Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

    وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

    وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا
    سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما سردار ایاز صادق کی جانب سے این اے 122 میں اپنی جیت کا فیصلہ کالعدم قرار دیے جانے سے متعلق کیس میں وزیراعظم عمران خان کو نوٹس جاری کر دیا ہے

    سپریم کورٹ میں این اے 122 میں دوبارہ الیکشن کے خلاف ایاز صادق کی اپیل پر سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سال 2013 قومی اسمبلی کا دورانیہ تو ختم ہو چکا ہے جس پر ایاز صادق کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل کو جرمانہ ہوا تھا جس کے خلاف اپیل کی گئی وکیل ایاز صادق نے مزید کہا کہ نادرا اور ریکارڈ جائزے کے اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے دھاندلی کے الزامات سے میری کردار کشی کی گئی مجھے جھوٹا کہا گیا ،بطور اسپیکر مجھے بہت زیادہ باتیں سننا پڑیں، میرے بارے میں دھاندلی کرنے کا تاثر بنایا گیا،

    وکیل الیکشن کمشن نے بتایا کہ کیس ہارنے پر تمام اخراجات ایاز صادق کو دینے کا کہا گیا سردار ایاز صادق نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی معاملات کبھی بند نہیں ہوتے، مجھے اسپیکر قومی اسمبلی ہوتے ہوئے بھی جھوٹا اور دھاندلی کرنے والا کہا گیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس کے بعد آپ الیکشن ہار گئے؟ ایاز صادق نے کہا کہ نہیں میں اس کے بعد بھی الیکشن جیتتا رہا کبھی الیکشن نہیں ہارا،چیف جسٹس نے ایازصادق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بہت حساس ہیں، جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ ہتک عزت کا قانون بڑا واضح ہے،اگر آپکی کردار کشی ہوئی تو ہتک عزت کا دعوی دائر کردیں، چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے،آپکی قانونی کارروائی کبھی ضائع نہیں جاتی الیکشن ایکٹ 2017 سے بہت بہتری آئی ہے، الیکشن کمیشن نے بھی بہت کام کیا ہے، ہم نے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں جلد اس معاملے کو سنیں گے،

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہتک عزت کا مسئلہ ہے تو الگ سے کیس دائر کریں، جس پر ایاز صادق نے کہا کہ ہتک عزت کا کیس تو کئی سال سے چل رہا ہے، معاملہ میری عزت کا ہے عمران خان سے اور کچھ نہیں چاہتا .وکیل لیگی رہنما نے کہا کہ غلطیاں انتخابی عملے کی تھیں تو ادائیگی ایاز صادق کیوں کریں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عمران خان کا مؤقف سن کر ہی فیصلہ کریں گے، جلد ہی کیس سماعت کے لیے مقرر ہو جائے گا ،سپریم کورٹ نے ایاز صادق کی درخواست پر وزیراعظم عمران خان، الیکشن کمیشن اور نادرا کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں

    واضح رہے کہ الیکشن ٹریبونل نے 2013 میں این اے 122 پر مسلم لیگ ن کے رہنما سردار ایاز صادق کی جیت کو کالعدم قرار دیا تھا 2013 میں عمران خان کی شکایت پر الیکشن ٹریبونل نے ایاز صادق کے خلاف یہ فیصلہ دیا تھا سردار ایاز صادق نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے

    شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

    پارلیمنٹ سپریم، شہبازشریف گھٹنے نہ پکڑیں سیدھا راستہ پکڑیں، بابر اعوان

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    فواد چودھری، تھپڑ کے بعد صحافیوں کو دھمکیاں، ،متنازعہ ترین بیانات،کیا واقعی کرائے کا ترجمان ہے؟

    فواد چودھری کو مشورہ ہے،اپنی وزارت کا نام وزارت پروپیگنڈا رکھ دیں، شازیہ مری

    حکومت کے پاس مسخروں کی فوج،کونسی گولی کھائی کہ انکا ضمیر بدل گیا، شازیہ مری

    حکومت بلاول سے ڈرتی ہے، اگر سامنا کرنے کی ہمت تھی تو تقریر سنسر کیوں کی، شازیہ مری

  • محسن بیگ کے خلاف ایف آئی آر اختیارات کے غلط استعمال کی کلاسک مثال ہے،عدالت

    محسن بیگ کے خلاف ایف آئی آر اختیارات کے غلط استعمال کی کلاسک مثال ہے،عدالت

    محسن بیگ کے خلاف ایف آئی آر اختیارات کے غلط استعمال کی کلاسک مثال ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا آرڈیننس کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ محسن بیگ کے خلاف ایف آئی آر اختیارات کے غلط استعمال کی کلاسک مثال ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس دن شکایت آتی ہے یہ اسی دن گرفتار کر لیتے ہیں،ابھی ایف آئی آر پڑھی گئی اس میں ہتک آمیز کوئی چیز نہیں ہے،یہ اختیار صرف پبلک آفس ہولڈرز کے مفاد کیلئے کیوں استعمال کیے جاتے ہیں؟ ،ایک خاتون ایم این اے کا اپنے پڑوسی کے ساتھ درخت کاٹنے پر جھگڑا تھا، اپوزیشن رہنماؤں نے بھی ایف آئی اے میں درخواستیں دائر کی ہوں گی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ محسن بیگ کے خلاف درج ایف آئی آر پڑھیں، میں نے ہر میٹنگ میں کہا ہے کہ ایف آئی آر نہیں پڑھی تو اب بھی نہ پڑھوائیں،جس کتاب کا حوالہ دیا گیا اس کتاب میں کوئی اچھی چیز بھی لکھی گئی ہو گی،کسی کا ذہن خراب ہے تو وہ کتاب کے اس صفحے کی غلط طور پر تشریح کرے کتاب کے اس صفحے کو بھی بہت مثبت طور پر دیکھا جا سکتا ہے،پیکا کی سیکشن 21 ڈی محسن بیگ پر کس طرح سے لگ سکتی ہے؟

    اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ یہ معاملہ ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست سن رہی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ محسن بیگ کے مقدمے کو ٹرائل کورٹ بھی دیکھ سکتی ہے،عدالت ٹالک شو میں ہونے والی چیزیں عدالت میں سن لے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا پھر سارے سیاست چھوڑ دیں؟ آپ اس ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں کیا کوئی تنقید نہ ہو؟ کس طرح یہ عدالت اس ایف آئی آر کو ٹرائل کیلئے بھیج دے؟پوری دنیا میں ہتک عزت کو فوجداری قانون سے نکال دیا گیا ہے آپ ایک دفعہ ایف آئی اے کے سارے کیسز دیکھ تو لیں، کس طرح یہ عدالت اس ایف آئی آر کو ٹرائل کیلئے بھیج دے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں عدالتی ہدایت پر دوبارہ وزیراعظم سے ملا ہوں، ہم رولز کے ذریعے ایک باڈی بنانا چاہتے تھے،میں یہ نہیں کہوں گا کہ مجھے آرڈیننس سے متعلق علم نہیں تھا اداروں کو فوجداری قانون کے ذریعے حفاظت کی ضرورت نہیں،وزیراعظم کو بتایا کہ نیچرل پرسن کی تعریف کی جو ترمیم کی گئی وہ برقرار نہیں رہ سکتی،میڈیا، ٹی وی چینلز اور اخبارات کو پیکا کے ذریعے ریگولیٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں میں پھانسی کے خلاف تھا لیکن اسکے بعد ایسے کیسز سامنے آئے کہ رائے تبدیل کی ،اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ عدالت یہ معاملہ وفاقی کابینہ کو دوبارہ بھیج دے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا کر فیصلہ کر لیں گے،نیچرل پرسن کیلئے ایک نمائندے کو شکایت کی اجازت دی جائے گی،اگر کوئی پردہ نشین خاتون درخواست نہ دے سکے تو اسکا نمائندہ شکایت کرے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم خود بھی آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ درحقیقت وزیراعظم نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا،میں نے کہا کہ یہ ہماری غلطی سے ہوا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ کہیں کہ ملک تباہ کر دیا تو پھر بھی فوجداری کیس نہیں بنتا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوامی نمائندے کے خلاف اگر یہ کہا جائے کہ اسکی بیٹی بھاگ گئی پھر کیا ہو گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے سول قوانین موجود ہیں، ہم سوشل میڈیا کو ذمہ دار کیوں ٹھہرائیں؟ جو کچھ سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے اسکی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ہیں سیاسی جماعتیں طے کر لیں کہ ان کا کوئی فالور سوشل میڈیا پر بدتمیزی نہیں کرے گا تو یہ سب ختم ہو جائے ، میں کیوں ڈروں کہ سوشل میڈیا پر مجھ پر تنقید کی جا رہی ہے،میرے لیے عدالت میں کیے گئے فیصلے زیادہ اہم ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یورپ کی بات کریں تو وہاں تو سزائے موت بھی ختم ہو گئی ، ہم بھی ختم کر دیں؟۔ہتک عزت کو فوجداری قانون سے نہ نکالا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہتک عزت کو فوجداری قانون میں شامل کرنے کے خطرناک نتائج ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیکا قانون پارلیمنٹ نے بنایا تھا کسی آرڈیننس سے نہیں آیا، منتخب حکومت نے پیکا کو فوجداری قانون بنایا جب دنیا اسکو فوجداری قانون سے نکال رہی تھی،اٹارنی جنرل کہہ رہے ہیں کہ وفاقی حکومت سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر مشاورت کرے،اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ اس سیکشن کے تحت کوئی کارروائی نہ ہو گی ہو سکتا ہے کہ سیکشن 20 کو وفاقی حکومت خود ہی قانون سے نکال دے،اٹارنی جنرل کی تجویز بہت مناسب ہے،یہ عدالت ان کیسز کو نمٹا نہیں رہی بلکہ زیرالتوارکھے گی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں نپیکا آرڈیننس کے خلاف کیس کی سماعت 14مارچ تک ملتوی کر دی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو مینڈیٹ دیا تو ان کو کوشش کرنے دیں، یہ مطمئن کریں گے کہ ترمیمی آرڈی نینس کا غلط استعمال اور منفی اثرات نہیں ہوں گے، پٹیشن اس دوران زیر التوا رہیں گی، سول قوانین میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے، ان میں بھی بہتری لائیں،یہاں پر لوگ سمجھتے تھے کہ ہم مغربی پاکستان میں جنگ جیت رہے ہیں،اگر سوشل میڈیا میں غلط چیزیں ہو رہی ہیں تو سیاسی لیڈران ذمہ دار ہیں اس بدتمیزی کا یہ مطلب نہیں کہ سوشل میڈیا کو بند کر دیں،

    ایم این اے کنول شوزب نے اظہر صدیق کو اپنا وکیل مقرر کر لیا ،وکیل اظہر جاوید نے کہا کہ میں وکالت نامہ جمع کروا رہا ہوں عدالت میرے دلائل سنے،عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو کنول شوزب کی شکایت پڑھنے کا حکم دے دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ آپ بتائیں کہ کیا یہ کیس بنتا تھا،منتخب نمائندوں کو تو خود کو تنقید کیلئے پیش کرنا چاہیے،خاتون کو سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ ایک پبلک آفس ہولڈر ہیں،چیف جسٹس نے کنول شوذب کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا ڈیکورم ہے آپ جا کر بیٹھ جائیں،کیا پبلک آفس ہولڈر عدالتی کارروائی میں خلل ڈالنے آئی ہیں؟

    دوسری جانب اسلام آباد سے گرفتار سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن بیگ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست ضمانت دائر کردی جس پر سماعت کل ہو گی اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں محسن جمیل بیگ نے درخواست ضمانت دائر کی جو کل کی سماعت کیلئے مقرر کی گئی ہے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی وڑائچ محسن جمیل بیگ کیس کی سماعت کریں گے محسن جمیل بیگ کے خلاف تھانہ مارگلہ پولیس نے دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کا مقدمہ درج کیا تھا، محسن جمیل بیگ کے دو ملازمین کو دہشت گردی عدالت سے ضمانت مل چکی ہے

    محسن بیگ کےگھر پرچھاپہ غیر قانونی ہے:عدالت کافیصلہ

    مریم نوازمحسن بیگ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوگئیں

    محسن بیگ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر

    مزید کئی صحافی بھی حکومتی نشانے پر ہیں،عارف حمید بھٹی کا انکشاف

    محسن بیگ کی گرفتاری، اقرار الحسن پر تشددکیخلاف کئی شہروں میں صحافی سراپا احتجاج

    کسی جج کو دھمکی نہیں دی جا سکتی،عدالت،محسن بیگ پر تشدد کی رپورٹ طلب

    ایس ایچ او کے کمرے میں ایف آئی اے نے مجھے مارا،محسن بیگ کا عدالت میں بیان

    جس حوالات میں آج میں ہوں جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ محسن بیگ

    وزیراعظم کا بیان دھمکی،اس سے بڑی توہین عدالت نہیں ہوسکتی ،لطیف کھوسہ

    آخر ریحام خان کی کتاب میں ایسا کیا ہے جو قومی ایشو بن گیا،حسن مرتضیٰ

    محسن بیگ کیس،فیصلہ کرنیوالے جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو..اسلام آباد بار کا دبنگ اعلان

    گرفتار محسن بیگ پر ایک اور مقدمہ درج

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    محسن بیگ کے ملازمین کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    محسن بیگ کی ایک اور مقدمے میں ضمانت،مقدمہ درج کرنے والوں کو جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے،عدالت

  • اپوزیش کےدعووں کےایک ہی دن بعد ارکان کی حمایت 202 سےکم ہوکر179 پرآگئی:خورشید شاہ کااعتراف

    اپوزیش کےدعووں کےایک ہی دن بعد ارکان کی حمایت 202 سےکم ہوکر179 پرآگئی:خورشید شاہ کااعتراف

    اسلام آباد :اپوزیش کےدعووں کےایک ہی دن بعد ارکان کی حمایت 202 سےکم ہوکر179 پرآگئی:خورشید شاہ کااعتراف،اطلاعات کے مطابق جس طرح عدم اعتماد کا وقت قریب سے قریب ترآرہا ہے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اعصابی جنگ بھی شدید سے شید تر ہورہی ہے ، اپوزیشن جس کا کل یہ دعویٰ تھاکہ اسے عدم اعتماد کے لیے 202 ارکان کی حمایت حاصل ہے صرف ایک دن کے بعد یہ تعداد 179 رہ گئی ہے جس کا اعتراف پی پی رہنما خورشید نے ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے کیا

    ذرائع کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں اتحادیوں کے بغیر ہی 179 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔جو کہ کل 202 بتائی جارہی تھی
    دوسری جانب انہوں نے کہا کہ اگرحکومت کو اپنے نمبرز پورے ہونے پر اتنا اعتماد ہے تو کل ہی اجلاس بلالے۔

    اس سے قبل پروگرام جرگہ میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے 172 ارکان چاہیے تھے ، یہ نمبر نہ صرف پورے کر چکے ہیں ، بلکہ اس سے اوپر جا چکے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کا کہناتھا کہ ایم کیو ایم، ق لیگ، جی ڈی اے اور بی اے پی سے ہمارے مثبت رابطے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے زیادہ تر تقاضے سندھ سے وابستہ ہیں جس پر پیپلز پارٹی کے کردار کی ضرورت ہے، پیپلز پارٹی سے ایم کیو ایم کے بارے میں بات ہوئی ۔ اب پیپلز پارٹی ان تقاضوں میں رکاوٹ نہیں رہی

     

     

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ تحریک عدم اعتماد تو ناکام ہی ہونی ہے اور یہ ممکن ہے اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے لے- تحریک عدم اعتماد کے ڑراپ سین کا وقت آنے ہی والا ہے- ہمارے ایم این ایز کو آفرز کے حوالے سے وزیراعظم کو تمام معلومات ہیں- اپوزیشن کی ناکامی یقینی ہو چکی ہے- اگلے 48گھنٹوں میں بڑی خبر آجائے گی۔ علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ کا حکومت سے اتفاق ہوجائے گا۔ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے گی۔

    وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ ملک کواس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ہمارے پاس اس وقت 184ممبران کی تعداد موجود ہے، اپوزیشن ہمت اورجرات کا مظاہرہ کرکے پہلے میڈیا میں ہی شو کر دیں، ہم اور میڈیا بھی ان کے ممبران کی تعداد کو دیکھ لیں گے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کل ہمارے رکن قومی اسمبلی نے بتایا مجھے 10 کروڑ تک آفر کی گئی، بیوپاریوں کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں، اپوزیشن سے الیکٹرول ریفارمز پربات کرنے کی پوری کوشش کی، اب ان سے الیکشن اصلاحات پر کوئی بات نہیں ہو گی۔وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کے وقار کا کبھی سودا نہیں کرسکتے، ان شااللہ عمران خان مزید مضبوط ہوکر اس سازش سے باہر نکلیں گے۔
    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگلا الیکشن پی ٹی آئی، ن لیگ کے درمیان ہونا ہے، سندھ کا این ایف سی کا پیسہ ننھے منے مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے لگایا گیا، سپیکرصاحب سے گزارش کررہے ہیں عدم اعتماد کو لمبا کرنے کے بجائے جلد اجلاس بلایا جائے۔ نواز شریف، زرداری کا ایک ہی ماڈل پیسے لگاؤ اور اقتدار میں آ کر لوٹو، یہ ماڈل سابق وزیراعظم اور سابق صدر نے سیاست میں متعارف کرایا۔

    فواد چودھری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پہلے بے نظیرسے ڈیزل کے پرمٹ لیے، بیرونی طاقتوں سے مولانا نے ڈائریکٹ پیسے لینا شروع کیے تھے، ندیم افضل چن کو کہا پیپلزپارٹی میں جانے سے بہتر راہول گاندھی کی کانگرس پارٹی جوائن کر لو، کوئی آدمی پیپلزپارٹی کا ٹکٹ لینے کوتیارنہیں۔

    انہوں نے کہا کہ لیگی صدر کہتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے یورپی یونین کو برا کہا، کیا یورپی یونین شہبازشریف کی ’’پھوپھی‘‘ لگتی ہیں، شہبازشریف کو خارجہ پالیسی کا پتا ہی نہیں، وکی لیکس کے مطابق یہ تو امریکیوں کوکہتے تھے ڈرون حملے کرتے جاؤ، یہ بے شرم لوگ ہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا

    وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا ،اطلاعات کے مطابق ملک سیاسی محاذ آرائی بڑھنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اہم مشن پر لاہور تشریف لا رہے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا کل دورہ لاہور متوقع ہے، وفاقی وزراء بھی ہمراہ ہوں گے، جہاں وہ گورنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی سے بھی ملیں گے، وزیراعظم عدم اعتماد سے متعلق اراکین اور پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت سیاسی امور پر اہم اجلاس ہو گا، پنجاب میں سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے آج کراچی میں مصروف دن گزارا، جہاں ایم کیو ایم مرکز پہنچنے کے بعد متحدہ رہنماؤں سے ملاقات بھی کی، جبکہ گورنر ہاؤس میں تقریب سے خطاب کے بعد سندھ مشاورتی کمیٹی اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات بھی کی۔

    سندھ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے عمران خان کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، جو پی ٹی آئی والا دھوکہ دے گا اسے دیکھ لیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، کچھ نہیں ہوگا، یہ سازش بھی بے نقاب ہوجائے گی۔ مجھے دیکھ کر آپ لوگوں کو لگ رہا ہے کہ میں گھبرایا ہوا ہوں؟ عدم اعتماد میں اِن چوروں کا ساتھ ان کے اپنے لوگ بھی نہیں دیں گے۔ ایک بار یہ سب ختم ہو جائے، اِن سب کو دیکھ لوں گا۔

  • اپوزیشن کی طرف سےعدم اعتماد واپس بھی لی جاسکتی ہے:اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن کی طرف سےعدم اعتماد واپس بھی لی جاسکتی ہے:اہم شخصیت کا دعویٰ

    اسلام آباد:اپوزیشن کی طرف سے عدم اعتماد واپس بھی لی جاسکتی ہے:اہم شخصیت کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق اس وقت اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں ،سازشوں اور مخالفتوں کا مرکز بنا ہوا ہے ، ادھرتازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایک طرف اپوزیشن کی طرف سے عدم اعتماد کے نمبرز پورے ہونے کے دعوے ہیں تو دوسری طرف حکومت کی طرف سے بھی بہت سخت ردعمل کی تیاریاں کی جارہی ہیں ،

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے نمٹنے کے لیے حکومتی تجویز سامنے آ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی رہائشگاہ پر حکومتی وزراء کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں وفاقی وزراء نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر تفصیلی مشاورت اور اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران وزرا نے جلد قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا تجویز دیدی۔اجلاس میں تجویز دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد کے دن قومی اسمبلی ایوان میں حکومت کا صرف ایک رکن شریک ہو، ووٹنگ والے دن حکومتی ارکان کو اجلاس میں نہ جانے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

    تجویز کے مطابق آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف حکومتی ارکان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، ووٹنگ والے دن پارلیمنٹ میں آنے والے حکومتی ارکان کیخلاف چیئر مین تحریک انصاف سپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس کے حوالے سے خط بھی تحریر کریں۔

     

     

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ تحریک عدم اعتماد تو ناکام ہی ہونی ہے اور یہ ممکن ہے اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے لے- تحریک عدم اعتماد کے ڑراپ سین کا وقت آنے ہی والا ہے- ہمارے ایم این ایز کو آفرز کے حوالے سے وزیراعظم کو تمام معلومات ہیں- اپوزیشن کی ناکامی یقینی ہو چکی ہے- اگلے 48گھنٹوں میں بڑی خبر آجائے گی۔ علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ کا حکومت سے اتفاق ہوجائے گا۔ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے گی۔

    وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ ملک کواس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ہمارے پاس اس وقت 184ممبران کی تعداد موجود ہے، اپوزیشن ہمت اورجرات کا مظاہرہ کرکے پہلے میڈیا میں ہی شو کر دیں، ہم اور میڈیا بھی ان کے ممبران کی تعداد کو دیکھ لیں گے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کل ہمارے رکن قومی اسمبلی نے بتایا مجھے 10 کروڑ تک آفر کی گئی، بیوپاریوں کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں، اپوزیشن سے الیکٹرول ریفارمز پربات کرنے کی پوری کوشش کی، اب ان سے الیکشن اصلاحات پر کوئی بات نہیں ہو گی۔

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگلا الیکشن پی ٹی آئی، ن لیگ کے درمیان ہونا ہے، سندھ کا این ایف سی کا پیسہ ننھے منے مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے لگایا گیا، سپیکرصاحب سے گزارش کررہے ہیں عدم اعتماد کو لمبا کرنے کے بجائے جلد اجلاس بلایا جائے۔ نواز شریف، زرداری کا ایک ہی ماڈل پیسے لگاؤ اور اقتدار میں آ کر لوٹو، یہ ماڈل سابق وزیراعظم اور سابق صدر نے سیاست میں متعارف کرایا۔

    فواد چودھری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پہلے بے نظیرسے ڈیزل کے پرمٹ لیے، بیرونی طاقتوں سے مولانا نے ڈائریکٹ پیسے لینا شروع کیے تھے، ندیم افضل چن کو کہا پیپلزپارٹی میں جانے سے بہتر راہول گاندھی کی کانگرس پارٹی جوائن کر لو، کوئی آدمی پیپلزپارٹی کا ٹکٹ لینے کوتیارنہیں۔

    انہوں نے کہا کہ لیگی صدر کہتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے یورپی یونین کو برا کہا، کیا یورپی یونین شہبازشریف کی ’’پھوپھی‘‘ لگتی ہیں، شہبازشریف کو خارجہ پالیسی کا پتا ہی نہیں، وکی لیکس کے مطابق یہ تو امریکیوں کوکہتے تھے ڈرون حملے کرتے جاؤ، یہ بے شرم لوگ ہیں۔

  • تمام علاقائی ممالک کو پائیدار امن و استحکام کیلئے ملکر کام کرنیکی ضرورت ہے،آرمی چیف

    تمام علاقائی ممالک کو پائیدار امن و استحکام کیلئے ملکر کام کرنیکی ضرورت ہے،آرمی چیف

    پاکستان میں چینی ناظم الامور پینگ چنکسو نے آج جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دفاعی تعاون، سی پیک پر پیشرفت اور علاقائی سلامتی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان عالمی اور علاقائی معاملات میں چین کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہم اپنے دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام علاقائی ممالک کو پائیدار امن اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    مہمان معزز نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں کو محفوظ اور محفوظ ماحول کی فراہمی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کے لیے کیے گئے خصوصی اقدامات پر سی او اے ایس کا شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے سی پیک پر پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو یقینی بنایا۔

  • پاکستان اورچین کیخلاف مودی حکومت کچھ کرنے جارہی ہے: امریکی رپورٹ

    پاکستان اورچین کیخلاف مودی حکومت کچھ کرنے جارہی ہے: امریکی رپورٹ

    نئی دہلی : واشنگٹن ::؛پاکستان اورچین کیخلاف مودی حکومت کیجانب سےکارروائی کا امکان، امریکی رپورٹ نے پاکستان اور چین کے لیے محتاط رہنے کا پیغام دے دیا ،اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ اداروں نے جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارت کا چین اور پاکستان سے تنازع کافی حد تک تشویش ناک قرار دیا ہے۔

    امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی نے ایوان نمائندگان کو بتایا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت میں اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی جھوٹی سچی اشتعال انگیزی کا جواب فوجی طاقت سے دیا جائے۔

     

    عسکری خطرات سے متعلق امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کی سالانہ رپورٹ کو آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس نے جاری کیا ہے جس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جس نوعیت کی سرحدی کشیدگی پائی جاتی ہے وہ کسی بھی وقت دونوں میں جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان پر عسکری گروپوں کی حمایت کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں اسی لیے کشمیر میں پُرتشدد بدامنی کا کوئی واقعہ یا پھر بھارت میں کوئی حملہ ممکنہ فلیش پوائنٹ بن کر اُبھر سکتا ہے۔

    امریکی انٹیلیجنس نے خطرات سے متعلق اپنے اندازوں میں بھارت اور چین سے متعلق بھی آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ فریقین کے درمیان فوجی پوزیشن میں توسیع سے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسلح تصادم کا خطرہ بڑھ گيا ہے۔

    انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اور بھارت میں مسلح تصادم کی صورت میں امریکی افراد اور مفادات کو بھی براہ راست خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اسی لیے حکام امریکا سے مداخلت کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق 2020ء میں دونوں ممالک کی فوجوں میں ہوئے تصادم کے تناظر میں نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان تعلقات کشیدہ رہیں گے۔

    2020ء میں مشرقی لداخ کی پینگانگ جھیل کے آس پاس چین اور بھارت کی افواج کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی اسی وجہ سے فریقین نے آہستہ آہستہ وہاں فوجیں اور بھاری ہتھیار تعینات کرنا شروع کر دیا جہاں اب ہزاروں فوجی آمنے سامنے ہیں۔

  • ایم کیو ایم نے بھی وزیراعظم کے سامنے شرائط رکھ دیں

    ایم کیو ایم نے بھی وزیراعظم کے سامنے شرائط رکھ دیں

    ایم کیو ایم نے بھی وزیراعظم کے سامنے شرائط رکھ دیں

    وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سندھ سب سے زیادہ تبدیلی چاہتا ہے سندھ کےعوام سے کہتا ہوں آپ کی آزادی کا وقت آگیا ہے،کراچی میں وہ کام کریں گے جو آج تک کسی نے نہیں کیے سندھ کے لوگ ڈاکو زرداری سے آزادی چاہتے ہیں،دنیامیں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،ڈیزل سستا کیا ،بجلی سستی کی ڈاکووں کے گلدستے کو خوف آنا شروع ہوگیا ڈاکووں کو نہیں پتہ ہم نے کتنے بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ،قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں،سب سے ٹیکس ہماری حکومت میں جمع ہوا،ہماراملک صحیح راستے پرنکل آیا ،ہر مشکل میں ہماری حکومت نکلتی گئی اپوزیشن والوں نے وہ کام کیا جو میں اللہ سے مانگ رہا تھا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پٹرول اور فضل الرحمان کی قیمتوں کو کم کیا، پاکستان میں پیٹرول اورفضل الرحمان دبئی سے زیادہ سستا ہیں ،عدم اعتماد اپوزیشن والوں کی سیاسی موت ہے ڈاکووں اور چوروں کے خلاف 25سال سے جدوجہد اور جہاد کررہاہوں ،ڈاکواور چور کہتے تھے آج عدم اعتماد کریں گے کل کریں گے ،اللہ اس کی زیادہ سنتا ہے جو اپنے ملک کے لیے مانگتے ہیں ،اپوزیشن والےعدم اعتماد کی تحریک میں پھنسے ہیں ،میں نے ان سے آگے کا سوچ لیا یہ سیاسی موت مرنے جا رہے ہیں یہ اربوں ڈالر ملک سے باہر لے گئے، کراچی میں وہ کام کریں گے جو آج تک کسی نے نہیں کیے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میرے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ،اب میں ان کو نہیں چھوڑوں گا،میری بندوق کی نوک پر آصف زرداری بڑی دیر سے آیا ہوا ہے میرا پہلا ہدف آصف زرداری ہوں گے ،ان کا وقت آگیا ہے آصف زرداری پیسوں کا ٹوکرا لے کر گھوم رہے ہیں ،لوگوں کو خرید رہے ہیں میرے ایک ایم این نے کہا آصف زرداری نے کروڑوں روپے کی پیش کش کی،میں نے کہا آپ لے لیتے پیسے ،کوئی خیراتی کام میں استعمال کرتے ،آصف زرداری ظالم ہیں، پولیس اور غنڈوں کو استعمال کرتے ہیں، اپوزیشن پھنس گئی ہے، کپتان نے اگلی تیاری بھی کر رکھی ہے،میں ان کے پیچھے جاؤں گا، انہیں چھوڑوں گا نہیں،مقصود چپڑاسی والا کون ہے؟ ان کو بھی نہیں چھوڑوں گا ،بلاول کو تو یہ نہیں پتا لڑکی آتا ہے یا آتی ہے،15 سال ہوگئے بلاول کبھی کہتا ہے بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے،

    قبل ازیں وزیراعظم عمرا ن خان ایم کیوایم مرکز بہادرآباد پہنچ گئے ،وزیراعظم سے صحافی نے سوال کیا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو کیا کریں گے؟ وزیراعطم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مشکلیں اتنی پڑیں کہ آسان ہو گئیں، یہ گیم وہاں جا رہی ہے جس کا میں ایکسپرٹ ہوں جمعہ کو دیر میں ہونے والا جلسہ بتائے گا عوام کس کے ساتھ ہے ،میں نے اب تک اپنے اقتدار میں صرف 5 چھٹیاں کی ہیں یہ چھٹیاں صرف تب کیں جب مجھے کورونا ہوا تھا ہر دن نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میں اس کیلئے تیار ہوں

    وزیراعظم عمران خان کے ہیلی کاپٹر نے کراچی میں نیشنل اسٹیڈیم پر لینڈنگ کی اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ نیشنل اسٹیڈیم لینڈنگ کے بعد وزیراعظم ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد پہنچے ہیں جہاں ایم کیو ایم رہنماؤں نے انکا استقبال کیا،وزیراعظم عمران خان اور ایم کیو ایم رہنماؤں کی ملاقات ہوئی، گورنرسندھ، شاہ محمودقریشی، اسدعمر، علی زیدی ملاقات میں شریک تھے، خالد مقبول صدیقی، عامرخان، امین الحق، کنورنویدجمیل، وسیم اختر بھی موجود تھے. وزیر اعظم نے ایم کیو ایم کے 4 رہنماوں سے فردا ًفردا ًہاتھ ملایا وزیر اعظم مصافحہ کے بعد خالد مقبول صدیقی کا ہاتھ تھامے رہے ،وزیر اعظم سے ملاقات میں ایم کیو ایم کا کوئی رکن سندھ اسمبلی شامل نہیں تھا ، وزیراعظم عمران خان کےہمراہ پی ٹی آئی کے 4 اراکین سندھ اسمبلی ہیں حلیم عادل شیخ ، بلال غفار، خرم شیر زمان اور ارسلان تاج وزیراعظم کے ہمراہ ہیں

