Baaghi TV

Category: صحت

  • تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آ یا ہے-

    بی بی سی آئی کی تحقیق کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں 331 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹیو کی تصدیق ہوئی ، 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا، لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران دیکھا گیا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی، جس سے ممکنہ طور پر انجیکشنز میں موجود دوا خراب ہوئی ہو گی ان میں سے چار مواقع پر اسی دوائی کی بوتل سے ایک مختلف یا دوسرے بچے کو دوا دی گئی یہ تو نہیں جانتے کہ اُن میں سے کوئی بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھا یا نہیں لیکن اس طرح سے دوبارہ استعمال واضح طور پر وائرل ٹرانسمیشن کا خطرہ رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر الطاف احمد پاکستان کے ممتاز کنسلٹنٹ مائیکروبائیولوجسٹ اور انفیکشس ڈیزیز کے ماہر نے خفیہ فوٹیج دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے ٹیکے کی سوئی بدل کر نئی بھی لگا دی ہے تو ٹیکے کے پچھلے حصے، جسے ہم سرنج باڈی کہتے ہیں، میں وائرس ہو سکتا ہے جو نئی سوئی کے ذریعے ٹرانسفر ہو سکتا ہے۔‘

    ہسپتال کی دیواروں پر محفوظ انجیکشن لگانے کے طریقہ کار کی تصاویر والے پوسٹرز کے باوجود ہم نے سٹاف، بشمول ایک ڈاکٹر، کو 66 مرتبہ صاف دستانے پہنے بغیر مریضوں کو ٹیکا لگاتے ہوئے فلمایا اور ایک دوسرے ماہر نے بی بی سی آئی کو بتایا کہ یہ پاکستان میں مجموعی طور پر انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کی کمزور یوں کو ظاہر کرتا ہے۔

    بی بی سی آئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک نرس کو بھی دیکھا جو میڈیکل ویسٹ باکس یعنی طبی فضلے سے بھرے ڈبے میں بنا صاف دستانے پہنے ہاتھ پھیر رہی تھیں ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دوائی انجیکٹ کرنے کے ہر اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

    تاہم جب یہی انڈر کور فوٹیج تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اسے درست ماننے سے انکار کر دیا انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج یا تو ان کی تعیناتی سے پہلے بنی یا پھر یہ فوٹیج ’سٹیج بھی ہو سکتی ہے،انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ہسپتال بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈاکٹر گل قیصرانی ایک مقامی نجی کلینک میں کام کرتے ہیں ڈاکٹر قیصرانی نے سب سے پہلے 2024 کے اواخر میں یہ دیکھا کہ اُن کے کلینک میں آنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن بچوں میں یہ تشخیص کی ان میں سے 65 سے 70 کا علاج تونسہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ہوا تھا ایک بچی کی والدہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُسی سرنج سے ٹیکا لگایا گیا جس سے اُس کی ایک اور کزن کو بھی لگایا گیا تھا اورجو ایچ آئی وی پازیٹیو ہے، اور پھر وہی سرنج کئی اور بچوں پر بھی استعمال ہوئی ایک بچے کے والد کے مطابق جب انھوں نے استعمال شدہ سرنج لگانے پر احتجاج کیا تو نرسز نے ان کا احتجاج نظرانداز کر دیا۔

    بی بی سی آئی نے پنجاب ایڈز سکریننگ پروگرام، نجی کلینکس اور پولیس کی جانب سے لیک ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ایسے 331 بچوں کی شناخت کی جو تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پازیٹیو ہوئے 97 بچوں میں سے صرف چار کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے بہت کم بچوں کو اپنی والدہ سے یہ مرض لگا، یعنی ماں سے بچے میں مرض کی ٹرانسمیشن ہوئی-

    صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق 331 بچوں میں سے نصف کو استعمال شدہ سوئی کی وجہ سے ایچ آئی وی لگا۔ باقی کے بارے میں ان اعداد و شمار میں نہیں بتایا گیا کہ انھیں ایچ آئی وی کیسے ہوا ہو گامارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے 106 کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل کر دیا تاہم معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسر ایک بار پھر بچوں کا علاج کر رہے تھے-

  • روزانہ کافی پینے کے حیران کن فوائد، ماہرِ امراضِ معدہ کی تفصیلی وضاحت

    روزانہ کافی پینے کے حیران کن فوائد، ماہرِ امراضِ معدہ کی تفصیلی وضاحت

    دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے کافی پینا صبح کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی دن کی شروعات ایک کپ کافی کے بغیر نامکمل سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ نظامِ ہاضمہ کو بھی متحرک کرتی ہے۔

    حال ہی میں معروف ماہرِ امراضِ معدہ ڈاکٹر سورب سیتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں بتایا کہ اگر کوئی شخص مسلسل 14 دن تک روزانہ کافی پیتا ہے تو اس کے جسم پر کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر سیتی کے مطابق کافی کا باقاعدہ استعمال جگر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی پینے والوں میں فیٹی لیور، فائبروسس اور سروسس جیسے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کافی جگر میں داغ دار ٹشو بننے کے عمل کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم جگر کی مکمل صحت کے لیے متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی بھی ضروری ہے۔کافی میں موجود کلوروجینک ایسڈ جیسے اجزاء انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ بلیک کافی میٹابولزم کو تیز کرتی ہے اور جسم میں چربی کے جلنے کے عمل کو بڑھاتی ہے۔یہ نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ بھوک کو بھی کم کرتی ہے، جس سے کیلوریز کے استعمال کو کنٹرول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔کافی میں موجود کیفین دماغی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ اس سے توجہ، چوکنا پن اور ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق کیفین وقتی طور پر نیند کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہ نیند کا مکمل متبادل نہیں ہے۔

    ڈاکٹر سیتی کے مطابق کافی آنتوں کی حرکت کو تیز کرتی ہے اور ہاضمے کو بہتر بناتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 29 فیصد کافی پینے والوں کو کافی پینے کے بعد رفع حاجت کی خواہش محسوس ہوتی ہے۔کافی میں موجود تیزاب گیسٹرن ہارمون کو متحرک کرتے ہیں، جو آنتوں کی حرکت کو بڑھاتا ہے۔ڈاکٹر سیتی نے تجویز دی کہ روزانہ ایک سے تین کپ بلیک کافی مناسب ہے، تاہم اگر کسی کو دل کی دھڑکن تیز ہونا، بے چینی، تیزابیت یا نیند کی کمی محسوس ہو تو کافی کا استعمال کم یا بند کر دینا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کافی میں زیادہ چینی یا مصنوعی کریمرز شامل کرنا اس کے فوائد کو کم کر سکتا ہے۔
    کافی اگر اعتدال کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ جگر، دماغ اور نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر فرد کو اپنی جسمانی کیفیت کے مطابق اس کا استعمال کرنا چاہیے۔

  • پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ پینے کے پانی میں موجود نمک بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے۔

    فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں موجود سوڈیم خاموشی سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن رہا ہےتحقیق میں بتایا گیا کہ پانی میں نمک کی زیادہ مقدار اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان واضح تعلق موجود ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو ساحلی علاقوں یا سمندر کے قریب رہائش پذیر ہیں۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لوگوں میں خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے ماحولیاتی عنصر کی نشاندہی کرنا ہے جو بڑی تعداد میں افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں لوگ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ نمک اپنی خوراک کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، جبکہ پینے کے پانی میں شامل اضافی سوڈیم اس مقدار کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

    قیامت صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے،جوہری ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس تحقیق میں امریکا، بنگلادیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا اور مختلف یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے 74 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا نتائج سے پتا چلا کہ جو افراد زیادہ نمک یا کھارے پانی کا استعمال کرتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر دیگر افراد کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہوتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق نمکین پانی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، یہ رجحان خاص طور پر ساحلی علاقوں میں زیادہ نمایاں پایا گیا، جہاں زیر زمین پانی پینے کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے اور اس میں اکثر نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے بظاہر بلڈ پریشر میں یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، تاہم ماہرین صحت کے مطابق بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ بھی دل، گردوں اور دیگر اعضا پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

    لاہور پولیس ،بسنت سے قبل 1078 مقدمات درج کر کے 1015افراد گرفتار

    دنیا بھر میں تین ارب سے زائد افراد ساحلی علاقوں یا ان کے قریب رہتے ہیں، جہاں کھارے یا نمکین پانی کا استعمال عام ہے ماہرین کے مطابق صاف اور کم نمک والا پانی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے بی ایم جے گلوبل ہیلتھ میں شائع کیے گئے ہیں، جنہوں نے پینے کے پانی کے معیار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • ‎پنجاب میں 2,115 مستقل ڈاکٹروں کے عہدے ختم، لوکم پوسٹس متعارف

    ‎پنجاب میں 2,115 مستقل ڈاکٹروں کے عہدے ختم، لوکم پوسٹس متعارف

    ‎پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں پرائمری اور سیکنڈری صحت کے شعبے کے 2,115 جنرل کیڈر ڈاکٹروں کے مستقل عہدے ختم کرکے انہیں عارضی عہدوں میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے بعد طبی برادری میں شدید ردعمل پیدا ہوا اور اسے صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
    ‎یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کے 15 دسمبر کے اجلاس میں منظور کیے گئے قواعد کے تحت کیا گیا، جس کے مطابق سیکنڈری سطح کے عملے کو خصوصی مراعات کے ساتھ بھرتی کیا جائے گا۔ محکمہ مالیات نے بھی اس کی منظوری دی اور اتنے ہی نئے عارضی عہدے تخلیق کیے۔
    ‎ان مختلف زمروں کے جنرل کیڈر اور کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کے عہدے ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتالوں سے منسلک تھے، جو پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی کنٹرول میں تھے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صحت کا نظام شدید متاثر ہوگا، کیونکہ روزانہ ڈاکٹروں کی تبدیلی سے مریضوں کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ پہلی ملاقات میں کس ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی اور دوسری ملاقات میں کس سے ہوگی۔
    ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ختم کیے گئے عہدے گزشتہ ایک سال سے خالی تھے اور انہیں "عارضی عہدے ” قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی وسیع اصلاحاتی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ انتظامی اخراجات کم کیے جائیں اور مالی استحکام بہتر بنایا جا سکے۔ اس کا تعلق بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے بھی ہے۔
    دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے پنجاب حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک نے کہا کہ گریڈ 18، 19 اور 20 کے مستقل عہدے ختم کرکے انہیں عارضی عہدوں میں تبدیل کرنا ڈاکٹروں کے ساتھ ناانصافی ہے جو پہلے سے مستقل بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ محکمہ مالیات کی موجودہ بیوروکریسی حکومت کو گمراہ کر رہی ہے اور مختص فنڈز کو دیگر بجٹ خانوں میں منتقل کر رہی ہے، جو نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
    ‎پروفیسر شاہد ملک نے خبردار کیا کہ عارضی یا یومیہ اجرت پر ڈاکٹروں کی تقرری سے پورا صحت کا نظام متاثر ہوگا اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے کیریئر اور ترقی کے مواقع محدود ہو جائیں گے، جس کا براہِ راست اثر مریضوں پر پڑے گا۔ انہوں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لے کر محکمہ مالیات کا جاری کردہ نوٹیفکیشن معطل کیا جائے تاکہ بیوروکریسی کو ایسے اقدامات کرنے سے روکا جا سکے اور مستقبل میں دوبارہ ایسے اقدامات نہ کیے جائیں۔
    ‎مزید برآں، اس اقدام کے طبی نظام پر منفی اثرات واضح ہیں۔ مستقل ڈاکٹروں کے عہدوں کو عارضی پوسٹس میں بدلنے سے اسپتالوں میں مریضوں کے لیے علاج کا تسلسل متاثر ہوگا۔ روزانہ ڈاکٹروں کی تبدیلی سے مریض نہیں جان پائیں گے کہ ان کی پہلی ملاقات کے ڈاکٹر سے دوسری ملاقات میں کس ڈاکٹر سے ہو رہی ہے۔
    ‎یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ ترقی اور ترقیاں بھی متاثر کرے گا، کیونکہ گریڈ 18، 19 اور 20 میں ترقی کے لیے مستند عہدوں کی دستیابی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف کیریئر کے مواقع محدود ہوں گے بلکہ صحت کے نظام کی مجموعی کارکردگی بھی متاثر ہوگی۔

  • ملک بھر سے 40 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    ملک بھر سے 40 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    دسمبر 2025 میں ملک بھر میں 40 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے 127 سیوریج نمونے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 87 منفی نکلے، سندھ میں 23 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا، خیبر پختونخوا میں 8، پنجاب میں 6 ماحولیاتی نمونے مثبت نکلے،علاوہ ازیں بلوچستان میں 2، اسلام آباد میں ایک ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پولیو وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی، 2025 میں پولیو کے کل 31 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ، پنجاب میں لوگ بے خوف ہو کر گھروں میں رہتے اور سفر کرتے ہیں، طلال چودھری

    امریکہ .گرین لینڈ معاملہ :ٹرمپ نے ساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

    پنجاب بارکونسل الیکشن:اعظم نذیر تارڑ گروپ کو برتری،56 امیدوار کامیاب

  • ‎تحقیق: ٹیٹو کی سیاہی انسانی مدافعتی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے

    ‎تحقیق: ٹیٹو کی سیاہی انسانی مدافعتی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے

    حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹیٹو بنانے کے لیے استعمال ہونے والی سیاہی انسانی مدافعتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
    جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مدافعتی خلیات ٹیٹو کی سیاہی کے ذرات کو پہچان لیتے ہیں اور انہیں لمف نوڈز تک منتقل کر دیتے ہیں، جہاں یہ وقت کے ساتھ جمع ہو کر سوزش کا باعث بنتے ہیں۔
    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹیٹو کی سیاہی ویکسین کے اثرات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، نتائج کے مطابق ٹیٹو رکھنے والے افراد میں کووِڈ 19 ویکسین کا اثر کچھ حد تک کم ہو سکتا ہے جبکہ غیر فعال فلو ویکسین کے لیے مدافعتی ردعمل بہتر دیکھا گیا ہے۔
    ‎یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو کی کیمسٹ یولانڈا ہیڈبرگ کے مطابق جدید دور میں استعمال ہونے والی ٹیٹو سیاہیاں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔

    ‎انہوں نے مزید وضاحت کی کہ آج کل زیادہ تر ٹیٹو سیاہی مصنوعی رنگوں (Synthetic Pigments) پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں ایزو ڈائیز شامل ہیں، ان رنگوں کو حفاظتی خول میں بند کیا جاتا ہے تاکہ وہ جلد میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوں۔
    ‎تاہم، ماہرین کے مطابق خطرات اب بھی موجود ہیں، سب سے عام مسئلہ الرجک ردِعمل ہے اور ایک بار اگر الرجی پیدا ہو جائے تو ٹیٹو کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
    ‎تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ لیزر کے ذریعے ٹیٹو ختم کرنے سے رنگ کے ذرات جسم میں مزید پھیل سکتے ہیں۔
    ‎مزید برآں، حالیہ طویل المدتی مطالعات سے پتا چلا ہے کہ ٹیٹو رکھنے والے افراد میں لمفوما اور جلد کے کینسر کا خطرہ معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے، اگرچہ یہ خطرہ زیادہ نہیں، لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیٹوز صحت پر معمولی مگر قابلِ پیمائش اثرات ضرور ڈالتے ہیں۔

  • ‎چیٹ جی پی ٹی صحت سے متعلق سوالات کا بڑا ذریعہ بن گیا، روزانہ 4 کروڑ افراد رجوع کرنے لگے

    ‎چیٹ جی پی ٹی صحت سے متعلق سوالات کا بڑا ذریعہ بن گیا، روزانہ 4 کروڑ افراد رجوع کرنے لگے

    
اوپن اے آئی کے مقبول آرٹیفیشل انٹیلی جنس چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کو دنیا بھر میں روزانہ کروڑوں افراد استعمال کر رہے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ تقریباً 4 کروڑ صارفین صحت سے متعلق سوالات کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لیتے ہیں۔
    رپورٹ کے مطابق صارفین چیٹ جی پی ٹی سے بیماریوں کی علامات، ادویات، علاج کے طریقوں اور دیگر طبی معلومات کے بارے میں سوالات کرتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی سے کیے جانے والے مجموعی سوالات میں 5 فیصد سے زائد کا تعلق صحت کے شعبے سے ہوتا ہے۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے مجموعی 80 کروڑ صارفین میں سے تقریباً 20 کروڑ افراد ہر ہفتے کم از کم ایک بار صحت سے متعلق کوئی نہ کوئی سوال ضرور پوچھتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر صارفین سر درد کی نوعیت، کسی پیچیدہ تشخیص کے مفہوم یا نئی ادویات کے ممکنہ اثرات، جیسے تھکن، کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ‎رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 55 فیصد صارفین علامات کو سمجھنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا سہارا لیتے ہیں، 52 فیصد صحت سے متعلق عمومی سوالات پوچھتے ہیں، جبکہ 48 فیصد طبی اصطلاحات یا ہدایات کو سمجھنے کے لیے اس اے آئی ٹول کو استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح 44 فیصد افراد علاج کے مختلف آپشنز کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔
    ‎اوپن اے آئی کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی خاص طور پر ان افراد کے لیے مددگار ثابت ہو رہی ہے جنہیں فوری طور پر ڈاکٹر یا طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔

  • 2025 کی آخری قومی انسدادِ پولیو مہم کا کل سے باقاعدہ آغاز

    2025 کی آخری قومی انسدادِ پولیو مہم کا کل سے باقاعدہ آغاز

    ملک بھر میں 2025 کی آخری قومی انسداد پولیو مہم کل سے شروع ہو جائے گی۔

    نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق ملک بھر میں 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والی اس 7 روزہ انسداد پولیو مہم میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گےپنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد، سندھ میں 1 کروڑ 6 لاکھ سے زائد، خیبرپختونخوا میں 72 لاکھ سے زائد، بلوچستان میں 26 لاکھ سے زائد، اسلام آباد میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد، گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 28 ہزار سے زائد اور آزاد کشمیر میں 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،مہم میں 4 لاکھ سے زائد مرد و خواتین پولیو ورکرز اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

    رواں سال پاکستان میں 30 پولیو کیس رپورٹ ہوئے ہیں، کوآرڈی نیٹر ای او سی بلوچستان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ، بارکھان اور چمن میں وائرس پایا گیا ہے۔

  • دنیا میں ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی

    دنیا میں ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا میں ہومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس (ایچ آئی وی) کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ خطے بن کر سامنے آئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 4 کروڑ 80 لاکھ مریضوں میں سے 6 لاکھ 10 ہزار افراد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رہتے ہیں، جہاں نئے انفیکشنز کی سالانہ شرح گزشتہ دس برس کے دوران تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ 2016 میں 37 ہزار افراد اس وائرس کا شکار تھے جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 72 ہزار تک پہنچ گئی۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ مذکورہ خطے میں کم از کم ہر 10 میں سے 4 افراد کو اپنی ایچ آئی وی اسٹیٹس کا علم ہے، جبکہ علاج حاصل کرنے والوں کی تعداد اس کے مقابلے میں کافی کم ہے اور صرف ہر تین میں سے ایک شخص علاج تک رسائی رکھتا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایڈز کے خلاف عالمی رسپانس ایک "اہم موڑ” پر ہے کیونکہ ایچ آئی وی کے لیے وقف فنڈنگ میں کمی کئی دہائیوں کی پیش رفت کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ فنڈنگ کم ہونے سے نئے انفیکشنز اور اموات میں اضافہ ہوگا، صحت کے نظام پر دباؤ بڑھے گا اور 2030 تک ایڈز کے خاتمے کا عالمی ہدف پورا نہیں ہو پائے گا۔

    عالمی ادارہ صحت نے ایچ آئی وی کی جلد تشخیص اور علاج کو بہتر بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے استعمال پر زور بھی دیا ہے

    روس کی چینی شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری کی منظوری

    آسٹریلیا ،انگلش کھلاڑیوں پر بغیر ہیلمٹ اسکوٹر چلانے پر قانونی کارروائی کا امکان

    پنجاب، ٹریفک خلاف ورزی پر ایک دن میں 63 ہزار سے زائد چالان

    وزیراعظم 6 روزہ غیر ملکی دورے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے

  • سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی ذہنی کارکردگی کے لیے نقصان دہ، تحقیق

    سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی ذہنی کارکردگی کے لیے نقصان دہ، تحقیق

    امریکا میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی کارکردگی، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔

    طبی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ کے مطابق، تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ بچے جو 9 سے 13 سال کی عمر کے دوران سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرتے ہیں، اُن کی بولنے، الفاظ سمجھنے اور حافظے کی جانچ کے ٹیسٹوں میں کارکردگی کم رہتی ہے۔یہ مطالعہ امریکا کے ایک معروف تحقیقاتی ادارے نے کیا، جس میں 6 ہزار 554 بچوں نے حصہ لیا، جن کی عمریں 9 سے 13 سال کے درمیان تھیں۔تحقیق کے دوران سوشل میڈیا کے استعمال کے تین پیٹرن سامنے آئے — تقریباً 58 فیصد بچے وہ تھے جو سوشل میڈیا بہت کم یا بالکل استعمال نہیں کرتے تھے، 37 فیصد بچے وقت کے ساتھ اس کا استعمال بڑھاتے گئے، جبکہ 6 فیصد بچے ابتدا ہی سے زیادہ اور مسلسل استعمال کرنے والے تھے۔

    نتائج سے ظاہر ہوا کہ کم سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بچوں نے بولنے، مطالعے، الفاظ کے ذخیرے اور یادداشت کے ٹیسٹوں میں بہتر کارکردگی دکھائی، جبکہ زیادہ استعمال کرنے والے بچوں کے اسکور میں 1 سے 4 نمبروں تک کمی دیکھی گئی۔ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال سے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جو فیصلہ سازی، زبان اور یادداشت کے لیے ضروری ہیں۔

    انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کے سوشل میڈیا کے وقت کو محدود کریں اور انہیں مطالعے، کھیلوں اور فنون جیسی مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کریں، ساتھ ہی روزانہ اُن کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی بھی کریں

    سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی کے انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کولمبیا پر الزام، "منشیات کا عالمی رہنما” قرار دے دیا

    پیرس کے لوور میوزیم میں بڑی ڈکیتی، شاہی تاج سمیت قیمتی زیورات چرالیے گئے

    محمد رضوان کی کپتانی خطرے میں، بڑا فیصلہ کل متوقع