Baaghi TV

Category: صحت

  • بنگلہ دیش میں خسرے سے ایک ہزار سے زائد اموات، وبا بے قابو

    بنگلہ دیش میں خسرے سے ایک ہزار سے زائد اموات، وبا بے قابو

    بنگلہ دیش میں خسرے کی وبا انتہائی سنگین صورت اختیار کرچکی ہے، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 9 ستمبر تک خسرے کے مشتبہ یا مصدقہ کیسز سے منسلک اموات کی تعداد 999 تک پہنچ گئی تھی، جبکہ مشتبہ کیسز 166,000 سے تجاوز کرچکے تھے۔ بعد کی مقامی رپورٹس میں اموات کی تعداد 1,002 تک پہنچنے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔

    وبا کا سب سے زیادہ اثر کم عمر بچوں پر پڑا ہے۔ وبا کے ابتدائی مرحلے میں پانچ سال سے کم عمر بچے تقریباً 80 فیصد کیسز میں شامل تھے، جس پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش میں خسرے کی وبا کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ معمول کی ویکسینیشن میں پیدا ہونے والا خلا ہے۔ کووڈ-19 کے بعد معمول کی ویکسینیشن کا عمل متاثر ہوا، جبکہ 2024 اور 2025 کے دوران اہم حفاظتی ویکسینیشن مہمات میں آنے والے خلل نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا۔

    بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات کے پیش نظر بنگلہ دیشی حکومت نے عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف اور گاوی کے تعاون سے ہنگامی ویکسینیشن مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے تحت اب تک تقریباً 2 کروڑ بچوں تک خسرے سے بچاؤ کی ویکسین پہنچائی جاچکی ہے۔

    عالمی ادارۂ صحت کے مطابق خسرے کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں روکنے کے لیے آبادی میں تقریباً 95 فیصد ویکسین کوریج ضروری ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کی شرح میں کمی کے باعث خسرے جیسی انتہائی متعدی بیماری کے دوبارہ تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خصوصاً کم عمر بچوں میں اس کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس، ملک میں تعداد 41 ہوگئی

    کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس، ملک میں تعداد 41 ہوگئی

    کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا، جس کے بعد ملک میں اس وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 41 ہوگئی۔

    حکام کے مطابق اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ نوجوان کو گزشتہ روز نیپا اسپتال لایا گیا تھا۔ نوجوان کے جسم پر دانے موجود تھے، جس پر ڈاکٹروں نے اس کے سیمپلز ٹیسٹ کے لیے بھجوائے۔ پی سی آر ٹیسٹ میں ایم پاکس کی تصدیق ہوگئی۔

    حکام کے مطابق کراچی میں ایم پاکس کے اب تک 13 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ سندھ بھر میں کیسز کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔ ملک میں مجموعی طور پر منکی پاکس کے تصدیق شدہ کیسز 41 تک پہنچ گئے ہیں۔

    منکی پاکس کیا ہے؟

    منکی پاکس، جسے اب ایم پاکس بھی کہا جاتا ہے، ایک وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتی ہے، تاہم متاثرہ شخص سے دوسرے انسان میں بھی پھیل سکتی ہے۔ یہ وائرس پاکس وائرسز کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔

    منکی پاکس کا آغاز افریقا سے بتایا جاتا ہے اور اس کی مختلف اقسام وسطی اور مغربی افریقا میں پائی جاتی ہیں۔ انسانوں میں اس کا پہلا تصدیق شدہ کیس 1970 میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایک بچے میں سامنے آیا تھا۔

    منکی پاکس کی علامات کیا ہیں؟

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس کی علامات چیچک سے ملتی جلتی ہوسکتی ہیں، تاہم عام طور پر اس کی شدت چیچک کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

    متاثرہ شخص میں ابتدائی طور پر بخار، سر درد، جسم میں درد، کمزوری اور بعض صورتوں میں سانس لینے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں، جس کے بعد جسم پر دانے یا چھالے نمودار ہوجاتے ہیں۔

    یہ دانے جسم کے مختلف حصوں پر ظاہر ہوسکتے ہیں اور ان میں پیپ بھی بن سکتی ہے۔ مریض کو خارش، بے چینی اور جسمانی تکلیف کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

    کیا منکی پاکس جان لیوا ہوسکتا ہے؟

    ماہرین کے مطابق زیادہ تر مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں، تاہم بیماری کی شدت بڑھنے کی صورت میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ بیماری کی شدت کا انحصار وائرس کی قسم اور مریض کی مجموعی صحت سمیت مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔

    منکی پاکس سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

    منکی پاکس سے بچاؤ کے لیے متاثرہ شخص سے قریبی اور غیر ضروری میل جول سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر کسی متاثرہ شخص کی دیکھ بھال ضروری ہو تو ماسک، دستانوں اور دیگر حفاظتی تدابیر کا استعمال کیا جائے۔

    جنگلی یا مشتبہ بیمار جانوروں سے براہِ راست رابطے سے بھی گریز کرنا چاہیے اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

    اگر کسی شخص میں منکی پاکس کی علامات ظاہر ہوں تو اسے دوسروں سے الگ رہنا چاہیے اور طبی ماہرین سے رابطہ کرنا چاہیے۔ متاثرہ شخص کے زیرِ استعمال کپڑے، تولیے اور دیگر اشیا کو بھی احتیاط سے صاف کیا جائے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم کیا جاسکے۔

  • جاپان کا پاکستان میں ٹی بی اسکریننگ کیلئے 21 ملین ین کی گرانٹ کا اعلان

    جاپان کا پاکستان میں ٹی بی اسکریننگ کیلئے 21 ملین ین کی گرانٹ کا اعلان

    جاپانی حکومت نے پاکستان میں تپِ دق (ٹی بی) کی بروقت تشخیص اور اسکریننگ کے لیے آلات اور گاڑی کی خریداری کی غرض سے ڈوپسی فاؤنڈیشن کو 21 ملین ین، تقریباً ایک لاکھ 42 ہزار 500 امریکی ڈالر کی گرانٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گرانٹ کے معاہدے پر یکم ستمبر 2026 کو پاکستان میں جاپان کے سفیر اکامٹسو شیوچی اور ڈوپسی فاؤنڈیشن کے نمائندے نے دستخط کیے۔ اس منصوبے کا مقصد پسماندہ اور بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم آبادیوں تک ٹی بی کی تشخیص سمیت دیگر ضروری طبی خدمات پہنچانا ہے۔

    ڈوپسی فاؤنڈیشن کئی سال سے پاکستان کی پسماندہ کمیونٹیز کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ منصوبے کے تحت اسلام آباد، راولپنڈی اور ضلع چکوال میں مکمل طور پر لیس موبائل ہیلتھ یونٹ تعینات کیا جائے گا۔

    موبائل ہیلتھ یونٹ کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے شہریوں کو ڈیجیٹل چیسٹ ریڈیوگرافی، ٹی بی اسکریننگ، خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق مشاورت اور بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    منصوبے کے تحت ٹی بی کی تشخیص کے لیے جدید کمپیکٹ ایکسرے سسٹم کے ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جائے گی، جس سے بیماری کی بروقت نشاندہی اور اسکریننگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

    اس منصوبے کے ذریعے ہر سال تقریباً 20 ہزار افراد کو معیاری طبی اسکریننگ کی سہولت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو بھی جدید تشخیصی سہولیات تک رسائی حاصل ہوسکے گی۔

    جاپانی سفیر اکامٹسو شیوچی نے کہا کہ بیماری کی بروقت تشخیص زندگیوں کو بچانے اور خاندانوں کو بیماری کے خطرے سے محفوظ رکھنے میں براہِ راست اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ پاکستان میں بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوگا اور جاپان اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کرے گا۔

  • ہسپتالوں میں الیکٹریکل سیفٹی اقدامات کو فوری یقینی بنانے کی ہدایت

    ہسپتالوں میں الیکٹریکل سیفٹی اقدامات کو فوری یقینی بنانے کی ہدایت

    محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے پنجاب کے تمام طبی درسگاہوں اور ہسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام اور برقی حفاظت کے مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

    محکمے کی جانب سے صوبے کے طبی اداروں اور ہسپتالوں کو باقاعدہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے میڈیکل انسٹیٹیوشنز کے سربراہان سے 24 گھنٹے کے اندر حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کی تصدیق شدہ رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔

    مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ہسپتالوں میں الیکٹریکل سیفٹی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے اور بجلی کے نظام کا تازہ لوڈ اسسمنٹ سرٹیفکیٹ حاصل کیا جائے، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ منظور شدہ برقی لوڈ ہسپتال کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کے لیے کافی ہے یا نہیں۔

    محکمہ صحت نے طبی اداروں کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں میں مقررہ مقامات پر واٹر ہائیڈرنٹس، آگ بجھانے والے آلات اور دیگر ضروری حفاظتی سامان مناسب تعداد میں دستیاب رکھا جائے جبکہ ہنگامی صورتحال میں ان تک عملے اور ریسکیو اہلکاروں کی آسان رسائی بھی یقینی بنائی جائے۔

    مراسلے کے مطابق آگ بجھانے والے آلات کی باقاعدگی سے جانچ، معائنہ اور ضروری مرمت و دیکھ بھال بھی کی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں یہ آلات فوری طور پر قابل استعمال ہوں۔

    محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ نے ہسپتال انتظامیہ کو ریسکیو 1122 کے تعاون سے طبی عملے اور دیگر متعلقہ ملازمین کو آگ سے بچاؤ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے تربیت دلوانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

    مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہسپتالوں اور طبی درسگاہوں میں برقی حفاظت سے متعلق تمام ضروری اقدامات فوری طور پر مکمل کیے جائیں اور حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔

  • ملک کےمختلف حصوں کےماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    ملک کےمختلف حصوں کےماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    ملک میں پولیو کے خاتمے کی مسلسل کوششوں کے باوجود مختلف اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میںپولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے-

    نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق مئی 2026 میں ملک کے مختلف اضلاع سے حاصل کیے گئے سیوریج کے نمونوں کے تجزیے میں سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے سندھ میں کشمور، قمبر، کراچی ضلع شرقی اور کراچی ضلع غربی کے سیوریج نمونے پولیو وائرس کے لیے مثبت آئے ہیں۔

    این ای او سی کے مطابق بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی اور چمن کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس پایا گیا ہےاسی طرح خیبرپختونخوا کے پشاور اور بنوں کے سیوریج نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے تمام ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے منفی آئے ہیں۔

  • بچوں میں شوگر کی بیماری کو ایک خاص وقت تک روکنے والی  پہلی دوا کی منظوری

    بچوں میں شوگر کی بیماری کو ایک خاص وقت تک روکنے والی پہلی دوا کی منظوری

    بیماری کو مؤخر کرنے والی دنیا کی پہلی دوا ٹیپلیزومیب (Teplizumab) کو برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس میں استعمال کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    برطانوی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (NICE) نے اس دوا کی منظوری دی بچوں میں ٹائپ 1 ذیابیطس کو ظاہر ہونے سے روکنے والی دنیا کی پہلی دوا Tzield (teplizumab) ہے یہ دوا ان بچوں میں بیماری کو 2 سے 3سال تک روک سکتی ہے جو اس کے ابتدائی مرحلے (اسٹیج 2) میں ہوتے ہیں، جس سے انہیں انسولین کے روزانہ انجیکشنز سے کچھ سال کی مہلت مل جاتی ہے،یہ دوا 8 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے منظور کی گئی ہے جن میں بیماری ابتدائی مرحلے (اسٹیج 2) میں تشخیص ہو چکی ہو لیکن علامات ابھی ظاہر نہ ہوئی ہوں۔

    یہ دوا مدافعتی نظام (immune system) کو تربیت دیتی ہے کہ وہ لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیات پر حملہ نہ کرے، ایف ڈی اے (FDA) کی جانب سے اس کے استعمال کی منظوری کی عمر ۱ سال اور اس سے زائد کے بچوں تک بڑھا دی گئی ہے، یہ دوا 14 دن تک لگاتار نس کے ذریعے (IV drip) دی جاتی ہے، جس کا دورانیہ کم از کم 30 منٹ روزانہ ہوتا ہے، یہ دوا بیماری کے تدارک کے لیے اس وقت موثر ہے جب بچہ اسٹیج 2 (علامات ظاہر ہونے سے پہلے) میں ہو، لہٰذا اسکریننگ نہایت اہم ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مریضوں کو کئی سال تک معمول کی زندگی گزارنے کا موقع ملے گا اور انہیں بیماری کے مکمل بوجھ کا سامنا کرنے سے قبل اضافی وقت حاصل ہو گا دوا ساز کمپنی سونوفی(Sanofi) کی تیار کردہ دوا جسے Tzield کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، NHS کو رعایتی قیمت پر فراہم کی جائے گی،اگر بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہو تو یہ دوا ہزاروں لوگوں کو کئی سال تک انسولین پر انحصار سے بچا سکتی ہے۔

  • 
ڈریپ نے 17 غیر معیاری سرنجز پر پابندی لگا دی

    
ڈریپ نے 17 غیر معیاری سرنجز پر پابندی لگا دی

    ‎ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے 11 مختلف کمپنیوں کی 17 آٹو ڈس ایبل سرنجز کو غیر معیاری قرار دے کر ان کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
    ‎ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل پراڈکٹ الرٹ کے مطابق ان سرنجز کے نمونوں کی جانچ سینٹرل ڈرگ لیبارٹری اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی میں کی گئی، جہاں یہ مصنوعات معیار پر پوری نہ اتر سکیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق 3 سے 5 ایم ایل کی یہ سرنجز “آٹو ڈس ایبلیٹی ٹیسٹ” میں ناکام رہیں، جس کا مطلب ہے کہ استعمال کے بعد ان کا خودکار طور پر ناکارہ ہونے والا نظام درست طریقے سے کام نہیں کر رہا۔
    ‎حکام کے مطابق ان سرنجز کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جو صحتِ عامہ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسے موذی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
    ‎ڈریپ نے بتایا کہ ان غیر معیاری سرنجز کی تیاری میں چین، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ دو چینی کمپنیوں کے تیار کردہ تین بیجز بھی متاثرہ فہرست میں شامل ہیں۔
    ‎ریگولیٹری اتھارٹی نے تمام صوبائی حکومتوں، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ میں موجود متاثرہ بیجز فوری ضبط کیے جائیں۔
    ‎ڈریپ نے فیلڈ فورس کو ملک بھر میں مارکیٹ سروے کرنے اور ان سرنجز کی سپلائی روکنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
    ‎اس کے علاوہ مینوفیکچررز، امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ سرنجز فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوائیں۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر معیاری سرنجز کا استعمال پاکستان میں پہلے سے موجود ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی بیماریوں کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے، اس لیے عوام کو صرف مستند اور محفوظ طبی مصنوعات استعمال کرنی چاہئیں۔

  • ایبولا کے بڑھتے کیسز، پاکستان نے ائیرپورٹس پر نگرانی سخت کردی

    ایبولا کے بڑھتے کیسز، پاکستان نے ائیرپورٹس پر نگرانی سخت کردی

    کانگو اور ٰوگنڈا میں ایبولا کیسز بڑھنے پر حکومت پاکستان نے ایبولا سے بچاؤ کیلئے ملک بھر کے ائیرپورٹس پر نگرانی سخت کردی۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کانگو اور یوگنڈا میں ایبولاکی صورتحال کو عالمی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہےترجمان وزارت صحت کے مطابق ایبولا وائرس کی وبا کاپھیلاؤ صرف افریقی ممالک کانگو اور یوگنڈا تک محدود ہے کیونکہ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ افریقا سے باہر تاحال کسی اور ملک میں ایبولاکاکوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متاثرہ افریقی ممالک سے محدود سفری روابط کے باعث پاکستان میں خطرہ انتہائی کم ہے، پاکستان یا ہمسائے ممالک میں بھی کبھی ایبولا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، وزارت صحت اور این آئی ایچ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایبولا سے بچاؤ کیلئے ملک بھر کے ائیرپورٹس پر نگرانی مزید مؤثر بنا دی گئی ہے۔

    وزارت صحت کے ترجمان نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت نے احتیاطی نگرانی بڑھانے کی ہدایت دی ہے، تاہم کسی قسم کی سفری پابندیوں کی سفارش نہیں کی گئی،وزیر صحت نے وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظرپیشگی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، عوام کو وباؤں سے بچانے کیلئے موثر اقدامات یقینی بنا رہے ہیں، انٹرنیشنل ریگولیشن کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنا رہے ہیں، این آئی ایچ ایبولا تشخیص کی صلاحیت رکھتا ہے اور محکمہ صحت حکام صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں۔

  • کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی لہر،65 افراد ہلاک، 246 مشتبہ کیسز رپورٹ

    کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی لہر،65 افراد ہلاک، 246 مشتبہ کیسز رپورٹ

    جمہوریہ کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کے پھیلاؤ نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے، جہاں اب تک 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں صحت حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائرس خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے، جس کے پیش نظر ہنگامی اقدامات اور نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کانگو کے صوبے ایتوری میں ایبولا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے، جہاں اب تک 20 میں سے 13 نمونوں میں وائرس مثبت پایا گیا ہ۔ قومی انسٹی ٹیوٹ فار بایومیڈیکل ریسرچ کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ کیسز تصدیق شدہ ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک تقریباً 246 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 65 اموات شامل ہیں۔ زیادہ تر کیسز مونگوالو اور رمپارا کے ہیلتھ زونز میں سامنے آئے ہیں، جبکہ چار اموات ایسے مریضوں کی ہیں جن میں لیبارٹری کے ذریعے ایبولا کی تصدیق ہو چکی تھی۔

    صحت حکام نے شہر بونیا میں بھی مشتبہ کیسز کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ان کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی، افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن خطے میں کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر نگرانی اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں آبادی کی نقل و حرکت کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    ایبولا ایک انتہائی خطرناک اور متعدی بیماری ہے جو متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں یا متاثرہ ٹشوز کے براہ راست رابطے سے پھیلتی ہےماہرین کے مطابق اس بیماری میں شرح اموات 90 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی علامات میں تیز بخار، کمزوری، سر درد، گلے کی سوزش، قے، اسہال اور بعض صورتوں میں اندرونی یا بیرونی خون بہنا شامل ہے۔

  • تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آ یا ہے-

    بی بی سی آئی کی تحقیق کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں 331 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹیو کی تصدیق ہوئی ، 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا، لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران دیکھا گیا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی، جس سے ممکنہ طور پر انجیکشنز میں موجود دوا خراب ہوئی ہو گی ان میں سے چار مواقع پر اسی دوائی کی بوتل سے ایک مختلف یا دوسرے بچے کو دوا دی گئی یہ تو نہیں جانتے کہ اُن میں سے کوئی بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھا یا نہیں لیکن اس طرح سے دوبارہ استعمال واضح طور پر وائرل ٹرانسمیشن کا خطرہ رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر الطاف احمد پاکستان کے ممتاز کنسلٹنٹ مائیکروبائیولوجسٹ اور انفیکشس ڈیزیز کے ماہر نے خفیہ فوٹیج دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے ٹیکے کی سوئی بدل کر نئی بھی لگا دی ہے تو ٹیکے کے پچھلے حصے، جسے ہم سرنج باڈی کہتے ہیں، میں وائرس ہو سکتا ہے جو نئی سوئی کے ذریعے ٹرانسفر ہو سکتا ہے۔‘

    ہسپتال کی دیواروں پر محفوظ انجیکشن لگانے کے طریقہ کار کی تصاویر والے پوسٹرز کے باوجود ہم نے سٹاف، بشمول ایک ڈاکٹر، کو 66 مرتبہ صاف دستانے پہنے بغیر مریضوں کو ٹیکا لگاتے ہوئے فلمایا اور ایک دوسرے ماہر نے بی بی سی آئی کو بتایا کہ یہ پاکستان میں مجموعی طور پر انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کی کمزور یوں کو ظاہر کرتا ہے۔

    بی بی سی آئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک نرس کو بھی دیکھا جو میڈیکل ویسٹ باکس یعنی طبی فضلے سے بھرے ڈبے میں بنا صاف دستانے پہنے ہاتھ پھیر رہی تھیں ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دوائی انجیکٹ کرنے کے ہر اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

    تاہم جب یہی انڈر کور فوٹیج تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اسے درست ماننے سے انکار کر دیا انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج یا تو ان کی تعیناتی سے پہلے بنی یا پھر یہ فوٹیج ’سٹیج بھی ہو سکتی ہے،انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ہسپتال بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈاکٹر گل قیصرانی ایک مقامی نجی کلینک میں کام کرتے ہیں ڈاکٹر قیصرانی نے سب سے پہلے 2024 کے اواخر میں یہ دیکھا کہ اُن کے کلینک میں آنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن بچوں میں یہ تشخیص کی ان میں سے 65 سے 70 کا علاج تونسہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ہوا تھا ایک بچی کی والدہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُسی سرنج سے ٹیکا لگایا گیا جس سے اُس کی ایک اور کزن کو بھی لگایا گیا تھا اورجو ایچ آئی وی پازیٹیو ہے، اور پھر وہی سرنج کئی اور بچوں پر بھی استعمال ہوئی ایک بچے کے والد کے مطابق جب انھوں نے استعمال شدہ سرنج لگانے پر احتجاج کیا تو نرسز نے ان کا احتجاج نظرانداز کر دیا۔

    بی بی سی آئی نے پنجاب ایڈز سکریننگ پروگرام، نجی کلینکس اور پولیس کی جانب سے لیک ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ایسے 331 بچوں کی شناخت کی جو تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پازیٹیو ہوئے 97 بچوں میں سے صرف چار کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے بہت کم بچوں کو اپنی والدہ سے یہ مرض لگا، یعنی ماں سے بچے میں مرض کی ٹرانسمیشن ہوئی-

    صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق 331 بچوں میں سے نصف کو استعمال شدہ سوئی کی وجہ سے ایچ آئی وی لگا۔ باقی کے بارے میں ان اعداد و شمار میں نہیں بتایا گیا کہ انھیں ایچ آئی وی کیسے ہوا ہو گامارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے 106 کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل کر دیا تاہم معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسر ایک بار پھر بچوں کا علاج کر رہے تھے-