Baaghi TV

Category: صحت

  • پولیو مہم،اسلام آباد میں 5سال سے کم عمر  4 لاکھ 21 ہزار بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ٹارگٹ

    پولیو مہم،اسلام آباد میں 5سال سے کم عمر 4 لاکھ 21 ہزار بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ٹارگٹ

    اسلام آباد میں انسدادِ پولیو مہم کل یعنی پیر سے شروع ہوگی-

    باغی ٹی وی: ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد میں 5سال سے کم عمر 4 لاکھ 21 ہزار بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ٹارگٹ ہے، جن کو پولیو ٹیم اور ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلائیں گے پولیو ٹیم اور ہیلتھ ورکرز پبلک مقامات ، بس سٹینڈز اور دیگر جگہوں پر دورہ کر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے۔

    مہم کے حوالے سےڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ 5 سال سے کم عمر ہر بچے کو انسدادِ پولیو کی ویکسین پلائی جائے ، ڈپٹی کمشنر نے والدین سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو پولیو کے دو قطرے ضرور پلائیں اور پولیو سے محفوظ پاکستان بنائیں۔

    بھارتی پنجابی فلموں کے معروف اداکار ننکانہ صاحب پہنچ گئے

    پولیو شخص در شخص منتقل ہو سکتی ہے یہ دراصل اعصاب کو کمزور کرنے والی بیماری ہے۔ پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ یہ بیماری بچوں میں عام ہے لیکن اس کے شکار بالغ افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ پولیو ایک سنگین اور ممکنہ طور پر مہلک متعدی بیماری ہے۔ پولیو وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے اور دوسرے شخص کو متاثر کرتا ہے۔

    بارشوں کا طاقتور سسٹم ملک میں اثرانداز ہونا شروع

    یہ وائرس متاثرہ شخص کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں فالج (جسم کے حصوں کو حرکت نہیں دے سکتے ) ہو سکتا ہے پولیو 1998 میں تقریباً دنیا کے تمام ہی ممالک میں موجود تھا اور براعظم افریقہ کے تمام ہی ممالک اس وائرس سے شدید متاثر تھے 2011 تک پولیو صرف بھارت، پاکستان، افغانستان اور ناجیریا میں رہ گیا تھا۔ جبکہ بھارت کو 2011 میں پولیو فری ملک قرار دئیے جانے کے بعد 2014 میں ناجیریا میں بھی پولیو ختم ہوچکا ہے اور اب پولیو صرف پاکستان اور افغانستان میں رہ گیا ہے۔

    پاکستان کو آئندہ ماہ کے آخر میں دو ارب ڈالر ملنے کا امکان

  • پاکستان میں سپلائی ہونیوالے کھانسی کے شربت میں نقصان دہ اجزا، الرٹ جاری

    پاکستان میں سپلائی ہونیوالے کھانسی کے شربت میں نقصان دہ اجزا، الرٹ جاری

    موسم سرما کا آغاز، سموگ، شہری نزلہ ،زکام کھانسی کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں تو دوسری جانب خبر آئی ہے کہ لاہور کی ایک فارما سیوٹیکل کمپنی نے کھانسی کا شربت بنایا ہے جس میں نقصان دہ اجزا ہیں،

    مالدیپ حکومت اور ڈبلیو ایچ او نے اس ضمن میں الرٹ جاری کیا ہے، الرٹ میں کہا گیا ہے کہ کھانسی کا شربت لاہور کی کمپنی نے بنایا، اس شربت میں نقصان دہ ڈائی ایتھلین گلائکول اور ایتھلین گلائکول نامی کثافتیں پائی گئی ہیں،الرٹ جاری ہونے کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے کھانسی کے سیرپ کے مختلف بیچ مارکیٹ سے اٹھانے کی ہدایت کی ہے

    مالدیپ اور ڈبلیو ایچ او نے جس کھانسی کے سیرپ کے حوالہ سے الرٹ جاری کیا ہے، وہ شربت مالدیپ، فجی سمیت دیگر ممالک کو برآمد کیا گیا تھا جبکہ پاکستان کے شہروں میں بھی اسکی سپلائی کی گئی تھی

    کھانسی کے سیرپ میں نقصان دہ اجزا کے الرٹ کے مطابق پنجاب حکومت حرکت میں آ گئی اور کھانسی کے پانچ سیرپ پر پابندی لگا دی، پنجاب کے نگران وزیر پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے ایسے سیرپ پر پابندی عائد کر دی ہے جن کے بارے میں رپورٹ آئی کہ ان میں نقصان دہ اجزا ہیں،انہوں نے تایا کہ لاہور میں بنائے جانے والے کھانسی کے سیرپ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی بھیجے جاتے تھے، پنجاب کے تمام میڈیکل اسٹوروں سے ان سیرپس کا اسٹاک فوری طور پر اٹھایا جا رہا ہے جبکہ سیرپ تیار کرنے والی فیکٹری کو سر بمہر کیا جا رہا ہے

    واضح رہے اس سے پہلے بھارتی کھانسی کے سیرپ میں موجود انہی کثافتوں سے کئی اموات ہو چکی ہیں،بھارت نے زہرآلود کھانسی کے شربت پر ایک اور دوا ساز کمپنی کا مینوفیکچرنگ لائسنس معطل کیا تھا،بھارت نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اپریل میں مشال جزائر اور مائیکرونیشیا میں پائے جانے والے کھانسی کے شربتوں میں آلودگی کی نشاندہی کرنے کے بعد دوا بنانے والی کمپنی کا لائسنس معطل کیا تھا

    گذشتہ سال گیمبیا اور ازبکستان میں 89 بچّوں کی اموات کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپریل میں مارشل جزائر اور مائیکرو نیشیا میں اس بھارتی کمپنی کےتیارکردہ کھانسی کےشربت میں زہرآلود اجزا کی نشان دہی کی تھی اس کے بعد سے ہندوستانی ریگولیٹرز دوا سازاداروں کامسلسل معائنہ کررہے ہیں اس نے عالمی سطح پرسستی ادویہ مہیا کرنے والے’’دنیا کی فارمیسی‘‘ کے طور پر مشہور بھارت کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے۔

  • لاہور کے باشندوں کی اوسط سالانہ عمر میں چھ سے سات سال کی کمی ہو رہی ہے،ماہرین

    لاہور کے باشندوں کی اوسط سالانہ عمر میں چھ سے سات سال کی کمی ہو رہی ہے،ماہرین

    لاہور: ماہرین کا کہنا ہے کہ اسموگ کے نتیجے میں لاہور کے باشندوں کی اوسط سالانہ عمر میں چھ سے سات سال کی کمی ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف شکاگو کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے لوگوں کی اوسط عمر کم ہونا شروع ہوگئی ہے اسموگ کے نتیجے میں یہاں کے باشندوں کی اوسط سالانہ عمر میں چھ سے سات سال کی کمی ہو رہی ہے لاہور میں رہنے والے بچوں کے لیے موجودہ صورتحال میں باہر نکلنا ایک دن میں 30 سگریٹ پینے کے برابر ہے لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس 445 ریکارڈ کیا گیا ہے علاوہ ازیں آلودہ ترین شہروں میں کراچی دوسرے اور پشاور تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

    محکمہ ماحولیات کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس 200 کو نارمل سمجھا جاتا ہے۔ انڈیکس کی سطح 200 سے 300 کے درمیان آنکھوں میں جلن کا باعث بنتی ہے جبکہ اگر اے کیو آئی 400 سے 500 کی سطح تک پہنچ جائے تو اسے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہےاسی کے ساتھ ساتھ اگر اے کیو آئی 500 کی سطح کو عبور کرتا ہے تو اس سے صحت مند افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    این ڈی ایم اے نے اسموگ ایڈوائزری جاری کر دی

    واضح رہے کہ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست لاہور اس وقت شدید سموگ کی لپیٹ میں ہے، لاہور نے اس سال بھی سب سے زیادہ آلودہ شہر ہونے کا ریکارڈ مستقل طور پر برقرار رکھا ہے۔

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) نے اسموگ ایڈوائزری جاری کر دی، این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتےوسطی،جنوبی پنجاب میں اسموگ خطرناک حد تک پہنچنے کا امکان ہے،اسلام آباد، راولپنڈی ڈویژن میں ائیرکوالٹی انڈیکس معتدل سے خراب ہونے کا اندیشہ ہے،گوجرانوالہ، ملتان،لاہور، بہاولپور،فیصل آباد میں اسموگ خطرناک حد تک جاسکتی ہے، سرگودھا،ڈی جی خان،ساہیوال ڈویژن بھی اسموگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

    او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    ایڈوائزری میں عوام سے کہا گیا ہے کہ بیرونی سرگرمیوں کو محدود کریں،باہر جاتے وقت ماسک پہنیں، مقامی ہوا کے معیار کی سطح کے بارے میں آگاہ رہیں، نظام تنفس کو اسموگ کے اثرات سے بچانے کے لیے پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

  • امریکہ میں  نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ

    امریکہ میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ

    امریکہ میں گزشتہ دو دہائی سے زائد کے عرصے میں پہلی بار 2022 کے دوران نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکہ میں امراض کی روک تھام و تدارک مراکز کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 2022 کے دوران 20 ہزار 538 نوزائیدہ بچوں کی اموات ہوئیں جو کہ 2021 کی 19 ہزار 928 اموات کی نسبت 3 فیصد زائد ہےیہ پہلا سال ہے جس میں گزشتہ برس کی شرح اموات میں اضافہ ہوا۔

    اس میں 28 دن سے کم عمر میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں 3 فیصد جبکہ 28 سے 364 دن تک کی شرح اموات میں 4 فیصد اضافہ ہوا،زچگی کی پیچیدگیوں جیسے پریکلیمپسیا یا قبل ازوقت زچگی اور بیکٹیریل اسیپسس کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں بالترتیب 8 فیصد اور 14 فیصد اضافہ ہوا۔

    امریکی اکیڈمی برائے امراض اطفال کے صدر سینڈی ایل چھونگ نے بتایا کہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ پریشان اور مایوس کن ہے۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں وافر وسائل ہیں اس کے باوجود امریکہ میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات حیران کن حد تک زیادہ ہے۔

    سینڈی ایل چھونگ نے بتایا کہ اس کی کئی مختلف وجوہات ہیں غربت کا شکار خاندانوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک اور سستی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی سمیت بہت سی مشکلات کا سامنا ہے قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال میں نسلی اور گروہی تعصب، قبل از پیدائش صحت خدمات ، بچوں کے پیدائشی وزن میں کمی اور بعض اوقات نوزائیدہ بچوں کی اموات اس کی ممکنہ وجوہات میں سے ایک ہیں۔

  • نگلیریا  جیسے موضی مرض کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت

    نگلیریا جیسے موضی مرض کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت

    کراچی میں نگلیریا نے ایک اور جان لے لی ہے اور نارتھ کراچی میں بائیس سالہ طالب علم محمد ارسل بیگ نگلیریا سے جاں بحق ہوگیا جبکہ محکمہ صحت کے مطابق محمد ارسل کو 27 اکتوبر کو نجی اسپتال میں لایا گیا تھا، پی سی آر ٹیسٹ میں نگلیریا پازیٹو آیا تھا تاہم واضح رہے کہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے مطابق اہل خانہ کے اسرار پر علاقے سے پانی کے نمونوں کے حصول کے لیے ٹاؤن سرویلنس کوآرڈینیٹر کو مطلع کردیا گیا ہے۔

    جبکہ ماہرین نے نگلیریا سے بچاؤ کیلئے پانی میں کلورین کی مناسب مقدار لازمی شامل کرنے کی تجویز دی ہے، کراچی میں رواں سال نگلیریا سے اموات کی تعداد دس ہوگئی ہے اور محکمہ صحت نے عوام سے نگلیریا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مسلم لیگ ن نے پارٹی رہنماؤں کا اجلاس کل طلب کرلیا
    سوئس خاتون کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کرمبینہ دوست نے کیا قتل
    معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل کا نماز جنازہ ادا کردیا گیا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز محکمہ صحت سندھ کی جانب سے عوام سے نگلیریا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی گئی اور محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ نارتھ کراچی ضلع وسطی کا رہائشی 22 سالہ طالبعلم نگلیریا سے چل بسا۔ محمد ارسل کو 27 اکتوبر کو نجی اسپتال لایا گیا تھا۔ محمد ارسل کے پی سی آر ٹیسٹ میں نگلیریا پازیٹو آیا تھا۔ اہلخانہ کے اسرار پرعلاقے سے پانی کے نمونے لینے کیلئے اقدامات کیے۔

  • امریکی ڈالر 280 روپے پر بند

    امریکی ڈالر 280 روپے پر بند

    انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 280 روپے سے زائد ریٹ پر بند ہوا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق امریکی ڈالر ایک روپے 14 پیسے کمی سے 280 روپے 51 پیسے پر بند ہوا ہے۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی امریکی ڈالر ایک روپے کی کمی سے 280 روپے میں فروخت ہو رہا ہے تاہم سٹاک مارکیٹ میں آج 418 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا اور 100 انڈیکس 48 ہزار 140 پوائنٹس پر بند ہوا۔


    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن رہا, کاروباری دن میں 100 انڈیکس 458 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا لیکن کاروبار کے اختتام پر ہنڈریکس انڈیکس 418 پوائنٹس اضافے سے 48140 پر بند ہوا۔ جبکہ حصص بازار میں 35 کروڑ شیئرز کے سودے 10.7 ارب روپے میں طے ہوئے۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 52 ارب روپے بڑھ کر 7089 ارب روپے ہے۔

  • نزلہ زکام کی علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہیں،تحقیق

    نزلہ زکام کی علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہیں،تحقیق

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ نزلہ زکام(جسے طبی زبان میں کولڈ کہا جاتا ہے) کی علامات کئی ہفتوں تک سامنے آسکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: جرنل لانسیٹ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ لانگ کووڈ کی طرح لانگ کولڈ بھی موجود ہے، لانگ کووڈ سے مراد کووڈ کی علامات کا دورانیہ کئی ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہنا ہے،اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ نظام تنفس کے امراض جیسے عام نزلہ زکام کی علامات بھی ابتدائی بیماری کے بعد کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہیں-

    برطانیہ کی کوئین میری یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 10 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا دوران تحقیق یہ دیکھا گیا کہ نظام تنفس کے امراض سے طویل المعیاد بنیادوں پر صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ عام نزلہ زکام سے بھی صحت پر طویل المعیاد بنیادوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن کے بارے اب تک علم نہیں تھا البتہ تحقیق میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ لانگ کولڈ کا دورانیہ کتنا طویل ہو سکتا ہے تاہم تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کے 22 فیصد مریضوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر علامات کا سامنا ہوتا ہے جبکہ نظام تنفس کے دیگر امراض جیسے کولڈ، فلو اور نمونیا کے بھی 22 فیصد مریضوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر علامات کا سامنا ہوتا ہے۔

    خلا میں آزاد گھومتے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    محققین نے بتایا کہ ابتدائی بیماری کے بعد بھی مختلف علامات کا سامنا ہونا غیرمعمولی نہیں بلکہ ایسا متعدد امراض کے شکار افراد کے ساتھ ہوتا ہے ابتدائی بیماری کے بعد متعدد مریضوں کو دائمی تھکاوٹ جیسے عارضے کا سامنا ہوتا ہے، مگر اس طرح کی علامات کی تشیص نہیں ہوتی مریضوں کو جن علامات کا زیادہ سامنا ہوتا ہے ان میں کھانسی، پیٹ درد اور ہیضہ قابل ذکر ہیں ابتدائی بیماری کی شدت طویل المعیاد علامات کے حوالے سے اہم ثابت ہوتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 اور نظام تنفس کے دیگر امراض کے طویل المعیاد اثرات کے حوالے سے تحقیق جاری ہے کیونکہ اس سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ آخر کچھ افراد دیگر کے مقابلے میں زیادہ وقت تک بیمار کیوں رہتے ہیں، اس سے متاثرہ افراد کے مناسب علاج کو شناخت کرنے میں بھی مدد ملے گی-

    ورلڈ کپ 2023: نیدرلینڈز کا نیوزی لینڈ کیخلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ

  • نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے. قومی ادارہ صحت

    نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے. قومی ادارہ صحت

    قومی ادارہ صحت نے ملک میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہرکردیا ہے اور قومی ادارہ صحت نے وفاقی اور صوبائی ہیلتھ اتھارٹیوں کو نیپا وائرس کا انتباہی مراسلہ ارسال کردیا ہے جبکہ قومی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ بھارتی سرحدی علاقوں میں موجود چمگادڑ سے نیپا وائرس پاکستان منتقل ہوسکتا ہے، متاثرہ چمگادڑ کے کھائے پھل سے نیپا وائرس انسان میں منتقل ہوسکتا ہے۔

    علاوہ ازیں قومی ادارہ صحت کے مطابق نیپا وائرس متاثرہ چمگادڑ اور سور سے انسان میں منتقل ہوتا ہے اور قومی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ نیپا وائرس کی علامات 5 تا 14 دن تک رہ سکتی ہیں،سر درد، بخار اور سانس لینے میں دشواری نیپا وائرس کی علامات ہیں، جی متلانا، قے، پٹھوں میں درد اور غنودگی بھی نیپا وائرس کی علامات ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ‎‎مارینا ایوانوونا تسوتایوا م کو بیسویں صدی کے روسی ادب میں نمایاں مقام حاصل

    نیب کا انٹیلی جنس ماہرین بھرتی کرنے کا فیصلہ
    سولرپینلز کی مزید 6 فرضی کمپنیاں بے نقاب،13 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف
    آسٹریلیا کی بھارت کے خلاف بیٹنگ جاری،8 کھلاڑی آؤٹ
    تاہم خیال رہے کہ قومی ادارہ صحت نےکہا ہےکہ ائیرپورٹ اور سرحدی مقامات پر مؤثرسرویلینس یقینی بنائی جائے، نیپا وائرس کے علاج کے لیے اینٹی وائرل یا ویکسین دستیاب نہیں ہے، واضح رہےکہ بھارت میں نیپا وائرس کے متعدد کیس سامنے آئے ہیں، یہ کیس جنوبی ریاست کیرالہ میں سامنے آئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کیرالا میں مہلک وبائی وائرس نیپا سے اب تک متعدد افراد ہلاک جب کہ 700 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔

  • نوجوانوں میں  عالمی سطح پر ذیابیطس کی شرح میں اضافہ

    نوجوانوں میں عالمی سطح پر ذیابیطس کی شرح میں اضافہ

    لندن: ایک نئی تحقیق کے نتائج کے مطابق 30 سال کی عمر میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص زندگی کی توقع کو 14 سال تک کم کر سکتی ہے-

    باغی ٹی وی: برطانیہ میں یونیورسٹی آف کیمبرج کے وکٹر فلپ ہارٹ اینڈ لنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کلینیکل ایپیڈیمولوجی کے پروفیسر اور مطالعہ کے مصنف ایمانوئل ڈی اینجلینٹونیو کا کہنا تھا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کو ایک بیماری کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو بوڑھے بالغوں کو متاثر کرتی تھی لیکن ہم تیزی سے دیکھ رہے ہیں کہ نوجوان لوگوں کی زندگی میں بھی اس کی تشخیص ہورہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کی زندگی کی توقع بہت کم ہونے کا خطرہ ہے،30 سال کی عمر میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص زندگی کی توقع کو 14 سال تک کم کر سکتی ہے،یہاں تک کہ 50 سال کی عمر میں تشخیص زندگی کی متوقع عمر کو چھ سال تک کم کر سکتی ہے۔

    نئی تحقیق کے لیے کیمبرج، گلاسگو اور دوسری یونیورسٹیوں کے سائنسدانوں نے 15 لاکھ افراد کے لیے دو بڑے بین الاقوامی مطالعات – ایمرجنگ رسک فیکٹرز کولیبریشن اور یو کے بائیو بینک کے ڈیٹا کی جانچ کی محققین نے پایا کہ ذیابیطس کی ابتدائی تشخیص ہر دہائی میں تقریباً چار سال کی کم متوقع عمر سے منسلک تھی۔

    چائے کا استعمال ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کم کرتا ہے،تحقیق

    قبل ازیں حال ہی میں ماہرین نے ایک تحقیق میں کہا ہے کہ چائے کا استعمال ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کو 28 فی صد تک کم کر دیتا ہے ساؤتھ ایسٹ یونیورسٹی کے محققین نے چین سے تعلق رکھنے والےافراد کی روزانہ چائے پینے کی عادت کا مطالعہ کیاتحقیق میں دو اقسام کے افراد شامل ہوئے، ایک وہ جو چائے کے عادی نہیں تھے اور دوسرے وہ جو ایک ہی قسم کی چائے پیا کرتے تھے-

    جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں منعقد یورپین ایسو سی ایشن فار اسٹڈی آف ڈائیبیٹیز کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹ اور انسداد سوزش اثرات ہوتے ہیں جو انسولین کی حساسیت کو بہتر کردیتے ہیں یہ اثرات بالخصوص ڈارک ٹی (قدیم چائے جس کو بنانے کے لیے اندرونی طور کیمیائی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں) میں زیادہ پائے گئے۔

    گٹکا ماوا کھانے اور دیگر منشیات استعمال کرنے والےاہلکاروں کیخلاف محکمانہ کارروائیوں کا فیصلہ

  • بنگلہ دیش؛  ڈینگی وبا سے ایک ہزار سے زائد اموات

    بنگلہ دیش؛ ڈینگی وبا سے ایک ہزار سے زائد اموات

    بنگلہ دیش میں محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق رواں برس اب تک ڈینگی بخار سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں مچھروں سے پھیلنے والی وبا سے ہلاکتوں کی یہ سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ تعداد ہے۔

    جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز نے اتوار کی رات شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک ہزار چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ دو لاکھ سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں اور ہیلتھ سروسز کے سابق ڈائریکٹر بی نذیر احمد نے بتایا ہے کہ مون سون کے موسم میں پھوٹنے والے وبائی امراض کے باعث ہلاکتوں میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔

    واضح رہے بی نذیر احمد نے مزید کہا کہ نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ دنیا کے کئی ممالک کو ڈینگی بخار کی وبا کا سامنا ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈینگی کی وبا بنگلہ دیش میں صحت کے نظام پر بہت زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے، ڈینگی کی علامات میں تیز بخار، سر درد، متلی، الٹی، پٹھوں میں درد شامل ہے اور انتہائی سنگین صورتوں میں خون بھی بہنے لگتا ہے، بیماری پر بروقت قابو نہ پانے سے یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

    خیال رہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ڈینگی کے خاص قسم کے مچھروں سے پھیلنے والے دوسری قسم کے وائرس جیسے چکن گونیا، زرد بخار اور زیکا سے بھی خبردار کیا ہے، یہ وائرس بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