Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • 2009 میں بنگلہ دیش رائفلز  کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغازکر دیا گیا

    25 سے 26 فروری 2009ء کو بنگلہ دیش رائفلز کی جانب سے ہیڈکوارٹرز پلکھانا میں بغاوت ہوئی،غیر معمولی حالات کے دوران کم از کم 74 افراد کی ہلاکت ہوئی جس میں کئی شہری شامل تھے،ایک رپورٹ کے مطابق حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھارت سے مدد مانگی،بھارت بنگلہ دیش کے حالات کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے،بغاوت کے بعد مختلف حلقوں نے الزامات عائد کیے کہ شیخ حسینہ اور بھارتی حکام نے سیاسی فائدے کے لیے اس صورتحال کو ترتیب دیا تھا،

    لواحقین کے مطالبے پر بنگلہ دیش نے 2009 کی بغاوت کے حوالے سے نئی تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جس میں غیر ملکی مداخلت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، بنگلہ دیش میں 2009 کی بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کے متاثرین کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے لیے انصاف اور مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں،مظاہرین بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی آر) کے اصل نام کی بحالی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ بغاوت کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے "بارڈر گارڈ بنگلہ دیش(بی جی بی) رکھا گیا تھا،بھارت کی مداخلت نے بنگلہ دیش میں فوج اور حکومت کے درمیان اختیارات کے توازن کو بدل کر رکھ دیا،حقائق یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت خطے کے چھوٹے ممالک میں ہمیشہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرتا رہا ہے

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

    کراچی، فرنیچر مارکیٹ میں آگ ، 30 سے زائد دکانیں جل گئیں

  • سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

    سال 2024 دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے ایک انتہائی مشکل سال ثابت ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تازہ رپورٹ کے مطابق، اس سال 68 صحافیوں اور میڈیا ورکرز نے دوران ڈیوٹی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ اعداد و شمار صحافیوں کی حفاظتی صورتحال کے حوالے سے ایک سنگین تنبیہہ ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، ان 68 صحافیوں میں سے 42 صحافی ایسے علاقوں میں ہلاک ہوئے جو جنگی یا تنازعاتی علاقوں کے زمرے میں آتے ہیں، جو کہ ایک دہائی میں صحافیوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ ان ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ جنگی اور سیاسی تنازعات کے دوران میڈیا کی کوریج میں مصروف صحافیوں کو درپیش خطرات ہیں۔اس سال سب سے زیادہ صحافیوں کی ہلاکتیں فلسطین میں اسرائیل کی طرف سے مسلط کی جانے والی جنگ کے دوران ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس جنگ میں 18 صحافی شہید ہوئے، جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانیں قربان کر دیں۔ یہ ہلاکتیں اس بات کا غماز ہیں کہ تنازعاتی علاقوں میں صحافیوں کی زندگی کتنی غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔

    فلسطین کے علاوہ، اس سال صحافیوں کی ہلاکتوں کے واقعات یوکرین، لبنان، شام، صومالیہ اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملے۔ ان علاقوں میں صحافی مختلف خطرات کا سامنا کرتے ہیں، رپورٹ میں ایک حوصلہ افزا بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں تنازعات نہیں ہیں، وہاں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی اموات میں گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔ یہ بات اس بات کی غماز ہے کہ اگرچہ دنیا بھر میں صحافیوں کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن امن کے ماحول میں ان کی حفاظت کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے۔

    یونیسکو کی رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ صحافیوں کی حفاظت عالمی سطح پر ترجیح ہونی چاہیے۔ میڈیا اور صحافیوں کا کردار کسی بھی جمہوری معاشرے میں بے حد اہم ہے، اور ان کی آزادی اور حفاظت کو یقینی بنانا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران کسی بھی قسم کے خطرات سے بچانے کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔سال 2024 صحافیوں کے لیے ایک دل دہلا دینے والا سال ثابت ہوا، جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ دنیا بھر میں صحافیوں کی حفاظت کے لیے عالمی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ میڈیا کا آزادانہ کردار اور صحافیوں کی زندگیوں کی حفاظت کی جا سکے۔

    کراچی، فرنیچر مارکیٹ میں آگ ، 30 سے زائد دکانیں جل گئیں

    معاشی اصلاحات کا ایجنڈا پاکستان ،عوام کی ترقی کے لئے ہے،عطا تارڑ

  • جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    نیو یارک: امریکی فیڈرل اپیل کورٹ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جنسی ہراسانی کے کیس میں فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کو مصنفہ ای جین کیرول کے خلاف 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جسے اب اپیل کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔

    یاد رہے کہ ای جین کیرول، ایک معروف امریکی صحافی اور مصنفہ ہیں، جنہوں نے ٹرمپ پر 1990 کی دہائی میں نیو یارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں جنسی طور پر بدسلوکی کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کیرول کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا، جس پر انہوں نے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
    ای جین کیرول نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا تھا کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں نیو یارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔ٹرمپ نے اس الزام کو مکمل طور پر مسترد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ کیرول جھوٹ بول رہی ہیں۔اس کے بعد کیرول نے ٹرمپ کے اس الزامات کی تردید پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔2023 میں نیو یارک کی وفاقی عدالت نے ٹرمپ کو ای جین کیرول کی جنسی ہراسانی کا مرتکب قرار دیا اور انہیں 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی، تاہم فیڈرل اپیل کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کو سیاسی طور پر متعصب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ان کے خلاف ایک "سیاسی حملہ” ہے۔ ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ یہ مقدمہ دراصل 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کو متاثر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم، اپیل کورٹ نے ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور فیصلہ برقرار رکھا۔

    یہ فیصلہ ٹرمپ کی سیاسی زندگی کے لیے ایک سنگین دھچکہ ہے۔ ان کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمات اور ہتک عزت کے مقدمات کئی برسوں سے جاری ہیں، اور یہ فیصلہ ان کے لیے ایک نیا قانونی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ای جین کیرول کے حق میں آیا گیا یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ عدالت نے متاثرہ خاتون کی گواہی کو سچ سمجھا اور اسے تسلیم کیا، جس سے ٹرمپ کے خلاف قانونی جنگ میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

    نیو یارک کی عدالت کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ برقرار رکھنے اور ہرجانے کا حکم دینے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ قانونی نظام میں کسی بھی شخص کو انصاف سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ای جین کیرول کی قانونی فتح نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ خواتین کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

  • میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے لندن کے مئیر صادق خان کو نائٹ کا اعزاز عطا کیا ہے۔

    یہ اعزاز صادق خان کو لندن کے عوام کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، اس اعزاز سے لندن شہر کی ترقی اور وہاں کے رہائشیوں کی فلاح و بہبود کے لئے صادق خان کی طویل محنت کو سراہا گیا ہے۔صادق خان، جو اس سال مسلسل تیسری مرتبہ لندن کے مئیر منتخب ہوئے ہیں، نے اپنے کیریئر میں شہر کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی قیادت میں لندن نے معاشی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں ترقی کی ہے اور شہر نے عالمی سطح پر اہمیت حاصل کی ہے۔ صادق خان کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی یہ خیال نہیں تھا کہ وہ جنوبی لندن میں اپنے بچپن کے دوران ایک دن لندن کے مئیر بنیں گے۔

    صادق خان نے اس اعزاز کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ وہ جس شہر سے محبت کرتے ہیں، اس کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "نائٹ کا اعزاز ملنا میرے لئے ایک بہت بڑی فخر کی بات ہے، اور یہ میرے لئے ایک نئی ذمہ داری ہے جس کا مجھے بخوبی احساس ہے۔”

    صادق خان کو نائٹ کے اعزاز سے نہ صرف لندن بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ اس اعزاز کے بعد اب صادق خان کے نام کے ساتھ "سر” بھی لکھا جائے گا، جو ایک اہم اور معتبر خطاب ہے۔ نائٹ کا اعزاز برطانیہ میں کسی شخص کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے، اور اس کا تعلق خاص طور پر عوام کی فلاح و بہبود اور سماجی ترقی سے ہوتا ہے۔

    صادق خان نے اس موقع پر کہا کہ یہ اعزاز ان کی محنت کا تسلیم ہے، اور وہ آئندہ بھی لندن کے عوام کی خدمت کرنے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "لندن دنیا کا بہترین شہر ہے اور اس کی خدمت کرنا میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔”

    یہ نائٹ کا اعزاز ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک تاریخی لمحہ ہے، جو نہ صرف لندن بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ عوامی خدمت اور کامیابی کی راہ میں محنت اور لگن کی اہمیت ہے۔

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لمی نے صادق خان کو نائٹ کا اعزاز ملنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ صادق خان نے لندن میں صاف ہوا، مفت اسکول کے کھانے اور کونسل ہاؤسنگ کے ریکارڈ منصوبے شروع کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فخر محسوس کرتے ہیں کہ برطانیہ ایک ایسا ملک ہے جہاں ایک بس ڈرائیور کا بیٹا کابینہ کا رکن اور لندن کا مئیر بن سکتا ہے۔

    صادق خان 53 سالہ برطانوی پاکستانی سیاستدان ہیں جو لندن کے علاقے ٹوٹنگ میں 1970 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پاکستان سے برطانیہ ہجرت کر کے بس ڈرائیور بنے تھے، اور صادق خان نے اپنے بچپن کی بیشتر زندگی ایک council provided flat میں گزاری۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 2005 سے 2016 تک ممبر آف پارلیمنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔صادق خان کی سیاسی زندگی کا آغاز ونسورتھ کونسل سے کونسلر کے طور پر ہوا، صادق خان نے مئیر کے طور پر متعدد اہم اقدامات اٹھائے جن میں "ہاپر اسکیم” شامل ہے جس کے ذریعے مسافر ایک گھنٹے میں جتنی بار چاہیں بسوں اور ٹراموں کا سفر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے لندن کی ہوا کو صاف کرنے کے لیے متنازعہ "آلٹرنیشن زون اسکیم” بھی متعارف کرائی۔انہوں نے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور غزہ میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف اپنی آواز اٹھائی۔ حالیہ انتخابات میں، صادق خان نے مفت اسکول کھانے کی فراہمی، کرایے میں کمی، پولیس افسران کی تعداد میں اضافہ اور مزید کونسل ہاؤسنگ کی تعمیر کے وعدے کیے تھے۔

  • جاسوسی سرگرمیاں، بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ

    جاسوسی سرگرمیاں، بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ

    بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر 30 دسمبر 2024 سے قطر کا تین روزہ دورہ کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اگست 2022 میں قطر نے دہرا گلوبل ٹیکنالوجیز کے تحت کام کرنے والے 8 سابق بھارتی بحریہ افسران کو جاسوسی کے الزامات پر گرفتار کیا، ان پر قطر کی U212 جدید آبدوزوں کی خفیہ معلومات اسرائیل، بھارت کی ایجنسی را اور ایران کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام تھا۔قطر کی 2024 میں کل آبادی تقریباً 3.12 ملین ہے، جن میں صرف 12 فیصد قطری شہری ہیں، ہندوستانی سب سے بڑی تارکین وطن برادری ہیں، جو کل آبادی کا تقریباً 21.8 فیصد ہیں اور تعمیرات، صحت عامہ اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔ان افسران میں کپتان نووتج سنگھ گل اور بیرندر کمار ورما جیسے اعلیٰ عہدے کے افراد شامل تھے، 2023 میں سزائے موت سنانے کے بعد انہیں فروری 2024 میں رہا کر دیا گیا۔بھارتی وزیر خارجہ کا یہ دورہ جاسوسی کے الزامات، تارکین وطن کے تنازعات، اسرائیل کی حمایت اور غیر جانبداری کے خدشات کے درمیان ہندوستان کے تعلقات کو نئے سرے سے جوڑنا ہے، کیونکہ عرب ممالک کے لیے ہندوستان کی قابل اعتماد حیثیت پر کافی سوالات اٹھتے ہیں۔بھارت کی عالمی جاسوسی سرگرمیاں دستاویزی طور پر ثابت ہوچکی ہیں، 2019 میں ایک بھارتی جوڑے کو جرمنی میں کشمیری اور سکھ گروہوں پر جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس سے قبل 2016 میں بھارتی بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن یادو کو پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، 2015 میں سری لنکا نے سیاسی مداخلت کے لیے بھارت کے را کے اسٹیشن چیف کو ملک بدر کیا۔نریندر مودی کے باعث بھارت کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے جاچکے ہیں، 2024 میں بھارت نے فلسطین کی جانب سے پیش کردہ پہلی اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جو اس کے روایتی فلسطین نواز موقف سے ہٹ کر تھا۔اس فیصلے نے بھارت کو BRICS بلاک اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے دور کر دیا، جس سے اس کی غیر جانبداری پر خدشات پیدا ہوئے ہیں، یہ عمل فلسطین بحران کے درمیان بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔عرب دنیا میں بھارت کی قابل اعتماد حیثیت پر سوالات کھڑے ہو چکے ہیں، حماس حملوں کے بعد اسرائیل نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر بھارت کا عوامی طور پر شکریہ ادا کیا، بھارتی اکاؤنٹس سے پرو اسرائیل ہیش ٹیگز کا رجحان نمایاں نظر آتا ہے۔بھارتی تارکین وطن برادری نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ان کی سرگرمیاں اکثر تنقید کا شکار رہتی ہیں، مشرق وسطیٰ میں، تارکین وطن کی کمیونٹیز ثقافتی اور اقتصادی تبادلے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن انہیں ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے سے باز نہیں آتے۔آسٹریلیا میں بھی بھارتی خفیہ کارروائیاں بے نقاب ہوئیں، جہاں را کے ایجنٹوں نے تارکین وطن کی کمیونٹیز اور سیاستدانوں کو نشانہ بنایا، سکیورٹی کلیئرنس رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا اور حساس دفاعی معلومات تک رسائی حاصل کی۔عرب ممالک کو بھارت پر اپنے اعتماد پر نظرثانی کرنی چاہیے، مضبوط ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کے باوجود، جاسوسی، اسرائیل کی حمایت، اور نظریاتی اثرات جیسے واقعات مشرق وسطیٰ میں تعلقات کی پاکیزگی کے لئے چیلنج ہیں۔

    دبئی: 461 ملین درہم کی منی لانڈرنگ کرنے والا گروہ گرفتار

    جو بائیڈن کا یوکرین کیلئے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

    اہلسنت و الجماعت کا بھی کراچی میں دھرنوں کا اعلان

    پراپرٹی ٹیکس کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے ایک استعفیٰ مانگا، 31 استعفے آ گئے

  • دبئی: 461 ملین درہم کی منی لانڈرنگ کرنے والا  گروہ  گرفتار

    دبئی: 461 ملین درہم کی منی لانڈرنگ کرنے والا گروہ گرفتار

    متحدہ عرب امارات میں دبئی پولیس نے منی لانڈرنگ میں ملوث بڑے عالمی گروہ کے اہم ارکان کو گرفتار کرلیا جو 461 ملین درھم کی منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔

    خلیج ٹائمزکے مطابق اماراتی کے نام پر دو کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جن کےذریعے منی لانڈرنگ کی کارروائیاں کی جاتی تھیں۔ گروہ میں ایک اماراتی جبکہ 21 غیرملکی جن میں برطانوی اور دو امریکی ایک چیک باشندہ شامل ہے۔ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ برطانیہ سے امارات رقوم کی منتقلی کےلیے اماراتی کی کمپنیاں استعمال کی جاتی تھیں۔گروہ کے ارکان رقوم کی ریلز کے لیے جعلی کسٹم دستاویزات پیش کرتے تھے جو یہ ظاہر کرتی تھی کہ برطانیہ سے تجارتی لین دین کیا جارہا ہے۔منی لانڈرنگ کے دوسرے کیس میں دبئی پولیس نے ایک اورگروہ کو حراست میں لیا جو ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے منی لانڈرنگ میں ملوث تھا۔گروہ 30 افراد پر مشتمل تھا جب کہ تین کمپنیوں کو وہ منی لانڈرنگ کےلیے استعمال کیا کرتے تھے جس کے ذریعے انہوں نے 180 ملین درھم کی منی لانڈرنگ ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے کی۔ گروہ کے اہم سرغنہ میں دو انڈین جبکہ ایک برطانوی شہریت کا حامل شامل ہے۔ وہ غیرقانونی اشیا کے لین دن میں ملوث پائے گئے جن میں منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیا شامل تھیں ۔ گروہ کو گرفتار کرکے ان کی کمپنیوں کے تمام اکاونٹس کو سیز کردیا گیا ہے۔

    اہلسنت و الجماعت کا بھی کراچی میں دھرنوں کا اعلان

    اہلسنت و الجماعت کا بھی کراچی میں دھرنوں کا اعلان

    گداگری کیلئے سعودیہ جانے کی کوشش، 2 غیر مسلم خواتین گرفتار

    پنجاب حکومت نے ایک استعفیٰ مانگا، 31 استعفے آ گئے

  • جو بائیڈن کا یوکرین کیلئے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

    جو بائیڈن کا یوکرین کیلئے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے لیے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد کا اعلان کردیا۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ میری ہدایت پر امریکا اس جنگ میں یوکرین کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے انتھک کام کرتا رہے گا۔ جو بائیڈن اپنے عہدے کے آخری ہفتوں کو نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل کیف فوجی امداد میں اضافے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔صدر جوبائیڈن کے اعلان میں امریکی ذخیروں سے حاصل ہونے والی ایک ارب 25 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد اور ایک ارب 22 کروڑ ڈالر کا یوکرین سیکیورٹی اسسٹنس انیشی ایٹو (یو ایس اے آئی) پیکیج شامل ہے، جو بائیڈن کے دور کا آخری یو ایس اے آئی پیکیج ہے۔یو ایس اے آئی کے تحت فوجی ساز و سامان امریکی ذخیرے سے حاصل کرنے کے بجائے دفاعی صنعت یا شراکت داروں سے حاصل کیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے میدان جنگ میں پہنچنے میں مہینوں یا سال لگ سکتے ہیں۔یوکرین پر روس کے حملے کو 3 سال مکمل ہو رہے ہیں، اور حال ہی میں روسی حکام نے شمالی کوریا کے فوجیوں کو اپنی جنگی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں فرنٹ لائن پر شمالی کوریا کی افواج کو بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور صرف گزشتہ ہفتے روس کے کرسک خطے میں ان کے ایک ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ایک بیان میں بائیڈن نے کہا کہ نئی فوجی امداد سے یوکرین کو فوری طور پر ایسی صلاحیتیں ملیں گی، جو وہ میدان جنگ اور فضائی دفاع، توپ خانے اور دیگر اہم ہتھیاروں کے نظام کی طویل المدتی فراہمی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔جنگ کے تقریباً 3 سال بعد، واشنگٹن نے یوکرین کے لیے مجموعی طور پر 175 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے، لیکن یہ غیر یقینی ہے کہ آیا نئی ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امداد اسی رفتار سے جاری رہے گی یا نہیں، جو 20 جنوری کو بائیڈن کی جگہ لیں گے۔

    گداگری کیلئے سعودیہ جانے کی کوشش، 2 غیر مسلم خواتین گرفتار

    پراپرٹی ٹیکس کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے ایک استعفیٰ مانگا، 31 استعفے آ گئے

  • اسرائیلی وزیراعظم کا زیر زمین خفیہ وارڈ میں طویل آپریشن

    اسرائیلی وزیراعظم کا زیر زمین خفیہ وارڈ میں طویل آپریشن

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا زیر زمین خفیہ وارڈ میں طویل آپریشن کر کے پراسٹیٹ نکال دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کی سرجری اسپتال کے کئی منزلہ زیر زمین وارڈ میں ہوئی، انتہائی خوف کی وجہ سے نیتن یاہو کا زیر زمین آپریشن کرنا پڑا نیتن یاہو کا آپریشن دو گھنٹے سے زائد جاری رہا اور انہیں کئی دن زیر زمین وارڈ میں ہی رہنا پڑےگا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو ایک دہائی سے زائد عرصے سے پروسٹیٹ کے مرض میں مبتلا تھے اور انہوں نے 2014 میں بھی اس کا علاج کروایا تھایہ علاج خفیہ رکھا گیا تھا اور عوام کو نہ علاج سے پہلے، نہ دورانِ علاج اور نہ ہی بعد میں اس کے بارے میں آگاہ کیا گیا ان کا علاج ہونے کا انکشاف جون 2015 میں اسرائیلی میڈیا کی ایک رپورٹ میں ہوا تھا۔

    قاتل نے مقتول کی بیوی کو عدالت میں شادی کی پیشکش کر دی

    رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اس علاج کے لیے دو مرتبہ اسپتال گئے اور انہیں اسپتال لے جانے کا عمل ایک خفیہ آپریشن کی طرح انجام دیا گیا پہلی بار نیتن یاہو کو پیٹا بریڈ ڈلیور کرنے والی گاڑی میں چھپا کرلایا گیا،نیتن یاہو کو دوسری مرتبہ اسپتال لانے کےلیے کیڑے مار اسپرے کرنے والی کمپنی کی وین میں چھپا کر لایا گیا تھا، اس دوران نیتن یاہو کے محافظوں نے خود بھی کیڑے مار اسپرے کرنے والوں کا بھیس بدلا ہوا تھا۔

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 2 جنوری کو ہوگا ،نوٹیفکیشن جاری

  • قاتل نے مقتول کی بیوی کو عدالت میں شادی کی پیشکش کر دی

    قاتل نے مقتول کی بیوی کو عدالت میں شادی کی پیشکش کر دی

    لندن: قاتل نے عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران مقتول کی بیوی کو شادی کی پیشکش کر دی۔

    باغی ٹی وی: مارک میڈوز کو 2022 میں کیتھ گرین کے قتل کے جرم میں 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی مجرم نے عدالت میں مقتول کی بیوی لوئیس گریو کو شادی کی پیشکش کی، ڈیٹیکٹیو سپرنٹنڈنٹ جون کیپس نے ٹی وی شو "سپیشل آپس: ٹو کیچ آ کرمنل” میں انکشا ف کیا "میں نے کبھی کراؤن کورٹ میں کسی کو شادی کی پیشکش کرتے نہیں دیکھا یہ واقعی حیران کن ہے۔”

    ڈیلی سٹار کے مطابق 24 سالہ میڈوز کا لوئیس گریو کے ساتھ افیئر 2021 میں شروع ہوا۔ لوئیس اپنے شوہر کیتھ اور دو بچوں کے ساتھ رہ رہی تھی لوئیس جو 13 سال بڑی تھی، نے میڈوز کو "جیزس” کا نام دیا کیونکہ اس کے بال لمبے تھے لوئیس نے کیتھ کو گھر سے نکال دیا لیکن اسے واپس آنے کے لیے بھی کہا، جس سے میڈوز کے اندر حسد بڑھتا گیا فروری 2022 کو میڈوز نے کیتھ پر حملہ کر کے اسے آٹھ مرتبہ چاقو مارا، جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 2 جنوری کو ہوگا ،نوٹیفکیشن جاری

    میڈوز اور اس کے بھائی گورٹن کو قتل کے جرم میں سزا دی گئی، جبکہ لوئیس گریو کو 8 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ پولیس نے لوئیس گریو کے بیانات پر شکوک کا اظہار کیا، کیوں کہ وہ بظاہر اپنے جذبات کو کنٹرول کرتی دکھائی دیں۔وہ کبھی رو رہی تھیں اور کبھی ہنس رہی تھیں، جس نے ان کے کردار پر سوال اٹھایا۔

    اگرضرورت پڑی تو پارا چنارجانے کیلئے تیار ہیں،علامہ طاہر اشرفی

  • یو اے ای میں چھوٹے طیارہ سمندر میں گر کر تباہ،خاتون پائلٹ سمیت 2 افراد جاں بحق

    یو اے ای میں چھوٹے طیارہ سمندر میں گر کر تباہ،خاتون پائلٹ سمیت 2 افراد جاں بحق

    دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست راس الخیمہ میں چھوٹا طیارہ حادثےکا شکار ہوگیا،حادثے میں خاتون پائلٹ اور مسافر سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے-

    باغی ٹی وی: اماراتی ایوی ایشن حکام کے مطابق راس الخیمہ میں پرائیوٹ سیاحتی ایوی ایشن کلب کا طیارہ حادثےکا شکار ہوا، طیارہ سیاحتی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور سمندر میں گر کر تباہ ہواطیارےکی پائلٹ 29 سالہ پاکستانی فریانزا پروین تھیں جب کہ مسافر 26 سالہ بھارتی ڈاکٹر سلیمان تھے۔

    حکام پاکستانی قونصل خانےکے مطابق پاکستانی پائلٹ فریانزا پروین کا تعلق ملتان سے ہے پاکستانی پائلٹ کی میت آج رات پاکستان روانہ کی جائےگی۔

    سندھ رینجرز کی 2024 میں کئے جانے والے آپریشن سے متعلق رپورٹ جاری

    حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔

    گوجرانوالہ: جی یو جے ورکرز کا اجلاس، پریس کلب الیکشن پر تحفظات کا اظہار