    ایم کیوایم نے وزیراعظم عمران خان کو کوئی یقین دہانی کروانے سے گریزکر لیا، ایم کیو ایم نے اپنی حمایت مشروط کردی۔ وزیراعظم سے کراچی میں اپنے بند دفاتر کھلوانے اور لاپتہ افراد بازیاب کروانے کا مطالبہ کر دیا۔ بہادر آباد میں ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کے بعد وزیراعظم واپس روانہ ہو گئے،

    موجودہ سیاسی صورتحال پر وزیراعظم اور خالد مقبول صدیقی کے مابین مکالمہ ہوا، وزیراعظم سے خالد مقبول صدیقی نے سوال کیا کہ سیاسی صورتحال کوکیسے دیکھ رہے ہیں ؟وزیراعظم نے کہا کہ حالات آپکے سامنے ہیں ایم کیو ایم کا ساتھ چاہیے،ایم کیو ایم نے ہمیشہ ساتھ دیا ہے، خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے دفاتر اب تک نہیں کھلے ہیں،وزیراعظم نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ آپکے دفاتر جلد کھل جائینگے، عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے

    وزیراعظم عمرا ن خان ایم کیوایم مرکز بہادرآباد سے روانہ ہو گئے ہیں وزیر اعظم عمران خان 25 منٹ تک بہادر آبادمرکز میں رہے

    ملاقات کے بعد خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم تحریک عدم اعتماد پر بات کرنے نہیں آئے تھےعمران خان کے ساتھ ہیں جبھی تو وہ وزیراعظم ہیں ابھی تک،عدم اعتماد کو چھوڑیں ،ہمیں اس نظام پر ہی اعتماد نہیں ایم کیو ایم کو سیاسی دفاتر کی ضرورت نہیں نائن زیرو ہمارا ہی نہیں ہے ان سے کیا مانگیں ؟پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے آج رابطہ ہی نہیں کیا وزیراعظم عمران خان اپنا وعدہ نبھانے آئے تھے

    ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار ناراض ہوکر بہادرآباد مرکز سے چلے گئے سیکیوٹی اہلکاروں نے خواجہ اظہا ر کو اندر جانے سے روک دیا تھا

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران ہی ایم کیو ایم کے دفاتر کھلنا شروع ہو گئے ہیں، حیدر آباد میں ایم کیو ایم کا سیل شدہ دفتر کھول دیا گیا ہے ایم کیو ایم کا حیدرآباد میں بھائی خان چوک پر زونل قائم دفتر کھول دیا گیا ہے جب کہ سندھ کے دیگر علاقوں میں قائم دفاتر بھی جلد کھول دیے جائیں گے،وزیراعظم نے ملاقات میں یقین دہانی کروائی ہے کہ تمام دفاتر کھول دیئے جائیں گے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سے ایم کیو ایم قیادت کی اچھی ملاقات رہی ،ملاقات میں ہم نے ساری سیاسی صورتحال کا جائزہ بھی لیا ،ایم کیو ایم حلیف جماعت ہے ہم ایک دوسرے سے تعاون کرتے آئے ہیں ہم نے ایم کیو ایم کے ساتھ آئندہ کی حکمت عملی وضح کرکے حتمی شکل دی

    ایم کیو ایم وفاقی حکومت میں اتحادی ہے،تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی، اب وزیراعظم کرسی بچانے کے لئے مدد مانگنے کے لئے ایم کیو ایم کے پاس گئے ہیں،ایک وقت تھا وزیراعظم عمران خان جن کے کسی زمانے میں ایم کیو ایم نے داخلے پر پابندی لگائی تھی ،2007 کے ایام میں عمران خان کے کراچی جانے پر پابندی تھی اور عمران خان تین سے چار بار کراچی کا دورہ کرنے کا اعلان کر چکے تھے مگر ایم کیو ایم نے انہیں کراچی نہیں آنے دیا تھا، اب وہی ایم کیو ایم عمران خان کی حکومت کی اتحادی بھی ہے اور اب عمران خان ایم کیو ایم کے مرکز بھی پہنچ چکے ہیں

    دوسری جانب ترجمان بلاول ہاؤس کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے عمران نیازی کے تکبر کو خاک میں ملادیا، اوقات یاد دلادی بلاول بھٹو زرداری نے سیلیکٹیڈ وزیراعظم کی دوڑیں لگوا دیں پیپلزپارٹی کے عوامی مارچ نے عمران نیازی کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا سو سنار کی ایک لوہار کی، عمران نیازی کے پیروں تلے زمین نکل چکی اب آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا، عمران

    وزیراعظم غیرملکی شہریت رکھنے والے مشیروں، وزیروں سے استعفیٰ لیں،مریم اورنگزیب

    حفیظ شیخ کوہٹانے کی وجہ مہنگائی نہیں بلکہ کچھ اورہی ہے:جس کے تانے بانے کہیں اورملتے ہیں‌

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    آصف زرداری،ایم کیو ایم وفد کی ملاقات کے بعد اسد قیصر بھی چودھری پرویز الہیٰ سے ملنے پہنچ گئے

  • باغی ٹی وی کا عورت مارچ منتظمین کیخلاف عدالت جانیکا اعلان

    باغی ٹی وی کا عورت مارچ منتظمین کیخلاف عدالت جانیکا اعلان

    باغی ٹی وی کا عورت مارچ منتظمین کیخلاف عدالت جانیکا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز لاہور میں ہونیوالے عورت مارچ میں باغی ٹی وی کے لوگو کے غلط استعمال پر باغی ٹی وی نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے

    باغی ٹی وی نے ہمیشہ سے ہی خواتین کے حقوق کے بات کی اور ان پر ہونیوالے تشدد، مظالم کو اجاگر کرتے ہوئے حکام بالا تک پہنچایا تا کہ انہیں انصاف ملے اور خواتین کو تحفظ فراہم ہو، باغی ٹی وی نے ہمیشہ عوام کی آواز بنتے ہوئے اہم کردار ادا کیا،باغی ٹی وی نے ہمیشہ مظلوموں کی مدد کے لئے آواز بلند کی اور خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کی،باغی ٹی وی نے خواتین کے حوالہ سے تمام تقریبات کو کوریج دی ،

    عورت مارچ لاہور میں مقامی ہوٹل کے باہر باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کی تصویر لگائی گئی ساتھ انکے گلے میں باغی ٹی وی کا لوگو لگایا گیا اور ایک تحریر بھی لکھی گئی، باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کے علاوہ سینئر صحافی اوریا مقبول جان کا بھی پوسٹر لگایا گیا تھا، عورت مارچ والوں کی جانب سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے اقدام کی لاہور پریس کلب نے بھی مذمت کی ہے،لاہور پریس کلب کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے پتلے بنا کر انکی تضحیک کرنے کی مذمت کرتے ہیں ،پریس کلب خواتین کے حقوق کا علمبردار ہے ،تا ہم عورت مارچ کے منتظمین کو اپنی صفوں سے شرپسند عناصر کو نکالنا ہو گا، ورنہ‌ صحافی ایسی تقریبات کا بائیکاٹ کریں گے اور احتجاجی عمل بھی اختیار کریں گے

    باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز عورت مارچ میں مجھ سمیت کئی سینئر صحافیوں کی تصاویر انکے چینل کے ساتھ لگا کر انکی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا،آزادی اظہار رائے کے دعویداروں نے آزادی اظہار رائے کی دھجیاں اڑائی ہیں، فائز کا کہنا تھا کہ جو عوام چاہتے تھے اسی حساب سے ان سے سوال کئے گئے تھے تا ہم عورت مارچ والوں نے باغی ٹی وی کی ٹیم اور دیگر صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں‌ڈالی ہیں ہم اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ عدالت لے کر جائیں گے

    اردو پوائنٹ کے اینکر فرخ شہباز وڑائچ کی تصویر بھی لگائی گئی تھی، فرخ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حرکت آج عورت مارچ کی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی فلیٹیز ہوٹل کے باہر مجھ سمیت کئی صحافی دوستوں کے پتلے لگائے گئے اگر یہ اظہار رائے کی آزادی ہے تو اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے

    عورت مارچ کو روکا جائے،وزیر مذہبی امور کے خط کے بعد بحث جاری

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    عورت مارچ کو فول پروف سیکیورٹی دینے کی ہدایات

    عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

  • سپریم کورٹ کا پچیسویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ کا پچیسویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ نے پچیسویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے

    سپریم کورٹ نے کہا کہ کیس کو ماہ رمضان کے بعد لارجر بینچ میں سنا جائے گا،آئین میں درج وفاقی اکائیوں کی حیثیت تبدیل نہ کرنے کا سوال اٹھایا گیا اہم بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے آئین میں ترمیم پر کیا اختیارات اور حدود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ تعین کرنا ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کس حد تک آئین میں ترامیم کر سکتی ہے،اگر علاقائی انضمام سے رہائشیوں کے حقوق متاثر ہوں تو وفاقی اکائیوں کا سوال اٹھ سکتا ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا فاٹا انضمام سے قبائلی علاقوں کے رہائشیوں کی صوبائی اور قومی اسمبلی میں نمائندگی متاثر ہوئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد مسئلہ ہی فاٹا نمائندوں کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کا تھا،فاٹا کے نمائندوں نے پچیسویں آئینی ترمیم کی حمایت کی تھی، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ فاٹا انضمام سے اصل مسئلہ کیا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا والے کہہ چکے ان کی تہذیب خیبرپختونخوا سے مختلف ہے،عدالت نے کہا کہ فاٹا والوں کا موقف آچکا کہ آئین نے ان کو الگ حیثیت کا جو تحفظ دیا وہ ترمیم سے واپس لے لیا گیا، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ نے اختیارات واپس لیتے وقت فاٹا کی عوام سے رائے لی تھی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں ہے اگر کشمیر آزاد ریاست کے طور پر رہنا چاہے تو کشمیریوں کی رائے لی جائے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اور بیک گراؤنڈ بالکل مختلف ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت آئین کا بنیادی جز ہے، پچیسویں آئینی ترمیم کا مقصد قبائلی علاقوں میں جمہوریت لانا بتایا گیا،ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا پارلیمنٹ کی ترمیم کو کالعدم قرار دینا اختیارات سے تجاوز ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام سوالوں کے جوابات پر تفصیلی دلائل سنیں گے سپریم کور ٹ نے کیس کی سماعت رمضان کے بعد تک ملتوی کردی

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی بھی اسلام آباد پولیس کے خلاف بول اٹھے

    اسلام آباد جرائم کا گڑھ بن گیا، روز پولیس مقابلے، ڈکیتیاں، وجہ کیا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد