Baaghi TV

Category: حیاتیات

  • ایران : احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنیوالے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی

    ایران : احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنیوالے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی

    ایران میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی-

    ایرانی عدلیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے “میزان” کے مطابق عرفان کیانی کو شہر اصفہان میں پھانسی دی گئی جب ملک کی اعلیٰ عدالت نے اس کی سزا برقرار رکھی،عرفان کیانی پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے، آگ لگانے، سڑکیں بلاک کرنے اور مظاہروں کے دوران اسلحہ استعمال کرنے کے الزامات تھے۔

    ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیانی اسرائیلی انٹیلیجنس کا ایجنٹ تھا تاہم اس الزام کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔

    واضح رہے کہ جنوری میں ہونے والے ان مظاہروں کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا تھا، جس کے دوران ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں،جبکہ ایران کی عدالت نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو عرفان کیانی کو سزائے موت سنائی تھی-

    قبل ازیں رواں ماہ ہی حکومت مخالف مظاہرے کے دوران گرفتار ہونے والے ایک نوجوان کو پھانسی دی گئی تھیمایرانی عدلیہ سے منسلک نیوز ایجنسی ’میزان‘ نے بتایا تھا کہ فہیم، امیر حسین حاتمی، محمد امین گلاری اور شاہین واحدی کے ہمراہ شریک ملزم تھے جنپیں گزشتہ دنوں پھانسی دی گئی۔

    علی فہیم پر الزام تھا کہ وہ جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ملکی سلامتی کے خلاف کارروائیوں میں عملی طور پر ملوث تھے فہیم پر یہ بھی الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک فوجی عمارت میں داخل ہو کر اسلحہ اور بارود نکالنے اور عمارت کو آگ لگانے کی کوشش کی۔

    ’میزان‘ نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم کورٹ نے بھی علی فہیم کو سزائے موت دینے کی توثیق کی تھی بی بی سی کے مطابق علی فہیم کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ واقعے سے متعلق رپورٹس اور ویڈیوز سے پتا چلتا ہے کہ ان افراد کا عمارت کو آگ لگانے یا اسے تباہ کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا اُن کے بقول یہ افراد اُس وقت عمارت میں داخل ہوئے جب اسے پہلے ہی آگ لگائی جا چکی تھی۔

  • یو اے ای کے صدر کا  امارات میں تمام افراد کو خصوصی ایس ایم ایس

    یو اے ای کے صدر کا امارات میں تمام افراد کو خصوصی ایس ایم ایس

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امارات میں رہنے والے تمام افراد کو خصوصی ایس ایم ایس کیے۔

    اماراتی صدر کی جانب سے پیغام عرب امارات میں بسے تمام افراد کے سیل فون پر بھیجا گیا جس میں عید کی مبارکباد دی گئی، پیغام میں اماراتی صدر نے کہاکہ ” عرب امارات ایک خاندان کی طرح متحد ہے،اماراتی صدر نے عرب امارات، عوام کی سلامتی اور سکون کیلئے دعا بھی کی۔

    شیخ محمد بن زاید نے اپنے پیغام میں کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی طاقت، استقامت اور عوام کی وفاداری و اتحاد کے ذریعے ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کی جانب پیش قدمی جاری رکھے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے 21 مارچ کو ایران کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں اور آٹھ بغیر پائلٹ طیاروں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق ایرانی جارحیت کے آغاز سے اب تک یو اے ای کے دفاعی نظام 341 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور ایک ہزار 748 ڈرونز کو ناکارہ بنا چکے ہیں ان حملوں کے نتیجے میں قومی فرائض کی انجام دہی کے دوران مسلح افواج کے دو اہلکار شہید ہوئے، جبکہ پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور فلسطین سے تعلق رکھنے والے چھ افراد بھی جاں بحق ہوئے۔

    ایران کا بیلسٹک میزائل سے ڈیمونا میں حملے، عمارت تباہ، 20 اسرائیلی زخمی

    حکام کےمطابق مجموعی طور پر 160 افراد زخمی ہوئےجن میں معمولی، درمیانےاور شدید نوعیت کی چوٹیں شامل ہیں زخمیوں میں متحدہ عرب امارات سمیت مصر، سوڈان، ایتھوپیا، فلپائن، پاکستان، ایران، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، آذربائیجان، یمن، یوگنڈا، اریٹیریا، لبنان، افغانستان، بحرین، کوموروس، ترکیہ، عراق، نیپال، نائیجیریا، عمان، اردن، فلسطین، گھانا، انڈونیشیا، سویڈن اور تیونس کے شہری شامل ہیں۔

    بھارتی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

    وزارتِ دفاع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ریاست کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی، جبکہ قومی مفادات اور صلاحیتوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔

    ایران کا بیلسٹک میزائل سے ڈیمونا میں حملے، عمارت تباہ، 20 اسرائیلی زخمی

  • ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

    ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

    ملکوال کے شہریوں کے لئے خوشخبری
    رپورٹ (کاشف تنویر) تفصیلات کے مطابق تحصیل ملکوال کے سب سے نامور اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں مشہور ڈاکٹر قمر عباس مرزا صاحب نے ملکوال میں پہلی بار ایمرجنسی نوزائیدہ بچوں کے لئے بےبی وارمر، فوٹو تھراپی اور شیشہ انکیوبیٹر کی سہولت شروع کی ہے جو القمر ہیلتھ کلینک کا عوام دوست شاندار منصوبہ ہے.
    زیرِ نگرانی. القمر ہیلتھ کلینک. ڈاکٹر قمر عباس مرزا اور لیڈی ڈاکٹر منزہ قمر
    نزد ٹیلی نار آفس پرانی غلہ منڈی جناح روڈ ملکوال

  • اسلام اور جانوروں کے حقوق  تحریر: محمد اختر

    اسلام اور جانوروں کے حقوق تحریر: محمد اختر

    تمام جاندار – انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔
    قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
    قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔
    حدیث اورجانوروں کی حقوق
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔
    نوٹ:
    آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔

    @MAkhter_

  • ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    لکھنو: ملیح آباد کے 81 سالہ حاجی کلیم اللہ خان نے آم کے ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اُگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے حاجی کلیم اللہ خان بتاتے ہیں کہ سات اقسام کے آم دینے والا ایک درخت وہ 1957 میں اس وقت اُگا چکے تھے جب وہ خود 17 سال کے تھے اور ساتویں جماعت میں فیل ہونے کے بعد اپنے پشتینی باغ میں آموں کی کاشت سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوچکے تھے لیکن’’بدقسمتی سے وہ درخت سیلاب کی نذر ہوگیا،‘‘

    کلیم اللہ خان نے کہا آئندہ تیس سالہ تک آم کی کاشت میں تجربہ اور نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد، 1987 میں انہوں نے ایک بار پھر اپنے لڑکپن کے ادھورے منصوبے کو مکمل کرنے کی ٹھان لی تاہم اب کی بار انہوں نے اپنے پشتینی باغ میں آم کے ایسے درخت کا انتخاب کیا جو 100 سال پرانا اور بہت بڑا تھا۔

    وہ الگ الگ اقسام والے آموں کے درختوں کی شاخیں کاٹ کر انہیں قلموں کی شکل دیتے اور اس درخت کی کسی نہ کسی شاخ پر لگا دیتے۔

    وہ اوسطاً ہر مہینے اس درخت میں ایک نئی قسم کی قلم کا اضافہ کردیتے؛ اور یوں بالآخرمیں تقریباً پچیس سال میں وہ درخت ایک ہی وقت میں 300 سے زائد اقسام کے آم دینے کے قابل ہوگیا، جسے بھارت کی ’’لمکا بُک آف ریکارڈز‘‘ میں بھی درج کرلیا گیا۔

    آج یہ درخت اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اس کے سائے تلے 15 افراد بہت آرام سے پکنک منا سکتے ہیں جبکہ اس کی ہزاروں شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    آموں سے اپنے عشق اور آموں کی کاشت میں غیرمعمولی مہارت کی بناء پر حاجی کلیم اللہ خان کو ’’آم آدمی‘‘ کا لقب بھی مل چکا ہے۔

    بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ کلیم اللہ خان کا یہ کارنامہ صرف نمائشی ہے جس کا کوئی مالی فائدہ نہیں۔ لیکن دیگر افراد کہتے ہیں کہ ہر چیز کا فائدہ پیسے کے ترازو میں تولا نہیں جانا چاہیے۔

    اس کارنامے پر حاجی کلیم اللہ خان کو بھارتی حکومت کی جانب سے 2008 میں ’’پدماشری‘‘ اعزاز بھی دیا جاچکا ہے۔

  • کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    منی پلانٹ کا نام تو سب نے سنا ہوگا ۔منی پلانٹ سے متعلق کئی باتیں منسوب بھی کی جاتی ہیں منی پلانٹ کا سائنسی زبان میں نباتاتی نام ایپی پرینیم منی پلانٹ کہتے ہیں منی پلانٹ ایک آرائشی، سرسبز، خوبصورت اور سدا بہار بیل ہے یہ پانی میں بھی اگائی جا سکتی ہے اور مٹی میں بھی۔ اِس کی خاص بات یہ ہے کہ اِس پر نہ کوئی پھل لگتا ہے اور نہ پھول۔ لیکن اگر یہ جنگل میں اگا ہو تو اِس پر بہت دیر بعد پھول لگ جاتے ہیں اور ایسا ہونا بہت نایاب ہے اس کا وطن جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ہیں۔ اسے بڑھنے کے لیے گرم مرطوب موسم مون سون پسند ہے۔

    پودوں کو تین بنیادی نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلا نائیٹروجن دوسرا پوٹاشیم اور تیسرا فاسفورس۔ نائیٹروجن سے پودے میں ہریالی آتی ہے یعنی پتے وغیرہ بہت اگتے ہیں۔ پوٹاشیم سے جریں شاہیں اور تنہ وغیرہ مضبوط ہوتے ہیں اور شاہیں ذیادہ اگتی ہیں اور فاسفورس سے پھول اور پھل بہت ذیادہ اگتا ہے منی پلانٹ کو کسی بھی خاص کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی آپ اِس کو صرف پانی میں بھی لگا دیں تو یہ پھلتا پھولتا رہے گا۔

    منی پلانٹ کے فوائد:
    منی پلانٹ اپنی خوراک ہوا سے ہی حاصل کر لیتا ہے۔ اِس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ جس گھر میں یہ لگا ہو اُس گھر میں جتنی بھی مضر صحت گیسیں ہوتی ہیں منی پلانٹ اُس کو جزب کر لیتا ہے اوراُن کو اپنی خوراک بنا لیتا ہے اور گھر کا ماحول بھی تازہ اور خوشگوار رہتا ہے۔ اِس کی ایک اور خاص بات جو دوسرے پودوں سے منفرد ہے وہ یہ کے دوسرے پودے دن میں اپنے اندر سے اوکسیجن باہر نکالتے ہیں اور کاربنڈائی اوکسائیڈ اپنے اندر جزب کرتے ہیں اور رات کو اوکسیجن اور کاربنڈائی اوکسائیڈ دونوں ہی جزب کرتے ہیں۔ لیکن منی پلانٹ دن میں بھی اوکسیجن خارج کرتا ہے اور رات میں بھی اوکسیجن ہی خارج کرتا ہے۔ جس سے گھر کے ماحول میں تازگی رہتی ہے۔

    منی پلانٹ لگانے کا طریقہ:
    منی پلاٹ گملے میں بھی لگا سکتے ہیں اور پانی میں بھی اگر گملے میں لگانا ہے تو گملے میں مٹی بھر لیجیے اور اگر پانی میں لگانا ہے تو کسی بوتل وغیرہ میں پانی بھر لیجیے۔ اس کے بعد آپ کو منی پلانٹ کی بیل کا ایک چھوٹا ٹکرا چاہیے ہو گا۔ وہ بیل کا چھوٹا ٹکڑا آپ اپنی لوکل نرسری سے بھی حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اگر آپ کے آس پاس کسی نے منی پلانٹ لگایا ہوا ہے تو آپ اُن سے بھی بیل کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے سکتے ہیں۔ اُس کی لمبائی کم از کم دو اینچ ہونی چاہیے۔ اب اُس بیل کے ٹکرے پر اگر پتے لگے ہوئے ہیں تو اُن کو اتار لیں صرف سرے پر جو چھوٹے پتے لئے ہوں اُن کو نہ اتاریں۔ اب آپ اِس بیل کو گملے میں لگا لیں اور کسی چھاوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہے۔

    لیکن یاد رہے کہ اِس کو دھوپ میں نہیں رکھنا۔ اسی طرح آپ اِس کو پانی میں بھی لگا سکتے ہیں۔ ایک بوتل لیں اور اُس میں پانی ڈال دیں۔ اِس کے بعد اُس بوتل میں بیل ڈال دیں۔ اور اُس کو کسی چھائوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہو۔ بیل لگانے کے ایک یا دو ہفتے کے اندر اندر آپ کی بیل کی جڑیں نکل آئیں اور آپ کی بیل بڑھنے شروع ہو جائے گی اور اُس پر نئے پتے بھی لگنے شروع ہو جائیں گے۔

    منی پلانٹ کے بارے میں اختیاطی تدابیر:
    اگر آپ نے پانی میں منی پلانٹ لگایا ہے تو جس بوتل وغیرہ میں بھی آپ نے منی پلانٹ لگایا ہے اُس میں پانی کا لیول برکرار رکھیں یعنی اگر پانی ختم ہو رہا ہو تو اُس بوتل میں دوبارہ پانی بھر دیں اگر گملے میں منی پلانٹ لگایا ہے تو اُس کو روز پانی دیں لیکن یہ یاد رہے کہ پانی گملے میں کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی گملے میں کھڑا رہا تو آپ منی پلانٹ کی جڑیں گل جائے گئیں اور وہ مرجھا جائے گا منی پلانٹ کی بیل اور پتے بہت بد ذائقہ ہوتے ہیں۔ اِس لیے کبھی غلطی سے بھی اُن کو نہ چکھیں۔

    منی پلانٹ کے بارے میں مفروضات:
    نام کی مناسبت سے یہ خیال بھی عام ہے کہ منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے تاہم پودے بیچنے والوں کی نظر میں منی پلانٹ لگا کر امیر ہوجانے کی بات میں کوئی صداقت نہیں البتہ کہا جاتا ہے کہ صحت بڑی دولت ہے تواس لحاظ سے دیکھا جائے تومنی پلانٹ واقعی بڑا دولت بخش پودا ہے ۔ گھر کے ماحول میں چوبیس گھنٹے وافر آکسیجن سے گھر بھر تروتازہ اورہشاش بشاش رہتا ہے۔

  • پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    چند روز قبل پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں مردہ جیلی فش نظر آنے لگیں۔

    باغی ٹی وی :ایک فٹ سے لے کر نصف فٹ چوڑی اور کلو سے ڈیڑھ کلو وزنی یہ سمندری حیات سمندری لہروں کے ساتھ تیرتی ہوئی کراچی کے سی ویو سے لے کر بلوچستان کے اوڑماڑہ ساحل تک دیکھی گئیں۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جیلی فش آخر آئی کہاں سے اور ان کا ساحلوں پر اس طرح نمودار ہونے کا کیا مطلب ہے؟

    اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے جنگلی حیات کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے معاون معظم خان کا کہنا ہے کہ جب سمندر میں جیلی فش کی تعداد بڑھی تو ماہی گیروں نے اس کا فائدہ اٹھانا شروع کیا اور اس کی ہارویسٹنگ کا آغاز ہو گیا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے نمک اور پھٹکڑی لگا کر چین برآمد کیا جاتا ہے برآمد ہونے والی جیلی فش کی دو اقسام ہیں ایک کو ‘اصلی’ اور ایک کو ‘جنگلی’ کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ چین کی مارکیٹ میں کویوڈ کی وجہ سے مندی کا رجحان ہے اور کویوڈ کے بعد انھوں نے برآمدات پر بھی کچھ پابندیاں لگائی ہیں اس لیے پاکستان سے وہاں جیلی فش جا نہیں رہی یا کم جا رہی ہے اس لیے اس موسم میں ماہی گیروں نے اس کی ہارویسٹنگ نہیں کی اور یہ مردہ حالت میں ساحلوں تک پہنچ گئیں۔

    معظم خان کے مطابق پاکستان میں جیلی فش کی پچاس سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جو سندھ کی کریکس سے لے کر بلوچستان کی کلمت تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جس طرح پہاڑوں پر پھول کھلتے ہیں اس طرح سمندر میں جیلی فش کا بلوم آتا ہے جس کی وجہ سے یہ بڑی تعداد میں ملتی ہیں۔15 سال پہلے تک یہ اس تعداد میں نہیں ملتی تھیں اور اس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تغیر ہے۔

    ان کے مطابق اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مچھلی کا شکار اور وہ سمندری حیات جو جیلی فش کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں ان کی تعداد میں کمی بھی جیلی فش کی تعداد میں اضافے کے ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ساحل پر ماہی گیر جال لگا کر بھی مچھلیاں پکڑتے ہیں سی ویو پر بھی ایک درجن کے قریب ماہی گیر ایک طویل جال سمندر میں لے گئے اور وہاں سے کھینچ کر کنارے تک لائے اور اس میں سے جیلی فش نکال نکال کر ساحل پر پھینکتے رہے۔

    ایک ماہی گیر آفتاب نے بتایا کہ مارچ سے لے کر مئی، جون تک جیسے جیسے پانی کی سطح بلند ہوتی ہے اور یہ گرم ہوتا ہے یہ جیلی فش ساحل کی طرف آتی ہیں

    آفتاب نے بتایا کہ عام دنوں میں جال میں مچھلی زیادہ آتی ہے لیکن ان دنوں میں جیلی فش بھی آ جاتی ہے، پہلے یہ جیلی فش چین خرید لیتا تھا ابھی ان کا بھاؤ نہیں اس لیے ہم اس کو پکڑ کر باہر پھنیک دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب چین والوں کو جیلی فش کی طلب ہوئی تو ماہی گیروں نے مچھلی چھوڑ کر اس کا کاروبار شروع کر دیا اور ساحل پر جال لگا کر مچھلی پکڑنے والوں سے لے کر کشتی والے ماہی گیروں تک بس اس کا شکار کرتے رہے لیکن آج کل اسے کوئی نہیں خریدتا۔

    کراچی یونیورسٹی کے شعبے میرین سائنس کی سربراہ ڈاکٹر راشدہ قادری کا کہنا ہے کہ جیلی فش میں اضافے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں Eutrophication یعنی پانی میں معدنیات اور نشوونما کے اجزا شامل ہو جانا، سیوریج سمندر میں جانے سے سمندری نباتات بڑھنا، اس کے علاوہ انسانی سرگرمیاں اور سمندری درجہ حرارت میں اضافہ شامل ہیں۔

    ’اگر ان کو کنٹرول کیا جائے تو جیلی فش کی تعداد معمول پر آ سکتی ہے۔‘

  • وہیل کے سینگ میں چُھپے ماحولیاتی راز

    وہیل کے سینگ میں چُھپے ماحولیاتی راز

    ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ سینگ والی وہیل کی ایک قسم ناروہیل کا سینگ اپنے اندر بہت سے ماحولیاتی راز رکھتا ہے۔

    باغی ٹی وی :کسی درخت کے دائروں کی مانند، نار وہیل کے سینگ پر ہر سال ایک دائرہ نموپذیر ہوتا ہے اور اس کے جائزے سے نہ صرف اس کی غذا، عادات اور دیگر عوامل کا پتا ملتا ہے بلکہ اطراف کے ماحول کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔

    اس ضمن میں ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی نے دس جانوروں کے سینگ دیکھے ہیں جو شکاریوں کےہاتھوں پہلے ہی مارے جاچکے تھے۔

    وہیل کے سینگوں کی لمبائی 150 سے 240 سینٹی میٹر تھی اور تمام سینگوں کو لمبائی کے لحاظ سے درمیان سے چیرا گیا اور اس کے اندر خدوخال یا دائروں کا جائزہ لیا گیا اس میں ایک جانب پارہ موجود تھا تو دوسری جانب ہردائرے میں کاربن اور نائٹروجن کے اسٹیبل آئسوٹوپس موجود تھے ان سے معلوم ہوا کہ آیا وہیل کھلے سمندر میں تھیں یا برفانی ساحلوں کے قریب ہی کہیں رہ رہی تھیں۔

    سینگوں کے مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ 1990 سے 2000 تک وہیل کو برف کی کمی کا سامنا تھا اور اس تناظر میں اس نے غذائی عادات بھی تبدیل کی تھیں ان تفصیلات پر ماہرین نے کہا ہے کہ وہیل پر اس انوکھی تحقیق سے ان کی خوراک، بقا اور دیگر عادات کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ جسے ہم سینگ قرار دیتے ہیں وہ نر وہیل کا لمبا دانت ہوتا ہے جو سینگ کی صورت میں چہرے سے باہر دکھائی دیتا ہے۔

  • فنگر پرنٹس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    فنگر پرنٹس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ہر ایک کے انگلیوں کے نشانات مختلف ہوتے ہیں۔

    ہم سب کے انگلیوں کے نشانات ہیں جو مختلف ہیں۔ حتی کہ یکساں جڑواں بچوں کے نشانات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جبکہ 1400 سال پہلے کوئی بھی یہ بات نہیں جانتا تھا۔ مگر قرآن میں یہ بیان کردیا گیا تھا کہ اللہ قیامت کے دن انسانوں کو دوبارہ سے صحیح سالم زندہ کرے گا یہاں تک کے انکی انگلیوں کے نشانات بھی پورے ہوں گے۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ یہ وہ نشانات ہیں جو ہر ایک انسان کے مختلف ہوتے ہیں۔

    Quran 75:04

     (القیامہ 4#)
    ہاں ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور پور(نشانات) درست کر دیں۔

    قیامت کے دن اللہ ہمارے جسموں کو پورا پورا دوبارہ بنا دے گا یہاں تک کہ ہماری انگلیوں کے نشانات کو بھی۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ انگلیوں پہ کچھ انوکھی(یونیک) چیز بھی موجود ہے؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • بریسٹ فیڈنگ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    بریسٹ فیڈنگ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    دودھ پلانا اور اسکا معاشرتی تعلق،

    بچے کو دودھ پلانے کی دو سال تک ہدایت کی گئی ہے۔

    Reference:- World Health Organization, Breastfeeding, 2018.
    "چھاتی کا دودھ بچے کیلئے پہلی قدرتی غذا ہوتی ہے، یہ وہ تمام غذائی اجزاء اور طاقت مہیا کرتا ہے جو ایک نوزائیدہ بچے کو پہلے مہینے کیلئے ضروری ہوتے ہیں، اور یہ آدھی یا اس سے زیادہ کی غذائیت پہلے سال کے دوسرے حصے تک مہیا کرتا رہتا ہے، اور ایک تہائی غذائیت زندگی کے دوسرے سال کے دوران مہیا کرتا رہتا ہے۔ ”

    جیسے جیسے بچہ بھاری ہوتا جائے گا، ماں کا دودھ اسے ناکافی ہوتا جائے گا۔ دوسرے سال میں ماں بچے کو اسکی ضرورت کے تحت صرف ایک تہائی حصہ مہیا کرتی ہے جو بچے کی غذائیت کیلئے کافی ہوتا ہے، اور اس دوران بچے کو دوسرے کھانے پھل وغیرہ دینا بہتر رہتا ہے۔

    Quran 2:233

    "اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس دودھ پلائیں، یہ اس کے لیے ہے جو دودھ کی مدت کو پورا کرنا چاہے،”

    قرآن میں چھاتی کا دودھ پلانے کی حد دو سال مقرر کر دی گئی تھی۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ چھاتی کا دودھ کتنی دیر تک پلانا صحت بخش ہے؟؟؟؟؟؟

    بچے اور ماں کے درمیان چھاتی کا دودھ پینے کی وجہ سے مضبوط رشتے کا ایک اور فائدہ جو بہت کم جانا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ

    Reference:- Time, Is Breast Milk the Key to Mother-Baby Bounding?, 2011
    "ماں اور بچے کے اچھے تعلقات کا راز چھاتی کا دودھ ہوسکتا ہے، نئی تحقیق کے مطابق یہ مانا جاتا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے کچھ مہینے بعد چھاتی کا دودھ پلانے والی ماں کا فارمولہ دودھ پلانے والی ماں کی بہ نسبت زیادہ گہرا رشتہ اور تعلق قائم ہوتا ہے۔ جب وہ(چھاتی کا دودھ پلانے والی مائیں) اپنے بچے کے رونے کی آواز سنتی ہیں تو وہ مضبوط حاضر دماغی کے ساتھ جواب دینے کا مظاہرہ کرتی ہیں
    (مئی کے مہینے میں بچے کی سائیکالوجی اور سائیکیٹری کی ساخت کے مضمون پہ پبلش ہونے والی ایک سٹڈی کے مطابق)۔
    جبکہ ریسرچ میں شریک ماؤں کو سکینر میں لٹایا گیا اور انہیں اپنے بچے اور نامعلوم بچے کے رونے کے کلپس سنائے گئے، محققین نے سوراخ لگایا کہ انکے دماغوں کے کونسے حصے روشن ہوتے ہیں۔ تمام ماؤں کے دماغ زیادہ متحرک ہوتے تھے جب وہ اپنے بچے کے رونے کی آواز سنتی تھیں۔ لیکن دماغی حصے کے متعلق دودھ پلانے والی ماؤں میں ہونے والی تبدیلیاں کہیں زیادہ نمایاں تھیں۔

    دودھ پلانا ماں اور بچے کے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے، ایک بہت مضبوط تعلق۔
    یہ بات حال ہی میں معلوم کی گئی ہے جبکہ قرآن میں 1400 سال پہلے یہ بات دریافت کردی گئی تھی کہ آخری لمحات میں یہ مضبوط ترین تعلق بھی ٹوٹ جائے گا۔

    Quran 22:2
    يَوْمَ تَـرَوْنَـهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَـمْلٍ حَـمْلَـهَا وَتَـرَى النَّاسَ سُكَارٰى وَمَا هُـمْ بِسُكَارٰى وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّـٰهِ شَدِيْدٌ (2)

    "جس دن اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تجھے لوگ مدہوش نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔”

    آخری وقتوں میں یہ مضبوط تعلق بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ دودھ پلانا ماں اور بچے کے درمیان مضبوط تعلق بنا دیتا ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!