ایران میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی-
ایرانی عدلیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے “میزان” کے مطابق عرفان کیانی کو شہر اصفہان میں پھانسی دی گئی جب ملک کی اعلیٰ عدالت نے اس کی سزا برقرار رکھی،عرفان کیانی پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے، آگ لگانے، سڑکیں بلاک کرنے اور مظاہروں کے دوران اسلحہ استعمال کرنے کے الزامات تھے۔
ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیانی اسرائیلی انٹیلیجنس کا ایجنٹ تھا تاہم اس الزام کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
واضح رہے کہ جنوری میں ہونے والے ان مظاہروں کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا تھا، جس کے دوران ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں،جبکہ ایران کی عدالت نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو عرفان کیانی کو سزائے موت سنائی تھی-
قبل ازیں رواں ماہ ہی حکومت مخالف مظاہرے کے دوران گرفتار ہونے والے ایک نوجوان کو پھانسی دی گئی تھیمایرانی عدلیہ سے منسلک نیوز ایجنسی ’میزان‘ نے بتایا تھا کہ فہیم، امیر حسین حاتمی، محمد امین گلاری اور شاہین واحدی کے ہمراہ شریک ملزم تھے جنپیں گزشتہ دنوں پھانسی دی گئی۔
علی فہیم پر الزام تھا کہ وہ جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ملکی سلامتی کے خلاف کارروائیوں میں عملی طور پر ملوث تھے فہیم پر یہ بھی الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک فوجی عمارت میں داخل ہو کر اسلحہ اور بارود نکالنے اور عمارت کو آگ لگانے کی کوشش کی۔
’میزان‘ نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم کورٹ نے بھی علی فہیم کو سزائے موت دینے کی توثیق کی تھی بی بی سی کے مطابق علی فہیم کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ واقعے سے متعلق رپورٹس اور ویڈیوز سے پتا چلتا ہے کہ ان افراد کا عمارت کو آگ لگانے یا اسے تباہ کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا اُن کے بقول یہ افراد اُس وقت عمارت میں داخل ہوئے جب اسے پہلے ہی آگ لگائی جا چکی تھی۔
