Baaghi TV

Category: صحت

  • 
ڈریپ نے 17 غیر معیاری سرنجز پر پابندی لگا دی

    
ڈریپ نے 17 غیر معیاری سرنجز پر پابندی لگا دی

    ‎ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے 11 مختلف کمپنیوں کی 17 آٹو ڈس ایبل سرنجز کو غیر معیاری قرار دے کر ان کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
    ‎ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل پراڈکٹ الرٹ کے مطابق ان سرنجز کے نمونوں کی جانچ سینٹرل ڈرگ لیبارٹری اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی میں کی گئی، جہاں یہ مصنوعات معیار پر پوری نہ اتر سکیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق 3 سے 5 ایم ایل کی یہ سرنجز “آٹو ڈس ایبلیٹی ٹیسٹ” میں ناکام رہیں، جس کا مطلب ہے کہ استعمال کے بعد ان کا خودکار طور پر ناکارہ ہونے والا نظام درست طریقے سے کام نہیں کر رہا۔
    ‎حکام کے مطابق ان سرنجز کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جو صحتِ عامہ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسے موذی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
    ‎ڈریپ نے بتایا کہ ان غیر معیاری سرنجز کی تیاری میں چین، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ دو چینی کمپنیوں کے تیار کردہ تین بیجز بھی متاثرہ فہرست میں شامل ہیں۔
    ‎ریگولیٹری اتھارٹی نے تمام صوبائی حکومتوں، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ میں موجود متاثرہ بیجز فوری ضبط کیے جائیں۔
    ‎ڈریپ نے فیلڈ فورس کو ملک بھر میں مارکیٹ سروے کرنے اور ان سرنجز کی سپلائی روکنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
    ‎اس کے علاوہ مینوفیکچررز، امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ سرنجز فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوائیں۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر معیاری سرنجز کا استعمال پاکستان میں پہلے سے موجود ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی بیماریوں کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے، اس لیے عوام کو صرف مستند اور محفوظ طبی مصنوعات استعمال کرنی چاہئیں۔

  • ایبولا کے بڑھتے کیسز، پاکستان نے ائیرپورٹس پر نگرانی سخت کردی

    ایبولا کے بڑھتے کیسز، پاکستان نے ائیرپورٹس پر نگرانی سخت کردی

    کانگو اور ٰوگنڈا میں ایبولا کیسز بڑھنے پر حکومت پاکستان نے ایبولا سے بچاؤ کیلئے ملک بھر کے ائیرپورٹس پر نگرانی سخت کردی۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کانگو اور یوگنڈا میں ایبولاکی صورتحال کو عالمی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہےترجمان وزارت صحت کے مطابق ایبولا وائرس کی وبا کاپھیلاؤ صرف افریقی ممالک کانگو اور یوگنڈا تک محدود ہے کیونکہ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ افریقا سے باہر تاحال کسی اور ملک میں ایبولاکاکوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متاثرہ افریقی ممالک سے محدود سفری روابط کے باعث پاکستان میں خطرہ انتہائی کم ہے، پاکستان یا ہمسائے ممالک میں بھی کبھی ایبولا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، وزارت صحت اور این آئی ایچ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایبولا سے بچاؤ کیلئے ملک بھر کے ائیرپورٹس پر نگرانی مزید مؤثر بنا دی گئی ہے۔

    وزارت صحت کے ترجمان نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت نے احتیاطی نگرانی بڑھانے کی ہدایت دی ہے، تاہم کسی قسم کی سفری پابندیوں کی سفارش نہیں کی گئی،وزیر صحت نے وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظرپیشگی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، عوام کو وباؤں سے بچانے کیلئے موثر اقدامات یقینی بنا رہے ہیں، انٹرنیشنل ریگولیشن کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنا رہے ہیں، این آئی ایچ ایبولا تشخیص کی صلاحیت رکھتا ہے اور محکمہ صحت حکام صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں۔

  • کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی لہر،65 افراد ہلاک، 246 مشتبہ کیسز رپورٹ

    کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی لہر،65 افراد ہلاک، 246 مشتبہ کیسز رپورٹ

    جمہوریہ کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کے پھیلاؤ نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے، جہاں اب تک 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں صحت حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائرس خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے، جس کے پیش نظر ہنگامی اقدامات اور نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کانگو کے صوبے ایتوری میں ایبولا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے، جہاں اب تک 20 میں سے 13 نمونوں میں وائرس مثبت پایا گیا ہ۔ قومی انسٹی ٹیوٹ فار بایومیڈیکل ریسرچ کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ کیسز تصدیق شدہ ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک تقریباً 246 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 65 اموات شامل ہیں۔ زیادہ تر کیسز مونگوالو اور رمپارا کے ہیلتھ زونز میں سامنے آئے ہیں، جبکہ چار اموات ایسے مریضوں کی ہیں جن میں لیبارٹری کے ذریعے ایبولا کی تصدیق ہو چکی تھی۔

    صحت حکام نے شہر بونیا میں بھی مشتبہ کیسز کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ان کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی، افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن خطے میں کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر نگرانی اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں آبادی کی نقل و حرکت کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    ایبولا ایک انتہائی خطرناک اور متعدی بیماری ہے جو متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں یا متاثرہ ٹشوز کے براہ راست رابطے سے پھیلتی ہےماہرین کے مطابق اس بیماری میں شرح اموات 90 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی علامات میں تیز بخار، کمزوری، سر درد، گلے کی سوزش، قے، اسہال اور بعض صورتوں میں اندرونی یا بیرونی خون بہنا شامل ہے۔

  • تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آ یا ہے-

    بی بی سی آئی کی تحقیق کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں 331 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹیو کی تصدیق ہوئی ، 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا، لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران دیکھا گیا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی، جس سے ممکنہ طور پر انجیکشنز میں موجود دوا خراب ہوئی ہو گی ان میں سے چار مواقع پر اسی دوائی کی بوتل سے ایک مختلف یا دوسرے بچے کو دوا دی گئی یہ تو نہیں جانتے کہ اُن میں سے کوئی بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھا یا نہیں لیکن اس طرح سے دوبارہ استعمال واضح طور پر وائرل ٹرانسمیشن کا خطرہ رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر الطاف احمد پاکستان کے ممتاز کنسلٹنٹ مائیکروبائیولوجسٹ اور انفیکشس ڈیزیز کے ماہر نے خفیہ فوٹیج دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے ٹیکے کی سوئی بدل کر نئی بھی لگا دی ہے تو ٹیکے کے پچھلے حصے، جسے ہم سرنج باڈی کہتے ہیں، میں وائرس ہو سکتا ہے جو نئی سوئی کے ذریعے ٹرانسفر ہو سکتا ہے۔‘

    ہسپتال کی دیواروں پر محفوظ انجیکشن لگانے کے طریقہ کار کی تصاویر والے پوسٹرز کے باوجود ہم نے سٹاف، بشمول ایک ڈاکٹر، کو 66 مرتبہ صاف دستانے پہنے بغیر مریضوں کو ٹیکا لگاتے ہوئے فلمایا اور ایک دوسرے ماہر نے بی بی سی آئی کو بتایا کہ یہ پاکستان میں مجموعی طور پر انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کی کمزور یوں کو ظاہر کرتا ہے۔

    بی بی سی آئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک نرس کو بھی دیکھا جو میڈیکل ویسٹ باکس یعنی طبی فضلے سے بھرے ڈبے میں بنا صاف دستانے پہنے ہاتھ پھیر رہی تھیں ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دوائی انجیکٹ کرنے کے ہر اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

    تاہم جب یہی انڈر کور فوٹیج تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اسے درست ماننے سے انکار کر دیا انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج یا تو ان کی تعیناتی سے پہلے بنی یا پھر یہ فوٹیج ’سٹیج بھی ہو سکتی ہے،انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ہسپتال بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈاکٹر گل قیصرانی ایک مقامی نجی کلینک میں کام کرتے ہیں ڈاکٹر قیصرانی نے سب سے پہلے 2024 کے اواخر میں یہ دیکھا کہ اُن کے کلینک میں آنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن بچوں میں یہ تشخیص کی ان میں سے 65 سے 70 کا علاج تونسہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ہوا تھا ایک بچی کی والدہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُسی سرنج سے ٹیکا لگایا گیا جس سے اُس کی ایک اور کزن کو بھی لگایا گیا تھا اورجو ایچ آئی وی پازیٹیو ہے، اور پھر وہی سرنج کئی اور بچوں پر بھی استعمال ہوئی ایک بچے کے والد کے مطابق جب انھوں نے استعمال شدہ سرنج لگانے پر احتجاج کیا تو نرسز نے ان کا احتجاج نظرانداز کر دیا۔

    بی بی سی آئی نے پنجاب ایڈز سکریننگ پروگرام، نجی کلینکس اور پولیس کی جانب سے لیک ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ایسے 331 بچوں کی شناخت کی جو تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پازیٹیو ہوئے 97 بچوں میں سے صرف چار کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے بہت کم بچوں کو اپنی والدہ سے یہ مرض لگا، یعنی ماں سے بچے میں مرض کی ٹرانسمیشن ہوئی-

    صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق 331 بچوں میں سے نصف کو استعمال شدہ سوئی کی وجہ سے ایچ آئی وی لگا۔ باقی کے بارے میں ان اعداد و شمار میں نہیں بتایا گیا کہ انھیں ایچ آئی وی کیسے ہوا ہو گامارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے 106 کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل کر دیا تاہم معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسر ایک بار پھر بچوں کا علاج کر رہے تھے-

  • روزانہ کافی پینے کے حیران کن فوائد، ماہرِ امراضِ معدہ کی تفصیلی وضاحت

    روزانہ کافی پینے کے حیران کن فوائد، ماہرِ امراضِ معدہ کی تفصیلی وضاحت

    دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے کافی پینا صبح کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی دن کی شروعات ایک کپ کافی کے بغیر نامکمل سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ نظامِ ہاضمہ کو بھی متحرک کرتی ہے۔

    حال ہی میں معروف ماہرِ امراضِ معدہ ڈاکٹر سورب سیتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں بتایا کہ اگر کوئی شخص مسلسل 14 دن تک روزانہ کافی پیتا ہے تو اس کے جسم پر کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر سیتی کے مطابق کافی کا باقاعدہ استعمال جگر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی پینے والوں میں فیٹی لیور، فائبروسس اور سروسس جیسے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کافی جگر میں داغ دار ٹشو بننے کے عمل کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم جگر کی مکمل صحت کے لیے متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی بھی ضروری ہے۔کافی میں موجود کلوروجینک ایسڈ جیسے اجزاء انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ بلیک کافی میٹابولزم کو تیز کرتی ہے اور جسم میں چربی کے جلنے کے عمل کو بڑھاتی ہے۔یہ نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ بھوک کو بھی کم کرتی ہے، جس سے کیلوریز کے استعمال کو کنٹرول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔کافی میں موجود کیفین دماغی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ اس سے توجہ، چوکنا پن اور ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق کیفین وقتی طور پر نیند کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہ نیند کا مکمل متبادل نہیں ہے۔

    ڈاکٹر سیتی کے مطابق کافی آنتوں کی حرکت کو تیز کرتی ہے اور ہاضمے کو بہتر بناتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 29 فیصد کافی پینے والوں کو کافی پینے کے بعد رفع حاجت کی خواہش محسوس ہوتی ہے۔کافی میں موجود تیزاب گیسٹرن ہارمون کو متحرک کرتے ہیں، جو آنتوں کی حرکت کو بڑھاتا ہے۔ڈاکٹر سیتی نے تجویز دی کہ روزانہ ایک سے تین کپ بلیک کافی مناسب ہے، تاہم اگر کسی کو دل کی دھڑکن تیز ہونا، بے چینی، تیزابیت یا نیند کی کمی محسوس ہو تو کافی کا استعمال کم یا بند کر دینا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کافی میں زیادہ چینی یا مصنوعی کریمرز شامل کرنا اس کے فوائد کو کم کر سکتا ہے۔
    کافی اگر اعتدال کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ جگر، دماغ اور نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر فرد کو اپنی جسمانی کیفیت کے مطابق اس کا استعمال کرنا چاہیے۔

  • پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ پینے کے پانی میں موجود نمک بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے۔

    فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں موجود سوڈیم خاموشی سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن رہا ہےتحقیق میں بتایا گیا کہ پانی میں نمک کی زیادہ مقدار اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان واضح تعلق موجود ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو ساحلی علاقوں یا سمندر کے قریب رہائش پذیر ہیں۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لوگوں میں خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے ماحولیاتی عنصر کی نشاندہی کرنا ہے جو بڑی تعداد میں افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں لوگ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ نمک اپنی خوراک کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، جبکہ پینے کے پانی میں شامل اضافی سوڈیم اس مقدار کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

    قیامت صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے،جوہری ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس تحقیق میں امریکا، بنگلادیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا اور مختلف یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے 74 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا نتائج سے پتا چلا کہ جو افراد زیادہ نمک یا کھارے پانی کا استعمال کرتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر دیگر افراد کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہوتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق نمکین پانی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، یہ رجحان خاص طور پر ساحلی علاقوں میں زیادہ نمایاں پایا گیا، جہاں زیر زمین پانی پینے کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے اور اس میں اکثر نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے بظاہر بلڈ پریشر میں یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، تاہم ماہرین صحت کے مطابق بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ بھی دل، گردوں اور دیگر اعضا پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

    لاہور پولیس ،بسنت سے قبل 1078 مقدمات درج کر کے 1015افراد گرفتار

    دنیا بھر میں تین ارب سے زائد افراد ساحلی علاقوں یا ان کے قریب رہتے ہیں، جہاں کھارے یا نمکین پانی کا استعمال عام ہے ماہرین کے مطابق صاف اور کم نمک والا پانی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے بی ایم جے گلوبل ہیلتھ میں شائع کیے گئے ہیں، جنہوں نے پینے کے پانی کے معیار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • ‎پنجاب میں 2,115 مستقل ڈاکٹروں کے عہدے ختم، لوکم پوسٹس متعارف

    ‎پنجاب میں 2,115 مستقل ڈاکٹروں کے عہدے ختم، لوکم پوسٹس متعارف

    ‎پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں پرائمری اور سیکنڈری صحت کے شعبے کے 2,115 جنرل کیڈر ڈاکٹروں کے مستقل عہدے ختم کرکے انہیں عارضی عہدوں میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے بعد طبی برادری میں شدید ردعمل پیدا ہوا اور اسے صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
    ‎یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کے 15 دسمبر کے اجلاس میں منظور کیے گئے قواعد کے تحت کیا گیا، جس کے مطابق سیکنڈری سطح کے عملے کو خصوصی مراعات کے ساتھ بھرتی کیا جائے گا۔ محکمہ مالیات نے بھی اس کی منظوری دی اور اتنے ہی نئے عارضی عہدے تخلیق کیے۔
    ‎ان مختلف زمروں کے جنرل کیڈر اور کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کے عہدے ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتالوں سے منسلک تھے، جو پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی کنٹرول میں تھے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صحت کا نظام شدید متاثر ہوگا، کیونکہ روزانہ ڈاکٹروں کی تبدیلی سے مریضوں کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ پہلی ملاقات میں کس ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی اور دوسری ملاقات میں کس سے ہوگی۔
    ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ختم کیے گئے عہدے گزشتہ ایک سال سے خالی تھے اور انہیں "عارضی عہدے ” قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی وسیع اصلاحاتی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ انتظامی اخراجات کم کیے جائیں اور مالی استحکام بہتر بنایا جا سکے۔ اس کا تعلق بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے بھی ہے۔
    دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے پنجاب حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک نے کہا کہ گریڈ 18، 19 اور 20 کے مستقل عہدے ختم کرکے انہیں عارضی عہدوں میں تبدیل کرنا ڈاکٹروں کے ساتھ ناانصافی ہے جو پہلے سے مستقل بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ محکمہ مالیات کی موجودہ بیوروکریسی حکومت کو گمراہ کر رہی ہے اور مختص فنڈز کو دیگر بجٹ خانوں میں منتقل کر رہی ہے، جو نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
    ‎پروفیسر شاہد ملک نے خبردار کیا کہ عارضی یا یومیہ اجرت پر ڈاکٹروں کی تقرری سے پورا صحت کا نظام متاثر ہوگا اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے کیریئر اور ترقی کے مواقع محدود ہو جائیں گے، جس کا براہِ راست اثر مریضوں پر پڑے گا۔ انہوں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لے کر محکمہ مالیات کا جاری کردہ نوٹیفکیشن معطل کیا جائے تاکہ بیوروکریسی کو ایسے اقدامات کرنے سے روکا جا سکے اور مستقبل میں دوبارہ ایسے اقدامات نہ کیے جائیں۔
    ‎مزید برآں، اس اقدام کے طبی نظام پر منفی اثرات واضح ہیں۔ مستقل ڈاکٹروں کے عہدوں کو عارضی پوسٹس میں بدلنے سے اسپتالوں میں مریضوں کے لیے علاج کا تسلسل متاثر ہوگا۔ روزانہ ڈاکٹروں کی تبدیلی سے مریض نہیں جان پائیں گے کہ ان کی پہلی ملاقات کے ڈاکٹر سے دوسری ملاقات میں کس ڈاکٹر سے ہو رہی ہے۔
    ‎یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ ترقی اور ترقیاں بھی متاثر کرے گا، کیونکہ گریڈ 18، 19 اور 20 میں ترقی کے لیے مستند عہدوں کی دستیابی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف کیریئر کے مواقع محدود ہوں گے بلکہ صحت کے نظام کی مجموعی کارکردگی بھی متاثر ہوگی۔

  • ملک بھر سے 40 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    ملک بھر سے 40 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    دسمبر 2025 میں ملک بھر میں 40 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے 127 سیوریج نمونے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 87 منفی نکلے، سندھ میں 23 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا، خیبر پختونخوا میں 8، پنجاب میں 6 ماحولیاتی نمونے مثبت نکلے،علاوہ ازیں بلوچستان میں 2، اسلام آباد میں ایک ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پولیو وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی، 2025 میں پولیو کے کل 31 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ، پنجاب میں لوگ بے خوف ہو کر گھروں میں رہتے اور سفر کرتے ہیں، طلال چودھری

    امریکہ .گرین لینڈ معاملہ :ٹرمپ نے ساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

    پنجاب بارکونسل الیکشن:اعظم نذیر تارڑ گروپ کو برتری،56 امیدوار کامیاب

  • ‎تحقیق: ٹیٹو کی سیاہی انسانی مدافعتی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے

    ‎تحقیق: ٹیٹو کی سیاہی انسانی مدافعتی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے

    حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹیٹو بنانے کے لیے استعمال ہونے والی سیاہی انسانی مدافعتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
    جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مدافعتی خلیات ٹیٹو کی سیاہی کے ذرات کو پہچان لیتے ہیں اور انہیں لمف نوڈز تک منتقل کر دیتے ہیں، جہاں یہ وقت کے ساتھ جمع ہو کر سوزش کا باعث بنتے ہیں۔
    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹیٹو کی سیاہی ویکسین کے اثرات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، نتائج کے مطابق ٹیٹو رکھنے والے افراد میں کووِڈ 19 ویکسین کا اثر کچھ حد تک کم ہو سکتا ہے جبکہ غیر فعال فلو ویکسین کے لیے مدافعتی ردعمل بہتر دیکھا گیا ہے۔
    ‎یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو کی کیمسٹ یولانڈا ہیڈبرگ کے مطابق جدید دور میں استعمال ہونے والی ٹیٹو سیاہیاں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔

    ‎انہوں نے مزید وضاحت کی کہ آج کل زیادہ تر ٹیٹو سیاہی مصنوعی رنگوں (Synthetic Pigments) پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں ایزو ڈائیز شامل ہیں، ان رنگوں کو حفاظتی خول میں بند کیا جاتا ہے تاکہ وہ جلد میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوں۔
    ‎تاہم، ماہرین کے مطابق خطرات اب بھی موجود ہیں، سب سے عام مسئلہ الرجک ردِعمل ہے اور ایک بار اگر الرجی پیدا ہو جائے تو ٹیٹو کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
    ‎تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ لیزر کے ذریعے ٹیٹو ختم کرنے سے رنگ کے ذرات جسم میں مزید پھیل سکتے ہیں۔
    ‎مزید برآں، حالیہ طویل المدتی مطالعات سے پتا چلا ہے کہ ٹیٹو رکھنے والے افراد میں لمفوما اور جلد کے کینسر کا خطرہ معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے، اگرچہ یہ خطرہ زیادہ نہیں، لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیٹوز صحت پر معمولی مگر قابلِ پیمائش اثرات ضرور ڈالتے ہیں۔

  • ‎چیٹ جی پی ٹی صحت سے متعلق سوالات کا بڑا ذریعہ بن گیا، روزانہ 4 کروڑ افراد رجوع کرنے لگے

    ‎چیٹ جی پی ٹی صحت سے متعلق سوالات کا بڑا ذریعہ بن گیا، روزانہ 4 کروڑ افراد رجوع کرنے لگے

    
اوپن اے آئی کے مقبول آرٹیفیشل انٹیلی جنس چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کو دنیا بھر میں روزانہ کروڑوں افراد استعمال کر رہے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ تقریباً 4 کروڑ صارفین صحت سے متعلق سوالات کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لیتے ہیں۔
    رپورٹ کے مطابق صارفین چیٹ جی پی ٹی سے بیماریوں کی علامات، ادویات، علاج کے طریقوں اور دیگر طبی معلومات کے بارے میں سوالات کرتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی سے کیے جانے والے مجموعی سوالات میں 5 فیصد سے زائد کا تعلق صحت کے شعبے سے ہوتا ہے۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے مجموعی 80 کروڑ صارفین میں سے تقریباً 20 کروڑ افراد ہر ہفتے کم از کم ایک بار صحت سے متعلق کوئی نہ کوئی سوال ضرور پوچھتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر صارفین سر درد کی نوعیت، کسی پیچیدہ تشخیص کے مفہوم یا نئی ادویات کے ممکنہ اثرات، جیسے تھکن، کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ‎رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 55 فیصد صارفین علامات کو سمجھنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا سہارا لیتے ہیں، 52 فیصد صحت سے متعلق عمومی سوالات پوچھتے ہیں، جبکہ 48 فیصد طبی اصطلاحات یا ہدایات کو سمجھنے کے لیے اس اے آئی ٹول کو استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح 44 فیصد افراد علاج کے مختلف آپشنز کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔
    ‎اوپن اے آئی کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی خاص طور پر ان افراد کے لیے مددگار ثابت ہو رہی ہے جنہیں فوری طور پر ڈاکٹر یا طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