے ،فواد چودھری نےکہاکہ سپریم کورٹ کے ججز کے بارے میں کیا کیا کہا جا رہا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ماحول ہم نے ہی ٹھیک کرنا ہے، فواد چودھری نے کہا کہ میری معذرت قبول کریں اور کیس ڈراپ کریں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ تحریری معافی دے دیں، اگر آپ معافی لینا چاہتے ہیں، فواد نے کہا کہ میں نے زبانی معافی مانگ لی ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ معافی تحریری ہوتی ہے، آپ معافی جمع کرا دیں کمیشن اس پر غور کر لے گا، کیس کی سماعت یکم اگست تک ملتوی کر دی گئی

    الیکشن کمیشن کو عمران خان کا جواب مقررہ وقت پر موصول نہیں ہوا تھا، الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری اور اسد عمر کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔ فواد چودھری کے متعدد بار وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے، آج فواد پیش ہوئے،پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف دو، دو اور اسد عمر کے خلاف ایک کیس ہے۔ فواد چوہدری اور اسد عمر نے جواب میں کہا تھا کیس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، جواب میں کہا گیا تھا نوٹس نا قابل سماعت اور آئین سے متصادم ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں جواب جمع کراتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • وکیل قتل کیس، عمران خان کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

    وکیل قتل کیس، عمران خان کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

    سپریم کورٹ ،کوئٹہ میں وکیل قتل کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے چئیرمین پی ٹی آئی کو پیر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی پیر کی صبح ساڑھے دس بجے سپریم کورٹ میں پیش ہوں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو سب سے پہلے عدالت میں پیش ہونا پڑے گا،یہ زرا مناسب طریقہ کار ہو گا، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    چئیرمین پی ٹی آئی کو ابھی بلا لیتا ہوں، جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ آج پیش ہوسکتے ہیں؟ جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ آج نہیں آپ پیر کی صبح ساڑھے دس بجے انہیں عدالت لے آئیں، ریلیف لینے کے لیے درخواست گزار کو ذاتی حثیت میں پیش ہو کر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوتا ہے، جسٹس یحیٰ آفریدی نے وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کو کہیں کہ وہ خود عدالت میں پیش ہوں،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ کیا چئیرمین پی ٹی آئی آج پیش ہو سکتے ہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی ایک گھنٹے میں سپریم کورٹ آ جائیں گے، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کو آج آنے کا کہہ دیتے ہیں، جسٹس یحیٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا پہلے حکومتی وکیل کا اس کیس میں جواب آ جائے پھر چئیرمین پی ٹی آئی پیش ہوں،

    وکیل شکایت کنندگان امان اللہ کنرانی نے عدالت میں کہا کہ وکیل قتل کیس میں معاملہ چئیرمین پی ٹی آئی کے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا ہے، وکیل چئیرمین پی ٹی آئی لطیف کھوسہ نے کہا کہ وکیل قتل کیس میں بنائی گئی جے آئی ٹی کو ہم تسلیم نہیں کرتے،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عبوری ریلیف لینے کے لیے درخواست گزار کو ہر صورت عدالت میں پیش ہونا ہو گا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ دیکھیے آپ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں،ضمانت اور ایف آئی آر ختم کرانے کے لیے درخواست گزار کو خود آنا پڑتا ہے،دوران سماعت وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے کیس کیس کاروائی روکنے کی استدعا کی گئی جس پر جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ پہلے درخواست گزار کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہو گا ،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بنائی گئی جے ائی ٹی قانون کے مطابق نہیں ،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ
    عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا اہم ہے،

    پراسیکوٹر جنرل بلوچستان کی جانب جواب جمع کروانے کیلئے مہلت طلب کی گئی،عدالت نے فریقین کو جواب جمع کروانے کیلئے مہلت دے دی،کیس کی سماعت جسٹس یحییٰ خان آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی

    دوران سماعت جسٹس یحیٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ پہلے اس سوال کا جواب دیں کہ ایف آئی آر ختم کرانے کے لیے چئیرمین پی ٹی آئی نے متعلقہ فورم سے رجوع کیوں نہیں کیا؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ سے ہو کر ہی سپریم کورٹ آئے ہیں اور یہی متعلقہ فورم ہے، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی درخواست میں ایف آئی آر کی کاپی موجود ہی نہیں ہے، آپ کی درخواست میں درج ہونا چاہئے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدمہ بےبنیاد ہے، جب تفتیشی افسرنے چئیرمین پی ٹی آئی کو ملزم کہا ہی نہیں تو مقدمہ کیسا؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کا مقدمہ درج ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ تفتیشی کا موقف ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی تفتیش میں تعاون ہی نہیں کر رہے، چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ آف گرفتاری کس نے اور کیسے نکالے ہیں؟ وکیل بلوچستان حکومت نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف ایسے کوئی وارنٹ نہیں ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا ابھی بھی شکایت کنندہ چئیرمین پی ٹی آئی کو ملزم ٹھہراتے ہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ مقتول کی بیوہ نے کہا ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کا ان کے شوہر کے قتل سے کوئی تعلق نہیں،عبدالرزاق شر کے سوتیلے بیٹے نے چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا عبدالرزاق شر کے سوتیلے بیٹے کے خلاف کوئی انکوائری ہوئی؟ وکیل امان اللہ کنرانی نے کہا کہ عبدالرزاق شر کا بیٹا اس کیس میں مدعی ہے بیوہ نہیں،عدالت نے حکم دیا کہ چئیرمین پی ٹی آئی24 جولائی کو صبح 10:30 بجے ذاتی حثیت میں پیش ہوں، کیس کی سماعت 24 جولائی تک ملتوی کر دی گئی

    جسٹس مظاہر نقوی نے تحریک انصاف کے چیئرمین کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو پوری ایف آئی آر ختم کرانا چاہتے ہیں،وکیل نے کہا کہ میرے خلاف ایف آئی آر افواہوں پر کاٹی گئی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ اپنی استدعا پڑھیں کہ آپ نے کیا مانگا ہے،ایف آئی آر میں اپنے متعلق معاملے کو چیلنج کرتے تو الگ بات تھی، آپ نے تو پوری ایف آئی آر کو ہی چیلنج کر رکھا ہے، قتل کی ایف آئی آر بھلا کیسے کالعدم قرار دی جاسکتی ہے،

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • اعظم خان کے انکشاف،عمران خان کے سیاسی مستقبل کیلئے مشکلات

    اعظم خان کے انکشاف،عمران خان کے سیاسی مستقبل کیلئے مشکلات

    عمران خان کے ایک اورسابق رفیق کی جانب سے بڑا دھچکا – اعظم خان کے اہم انکشافات

    سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے اپنی گمشدگی کی وضاحت کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ وہ وہ کچھ عرصہ پشاور میں اپنے دوست کے پاس رہے اور اس دوران انہوں نے اپنے کسی فیملی ممبر اور قریبی دوستوں سے رابطہ نہیں کیا، اعظم خان کے مطابق وہ تنہائی میں کچھ وقت گزارنا چاہتے تھے تا کہ بغیر کسی اثر و رسوخ کے اپنے ضمیر کے مطابق ملک و قوم کے بہتر مفاد میں کسی بھی قسم کی سیاست سے بالاتر ہو کر فیصلہ کر سکیں ۔

    انتہائی سوچ و بچار کے بعد انہوں نے تمام حقائق ملک و قوم کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ سائفر کے حوالے سے بیرونی سازش کی حقیقت سب پر عیاں ہو سکے، علاوہ ازیں انہوں نے اپنی گمشدگی کے متعلق جھوٹی افواہوں کو بھی بے بنیاد قرار دے دیا

    اعظم خان کے بیان کے حوالے سے کچھ اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جو نہ صرف عوام کے لیئے تہلکہ خیز ہیں بلکہ اہم قانونی حیثیت بھی رکھتے ہیں اور یہ انکشافات عمران خان کے سیاسی مستقبل کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں

    عمران خان نے تمام تر حقائق کو چھپا کر سائفر کا جھوٹا اور بے بنیاد بیانیہ بنایا
    ▪️ مارچ 2022 کو سیکرٹری خارجہ نے محمد اعظم خان سے رابطہ کیا اور سائفر کے حوالے سے آگاہ کیا۔ جسے اسی شام ان کی رہائش گاہ پر روانہ کر دیا گیا۔ سیکرٹری خارجہ نے انہیں بتایا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے ہی عمران کے ساتھ سائفر پر بات کر چکے ہیں جس کی تصدیق عمران خان نے اگلے روز اس وقت کی جب محمد اعظم خان نے انہیں سائفر پیش کیا۔ سائفر کو دیکھ کر عمران خان نے خوشی کا اظہار کیا اور اس زبان کو US بلنڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے خلاف بیانیہ تیار کرنے کے لیے سائفر کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ▪️ عمران خان نے محمد اعظم خان کو یہ بھی بتایا کہ اپوزیشن کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک میں غیر ملکی شمولیت کی طرف عام لوگوں کی توجہ دلانےکے لیے سائفر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    عمران خان نے سائفر کو خلاف قانون اپنے پاس رکھا اور اسکو گما دیا جو کہ قانون کی سنگین خلاف ورزی تھی
    ▪️عمران خان نے محمد اعظم خان سے سائفر ان کے حوالے کرنے کو کہا، جو انہوں نے کر دیا۔ (کرپٹو دستاویزات کے حوالے سے ہدایات اور ضابطے موجود ہیں جن پر عملدرامد تمام اہم عہدوں پر فائز رہنے والوں پر لازم ہیں)۔
    ▪️ محمد اعظم خان کے اعتراف کے مطابق، سائفر کاپی عمران خان نے اپنے پاس رکھی اور اگلے دن (10 مارچ 2022) جب انہوں نے اسے مانگا تو عمران خان نے جواب دیا کہ ان سے گم ہو گیا ہے ۔

    عمران خان نے سائفر کو اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ بنانے کے لئے استمعال کرنے کا فیصلہ کیا
    ▪️ محمد اعظم خان نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ وہ اسے عوام کے سامنے پیش کریں گے اور اس بیانیے کو توڑ مروڑکر پیش کریں گے کہ مقامی شراکت داروں کی ملی بھگت سے غیر ملکی سازش رچائی جا رہی ہے ۔اس پر محمد اعظم خان نے مشورہ دیا کہ سائفر ایک خفیہ کوڈڈ دستاویز ہے اور اس کے مواد کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا اور اس کے بعد وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ سے باضابطہ ملاقات کی تجویز دی جہاں وہ MOFA کی کاپی سے سائفر پڑھ سکتے ہیں (کیونکہ عمران خان کی اصل کاپی گم تھی)

    سائفر کے حوالے سے بیانیہ میں پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی بنی گالہ میں اعتماد میں لیا گیا
    ▪️ 28مارچ 2022 کو اجلاس بنی گالہ میں منعقد ہوا، جہاں سیکرٹری خارجہ نے وزارت خارجہ کی ماسٹر کاپی کا سائفر پڑھ کر سنایا اور اجلاس کے تمام مباحث اور فیصلوں پر غور کیا گیا اور اس معاملے کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    ▪️ 30 مارچ 2022 کو کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جہاں وزارت خارجہ کے نمائندے نے دوبارہ سائفر پڑھا اور کابینہ کو بریفنگ دی۔ اس پر بھی منٹ ہو گئے۔ اس معاملے کو قومی سلامتی کمیٹی میں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
    ▪️ 31 مارچ 2022 کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جہاں مذکورہ بالا عمل کو دوبارہ دہرایا گیا اور قومی سلامتی ڈویژن کی طرف سے اس پر غور کیا گیا۔

    ملکی سلامتی کے قوانین برائے خفیہ دستاویزات کی سنگین خلاف ورزی
    ▪️ محمد اعظم خان کے مطابق وزارت خارجہ سے موصول ہونے والے تمام سائفرز جے JS FSA (وزیراعظم کے دفتر میں وزارت خارجہ کے نمائندے) کو واپس کردیئے گئے ہیں، تاہم، جب تک وہ پرنسپل سیکریٹری تھے، وزیراعظم عمران خان کا کھویا ہوا سائفر واپس نہیں کیا گیا۔ کیونک عمران خان نے اسے کھو دیا تھا اور بار بار کہنے کے باوجود واپس نہیں کیا۔

    عمران خان کاقومی سلامتی کے ساتھ خطرناک کھیل
    ▪️ ایک غلط بیانیہ کو بنیاد بنا کر امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا گیا جس کی تردید وائٹ ہاوس اور امریکی عہدیداران کی جانب سے بارہا کی گئی جس پر ایک سال گزرنے کے بعد عمران خان نے یوٹرن لیتے ہوئے سابق آرمی چیف کو اپنی حکومت گرانے کا مورد الزام ٹھہرایا (فاکس نیوز)
    ▪️ عمران خان نے سائفر ڈرامہ کے ذریعے عوام میں ملکی سلامتی اداروں کے خلاف نفرت کا بیج بویا اور ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتشار ، جلاؤ گھیراؤ اور فساد کی سیاست کو پروان چڑھایا جس کا خمیازہ پاکستان کی عوام اور ادارے عرصہ دراز تک بھگتتے رہیں گے ۔
    ▪️ عمران خان نے ملک دشمنوں کو موقع فراہم کیا جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف اداروں بلکہ قیادت کو بھی پراپیگنڈہ اور تضحیک کا نشانہ بنایا
    ▪️اعظم خان نے اعتراف کیا کہ سائفر ڈرامہ عمران خان نے صرف اور صرف اپنی حکومت بچانے کے لیے رچایا ۔
    ▪️ عمران خان نے VONC کے تناظر میں سیاسی فائدے کے لیے امریکہ مخالف جذبات کا استعمال کیا اور غلط طریقے سے اپنی بے دخلی کو امریکی سازش قرار دیا۔
    ▪️ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔ مذید یہ کہ عالمی سطح پر اپنے سفارت کاروں کو شرمندہ کیا اور اپنے سفارت کاروں پر بین الاقوامی سفارتی برادری کا اعتماد ختم کر دیا (IK نے عوامی اجتماع میں سائفر مواد کا حوالہ دیا)
    ▪️ عمران خان کی طرف سے سفارتی کیبل کے سیاسی استعمال نے اپنے سفارت کاروں کے لیے مستقبل میں غیر ملکی ہم منصبوں کے ساتھ حساس مسائل پر بات کرنا مشکل بنا دیا
    ▪️عمران خان کی خود غرض سوچ کی وجہ سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ۔ غیر ملکی اخبارات کی شہ سرخیاں لگائی گئی۔

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    ہ اعظم خان وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں،

    جو بات ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے وہ آج اعظم خان نے کہہ دی ،

  • اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پربات کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود ساختہ روپوش ہونے والے اعظم خان منظر عام پر آ گئے وہ کہتے ہیں کہ سائفر کی وجہ سے دباؤ میں تھا، مجسٹریٹ کے سامنے 164 کا بیان بھی دے دیا، اور اعظم خان کا بیان کیوں اہم ہے ؟ کیونکہ وہ پرنسپل سیکرٹری تھے عمران خان کے، پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم کے ہر حکم کو عملی شکل دیتا ہے، وزیراعظم نے کوئی احکامات دینے ہوں تو وہ پرنسپل سیکرٹری سے آتے ہیں،اعظم خان کا کردار اب اہم ہے، نواز شریف کو جب پکڑا تو انکے پی ایس فواد حسن فواد کو پکڑا گیا تھا اور کہا جاتا تھا کہ وہ ٹوٹ جائیں گے، وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا، لاہور میں احد طیمہ کو پکڑا گیا لیکن احد چیمہ بھی اپنے بیان پر ڈٹے رہے، اب اعظم خان کا جو بیان ہے کہ اس کو یہ ٹوسٹ دینے کی کوشش مت کیجیے گا کہ سرکاری ملازم تھا بیان دلوا دیا گیا،یہ سرکاری ملازم آج خود نمودار ہوا، عدالت میں گیا اور وہاں بیان ریکارڈ کروا دیا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس طرح نواز شریف کہتے تھے مجھے کیوں نکالا اسی طرح عمران خان خود بتا رہے تھے کہ مجھے امریکہ نے نکالا، سائفر کا کہا گیا ، اس میں جوڑ توڑ کا ماسٹر مائنڈ عمران خان ہے، ابھی اعظم خان کے بیان کے بعد کلیر ہو گیا کہ یہ عمران کے زہن کی سازش ہے، عوام اور اداروں کے مابین خلیج پیدا کرنے کے لئے، سیاسی انتشارپیدا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا اس سے معاشی عدم استحکام ہوا اور آج صورتحال دیکھ لیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابھی دو چار اور لوگ ہیں جو 164 کا بیان دینے کے لئے تیار ہیں ایک بیان ہے جو پولیس کو جا کر دے دیا ،لیکن 164 کا بیان مجسٹریٹ یا جج کے سامنے ہوتا ہے جس میں عدالت گواہ ہوتی ہے، عدالت سوال کرتی ہے کہ کس کے دباؤ پر کر رہے ہو؟ کافی کراس سوال ہوتے ہیں، 164 کا بیان گلے کا پھندا ہے اور کیس کا فیصلہ ہونے تک یہ بیان اپنی جگہ پر ہی رہتا ہے، اگر کوئی منحرف ہوتا تو وہ الگ بات ہے، اب سمجھ لیں کہ عمران خان کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے، ن لیگ شش و پنج میں ہے ان میں ہمت نہیں کہ وہ عمران خان کو گرفتار کریں وہ چاہتے ہیں کہ اگلی حکومت کوئی آئے اور وہ اسکو گرفتار کرے، ن لیگ کو پتہ ہے کہ تحریک انصاف الیکشن لڑے تو ن لیگ کے لئے سیٹیں جیتنا آسان نہیں، تحریک انصاف کا ووٹ ن لیگ سے ابھی تک نہیں ٹوٹا، اعظم خان کے بیان کے بعد مالم جبہ، بی آرٹی، بلین ٹری سونامی بارے بھی بتائے گا، بشریٰ کے کہنے پر کون کون سے احکامات بجا لائے گئے، وہ بھی اعظم خان بتائے گا،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل