Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • وزیر دفاع کی برطرفی نیتن یاہو کو مہنگی پڑ گئی

    وزیر دفاع کی برطرفی نیتن یاہو کو مہنگی پڑ گئی

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے وزیر دفاع یواف گیلانٹ کی برطرفی کے خلاف اسرائیل کے مختلف شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی میڈیا کے مطابق یواف گیلانٹ کی برطرفی کے خلاف تل ابیب، نہاریہ، حیفا اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے، مظاہرین نے وزیراعظم کے خلاف سخت نعرے بازی کی، اور ہزاروں مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر کے جلاؤ گھیراؤ بھی کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں خطرہ ایران یا حزب اللہ سے نہیں، بلکہ اپنی حکومت سے ہے۔

    اسرائیلی پولیس نے احتجاج کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ 40 اسرائیلیوں کو بھی گرفتار کیا گیا،یہ مظاہرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے تیار ہیں، خاص طور پر جب ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے جنگ کے دوران وزیر دفاع یواف گیلانٹ کو برطرف کر دیا تھا۔ یواف گیلانٹ کی جگہ موجودہ وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز وزارت دفاع کا قلمدان سنبھالیں گے، وزیراعظم کے دفتر سے جاری خط میں یواف گیلانٹ کو یہ اطلاع دی گئی کہ اس خط کی وصولی کے 48 گھنٹے بعد وہ وزیر دفاع کے عہدے سے برطرف ہو جائیں گے نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہمارے درمیان اعتماد تھا، لیکن گزشتہ کچھ مہینوں میں وہ اعتماد ختم ہو چکا ہے۔“ اس بیان نے حکومت میں موجود کشیدگی اور عوامی عدم اعتماد کی عکاسی کی ہے، جو کہ ملک کے موجودہ سیکیورٹی حالات میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

  • صدر منتخب ہوتے ہی ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی کی مالیت میں اضافہ

    صدر منتخب ہوتے ہی ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی کی مالیت میں اضافہ

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہوتے ہی بدھ کے روز ان کی سوشل میڈیا کمپنی ٹروتھ سوشل کی مالیت میں ایک ارب ڈالر (2کھرب ، 77ارب 83کروڑ 74لاکھ روپے) اضافہ ہوا۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیاکے مطابق ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی Truth Social کی مالک ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کی مالیت میں اضافہ ہوا ہےٹرمپ میڈیا کا اسٹاک جو "DJT” کی علامت کے تحت تجارت کرتا ہے،کی مالیت میں پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں 35 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی مالیت 9ارب ڈالر ہوگئی، ٹرمپ قدامت پسند سوشل میڈیا کمپنی میں غالب شیئر ہولڈر ہیں جس کی آمدنی بہت کم ہے اور وہ پیسہ کھو رہی ہے۔

    ٹروتھ سوشل کا مقصد ایسے پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں قدامت پسند آوازیں زیادہ مؤثر طریقے سے سنی جا سکیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روایتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کو اکثر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ کمپنی اپنے آغاز سے ہی متنازعہ رہی ہے، اور اس کی کارکردگی اور مستقبل کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں-

    ایک الیکشن ہارنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی وائیٹ ہاؤس میں واپسی

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کر دی،دوسری بار امریکا کے صدر منتخب

  • نیویارک: پاکستانی امریکن امیدوار عامر سلطان کو شکست، غزہ جنگ کا معاملہ انتخابی نتائج پر اثرانداز

    نیویارک: پاکستانی امریکن امیدوار عامر سلطان کو شکست، غزہ جنگ کا معاملہ انتخابی نتائج پر اثرانداز

    امریکی اقتصادی مرکز نیویارک کے حلقہ نمبر دس سے ریپبلکن پارٹی کے پاکستانی نژاد امیدوار عامر سلطان ایک بار پھر شکست سے دوچار ہوگئے۔ اس بار انہیں فلسطین-اسرائیل تنازع اور غزہ جنگ کے پس منظر میں سیاسی ماحول کے باعث شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیموکریٹک امیدوار اسٹیو اسٹرن نے، جو گزشتہ 16 برس سے حلقے کی نمائندگی کر رہے ہیں، باآسانی جیت حاصل کی اور اس بار دوگنے مارجن سے کامیابی حاصل کی۔ اسٹرن نے 33,200 ووٹ حاصل کیے، جو کل ووٹوں کا 55.8 فیصد بنتا ہے، جبکہ عامر سلطان نے 26,241 ووٹ (44.1 فیصد) حاصل کیے اور 7,000 ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
    عامر سلطان نے شکست کو خوشدلی سے تسلیم کرتے ہوئے اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے ممنون ہیں جنہوں نے انتخابی مہم میں ان کا ساتھ دیا اور انہیں ووٹ دینے کے لیے باہر نکلے۔ ریپبلکن پارٹی کے ذرائع کے مطابق، اس بار انتخابات میں غزہ جنگ اور مذہبی کارڈ کا استعمال کیا گیا جس نے انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈالا۔ لانگ آئی لینڈ کا یہ حلقہ یہودیوں کی بڑی آبادی پر مشتمل ہے، اور ڈیموکریٹک امیدوار اسٹیو اسٹرن مذہبی لحاظ سے یہودی ہیں۔ ایک ریپبلکن رہنما نے دعویٰ کیا کہ اسٹرن کے حامیوں نے اشتہاری مہم کے ذریعے عامر سلطان کو انتہاپسند اور خطرناک قرار دے کر عوامی حمایت حاصل کی، جس سے انہیں انتخابی فائدہ پہنچا۔ ریپبلکن رہنما کے مطابق، اس اشتہاری مہم نے یہودی ووٹرز کو کسی اور امیدوار کی حمایت سے باز رکھا۔ تاہم اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

  • امریکا میں ٹرمپ کی دوبارہ صدارت پر طالبان کی امیدیں

    امریکا میں ٹرمپ کی دوبارہ صدارت پر طالبان کی امیدیں

    امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت کے انتخاب کے بعد افغانستان کی طالبان حکومت نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے گی۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح پیش رفت ہوگی اور اس کے ذریعے ایک نئے دور کا آغاز ممکن ہوگا۔یاد رہے کہ امریکا اور طالبان نے 2020 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے عہدِ صدارت میں عمل میں آیا تھا۔ افغان وزارت خارجہ نے مزید یہ بھی امید ظاہر کی کہ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے سے غزہ اور لبنان میں جاری لڑائی رک سکے گی اور وہ دنیا کو جنگ و جدل سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ملاقات

    ریاض: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم بات چیت کی گئی۔ عرب میڈیا کے مطابق، سعودی ولی عہد نے جنرل عاصم منیر کا ریاض میں استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کیا۔ملاقات کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور جنرل عاصم منیر نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو فروغ دینے کے مواقع کا جائزہ لیا اور ان میں مزید بہتری لانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور سعودی حکام نے بھی شرکت کی، جو ملاقات میں دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیتے رہے۔
    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ دلچسپی کے متعدد امور پر بھی بات کی، جن میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون، اور اقتصادی تعلقات کے مزید مواقع شامل تھے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہش مند ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعلقات کی نوعیت میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ آپس میں مشاورت کو بڑھائیں گے اور علاقائی اور عالمی سطح پر مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گے۔

  • امریکی یہودیوں کی اکثریت نے کملا ہیرس کو ووٹ دیا، اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ

    امریکی یہودیوں کی اکثریت نے کملا ہیرس کو ووٹ دیا، اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ

    واشنگٹن: اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتخابات میں اکثریت امریکی یہودی ووٹرز نے ڈیموکریٹ امیدوار اور نائب صدر کملا ہیرس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 79 فیصد امریکی یہودی ووٹرز نے کملا ہیرس کو ووٹ دیا، جبکہ صرف 21 فیصد یہودی ووٹرز نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کو یہودی ووٹرز کی طرف سے کچھ حد تک حمایت ملی تھی۔ 2020 کے انتخابات میں ٹرمپ نے 30 فیصد یہودی ووٹ حاصل کیے، جبکہ 2016 کے انتخابات میں یہ تعداد 24 فیصد تھی۔ یہ واضح کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہودی ووٹرز کے رجحانات میں تبدیلی آئی ہے اور وہ ڈیموکریٹس کی طرف زیادہ مائل ہوئے ہیں۔
    یہودی تاریخ کا ڈیٹا جمع کرنے والی یہودی ورچوئل لائبریری نے بھی حالیہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی یہودیوں کی اکثریت نے ڈیموکریٹس کے امیدوار کی حمایت کی۔ یہودی ورچوئل لائبریری کے اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کو یہودی ووٹرز کی ایک بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہوئی ہے، جو ان کے سابقہ ​​حمایتی رجحانات کو نمایاں طور پر تبدیل کرتی ہے۔انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مرتبہ یہودی ووٹرز کے ڈیموکریٹس کی طرف جھکاؤ پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی یہودیوں کے مفادات کا دفاع نہیں کر رہی، اس کے باوجود یہودی ووٹرز نے ڈیموکریٹس کو ہی ترجیح دی۔یہودی ووٹرز کے رجحانات میں اس تبدیلی کے پس منظر میں کئی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں، جن میں داخلی اور بین الاقوامی پالیسیز اور ڈیموکریٹس کے نظریات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہودی کمیونٹی کا ڈیموکریٹس کی طرف یہ رجحان امریکا کے آئندہ انتخابات میں بھی نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

  • امریکا کا ہائپر سونک میزائل کا تجربہ: ٹرمپ کی جنگوں کے خاتمے کی یقین دہانی

    امریکا کا ہائپر سونک میزائل کا تجربہ: ٹرمپ کی جنگوں کے خاتمے کی یقین دہانی

    امریکا نے 2024 کے صدارتی انتخاب سے قبل ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جس سے اس کی فوجی تیاریوں اور عالمی سطح پر امریکی سلامتی کے عزم کا واضح اشارہ ملتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تجربہ کئی سال پہلے شیڈول کیا گیا تھا، اور اس کا مقصد ایٹمی جنگ کے حوالے سے امریکا کی تیاریوں کو اجاگر کرنا تھا۔امریکی فوج نے منٹ مین تھری انٹرکانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کا تجربہ وینڈر برگ اسپیس فورس بیس، کیلیفورنیا سے کیا۔ اس میزائل کی زیادہ سے زیادہ رفتار 15 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، اور یہ تقریباً 4000 میل دور شمالی بحرالکاہل میں واقع کوجلن ایٹول تک پہنچا۔ حکام کے مطابق، یہ تجربہ امریکی فوج کے عالمی سطح پر کسی بھی مقام کو زیادہ سے زیادہ 30 منٹ میں نشانہ بنانے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
    یہ تجربہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی فتح کے فوراً بعد آیا، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا مقصد جنگوں کا خاتمہ ہے اور وہ کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بیان عالمی سطح پر امریکا کے امن و استحکام کی جانب اشارہ کرتا ہے۔اس تجربے کا بنیادی مقصد دنیا کو امریکا کی جنگی تیاریوں کی نوعیت اور طاقت کا احساس دلانا تھا۔ اسپیس لانچ ڈیلٹا تھرٹی کے وائس کمانڈر کرنل بریان ٹائٹس نے دی میٹرو کو بتایا کہ اس تجربے کا آغاز ‘گارجینز اینڈ ایئرمین’ کے اہم ہفتے سے ہوا، جو امریکا کی فوجی طاقت کو نمایاں کرتا ہے۔ کرنل ٹائٹس نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ مزید دو میزائل تجربے ویسٹرن رینج سے شیڈول کیے گئے ہیں۔یہ تجربہ ایک بار پھر امریکا کے ایٹمی اور دفاعی پروگرام کے حوالے سے اس کے عزم کا مظہر ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس کا مقصد عالمی سطح پر امریکا کی قوت کا ایک اور اظہار تھا، تاکہ دنیا کو اس کی فوجی تیاریوں اور پراعتمادی کا پتا چلے۔

  • نواز شریف کی جنیوا روانگی، مریم نواز سے ملاقات اور 4 دن کا قیام متوقع

    نواز شریف کی جنیوا روانگی، مریم نواز سے ملاقات اور 4 دن کا قیام متوقع

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد، نواز شریف آج لندن سے جنیوا روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کی روانگی کے موقع پر برطانیہ میں مسلم لیگ (ن) کی اہم قیادت ایون فیلڈ ہاؤس پہنچی، جہاں پارٹی رہنما زبیر گل، شیخ عنصر، احسن ڈار، اور خرم بٹ بھی موجود تھے۔نواز شریف کے اس دورے کا مقصد اپنی صاحبزادی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات کرنا ہے، جو ان دنوں جنیوا میں موجود ہیں۔ مریم نواز اپنے طبی معائنے کے سلسلے میں جنیوا گئی ہیں اور توقع ہے کہ نواز شریف ان سے صحت کی تفصیلات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔ یہ ملاقات مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی حکمت عملی پر اثر انداز ہوسکتی ہے، خاص طور پر جب پاکستان میں سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔نواز شریف جنیوا میں چار دن گزاریں گے، جس کے دوران وہ اپنی بیٹی کے طبی معائنے کی تفصیلات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ ان چار دنوں کے بعد ان کی لندن واپسی متوقع ہے۔
    نواز شریف کی روانگی کے موقع پر ایون فیلڈ ہاؤس کے باہر برطانیہ میں مقیم لیگی کارکنان اور قیادت کا جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ زبیر گل، شیخ عنصر، احسن ڈار، اور خرم بٹ جیسے قریبی ساتھی اور پارٹی رہنما نواز شریف کے حوصلے اور عزم کو مزید بلند کرنے کے لیے موجود تھے۔نواز شریف کی جنیوا میں مریم نواز سے ملاقات اور ان کے چار دن کے قیام کو پاکستانی سیاست میں نئی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • آئی سی سی نے  ٹیسٹ پلیئرزکی رینکنگ جاری کر دی

    آئی سی سی نے ٹیسٹ پلیئرزکی رینکنگ جاری کر دی

    دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹیسٹ پلیئرزکی رینکنگ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی: ٹیسٹ پلیئرز کی بیٹنگ رینکنگ میں جو روٹ کا پہلا نمبر برقرار ہے جب کہ انگلینڈ کے ہیری بروک ایک درجے ترقی کے بعد تیسرے نمبر پر آ گئے بھارت کے رشبھ پنت پانچ درجے ترقی کے بعد چھٹے نمبر پر آ گئے ہیں، نیوزی لینڈ کے ڈیرل میچل 8 درجے ترقی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئے،قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم ایک درجے ترقی کے بعد 17 ویں نمبر پر موجود ہیں،جبکہ سلمان آغا ایک درجے ترقی کے بعد 19 ویں نمبر پر آ گئے، محمد رضوان دو درجے ترقی کے بعد 20 ویں نمبر پر آ گئے۔

    ٹیسٹ بولروں میں ساؤتھ افریقا کے کگیسو ربادا کا پہلا نمبر برقرار ہے آئی سی سی ٹیسٹ پلیئرز رینکنگ میں پاکستان کے نعمان علی کی نویں پوزیشن ہے بھارت کے رویندرا جڈیجا دو درجے ترقی کے بعد چھٹے نمبر پر آ گئے، کیشو مہاراج چار درجے ترقی کے بعد 19 ویں نمبر پر آ گئے،جبکہ ٹیسٹ آل راؤنڈرز میں بھارت کے رویندرا جڈیجا کا پہلا نمبر ہے۔

  • ایک الیکشن ہارنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی وائیٹ ہاؤس میں واپسی

    ایک الیکشن ہارنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی وائیٹ ہاؤس میں واپسی

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات میں شکست کے بعد 2024 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں تاریخی فتح حاصل کی ہے اور نائب صدر کملا ہیرس کو شکست دے کرخود کو وائیٹ ہاؤس کا ایک بار پھر مکین بنا لیا،ٹرمپ کی واپسی اس وقت ہوئی جب وہ امریکی کیپٹل میں 6 جنوری 2021 کو ہونے والی خونریز بغاوت میں ملوث ہونے کے بعد چار سال پہلے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر چکے تھے۔ ان کے اس اقدام نے امریکی سیاست میں ایک نیا باب لکھا تھا، لیکن اب وہ دوبارہ ملک کے صدر بننے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    ٹرمپ کی جیت ایک غیر معمولی قانونی صورتحال پیش کرتی ہے کیونکہ انہیں نیو یارک کی فوجداری عدالت میں اس ماہ سزا سنائی جانی تھی۔ انہیں کاروباری ریکارڈز میں جعلسازی کرنے کے 34 الزامات میں مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، ٹرمپ دیگر فوجداری مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں جن میں خصوصی مشیر جیک سمتھ کی جانب سے 2020 کے انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کی کوششوں سے متعلق کیس بھی شامل ہے۔سابق صدر نے اپنے خلاف ان الزامات کو 2024 کی انتخابی مہم کا مرکز بنایا، جہاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ "انتقام” لینے کا عہد کر چکے ہیں۔

    ٹرمپ 78 برس کی عمر میں وائٹ ہاؤس واپس جا رہے ہیں اور اس طرح وہ تاریخ کے دوسرے صدر بن گئے ہیں جنہوں نے اپنی دوسری مدت کے دوران دوبارہ انتخاب جیتا۔ اس سے پہلے اس اعزاز کا حامل گریور کلیولینڈ تھا۔ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی ایسے وقت میں آئی ہے جب انتخابی مہم کے دوران ان پر دو بار قاتلانہ حملے بھی ہوئے ہیں، 2016 میں اپنے پہلے کامیاب وائٹ ہاؤس انتخاب کے بعد سے، ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیا ہے اور وہ سیاسی جماعت پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں

    ٹرمپ نے 2016 کے انتخاب کی نسبت حالیہ انتخابات میں زیادہ کامیابی حاصل کی، اور جارجیا اور پنسلوانیا جیسے اہم ریاستوں کو دوبارہ ریپبلکن پارٹی کے کھاتے میں ڈال دیا، ساتھ ہی نارتھ کیرولائنا کو بھی اپنے کنٹرول میں رکھا، جنہیں ڈیموکریٹس نے نائب صدر کے لئے وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کی راہ میں اہم ہدف کے طور پر منتخب کیا تھا۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں آمرانہ طرز کے بیانات دیے اور جھوٹے دعوے کیے تھے کہ ملک کے شہر اور قصبے غیر ملکی مجرموں اور گینگوں کے قبضے میں ہیں۔ تاہم، انہوں نے امریکی عوام کی تبدیلی کی خواہش کا بھی فائدہ اٹھایا، جو مہنگائی کے اثرات کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے خبردار کیا کہ صرف وہی شخص عالمی جنگ ثالث کے بڑھتے خطرات کو روک سکتا ہے۔

    ٹرمپ کی مہم کی شدت اور نوعیت کے پیش نظر ان کا انتخاب ملک و دنیا میں افراتفری کا سبب بن سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں سیاسی حریفوں کے خلاف "انتقام” لینے کا وعدہ کیا ہے اور داخلی دشمنوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بارے میں کھل کر خیالات کا اظہار کیا ہے۔ بیرون ملک، امریکی اتحادی ٹرمپ کی غیر متوقع خارجہ پالیسی کی واپسی کے لئے تیار ہیں، جس کے دوران امریکی فوجی اتحاد نیٹو کے دفاعی اصول پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی یقینی طور پر ان کے 2020 کے انتخابی نتائج کو پلٹنے کی کوششوں کے بعد شروع ہونے والی وفاقی قانونی کارروائیوں کے خاتمے کا باعث بنے گی۔

    امریکا کی تاریخ میں پہلی بار مجرم،ملزم اعلیٰ عہدے پر،ٹرمپ سزا مؤخر کروائیں گے،قانونی ماہرین
    امریکہ کے صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک منفرد اور غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے۔ وہ ایک ایسے مجرم کے طور پر دوبارہ وائٹ ہاؤس واپس پہنچے ہیں جو نیویارک میں "ہَش منی کیس” میں سزا کا منتظر ہے، اور دیگر ریاستی و وفاقی مقدمات میں بھی اپنی برا ت ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے انتہائی منفرد ہے کیونکہ آج تک کسی مجرم ملزم کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر منتخب نہیں کیا گیا تھا۔ اسی طرح، سابقہ امریکی صدور کو کسی مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا ،امریکی قانون کی ماہر جیسیکا لیوینسن، جو لوئولا لاء اسکول کی پروفیسر ہیں، کہتی ہیں: "واضح طور پر یہ حکمت عملی کامیاب رہی کہ ان مقدمات کو جتنا ممکن ہو مؤخر کیا جائے۔”نیویارک کی ایک عدالت میں ٹرمپ کو اس ماہ کے آخر میں سزا سنائی جانے والی ہے، تاہم انتخابات سے پہلے سزا کو ملتوی کر دیا گیا تھا تاکہ اس کا اثر انتخابی نتائج پر نہ پڑے۔ ٹرمپ کے وکلاء نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اب صدر منتخب ہونے کے بعد اس سزا کو مزید مؤخر کرنے کی درخواست کریں گے۔ٹرمپ نے اپنے تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور ان پر عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔اس وقت امریکی سیاست میں ٹرمپ کی دوبارہ کامیابی اور ان کے قانونی مسائل کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک پیچیدہ صورت حال بن چکی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی فتح، وائٹ ہاؤس میں واپسی اور نئے چیلنجز
    ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی فتح انہیں وائٹ ہاؤس واپس لے آئے گی، لیکن ان کے اتحادیوں اور مخالفین دونوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کا دوسرا دور پہلی بار سے بالکل مختلف ہوگا۔ریپبلکن پارٹی اب مکمل طور پر ٹرمپ کی ملکیت بن چکی ہے، اور جو لوگ پہلے ان کے مخالف تھے وہ ہمیشہ کے لئے پارٹی سے نکال دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ اب وائٹ ہاؤس میں واپس آئیں گے، جہاں ان کے پاس اس عہدے کا تجربہ بھی ہوگا اور وہ اس بات پر غصہ بھی ہیں کہ کس طرح نظام نے ان کے ساتھ ناانصافی کی۔جو افراد کبھی ٹرمپ کے ارد گرد استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے جیسے کہ چیف آف اسٹاف، وزیر دفاع، قومی سلامتی کے مشیر اور اٹارنی جنرل ، اب ان سب نے ٹرمپ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور ان کی صلاحیتوں اور کردار کے بارے میں سخت تنقید کی ہے۔

    جنوری 2021 میں عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد ٹرمپ کے اثر و رسوخ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور داماد جیرڈ کشنر، جو پہلے ان کے اہم اتحادی اور وائٹ ہاؤس میں سینئر عہدوں پر فائز تھے، اب سیاست سے دور ہو چکے ہیں۔ ایوانکا ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کے دوبارہ وائٹ ہاؤس جانے کا کوئی ارادہ نہیں، اور اگرچہ کشنر نے عبوری کوششوں میں حصہ لیا ہے، ذرائع کے مطابق وہ اپنی پرائیویٹ ایکویٹی فرم کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔اس کی بجائے، ٹرمپ اب اپنے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر، ایلون مسک اور سوزی وائلز جیسے افراد پر انحصار کر رہے ہیں، جو ان کے تیسرے صدارتی امیدوار ہونے کے دوران اہم مشیر بن چکے ہیں۔ٹرمپ کا دوسرا دور وائٹ ہاؤس میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ پیش کر سکتا ہے، جہاں وہ اپنی پچھلی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے، مزید سخت موقف اپنانے کی کوشش کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی تاریخی کامیابی پر ری پبلکنز کا مبارکباد کا پیغام
    امریکی کانگریس میں ری پبلکن رہنماؤں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی انتخاب میں پر مبارکباد دی ہے۔ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن نے ایک بیان میں کہا، "صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس واپس آنے کے ساتھ، کوئی رکاوٹ اتنی بڑی نہیں اور نہ ہی کوئی چیلنج اتنا مشکل ہے۔”سینیٹر لنڈسے گراہم نے خصوصی مشیر جیک اسمتھ سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کے خلاف فیڈرل تحقیقات کا خاتمہ کریں۔گراہم نے ایکس پر پوسٹ کیا، "جیک اسمتھ اور آپ کی ٹیم: اب وقت آ چکا ہے کہ آپ اپنے قانونی کیریئر کے نئے باب کی طرف دیکھیں، کیونکہ صدر ٹرمپ کے خلاف یہ سیاسی طور پر متحرک الزامات ایک دیوار سے ٹکرا چکے ہیں۔” "سپریم کورٹ نے جو کچھ آپ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسے بڑے پیمانے پر مسترد کر دیا ہے، اور آج رات کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکی عوام قانون کی جنگ سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان مقدمات کا خاتمہ کریں۔ امریکی عوام کو ایک واپسی کا حق ہے۔”

    سینیٹر جان تھوئن نے ایکس پر کہا، "آنے والی سینیٹ میں ری پبلکن اکثریت ٹرمپ-وینس انتظامیہ کے ساتھ مل کر خاندانوں کے اخراجات کو کم کرے گی، ہمارے جنوبی سرحد کو محفوظ بنائے گی اور امریکہ کی توانائی کی حکمرانی کو دوبارہ مضبوط کرے گی۔”سینیٹر جان کورنِن نے ایک بیان میں کہا، "مجھے پختہ یقین ہے کہ صدر ٹرمپ دفترِ صدر کو اس کی اصل حیثیت میں بحال کریں گے – ایسا دفتر جو امریکی عوام کو محفوظ اور خوشحال رکھے۔”جنوری تک ہمیں ان کے نامزدگیاں منظور کرنے، بجٹ پاس کرنے، قرضوں کا حل نکالنے، ٹرمپ کے ٹیکس کٹوتیوں کو بڑھانے اور کملا ہیرس کی تباہ کن سرحدی سیکیورٹی پالیسیوں کو الٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔”

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،