Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • بھارتی کرکٹ بورڈ نے نئے کوچ کا تقرر کردیا

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے نئے کوچ کا تقرر کردیا

    ممبئی: مسلسل خراب پرفارمنس اور شکستوں کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے نئے کوچ کا تقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی : چیمپئینز ٹرافی سے قبل بھارتی ٹیم اختلافات اور شکستوں کے سبب تنقید کی زد میں ہے، ایسے میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے میگا ایونٹ سے محض چند روز پہلے نیا بیٹنگ کوچ مقرر کردیا ہے جس سےہیڈکوچ گوتم گمبھیر کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ بڑے ناموں کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈومیسٹک کرکٹ کے لیجنڈ کرکٹر سیتانشو کوٹک کو بھارت کے نئے بیٹنگ کوچ طور پر چنا ہے، سوراشٹرا کے مشہور کرکٹر کو انگلینڈ کے خلاف ہوم وائٹ بال سیریز کیلئے ذمہ درایاں سونپی گئی ہیں بھارت کے موجودہ کوچنگ اسٹاف میں ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر، بولنگ کوچ مورنے مورکل، فیلڈنگ کوچ ٹی دلیپ، اور دو اسسٹنٹ کوچ، ابھیشیک نائر اور ریان ٹین ڈوشیٹ شامل ہیں۔

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    بھارتی میڈیا رپوٹس کے مطابق کوٹک چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ سے پہلے بیٹنگ کوچ کا کردار سنبھالیں گے، بھارت کو 22 جنوری سے انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹی20 اور 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے گا۔

    دوسری جانب چیمپئینز ٹرافی اور انگلینڈ کیخلاف سیریز کیلئے بھارتی ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان آج ہوگا جبکہ اس پریس کانفرنس میں ہیڈکوچ گوتم گمبھیر شریک نہیں ہوں گے البتہ کپتان روہت شرما اور چیف سلیکٹر اجیت اگرکر ٹیم کا اعلان کریں گے۔

    ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

  • ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایران: سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر ججز پر فائرنگ کی گئی ہے
    فائرنگ سے سپریم کورٹ کے 2 ججز جاں بحق، ایک زخمی ہو گیا ہے، حملہ آور نے ایرانی سپریم کورٹ کے 3 ججوں کو نشانہ بنایا، ایک جج محافظ سمیت زخمی ہوا ہے، واقعہ تہران میں سپریم کورٹ کے باہر پیش آیا، حملہ آور نے فائرنگ کے بعد خود کو بھی گولی مار لی ہے،

    ایران کی سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں حجت الاسلام والمسلمین رزنی اور حجت الاسلام والمسلمین مغیثی کو تہران کے محل انصاف کے باہر قتل کر دیا گیا۔ فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 45 منٹ پر اس وقت ہوا جب ایک حملہ آور نے ججوں پر فائرنگ کردی۔حملے میں ہلاک ہونے والے دو ججوں کی شناخت علی رزنی اور محمد مغیشی کے نام سے ہوئی ہے۔واقعہ کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے

    دونوں ججز ایران میں دہشت گردی اور جاسوسی کے مقدمات کے ذمہ دار تھے، اور ان کی ہلاکت نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی تھے، جو ایران کے سخت گیر ججوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان دونوں کو "پھانسی دینے والے” کے طور پر جانا جاتا تھا، کیونکہ یہ ججز مختلف دہشت گردوں اور مخالفین کو سخت سزائیں دینے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی ہلاکت نے ملک میں سنسنی پھیلائی اور اس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    ایران، حملے میں جاں بحق دونوں ججز”پھانسیاں دینے” کے حوالہ سے مشہور
    مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی نے ایران میں کئی سالوں تک عدلیہ میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ان کی شہرت اس بات کے لیے رہی کہ انھوں نے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزائیں سنائیں۔ ان کی عدالتوں نے متعدد افراد کو پھانسی کی سزا دی، جن میں بیشتر وہ لوگ شامل تھے جو ایران کی حکومت کے مخالف یا مختلف نظریات رکھتے تھے۔1980 کی دہائی میں ہونے والی بڑے پیمانے پر پھانسیوں کے دوران دونوں ججز کا کردار خاص طور پر مشہور ہوا، جب حکومت نے سیاسی قیدیوں کو پھانسی دی۔ ان پھانسیوں کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

    ججز کی ہلاکت کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، لیکن یہ واقعہ ایران کی عدلیہ میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اور ایرانی حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    حکومت پنجاب کا گاڑیوں کی رجسٹریشن پر بڑا فیصلہ

    بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں آندھی، شدید بارش و برفباری، سفر میں رکاوٹ کا خدشہ

  • ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    گزشتہ سال 9 اگست کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر نیم برہنہ حالت میں مردہ پائی گئی تھی۔ اس ہولناک واقعے نے نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا

    9 اگست 2024 کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال کی تیسری منزل پر واقع سیمینار ہال سے ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کی نیم برہنہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ ایک عصمت دری اور قتل کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ جیسے ہی یہ واقعہ سامنے آیا، پورے شہر اور بالخصوص ڈاکٹروں کے درمیان غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔واقعے کے بعد کولکتہ پولیس نے ملزم سنجے رائے کو ملزم کے طور پر حراست میں لیا، جس کے بعد مغربی بنگال میں ڈاکٹروں نے احتجاج شروع کیا۔ 12 اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پولیس کو یہ کیس جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت دی، اور اگر ایسا نہ ہو تو معاملہ سی بی آئی کو سونپنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد 13 اگست کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اس کیس کا نوٹس لیا اور اسے سی بی آئی کے حوالے کر دیا۔

    14 اگست کو سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات شروع کی اور ایک 25 رکنی ٹیم تشکیل دی۔ اس دوران کولکتہ میں عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی جاری رہا۔ 16 اگست کو پولیس نے توڑ پھوڑ کے ملزمان کو گرفتار کرنا شروع کیا اور 18 اگست کو سپریم کورٹ نے توڑ پھوڑ کے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں قومی پروٹوکول کی تیاری کی ہدایت بھی دی تھی۔سی بی آئی نے اس کیس میں کئی افراد کو گرفتار کیا، جن میں آر جی کر اسپتال کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ 7 اکتوبر کو سی بی آئی نے سنجے رائے کو ملزم قرار دے کر چارج شیٹ داخل کی۔

    سنجے رائے کے خلاف فرد جرم کی کارروائی 4 نومبر 2024 کو مکمل ہوئی اور مقدمے کی کارروائی 11 نومبر سے شروع ہو گئی۔ تمام ٹرائل کے دوران عدالت کا کمرہ بند رہا اور 50 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جن میں مقتولہ کے والدین، سی بی آئی اور کلکتہ پولیس کے تفتیشی افسران، فارنسک ماہرین اور آر۔جی۔کار کے ساتھی ڈاکٹروں کے بیانات شامل ہیں۔مقتولہ کی لاش کی دریافت کے بعد اور سی بی آئی کی ابتدائی تحقیقات کے دوران، اس واقعے نے وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ میڈیکل کمیونٹی، شہری حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے سڑکوں پر آ کر متاثرہ ڈاکٹر کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا، یہ مظاہرے جلد ہی مغربی بنگال سے باہر بھی پھیل گئے اور دیگر بھارتی ریاستوں سمیت عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، جہاں غیر مقیم بھارتی تنظیموں نے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    آج، 18 جنوری 2025 کو کولکتہ کی سیالڈا سیشن کورٹ اس عصمت دری اور قتل کے کیس میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس کیس کا فیصلہ نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں انصاف کی فراہمی کے عمل کا پورا جائزہ لیا جائے گا۔یہ کیس اس بات کی گواہی ہے کہ عدلیہ، پولیس، اور عوامی احتجاج نے اس گھناؤنے جرم کو بے نقاب کرنے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا اور اس ہولناک جرم کے ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے گی۔

    انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین وینے اگروال نے اس کیس پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "صرف ہم نہیں، پورا ملک اس فیصلے کا شدت سے منتظر ہے۔ ہمارے ڈاکٹر کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ ایک خاتون ڈاکٹر، جو کہ ایک معروف ریاست کے معروف میڈیکل کالج میں کام کر رہی تھی، کو بے دردی سے زیادتی اور قتل کا نشانہ بنایا گیا۔”انہوں نے مزید کہا، "یہ واقعہ حکومت کے زیر انتظام ہسپتال میں، جب وہ اپنی ڈیوٹی پر تھیں، پیش آیا تھا، جس نے پورے ملک کو غصے میں مبتلا کر دیا۔ صرف میڈیکل کمیونٹی نہیں، بلکہ پوری قوم اس پر غم و غصے کا اظہار کر رہی تھی۔ پورا کولکتہ، بنگال اور دیگر ریاستیں جل اُٹھیں، اور تمام میڈیکل کالجز بند کر دیے گئے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی سخت سزا کی اپیل کی ہے۔”

    عدالت کے باہر ہفتہ کے روز 300 سے زائد پولیس اہلکاروں نے گارڈ ڈیوٹی دی جب آر جی کار ریپ اور قتل کیس کے مرکزی ملزم سنجے رائے کو فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت میں داخل کیا گیا۔”سنجے رائے کو پھانسی دو”، "ہم اسے پھانسی چاہتے ہیں” کے نعرے عدالت کے باہر گونج رہے تھے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران کے علاوہ انسپکٹرز بھی موجود تھے جب سنجے رائے تین گاڑیوں کے قافلے میں عدالت کی عمارت میں داخل ہوئے۔

    غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

  • جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    تل ابیب: اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا ہونے والے 95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی ہے –

    باغی ٹی وی : اسرائیلی روزنامہ ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق فہرست میں 69 خواتین، 16 مرد اور 10 نابالغ شامل ہیں وزارت کے مطابق فہرست میں سب سے کم عمر قیدی 16 سال کا ہے، ان قیدیوں کو اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے اتوار سے رہا کیا جائے گا فہرست میں فلسطینی پارلیمنٹ کی رکن اور قانون ساز خالدہ جرار بھی شامل ہیں، جنہیں جنگ کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بغیر کسی مقدمے کے حراست میں ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ اور حکومت نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی منظوری دی تھی، اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے حماس کے ساتھ طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی توثیق کر دی۔

    موریطانیہ کشتی حادثہ ،انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن خاتون گرفتار

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کابینہ نے سیاسی، سیکیورٹی اور انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اس معاہدے کی توثیق کی۔بیان کے مطابق سیکیورٹی کابینہ نے حکومت کو اسے منظور کرنے کی سفارش کی ہے، اس معاہدے کو اب مکمل کابینہ کے سامنے ووٹ کے لیے پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ 15 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ مشترکہ میڈیا کوششوں کی کامیابی اور اس حقیقت کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہے کہ غزہ میں فریق قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور فریقین نے مستقل جنگ بندی کی امید پر معاہدے کیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی معاہدہ غزہ تک امداد کی فراہمی کی راہیں کھولے گا۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا تھا کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ 19 جنوری (اتوار) سے نافذ العمل ہوگا۔ پہلا مرحلہ 42 دن تک جاری رہے گا، اس میں جنگ بندی اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہے۔

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کی سرحد پر تعینات رہیں گی، جبکہ قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ بے گھر افراد کو ان کی رہائش گاہوں پر واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی کے تمام حصوں میں امدادی سامان کی فراہمی میں اضافہ کے علاوہ ہسپتالوں، صحت کے مراکز اور بیکریوں کی بحالی بھی شامل ہےبے گھر افراد کے لیے ایندھن، شہری دفاع کے آلات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

  • موریطانیہ کشتی حادثہ ،انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن  خاتون گرفتار

    موریطانیہ کشتی حادثہ ،انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن خاتون گرفتار

    گوجرانوالہ: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی موریطانیہ کشتی حادثہ تحقیقات میں اہم پیشرفت ،انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن کو گرفتار کرلیا گیا-

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے ذرائع کے مطابق انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن خاتون سے تفتیش مکمل کرکے جوڈیشل کردیا گیا ہے ملزمہ نے تفتیش کے دوران اپنے اور بیٹوں کے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے، ملزمہ اپنے تین بیٹوں کے ساتھ لوگوں کو بیرون ممالک بھیجنے کا کام کرتی تھی جب کہ ملزمہ کا بیٹا خاور 10 افراد کو لے کر کیرئیر کے طور پر سینیگال گیا۔

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزم خاور اس سے قبل اپریل 2024 میں بھی سینیگال گیا تھا، ملزمہ کا ایک بیٹا حسن اٹلی میں ہے اور دوسرا بیٹا فرحان واقعےکے بعد سے مفرور ہے، ملزمہ کو ایک روز قبل گجرات کے نواحی گاؤں جھوڑا سےگرفتار کیا گیا، ملزمہ کے موبائل اور بینک اکاؤنٹ تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    واضح رہے کہ جمعرات کو افریقی ملک موریطانیہ سے غیرقانونی طور پر اسپین جانے والوں کی کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 تارکین وطن ہلاک ہوگئے 86 تارکین وطن کی کشتی 2 جنوری کو موریطانیہ سے روانہ ہوئی تھی، کشتی میں کل 66 پاکستانی سوار تھے تاہم کشتی حادثے میں 36 افرادکو بچالیا گیا ہے،کشتی حادثے میں جاں بحق 44 پاکستانیوں میں سے 12 نوجوان گجرات کے رہائشی تھے، اس کے علاوہ سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین کے افراد بھی کشتی میں موجود تھے-

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

  • تین بہن بھائیوں کے والدین کی شناخت میں مدد کے لیے £20,000 انعام

    تین بہن بھائیوں کے والدین کی شناخت میں مدد کے لیے £20,000 انعام

    لندن میں آٹھ سال پہلے لاوارث چھوڑے گئے تین بہن بھائیوں کے والدین کی شناخت میں مدد کے لیے £20,000 انعام کی پیشکش کی گئی ہے۔

    میٹروپولیٹن پولیس نے کہا کہ 450 گھنٹوں سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کے باوجود، تین بچوں، جن کے نام ایلسا، رومن اور ہیری ہیں، کے والدین کی شناخت نہیں ہو سکی۔ تاہم، یہ مانا جا رہا ہے کہ ان کی والدہ نے گزشتہ چھ سالوں میں لندن کے مشرقی علاقے میں رہائش اختیار کی ہے۔ایلسا، جو ایک سال سے کم عمر کی تھی، 18 جنوری 2024 کو مشرقی لندن کے ایست ہم علاقے میں ایک کتے کے ساتھ چلنے والے شخص نے دریافت کیا تھا۔چند مہینوں بعد یہ پتہ چلا کہ ایلسا کے دو مزید بہن بھائی بھی اسی طرح کے حالات میں لندن کے اسی علاقے میں 2017 اور 2019 میں چھوڑے گئے تھے۔ہفتے کو پولیس نے بتایا کہ کرائم سٹاپرز نامی آزاد تنظیم نے ایک £20,000 انعام کا اعلان کیا ہے جو 18 اپریل 2025 تک دستیاب رہے گا، اور یہ انعام صرف اس معلومات کے لیے ہے ،

    پولیس کی بچوں کے استحصال کی تفتیشی ٹیم کے ڈیٹیکٹو انسپکٹر جیمی ہم نے کہا: "ہم نے ایلسا کے والدین کو تلاش کرنے کے لیے گزشتہ ایک سال میں بھرپور تحقیقات کی ہیں۔ اس میں 450 گھنٹے سے زیادہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا اور والدہ کا مکمل ڈی این اے ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ہم والدین کے، خصوصاً والدہ کے، خیریت کے حوالے سے گہری تشویش رکھتے ہیں اور ہم نیوہم کونسل کے ساتھ مل کر عوام سے مدد کی درخواست کر رہے ہیں۔”

    ایلسا کو ایک تولیہ میں لپیٹ کر ریوز ایبل شاپنگ بیگ میں رکھا گیا تھا، جس کی پولیس نے نئی تصویر بھی جاری کی ہے،پولیس نے اس وقت کہا تھا کہ یہ "انتہائی ممکن” ہے کہ ایلسا کو "چھپ کر ہونے والی حمل” کے بعد پیدا کیا گیا تھا۔ بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ ابتدائی عدالت کی سماعت میں، ایسٹ لندن فیملی کورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹروں کو ایلسا کا درجہ حرارت ریکارڈ کرنے میں تین گھنٹے لگے کیونکہ وہ بہت سرد تھی، اور میٹ آفس نے بتایا کہ جب ایلسا کو پایا گیا، تو رات کے وقت درجہ حرارت -4C تک گر چکا تھا۔ہسپتال کے عملے نے ایلسا کا نام فلم "فروزن” کے کردار کے حوالے سے رکھا۔

    پولیس اس تفتیشی عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بچوں کے والدین کی شناخت کی جا سکے، اور جو بھی شخص اس بارے میں معلومات رکھتا ہو، اسے 101 پر پولیس سے رابطہ کرنے یا @MetCC ریفرنس آپریشن وولکوٹ کے تحت ٹویٹ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔عوام کو کرائم سٹاپرز سے 0800 555 111 پر انعام کے طور پر گمنام طور پر بھی رابطہ کرنے کی سہولت دی گئی ہے، یا کرائم سٹاپرز کی ویب سائٹ Crimestoppers-uk.org کے ذریعے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    ٹک ٹاک کی ممکنہ بندش،صارفین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

  • ٹک ٹاک کی ممکنہ بندش،صارفین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

    ٹک ٹاک کی ممکنہ بندش،صارفین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

    ٹک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو "ڈارک” ہو سکتا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے اس کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس کے ذریعے اس نے ایک ممکنہ پابندی سے بچنے کی کوشش کی تھی جو ایپ کو امریکہ میں بند کر سکتی ہے۔

    یہ پابندی 2024 کے اس قانون کا نتیجہ ہے جو قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر منظور کیا گیا، جس کے تحت ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کو مشہور شارٹ ویڈیو ایپ کو بیچنے یا 19 جنوری کو امریکہ میں بند کر دینے کا کہا گیا تھا۔ اسی دوران، ڈونلڈ ٹرمپ، جو پیر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں، نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کا "سیاسی حل” تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ٹرمپ نے اس بارے میں چینی رہنما شی جن پنگ سے بات کی ہے۔

    ٹک ٹاک کے اندازاً 170 ملین امریکی صارفین ابھی بھی ایپ استعمال کر سکیں گے کیونکہ یہ پہلے ہی ان کے فونز میں ڈاؤن لوڈ ہو چکی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، سافٹ ویئر اور سیکیورٹی اپڈیٹس نہ ملنے کی وجہ سے ایپ کا استعمال مشکل ہو جائے گا۔ماہرین کے مطابق، ایپ کا ایک ویب ورژن دستیاب ہو سکتا ہے جس میں ایپ کے مقابلے میں کم خصوصیات ہوں گی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کام نہ کرے۔ بعض صارفین وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کا استعمال کرکے ٹک ٹاک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی لوکیشن اور انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس کو چھپاسکیں۔

    ٹک ٹاک پر اپنا کاروبار بنانے والے ،مواد تخلیق کرنے والے اس ایپ کی ممکنہ بندش کے لئے تیاری کر رہے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو متبادل ایپس جیسے انسٹاگرام اور یوٹیوب کی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔

    ٹفنی سیانسی، جو ایک مواد تخلیق کرنے والی شخصیت ہیں، نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس تجویز کردہ پابندی سے "ہمارے منتخب نمائندوں نے امریکی عوام کو ناکام کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے ٹک ٹاک کے اصل اثرات کو نہیں سمجھا”۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ایک ایسا ماحولیاتی نظام ہے جس نے امریکی معیشت کا ایک بڑا حصہ تخلیق کیا ہے”۔اسی طرح، مواد تخلیق کرنے والی شخصیت جینیٹ اوک نے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے انہیں برانڈ ڈیلز حاصل کرنے اور اپنی موسیقی کو فروغ دینے میں مدد دی، جس سے "ایسی مواقع ملیں جو میں نے کبھی اپنی زندگی میں نہیں سوچا تھا”۔

    مشتہرین اس پابندی کے اثرات سے بچنے کے لئے ہنگامی منصوبے تیار کر رہے ہیں کیونکہ یہ ان کے اشتہاری مہمات کو متاثر کرے گا۔ ٹک ٹاک نے مشتہرین کو نئے فیچرز کی پیشکش کی ہے، جیسے ایک نیا ٹول جس کی مدد سے اشتہارات کو بڑے پیمانے پر تخلیق، ترمیم اور شامل کرنا آسان ہوگا۔اگر پابندی عائد ہو جاتی ہے تو امریکہ میں سالانہ 11 ارب ڈالر سے زائد کی اشتہاری سرمایہ کاری پر سوالیہ نشان آ جائے گا۔

    اس پابندی سے امریکہ اور چین کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر چینی حکومت پر امریکی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی برآمدات پر پابندی کے بعد۔ٹرمپ اس مسئلے کے حل کے لئے ایگزیکٹو آرڈر استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق، وہ چین سے کچھ اہم چیزیں حاصل کرنے کے لئے اپنی پوزیشن تبدیل کر سکتے ہیں۔

    اگرچہ امریکہ میں پابندی کا براہ راست اثر برطانیہ کے صارفین پر نہیں پڑے گا کیونکہ وہاں ٹیکنالوجی کی نگرانی برطانوی قوانین کے تحت کی جاتی ہے، تاہم برطانیہ کے ٹک ٹاک صارفین نے اس پابندی کے اثرات سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ایڈن ہیلننگ، جو ٹک ٹاک پر @etherealgames کے نام سے کام کرتے ہیں، نے کہا کہ انہیں اپنے کاروبار کے حوالے سے تشویش ہے کیونکہ پابندی کی صورت میں انہیں ایپ کو چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "بہت سے تخلیق کار اس ایپ پر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں، اور یہ ایپ ان کے ہاتھوں سے نکل سکتی ہے۔”یہ پابندی نہ صرف ٹک ٹاک کے صارفین بلکہ مواد تخلیق کرنے والوں اور مشتہرین کے لئے بھی ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے، اور اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کئے جا سکتے ہیں۔

    امریکا میں چین کی معروف سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر 19 جنوری 2025 سے پابندی کا نفاذ ہونے والا ہے، کیونکہ کمپنی نے اس ایپ کے امریکی آپریشنز کو فروخت کرنے کا عمل ابھی تک مکمل نہیں کیا۔صدر جو بائیڈن نے اس حوالے سے اپنا فیصلہ کر لیا ہے کہ کیا ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے والے قانون کو نافذ کیا جائے یا نہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، حکام نے بتایا کہ صدر بائیڈن کی جانب سے اس پابندی کے نفاذ کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے مستقبل کا حتمی فیصلہ اب 20 جنوری کو صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    امریکی ایوانِ نمائندگان نے اپریل 2024 میں اس قانون کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کو 19 جنوری تک اپنی سوشل میڈیا ایپ کو امریکا میں فروخت کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اگر بائیٹ ڈانس اس ایپ کو فروخت نہیں کرتا تو اسے پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ خواہش ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ ٹک ٹاک کو "بچانے” کے لیے اقدامات کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ اس قانون پر عملدرآمد کو 90 دن تک موخر کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ مائیک والٹز، جو کہ ٹرمپ کے نامزد قومی سلامتی کے مشیر ہیں، نے 16 جنوری کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ "ہم ٹک ٹاک کو بند ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کریں گے”۔

    ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو، شاؤ زی چیو نے دسمبر 2024 میں فلوریڈا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا تاکہ وہ اس ایپ پر پابندی کے خلاف ان کی حمایت حاصل کر سکیں۔ شاؤ زی چیو اب ٹرمپ کی صدارتی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    "میں سیف علی خان ہوں”، جب آٹو ڈرائیور کو پتا چلا کہ اس کا زخمی مسافرسیف تھا

  • عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    امریکا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی عمران خان کے خلاف جوابی مہم شروع ہوگئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی سرگرمیاں اور ڈیجیٹل نعروں سے مزین ٹرکوں کی گشت کی مہم کے بعد واشنگٹن میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی جوابی احتجاجی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف اس مہم کو امریکا میں سیاست کا نیا میدان کہا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے حامی سڑکوں پر احتجاجی ٹرکوں کی صورت میں نکلے ہیں، تو دوسری طرف ان کے مخالفین نے بھی اپنی آواز بلند کرنے کے لیے اسی حکمت عملی کو اختیار کیا ہے۔ واشنگٹن میں ٹرمپ حلف برداری کی تقریب کے قریب آتے ہی پی ٹی آئی کے حامیوں نے حکومت کے خلاف ڈیجیٹل نعروں اور تصاویر کے ساتھ احتجاجی ٹرکوں کے ذریعے اپنے مطالبات کی آواز بلند کی۔

    اسی دوران، پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی جوابی حکمت عملی اپناتے ہوئے کرایہ پر ٹرک حاصل کر کے ان پر مخالفانہ نعرے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر آویزاں کر دیں۔ ان ٹرکوں پر اسامہ بن لادن، طالبان کی حمایت اور عمران خان کے ان بیانات کو اجاگر کیا گیا ہے جن میں انہوں نے طالبان اور اسامہ بن لادن کی حمایت کی تھی۔پی ٹی آئی کے مخالفین نے واشنگٹن کی سڑکوں پر ان ٹرکوں کے ذریعے ان بیانات کو عوامی سطح پر پیش کیا تاکہ امریکی عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ بانی پی ٹی آئی دہشت گردوں کے حامی ہیں اور ان کے بیانات امریکی مفادات کے خلاف ہیں۔ ان ٹرکوں پر درج نعرے "اسامہ بن لادن کو شہید” اور "طالبان کی افغان جنگ کو جائز” جیسے نعرے شامل ہیں، جو کہ امریکی عوام کی نظر میں انتہائی متنازعہ ہیں۔

    اس طرح، پاکستان کی داخلی سیاست کی جنگ اب واشنگٹن کی سڑکوں پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی اور اس کے مخالفین نے سوشل میڈیا اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے ایک نئی نوعیت کی سیاسی کشمکش کا آغاز کیا ہے جو دونوں فریقین کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

  • روسی ہیکرز دنیا بھر کے حکومتی وزرا کے لئے خطرہ

    روسی ہیکرز دنیا بھر کے حکومتی وزرا کے لئے خطرہ

    روسی ہیکرز عالمی سطح پر وزرا اور حکومتی عہدیداروں کو ای میلز کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں، جس میں ان شخصیات کو واٹس ایپ کے یوزر گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ ای میلز ان حکومتی عہدیداروں کو دھوکہ دینے کے لیے بھیجی جاتی ہیں، تاکہ ہیکرز ان کے ذریعے حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔

    برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر ے اس کارروائی کو برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق، یہ ہیکرز عالمی سطح پر سیاسی وزرا اور حکومتی عہدیداروں کی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔مائیکروسافٹ کی ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیکرز خود کو امریکی حکومت کے عہدیدار کے طور پر پیش کرتے ہیں اور وزرا کو ای میل بھیجتے ہیں جس میں انہیں ایک مخصوص کیو آر کوڈ پر کلک کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے کے بعد وزرا کو واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کی بجائے، ان کا اکاؤنٹ ہیکرز کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہیکرز آسانی سے وزرا کے واٹس ایپ اکاؤنٹس اور ان کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

    مائیکروسافٹ نے اپنی بلاگ پوسٹ میں ای میل صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ ای میلز کھولتے وقت خاص طور پر بیرونی لنکس پر مشتمل پیغامات سے محتاط رہیں۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف ان افراد سے ای میلز کھولیں جو معروف یا قابل اعتماد ای میل ایڈریسز سے پیغامات بھیجتے ہوں تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ ای میل کوئی دھوکہ دہی نہیں ہے۔

    واٹس ایپ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر آپ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو کسی "کمپینیئن ڈیوائس” سے لنک کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو تھرڈ پارٹی ویب سائٹس کے بجائے واٹس ایپ کی آفیشلی سپورٹڈ سروسز کا استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کس شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، آپ کو صرف ان افراد کے لنکس کھولنے چاہئیں جنہیں آپ جانتے اور ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سائبر سیکیورٹی کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے اور حکومتی عہدیداروں کو اپنے ڈیجیٹل سیکیورٹی اقدامات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

    کراچی ایئر پورٹ،کتوں کو پکڑنے کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن سے مدد طلب

    سیالکوٹ: ایمان کا دعویٰ اور عمل کا تضاد، امیر عبدالقدیر اعوان کا اہم پیغام

  • ایران اور روس کے صدور کے مابین جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط

    ایران اور روس کے صدور کے مابین جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں موجود کریملن میں ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنا ہے۔

    روسی صدر پیوٹن نے ایران میں دو نئے نیوکلیئر پاور پلانٹ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران کے لیے نئے جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر میں کچھ تاخیر ہوئی ہے، تاہم وہ ایران کے لیے مزید جوہری منصوبے شروع کرنے کو تیار ہیں تاکہ دونوں ممالک کو توانائی کے بحران سے نجات مل سکے اور ان کی اقتصادی ترقی کو مزید فروغ ملے۔معاہدے کے تحت ایران اور روس کے درمیان فوجی تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا۔ پیوٹن نے واضح طور پر کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو لاحق فوجی خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کریں گے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران یا روس پر حملہ کرنے والے کسی بھی ملک کو فوجی امداد فراہم نہیں کی جائے گی۔ اس معاہدے میں سیکیورٹی سروسز کے درمیان تعاون، فوجی مشقوں اور افسران کی تربیت کا تبادلہ بھی شامل ہے۔

    اس موقع پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے یوکرین کی جنگ کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ یوکرین جنگ کو مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جائے اور امن قائم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس بات کا خیرمقدم کرے گا کہ دونوں فریقین مذاکرات کی میز پر آ کر امن کے حصول کی کوشش کریں۔ روسی صدر پیوٹن نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کی بدولت دونوں ممالک عالمی سطح پر درپیش مسائل کا مقابلہ کرنے میں زیادہ طاقتور ہوں گے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور ایران کے درمیان یہ شراکت داری نہ صرف ان دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ عالمی سطح پر توازن کو بھی بہتر کرے گی۔

    یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے دونوں کے درمیان اقتصادی، فوجی اور سیاسی تعلقات میں مزید گہرائی آئے گی۔ ایران اور روس کی اس اسٹریٹجک شراکت داری کا اثر عالمی سیاست پر بھی پڑے گا، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں مغربی ممالک اور عالمی طاقتوں کی پالیسیاں ایران اور روس کے مفادات کے خلاف ہو سکتی ہیں۔

    علیمہ خان عدالت پیش،آج فیصلہ کروں گا، جج

    سیف علی خان حملہ،پولیس کی کسی بھی گرفتاری کی تردید،ملاقاتوں پر پابندی عائد