Baaghi TV

Category: ارضیات

  • سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    خیبر پختونخوا کے ضلع سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.58 اور گہرائی 150 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

    پنجاب بھر کے میڑک اور انٹرمیڈیٹ کلاس کا رزلٹ کب جاری ہو گا؟ تاریخ سامنے آ گئی

    خیال رہے کہ دو روز پہلے ( ہفتہ کو) بھی سوات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت چار اور گہرائی 180 کلومیٹر زیر زمین تھی۔

    زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟

    زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

    زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

    کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

    پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

    کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

    کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

    دوسری طرف قد یم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    یونان کی دیومالائی کہانیوں میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کا دیوتا پوسیڈان جب اپنی برچھی زمین کو چبھوتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے قدیم یونانی فلاسفروں کا خیال تھا کہ زمین کے اندر گیسیں بھری ہوئی ہیں جب گیسیں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    پی ٹی آئی اور فواد چوہدری پر میڈیا میں پابندی لگ جائے تو فیک نیوز کا خاتمہ ہو جائے گا رانا ثنا…

    اٹھارہویں صدی تک نیوٹن سمیت مغربی سائنس دان اس نظریے کے حامی تھے کہ زمین کی تہوں میں موجود آتش گیر مادوں کے پھٹنے سے زلزلے آتے ہیں۔

    لاس اینجلس کی ساؤتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے ایک ماہر جان ویڈیل کہتے ہیں کہ زمین کے اندر موجود چٹانی پرتیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور جب وہ اپنی جگہ سے کھسکتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور جب یہ دباؤ ایک خاص سطح پر پہنچتا ہے تو وہ زلزلے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

    زلزلے کے جھٹکوں سے زمین کی سطح پر موجود چیزوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ عمارتیں اور دوسری تنصیبات گر جاتی ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ درخت اور بجلی کے پول زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ اگر متاثرہ علاقے میں دریا یا جھیلیں ہوں تو ان کی جگہ بدل سکتی ہے۔ پہاڑوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

    اگر زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ یا ساحلی علاقوں کے قریب ہو تو سمندری طوفان اور سونامی آ سکتے ہیں اور بپھری لہریں ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

    مجھے سخت مایوسی ہوئی ہے کہ کسی حکومتی شخصیت نے میری تیمارداری نہیں کی ڈاکٹر…

    ہماری زمین کے بعض حصوں کے نیچے چٹانوں کی پرتیں اس نوعیت کی ہیں کہ ان میں نسبتاً زیادہ حرکت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں زلزلے بھی کثرت سے آتے ہیں۔ بعض ملک اور علاقے زلزلوں کے زون میں واقع ہیں ان میں نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن، جاپان، روس، شمالی امریکہ میں بحرالکاہل کے ساحلی علاقے، وسطی امریکہ، پیرو اور چلی شامل ہیں۔ اسی طرح بحرالکاہل کے کئی حصے بھی ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں زیادہ زلزلے آنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    ریکٹر اسکیل کیا ہے؟

    ریکٹر اسکیل ایک پیمانہ ہے جس سے زلزلے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریکٹر اسکیل کے موجد ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر ہیں جنہوں نے 1935 میں ایک آلہ متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

    اداکارہ ایمن سلیم نے اچانک شوبز چھوڑنے کے راز سے پردہ اٹھا دیا

    زلزلے کی اقسام

    زلزلوں کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر چار درجے سے کم شدت کے زلزلوں کو معمولی یا کمزور نوعیت کا زلزلہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔

    چار سے زیادہ اور چھ سے کم درجے کا زلزلہ درمیانی شدت کا زلزلہ کہلاتا ہے، جس سے تھوڑا بہت نقصان پہنچ سکتا ہے، جیسے چینی کے برتن اور پلیٹیں وغیرہ ٹوٹ سکتی ہیں۔ جب کہ ریکٹر اسکیل پر 6 سے 7 شدت کے زلزلے عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جب زلزلے کی شدت 8 کے ہندسے بڑھتی ہے تو وہ تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عمارتیں ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو سکتی ہیں، سڑکیں اور ریلوے لائنیں ٹوٹ پھوٹ سکتی ہیں۔

    زلزلے میں کیا کرنا چاہیے؟

    زلزلے کی صورت میں فوری طور پر عمارت سے باہر کھلی جگہ پر چلے جانا چاہیے۔ اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو میز یا اسی نوعیت کی کسی دوسری چیز کے نیچے پناہ لینی چاہیے تاکہ آپ خود کو چھت یا دیواروں سے ممکنہ طور پر گرنے والے ملبے سے بچا سکیں زلزلے کے دوران کھڑکیوں، بھاری فرنیچر اور بڑے آلات وغیرہ سے دور رہیں۔

    امریکہ میں عمر شریف کا علاج اداکارہ ریما خان کے شوہر کریں گے

  • امریکہ: ریاست الاسکا میں 7.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے ، سونامی وارننگ بھی جاری

    امریکہ: ریاست الاسکا میں 7.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے ، سونامی وارننگ بھی جاری

    امریکہ کی ریاست الاسکا میں 8.2 کے زوردار زلزلے کے جھٹکوں نے ساحلی علاقے کے مکینوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی جیولوجیکل سروے کی جانب سے جاری کر دہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ شدید نوعیت کے زلزلے کا مرکز الاسکا کے شہر ” پیری ویل “ کے جنوب مشرق میں 91 کلومیٹر دوری پر واقع ہے جس کی گہرائی 46.7 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے ۔

    زلزلے کے بعد شدید نوعیت کے دو آفٹر شاکس ریکارڈ کئے گئے جن کی شدت 6.2 اور 5.6 رہی ۔

    تاہم بعد ازاں ریاست کے متعدد علاقوں میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے امریکی اداروں کی جانب سے ہوائی میں بھی سونامی کی نگرانی کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    سونامی کے انتباہ کی وجہ سے ساحلی علاقوں کے مکین اونچی جگہوں کی جانب منتقل ہونے لگے ہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں لوگوں کی لمبی قطاروں کو اونچی جگہوں پر منتقل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک جزیرے میں مقامی ہائی سکول اور کیتھولک گرجا گھر نے لوگوں کے لئے اپنے دروازے کھول دئیے۔

  • ھمارے آباؤ اجداد اور ہم تحریر: محمد عاصم صدیق

    ھمارے آباؤ اجداد اور ہم تحریر: محمد عاصم صدیق

    ھمارے آباؤ اجداد نے ہمیں نہ صرف آزاد ریاست دی بلکہ ہمیں زندگی کے کئی اصول بھی بتائے ۔
    آج اگر ہم سکون سے بغیر کسی خوف ،بغیر کسی در کے جہاں چاہئے اپنے ملک پاکستان میں ره رہے ہیں ۔ہر طرح کی آزادی ہمیں حاصل ہے ۔تو وہ صرف ھمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔لاکھوں لوگوں نے بےانتہا قربانیاں دی ھمارے لیے تا کہ ہمارا مستقبل خوبصورت بو ۔ہم عیش و عشرت سے رہ سکے ۔
    ہماری ماؤں نے اپنی بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوتے دیکھا اپنی آنکھوں سے ۔بیٹوں کو قربان ہوتے دیکھا ۔یہ سب کس لیے تھا تا کہ میں آپ اور ہم سب غلامی سے نجات حاصل کر سکے ۔سکون کی سانس لے سکے ۔
    لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم آج اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یاد بھی کرتے ہیں ؟
    کیا ہم نے کبھی سوچا کے جن قربانیوں کے بعد یہ ملک ملا اِس کے پیچھے کوئی وجہ بھی تھی ؟
    آج ہم سب کچھ بُھول چکے ہیں اور اِس ملک کو بے دردی کے ساتھ ہر طرح سے نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
    کاش کے ہم اُن لوگوں سے سیکھ لیتے جو ابھی تک آزادی سے سانس بھی نہیں لے سکتے
    اج ہم ایک آزاد قوم تو ہیں لیکن ھماری سوچ آج بھی غلامانہ ہے ۔ہم آج بھی انگریز اور ہندو کو اپنے سے بہتر سمجھتے ھیں اور ہر لحاظ سے انہی کے نقشے قدم پر چلنا پسند کرتے ہیں ۔
    ھمارے آباؤ اجداد ہمیں آزاد ملک دے کر گئے تا کہ ہم اپنی پہچان بنا سکے ۔اپنے ملک کا نام روشن کر سکے ۔لیکن شائد ہم اپنے اسلاف کو بُھول گئے ۔
    آج ہم کرپشن ،چوری ، نا انصافی ،جھوٹ ہر طرح کے گناہ روز مرہ زندگی میں کر رھے ہیں اور اپنے آباؤ اجداد کی روحوں کو دکھ پہنچا رھے ہیں ۔
    ھمارے آباؤ اجداد نے اپنا سب کُچھ قربان کیا ،گھر باہر سب چھوڑ دیا یہاں تک کہ کچھ لوگ اپنے بچوں تک وہی چھوڑ آئے کیوں کہ اُنکا خواب تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کا اور اس کے لیے وہ ہر حد تک گئے ۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے رستے پر چلائے اور اُنکی زندگی سے کُچھ سیکھنے کی توفیق عطا کرے
    امین!

    Written By : Muhammad Asim Siddiq
    Username : @Asimsiddiq_
    Email : asimsak47@gmail.com

  • ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    دُنیا جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے ویسے ہی جدید ایجادات انسانی زندگی میں آسانی پیدا کر رہی ہیں۔ ان جدید ایجادات میں ایک ویڈیو شیئرنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ آج کے جدید دور میں ویڈیو اسسٹڈ کانفرنس، ویڈیو اسسٹڈ میٹنگز، ویڈیو اسسٹڈ تعلیم اور حتیٰ کہ ویڈیو اسسٹڈ سرجريز بھی ہو رہی ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بہت کچھ بدل دے گی۔ دور دراز علاقوں میں تعلیم، علاج اور کاروبار آسان ہو جائے گا۔

    لیکن ہمارا پیارا پاکستان اِس ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی سب سے آگے ہے۔ آج یہاں ہر چیز ویڈیو اسسٹڈ ہو چکی ہے۔ ہمارا معاشرہ اور تمام ادارے ویڈیو اسسٹنس کے عادی ہو چُکے ہیں۔ جب تک کسی جُرم، ظُلم یا زیادتی کی ویڈیو وائرل نہیں ہوتی مُجرم کے خلاف کوئی ریاستی ادارہ حرکت میں نہیں آتا۔

    گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مدرسے کا ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ قبیح نکلا۔ متاثرہ لڑکا ایک عرصے سے اپنے استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بن رہا تھا، لیکن جب اُس نے شکایت کرنے کی کوشش کی تو نہ ہی مدرسہ انتظامیہ نے اور نہ ہی پولیس نے کوئی ایکشن لیا۔ استاد کی گرفتاری کے لیے مجبوراً لڑکے کو ایک ویڈیو بنا کر وائرل کروانی پڑی، پھر جا کر ہمارے ادارے حرکت میں آئے۔

    ہمارے معاشرے میں پنپنے والی چھوٹی بڑی برائیوں کو اُس وقت تک بُرا نہیں سمجھا جاتا جب تک اس برائی کی ویڈیو فیس بک یا ٹویٹر کی زینت نہیں بنتی۔ کچھ عرصہ قبل ایک یونیورسٹی میں ایک لڑکے نے ایک ساتھی لڑکی کو پرپوز کیا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن پروپوزل قبول ہونے کے بعد دونوں نے سرِ عام نازیبا حرکات کی۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی اور جب بہت سارے مہذب شہریوں نے اس واقعے کی تنقید کی تو پھر جا کر یونیورسٹی نے ایکشن لیا۔

    ایک اور واقعہ جو کہ کچھ روز قبل ہی وقوع ہوا تھا، ایک موٹر سائیکل سوار لڑکے نے راہ چلتی لڑکی سے پرس چھینا اور دھکا دے کر گرا دیا۔ اس واقعے کی بھی ویڈیو وائرل ہوئی، ہمارے ادارے حرکت میں آئے اور ایک ہی روز میں ملزم گرفتار ہو گیا۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ملزم کافی عرصے سے یہ کام کر رہا ہے لیکن کبھی پکڑا نہیں گیا۔ اگر اس واقعہ کی ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو نا جانے کتنے اور جرم ہوتے۔

    حال ہی میں ایک ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آیا۔ با اثر افراد نے ایک جوڑے (کپل) کو مارنے پینے کے ساتھ نہ صرف لڑکی کو برہنہ کیا بلکہ ان سے زبردستی نازیبا حرکات کروائی گئیں۔ اسکے بعد لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس سب کی ویڈیو بنائی گئی۔ یہ واقعہ تقریباً 8 ماہ قبل پیش آیا تھا، اتنے عرصے میں مُجرم کھلے عام گھومتے رہے اور پولیس کو اُنہیں گرفتار کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ شاید اسی لیے لڑکا یا لڑکی میں سے کسی نے پولیس رپورٹ نہیں کی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں انصاف نہیں ملے گا۔ ان کی بھی داد رسی ہوئی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد۔ ویڈیو وائرل ہونے کے کچھ ہی دنوں میں نہ صرف سب مُجرم گرفتار ہو گئے بلکہ ان کے پاس سے ایسی کئی دوسری ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔

    اگر اس جوڑے کو انصاف کی تھوڑی سی بھی امید ہوتی تو شاید وہ بہت پہلے پولیس کے پاس چلے جاتے۔ لیکن انصاف ملا بھی تو رُسوا ہونے کے بعد۔ بلکہ ابھی انصاف کہاں ملا ہے۔ کچھ دن بعد ہم یہ قصہ بھول بھال کر ایک نئی ویڈیو وائرل کریں گے جیسے ہم سیالکوٹ موٹروے والے واقعے کو بھول چکے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا، ظلم ہوتا رہے گا، ویڈیوز بنتی رہیں گے، ہم واویلہ کرتے رہیں گے اور کچھ دن بعد ایک نئی ویڈیو وائرل ہوتے ہی پچھلے واقعات بھولتے جائیں گے۔

  • کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے-

    باغی ٹی وی : کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں سے باہر نکل آئے، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلہ کی شدت 4.8 ریکارڈ کی گئی-

    زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز کوہاٹ کے نزدیک تھا، اور زیرزمین گہرائی 20 کلو میٹر تھی-

    واضح رہے کہ اس سے 4 دن قبل بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.7 اور زیرزمین گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی تھی زلزلہ پیمامرکز نے بتایا تھا کہ زلزلے کا مرکز  ژوب سے 82کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔

  • گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    شمشال جھیل ، گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل، اس خوبصورت جھیل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔

    گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔

    وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کرکے ایک سڑک تعمیر کرلی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

    وادی شمشال ایک انتہائی وسیع و عریض علاقہ ہے جس کی سرحدیں چین اور بلتستان سے ملتی ہیں۔ وادی شمشال میں پامیر کا علاقہ بھی شامل ہے۔ وادی شمشال ایک دشوار گزار وادی میں واقع ہے اس کی وجہ سے باقی دنیاسے سے کٹاہواتھا۔ تاہم، تقریباً دس سال پہلے اس خوبصورت وادی اور جفاکش کوہ پیماؤں کی سرزمین تک آخر کار سڑک بن گئی۔ سڑک کی تعمیر میں یہاں کے مقامی ہنرمندوں اور جفاکشوں نے انتہائی اہم قربانیاں دیں۔

    شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کےلیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

    واضح رہے کہ شمشال کی ایک انتہائی اہم وجہ شہرت یہاں پر جنم لینے والی کم عمر کوہ پیما ثمینہ بیگ ہے، جس نے دنیا کی بلند ترین چوٹی سرکرکے یہ کارنامہ سر انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے علاوہ، وادی شمشال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما رجب شاہ اور مہربان شاہ نے پاکستان کی بلند ترین چوٹی پر چڑھنے کا اعزاز حاصل کیاہے۔ کوہ پیمائی سے منسلک نامور اور تجربہ کار افراد کی ایک بہت بڑی تعداد شمشال سے تعلق رکھتی ہے۔

  • 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ماہرین کو قازقستان میں جھیلوں اور قدرتی حجری آثار پرمشتمل مشہور سیاحتی مقام پر ایک چوٹی ملی ہے جہاں ماضی کے 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال معلوم کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : لیوزین یونیورسٹی کی ارضیات داں، شارلوٹ پروڈ کا کہنا ہے کہ چارِن گھاٹی (کینویئن) میں ایک مقام پر 80 میٹر طویل پتھریلا سلسلہ ہےجہاں کلائمٹ چینج کا پانچ کروڑ سالہ ریکارڈ موجود ہے۔ یوں یہ بہت نایاب جگہ ہے اور زمین پر ایسے آثار کم ہی ملتے ہیں۔

    ’یہاں مٹی اور گرد کے پرتیں ہیں جو یوریشیائی برِاعظم میں طویل عرصے کا موسمیاتی راز فاش کرتی ہیں اس عرصے میں یہاں کی زمین نے زمین، فضا اور سمندرکے موسمیاتی اتارچڑھاؤ میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ یعنی یہ جگہ ایک طرح کا لِٹمس ٹیسٹ ہے جو بحرِآرکٹک میں میٹھے پانی کے بہاؤ، اور نمی والی ہواؤں کی خشکی تک منتقلی جیسے معاملات کا پورا احوال اس جگہ محفوظ ہے۔

    شارلوٹ نے اپنی تحقیق کمیونکیشنز ارتھ اینڈ اینوائرمنٹ میں شائع کی ہیں 80 میٹر طویل زمینی ٹکڑے پر پلائیوسین اور پلائسٹوسین دور کی کہانی لکھی ہے، ان میں پلائیوسین کا دور 50 لاکھ سال سے 26 لاکھ سال پرانا ہے اوراسی زمانے میں انسانی سرگرمیاں موسم پراثرانداز ہوئی تھیں یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق سے ہم زمین پر آب و ہوا کی تبدیلی کا مستقبل بھی جان سکتے ہیں۔

    اس طرح پہلی مرتبہ وسط ایشیا کا آب و ہوا میں اہم کردارسامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ہم سمندری تحقیق سے ہی اس عمل کو سمجھ رہے تھے اور یوں قازقستان کا یہ علاقہ اب مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ تحقیق سے قدیم موسمیاتی پس منظر کی نقشہ سازی کرنے میں بہت مدد ملے گی یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق کو دیگر ماہرین نے بھی سراہا ہے۔

    چارِن گھاٹی کے سلسلے میں لگاتار مٹی کے انبارموجود ہیں اور اس کا سلسلہ کہیں بھی نہیں غائب نہیں۔ یہاں کی مٹی میں ماہرین نے مختلف معدنیات، عناصر اور آئسوٹوپس کا مطالعہ کیا ہے۔ قدیم مقناطیسی مطالعے اور یورینیئم ڈیٹنگ سے جمع شدہ ارضیاتی آثار کا ریکارڈ اور عمر معلوم کی گئی تو معلوم ہوا کہ گزشتہ پانچ ملین سال میں یہاں کی خشکی بتدریج بڑھی ہے-

    جبکہ پلائیوسین کے ابتدائی عہد میں یہاں کی مٹی خاصہ پانی موجود تھا۔ تاہم بعد میں وسط طول البلد کی مغربی ہواؤں اور سائبیریا کے بلند دباؤ والے موسمیاتی سسٹم سے یہاں کئی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔

    بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ اس جگہ پر مزید تحقیق سے زمین کی موسمیاتی آب بیتی کے کئی راز کھلیں گے۔

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

  • خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    ہر سال امریکہ اور کینیڈا میں پیدا ہونے والی لاکھوں تتلیاں اڑ کر میکسیکو جاتی ہیں جہاں وہ ایک موسم سرما گزار کر واپس آ جاتی ہیں۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہر گزرتے برس کے ساتھ ان تتلیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہر ماحولیات سارہ ڈائیکمین تتلیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے حوالے سے کچھ کرنے کے لیے نکل پڑی ہیں۔ وہ بھی تتلیوں کے ہمراہ میکسیکو سے شمالی امریکہ اور کینیڈا اور پھر واپس میکسیکو تک سائیکل پر سفر کیا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین ماہر ماحولیات کے ساتھ ایک استاد بھی ہیں سارہ وہ پہلی شخص ہیں جنھوں نے ’بادشاہ تتلیوں‘ کے امریکہ سے میکسیکو تک نقل مکانی کو دیکھنے کے لیے اپنے سائیکل پر 16,417 کلومیٹر کا لمبا سفر طے کیا ہے۔

    بی بی سی کو انٹر ویو میں سارہ نے بتایا کہ ا نہوں نے اپنے طویل سفر کا آغاز مرکزی میکسیکو سے کیا۔ انھوں نے بلند و بالا پہاڑوں پر دیکھا کہ ہزاروں تتلیاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر کود رہی ہیں، میکسیکو کے وہ پہاڑ جہاں یہ تتلیاں سردیاں گزارتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق ان پہاڑوں کا موسم اُن کے لیے بہت مناسب ہے۔ دس ہزار فٹ کی بلندی پر موسم نہ تو بہت گرم اور نہ ہی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے شمال کی جانب سیرا مادرے پہاڑی سلسلے کی جانب سفر کرتی ہیں جب وہ امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ ایک وسیع علاقے پر پھیل جاتی ہیں۔ اور انہیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے گوگل نقشوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور کئی دفعہ انھیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے سائیکل کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے بتایا کہ تتلیاں کسی ایک کھیت سے راستہ نہیں بناتیں بلکہ رات کو ایک کسی کونے سے اگلے سفر پر روانہ ہوتی ہیں۔ کبھی تو ان کا سفر شروع کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن بعض اوقات بہت ہی مشکل۔‘

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کا کہنا تھا کہ ایک مادہ تتلی 500 انڈے دیتی جس میں تقریباً ایک فیصد اپنی بلوغت تک پہنچ پاتے ہیں۔ بقیہ 495 انڈے دوسرے حشرات کے لیے خوراک کا ذریعہ ہیں۔

    ایسی تتلیاں جو بلوغت کو پہنچ جاتی ہی اور امریکہ کی شمالی ریاستوں اور کینیڈا تک پہنج جاتی ہیں وہ میکسییکو میں اپنے قیام کے برعکس کسی اجتماع کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ وہ کھلے علاقے میں پھیل جاتی ہیں –

    ڈائیکمین تتلیوں کے ساتھ اپنے سفر کے دوران ہر روز سائیکل پر نوے میل کا سفر طے کرتی ہیں۔ وہ اپنے جسم کو آرام دینے کے لیے ہر دس روز بعد ایک چھٹی کرتی ہیں لیکن تتلیاں کوئی چھٹی نہیں کرتیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بادشاہ تتلیوں کے رینگنے کے لیے بہترین درجہ حررارت پانچ سینٹی گریڈ جبکہ اڑنے کے لیے تیرہ سینٹی گریڈ ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں تتلیوں کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ چونکہ ان کے جسم کا درجہ حرارت ماحول کے درجہ حرارت کے برابر ہوتا ہے اور اگر عالمی حدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے تتلیوں کے وجود کے لیے خطرات ہو سکتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق وہ تتلیاں جو میکسیکو سے اپنا سفر شروع کرتی ہیں وہ جب امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ مرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تتلیوں کی اگلی نسل دو سے پانچ ہفتوں تک زندہ رہتی ہیں۔ کینیڈا اور شمالی امریکہ تک پہنچتے پہنچتے تتلیوں کی چوتھی نسل تیار ہو چکی ہوتی ہے۔

    سارہ نے بتای کہ لیکن کینیڈا میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیوں کی نسل کا جسمانی حجم قدرے بڑا ہوتا ہے اور ان کی زندگی کا دورانیہ آٹھ مہینے ہے، جو بہت بہت طویل ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے مزید کہا کہ کینیڈا اور شمالی امریکہ کے موسم خزاں میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیاں ہی ہیں جو سردیوں کے موسم میں میکسیکو کی طرف ہجرت کر جاتی ہیں اور پھر موسم بہار میں واپس امریکہ لوٹ کر انڈے دیتی ہیں.

    انہوں نے بتایا کہ موسم بہار میں کینیڈا کی طرف سفر کے دوان ان کی توجہ انڈے دینے پر مرکوز ہوتی ہے لیکن موسم خزاں کی ہجرت کے دوران ان کی زیادہ توجہ پھولوں سے رس چوسنے پر ہوتی ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے تتلیوں کے ساتھ دونوں جانب ہجرت کی ہے، میکسیکو سے امریکہ اور پھر امریکہ سے میکسیکو تک 264 دن سفر کیا-

  • صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت

    صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے ماہرین نے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت کر لیں-

    باغی ٹی وی : بی بی سی اردو کے مطابق ننگر پارکر سے ملنے والی جین مت کی 700 سال پرانی دو مورتیوں کو ’کیمیکل پراسیس‘ کے ذریعے محفوظ بنانے کے فیصلے کے بعد ان سمیت چھ دیگر مورتیوں کو حیدر آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

    سندھ کے صحرائی علاقے تھر کے قدیم شہر ننگر پارکر میں نصف درجن کے قریب جین مندر خستہ حالت میں موجود ہیں، جن کی بحالی کا کام محکمہ آثار قدیمہ اور سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ذمہ ہے۔

    ننگر پارکر کی ایک طرف رن آف کچھ ہے تو دوسری طرف انڈیا کی ریاست گجرات۔ تقسیم سے قبل یہاں کے لوگوں کا انڈین ریاست گجرات سے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تجارتی تعلق رہا ہے۔

    مگر ان مورتیوں کی حیدر آباد منتقلی پر تھر کی علمی و ادبی حلقوں نے اعتراض کیا ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی گئی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان مورتیوں کو ننگر پارکر میوزیم میں رکھا جائے۔

    اس پر محکمہ آثار قدیمہ کے ڈی جی منظور قناصرو نے غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایک تو ان مورتیوں کی مرمت کرنی ہے، دوسرا اس وقت ننگر پارکر میں سٹاف نہیں۔ ’جیسے ہی وہاں سٹاف کی تعیناتی ہو گی، مورتیاں منتقل کردی جائیں گی۔‘

    ننگرپارکر شہر میں واقع قدیم جین مندر کی بحالی کے کام کے دوران وہاں سے پانچ مورتیاں برآمد ہوئی تھیں۔

    سندھ اینڈومنٹ فنڈز سے منسلک مندر کی بحالی میں شریک ایک ماہرکے مطابق بحالی کے دوران کھدائی کی گئی تو گربھاگرہ یعنی زیر زمین عبادت کے کمرے کا سراغ لگا، جس کا راستہ پتھر لگا کر بند کیا گیا تھا اسے ہٹا کر وہ جب اندر داخل ہوئے تو دو فٹ کی سفید ماربل کی مورتی ملی جو جین مذہب کے اوتار مہاویر کی ہے۔

    اس ماہر کے مطابق مندر کے ساتھ جو گئوشالہ ہے وہاں کھدائی کے دوران مزید پانچ مورتیاں ملیں، جو گولڈن سینڈ سٹون کی بنی ہوئی ہیں اور دس انچ سے لے کر دو فٹ کے قریب اونچی ہیں۔ یہ بھی مہاویر کی ہیں۔

    ننگرپاکر شہر میں واقع مندر کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے 13ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ یہ مہاویر مندر تھا اور اسی کی پوجا کی جاتی تھی۔

    یاد رہے کہ مہاویر یا مہاویرا جین دھرم کے چوبیسویوں اور آخری تیرتھانکر (گروؤں کا سلسلہ) ہیں، جن کی پیدائش چھٹی عیسوی میں بہار میں ہوئی تھی۔

    سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ماہر کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ جین دھرم کے لوگوں نے جب یہاں سے نقل مکانی کی تو اس سے قبل زیر زمین عبادت کے کمرے میں مہاویر کی مورتی رکھ کر دروازے کو بند کردیا ہو گا کیونکہ مندر کی یہی مرکزی مورتی ہے۔

    ان کا خیال ہو گا کہ یہ یہاں محفوظ ہو گی اور جب صورتحال بہتر ہو گی اور وہ واپس آئیں گے تو اپنی اصل جگہ پر لگا سکیں گے۔

    ننگرپارکر اور اس کے آس پاس میں بھوڈیسر، ویراہ واہ میں جین دھرم کے کئی مندر ہیں، جن میں پتھر اور ماربل کا کام کیا گیا ہے۔ بعض کے اندر کہانیاں بھی بیان کی گئی ہیں تاہم کسی بھی مندر کے اندر مورت موجود نہیں۔

    ایک قدیم مندر ویرا واہ شہر میں بھی واقع ہے سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ماہر کے مطابق یہ جین مندر شانتی ناتھا سے منسوب ہے، جو جین دھرم کی چھٹے تیرتھانکر تھے۔ ان کی پیدائش موجودہ میرٹھ شہر کے قریب شہر میں ہوئی تھی۔

    اس ماہر کے مطابق سنہ 1971 کی جنگ میں یہ علاقہ انڈین فوج کے قبضے میں رہا اور وہ یہ مورتی اپنے ساتھ لے گئے جو اس وقت ممبئی میوزیم میں موجود ہے۔

    جین دھرم کے پانچ اہم اصول یہ ہیں: عدم تشدد، سچ گوئی، چوری نہ کرنا، پاکیزگی اور دولت کی لالچ سے خود کو دور رکھنا۔ اس دھرم کے پیروکار ماحول دوست تصور کیے جاتے تھے۔

    ننگر پارکر کے رہائشی اللہ نواز کھوسو ان لوگوں میں تھے جنھوں نے جین دھرم والوں کو یہاں دیکھا تھا۔ ان کا چند برس قبل انتقال ہوا۔

    انہوں نے اپنی وفات سے قبل اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جینی لوگ انسانوں کے علاوہ جانوروں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ وہ صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے اور سورج غروب ہونے سے قبل ہی کھانا کھا لیتے تھے۔

    وہ گھروں میں بتی یا دِیا روشن نہیں کرتے تاکہ کیڑے مکوڑے اس سے جل کر ہلاک نہ ہو جائیں اور اس کے علاوہ جانوروں اور کتوں کو خوراک فراہم کرتے تھے۔

    اللہ نواز کھوسو کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی نے جینی لوگوں کو آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ پاکستان بننے کے سال میں وہ اپنی مورتیاں لے کر یہاں سے چلے گئے۔ باقی جو چند خاندان موجود تھے وہ بھی 1971 میں چلے گئے۔

    حکمہ نوادرات کے سابق سیکریٹری ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ ننگر پارکر اور پاری نگر جین دھرم والوں کا گڑھ رہا ہےاسلام کی آمد سے پہلے سے لے کر تیرھویں صدی تک جین کمیونٹی نے تجارت میں عروج حاصل کیا اور جب یہ کمیونٹی خوشحال ہوئی تو انھوں نے یہ مندر تعمیر کرائے۔

    ’موجودہ مندر بارہویں اور تیرہویں صدی کے بنے ہوئے ہیں۔‘

  • مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے  محققین

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے محققین

    محقیقن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعےبحیرہ مردار کے قریب غاروں سے سکرولزکی صورت میں برآمد ہونے والی پراسرار قدیم دستاویزات کا راز جان لیا ہے –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کے مطابق محققین نے ان قدیم طوماروں کے مخطوطات میں سے ‘عظیم كتاب أشعيا’ کہلانے والی دستاویز پر تجربات کیے تھے جن سے پتہ چلا کہ شاید دو نامعلوم افراد نے قدیم زمانے میں اُس وقت کی زبان میں ہاتھ سے لکھے گئے الفاظ کی ہُو بہُو نقل تیار کی تھی۔

    ان قدیم مخطوطات جو کے طومار کی صورت میں یعنی گول لپٹے ہوئے کاغذات کی صورت میں غاروں میں ملے تھے، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک انجیل کے عہد نامہِ قدیم کا ایک نُسخہ ہے 70 برس پہلے برآمد ہونے والے یہ مخطوطات آج کے لوگوں کے لیے باعثِ حیرت ہیں اور ابھی تک راز ہی بنے ہوئے ہیں-

    ان قدیم مخطوطات کا ایک حصہ بحیرہِ مردار کے قریب قمران نامی پہاڑ کے ایک غار سے مقامی بدوؤں کو ملا تھا اب غرب اردن کے یہ پہاڑ اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

    ان میں زیادہ تر ایسے مسودے ہیں جو عبرانی، آرامی اور یونانی زبان میں لکھے ہوئے ہیں، اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تیسری صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق بنتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق كتاب أشعيا ان 950 مختلف مخطوطات میں سے ایک ہے جو ان غاروں سے سنہ چالیس اور سنہ پچاس کی دہائیوں میں ملے تھے۔ یہ مخطوطہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے 54 کالم نصف حالت میں تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ ایک ہی انداز سے لکھے گئے ہیں۔

    ہالینڈ میں یونیورسٹی آف گرونینجن کے محققین نے كتاب أشعيا کے جائزے کے لیے مصنوعی ذہانت اس وقت سب سے زیادہ جدید اور نمونوں کو سمجھنے کے طریقے کا استعمال کیا۔ انھوں نے عبرانی زبان کے ایک حرف ‘الف’ کا تجزیہ کیا جو کہ اس کتاب میں 5000 مرتبہ درج تھا۔


    فوٹو بشکریہ بی بی سی اردو

    محققین ملادن پوپووچ، معرو ف ضالع اور لمبرٹ شومیکر اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا کہ وہ اس قدیم روشنائی کے نشانات کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو ڈیجیٹل امیجز پر ظاہر ہوئے تھے۔

    ان محققین کے مطابق قدیم روشنائی کے نشانات کسی بھی شخص کے بازو اور ہاتھوں کے پٹھوں کی حرکات و سکنات کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ ہر فرد کے اپنے انداز کی مخصوص ہوتی ہیں انھوں نے اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ آیا ایک مخطوطے کے لکھنے میں ایک سے زیادہ افراد شامل تھے اس طریقے کا استعمال کیا۔

    محققین کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ دو کاتبین مل جل کر کام کرتے رہے تا کہ وہ ایک جیسا طرز تحریر برقرار رکھ سکیں لیکن ساتھ ساتھ اپنی منفرد خصوصیت کو بھی ظاہر کر سکیں۔

    محققین کے مطابق کتابت میں یکسانیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کاتبین کو کسی ایک مدرسے یا ایک خاندان میں ایک جیسی تربیت دی گئی ہو، مثال کے طور پر دونوں کو ان کے والد نے لکھنے کی تربیت دی ہو کاتبوں کی ایک دوسرے کی نقل کرنے کی صلاحیت اتنی بہترین تھی کہ اب تک کے کئی ماہرین ان دو کاتبوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھ سکے تھے-

    معروف ضالع نے اس تحقیق کا پہلا تجزیاتی ٹیسٹ کیا ٹیکسٹوریل اور ایلوگرافک خصوصیات کے ان کے تجزیہ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ عظیم كتاب أشعيا کے طومار میں متن کے 54 کالم دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جنہیں تُکّے سے تقسیم نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ان کے کلسٹرڈ منظم انداز میں بنے ہوئے تھے۔

    اس تبصرہ کے ساتھ کہ اس طومار کے ایک سے زیادہ کاتب ہو سکتے ہیں، ضالع نے ان اعداد و شمار کو اپنے ساتھی محقق شومیکر کے حوالے کیا، جنھوں نے اب حروف کے ٹکڑوں کے نمونوں کا استعمال کرتے ہوئے کالموں کے مابین مماثلتوں کا جائزہ لیااس دوسرے تجزیاتی مرحلے نے دو مختلف کاتبوں کے ہونے کی تصدیق کردی-

    عظیم کتاب اشعیا کا یہ تجزیہ اور اس مخطوطے کی کتابت میں دوسرے کاتب کی شناخت کرنے میں کامیابی اب یہ قمران سے ملنے والے دوسرے قدیم مخطوطوں کا تجزیہ کرنے کے بھی نئے امکانات کھولتی ہے۔

    اب محققین دونوں کاتبوں کے لکھے ہوئے طومار کی تحریروں کے مائکرو لیول تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور احتیاط سے مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ انھوں نے ان مخطوطات پر کس طرح کام کیا۔

    پوپووچ کے مطابق یہ بہت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس سے قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع بنتا ہے جو ماہرین اور محققین کے مابین ان کاتبوں کے درمیان بہت زیادہ پیچیدہ روابط کا انکشاف کر سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مطالعے میں ہمیں ایک بہت ہی ایک جیسے طرز تحریر کے شواہد ملے ہیں جو عظیم اشعیا کے اسکرول کے مشترکہ دو کاتبوں کی ایک جیسی تربیت یا اصلیت کا پتہ دیتے ہیں ہمارا اگلا مرحلہ دیگر طومار کی تحقیقات کرنا ہے، جہاں ہمیں ان کے مختلف کاتبوں کی ابتدا یا تربیت کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔

    اس طرح سے ہمیں ان معاشروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی جنھوں نے بحیرہ مردار کے طومار تیار کیے تھے اب ہم مختلف لکھنے والوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ان کے نام کبھی نہیں جان پائیں گے لیکن 70 سال کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر ہم ان کی لکھاوٹ کے ذریعہ ان سے مصافحہ کر لیں گے۔