Baaghi TV

Category: حیاتیات

  • کولیسٹرول کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    کولیسٹرول کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    کولیسٹرول
    دل کی شریانوں میں رکاوٹ

    1400 سال پہلے لوگ لوہے کا استعمال کرتے تھے جو ہمیشہ زنگ آلود ہوجایا کرتا تھا۔ زنگ لوہے کا آکسیجن اور پانی ملا مرکب کا عمل ہے(آکسیڈیشن) مگر اسوقت کوئی شخص بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ زنگ آلود عمل دل پہ بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔
    آج ہم جانتے ہیں کہ کولیسٹرول دو طرح کے ہیں،
    ایک قسم صحت کیلئے اچھی ہے اور دوسری بری ہے۔

    مگر برا کولیسٹرول درحقیقت آکسیڈائیزڈ ہے۔ اور اسے دوسرا نام آکسیڈائزڈ کولیسٹرول دیا گیا ہے۔

    Reference: Health, The Danger of Oxidized Cholesterol and Tips for prevention, 2020
    “آکسیڈائیزڈ کولیسٹرول کیا ہے؟
    وہ کولیسٹرول جو دل کی شریانوں میں خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے یعنی جمع ہوجاتا ہے، آکسیڈائزڈ کہلاتا ہے۔ آکسیڈیشن کا عمل کولیسٹرول کے خولیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ عام طور پر آکسیڈیشن ایک نارمل جسم کا ایک عمل ہے مگر جب یہ کسی وجہ سے آکسیڈائزڈ(برے) کولیسٹرول کی زیادتی کا سبب بنتا ہے تو یہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ آپکا قوت مدافعت کا نظام بیکٹیریا کیلئے آکسیڈائزڈ کولیسٹرول بنانے کی غلطی کر سکتا ہے۔ پھر یہ قوت مدافعت کا نظام اس برے کولیسٹرول کو کم کرنے کیلئے لڑتا ہے، جو شریان کی دیوار میں سوجن کا باعث بنتا ہے اور یہ عمل دل کی بیماری ہارٹ اٹیک اور ایتھروسیکلیروسز(شریانوں کے تنگ ہونے والی بیماری کا نام) کا باعث بنتا ہے۔”

    آکسیڈائیزڈ کولیسٹرول شریانوں میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور دل کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات حال ہی میں معلوم کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں بیان کردیا گیا تھا،

    Quran 83:14

    “ہرگز نہیں، بلکہ ان کے (برے) کاموں کی وجہ
    سے ان کے دل زنگ آلود(آکسیڈائیزڈ) ہوچکے ہیں۔”(14)

    “Ran ران” کا مطلب ہے زنگ۔ آج ہم جانتے ہیں کہ زنگ آکسیجن اور پانی کا مرکب(آکسیڈائیزڈ) ہے اسی طرح جیسے برا کولیسٹرول آکسیڈائزڈ کولیسٹرول کہلاتا ہے۔

    Quran 47:24

    پھر کیوں قرآن پر غور نہیں کرتے کیا ان کے دلوں میں قفل پڑے ہوئے ہیں۔(24)

    “دلوں میں قفل پڑے ہوئے ہیں” کا مطلب ہے کسی چیز سے انکے دلوں میں رکاوٹ ہو رہی ہے،
    اس زمانے میں لوگ لوہے کے بنے تالے استعمال کرتے تھے جو زنگ آلود ہوجایا کرتے تھے(آکسیڈائزڈ لوہا)۔
    آج ہم جانتے ہیں کہ آکسیڈائزڈ کولیسٹرول شریانوں میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ کیا چیز دلوں میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے؟
    جیسے لوہا آکسیڈائزڈ ہوجاتا اسی طرح دل بھی آکسیڈائزڈ(دل کی بیماری کا نام) ہوجاتا ہے۔

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • جنس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جنس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    نر یعنی باپ بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے۔

    مادہ XX (ڈبل ایکس) کروموسومز رکھتی ہے، اس لیے وہ بس ایک X کروموسوم ہی فراہم کر سکتی ہے، جبکہ نر XY (ایکس، وائے) کروموسومز رکھتا ہے اور وہ X یا Y دونوں میں سے کوئی ایک کروموسوم فراہم کر سکتا ہے۔
    اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ نر ہوتا ہے جو بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے (X کروموسوم دینے سے یا Y کروموسوم دینے سے، اگر نر X فراہم کرے گا تو مادہ جنس پیدا ہوگی اور Y فراہم کرے گا تو نر پیدا ہوگا)

    اسے سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل تصویر دیکھیے۔

    جبکہ قرآن میں اسکا بیان اس تحقیق سے 1400 سال پہلے کردیا گیا تھا۔

    Quran 53:45-46

    اور یہ کہ اسی نے جوڑا نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے۔(النجم 45)
    اسی ایک بوند سے جب وہ(نر سے مادہ میں) ٹپکائی جاتی ہے۔(النجم 46)

    قرآن کہتا ہے کہ یہ وہ ایک بوند ہے جو نر یا مادہ بچے کا تعین کرتا ہے جبکہ وہ بوند نر کی طرف سے مادہ میں منتقل ہوتی ہے تو اسکا مطلب نر ہی پیدا ہونے والے اس بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے کہ یہ بچہ نر ہوگا یا مادہ۔

    لیکن
    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہےکہ نر ہی پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے؟؟؟؟؟؟

    اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس آیات کا نمبر بھی 46 ہے جس میں نر کے تعین کے بارے میں بتایا گیا ہے اور انسان کے کروموسومز کی کل تعداد بھی 46 ہی ہے۔❤
    کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں جو کل ملا کے 46 بنتے ہیں۔

    جبکہ آج سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جاندار اپنے والدین سے رنگوں اور دھاریاں(جو جاندار کے جسم پہ ہوتی ہیں) وراثت میں لیتے ہیں۔(ڈی این اے کے ذریعے)، بائیبل Genesis 30: 37-42 میں بھی کچھ ایسا ہی ملتا جلتا بیان ہے۔
    بائبل وضاحت کرتی ہے کہ بکری کا بچہ کیسے دھاریوں اور رنگوں کو حاصل کرتا ہے،
    "اگر اسکے والدین سیدھی حالت میں ملن کریں تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل کر سکے گا لیکن اگر اسکے والدین کا ملن سیدھی حالت میں نہ ہو تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل نہیں کر سکے گا”

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • آنکھ کی پتلی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    آنکھ کی پتلی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو وہ اپنی آنکھ کی پُتلی(جسے پیوپلز کہتے ہیں) کے سائز کو کنٹرول نہیں کر سکتا، یہ ایک غیر اختیاری/ارادی عمل ہے:
    خودمختاری اعصابی نظام (اے این ایس) جسمانی افعال کو منظم کرتا ہے جو بغیر کسی کنٹرول (غیر ارادی عمل) کے وقوع پذیر ہوتا ہے.
    اس سسٹم کی دو برانچیں ہیں۔
    i: The sympathetic nervous system
    ii: Parasympathetic nervous system
    دونوں برانچوں کو مختصر سی سٹیٹمنٹس میں بیان کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ
    The sympathetic system
    اڑنے یا لڑنے والے حالات میں کام کرتا ہے جبکہ
    Parasympathetic nervous system
    آرام کرنے اور کھانا ہضم کرنے کے عمل میں کام کرتا ہے
    عام لفظوں میں
    The sympathetic nervous system
    آپکی حفاظت کیلئے اور خطرات سے بچنے کیلئے آپکے جسم کو ہدایت دیتا ہے جبکہ
    The Parasympathetic nervous system
    آپکی انرجی کو محفوظ کرنے اور آرام کرنے کی ہدایات آپکے جسم کو دیتا ہے جیسا کہ بہترین ہاضمہ اور بہترین اور پرسکون نیند سونا۔
    عام طور پر آپکی پریشانیوں اور کشیدگیوں میں کہیں نہ کہیں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے(یہاں تک کہ آپ بہترین جھوٹ بولنے والے انسان بن جاتے ہیں)، کیونکہ آپ ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں آپکے جھوٹ کا پول نہ کھل جائے۔
    اور یہی ڈر آپکے "sympathetic nervous system” کو چلاتا ہے جسکی وجہ سے آپکے جسم میں کچھ اثرات پیدا ہوتے ہیں
    Sympathetic nervous system
    کا آنکھ میں متحرک ہونے کی وجہ سے آئرس میں ایک مسل جسکا نام "پیوپلری ڈائلیٹر مسل” ھے وہ حرکت میں آتا ہے اور پیوپل کے سائز کو چوڑائی کی شکل میں بڑھا دیتا ہے جیسا کہ ہم حیرانگی کی صورت میں آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھول لیتے ہیں,
    اسکے نتیجے میں ایک بیماری "Mydriasis” لاحق ہوجاتی ہے جسکا مطلب ہے آنکھ کی پُتلی کا غیر معمولی پھیلاؤ۔
    جبکہ دوسری صورت میں جب Parasympathetic system چالو ہوتا ہے تو اسکے نتیجے میں آنکھ کی پُتلی میں سکڑاو آجاتا ہے۔
    مختصراً جہاں پریشانی لاحق ہوتی ہے وہاں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے اور یہی پریشانی sympathetic system کو چلانے کی وجہ بنتی ہے،
    مختصراً جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو پیوپل کمزور ہوجاتا ہے۔
    لہذا جھوٹ والے لوگ منہ سے تو جھوٹ بول لیتے ہیں لیکن وہ اپنے پیوپل(آنکھ کی پُتلی) کو کنٹرول نہیں کر سکتے( جیسا کہ اکثر ہم چہرے سے پہچان لیے جاتے ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں)
    جیسا کہ 1400 سال پہلے ہی قرآن میں بیان کر دیا گیا:


    (40:19 غافر)
    "وہ آنکھوں کے دھوکے اور دل کے بھید جانتا ہے”
    ۔
    اور ہم جانتے ہیں کہ پیوپل(آنکھ کی پُتلی) جھوٹوں کو دھوکا دیتی ہے کیونکہ جھوٹے لوگ جھوٹ بولتے وقت آنکھ کی پُتلی کی حرکت کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔
    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ👇🏻
    1400 سال قبل رہنے والے ایک غیر معمولی شخص(محمد) کس طرح جان سکتے ہیں کہ اپکے پیوپل آپکو دھوکہ دیتے ہیں جب آپ جھوٹ بولتے ہیں؟؟؟؟؟؟
    یہ رب العالمین کے ہونے کی ایک بڑی نشانی ہے

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • جھوٹے دماغی حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جھوٹے دماغی حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    دماغ کا اگلا یعنی ابتدائی حصہ جھوٹ کو سنبھالتا ہے.

    کئی صدیوں سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انسانی دماغ کا اگلا حصہ آنکھوں کی نظر کو سنبھالتا ہے ,(کیونکہ عام طور پر یہ حصہ ہماری آنکھوں کے قریب ہوتا ہے اس لیے).
    لیکن آج ہم جانتے ہیں کہ یہ تھیوری غلط ہے. تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ انسانی دماغ کا جو حصہ آنکھوں کی نظر کو کنٹرول کرتا ہے وہ حصہ پیچھے کی جانب ہے. دماغ کا اگلا حصہ جو جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے, پری فرنٹل کارٹیکس کہلاتا ہے.

    Reference:- Localisation of increased prefrontal white matter in pathological liars. Yang Y, Raine A, Narr KL, Lencz T, LaCasse L, Colletti P, Toga AW.  Br J Psychiatry. 2007 Feb;190:174-5. PubMed PMID: 17267937.

    پیتھالوجیکل جھوٹے( وہ اشخاص جو بغیر وجہ کے مسلسل جھوٹ بولتے ہیں, انہیں پیتھالوجیکل جھوٹا کہتے ہیں) میں سفید فام معاملہ (یعنی اگلا دماغی حصہ جسکا نام پری فرنٹل کارٹیکس ہے, جو جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے) زیادہ ہوتا ہے.
    "جھوٹ بولنے والے افراد کے دماغ کے درمیانی اور کم تر(انفیرئیر) حصے کی نسبتاً اگلے دماغی حصے میں وسیع پیمانے پہ (23 سے 36 فیصد) سفید فام ظاہر کیا گیا ہے, لیکن سپیریئر نامی حصے میں نہیں. اس سفید فام معاملے میں اضافے کی وجہ سے کچھ لوگ پیتھالوجیکل لائر (جو مسلسل جھوٹ بولتے ہیں) کا شکار ہوسکتے ہیں.”

    یعنی پیتھالوجیکل لائر لوگوں کے اگلے دماغی حصے پری فرنٹل کارٹیکس میں یہ سفید فام بہت زیادہ حد تک پایا جاتا ہے. جو جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے.
    مگر 1400 سال پہلے قرآن میں یہ پیشین گوئی کردی گئی تھی کہ نافرمان لوگ اپنی جھوٹی پیشانی(اگلے حصے) سے گھسیٹے جائیں گے.

    Quran 96:15, 16

    ہرگز ایسا نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم پیشانی کے بال پکڑ کر اسے گھسیٹیں گے۔(العلق 15)

    (وہ)پیشانی(یعنی اگلا دماغی حصہ) جو جھوٹی (اور)خطا کار(ہے)۔(العلق 16)

    1400 سال پہلے غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ پیشانی میں جو اگلا دماغی حصہ ہے وہ جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے؟؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!