Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • انڈہ پہلے آیا یا مرغی؟ سائنسدانوں  کاجواب جان لینے کا دعویٰ

    انڈہ پہلے آیا یا مرغی؟ سائنسدانوں کاجواب جان لینے کا دعویٰ

    انڈہ پہلے آیا یا مرغی؟ یہ سوال عرصے سے زیر بحث ہے تاہم اب سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس کا جواب جان لیا ہے-

    باغی ٹی وی : جنیوا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ پہلے انڈہ آیا تھا اور اس کے بعد مرغیوں کی آمد ہوئی ایسا مانا جاتا ہے کہ زمین پر زندگی کی پہلی شکل ایک خلیے پر مشتمل تھی اور وقت کے ساتھ ارتقائی مراحل سے گزر کر خلیاتی نظام پیچیدہ ہوتا گیا،مگر یہ عمل کیسے آگے بڑھا اسے اب تک زیادہ اچھی طرح سمجھا نہیں جاسکا اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق میں Chromosphaera perkinsii نامی ایک خلیے پر مشتمل جانداروں کی جانچ پڑتال کی گئی۔

    ان جانداروں کو 2017 میں سمندری تلچھٹ میں دریافت کیا گیا تھا اور تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کس طرح ایک خلیہ متعدد خلیات کی شکل میں تبدیل ہوا انہوں نے دریافت کیا کہ جب ان جانداروں کا حجم زیادہ سے زیادہ حد تک پہنچ جاتا ہے تو مزید بڑھے بغیر تقسیم ہو جاتے ہیں جس سے متعدد خلیات پر مبنی تھری ڈی اسٹرکچر بنتا ہے جو جانوروں کی ابتدائی مرحلے کی جنینی نشوونما جیسا ہوتا ہے۔

    محققین کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ جنینی نشوونما جانوروں کے ارتقا سے پہلے ہوتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ مرغی سے پہلے انڈہ دنیا میں آیا تھا،یہ حیران کن ہے کہ ایک جاندار نے ہمیں وقت میں ایک ارب سال پیچھے جانے کا موقع فراہم کیا-

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    اس سے پہلے ماہرین کا ماننا تھا کہ بہت پرانے زمانے میں مرغی نام کا پرندہ تو موجود نہیں تھا مگر اس سے ملتا جلتا ایک پرندہ ضرور تھا جو جینیاتی طور پر تو مرغی کے قریب تھا مگر مکمل طور پر مرغی نہیں تھا،اس پرندے کو پروٹو چکن کا نام دیا گیا ہے،تو پروٹو چکن نے ایک بار انڈہ دیا جس میں ایک ایسی جینیاتی تبدیلی ہوئی تھی جس سے پیدا ہونے والا چوزا اپنے والدین سے مختلف ہوگیا،یعنی وہ انڈہ اتنا مختلف تھا کہ اس سے ایک نئی نسل یعنی مرغیوں کا آغاز ہوا، تو پہلے انڈہ آیا یا مرغی تو اس کا جواب یہ ہے کہ انڈہ پہلے آیا اور پھر مرغی۔

    سیالکوٹ : اسموگ اور آلودگی کے خلاف کریک ڈاؤن، بھٹے اور انڈسٹریز سیل

  • ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ میں امن کا وعدہ، کیا یہ ممکن ہوگا؟

    ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ میں امن کا وعدہ، کیا یہ ممکن ہوگا؟

    ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ میں امن کا وعدہ، کیا یہ ممکن ہوگا؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    کیا ڈونلڈٹرمپ واقعی مسلم دنیا کے لیے بہتر ہیں؟ کیاڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں امن قائم کر پائیں گے ،کیا واقعی جنگ وجدل کا خاتمہ ہوجائے گا ؟یہ سوال ہر کسی کے زبان پر ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ منتخب ہوچکے ہیں تو یہ مسلم دنیا کے لیے کس طرح کی امیدیں اور امکانات پیدا کر سکتا ہے؟ ان کے سابقہ دور حکومت میں خلیجی ممالک کی خوشیاں اور ایران کے خلاف سخت موقف نے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی،نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں وکٹری سپیچ میں جاری جنگیں ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کوئی نئی جنگ شروع نہیں کریں گے۔ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔ اپنے ملک کو محفوظ بنانے کیلئے تمام اقدامات کریں گے۔ڈونلڈٹرمپ بطور صدر پیر 20 جنوری 2025 کو یو ایس کیپیٹل کمپلیکس میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی میں دیرپا امن قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے لیکن یہ ایک پیچیدہ اور چیلنج سے بھرپور معاملہ ہے۔نومنتخب امریکی صدرکو اس خطے کے مسائل کا سامنا ہوگا، جب وہاں شدید تنازعات اور عدم استحکام پایا جا رہا ہے۔ ان کی اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات اور فلسطین کے حوالے سے ان کے متنازعہ بیانات نے دنیا بھر میں ان کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے۔

    اسرائیل اور فلسطینی حماس کے درمیان جاری جنگ جس کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے ہوا، مشرق وسطی میں بڑھتے ہوئے تنا ئوکی تازہ ترین مثال ہے۔ اس جنگ میں اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہے ۔ غزہ کی صورتحال انسانیت کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے اور بین الاقوامی برادری اس تنازع کو ختم کرنے میں عملاََ ناکام دکھائی دیتی ہے۔ڈونلڈٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بارہا اسرائیل کی حمایت میں بات کی ہے اور یہ اصرار کیا ہے کہ غزہ کی جنگ کو جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔ ان کے بیانات نے دنیا بھر میں کئی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ، اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان قریبی تعلقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی دوسری صدارت اسرائیل کو مزید حمایت فراہم کرے گی۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں اسرائیل کے حق میں کئی بڑے فیصلے کیے تھے، جیسے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ کوقانونی قرار دیا۔

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری جنگی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ اسرائیل کے کشیدہ تعلقات، لبنان میں حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں اور عراق و یمن میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی موجودگی خطے کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہیں۔ اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے ان تمام چیلنجوں کے باوجود امن کے قیام کا وعدہ کیا ہے مگر ان کے پاس اس کی واضح حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔ وہ بارہا اسرائیل سے کہہ چکے ہیں کہ وہ "کام ختم کریں” یعنی حماس کو شکست دیں مگر یہ واضح نہیں کہ اس کے بعد کے حالات کو کیسے سنبھالا جائے گا۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیز میںشفافیت کا فقدان ہے جس سے خطے کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    ٹرمپ کے اسرائیلی وزیر اعظم سے اس قدر قریبی تعلقات ہیں کہ اپنی پہلی صدارت کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کی سخت گیر پالیسیوں کی کھل کر حمایت کی تھی خاص طور پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکل گئے تھے ۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے ایک منصوبہ پیش کیا جسے دنیا بھر میں اسرائیل کی حمایت کے طور پر دیکھا گیا۔تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت جو اس وقت انتہائی دائیں بازو کی پالیسیوں کی حامی ہے اورٹرمپ کی دوسری صدارت کو اسرائیل کے لیے مزید فوائد کی امید کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی خطے کے دیگر معاملات میں ٹرمپ کی مداخلت کس حد تک مئوثر ہوگی اس پر سوالیہ نشان ہے۔

    اسرائیلی قیادت اور ٹرمپ کے درمیان قریبی تعلقات کے باوجود غزہ کی جنگ کے بعد کے حالات کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ نیتن یاہو کی حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اگر جنگ حماس کی مکمل شکست کے بغیر ختم ہوئی تو ان کی حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس بائیڈن انتظامیہ اور مغربی طاقتیں غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت رکھنے کے حامی ہیں مگر اسرائیل نے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے۔

    ایران کے ساتھ کشیدگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور دیگر گروہوں کے ساتھ اسرائیل کے تنازعات کے باعث مشرق وسطیٰ میں تنائو بڑھ گیا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جاری کشیدگی، جس میں ہزاروں افراد بے گھر اور درجنوں ہلاک ہو چکے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کی صورتحال کتنی خراب ہے۔ ٹرمپ کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا وہ امریکہ کے اندرونی مسائل کو ترجیح دیں گے یا خطے میں اسرائیل کی مدد کے لیے مزید اقدامات کریں گے؟

    ڈونلڈٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بارہا یہ کہا کہ وہ ملکی معاملات پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے لیکن مشرق وسطیٰ کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ان کے داماد جیرڈ کشنر جو مشرق وسطیٰ کے معاملات میں سرگرم کردار ادا کر چکے ہیں ایک بار پھر کلیدی حیثیت میں آ سکتے ہیں۔ ان کی اسرائیل نواز پالیسیز اورمذہبی عیسائیوں کی طرف سے حمایت بھی ان کے فیصلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔مجموعی طور پر ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کے لیے کوئی بھی فیصلہ خطے کی صورتحال کو مزید بگاڑ بھی سکتا ہے اور شاید اسے بہتر بھی کر سکتا ہے مگر اس کا انحصار ان کی پالیسیوں کے واضح ہونے اور خطے کے دیگر عوامل پر ہوگا۔

  • ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ کی دوسری مدت، پہلی مدت سے بالکل مختلف ہوگی

    ری پبلکن پارٹی اب مکمل طور پر ٹرمپ کی ہو چکی ہے اور اس کے مخالفین کو ہمیشہ کے لیے کنارے لگا دیا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ اوول آفس میں داخل ہوں گے۔ انہیں اپنے پہلے دور کے تجربے کے ساتھ ساتھ اس بات کا گہرا غصہ بھی ہے کہ کس طرح انہوں نے محسوس کیا کہ نظام نے ان کے ساتھ نا انصافی کی۔”امریکہ نے ہمیں بے مثال اور طاقتور مینڈیٹ دیا ہے”، ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا۔ انہوں نے اپنی دوسری مدت کے بارے میں اپنی حکمت عملی یوں بیان کی: "میں ایک سادہ نعرے کے تحت حکومت کروں گا،

    ٹرمپ کی دوسری مدت میں صورتحال کیسے مختلف ہو سکتی ہے؟
    وہ شخصیات جو کبھی ٹرمپ کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، اب ان کا ساتھ چھوڑ چکی ہیں۔ ان کی جگہ اب ایسے مشیر اور حکام آئے ہیں جو ٹرمپ کو چیک کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ٹرمپ نے اخلاقی معاہدوں پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے جس کے تحت ان کی مہم بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ منتقلی کے عمل میں تعاون کرتی۔ اس تاخیر کی وجہ ٹرمپ کی وفاقی ایجنسیوں سے گہری عدم اعتماد ہے، خاص طور پر ان ایجنسیوں کے بارے میں جو ان کے اپنے وفاداروں کے تحت نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ٹیم کو قومی سلامتی کے بریفنگز اور منتقلی کے عمل کے لیے درکار فنڈز تک رسائی نہیں مل سکی۔وہ ری پبلکن جو ٹرمپ کے مخالف تھے، اب یا تو ریٹائر ہو چکے ہیں یا انتخاب میں ہار چکے ہیں۔ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کانگریس اور کابینہ کی تصدیق کے روایتی عمل کو نظر انداز کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ٹرمپ نے کئی امیدواروں سے یہ پوچھا ہے کہ کیا وہ ایڈہاک سکریٹری کے طور پر کام کرنے کو تیار ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس سے انہیں مزید لچک ملے گی اگر وہ بعد میں اپنے فیصلے تبدیل کرنا چاہیں۔

    ٹرمپ کے پہلے دور کے بعد سے وفاقی عدالتوں میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں، خاص طور پر سپریم کورٹ میں جہاں اب ایک قدامت پسند اکثریت ہے جو وہ فیصلے برقرار رکھ سکتی ہے جو ٹرمپ کے پہلے دور میں عدالت کے ذریعہ رد کر دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ٹرمپ کو یہ فائدہ بھی حاصل ہے کہ اب صدور اپنے عہدے کے دوران کیے گئے سرکاری اقدامات میں قانونی تحفظ رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ اپنی موجودہ قانونی مشکلات سے زیادہ تر چھٹکارا حاصل کر لیں گے، یا کم از کم ان میں سے بیشتر مقدمات سے بچ سکیں گے۔

    ٹرمپ کی دوسری مدت یقیناً پہلی سے مختلف ہو گی، اور یہ تبدیلیاں امریکی سیاست میں دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کی ٹرمپ کو مبارک

    ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

  • ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں پہلی بڑی تقرری کا اعلان کر دیا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کی منیجر اور ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والی سوزن وائلز کو وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے،رپورٹ کے مطابق، 67 سالہ سوزن وائلز پہلی خاتون ہوں گی جنہیں وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف کا عہدہ حاصل ہوگا۔

    وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ یہ صدر کی انتظامیہ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ چیف آف اسٹاف کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کو منظم طریقے سے کام کرنے کے لئے رہنمائی فراہم کرے اور ان کی نگرانی کرے،چیف آف اسٹاف امریکی صدر کی مصروفیات کا شیڈول بھی طے کرتا ہے اور دیگر حکومتی و انتظامی اداروں کے ساتھ رابطے کا کام بھی سرانجام دیتا ہے۔

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتخابی مہم کی مینیجر سوزن وائلز ان کے وائٹ ہاؤس میں چیف آف اسٹاف کے طور پر کام کریں گی جب وہ دفتر سنبھالیں گے۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا، "سوزن وائلز نے میری انتخابی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً 2016 اور 2020 کی مہمات میں، اور وہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی کامیابیوں میں سے ایک کا حصہ رہی ہیں۔ سوزن وائلز مضبوط، ذہین، جدید سوچ رکھنے والی اور ہر جگہ عزت و توقیر کی حامل ہیں۔ سوزن وائلز مزید محنت سے ‘امریکہ کو عظیم بنائیں’ کے مشن کو آگے بڑھائیں گی۔ انہیں پہلی خاتون چیف آف اسٹاف ہونے کا اعزاز ملنا ایک شاندار بات ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ ہماری قوم کو فخر کا باعث بنائیں گی۔”

    سوزن وائلز کے بارے میں:
    سوزن وائلز ، جو کہ مرحوم NFL براڈکاسٹر پیٹ سمرال کی بیٹی ہیں، فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی ایک تجربہ کار سیاسی مشیر ہیں اور ٹرمپ کے قریبی حلقے کی ایک طویل مدتی رکن ہیں۔ انہوں نے 2020 میں فلوریڈا میں ٹرمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا اور بعد میں ان کے عہدے کے بعد چیف آف اسٹاف کے طور پر بھی کام کیا۔ سوزن وائلز نے 2024 کی مہم کے دوران ٹرمپ کے انتخابی عمل کو کامیاب بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جسے سیاسی تجزیہ کاروں نے ٹرمپ کی اب تک کی سب سے مربوط اور منظم مہم قرار دیا۔

    انتخابی رات کے دوران ٹرمپ نے اپنے خطاب میں سوزن وائلز کا ذکر کیا، حالانکہ سوزن وائلز نے عوام کے سامنے آ کر خطاب کرنے سے گریز کیا۔ ان کی خاموشی اور پس منظر میں رہنے کی عادت نے انہیں ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کے درمیان مقبول بنا دیا۔

    سی این این نے آج اس بات کی اطلاع دی کہ سوزن وائلز نے چیف آف اسٹاف کا عہدہ قبول کرنے سے پہلے ٹرمپ سے کچھ شرائط رکھی تھیں، جن میں سب سے اہم یہ تھی کہ وہ وائٹ ہاؤس میں صدر تک رسائی کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔ ٹرمپ کی پہلی مدت میں، ان کے چیف آف اسٹاف یہ نہیں روک پائے تھے کہ غیر رسمی مشیر، خاندان کے افراد، دوست اور دیگر افراد وائٹ ہاؤس میں آ کر صدر سے ملاقات کریں۔

    امریکی نومنتخب نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو اس فیصلے کو "عظیم خبر” قرار دیتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سوزن وائلز وائٹ ہاؤس میں "ایک قیمتی اثاثہ” ثابت ہوں گی۔

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی کا پاکستان میں مذہبی بنیاد پر جرائم پر اظہار تشویش

    اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی کا پاکستان میں مذہبی بنیاد پر جرائم پر اظہار تشویش

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے پاکستان میں مذہبی بنیاد پر جرائم پر تشویش کا اظہار کیا ہے

    اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے پاکستان سمیت 6 ملکوں میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کی ہے،کمیٹی نے پاکستان میں امتیازی سلوک، نفرت انگریز بیان بازی، نفرت پر مبنی جرائم، ہجوم کے تشدد اور مذہبی اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے،توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں پھنسانے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کمیٹی نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ ان تمام واقعات کی تفتیش کرے اور ان جرائم میں ملوث افراد پر مقدمہ چلاکر انھیں سزا دلوائے۔

    پاکستان میں مذہبی آزادی ایک اہم موضوع ہے جس پر وقتاً فوقتاً بحث کی جاتی ہے۔ پاکستان کا آئین اپنے شہریوں کو مذہبی آزادی دینے کی ضمانت دیتا ہے،پاکستان کے آئین کے مطابق، ہر شہری کو اپنی پسند کے مذہب کو اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ آئین کی شق 20 کے تحت، تمام شہریوں کو اپنے مذہب، عقیدہ اور عبادات کی آزادی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، 1985 میں آئین میں 23 ویں ترمیم کے ذریعے اقلیتی نمائندوں کو پارلیمنٹ میں نشستیں دی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے حقوق کا دفاع کر سکیں۔

    پاکستان میں مذہبی اقلیتوں میں ہندو، عیسائی، سکھ کمیونٹیز شامل ہیں، جنہیں بعض اوقات اپنے مذہبی حقوق کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر، توہینِ مذہب کے قوانین کے باعث بعض افراد کو غلط استعمال اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ پاکستانی حکومت نے متعدد بار مذہبی آزادی کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان میں اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے کمیشن کا قیام، اقلیتی تہواروں کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنا، اور مذہبی رواداری کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں خصوصی پروگرامز کا انعقاد شامل ہے۔پاکستان کی مذہبی آزادی کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی جائزے اور رپورٹیں سامنے آتی رہی ہیں۔ بین الاقوامی تنظیمیں جیسے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کے متعلق رپورٹ پاکستان مسترد کرتا ہے، دفتر خارجہ

    بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک،امریکہ کی مذہبی آزادی پر رپورٹ جاری

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی کامیابی: شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آ سکتی ہے

    امریکہ میں 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد برطانیہ کے شہزادہ ہیری کی خفیہ امیگریشن فائل منظر عام پر آ سکتی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اب تک اس فائل کی ریلیز کو روکے رکھا تھا، لیکن ٹرمپ کی جیت کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سرخیوں میں آ سکتا ہے۔

    شہزادہ ہیری اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران بڑھنے لگے تھے، جب میگھن مارکل نے ٹرمپ کو عورت دشمن قرار دیا تھا اور جواب میں ٹرمپ نے میگھن کو "گھٹیا” قرار دیا تھا۔ اس کے بعد، ٹرمپ نے 2017 میں کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ صدر بنے تو شہزادہ ہیری کو حمایت نہیں دیں گے کیونکہ اس نے ملکہ الزبتھ دوم کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر شہزادہ ہیری نے اپنی امیگریشن درخواست میں جھوٹ بولا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    شہزادہ ہیری کی امریکی امیگریشن درخواست پر سوالات اُس وقت اُٹھے جب 2023 میں اُنہوں نے اپنی یادداشت "Spare” میں منشیات کے استعمال کا اعتراف کیا۔ امریکی امیگریشن کے قوانین کے مطابق، منشیات کا استعمال امریکی شہریت حاصل کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اور اس بارے میں معلومات درخواست میں فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔دائیں بازو کے تھنک ٹینک "ہیریٹج فاؤنڈیشن” کا دعویٰ ہے کہ منشیات کا تفریحی استعمال امریکی شہریت کے لیے نااہلی کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائلز کی ریلیز سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد ہیریٹج فاؤنڈیشن نے اس فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جو ابھی اپیل میں ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق، شہزادہ ہیری کو بائیڈن انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، لیکن ٹرمپ کی کامیابی کے ساتھ، یہ ممکن ہے کہ وہ شہزادہ ہیری کی امیگریشن درخواست پر دوبارہ غور کریں یا اس کے ریکارڈز منظر عام پر لے آئیں۔ہیریٹج فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہیری کے ریکارڈز کی منظر عام پر آنے سے یہ پیغام جائے گا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔

    شہزادہ ہیری کے امیگریشن کیس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں نہ صرف برطانوی شاہی خاندان کی نجی زندگی شامل ہے بلکہ امریکی امیگریشن پالیسی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے سخت امیگریشن قوانین کا حامی ہونا اور ہیری کی ممکنہ امیگریشن فائلز کا منظر عام پر آنا ایک بڑی سیاسی اور قانونی تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس معاملے پر بائیڈن انتظامیہ کا موقف ایک طرف جبکہ ٹرمپ کے امیگریشن قوانین پر سخت موقف کا فیصلہ ایک اہم موڑ ہوگا، جس سے بین الاقوامی سطح پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات کرنے کی خواہش ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد وہ 70 سے زائد عالمی رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں، لیکن ابھی تک روسی صدر سے رابطہ نہیں ہو سکا، اور وہ جلد ہی ان سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اسی دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کی جیت پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس میں اب بال امریکی حکومت کے کورٹ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو روس سے تعلقات کی بحالی کے لیے اپنی توجہ دینی چاہیے۔پیوٹن نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکا یہ سمجھ جائے گا کہ روس پر پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں، اور ان کی سرحدوں پر تنازعات کو ہوا دینا بھی بے فائدہ ہوگا۔

    یہ خبر اس وقت آئی جب ایک روز قبل کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ انہیں امریکی صدر ٹرمپ کو جیت پر مبارکباد دینے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ کریملن نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکا ایک دشمن ریاست ہے جو یوکرین کی جنگ میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر ملوث ہے۔

    یہ صورتحال عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں روس اور امریکا کے تعلقات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کا پیوٹن سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے، اس تناظر میں ٹرمپ کے روسی صدر سے بات کرنے کے فیصلے سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا عالمی سیاست میں تبدیلی کی کوئی امید کی جا سکتی ہے یا یہ محض ایک سیاسی چال ہو گی۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • دوران پرواز مسافر نےراہداری میں پیشاب کر دیا،ایئرلائن نے بلائی پولیس

    دوران پرواز مسافر نےراہداری میں پیشاب کر دیا،ایئرلائن نے بلائی پولیس

    ریان ایئر کی ایک پرواز پر بدتمیزی کی انتہاء دیکھنے کو ملی جب ایک مسافر نے جہاز کے درمیان میں پیشاب کرنے کی حرکت کی، جس پر ایئر لائن حکام کو مقامی پولیس کو طلب کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

    تفصیلات کے مطابق، ریان ایئر کی پرواز ٹینیریف جا رہی تھی، ایک مسافر نے دوران پرواز بدتمیزی کی اور جہاز کے گزرگاہ میں پیشاب کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد عملے نے فوری طور پر ایمرجنسی پروسیجرز کے تحت متعلقہ حکام کو اطلاع دی اور طیارے کی لینڈنگ کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا۔اس واقعہ کی وجہ سے جہاز کا عملہ اور دیگر مسافر شدید پریشانی کا شکار ہو گئے، ایئر لائن کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ مسافر کو مقامی حکام کے حوالے کیا گیا اور اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ریان ایئر نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا، ساتھ ہی مسافروں سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز فضائی سفر کے دوران معمول کی پرواز کر رہا تھا، اور طیارہ منزل پر پہنچتے ہی اس کے دوران کی جانے والی غیر قانونی حرکت پر مسافر کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

    ریان ایئر کی ایک پرواز کو ٹینیرف ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل حکام کو اطلاع دینی پڑی، کیونکہ پرواز کے دوران ایک شخص نے راہداری میں پیشاب کردیا تھا۔یہ واقعہ ریان ایئر کی پرواز FR3152 پر پیش آیا، جو 4 نومبر بروز پیر کو ایسٹ مڈلینڈ ایئرپورٹ سے صبح 6:29 بجے ٹینیرف جنوبی ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ پرواز کی مدت چار گھنٹے 30 منٹ تھی۔پرواز کے دوران مسافروں کے غیر مہذب سلوک کے پیش نظر، طیارے کے عملے نے فیصلہ کیا کہ جب پرواز ٹینیرف ایئرپورٹ پر پہنچے گی تو پولیس کی مدد کے لیے حکام کو پہلے ہی اطلاع دی جائے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ مسافر کس طرح کے غیر مہذب سلوک میں ملوث تھے، ایک ذریعے نے "ٹراول اینڈ ٹور ورلڈ” کو بتایا کہ ایک شخص راہداری میں زمین پر پیشاب کر رہا تھا۔ریان ایئر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ "ایسٹ مڈلینڈ سے ٹینیرف (4 نومبر) جانے والی اس پرواز کے عملے نے چند مسافروں کی جانب سے غیر مہذب سلوک کے باعث پولیس کی مدد کے لیے پہلے ہی اطلاع دی تھی۔””جب طیارہ ٹینیرف ایئرپورٹ پر پہنچا تو مقامی پولیس نے اسے وصول کیا اور ان مسافروں کو طیارے سے اتار دیا۔”

    پرواز نےمقامی وقت کے مطابق 11 بجے کے قریب ٹینیرف ایئرپورٹ پر لینڈ کی، جہاں مسافروں کو مقامی حکام کے ذریعے طیارے سے باہر نکال لیا گیا۔ریان ایئر کے سی ای او مائیکل او لیری نے اگست میں "دی انڈیپنڈنٹ” کے ٹریول پوڈکاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پروازوں پر مسافروں کی جانب سے بدتمیزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ موسم گرما میں پروازوں کی تاخیر اور مسافروں کی جانب سے منشیات اور شراب نوشی میں اضافہ ہے۔ہم اور یورپ کی زیادہ تر ایئرلائنز اس موسم گرما میں مسافروں کے غیر مہذب سلوک میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔”پروازوں میں تاخیر اس موسم گرما میں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ سے لوگ ایئرپورٹس پر شراب پینے میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔

    اس سال ریان ایئر کو کئی بدسلوکی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جیسے کہ ستمبر میں ایک مسافر کو ایبیزا جانے والی پرواز سے نکالنا پڑا، کیونکہ اس نے کیبن عملے کو مارا پیٹا اور دوسرے مسافروں پر تھوکا۔ ایک اور واقعہ اگست میں پیش آیا جب ایک مسافر شراب کے نشے میں اپنے گرل فرینڈ پر گالی گلوچ کر رہا تھا اور طیارے کے اندرونی حصے کو نقصان پہنچا رہا تھا۔

  • نائن الیون حملوں کے مبینہ ملزم خالد شیخ کا مفاہمتی معاہدہ بحال

    نائن الیون حملوں کے مبینہ ملزم خالد شیخ کا مفاہمتی معاہدہ بحال

    امریکی ملٹری جج نے نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر افراد کے پلی بارگین ایگریمنٹس بحال کر دیے

    واشنگٹن: امریکا کے ایک ملٹری جج نے نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر دو ملزمان کے ساتھ طے شدہ پلی بارگین ایگریمنٹس (مفاہمتی معاہدے) کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے، جو کہ تین ماہ قبل امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے ختم کر دیے تھے۔ ان معاہدوں کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ سزائے موت کی سزا کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرتے ہیں،

    گوانتاانامو بے میں ایک فوجی جج نے فیصلہ دیا کہ 9/11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور اس کے دو ساتھیوں کے لیے درخواستوں کے معاہدے قانونی اور درست ہیں، جس کے نتیجے میں ان افراد کو ممکنہ طور پر سزائے موت سے بچنے کا موقع مل سکتا ہے، بشرطیکہ وہ عمر قید کی سزا قبول کریں۔ایئر فورس کے کرنل میتھیو مک کال نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع لوئڈ آسٹن کے پاس ان معاہدوں کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں تھا، جیسا کہ 2 اگست کو پینٹاگون کی جانب سے ان معاہدوں کے اندراج کے بعد آسٹن نے انہیں کالعدم کر دیا تھا۔خالد شیخ محمد اور اس کے دو اہم ساتھی، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الہوسوی نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ وہ 2,976 افراد کے قتل اور دیگر الزامات میں قصوروار قرار پائیں گے، اس کے بدلے میں ان کے خلاف سزائے موت کی سزا ختم کر دی جائے گی۔ یہ معاہدے ان افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کی ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم انہیں متنازعہ قرار دیا گیا۔ معاہدوں کے اعلان کے فوراً بعد آسبن نے انہیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    آسٹن نے اس فیصلے کے بارے میں ایک یادداشت میں کہا تھا کہ "میرے لیے یہ فیصلہ کرنا ضروری تھا کہ ملزمان کے ساتھ مقدمے سے پہلے کی کارروائیوں میں میں خود کو ذمہ دار سمجھوں”۔ تاہم، جج مک کال نے بدھ کے روز کہا کہ آسٹن کا یہ فیصلہ دیر سے آیا تھا اور انہوں نے اس بنیاد پر کہ آسٹن کو اس کیس پر اتنی وسیع اختیار حاصل نہیں تھا، ان معاہدوں کو برقرار رکھا۔9/11 کے متاثرین کے خاندانوں میں ان معاہدوں پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں نے ان معاہدوں کی حمایت کی ہے، جب کہ کچھ اس بات پر مصر ہیں کہ مقدمہ ٹرائل کی صورت میں چلے اور ان افراد کو سزائے موت دی جائے۔امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے متاثرین کے خاندانوں کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ان معاہدوں سے انہیں اگلے سال کی سزا کی سماعت میں اپنے پیاروں کے ساتھ ہونے والے حملے کے اثرات پر بات کرنے کا موقع ملے گا، اور وہ القاعدہ کے حملے میں ان کے کردار اور محرکات کے بارے میں سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔

    اس فیصلے سے یہ واضح ہوا کہ اب نائن الیون حملوں میں ملوث تینوں ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوزی کے خلاف مقدمات کا کوئی منطقی نتیجہ نکلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے ان کیسز کو کئی سالوں تک التوا میں رکھا گیا تھا اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی سماعت کو آگے نہیں بڑھایا جا رہا تھا۔

    امریکی عہدیداروں نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے کہ ملٹری جج نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ تینوں ملزمان کے مقدمات کے لیے جو ایگریمنٹس کیے گئے تھے وہ بالکل درست اور قابلِ نفاذ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان ملزمان کے مقدمات کسی منطقی انجام کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ استغاثہ کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ ایسا کریں گے یا نہیں۔امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رائیڈر نے اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ہم اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور فی الحال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔”

    نائن الیون حملوں کے تین ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوزی اس وقت گوانتا نامو بے جیل میں قید ہیں، جہاں انہیں طویل عرصے سے قید رکھا گیا ہے۔ ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2001 میں ہونے والے نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔طویل عرصے سے جاری قانونی کارروائیوں اور تشویشات کے باوجود، ملٹری جج کا حالیہ فیصلہ ان مقدمات کو ایک نئے موڑ پر لے آیا ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا یا نہیں۔

