Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے

    ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے

    ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے
    کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارا کرتے

    پیدائش:12 جون 1939ء

    عبیداللہ نام اور تخلص علیم تھا۔ 12 جون 1939ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سیالکوٹ سے نقل مکانی کرکے بھوپال میں آباد ہوگئے تھے۔ اس اعتبار سے ان کی پدری زبان پنجابی اور مادری زبان اردو تھی۔ بچپن سے انھیں اچھے شعر یاد کرنے اور پڑھنے کا شوق تھا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔ میٹرک کے بعد پوسٹ آفس کے سیونگ بینک میں ڈیڑھ سال تک ملازم رہے۔ پھر تقریبا دوسال تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل اکاؤنٹس میں کام کیا۔ 1959ء سے انھوں نے باقاعدگی سے شعر کہنا شروع کیا۔ عبید اللہ علیم نے کراچی سے اردومیں ایم اے کیا۔ گیارہ سال تک کراچی ٹیلی ویژن میں پروگرام پروڈیوسر کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے۔ اپنا ماہ نامہ ’’نئی نسلیں‘‘ بھی شائع کرتے رہے۔ 18 مئی 1998ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ’’چاند،چہرہ، ستارہ، آنکھیں‘‘ 1975ء میں شائع ہوا جس پر آدم جی ادبی انعام ملا۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’ویراں سرائے کا دیا‘‘1986ء میں چھپا۔ ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:’’ نگار صبح کی امیدیں‘‘، ’’یہ زندگی ہے ہماری‘‘(کلیات)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:350

    عبید اللہ علیم کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا
    میں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیا

    اک سبز شاخ گلاب کی تھا اک دنیا اپنے خواب کی تھا
    وہ ایک بہار جو آئی نہیں اس کے لیے سب کچھ ہار دیا

    یہ سجا سجایا گھر ساتھی مری ذات نہیں مرا حال نہیں
    اے کاش کبھی تم جان سکو جو اس سکھ نے آزار دیا

    میں کھلی ہوئی اک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں
    میں نے کن لوگوں سے نفرت کی اور کن لوگوں کو پیار دیا

    وہ عشق بہت مشکل تھا مگر آسان نہ تھا یوں جینا بھی
    اس عشق نے زندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا

    میں روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں
    ان لوگوں پر جن لوگوں نے مرے لوگوں کو آزار دیا

    مرے بچوں کو اللہ رکھے ان تازہ ہوا کے جھونکوں سے
    میں خشک پیڑ خزاں کا تھا مجھے کیسا برگ و بار دیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مٹی تھا میں خمیر ترے ناز سے اٹھا
    پھر ہفت آسماں مری پرواز سے اٹھا

    انسان ہو کسی بھی صدی کا کہیں کا ہو
    یہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھا

    صبح چمن میں ایک یہی آفتاب تھا
    اس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھا

    سو کرتبوں سے لکھا گیا ایک ایک لفظ
    لیکن یہ جب اٹھا کسی اعجاز سے اٹھا

    اے شہسوار حسن یہ دل ہے یہ میرا دل
    یہ تیری سر زمیں ہے قدم ناز سے اٹھا

    میں پوچھ لوں کہ کیا ہے مرا جبر و اختیار
    یارب یہ مسئلہ کبھی آغاز سے اٹھا

    وہ ابر شبنمی تھا کہ نہلا گیا وجود
    میں خواب دیکھتا ہوا الفاظ سے اٹھا

    شاعر کی آنکھ کا وہ ستارہ ہوا علیمؔ
    قامت میں جو قیامتی انداز سے اٹھا

  • این فرینک دنیا کی عمر ترین لکھاری

    این فرینک دنیا کی عمر ترین لکھاری

    این فرینک دنیا کی کم عمر ترین لکھاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیدائش:12 جون 1929ء
    فرینکفرٹ، ہیسے، جرمنی
    وفات:فروری یا مارچ 1945ء
    برجن بیلسن حراستی کیمپ
    مشرقی ہانوور، نازی
    آخری آرام گاہ:برجن بیلسن حراستی کیمپ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    اینیلیز فرینک (این فرینک) جرمنی میں پیدا ہونے والی ایک روزنامچہ (ڈائری) نگار تھی۔ وہ مرگ انبوہ کے سب سے زیادہ چرچوں میں رہنے والے یہودی متاثرین میں سے ایک تھی۔ اس کی وفات کے بعد اس کی ”ایک نوعمر لڑکی کی ڈائری“ (اصلی عنوان ڈچ میں Het Achterhuis) شائع ہوئی جس سے وہ بہت مشہور ہوگئی۔ اس ڈائری میں اس نے جنگ عظیم دوم میں جرمنی کے نیدرلینڈز پر قبضے کے دوران 1942ء سے 1944ء تک اپنی زندگی کے احوال بیان کیے تھے۔ اس ڈائری کا شمار دنیا کی معروف ترین کتابوں میں ہوتا ہے اور اس ڈائری کے واقعات پر کئی فلمیں اور ڈرامے بن چکے ہیں۔

    وہ فرینکفرٹ، جرمنی میں پیدا ہوئی۔ زیادہ تر وقت ایمسٹرڈم، نیدرلینڈز میں گزارا کیونکہ نازیوں نے جرمنی پر قابو پا لیا تھا اور مجبوراً اس کو کو اپنے خاندان کے ہمراہ ساڑھے چار برس کی عمر میں نیدرلینڈز جانا پڑ گیا۔ اس طرح این فرینک نے سنہ 1941ء میں اپنی شہریت کھو دی اور وہ بے وطن ہوگئی۔ مئی 1940ء میں نیدرلینڈز پر جرمن قبضے کی وجہ سے فرینک خاندان ایمسٹرڈم میں محصور ہو کر رہ گیا۔ جب جولائی 1942ء میں یہودی آبادی پر مظالم بڑھ گئے تو فرینک خاندان پوشیدہ کمروں میں چھپ گیا، یہ کمرے اس عمارت کی کتاب کی الماری کے پیچھے تھے جہاں اس کے والد کام کیا کرتے تھے۔ اس وقت سے لے کر اگست 1944ء میں گسٹاپو کے ہاتھوں خاندان کے گرفتار ہونے تک این کے پاس ایک ڈائری تھی جو اس کو اس کے جنم دن پر بطور تحفہ ملی تھی اور وہ اس میں روزانہ لکھتی تھی۔

    فرینک خاندان کی گرفتاری کے بعد انھیں نازیوں کے حراستی کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔ اکتوبر یا نومبر 1944ء میں این اور اس کی بہن مارگوٹ کو آشویتز سے برجن بیلسن حراستی کیمپ بھجوا دیا گیا جہاں وہ دونوں کچھ ماہ بعد (ممکنہ طور پر ٹائیفس سے) وفات پاگئیں۔ انجمن صلیب احمر کے مطابق وہ دونوں میں مارچ مریں لیکن 2015ء کی تحقیق کے مطابق ان کے فروری میں مرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔

    این کے والد اوٹا خاندان کے واحد فرد تھے جو زندہ رہے، وہ جنگ کے بعد ایمسٹرڈم واپس آئے اور این کی وہ ڈائری حاصل کر لی جو ان کی دوست میپ گیس نے محفوظ کر کے رکھی تھی۔ این کے والد نے کوششوں کے بعد سنہ 1947ء میں ڈائری کو شائع کر دیا۔ اس ڈائری کو ڈچ زبان کے اصلی نسخے سے انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا جس کا عنوان ”دی ڈائری آف اے ینگ گرل“ تھا اور اب تک اس کا 60 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

  • جوبائیڈن کا بیٹا نشے کی حالت میں غیر قانونی اسلحہ خریدنے کا مجرم قرار

    جوبائیڈن کا بیٹا نشے کی حالت میں غیر قانونی اسلحہ خریدنے کا مجرم قرار

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو نشے کی حالت میں غیر قانونی اسلحہ خریدنے کا مجرم قرار دے دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ولمنگٹن کی عدالت نے ہنٹر بائیڈن کے خلاف 2018 میں نشے کی حالت میں اسلحہ خریدنے اور اس سے متعلق غلط بیانی کرنے کے تینوں الزامات درست قرار دئیے، تاہم عدالت نے ہنٹر بائیڈن کو سزا سنانے کے لیے ابھی کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، 54 سالہ ہنٹر بائیڈن کو مقدمے میں درج 3 الزامات پر 15 برس قید ہو سکتی ہے،ہنٹر بائیڈن کے خلاف یہ فیصلہ ڈیلاویئر کے 12 ججوں پر مشتمل ایک پینل نے تقریباً تین گھنٹے کی بحث کے بعد دیا۔

    واضح رہے کہ امریکا میں پہلی بار عہدے پر موجود امریکی صدر کے بیٹے کو مجرم قرار دیا گیا ہے بیٹے کو مجرم قرار دیے جانے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے رد عمل میں کہا ہے کہ فیصلے کو قبول کرتا ہوں، عدالتی عمل کا احترام جاری رکھوں گا، ہنٹر بائیڈن فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔

    ایپل کی ’اے آئی‘ کے ساتھ شراکت داری،ایلون مسک نے خبردار کر دیا

    عدالتی امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے جوبائیڈن کے 54 سالہ بیٹے ہنٹر بائیڈن کو اس مقدمے میں درج تین الزامات پر کم سے کم 15 برس کی قید ہو سکتی ہے،امریکی صدر جو بائیڈن نے عدالتی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ عدالت کارروائی کا احترام کرتے رہیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ میرا بیٹا فیصلے کے خلاف اپیل میں جائے گا۔

    جنگلی گھوڑوں کی نایاب نسل کی 200 سال بعد دوبارہ آمد

  • ایپل کی ’اے آئی‘ کے ساتھ شراکت داری،ایلون مسک نے خبردار کر دیا

    ایپل کی ’اے آئی‘ کے ساتھ شراکت داری،ایلون مسک نے خبردار کر دیا

    ٹیسلا: معروف ٹیکنالوجی کمپنی ’ایپل‘ نے ’اے آئی‘ کی بڑھتی ترقی کو دیکھتے ہوئے اپنے آپریٹنگ سسٹم اور سری وائس اسٹنٹ کو اے آئی کے ساتھ ملانے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایپل کی جانب سے مصنوعی ذہانت کو دیکھتے ہوئے اپنے آپریٹنگ سسٹم اور سری وائس اسٹنٹ کو اے آئی کے ساتھ ملانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وہیں دوسری جانب کمپنی نے اپنے آئی فونز میں اوپن آے آئی پلیٹ فارم چیٹ جی پی ٹی فیچر کو سری کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپل نے یہ اعلان اپنے سالانہ ڈویلپرز پروگرام میں کیا کمپنی نے سری کے میک اوور( تجدید کاری) کا بھی اعلان کیا ہے جس کا نام ’ایپل انٹلیجنس‘ رکھا گیا ہے، اس نے چیٹ جی پی ٹی کے ڈویلپر اوپن اے آئی کے ساتھ پارٹنرشپ کی ہے جس کے ذریعے آئی فون اور میک آپریٹنگ سسٹم کو چیٹ جی پی ٹی تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔

    روسی خلا باز نے خلا میں ایک ہزار دن گزارنے کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    دوسری جانب ایلون مسک نے ایپل کو خبردار کیا ہے کہ آئی فون تیار کرنے والوں نے اگر اپنے آپریٹنگ سسٹم کو اے آئی (مصنوعی ذہانت) سے یکجا کیا تو وہ اپنی کمپنیز میں ایپل کی مصنوعات پر پابندی عائد کردیں گے۔

    ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ایپل کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ اپنے ڈیٹا کو اوپن اے آئی کے ہا تھوں میں دینا کتنا خطرناک ثابت ہوگا ان کی کمپنی میں آنیوالے وزٹرز کو دروازے پر ایپل کے آلات کو چیک کرنا ہوگا، جہاں انہیں ایک فیراڈے کیج میں رکھا جائے گا، یہ واضح طور پر ایک مضحکہ خیز بات ہے کہ ایپل اتنا قابل نہیں کہ وہ اپنا اے آئی لانچ کر سکے، پھر بھی کسی نہ کسی طرح یہ یقینی بنانے کے قابل ہے کہ اوپن اے آئی آپ کی سیکیورٹی اور رازداری کی حفاظت کرے گا۔

    بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کو مذاکرات کے لیے کوئی خط نہیں لکھا،بیرسٹر …

  • جنگلی گھوڑوں کی نایاب نسل کی 200 سال بعد دوبارہ آمد

    جنگلی گھوڑوں کی نایاب نسل کی 200 سال بعد دوبارہ آمد

    قازقستان: جنگلی گھوڑوں کی نایاب نسل نے قازقستان کا دوبارہ رخ کیا ہے،جو کہ 200 سال سے قازقستان کو چھوڑ گئے تھے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبررساں ادارے دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق پرزیوالسکی، گھوڑوں کی اصل جنگی نسل ہے جو کہ وسطی ایشیائی ممالک پہنچائی گئی ہے، کُل 7 گھوڑوں کو یورپ کے چڑیا گھر سے یہاں منتقل کیا گیا ہےان سات گھوڑوں کو یورپ کے مختلف ممالک برلن، پراگیو سے چیک ایئر فورس ٹرانسپورٹ کے جہاز کے ذریعے لایا گیا ہے-

    200 سال پہلے تک قازقستان میں جنگلی گھوڑے بڑی تعداد میں ہوا کرتے تھے، تاہم یہ نسل وسطی ایشیائی ملک سے ختم ہونے کے قریب ہوگئی تھی، زیبرے جیسی مماثلت رکھتے ان گوڑوں میں گدھے اور گھوڑے کی مماثلت بھی پائی جاتی ہے،یہ گھوڑے وسطی ایشیا کی ہریالی میں گھوما کرتے تھے،یہ ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں 5 ہزار سال قبل پہلی مرتبہ گھوڑوں کا فارم بنایا گیا تھاشمالی قازقستان میں 2 ہزار سال قبل بھی رہائشی دودھ کے لیے اور سفر کے لیے گھوڑوں کا استعمال کرتے تھے۔

    بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کو مذاکرات کے لیے کوئی خط نہیں لکھا،بیرسٹر …

    پراگیو میں موجود چڑیا گھر کے ترجمان فلپ میسیک کا کہنا تھا کہ یہ 7 دنیا کے آخری جنگلی گھوڑے بچے ہیں، مستانگز ہی دیہی گھوڑے ہیں جو کہ جنگلی بن گئے جبکہ گھوڑوں کو 200 سال بعد واپس لانے کا مقصد ان کی نسل کوبچانا ہے،ابتدا میں 8 گھوڑوں کو سفر طے کرنا تھا، تاہم ایک گھوڑا بیمار ہو گیا، جس کے باعث اسے انلوڈ کر دیا گیا تھایہ کل 30 گھنٹوں کا سفر تھا، جبکہ گھوڑے اسی وقت زندہ رہ سکتے تھے اگر وہ پورے سفر کے دوران کھڑے رہتے، یہ گھوڑے زیادہ بیٹھ نہیں سکتے ہیں، کیونکہ کھڑے رہنے سے خون کی روانی تسلسل کے ساتھ رہتی ہے۔

    افریقی سوانا ہاتھی بھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کو ‘نام’ سے پکارتے ہیں،تحقیق

  • ملاوی فوج کی نائب صدر کا طیارہ جنگل میں گر کر تباہ ہونے کی تصدیق

    ملاوی فوج کی نائب صدر کا طیارہ جنگل میں گر کر تباہ ہونے کی تصدیق

    ملاوی: افریقی ملک ملاوی کی فوج نے گزشتہ روز لاپتا ہونے والے ملٹری ایئرکرافٹ کی ممکنہ طور پر ایک جنگل میں گرکر تباہ ہونے کی تصدیق کی ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملاوی فوج کے کمانڈر پال ویلینٹینو فیری نے میڈیا کو بتایا نائب صدر ساؤلوس کلاؤس چلیما اور 9 دیگر اعلیٰ حکام کو لے جانے والے فوجی طیارے کے گھنے جنگل چکان گاوا میں گر کر تباہ ہونے کے شواہد ملے ہیں، طیارے کی جیو فینسنگ، ریڈار سے غائب ہونے کے مقام اور عینی شاہدین کے بیانات سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ طیارہ چکان گاوا کے جنگل میں گر کر تباہ ہوگیا-

    انہوں نے کہا کہ خراب موسم، حد نگاہ میں کمی اور دھند کے باعث چکان گاوا جنگل میں امدادی کاموں میں شدید رکاوٹ کا سامنا ہے، طیارے کی ملبے کو تاحال تلاش نہیں کیا جا سکا،طیارے کے حادثے کی وجہ بھی یہی موسم کی خرابی ہوسکتی ہےہوسکتا ہے طیارہ کسی چوٹی یا درخت سے ٹکرانے کے بعد جنگل میں گرگیا ہو، ایسے کئی اور امکانات بھی ہوسکتے ہیں۔

    افریقی ملک کے نائب صدر کا طیارہ لاپتہ ہو گیا

    دوسری جانب صدر لازارس چکویرا نے کہا کہ طیارے کی تلاش کے لیے امریکا، برطانیہ، ناروے اور اسرائیل سمیت مختلف ممالک سے رابطہ کیا ہے جنہوں نے طیارہ سرچ آپریشن کے لیے “مختلف صلاحیتوں میں” تعاون کی پیشکش کی تھی خرابی موسم کے باعث امدادی کام تعطل کا شکار ہیں لیکن طیارے کے ملنے تک ریسکیو مشن جاری رہے گا۔

    ہم اپنی معیشت کی بحالی اور استحکام چاہتے ہیں،عطا تارڑ

    واضح رہے کہ ملاوی کے نائب صدر 51 سالہ ڈاکٹر ساؤلوس کلاؤس چلیما سابق حکومتی وزیر رالف کسامبارا کی تدفین میں شرکت کے لیے طیارے میں جا رہے تھے، جس میں سابق خاتون اول شانیل زیمبری سمیت 10 اعلیٰ حکام سوار تھےطیارے نے پیر کی صبح دارا لحکومت لیلونگوے سے بھری تھی اور کچھ دیر بعد طیارے کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا تھا اور 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود طیارے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

    روسی خلا باز نے خلا میں ایک ہزار دن گزارنے کا اعزاز اپنے نام کرلیا

  • مکہ میں خاتون عازم حج  کے ہاں بچے کی ولادت

    مکہ میں خاتون عازم حج کے ہاں بچے کی ولادت

    مکہ مکرمہ: نائیجیریا کی خاتون عازم حج کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی، جس کا نام محمد رکھ دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: سعودی میڈیا کے مطابق اس سال حج سیزن میں ہونے والی یہ پہلی ولادت ہے،30 سالہ خاتون نے مکہ کے میٹرنٹی اینڈ چلڈرن اسپتال میں بچے کو جنم دیا، جس کا نام محمد رکھا گیا ہے،خاتون کو حمل کے 31 ہفتے بعد ہی شدید تکلیف کے سبب اسپتال کے ایمرجنسی روم میں داخل کروایا گیا، ایمرجنسی ٹیم نے ان کی حالت کا جائزہ لیا جس کے بعد خاتون کو میٹرنٹی وارڈ منتقل کیا گیا جہاں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی،وقت سے قبل پیدا ہونے والے بچے کی مکہ کے اسپتال میں دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور خاتون کی حالت بھی بہتر بتائی جا رہی ہے۔

    علاوہ ازیں سعودی عرب کی خطرناک گرمی کے باوجود 130 سالہ خاتون سرزمین مکہ پہنچ گئی ہیں مقامی اخبار24 کے مطابق 130 سالہ عازم حج بذریعہ ہوائی جہاز مکہ مکرمہ پہنچی ہیں، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ خاتون عازم حج کو خوش آمدید کرنے کے لیے سعودی ایئرلائن نے بھی انتظامات کیے تھے۔

    سب مجھے خاموش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح دھاندلی کور ہو جائے،عمران …

    makkah
    سعودی ایئرلائنز نے سوشل میڈیا پر کہا کہ الجیریا سے تعلق رکھنے والے 130 سالہ سرحدہ ستیتی کی جانب سے سعودی ایئرلائنز کا انتخاب کیا گیا تھا، جس کے ذریعے وہ مکہ مکرمہ پہنچیں،جس پر کمپنی کے اعلیٰ عہدیداران سمیت حکام کی جانب سے تحائف کے ساتھ بزرگ خاتون عازم حج کا استقبال کیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس : آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا

  • افریقی سوانا ہاتھی بھی انسانوں کی طرح  ایک دوسرے کو ‘نام’ سے پکارتے ہیں،تحقیق

    افریقی سوانا ہاتھی بھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کو ‘نام’ سے پکارتے ہیں،تحقیق

    کینیا: ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ہاتھی بھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کو ناموں سے پکارتے ہیں-

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر ایکولوجی میں شائع نئی تحقیق میں ماہرین نے کہا ہے کہ ہاتھی اپنے ساتھیوں کے لیے مخصوص آوازیں نکالتے ہیں جبکہ ان آوازوں پر مخصوص ہاتھی ہی ردعمل ظاہر کرتے ہیں،اس تحقیق کے لیے کینیا میں ہاتھیوں کے 2 گروپس کی آوازوں کا تجزیہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی الگورتھم کے ذریعے کیا گیا۔

    کینیا کے 2 نیشنل پارکس سے ہاتھیوں کی آوازوں کو 1986 سے 2022 کے دوران ریکارڈ کیا گیا اور مشین لرننگ الگورتھم کے ذریعے 469 آوازوں کو شناخت کیا گیا،ہاتھی مختلف طرح کی آوازیں نکالتے ہیں جن میں سے کچھ انسانی کان سن بھی نہیں پاتے۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس : آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہاتھیوں کی آوازوں میں ہمیشہ ناموں کو پکارا نہیں جاتا بلکہ ایسا اس وقت کیا جاتا ہے جب ہاتھی ایک دوسرے سے دور ہوں یا بالغ ہاتھی بچوں کو تلاش کر رہے ہوں، بچوں کے مقابلے میں بالغ ہاتھیوں کی جانب سے ناموں کو استعمال کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ممکنہ طور پر اس مخصوص صلاحیت کو سیکھنے میں کئی برس لگ جاتے ہیں، اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ہاتھی یہ تعین کر سکتے ہیں کہ کسی آواز کا مقصد کیا ہے۔

    سب مجھے خاموش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح دھاندلی کور ہو جائے،عمران …

    تحقیق کے دوران جب کسی ہاتھی کو اس کے دوست یا خاندان کے فرد کی جانب سے پکارے گئے نام کی ریکارڈنگ سنائی گئی تو اس کی جانب سے مثبت اور پرجوش ردعمل دیکھنے میں آیا،مگر ان ہاتھیوں کی جانب سے دیگر ناموں پر کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا اس سے عندیہ ملتا ہے کہ محض ہاتھی اور انسان 2 ایسے جاندار ہیں جو اپنے لیے ناموں کو استعمال کرتے ہیں، انسانوں اور ہاتھیوں میں کافی کچھ ملتا جلتا ہے، جیسے خاندان کی شکل میں رہنا اور مضبوط معاشرتی زندگیاں وغیرہ۔

    کیا سی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کو انگریزی کی کلاسز کرانا پڑیں گی؟ جسٹس …

  • روسی خلا باز نے خلا میں ایک ہزار دن گزارنے کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    روسی خلا باز نے خلا میں ایک ہزار دن گزارنے کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    ماسکو: روس سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے خلا میں ایک ہزار دن گزارنے کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : Oleg Kononenko نے 5 جون کو خلا میں ایک ہزار دن گزارنے والے پہلے انسان ہونے کا اعزاز اپنے نام کیااس سے قبل فروری میں انہوں نے خلا میں سب سے زیادہ 878 دن گزارنے کا ریکارڈ اپنے نام کیا تھا، جو اس سے پہلے روس کے ہی Gennady Padalka کے پاس تھا دونوں خلا بازوں نے یہ ریکارڈ کسی ایک مشن میں قائم نہیں کیا تھا بلکہ 5 مشنز میں ایسا ممکن ہوا۔

    مگر Oleg Kononenko کے مشنز کا دورانیہ زیادہ طویل تھا اور وہ مستقبل میں بھی کافی وقت خلا میں گزارنے والے ہیں اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ستمبر 2024 کو انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے ان کی زمین پر واپسی ہوگی اور اس وقت تک خلا میں ان کے قیام کی مدت 1110 دن ہو جائے گی۔

    افریقی ملک کے نائب صدر کا طیارہ لاپتہ ہو گیا

    انہوں نے روسی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ کچھ نیا اور اہم حاصل کر سکتے ہیں اور نامعلوم چیزوں کو چھو سکتے ہیں، اس سے آپ کو اعتماد ملتا ہے مگر ابھی بھی وہ ایک مشن میں سب سے زیادہ دن خلا میں گزارنے کا ریکارڈ اپنے نام نہیں کرسکے ہیں، یہ ریکارڈ Valeri Polyakov کے نام ہے جنہوں نے 1990 کی دہائی میں 434 دن 18 گھنٹے خلا میں گزارے۔

    9 مئی: میانوالی ائربیس پر حملے کے تمام ملزمان باعزت بری

  • بحرِ الکاہل  میں مشن کے دوران عجیب و غریب متعدد انواع کی مخلوقات دریافت

    بحرِ الکاہل میں مشن کے دوران عجیب و غریب متعدد انواع کی مخلوقات دریافت

    اسٹاک ہوم: بحرِ الکاہل (Pacific ocean) میں ایک مشن کے دوران محققین نے سمندر کے گہرے ترین خطے میں متعدد انواع کی مخلوقات دریافت کی ہیں جن کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق سویڈن کے محققین بحر الکاہل کے گہرے ترین خطے Clarion-Clipperton Zone کا دورہ کر رہے تھے جہاں انہوں نے کچھ ایسی انواع دریافت کیں جن کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیابحر الکاہل کے اندر موجود یہ گہرا ترین خطہ میکسیکو اور ہوائی کے درمیان واقع ہے، دریافت ہونے والی یہ مخلوقات اس خطے کے ایسے علاقے میں رہتی ہے جہاں سورج کی روشنی کا گزر نہیں ہوتا، ہمیشہ تاریکی کا راج رہتا ہے۔

    سویڈن کی یونیورسٹی آف گوتھنبرگ نے اپنے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ مشرقی بحر الکاہل میں کلیریون کلپرٹن زون میں تحقیقی مہم اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے یہ زیرسمندر خطے زمین کے سب سے کم دریافت کیے جانے والے حصے ہیں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہاں رہنے والی دس انواع میں سے سائنس اب تک صرف ایک کے بارے میں بیان کرپائی ہے۔

    غزہ جنگ : اختلافات پر نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کےاہم رکن اپنے عہدے …

    Clarion-Clipperton Zone سمندر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس کی گہرائی 3500 سے 5500 میٹر تک ہے اگرچہ تمام سمندری خطے زمین کی کُل سطح کا نصف سے زائد ہیں لیکن ان میں بسنے والی دلچسپ مخلوقات کے بارے بہت ہی کم معلومات ہیں۔

    غیرملکی ائیرلائن کی پرواز منسوخ ہونے سے 136 عازمین حج شدید پریشانی کا شکار