Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سیف علی خان ہسپتال سے گھر منتقل،تصویر بھی سامنے آ گئی

    سیف علی خان ہسپتال سے گھر منتقل،تصویر بھی سامنے آ گئی

    بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان کو آج ممبئی کے لیلاوتی اسپتال سے چھٹی مل گئی اور وہ بخیر و عافیت اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔

    یہ واقعہ 16 جنوری کی صبح پیش آیا تھا جب ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ چاقو کے حملے میں سیف علی خان شدید زخمی ہوئے تھے اور انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اب چھٹے دن ڈاکٹروں نے ان کی حالت میں بہتری کو دیکھتے ہوئے انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی۔آج صبح ڈاکٹروں نے سیف علی خان کی صحت کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں اور انہیں اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد سیف علی خان کو گھر لے جانے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ کرینہ کپور، جو سیف علی خان کے ساتھ اسپتال میں موجود تھیں، نے انہیں سخت سیکیورٹی کے درمیان ان کے رہائش گاہ تک پہنچایا۔سیف علی خان کی رہائش گاہ پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور چند اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ ان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

    واضح رہے کہ 16 جنوری کی صبح سیف علی خان پر ایک حملہ آور نے چاقو سے کئی حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔ ان کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی میں سنگین چوٹیں آئی تھیں۔ سیف علی خان کو فوری طور پر لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق حملے میں سیف کو ریڑھ کی ہڈی کے علاوہ تین مقامات پر شدید چوٹیں آئی تھیں، جن میں سے دو زخم ان کے ہاتھ پر تھے اور ایک گردن کی دائیں طرف۔

    سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے سیف علی خان کی ریڑھ کی ہڈی میں پھنسی ہوئی نکیلی چیز کو نکال لیا، جسے چاقو کے اگلے حصے کے طور پر شناخت کیا گیا۔ آپریشن کے بعد سیف علی خان کو 17 جنوری کو آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا اور ان کی حالت میں بتدریج بہتری آنے کے بعد انہیں نارمل وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا۔

    میرے صوبے کے تو بارڈر کھلے،دہشتگردی کا کون ذمہ دار ہے،جسٹس مسرت ہلالی

    کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

  • ترکیہ کے ایک ہوٹل میں خوفناک  آتشزدگی،10 افراد ہلاک

    ترکیہ کے ایک ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی،10 افراد ہلاک

    استنبول: ترکیہ کے ایک ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی کے واقعے میں 10 افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ آگ ترکیہ کے صوبے بولو میں کے علاقے کارتالکیا کے 11 منزلہ ریزروٹ ہوٹل کی چوتھی منزل میں لگی تھی جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے آگ 11 منزلہ عمارت کی چوتھی منزل پر رات 3 بجے لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے دیگر منازل تک پھیل گئی اور تاحال آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔

    آگ لگنے سے گھبراہٹ کا شکار ہونے والے دو افراد نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا دی جس کے باعث دونوں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے فائر فائٹرز نے 4 گھنٹے کی مشقت کے بعد آگ پر قابو پالیا امدادی کاموں کے دوران 35 سے زائد بری طرح جھلسے ہوئے افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

    سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کو عہدے سے ہٹا دیاگیا

    ریسکیو ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ 35 افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں زخمیوں میں سے 6 کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے زیادہ تر ہلاکتیں دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔

    تاحال آگ لگنے کی وجوہات کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔ حکومت کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔

    سیف علی خان کو اسپتال پہنچانے والے رکشہ ڈرائیور کو انعام

  • امریکہ اور طالبان کے مابین قیدیوں کا تبادلہ،ایک افغان،دوامریکی شہری رہا

    امریکہ اور طالبان کے مابین قیدیوں کا تبادلہ،ایک افغان،دوامریکی شہری رہا

    امریکہ اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    اس معاہدے کے تحت افغانستان کے شہری خان محمد، جو تقریباً 20 سال سے امریکہ میں قید تھے، انہیں امریکی شہریوں کے بدلے رہا کر دیا گیا ہے۔خان محمد نے کیلیفورنیا کی جیل میں عمر بھر کی سزا کاٹنے کے دوران تقریباً دو دہائیاں گزاریں۔ ان کی رہائی کا عمل امریکیوں کے بدلے میں ہوا ہے،

    اس قیدیوں کے تبادلے میں امریکی شہری راین کوربیٹ اور ولیم میک کینٹی کو طالبان کے قید سے آزاد کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت طالبان کے رکن خان محمد کو دوحہ، قطر منتقل کیا گیا۔قطر نے اس معاملے میں ایک اہم کردار ادا کیا، کیونکہ اس نے مذاکرات کی میزبانی کی اور کابل سے امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کی۔

    اس قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے سے دونوں فریقین کے تعلقات میں ایک نئی نوعیت کی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے،

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    کرپشن، اقربا پروری اور بدانتظامی، سابق جج کی بدولت ڈیرہ نواب کالج کیسے تباہ ہوا؟

  • ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی عالمی ادارہ صحت کو بڑا دھچکا

    ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی عالمی ادارہ صحت کو بڑا دھچکا

    امریکا نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔

    اس نئے حکم کے مطابق امریکی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت سے اپنے روابط ختم کرے اور اس کی رکنیت سے دستبردار ہو جائے۔ اس اقدام کے بعد عالمی ادارہ صحت کو امریکا کی طرف سے عالمی امداد کی سب سے بڑی فنڈنگ سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا صدر دفتر جنیوا میں واقع ہے اور یہ عالمی سطح پر صحت کے مسائل کو حل کرنے میں ایک اہم ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ادارے کا کردار متعدی بیماریوں، انسانی بحرانوں اور دائمی بیماریوں جیسے کینسر اور دل کی بیماریوں کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او عالمی سطح پر صحت کے بحرانوں سے نمٹنے اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے متعدد پروگرامز اور اقدامات کرتا رہا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے 2024-25 کے بجٹ سائیکل میں امریکا کا تعاون 662 ملین ڈالر رہا، جو کہ ایجنسی کی کل آمدنی کا تقریباً 19 فیصد بنتا ہے۔ اس رقم کی کمی سے عالمی ادارہ صحت کو مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ دنیا بھر میں صحت کے بڑے بحرانوں جیسے ہیضہ، ڈینگی، ایم پی اوکس، اور ماربرگ وائرس سے لڑ رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارت کے اختتام پر بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت پر سخت تنقید کی تھی اور چین کو فائدہ پہنچانے کے الزامات لگائے تھے۔ اسی وجہ سے انھوں نے عالمی ادارہ صحت سے دستبردار ہونے کی کوشش کی تھی، مگر اس وقت یہ فیصلہ مکمل طور پر عمل میں نہ آ سکا تھا۔2020 کی کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق، یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر عالمی ادارہ صحت سے نکلنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ریپبلکن کنٹرول والی کانگریس شاید ٹرمپ کے اس اقدام کو روکنے کی کوشش کرے گی۔

    عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں چیچک کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ایچ آئی وی، پولیو، ہیضہ، اور دیگر متعدی بیماریوں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ ادارہ آج بھی دنیا بھر میں صحت کے بحرانوں پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے، اور امریکا کے اخراج سے اس کی کارکردگی پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔امریکا کی جانب سے عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کا فیصلہ عالمی سطح پر صحت کے مسائل کو حل کرنے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ امریکا کی فنڈنگ کا فقدان ڈبلیو ایچ او کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالے گا اور عالمی صحت کے بحرانوں پر قابو پانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

  • تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار بطور امریکی صدر عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے،

    ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں فوٹوگرافروں کے کیمرے ایک ایک سیکنڈ میں اس تاریخی لمحے کو محفوظ کر رہے تھے، اور اسی دوران ایک دلچسپ اور غیر متوقع منظر نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے،ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کے درمیان یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ نو منتخب صدر امریکا، ڈونلڈ ٹرمپ، جب کیپیٹل کی عمارت میں حاضرین کے سامنے اپنی اہلیہ میلانیا کو بوسہ دینے کی کوشش کر رہے تھے، تو ایک ہنسی مذاق کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کے لیے جب ان کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، تو میلانیا کے سر پر موجود ہیٹ نے انہیں بوسہ دینے میں رکاوٹ ڈالی۔ اس وقت ان کے ارد گرد ان کے بچے بھی موجود تھے، جنہوں نے کامیابی اور فتح کی خوشی میں ٹرمپ کا ساتھ دیا تھا۔

    لیکن جب ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کی کوشش کی، تو ہیٹ کی موجودگی کی وجہ سے وہ یہ نہ کر پائے۔ اس پر ٹرمپ نے فوراً صورتحال کو سنبھالا اور خود کو شرمندگی سے بچاتے ہوئے اپنی اہلیہ کو ہوا میں بوسہ (Flying Kiss) دے کر مطمئن ہو گئے۔یہ منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور صارفین نے اس "ادھورے بوسے” پر دلچسپ تبصرے کیے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس منظر پر قہقہے لگائے اور اس کو ایک منفرد اور غیر متوقع واقعہ قرار دیا۔

    یہ لمحہ نہ صرف ہال میں موجود افراد کے لیے یادگار بن گیا، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس نے اپنی جگہ بنا لی، جہاں پر صارفین نے اس کو مختلف انداز میں شیئر کیا۔ ٹرمپ کی شخصیت اور اس منفرد لمحے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اپنی دھاک بٹھا لی۔

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • ٹرمپ کی سعودی  اسرائیل  تعلقات میں بہتری  کی امید

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ابراہام معاہدے میں شمولیت کے امکان کا اظہار کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدرات سنبھالنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب بالآخر ابراہام معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنے کی امید ہے، جس سے مشرق وسطی میں امن اور استحکام کی راہیں ہموار ہوں گی۔

    پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اب امریکا ترقی کرے گا اور وہ اپنے دور میں امریکا کو "پہلے رکھوں گا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا بہت جلد ایک مضبوط، عظیم، اور پہلے سے زیادہ کامیاب ملک بنے گا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی اولین ترجیح ایک ایسا ملک قائم کرنا ہے جو آزاد اور مضبوط ہو۔ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران درپیش مشکلات کا ذکر کیا اور کہا کہ انھیں جن مشکلات کا سامنا ہوا وہ امریکی تاریخ میں کسی اور کو نہیں ہوئیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکا کو پھر سے عظیم بنانے کے لیے کام کریں گے اور یہ دن امریکی شہریوں کی آزادی کا دن ہے۔ انہوں نے سیاہ فام اور لاطینی امریکی کمیونٹیز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کے مسائل کو سن کر ان کے لیے کام کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے مارٹن لوتھر کنگ ڈے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور اس دن کے موقع پر سیاہ فام کمیونٹی کے حقوق کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • ٹرمپ نے  حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی صدارت کا حلف اٹھایا، جس کے ساتھ ہی وہ امریکا کے 47 ویں صدر بن گئے۔ اس موقع پر امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ سے عہدہ صدارت کا حلف لیا۔

    حلف برداری کی تقریب میں ایک حیران کن بات یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔ جہاں ایک طرف ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ دو بائبلز تھامے کھڑی تھیں، وہیں صدر ٹرمپ نے اپنا سیدھا ہاتھ بلند کیا لیکن کسی بھی بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔اگرچہ امریکی دستور کے تحت صدر کے لیے بائبل پر ہاتھ رکھنا قانونی طور پر ضروری نہیں ہے، مگر یہ ایک قدیم روایت ہے کہ امریکی صدر اپنے عہدے کا حلف ایک ہاتھ بائبل پر رکھ کر لیتا ہے۔ یہ روایت امریکا کی صدارت کی تاریخ میں صدیوں سے جاری ہے، تاہم ٹرمپ کا یہ غیر متوقع اقدام لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث بن گیا۔

    یاد رہے کہ 20 جنوری 2017 کو اپنے پہلے دور صدارت کی حلف برداری کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو دو بائبلز پر رکھا تھا، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال نے ملکی اور عالمی سطح پر بحث و مباحثہ کو جنم دیا ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

  • جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    امریکا کے نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی سابق صدر جو بائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات کو منسوخ کر دیا اور کئی اہم ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے۔

    ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد کیپٹل ون ارینا میں ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ٹرمپ کے حامیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر پولیس اور مختلف سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے نو منتخب صدر کو اعزازی سلامی بھی دی گئی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے روز میں وفاقی حکومت میں نئی بھرتیوں پر پابندی لگانے کے حکم نامے پر دستخط کیے اور سابق صدر جو بائیڈن کے متعدد ایگزیکٹو آرڈرز کو منسوخ کر دیا۔ ان آرڈرز میں امریکی وفاقی سطح پر کام کرنے والے افراد کے لیے گھر سے کام کرنے کے انتظامات کو ختم کرنے اور کام پر حاضری کے آرڈرز پر دستخط شامل تھے۔

    ٹرمپ نے پیرس ماحولیاتی معاہدے سے امریکا کی علیحدگی کے آرڈر پر بھی دستخط کیے اور بائیڈن کے مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی پر عملدرآمد کو ختم کر دیا۔ اس کے علاوہ، بائیڈن کے 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کے 50 فیصد ہدف کو بھی منسوخ کر دیا۔ٹرمپ نے اظہار رائے کی آزادی کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو سیاسی مخالفین کے خلاف مسلح کرنے کی پالیسی کو بھی ختم کیا۔وائٹ ہاؤس پہنچ کر صدر ٹرمپ نے کیپٹل حملے میں ملوث 1500 افراد کو معافی دینے کے لیے ایک حکم نامے پر دستخط کیے۔ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کے آرڈر پر بھی دستخط کیے اور تارکین وطن کے داخلے سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے۔کارٹلز کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ۔جنوبی سرحد پر نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کے آرڈر پر بھی دستخط کیے،صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدوں میں امریکا کو اولین ترجیح دینے کے آرڈر پر دستخط کیے،ٹرمپ نے امریکی خاندانوں کو قیمتوں میں ایمرجنسی ریلیف دینے کے آرڈر پر بھی دستخط کیے

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ مہنگائی کو شکست دینے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے کیونکہ پچھلے چار سالوں میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے میکسیکو اور کینیڈا پر 25 فیصد ٹیرف لگانے پر غور کرنے کی بات کی اور میکسیکو بارڈر پر اسپیشل فورسز کی تعیناتی کی تجاویز دیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے، مگر اس ملاقات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

    صدرڈونلڈ ٹرمپ نے نگران کابینہ اور کابینہ سطح کے عہدوں کا بھی اعلان کیا، نگران کابینہ کے اراکین عہدوں پر باضابطہ تقرری تک خدمات انجام دیں گے۔ٹرمپ نے اظہار رائے کی آزادی اور سنسر شپ ختم کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے۔

    صدر ٹرمپ نے ٹک ٹاک سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں کہا گیا ہے کہ چین کو اس کی ملکیت یا معاہدے کی توثیق کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر چین نے معاہدے کی توثیق نہیں کی تو اس پر ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ٹرمپ نے اٹارنی جنرل کو اگلے 75 دن تک ٹک ٹاک پرکوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک سے متعلق ڈیل کر بھی سکتا ہوں ، ٹاک ٹاک ڈیل کی تو اس کی 50 فیصد ملکیت حاصل کرنا ہوگی، ڈیل نہیں کی تو ٹک ٹاک کسی کام کا نہیں رہےگا۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنوری کے یرغمالیوں سمیت متعدد افراد کو عام معافی دینے کے لیے دستاویزات پر دستخط کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے آف شور ڈرلنگ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ٹرمپ نے جسٹس ڈپارٹمنٹ کو 6 جنوری حملے سے متعلق تمام مؤخر کیسز ختم کرنے کا بھی حکم دیا اور امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت سےعلیحدہ ہونےکے آرڈر پر بھی دستخط کر دیے۔

    صدرٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم یقیناً وینزویلا سے تیل خریدنا چھوڑ رہے ہیں، میں حیران ہوں کہ بائیڈن نے اپنی پوری فیملی کو معافی دے دی، پہلےدن بہت سے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرنا آمریت نہیں۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سینیٹ نے مارکو روبیو کی بطو روزیرخارجہ تقرری کی توثیق کر دی،وائٹ ہاؤس کے مطابق لیزا کینا سیکرٹری آف اسٹیٹ، رابرٹ سیلسیس سیکرٹری ڈیفنس کے فرائض انجام دیں گے۔

    ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بائیڈن نے اپنی فیملی کے تمام افراد کو معاف کیا، لیکن ان کے نزدیک یہ "آمریت” نہیں ہے بلکہ حکومتی معاملات میں ان کے فیصلے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دن کے فیصلوں نے امریکی سیاست میں ایک نیا موڑ لے لیا ہے اور ان کے اقدامات کی امریکا میں مختلف حلقوں کی جانب سے گہری نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان کے اس اقدام سے یہ واضح ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی اختیار کرنے کے بجائے فوری طور پر اپنی ایجنڈا کی تکمیل کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

    سی این جی بندش کا فیصلہ واپس، اسٹیشنز دوبارہ کھل گئے

    صدر ٹرمپ کا جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی لگانےکا اعلان

  • پاکستان ،بھارت اور دنیا کےرہنماؤں کی ٹرمپ کو مبارکباد

    پاکستان ،بھارت اور دنیا کےرہنماؤں کی ٹرمپ کو مبارکباد

    امریکا کے 47ویں صدر کی حیثیت عہدہ سنبھالنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو اتحادی ممالک سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغام دیے جارہے ہیں۔

    پاکستان
    صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا کے 47ویں صدر کی حیثیت عہدہ سنبھالنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کی۔
    وزیراعظم اور صدر پاکستان نے بحیثیت صدر کامیابی کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں پاکستان اور امریکا کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا نے خوشحالی و امن کے لیے ہمیشہ مل کر کام کیا، قیام امن کے حصول کے لئے اشتراک کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

    بھارت
    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک مبارکباد دیتے ہوئے کہا ’میں ایک بار پھر مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں تاکہ دونوں ممالک کو فائدہ ہو اور دنیا کے لیے ایک بہتر مستقبل تشکیل دیا جا سکے‘۔

    برطانیہ
    برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صدیوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تعاون اور پائیدار شراکت داری پر مبنی رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اور امریکا ’بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف کے لوگوں‘ کے لیے مل کر کام کریں گے جب کہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی تعلقات آنے والے برسوں میں بہتر سے بہتر ہوں گے۔

    جرمنی
    جرمن چانسلر اولاف شولز نے عہدہ سنبھالنے پر ٹرمپ کو مبارک باد دی، ان کا کہنا تھا کہ امریکا ہمارا قریب ترین اتحادی ہے اور ہماری پالیسی کا مقصد ہمیشہ اچھے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات ہیں۔

    اسرائیل
    اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ٹرمپ کو امریکا کے47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے پر مبارکباد دینے کے لیے ویڈیو بیان ریکارڈ کیا۔اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ’ہم آپ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امریکی عوام کو امریکا کے صدر کی حیثیت سے آپ کی دوسری حلف برداری پر نیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت میں دونوں ممالک کے درمیان ’اتحاد تاریخی بلندیوں‘ پر تھے اور مجھے یقین ہے کہ ایک بار پھر مل کر کام کرتے ہوئے ہم امریکا اسرائیل اتحاد کو مزید بلندیوں تک لے جائیں گے۔

    یوکرین
    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے صدر ٹرمپ کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’باہمی تعاون‘ کے لیے انتظار کررہے ہیں، صدر ٹرمپ ہمیشہ فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ نے جن طاقت ور پالیسوں کا اعلان کیا ہے وہ امریکی قیادت کو مضبوط بنانے اور طویل مدتی اور منصفانہ امن کے حصول کا موقع فراہم کرتا ہے۔

    کینیڈا
    کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ’مبارک ہو صدر ٹرمپ، کینیڈا اور امریکا کے درمیان دنیا کی کامیاب ترین اقتصادی شراکت داری ہے جب کہ ہمارے پاس ایک بار پھر مل کر کام کرنے کا موقع ہے تاکہ دونوں ممالک کے لیے مزید ملازمتیں اور خوشحالی پیدا کی جاسکے۔

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47ویں صدر کی حیثیت سے اپنی دوسری مدت کےلیے حلف اٹھا لیا، امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ سے حلف لیا۔تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیپٹل ہل پہنچے۔ ان کے ہمراہ صدر جو بائیڈن بھی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے۔امریکی صدر کی حلف برداری تقریب واشنگٹن کے یوس ایس کیپیٹل روٹونڈا میں ہوئی، تقریب میں 3 سابق صدور براک اوباما، جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن بھی شرکت کے لیے پہنچے۔تقریب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے مالک ایلون مسک، میٹا کے مالک مارک زکر برگ، امیزون کے چیئرمین جیف بیزوس اور گوگل کے سربراہ سُندر پچائی بھی موجود تھے۔

    حلف اٹھانے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ چرچ کی دعائیہ تقریب میں شرکت کی، ٹرمپ کے ساتھ چرچ میں نائب صدر جے ڈی وینس اور انکی اہلیہ اوشا وینس بھی شریک تھیں۔دوسری دفعہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا میں سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے، آج سے ہمارا ملک ترقی کی نئی منازل طے کرے گا، اور دنیا بھر میں دوبارہ اس کی عزت کی جائے گی۔

  • صدر ٹرمپ کا  جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی  لگانےکا اعلان

    صدر ٹرمپ کا جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی لگانےکا اعلان

    دوسری بار صدر منتخب ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں کہا امریکہ کا سنہری دور شروع ہوگیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکہ 47 ویں صدر کی حیثیث سے حلف اٹھانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف برداری کی تقریب میں شریک شرکا سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اب سنہری دور شروع ہوگیا، میرے دور میں امریکہ پہلی ترجیح ہوگا، اب امریکہ ترقی کرے گا، میری اولین ترجیج ایک ایسا ملک قائم کرنا جو مضبوط ہو، امریکی خود مختاری کو دوبارہ حاصل کریں گے، امریکا بہت جلد مضبوط، عظیم اور پہلے سے کہیں زیادہ کامیاب ملک بنے گا,سابق حکومتیں داخلی مسائل حل نہیں کرسکیں لیکن دنیا بھر میں مہنگی مہمات کرتی رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پچھلی انتظامیہ نے ہمارے ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے ’خطرناک مجرموں ‘ کو پناہ اور تحفظ فراہم کیا ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ’ غیر ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے لامحدود فنڈنگ ‘ دی ہے لیکن امریکی سرحدوں کے دفاع کے چیلنج کو نظر انداز کر دیا لیکن میں اور میری انتظامیہ سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نےسی بی پی ون نامی سرحدی ایپ کا استعمال ختم کر دیا،سی بی پی ون نے 10 لاکھ افراد کو قانونی طور پر کام کرنے کی اہلیت کے ساتھ امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ 8 سال مجھے جن مشکلات کا سامنا رہا امریکی تاریخ میں کسی اور کیساتھ ایسا نہیں ہوا، میں امریکا کو پھر سے عظیم بناؤں گا، آج کا دن امریکی شہریوں کی آزادی کا دن ہے، میں اور میری انتظامیہ ملک کی سرحدوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے، سابقہ انتظامیہ کے اقدامات کے باعث اب ہمارے پاس ایک ایسی حکومت ہے جو اندرون ملک ایک معمولی بحران سے بھی نمٹ نہیں سکتی،سیاہ فارم اور لاطینی امریکیوں کا شکریہ، میں نے اُن کے مسائل سنے ہیں۔ آج یعنی 20 جنوری مارٹن لوتھر کنگ ڈے ہے اور اس مناسبت سے میں اُن کے لئے کام کروں گا، میں امریکا کی جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی کا اعلان کروں گا، آج تاریخی حکم ناموں پر دستخط کروں گا، ہم لاکھوں غیرقانونی تارکین وطن اور جرائم پیشہ افراد کو واپس بھجیں گے، منظم جرائم کے گروہوں کو غیرملکی دہشتگرد قرار دیں گے، اُن کے خلاف فوج کو استعمال کریں گے۔

    اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ اپنی کابینہ کو ہدایت کروں گا کہ ہر صورت میں مہنگائی پر قابو پائے، امریکہ ایک بار پھر دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ ملک بنے گا، میں امریکا کے تجارتی نظام کو فوری ٹھیک کرنے میں لگ جاؤں گا، میں تمام حکومتی سنسرشپ ختم کرنے کا فوری حکم دوں گا، امریکی عوام پر ٹیکسوں میں کمی کرونگا، ہم اپنے شہروں میں قانون کی بالادستی لائیں گے، امریکا کہ دشمنوں کو شکست دینگے۔ ہم ایک میرٹ والی سوسائٹی بنائیں گے ، اپنے ملک کو خطرات اور درندازیوں سے بچانا اولین ذمہ داری ہے، خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خیلج امریکا رکھ رہے ہیں، ہم پاناما کینال واپس لیں گے، امریکا میں آزاد اظہار رائے کی مکمل آزادی بحال کروں گا، مریخ پر خلائی مشن اور خلانوردوں کو بھیجیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سورج کی روشنی پوری دنیا پر پڑ رہی ہے اور امریکا کے پاس اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہے جو پہلے کبھی نہیں تھا‘،لاس اینجلس آگ سے متعلق کہا کہ آگ نے کچھ امیر ترین اور طاقتور افراد کو متاثر کیا، جن میں سے کچھ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، ان کے پاس اب کوئی گھر نہیں ہے۔ امریکا میں صحت کا ایسا نظام موجود ہے جو آفت کے وقت کام نہیں کرتا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس پر ‘دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ’ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایک ایسا تعلیمی نظام ہے جو ’ہمارے بچوں کو خود پر شرمندہ ہونا سکھاتا ہے‘۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ‘یہ سب کچھ آج سے بدل جائے گا اور یہ بہت تیزی سے بدلے گا۔

    انہیں یہ مینڈیٹ دیا گیا ہے کہ وہ امریکی عوام کے خلاف برسراقتدار لوگوں کی جانب سے ’خوفناک خیانت ‘ کو مکمل طور پر ختم کر دیں گے اور عوام کو ان کا ایمان، ان کی دولت، جمہوریت اور ان کی مکمل شخصی آزادی دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج سے امریکا کے زوال کا دور ختم ہو چکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں تمام سابق صدور اور تقریب میں شریک دیگر اہم شخصیات بشمول اپنی حریف سابق نائب صدر کملا ہیرس اور سابق صدر جو بائیڈن کا نام لے کر شکریہ ادا کیا۔

    ایک اور آئی پی پی کے ساتھ پاور معاہدہ ختم

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے سب سے معمر صدر بن گئے

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا