واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان اور ایران کے مابین گیس پائپ لائن منصوبے پر پابندیوں کے حوالے سے امریکی موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر امریکی پابندیاں جاری رہیں گی اور امریکہ ان ممالک کو متنبہ کرتا ہے جو ایران کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے پر غور کر رہے ہیں۔بزنس ریکارڈر کے مطابق، میتھیو ملر نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔ صحافی نے سوال کیا کہ ایران نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ گیس پائپ لائن منصوبے کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکا تو ممکنہ طور پر 18 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، امریکا نے بھی پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اس منصوبے کو آگے بڑھائے گا تو اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں، امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ امریکا کی پالیسی واضح ہے اور ہم ایران پر پابندیوں کو نافذ العمل رکھیں گے۔ ہم یقیناً ان ممالک اور افراد کو مشورہ دیتے ہیں جو ایران کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے پر غور کر رہے ہیں کہ وہ امریکی پابندیوں کے تناظر میں ممکنہ اثرات سے آگاہ رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت کسی بھی ایسے معاہدے کی حوصلہ شکنی کرے گی جس سے ایران کو فائدہ پہنچے اور امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہو۔ "ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی تجارتی معاہدے پر غور کرنے سے پہلے تمام فریقین کو ممکنہ نتائج کا جائزہ لینا چاہیے۔تاہم، میتھیو ملر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو ترجیح دیتا ہے اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، "پاکستان کی توانائی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے۔
امریکی ترجمان کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکا، پاکستان کو ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کی بجائے دیگر متبادل توانائی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ "ہم پاکستان کے ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکے بغیر کہ وہ امریکی پابندیوں کا سامنا کرے۔امریکا کا موقف ایران کے ساتھ کسی بھی تجارتی معاہدے پر پابندیوں کا واضح پیغام دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بھی بہتر بنانا چاہتا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن، اسلام آباد کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد نہیں کرتا تو اسے ممکنہ طور پر 18 ارب ڈالر کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ منصوبہ 1995 سے دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم موضوع رہا ہے، جس کا مقصد ایران کی گیس کو پاکستان کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانا تھا، لیکن امریکی پابندیاں اور بین الاقوامی دباؤ اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے ہیں۔پاکستان کے لیے یہ ایک نازک صورتحال ہے جہاں اسے ایک طرف ایرانی دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری طرف امریکی پابندیوں کے خطرے کا۔ اس وقت پاکستان کے لیے دانشمندانہ فیصلہ یہی ہوگا کہ وہ امریکی حمایت یافتہ متبادل توانائی کے ذرائع پر غور کرے تاکہ اسے نہ تو ایران کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے اور نہ ہی امریکی پابندیوں کے زیر اثر آئے۔امریکی وزارت خارجہ کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی ایران مخالف پالیسی پر کاربند رہے گا، جبکہ پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ سفارتی مسئلہ ہے جو آنے والے دنوں میں مزید گرم جوشی اختیار کر سکتا ہے۔
Category: بین الاقوامی
-

امریکی وزارت خارجہ نے پاکستان-ایران گیس منصوبے پر پابندیوں سے خبردار کردیا
-

متحدہ عرب امارات میں ویزا ایمنسٹی اسکیم کا آغاز
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے غیر ملکیوں کے لیے ویزا ایمنسٹی اسکیم کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو قانونی رہائشی حیثیت حاصل کرنے کا سنہری موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ اسکیم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو قانونی طور پر یو اے ای میں داخل ہوئے تھے لیکن بعد میں ویزا کی تجدید نہیں کرا سکے۔اماراتی امیگریشن حکام نے کہا کہ یہ ایمنسٹی اسکیم ان لوگوں کے لیے نہایت مفید ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ویزا کی تجدید نہیں کروا سکے اور غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔ اس اسکیم کے تحت غیر قانونی رہائشیوں کو قانونی حیثیت دلانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے، جس سے نہ صرف انہیں قانونی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ وہ ملکی ترقی میں بھی بہتر کردار ادا کر سکیں گے۔اس اسکیم کے تحت، اب غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو نئے اماراتی ویزے لینے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی اور نہ ہی انہیں ٹریول بین یا بھاری جرمانے کے خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ اقدام یو اے ای حکومت کی جانب سے ایک مثبت اور اہم قدم ہے، جس کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو قانونی رہائشی بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی مزید مضبوط کرنا ہے۔
یو اے ای بھر میں ویزا ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے مختلف مقامات پر کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں غیر قانونی رہائشی اپنی قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے رہنمائی اور مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کیمپس میں نہ صرف قانونی حیثیت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں بلکہ وطن واپسی یا نئی نوکری کے مواقع بھی موجود ہیں۔ اس اسکیم کے تحت، جو لوگ اپنی رہائش قانونی بنانے کے خواہشمند ہیں، وہ ان کیمپس میں جا کر اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔اماراتی حکام نے غیر قانونی رہائشیوں کے لیے پُرکشش آفر پیش کی ہے کہ وہ خود کو قانونی رہائشی بنائیں۔ اس آفر کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو نہ صرف قانونی حیثیت دی جائے گی بلکہ انہیں ملک میں قیام کے دوران مختلف سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام سے یو اے ای میں مقیم غیر قانونی افراد کو ایک نیا آغاز کرنے کا موقع ملے گا اور وہ ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں گے۔یہ ویزا ایمنسٹی اسکیم متحدہ عرب امارات میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے لیے ایک بہترین موقع ہے تاکہ وہ اپنی رہائش کو قانونی بنا سکیں اور ملک میں اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ اماراتی حکومت کے اس قدم کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔ -

ٹام سوازی امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کے سربراہ
ٹام سوازی امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کے سربراہ بن گئے ہیں
پاکستان کاکس کا سربراہ بننے کے بعد ٹام سوازی نے پاک امریکا تعلقات بہتر کرنے کے عزم کااظہارکیا اور کہاکہ وہ نومبر میں پاکستان کا دورہ کریں گے،بعد ازاں ٹام سوازی اور واشنگٹن میں پاکستانی سفیر رضوان سعید کی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی جس میں پاک امریکا تعلقات، دوطرفہ تعاون کو مزیدمستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا،پاکستانی سفیر نے ٹام سوازی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک امریکاتعلقات دونوں ممالک اورخطے کیلئے اہمیت کے حامل ہیں ، پاکستان امریکا کے ساتھ معاشی تعلقات کے فروغ کیلئے پرعزم ہے ۔
یاد رہے کہ ٹام سوازی سے پہلے شیلا جیکسن پاکستان کاکس کی سربراہ تھیں،20 جولائی کو رواں برس شیلا جیکسن لی کی 74 برس کی عمر میں موت ہوئی تھی،
-

سات اکتوبر حملہ، امریکا نے حماس رہنماؤں پر فرد جرم عائد کر دی
امریکا نے اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کے حملے کا جواز بنا کر حماس کے سرکردہ رہنماؤں پر فرد جرم عائد کر دی ہے
امریکی محکمہ انصاف نے حماس کے 3 متوفی رہنماؤں اسماعیل ہنیہ، محمد ضئف اور مروان عیسیٰ سمیت 6 مرکزی رہنماؤں پر فرد جرم عائد کی ہے،جن رہنماؤں پر فرد جرم عائد کی گئی ہےان میں حماس کے موجودہ سربراہ یحییٰ سنوار، قطر میں مقیم حماس کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ خالد مشعال اور لبنان میں مقیم حماس کے مرکزی رہنما علی براکہ شامل ہیں،امریکا کے اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ کا کہنا ہے کہ حماس کے رہنماؤں نے ایران اور حزب اللہ کی حمایت سے اسرائیل کو تباہ کرنے کی کوشش کی اور وہاں کے شہریوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔
برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکی پراسیکیوٹرز نے حماس کے 6 سرکردہ رہنماؤں کے خلاف رواں برس فروری میں ہی فرد جرم عائد کر دی تھی لیکن اسماعیل ہنیہ کی گرفتاری کی امید پر اس رپورٹ کو سیل کر دیا تھا تاہم ایران میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اسرائیل پر لگنے والے الزمات کے باعث امریکی محکمہ انصاف نے اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔
حماس رہنماؤں پر امریکی الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق نئی تجاویز مصری اور قطری حکام کو پیش کر دی ہیں،بیروت میں امریکن یونیورسٹی کے نامور فیلو رمی خوری کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے حماس رہنماؤں پر فرد جرم سے غزہ جنگ بندی میں امریکی ثالثی کا کردار متاثر ہوا ہے،ا امریکا غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی مکمل طور پر حمایت کر رہا ہے جسے اقوام متحدہ کی جانب سے نسل کشی کہا گیا ہے اور وہ طویل عرصے سے مزاحمتی گروپوں حماس اور حزب اللہ کو دہشتگرد گروپ قرار دے رہا ہے، اس اقدام سے واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ امریکا حماس کو اس کے اقدامات پر ذمہ دار ٹھہرانا چاہتا ہے
حماس،اسرائیل مذاکرات ختم، جنگ بندی نہ ہو سکی
حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا
اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں
حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید
سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات
اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش
اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ
ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ
ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب
غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری
اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی
اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید
فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان
مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات
مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات
اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ
-

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ کمی واقع
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتیں 9 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق، برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 4.5 فیصد کم ہو کر 74.02 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔ یہ کمی عالمی معیشت پر خاصا اثر انداز ہو رہی ہے، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں کمی عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں اس کمی کی بڑی وجہ لیبیا کے حریف گروپوں کے درمیان مفاہمت میں پیش رفت ہے۔ طویل عرصے سے لیبیا میں حریف سیاسی گروپوں کے درمیان تیل کے منافع اور مرکزی بینک پر کنٹرول کے حوالے سے شدید تنازعات جاری تھے۔ ان تنازعات کے نتیجے میں ملک کی بڑی بندرگاہوں سے تیل کی برآمدات پیر کے روز سے معطل ہیں، جس نے عالمی مارکیٹ میں بے یقینی کی صورتحال پیدا کر دی تھی۔تاہم، حالیہ پیش رفت کے مطابق، لیبیا کے حریف گروپوں کے درمیان مفاہمت کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ فریقین کے درمیان جاری تنازع کے حل کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ لیبیا میں تیل کی پیداوار اور برآمدات دوبارہ شروع ہو سکیں گی۔
لیبیا، جو کہ افریقہ کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، کی بندرگاہوں پر جاری تنازعے کے حل ہونے سے تیل کی عالمی سپلائی لائن بحال ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جس کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق، لیبیا کے حریف گروپوں کے درمیان مفاہمت کی پیش رفت نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا سبب بنا ہے۔ یہ پیش رفت بین الاقوامی توانائی مارکیٹ کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ لیبیا کی تیل کی برآمدات کی بحالی سے عالمی تیل کی سپلائی میں استحکام آئے گا۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے نہ صرف صارفین کو ریلیف ملے گا، بلکہ اس سے معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس بات کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری رہے گا یا نہیں، اس کا انحصار لیبیا کے سیاسی استحکام اور دیگر بین الاقوامی عوامل پر ہوگا۔ -

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل کا غزہ کی صورتحال پر تشویشناک بیان
یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی کو آرڈینیٹر برائے مڈل ایسٹ پیس پراسیس ٹور وینیسلینڈ کی جانب سے غزہ کے دورے کے بعد دی گئی گواہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جوزپ بوریل نے اپنے بیان میں زور دیتے ہوئے کہا کہ "اگر ٹور وینیسلینڈ کے بیان کے بعد بھی جنگ بندی نہیں ہوتی، تو اس کا مطلب مہلک تباہی، محرومی، اور وبا ہو گا۔ معصوم متاثرین، اسرائیلی یرغمالی، اور فلسطینی شہریوں کی کبھی نہ ختم ہونے والی سنگین گنتی جاری رہے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جاری جنگ زندگی کے امکانات کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر برائے مڈل ایسٹ پیس پراسیس، ٹور وینیسلینڈ نے غزہ کے حالیہ دورے کے بعد اپنی آنکھوں دیکھی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا، "آج، میں غزہ سے واپس آیا ہوں، اور میں نے وہاں خود دشمنی کے تباہ کن اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "یہاں تباہی کا پیمانہ بہت زیادہ ہے۔ انسانی ضروریات بڑھ رہی ہیں، اور شہری اس تنازع کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔”
ٹور وینیسلینڈ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ غزہ میں موجودہ حالات انتہائی ابتر ہیں۔ بنیادی انسانی ضروریات میں شدید اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے امداد کی بھی شدید ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "غزہ کے شہری اس تنازع کے بدترین اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بے شمار املاک تباہ ہو چکی ہیں، اور بے گناہ شہریوں کی جانیں جا رہی ہیں۔”غزہ کی تباہ کن صورتحال کو دیکھتے ہوئے، جوزپ بوریل نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ اس تباہی اور انسانی بحران کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ "جنگ بندی کا نہ ہونا نہ صرف فلسطینیوں کے لیے بلکہ اسرائیلی شہریوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔”
یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے زور دیا کہ تمام فریقین کو فوری طور پر جنگ بندی کرنی چاہیے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر تنازعہ جاری رہتا ہے تو اس کے نتائج نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔جوزپ بوریل نے عالمی برادری کے کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی ادارے، بالخصوص اقوام متحدہ، اس تنازعے کے حل کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا، "ہمیں فوری طور پر انسانیت کے لیے کام کرنا ہو گا، کیونکہ مزید تاخیر مزید جانی و مالی نقصان کا سبب بنے گی۔”
غزہ کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے، اور عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ جوزپ بوریل کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور متعلقہ فریقین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کی جانب بڑھیں اور اس خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششیں تیز کریں۔ -

کانگو: جیل توڑنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ اور پولیس فائرنگ سے 129 قیدی ہلاک
افریقی ملک کانگو کے دارالحکومت کنشاسا میں واقع مرکزی مکالا جیل میں جیل توڑنے کی کوشش کے دوران شدید بھگدڑ مچنے اور پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے کم از کم 129 قیدی ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ جیل سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران پیش آیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق، ہلاک ہونے والے قیدیوں میں سے بیشتر کی موت بھگدڑ کی وجہ سے ہوئی، جبکہ 24 قیدیوں کی موت جیل حکام کی انتباہی گولیوں سے ہوئی۔ واقعے میں 59 قیدی زخمی ہوئے ہیں جن کا علاج مقامی اسپتال میں جاری ہے۔
کانگو کے وزیر داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جیل توڑنے کی کوشش کے دوران پولیس اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں بعض قیدی ہلاک ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ قیدیوں کے فرار کی کوشش کے دوران خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، مکالا جیل میں قیدیوں کی گنجائش 1,500 ہے، لیکن جیل میں اس وقت 12,000 سے زائد قیدیوں کو رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے جیل میں شدید overcrowding (بہت زیادہ قیدیوں کا جمع ہونا) کا مسئلہ درپیش ہے۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب مکالا جیل میں قیدیوں نے فرار کی کوشش کی ہو۔ 2017 میں ایک مذہبی تنظیم نے مکالا جیل پر حملہ کرکے درجنوں قیدیوں کو فرار کروا دیا تھا، جو کہ اس جیل کی سیکیورٹی کی پچھلی ناکامیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ -

بنگلہ دیش:سابق ڈی جی ایف آئی محمد سیفُ الاسلام کے بینک اکاؤنٹ معطل
بنگلہ دیش فنانشل انٹیلیجنس یونٹ (BFIU) نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلیجنس (DGFI) کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سیفُ الاسلام کے زیر ملکیت بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔یہ حکم نامہ ان کی اہلیہ، بچوں اور ان کے زیرِ ملکیت کسی بھی کاروباری ادارے کے بینک اکاؤنٹس کی معطلی کو بھی شامل کرتا ہے۔منگل کے روز، بی ایف آئی یو نے ملک بھر کے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے انہیں ان اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کی ہدایت کی۔متعلقہ ذاتی اکاؤنٹس کے ذریعے لین دین معطل ہو جائیں گے، اور آئندہ 30 دن تک کسی بھی قسم کے لین دین کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس مدت کو ضرورت پڑنے پر مزید بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔بی ایف آئی یو کی ہدایت کے مطابق، ان اکاؤنٹس کی معطلی کے لیے منی لانڈرنگ کے خلاف ضوابط کا اطلاق ہوگا۔نوٹیفکیشن میں محمد سیفُ الاسلام کے والد اے کے ایم رفیق الاسلام، والدہ رابعہ اسلام، اور اہلیہ لبنا افروز کے علاوہ ان کے قومی شناختی معلومات بھی شامل ہیں۔ بی ایف آئی یو نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کی تاریخ سے پانچ کاروباری دن کے اندر تمام متعلقہ اکاؤنٹ معلومات اور دستاویزات، جیسے کہ اکاؤنٹ اوپننگ فارم، کے وائی سی کی تفصیلات، اور لین دین کے ریکارڈ، فراہم کریں۔
-

بوائے فرینڈ سے بات کیوں کی؟بیٹی خوشبو کا قتل،لاش کے ٹکڑے
اتر پردیش میں غیرت کے نام پر قتل: نعیم نے 17 سالہ بیٹی کا سر قلم کر دیا، اس کے جسم کے کئی ٹکڑے کر دیے،پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا
اتر پردیش کے بہرائچ ضلع سے غیرت کے نام پر قتل کا ایک دردناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں نعیم نامی شخص نے غیرت کے نام پر اپنی 17 سالہ بیٹی خوشبو کو بے دردی سے قتل کردیا۔ مبینہ طور پر اس کے عشق کے بارے میں علم ہونے کے بعد اس نے پہلے اپنی بیٹی کا سر کاٹ دیا اور پھر بیٹی کی لاش کے کئی ٹکڑے کر دیئے۔ نعیم نے بارہا خوشبو کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ سے رشتہ توڑ لے لیکن وہ نہیں مانی۔
یہ جرم 2 ستمبر کو کیا گیا تھا۔گاؤں والوں کی اطلاع پر وہاں پہنچی پولیس نے ملزم نعیم کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے لاش کے اعضاء اکٹھے کر کے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجے۔ انہوں نے موقع سے قتل کا آلہ بھی برآمد کرلیا۔ یہ معاملہ موتی پور تھانہ علاقہ کے لکشمن پور ماتھی گاؤں کا ہے۔ مقتولہ خوشبو کا اسی گاؤں کے ایک لڑکے سے رومانوی تعلق تھا۔ وہ پہلے بھی دو بار اس کے ساتھ بھاگ چکی تھی۔ نعیم نے موتی پور اور نان پارہ تھانوں میں اپنی بیٹی کے عاشق کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا تھا۔ حکام نے تفتیش کے دوران نوجوان کو جیل بھی بھیج دیا تھا۔
صبح کے وقت نعیم نے اپنی بیٹی کو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا جس کی وجہ سے وہ طیش میں آ گیا اور اسے قتل کر دیا۔ بیٹی کو قتل کرنے کے بعد ملزم اپنی بیٹی کی لاش کے پاس بیٹھا رہا۔ حساس صورتحال کے پیش نظر پولیس کے اعلیٰ حکام نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ مقتول کی والدہ کے بیانات بھی قلمبند کر لیے گئے۔پولیس کے مطابق معاملے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے اور آگے بڑھ کر مناسب کارروائی کی جائے گی۔ سرکل آفیسر ہیرا لال کنوجیا نے اس معاملے پر اضافی تفصیلات فراہم کیں اور بتایا کہ لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ متعدد بار بھاگ چکی ہے۔ لڑکے کا تعلق مانگٹا برادری سے تھا۔ اس کے خلاف دو تھانوں میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ بھی درج کرائی گئی۔ نعیم کی مزید تین بیٹیاں ہیں اور اس نے دعویٰ کیا کہ محبت کا معاملہ اس کے دوسرے بچوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں گاؤں میں ذلت کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔
گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی
لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار
ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں
دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ
بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے
بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی
بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا
ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں
مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال
بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد
ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں
-

گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی
گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ سات افراد نے کھیتوں میں اجتماعی زیادتی کی ہے، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے
واقعہ بھارت کا ہے،بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے میرٹھ میں ایک کمسن لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، پولیس نے مقدمے میں تین افراد کو نامزد کیا ہے جبکہ چار ملزمان نامعلوم ہیں،میڈیکل رپورٹ میں طالبہ کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے، 11ویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد علاقہ میں عوام نے احتجاج کیا ہے اور ملزمان کو گرفتار کر کے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے،متاثرہ طالبہ کا تعلق دلت برادری سے ہے،پولیس حکام کے مطابق ملزمان سات نوجوانوں نے اسے اس وقت اغوا کر لیا جب وہ رفع حاجت کے لیے نکلی تھی۔ اس کے بعد وہ اسے لویا گاؤں کے جنگل میں لے گئے جہاں انہوں نے باری باری اس کی عصمت دری کی، ملزمان 48 گھنٹے تک طالبہ کے ساتھ زیادتی کرتے رہے ،جب طالبہ کی حالت بگڑی تو ملزمان اسے وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے.
ایس ایس پی ڈاکٹر وپن ٹاڈا نے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا،اتوار (یکم ستمبر) کو پولیس نے طالبہ کا بیان ریکارڈ کیا جسے سات ملزمان نے اغوا کرکے اجتماعی عصمت دری کی تھی۔ وہ ایک گاؤں میں رہتی ہے جو فلاوڈا پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ملزم سمیر، راجہ اور سمیر نے چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے اغوا کیا۔ وہ اسے دورالہ تھانہ علاقے کے لوئیہ کے جنگل میں لے گئے اور کھیت میں ٹیوب ویل کے پاس 48 گھنٹے تک اس کی مسلسل اجتماعی عصمت دری کی۔ موانا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا، پولیس نے سمیر ولد سلیم، راجہ ولد سلیم، ایک اور ملزم سمیر اور چار نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ،دیہی ایس پی راکیش مشرا نے کہا کہ انہوں نے متاثرہ کا طبی معائنہ مکمل ہونے کے بعد دفعہ 161 کے تحت متاثرہ کے بیانات درج کئے۔ پولس نے اتوار کی شام مرکزی ملزم سمیر کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کی تین ٹیمیں مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں۔
ایس ایچ او فلواد راجیش کمبوج نے بتایا کہ پولیس نے اجتماعی عصمت دری کے مرکزی ملزم سمیر کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کیس کے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جنہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔دریں اثنا، بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے بھی متاثرہ خاندان کو مدد کی یقین دہانی کے لیے متاثرہ کے گھر کا دورہ کیا۔
پولیس نے ملزم کی مدد کرنے پر گاؤں کے پردھان اسلم کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا۔
متاثرہ کے اہل خانہ کی شکایت پر پھلاوڑا پولیس نے گاؤں کے پردھان اسلم کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے۔ اپنی شکایت میں متاثرہ کے اہل خانہ نے کہا کہ 31 اگست کو پردھان اسلم نے انہیں بتایا کہ اس نے ان کی اغوا شدہ بیٹی کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی اس لیے وہ اس معاملے میں رپورٹ درج نہ کریں۔ ان کے مطابق پردھان اسلم ملزموں کے ساتھ گٹھ جوڑ میں ہے اور انہیں بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ شکایت میں مزید کہا گیا کہ اس نے انہیں تھانے میں جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار
ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں
دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ
بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے
بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی
بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا
ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں
مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال
بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد
ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں