Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • امریکا میں صدارتی انتخابات کیلئے پولنگ آج

    امریکا میں صدارتی انتخابات کیلئے پولنگ آج

    واشنگٹن: امریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ آج ہوگی، ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کمالا ہیرس اور ری پبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدارتی انتخابات کی تیاریاں مکمل ہوگئیں، بیلٹ باکسز، پیپرز اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں پولنگ سینٹرز میں پہنچادی گئیں، جہاں 24 کروڑ سے زائد افراد حق رائے دہی استعمال کریں گے-

    امریکی صدارتی انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور الیکشن عملے پر تشدد کے خدشات سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتطامایت کیے گئے ہیں امریکی ریاست اوریگان، واشنگٹن اور نیواڈا میں نیشنل گارڈز کو فعال کردیا گیا جبکہ خطرات کے پیش نظر ایف بی آئی کی جانب سے بھی کمانڈ پوسٹ قائم کردی گئی جبکہ ایری زونا، مشی گن اور نیواڈا سمیت 19 ریاستوں میں 2020 سے الیکشن سیکیورٹی قوانین نافذ ہیں، 7 سوئنگ ریاستوں میں ووٹرز کے اعتماد، سیکیورٹی اور شفاف الیکشن کے لیے حکام بھی پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

    دوسری جانب کملا ہیرس نے مشی گن میں اپنا ووٹ بذریعہ ای میل کاسٹ کردیا، صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے ہوں گے قومی سطح پر کملا ہیرس کو ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک پوائنٹ کی برتری حاصل ہے، 47 فیصد ووٹرز ٹرمپ اور 48 فیصد کملا ہیرس کے حامی ہیں۔

    ایری زونا، جارجیا، مشی گن، نیواڈا، پینسلوینا، نارتھ کیرولائنا اور وسکانسن میں مجموعی الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 66 ہے، انتخابات میں نوجوانوں کا ووٹ اہم کردار ادا کرسکتا ہےالیکٹورل کالج میں کملا ہیرس کو مجموعی طور پر 226 اور ڈونلڈ ٹرمپ کو 219 ووٹ ملنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق قبل از وقت پولنگ میں 8 کروڑ 13 لاکھ 79 ہزار 6 سو 84 ووٹ کاسٹ ہو چکے ہیں،قبل از وقت پولنگ کے اس عمل میں 81 ملین سے زائد ووٹوں میں سے 4 کروڑ 44 لاکھ 2 ہزار 3 سو 75 ووٹ امریکی شہریوں نے ذاتی حیثیت میں کاسٹ کیے جبکہ پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 3 کروڑ 69 لاکھ 77 ہزار 3 سو سے زائد رہی۔

    یونیورسٹی آف فلوریڈا الیکشن لیب کے مطابق 2024 کے صدارتی انتخابات میں قبل از وقت ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 2020 کے انتخابات سے کم رہی ہے، 2020 میں مجموعی طور پر 101.5 ملین سے زائد امریکی شہریوں نے قبل از وقت ووٹ کی سہولت سے استفادہ حاصل کیا تھا، 2012 میں 46.2 ملین اور 2016 میں 47.2 ملین امریکیوں نے انتخابات سے قبل اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

    پنسلوانیا میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے 2020 ء میں صدارتی انتخابات کے نتائج اور شکست قبول نہیں کی تھی، انہیں سچ میں لگتا ہے کہ اس وقت انہیں وائٹ ہاؤس نہیں چھوڑنا چاہیے تھا، ملکی تاریخ میں ہماری سرحد اس وقت سب سے زیادہ محفوظ تھی جب وہ اقتدار سے الگ ہو رہے تھے، ہم نے بہت اچھا کام کیا تھا۔

  • نیوزی لینڈ  میں نامعلوم انتہا پسند نے مسجد میں آگ لگا دی

    نیوزی لینڈ میں نامعلوم انتہا پسند نے مسجد میں آگ لگا دی

    آکلینڈ : نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں نامعلوم انتہا پسند نے رات کے آخری پہرمسجد میں داخل ہو کر آگ لگا دی۔

    باغیٹی وی : ’روئٹرز‘ کے مطابق مسجد پر منگل کی علی الصبح حملہ کیا گیا، مسجد کو جزوی نقصان پہنچا تاہم ایمرجنسی سروسز کو فوراً مطلع کیا گیا جنہوں نے آگ کو بجھا دیا واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی اور تحقیقات کا آغاز کردیا، واقعہ سے علاقے میں خوف و حراس پھیل گیا۔

    پولیس نے بتایا کہ کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن نے دکھایا کہ کوئی شخص صبح 1 بجے سے پہلے نیو لن کی امام رضا مسجد میں گھس آیا اور جان بوجھ کر آگ لگا دی، پولیس اب بھی ممکنہ محرک کی تحقیقات کر رہی ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ نفرت سے متعلق جرم ہے۔

    مسجد کے حکام نے سوشل میڈیا پر کہا کہ منگل کا حملہ چونکا دینے والا اور ہولناک تھاایسے لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی، ہمارے مقدس مقام کی بنیادوں کو ہلا دیا۔

    واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب نیوزی لینڈ میں مسجد میں حملہ کیا گیا ہو اس سے قبل بھی 2019 میں پیش آنے والے افسوناک واقعہ کی یاد تازہ کردی جس میں ایک سفید فام انتہا پسند نے فیس بک پر لائیو اسٹریمنگ کرکے مسجد پر حملہ کر کے 21 مسلمانوں کو شہید کردیا تھا-

  • صدیوں پرانی مایا تہذیب کی باقیات دریافت

    صدیوں پرانی مایا تہذیب کی باقیات دریافت

    میکسیکو میں جنگل میں صدیوں پرانا ایک بہت بڑا مایا شہر دریافت کرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آثار قدیمہ کے ماہرین کو جنوب مشرقی ریاست کیمپیچے میں مایا تہذیب کے اہرام، کھیلوں کے قدیم میدان، اضلاع کو ملانے والے کاز ویز اور ایمفی تھیٹر ملے ہیں،ماہرین نے جنگل میں پوشیدہ کمپلیکس کو بے نقاب کیا جسے انہوں نے ویلریانا کا نام دیا ہے ماہرین نے اسے لیدر کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا جو کہ ایک قسم کا لیزر سروے ہے جو اشجار کے نیچے دبے ہوئے ڈھانچے کا نقشہ بناتا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کثافت میں صرف کالاکمول کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جسے قدیم لاطینی امریکا میں مایا کا سب سے بڑا مقام سمجھا جاتا ہے،ٹیم نے مجموعی طور پر تین سائٹس دریافت کیں جن میں سے ایک سروے کے علاقے میں جو اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا کے سائز کے جتنی ہے.

    امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے

    سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر اکرام الحق کو ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کی مبارکباد

    سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر اکرام الحق کو ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کی مبارکباد

  • ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی، تجزیہ کار

    ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی، تجزیہ کار

    امریکی تجزیہ کار نے اپنی رائے میں کہاہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی.

    غیر ملکی خبررساں ادارے الجزیرہ کے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں امریکی نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے سینئر نمائندے اولیور ناکس کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر نے ایک عشرے کے بعد پارٹی میں الیکشن مہم سے نئی روح پھونک دی ہے.اب ٹرمپ ہی ڈیموکریٹس کا چہرہ اور پہچان بن چکے ہیں. اولیور ناکس کا مزید کہنا تھا کہ 2020 کے واقع کے بعد کسی کو توقع نہیں تھی کہ ٹرمپ دوبارہ سے انتخاب لڑنے اور سیاست میں رہیں گے لیکن انہوں کر دیکھایا.واضح رہے کہ ٹرمپ نے 2020ء کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن سے ہارنے کے بعد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلیوں کا جھوٹا دعویٰ کیا، اور حکومتی اہلکاروں پر دباؤ ڈال کر، متعدد ناکام قانونی چیلنجز کو بڑھا کر، اور صدارتی منتقلی میں رکاوٹ ڈال کر نتائج کو الٹنے کی کوشش کی ۔ 6 جنوری 2021 ءکو، اس نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ یو ایس کیپیٹل کی طرف مارچ کریں، جس پر ان میں سے اکثر نے حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں متعدد اموات ہوئیں اور انتخابی ووٹوں کی گنتی میں خلل پڑا۔

    امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے

    صدارتی انتخابات شفاف ہونگے،امریکی انتخابی ادارے کی عوام کو یقین دہانی

    امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

  • امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا  آخری روز پنسلوینیا  میں  گزاریں گے

    امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے

    امریکی صدارتی امیدوار کاملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے.

    غیر ملکی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جیسے جیسے امریکی صدارتی انتخاب کا وقت قریب آ رہا ہے دونو‌ں امیدوار جیت کے لیے پوری کوششوں میں مصروف ہیں، مہم کے آخری روز امریکی ریاست پنسلوینیا سب کی نظروں کا محور بنے گی جہاں دونوں امیدواروں میں سخت مقابلہ متوقع ہے.انتخابات سے ایک روز قبل ہوئے پولز سے ظاہر 7 ریاستیں جہاں سے فیصلہ کن برتری متوقع ہے ان میں پنسلوینیا بھی شامل ہے.یہاں کاملا ہیرس ایک بڑی انتخابی ریلی کے ساتھ اپنی مہم کا خاتمہ کریں گی جبکہ ٹرمپ مہم کے آخری روز بلترتیب تین ریاستوں کا دورہ کریں جن میں نارتھ کیرولائنا، پنسلوینیا اور مشی گن شامل ہیں. نئے صدر کے لیے پنسلوینیا کی اہمیت بہت معنی رکھتی ہے جہاں امریکی نظام میں آبادی کے اثر و رسوخ کی وجہ سے دونوں امیدوار سب سے بڑے شہر پٹسبرگ میں ریلیاں نکالیں گے .واضح رہے کہ امریکی الیکشن 5 نومبر کو منعقد ہوں گے.

    اے این ایف کی کارروائیاں، 63.83کلو گرام منشیات برآمد، 11ملزمان گرفتار

    امریکہ میں جانوروں کی پارٹیوں سےمنسوب ہونیکی دلچسپ تاریخ

  • صدارتی انتخابات شفاف ہونگے،امریکی انتخابی ادارے کی عوام کو یقین دہانی

    صدارتی انتخابات شفاف ہونگے،امریکی انتخابی ادارے کی عوام کو یقین دہانی

    امریکی امریکی انتخابی ادارے کے اہلکاروں نے عوام کو یقین دہانی کروائی ہے کہ صدارتی انتخاب شفاف ہوگا.

    غیر ملکی خبررساں ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی انتخابی ادارے کے اہلکاروں نے جاری اعلامیے میں کہا ہے کہ عوام یقین رکھیں انتخاب مکمل شفاف اور غیر جانبدار ہوگا. علامیہ میں مزید عوام کو تاکید کی گئی کہ ووٹوں کی تعداد لاکھوں میں ہونےکی وجہ سے نتائج میں ممکنہ طور پر دیر ہو سکتی ہے جس کے لیے عوام کو صبر اور نظم و ضبط کا مطاہرہ کرنے کی ضرورت ہے.نیشنل ایسوسی ایشن آف سیکرٹریز آف سٹیٹ اور نیشنل ایسوسی ایشن آف سٹیٹ الیکشن ڈائریکٹرز نے کہا ہے کہ انتخابی اہلکار چار سال سے اس الیکشن کی تیاری کے لیے کام کر رہے ہیں اور انہوں نے "انتخاب کی شفافیت برقرار رکھنےکے لیے وسیع وقت، توانائی اور وسائل” وقف کیے ہیں۔بیان میں ممکنہ طور پر دوبارہ گنتی کے امکان بھی ظاہر کیا گیا. واضح رہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات میں صرف ایک دن باقی رہ گیا، صدارتی انتخابات میں دو بڑی جماعتیں ڈیمو کریٹس اور ریبلپکنز کے مابین مقابلہ ہے، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب امریکی صدر کملا ہیرس دونوں صدارتی امیدوار ہیں.

    امریکہ میں جانوروں کی پارٹیوں سےمنسوب ہونیکی دلچسپ تاریخ

    حکومت سندھ منشیات کے خلاف کام کررہی ہے ،ضیالحسن لنجار

  • امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

    امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

    امریکی انتخابات کا بڑا مقابلہ اب سے کچھ دیر بعد شروع ہونے والا ہے۔

    سابق صدر ٹرمپ اور کملا ہیرس نئے کی دوڑ میں آمنے سامنے ہیں، لیکن روکیں، کیا آپکو معلوم ہے کہ اس اعلی ترین عہدے پر فائز ہونے والے صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے اور انہیں کیا کیا مراعات ملتی ہیں؟امریکہ کے صدر کی اس وقت سالانہ تنخواہ 4 لاکھ ڈالرز ہے جو 2001ء میں مقرر کی گئی تھی جبکہ 2001ء سے قبل 3 دہائیوں تک صدر کی سالانہ تنخواہ 2 لاکھ ڈالرز ہوتی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سالانہ تنخواہ کے علاوہ صدر کو مرعات میں 50 ہزار ڈالرز اخراجات کی مد میں، 19 ہزار ڈالرز تفریح کے لیے اور 1 لاکھ ڈالرز سفر کے لیے ملتے ہیں، سفر کے لیے ملنے والی رقم ٹیکس فری ہوتی ہے اور عہدہ چھوڑتے وقت صدر نے ان مرعات میں بچنے والی رقم امریکی صدر کی ملکیت نہیں ہوتی اور اس کو رقم کو خزانے میں جمع کرانا پڑتا ہے۔عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد امریکی صدر کابینہ سیکریٹری کے مساوی پنشن وصول کرتا ہے۔اس وقت ٹرمپ کو سابق صدر کی ہونے کے ناطے 2 لاکھ 30 ہزار ڈالرز سالانہ وفاقی پنشن ملتی ہے۔

    پاکستانی صدر کی ماہانہ تنخواہ

    صدرِ پاکستان کو تنخواہ الاؤنسز اینڈ پریویلجز ایکٹ 1975ء کے تحت ملتی ہے اس ایکٹ میں 2018ء کو ایک ترمیم کی گئی تھی۔اس ترمیم کے مطابق اب صدر کی تنخواہ میں اضافہ کابینہ کر سکتی ہےاور صدر کی تنخواہ، چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ سے علامتی طور پر 1 روپیہ زیادہ ہوتی ہے۔صدرِ پاکستان کی موجودہ ماہانہ تنخواہ 8 لاکھ 46 ہزار 550 روپے ہے لیکن آصف علی زرداری نے منتخب ہونے کے بعد اپنی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔صدر ہاوس کے اعلامیے کے مطابق صدرِ مملکت نے یہ فیصلہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے پیشِ نظر کیا تھا۔

    بھارتی صدر کی ماہانہ تنخواہ

    بھارتی صدر کی ماہانہ تنخواہ اضافی مراعات کو ملا کر 5 لاکھ بھارتی روپے بنتی ہے جو 16 لاکھ 25 ہزار پاکستانی روپوں کے برابر ہے،یہاں یہ یاد رہے کہ یہ بھارت میں تمام سرکاری عہدوں میں سب سے زیادہ تنخواہ ہوتی ہے۔

  • امریکہ میں جانوروں کی پارٹیوں سےمنسوب ہونیکی دلچسپ تاریخ

    امریکہ میں جانوروں کی پارٹیوں سےمنسوب ہونیکی دلچسپ تاریخ

    پوری دنیا کی نظریں اس وقت امریکی صدارتی انتخابات پر جمی ہوئی ہیں امریکہ میں اس سے قبل ری پبلکن پارٹی کو زیادہ مرتبہ اقتار میں رہنے کا موقعہ ملا جہاں اسکی جانب سے 18صدور منتخب ہوئے، دوسری طرف ڈیموکریٹ کے 16 صدرحکومت کر چکے ہیں.

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکہ میں دونوں جانوروں کی پارٹیوں سےمنسوب ہونیکی دلچسپ تاریخ ہے.جہاں ایک پارٹی کا نشان گدھا ہوتا ہے جس کو محنتی اور تابعدار سمجھا جاتا ہے جومسلسل کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ ہاتھی کو شہین اور طاقت کے لحاظ سے فوقیت دی جاتی ہے. امریکہ میں کشیر جماعتی نظام کی بجائے دو جماعتی نظام چلتا ہے جہاں ایک طرف ڈیموکریٹ پارٹی جبکہ دوسری طرف ری پبلیکن انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور ان میں انتخاب سے قبل ہی سیاسی مخالفت ، بیان بازی اور ایک دوسرے کے اقدامات پر تنقید ہوتی رہتی ہے. اسکی ایک مثال گزشتہ دنوں امریکہ میں ایک گلہری کے قتل پر ری پبلیکن نے اپنے سیاسی حریف کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک بڑی مہم لانچ کی. دونوں پارٹیوں کے انتخابی نشان طویل عرصے سے یہی چلے آ رہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں بہادری کے نشان جیسے شیر، چیتا اور عقاب سمجھتے جاتے ہیں وہاں ہاتھی اور گدھا انتخابی نشان ہونا حیران کن بات ہے.اب آنے والے ایام جلد ہی تاریخ کے ایک سخت مقابلے کے بعد نتائج سنا دیں گے کہ گدھے کے نشان کو امریکی عوام نے پزیرائی دی یا ہاتھی کو کیونکہ وائٹ ہاوس کے نئے عہدیدار کا اعلان ہونے میں بس کچھ ہی وقت رہ گیا ہے.

  • اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے حساس معلومات لیک کیس: 5 افراد گرفتار

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے حساس معلومات لیک کیس: 5 افراد گرفتار

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر سے حساس معلومات کے لیک ہونے کے کیس میں اسرائیلی فوج کے ایک افسر سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس معاملے میں مزید افراد کی گرفتاریاں اور تحقیقات جاری ہیں۔ یہ کیس اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی حساس تصور کیا جا رہا ہے اور اس کی تفصیلات نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔گزشتہ دنوں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات لیک ہوئیں۔ حکومت نے فوری طور پر اس کیس کی میڈیا رپورٹنگ پر پابندی عائد کر دی تھی تاکہ عوام میں بے چینی نہ پھیلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ تاہم، اس معاملے کو عدالت میں لے جایا گیا، جس کے بعد کچھ تفصیلات منظرعام پر لانے کی اجازت دی گئی۔
    اسرائیلی عدالت نے اس کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر، فیلڈ اسٹین، کا نام اور دیگر تفصیلات عام کرنے کی اجازت دی۔ عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق، فیلڈ اسٹین نے قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات یورپی میڈیا کو فراہم کیں، جو کہ اسرائیل کی سیکیورٹی کے لیے ممکنہ طور پر نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔حساس معلومات کے اس کیس میں اسرائیلی فوج کے ایک افسر سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے خفیہ معلومات غیر قانونی طور پر نکالیں اور انہیں دیگر ذرائع تک پہنچایا۔ اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسی شِن بیٹ اور اسرائیلی فوج اس کیس میں مزید تین افراد کی تحقیقات کر رہی ہیں، جن کے نام ابھی تک عدالت کی طرف سے خفیہ رکھے گئے ہیں، لیکن اطلاعات کے مطابق ان کا تعلق اسرائیلی دفاعی اداروں سے ہے۔
    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، حساس معلومات لیک ہونے کا یہ کیس اسرائیلی حکومت اور فوج کے لیے انتہائی حساس معاملہ ہے۔ اگر ملزمان پر یہ جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں 15 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس کیس سے جڑے افراد پر قومی سلامتی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے، جسے اسرائیلی عدلیہ اور عوام دونوں انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔اس کیس نے اسرائیل میں سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ شِن بیٹ اور دیگر سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ معلومات واقعی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں یا نہیں۔ قومی سلامتی کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس کیس کے اثرات طویل المدتی ہوسکتے ہیں اور یہ ملک کے دفاعی نظام کے تحفظ پر سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔اس کیس کے انکشاف نے اسرائیلی عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حکومت نے میڈیا پر رپورٹنگ پر پابندی لگا کر اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کیس کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید بے چینی نہ پھیلے۔ تاہم، عدالتی فیصلے کے بعد یہ معاملہ عوام کے سامنے آنے سے اس میں مزید دلچسپی بڑھ گئی ہے۔

  • بھارتی فضائیہ کا مگ 29 طیارہ تباہ

    بھارتی فضائیہ کا مگ 29 طیارہ تباہ

    بھارتی فضائیہ کا مِگ 29 طیارہ اتر پردیش میں آگرہ کے قریب ایک کھیت میں گر کر تباہ ہو گیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فضائیہ کا ایک مگ 29 لڑاکا طیارہ آگرہ میں معمول کے تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، طیارے نے پنجاب کے شہر آدم پور سے اڑان بھری تھی اور یہ ایک مشق کے لیے آگرہ جا رہا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا،پائلٹ حادثے سے قبل بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہوگیا-

    دفاعی حکام نے بیان میں کہا کہ ایک مشق کیلئے آگرہ جانے والے، ایک MiG-29 کو اہم تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے پائلٹ کو باہر نکلنا پڑا پائلٹ محفوظ ہے اور کسی جان و مال کے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ کورٹ آف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے-

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مگ 29 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوا ہ،2 ستمبر کو راجستھان کے باڑمیر میں ایک MiG-29 لڑاکا طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا پائلٹ حادثے سے قبل بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہوگیا،طیارہ راجستھان میں رات کے معمول کے تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو اتھا،حادثہ راجستھان کے بارمیر میں پیش آیا تھا-

    فضائیہ نے بیان میں کہا تھا کہ ’بارمیر سیکٹر میں رات کے معمول کے تربیتی مشن کے دوران، ایک MiG-29 کو اہم تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے پائلٹ کو باہر نکلنا پڑا پائلٹ محفوظ ہے اور کسی جان و مال کے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ کورٹ آف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے،لڑاکا طیارہ رات 10 بجے کے قریب رہائشی علاقے سے دور گر کر تباہ ہوا۔