  • کملا ہیرس کو میڈیا، اداروں اور ہالی ووڈ کی حمایت کے باوجود  شکست کیوں؟

    کملا ہیرس کو میڈیا، اداروں اور ہالی ووڈ کی حمایت کے باوجود شکست کیوں؟

    امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخی واپسی کرتے ہوئے دوسری بار امریکہ کے 47ویں صدر کے طور پر کامیابی حاصل کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی رائے شماری اور الیکٹورل کالج دونوں میں کامیابی حاصل کی۔ خاص طور پر امریکی سینیٹ میں اب ری پبلکنز کی اکثریت ہے، جو 52 سیٹوں پر مشتمل ہے۔ 2004 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ری پبلکنز نے عوامی رائے شماری میں کامیابی حاصل کی، جب جارج بش نے 50.7% ووٹ حاصل کیے تھے اور ان کے ڈیموکریٹ حریف جان کیری نے 48.3% حاصل کئے تھے،امریکی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس اور لبرلز اس نتیجے پر شدید غم و غصے کا شکار ہیں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کون سے عوامل اس تبدیلی کی وجہ بنے ہیں۔

    ٹرمپ کا پیغام اور مہنگائی کا اثر
    امریکہ میں مہنگائی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، جس نے ووٹرز کی رائے پر گہرا اثر ڈالا۔ صدر بائیڈن کے دور میں مسلسل مہنگائی نے زندگی کے اخراجات کو بڑھا دیا، خاص طور پر کھانے، رہائش اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، متوسط طبقے اور غریب عوام نے مہنگائی کا شدید اثر محسوس کیا، اور وفاقی ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے باوجود اقتصادی بحالی کا عمل سست دکھائی دیا۔ ری پبلکن رہنما ٹرمپ نے اس نارضگی کو کامیابی سے اپنے فائدے میں بدلتے ہوئے خود کو وہ امیدوار ظاہر کیا جو اقتصادی استحکام بحال کرنے اور اخراجات کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔نیشنل ایگزٹ پولنگ ڈیٹا کے مطابق تقریباً 31% ووٹرز نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ معیشت ہے، جب کہ 35% نے کہا کہ ان کے لیے جمہوریت کی حالت سب سے اہم ہے۔ مزید یہ کہ جن ووٹرز نے معیشت کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، ان میں سے 79% نے ٹرمپ کو ہیریس کے مقابلے میں حمایت دی۔امریکی حکومت کے کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق، بائیڈن کے دور میں 45 ماہ کے دوران مہنگائی 20.1% بڑھ گئی، جب کہ ٹرمپ کے دور میں یہ شرح صرف 7.1% تھی۔ یہ فرق سالانہ مہنگائی کی شرح میں 5.4% (بائیڈن کے دور) اور 1.9% (ٹرمپ کے دور) تک نمایاں تھا۔

    ٹرمپ کا مہنگائی پر قابو پانے کا وعدہ
    ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اس بات پر زور دیا کہ امریکی معیشت بدحالی کا شکار ہے اور ان کے پیغام نے عوام کے دلوں میں گہرا اثر ڈالا۔ بہت سے امریکیوں نے ان کی اس بات سے اتفاق کیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے مہنگائی، قرضوں اور ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس نے ان کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ ٹرمپ نے معیشت کی بحالی، مہنگائی میں کمی اور ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی، اور اس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد نے انہیں اپنے مسائل کا حل سمجھا۔

    غیر قانونی تارکین وطن اور سرحدی تحفظ کا مسئلہ
    امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ بھی ایک اہم موضوع رہا۔ بائیڈن کے دور میں غیر قانونی امیگریشن میں اضافہ ہوا اور سرحدی تحفظ ایک متنازعہ موضوع بن گیا۔ ری پبلکن پارٹی نے اس مسئلے کو اپنے حق میں استعمال کیا اور ٹرمپ نے امریکہ کی سرحدوں پر سیکیورٹی میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا، جس سے بہت سے ووٹرز ان کی حمایت میں آئے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی بڑی وجہ ان کا مہنگائی، اقتصادی مسائل اور سرحدی تحفظ جیسے عوامی مسائل پر فوکس کرنا تھا۔ کملا ہیریس اور بائیڈن انتظامیہ کے تمام بیانات اور ہالی ووڈ کی حمایت کے باوجود، امریکی عوام نے اپنی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ٹرمپ کے پیغام کو اپنایا۔ یہ انتخابات اس بات کا غماز ہیں کہ حقیقی مسائل، خاص طور پر معیشت، سیاست میں کامیابی کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد