Baaghi TV

Category: موسمیات

  • شہر قائد میں تیز ہواؤں نے تباہی مچادی، دیواریں گرنے سے بچے سمیت 5 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی ہوگئے

    شہر قائد میں تیز ہواؤں نے تباہی مچادی، دیواریں گرنے سے بچے سمیت 5 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی ہوگئے

    کراچی : شہر قائد میں تیز ہواؤں نے تباہی مچادی، چھتیں اڑ گئیں جبکہ دیواریں گرنے کے واقعات میں کرنٹ لگنے سے بچے سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔
    تفصیلات کے مطابق کراچی میں تیز ہوائوں کے سبب دیواریں گرنے سے 5 افراد جاں بحق اور متعدد موٹر سائیکل سوار توازن قائم نہ رکھتے ہوئے گر کر زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق کنیز فاطمہ سوسائٹی، گلشن معمار، شیر شاہ، اور نارتھ کراچی میں دیواریں گرنے سے 4 افرادجاں بحق ہوئے۔
    لانڈھی مانسہرہ کالونی گلی نمبر10 کے قریب گھر میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، جاں بحق ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت خوانین ولد غلام جان کے نام سے ہوئی۔
    ریسکیو ذرائع کے مطابق سرجانی گلشن کنیز فاطمہ سوسائٹی کے قریب گھر کی دیوار گر نے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا، بچے کی باڈی چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی ہسپتال منتقل کی گئی۔

    مواچھ گوٹھ بلدیہ میں چھت کا حصہ گرنے سے خاتون اور مرد زخمی ہوئے۔ تیز ہوا سے ناردرن بائی پاس نزد پاور ہاس گلبائی کانٹا موٹر سائیکل سلپ ہونے سے 2 افراد زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی شناخت صادق اور اجمل کے نام سے ہوئی۔گلشن معمار میں تیز ہوائوں کے باعث گھر کی دیوار گرگئی اور ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ جس کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
    اسی طرح بلدیہ ٹائون اسپارکو روڈ پر گھر کی چھت کا ایک حصہ گرگیا جس کے سبب گھر میں موجود تین افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔نارتھ کراچی میں زیر تعمیر دیوار گرگئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کے ٹینٹ ، قناتیں، بینرز، لائٹس بھی گرگئیں۔ کراچی میں تیز ہواؤں کے باعث تقسیم اسناد کیلئے لگائے گئے ٹینٹ اکھڑ گئے،موسم کی خرابی کے باعث جامعہ کراچی کا سالانہ تقسیم اسناد ملتوی کردیا گیا۔

  • شہر قائد میں گزشتہ رات رواں سال کی سرد ترین شب رہی

    شہر قائد میں گزشتہ رات رواں سال کی سرد ترین شب رہی

    کراچی : ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گزشتہ رات رواں سال کی سرد ترین شب رہی، پارہ سنگل ڈیجٹ میں آ گیا۔

    شہرِ قائد میں موسم کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہو گیا ہے۔کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 9 اعشاریہ 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر کا موسم خشک اور رات مزید سرد ہونے کا امکان ہے۔پیرکوکم سے کم درجہ حرارت 9 سے 11 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ریکارڈ کیا جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔شہرِ قائد میں شمال مشرق کی سمت سے 7 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں، جن میں نمی کا تناسب 87 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  • طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، کئی شہروں میں سیلابی صورتحال

    طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، کئی شہروں میں سیلابی صورتحال

    کراچی : طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، کئی شہروں میں سیلابی صورتحال بلوچستان کے کئی شہروں میں سیلابی ریلوں کے باعث کئی گھر تباہ، ساحلی شہر گوادر میں ایمرجنسی نافذ۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے بیشتر علاقے مغربی ہواوں کے سلسلے کی زد میں آنے کے بعد طوفانی بارشوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں برف باری اور موسلا دھار بارشوں سے پارہ نقطہ انجماد تک گر گیا اور صوبے کو سردی کی شدید لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ۔ ضلع کیچ کے علاقے مند میں سیلابی ریلے کے باعث بند ٹوٹ جانے سے پانی آبادی میں داخل ہوگیا، طوفانی بارشوں کے سبب تربت اور مند کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے جبکہ گوادر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی گھروں میں پانی داخل ہوگیا اور کئی کچے مکانات منہدم ہو گئے۔

  • سمندری طوفان شاہین کے عُمان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے       عرب موسمیاتی سروس

    سمندری طوفان شاہین کے عُمان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے عرب موسمیاتی سروس

    سمندری طوفان شاہین عمان کے ساحل سے ٹکرا گیا ہے جبکہ ملک میں کئی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق سمندری طوفان "شاہین” آج اتوار کی صبح سلطنت عُمان کے ساحل سے ٹکرا گیا۔ سوشل میڈیا پر عمان میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور تیز آندھی کی تصاویر اور وڈیو شئیر کی گئیں-

    عمانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شاہین طوفان کے سبب مسقط صوبے میں انتہائی تیز بارشیں ہو رہی ہیں شہری دفاع کے مطابق صوبے میں بارش کے دوران سواریوں میں پھنس جانے کے 9 واقعات کی اطلاع ملی اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 25 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔


    قدرتی آفات کے پیشگی انتباہی قومی مرکز کے مطابق شاہین طوفان کا مرکز مسقط صوبے سے تقریبا 130 کلو میٹر دور ہے۔ مرکز کے گرد ہوا کی رفتار کا اندازہ 116 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

    "شاہین”سمندری طوفان نے گوادرکے ساحل پرہلچل مچادی:کشتیاں الٹ گئیں،خطرے…

    عرب موسمیاتی سروس کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان شاہین کے عُمان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔


    عُمان کی شہری ہوابازی کی ایجنسی نے کہا ہے کہ قومی قدرتی آفات پیشگی انتباہی مرکز کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر اور موسمی چارٹس کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ سمندری طوفان ’’شاہین‘‘ شدت اختیار کرچکا ہے اور اب وہ سمندری طوفان کی کیٹگری ایک میں شامل ہے۔

    عمان میں حکام نے سمندری طوفان شاہین کی وجہ سے خراب موسمی حالات کے پیش نظر اتوار اور پیر (3 اور 4 اکتوبر) کو ملک بھر میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    عمان کی خبررساں ایجنسی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’3 اور 4 اکتوبر 2021 کو سلطنت میں نامساعد آب وہوا کے حالات کے پیش نظر ظفاراورالوسطیٰ کی گورنریوں کے سوا ریاستی انتظامی محکموں، دیگر قانونی اداروں اور نجی شعبے کے اداروں کے ملازمین کے لیے سرکاری تعطیل ہوگی۔‘‘


    موسمیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ طوفان عمان پراثرانداز ہونے کے بعد خلیج عرب کی طرف بڑھے گا اوراس سے قطر بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

    سنہرے مستقبل کے لیے بیرون ملک جانے والےجہلم کے نوجوانوں کا گروپ تاوان کےلیے اغواء

    اس سے قبل عمان کے شہری ہوا بازی کے ادارے نے خبردار کیا تھا کہ اس طوفان کے سبب تیز ہوائیں چلیں گی اور200 سے 600 ملی میٹرتک موسلا دار بارش ہو گی۔ بارش کے نتیجے میں شمالی البطینہ، جنوبی البطینہ، مسقط، الظہیرہ، البریمی اورالداخلیہ میں شدید سیلاب کا خطرہ ہے۔


    عمان میں ہفتے کے روز الخابورہ اور صحم میں ساحلی علاقوں سے شہریوں کو نکال کر پناہ کے مراکز منتقل کر دیا گیا تھا۔ ادھر عمانی وزارت صحت نے شاہین طوفان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایمرجنسی پلان نافذ کر دیا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ 130 برسوں کے دوران میں 46 طوفان عُمان کے ساحلوں تک پہنچے ہیں-

    دوسری جانب سمندری طوفان سے گوادر کے ساحل سے بھی اونچی لہریں ٹکرا رہی ہیں اور سمندر میں طغیانی بھی ہے۔ حکام نے ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔

    مقام براہیم پر خانہ کعبہ کا عکس، تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

  • امریکا:لوزیانا کو کیٹگری 4 شدت کے انتہائی شدید طوفان کا سامنا

    امریکا:لوزیانا کو کیٹگری 4 شدت کے انتہائی شدید طوفان کا سامنا

    امریکی ریاست لوزیانا سے کیٹگری 4 شدت کا انتہائی شدید طوفان آئیڈا ٹکرانے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

    باغی ٹی وئ :رپورٹ کے مطابق کیٹگری 4 شدت کا انتہائی شدید طوفان آئیڈا امریکی ریاست لوزیانا (Louisiana) سے ٹکرا گیا۔ جس کے بعد وہاں تیز بارشوں کے ساتھ 150 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں جو گھروں اور مالز کی چھتے تک اڑا کر لے گئی۔

    رپورٹس کے مطابق ہزاروں افراد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، تاہم علاقے میں رہ جانے والے افراد کو طوفان کے گزر جانے تک محفوظ مقام پر رہنے اور احتیاط کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طوفان کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے بنائی گئی پناہ گاہیں کرونا وبا کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

    امریکی پاور آوٹیج کے مطابق اس وقت امریکی ریاست میں 5 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں جبکہ نیو اورلینز شہر کو بجلی پہنچانے والی تمام آٹھ ٹرانسمیشن لائنیں سروس سے باہر ہیں۔

    سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا

    لوزیانا کے محکمہ ٹرانسپورٹیشن کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر درخت گرنے کے باعث حادثات سے بچنے کے لیے ٹریفک کا نظام بھی روک دیا گیا ہے۔

    ریاستی گورنر کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان آئیڈا لوزیانا میں آنے والے مضبوط ترین طوفانوں میں سے ایک ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آئیڈا پچھلے سال آنے والے سمندری طوفان لورا اور 1856 کے سمندری طوفان کے ساتھ ریاست کا اب تک کا سب سے طاقتور طوفان ہے۔

    لوزیانا کے گورنر نے لوگوں سے گھروں میں رہنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا

    سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا

    سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی: "روئٹرز” کے مطابق سمندری طوفان اڈا نے ہفتہ کو گرم خلیج میکسیکو کے پانیوں میں شدت اختیار کی ، جس سے دسیوں ہزار افراد ساحلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ، جبکہ صدر جو بائیڈن نے طوفان کے گزرنے کے بعد ریاستوں کو جلد صحت یاب ہونے میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔

    پیشن گوئی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اڈا اتوار کی رات کو امریکا کے مقام پر پہنچ سکتا ہے جو کہ پانچ قدمی سیفیر سمپسن اسکیل پر "انتہائی خطرناک” زمرہ 4 کا طوفان ہے ، جس سے 140 میل فی گھنٹہ (225 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں ، شدید بارشیں اور سمندری طوفان۔ لوزیانا کے ساحل کا بیشتر حصہ کئی فٹ پانی کے نیچے ڈوب گیا۔

    قومی سمندری طوفان کے مرکز نے بتایا کہ ہفتہ کی شام اڈا مسیسیپی دریا کے تقریبا 200 میل (320 کلومیٹر) جنوب مشرق میں تھا ، 105 میل فی گھنٹہ (169 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی تیز ہواؤں کو پیک کر رہا تھا اور لوزیانا کے ساحل کا مقصد تھا۔

    رونالڈو کی پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپسی، تنخواہ کتنی ہو گی؟

    رپورٹس کے مطابق حکام نے طوفان کو انتہائی خطرناک بھی قرار دے دیا ہے، طوفان سے لوزیانا اور مسیسپی کے ساحلی علاقے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق حکام نے علاقے میں رہائش پذیر افراد کو علاقہ چھوڑنے کا بھی کہہ دیا ہے گزشتہ روز ان علاقوں میں معمول سے زیادہ ٹریفک دیکھا گیا، کئی علاقوں میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول بھی ختم ہوگیا جبکہ جن پمپس پر فیول دستیاب ہے وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

    تیل اور ٹرانسپورٹیشن کمپنیوں کو موسمی مشورے فراہم کرنے والے ڈی ٹی این کے چیف موسمیاتی ماہر جم فوسٹر نے کہا ، "ہم دھماکا خیز ترقی کے بارے میں فکرمند ہیں۔”

    این ایچ سی نے کہا اڈا کے طوفان کی لہر سے سیلاب – طوفان کی ہواؤں سے چلنے والا اونچا پانی – دریائے مسیسیپی کے ارد گرد 10 سے 15 فٹ (3 اور 4.5 میٹر) تک پہنچ سکتا

     

  • 142 سالہ تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ    ماہرین

    142 سالہ تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ ماہرین

    ماہرین کے مطابق 142 سال کی تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ تھا۔

    باغی ٹی وی : ماحولیاتی ادارے کی جاری رپورٹ کے مطابق تاریخ میں جولائی 2021 اب تک زمین کا گرم ترین مہینہ رہا ہے زمین اور سمندر کی سطح کا مشترکہ درجہ حرارت 20 ویں صدی کی اوسط سے 1.67 فیرن ہائٹ زیادہ تھا۔

    رپورٹ کے مطابق مشترکہ درجہ حرارت پچھلے ریکارڈ سے 0.02 فیرن ہائٹ زیادہ تھا جو 2016 میں ریکارڈ کیا گیا تھا شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، افریقہ اور اوشیانا سب کا جولائی کا درجہ حرارت اپنی اپنی ٹاپ 10 فہرستوں میں تھا۔

    رپورٹ میں کہنا ہے کہ یہ نیا ریکارڈ پریشان کن ہے اور دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کی خطرے کی گھنٹی ہے۔

    جولائی کے ریکارڈ درجہ حرارت کے بارے میں عالمی ادارے کا تجزیہ اقوام متحدہ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ کی روشنی میں سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ پہلے ہی شدید موسم کا باعث بن رہی ہے اور دنیا 2040 تک 2.7F درجہ حرارت میں اضافہ دیکھے گی ۔

    اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل آن کلائمیٹ چینج میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی لہریں ، سیلاب اور خشک سالی شدید سے شدید ہو جائیں گی کوئلے ، تیل اور گیس کو توانائی کے لیے جلا کر انسان پہلے ہی سیارے کو تقریبا 2 ڈگری فارن ہائیٹ سے گرم کرچکا ہے یہ لنک غیر واضح اور ناقابل واپسی ہے لیکن اگر حکومتوں نے تیزی سے کام کیا تو اس کے بدتر اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    حال ہی میں جاری کی گئی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا –

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھ کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہے-

    آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں : زمین کی سطح کا درجہ ہرارت سنہ 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا سنہ 2011 سے 2020 کے درمیان رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے ، گذشتہ پانچ برس سنہ 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔

    حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے ، دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں ،یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    جبکہ ماہرین کا کہنا تھا کہ یورپ میں شدید گرمی اس موسم گرما میں شمالی نصف کرہ کا تازہ ترین ریکارڈ ہے۔درجہ حرارت کے ریکارڈ کینیڈا ، امریکہ کے مغرب ، فن لینڈ ، ایسٹونیا ، ترکی اور ماسکو میں توڑے گئے ہیں۔ جرمنی اور چین کے کچھ حصوں میں سیلاب آیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جنگل سائبیرین تائیگا میں ریکارڈ جنگل کی آگ بھڑک رہی ہے۔

    کوپرنیکس اتموسفیر مانیٹرنگ سروس کے سینئر سائنسدان مارک پیرنگٹن کے مطابق ، روس کے سخا ریپبلک جنگل میں آگ نے اس سال 208 میگا ٹن کاربن جاری کیا ہے جو کہ پچھلے سال کا ریکارڈ ہے۔

  • موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بین الحکومتی پینل کی جانب سے دنیا کو خبردار کیا گیا ہے انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

    بی بی سی کے مطابق پیر کو بین الاقوامی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جس حساب سے گیسز کا اخراج جاری ہے، ایک دہائی میں درجہ حرارت کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہےیہ رپورٹوں کی اس سیریز کا پہلا حصہ ہے جو آنے والے مہینوں میں شائع کی جائیں گی اور یہ 2013 کے بعد سے اب تک موسمیاتی تبدیلی کی سائنس کا پہلا بڑا جائزہ ہے جسے گلاسگو میں ماحولیاتی اجلاس COP26 سے تین ماہ قبل جاری کیا گیا ہے۔

    آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں : زمین کی سطح کا درجہ ہرارت سنہ 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا سنہ 2011 سے 2020 کے درمیان رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے ، گذشتہ پانچ برس سنہ 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔

    حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے ، دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں ،یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

  • موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔  تحریر:صفدر حسین

    موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔ تحریر:صفدر حسین

    پچھلی کچھ دہائیوں سے زمین کی سطح کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آب و ہوا میں قدرتی اتار چڑھاؤ تو معمول کا حصہ ہے لیکن سائنسدان یہ کہہ رہے ہیں کہ آج کل درجہ حرارت پہلے کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
    گلیشیروں کا پگھلنا انتہائی ہیٹ ویو اور طوفان آرہے ہیں ، دنیا کے کچھ علاقے خشک سالی کا شکار ہیں۔ یہ آب و ہوا کی تبدیلی کے نتیجے میں ہورہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافے ہو رہا ہے اور یہ اضافہ گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے ، جو زمین کی آب و ہوا میں بہت سی تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔
    گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے گلوبل وارمنگ ہوتی ہے ، CO2اور گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے زمین کے ماحول میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ۔
    سورج سے آنے والی ریڈیشن گرین ہاؤس گیسوں کے ذریعے جذب اور دوبارہ خارج ہوجاتی ہیں اس کے لئے اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو ماضی میں اور کم تھا لیکن اب اس درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
    گلوبل وارمنگ کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں جنگلات کی کٹائی ، ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں سے فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلا ہوا دھواں اور جنریٹر ایئر کنڈیشنر اور ریفریجریٹرز جیسے بجلی کے آلات سے خارج ہونے والی حرارت بھی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب ہیں۔
    آئی پی سی سی کی رپورٹوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ "انسانوں اور انسانی سرگرمیوں سے پہلے کے دن سے لے کر اب تک دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور اس صدی کے دوسرے نصف حصے میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے ” سائنس دانوں کا خیال ہے کہ عالمی درجہ حرارت آنے والے عشروں تک بڑھتا رہے گا ، جس کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔
    انٹر گورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) ، جس میں امریکہ اور دیگر ممالک کے 1،300 سے زیادہ سائنس دان شامل ہیں ، اگلی صدی کے دوران درجہ حرارت میں 3.5 سے 8 ڈگری اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
    ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کو کم کرکے آب و ہوا کی تبدیلی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ جس کے لیئے ہمیں روایتی توانائی کے حصول کو ترک کر کے متبادل ذریعےسے توانائی کو حاصل کرنا ہوگا اور جتنا ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہونگے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے اس دنیا کو بچایا
    اور آنے والی نسلوں کو ایک اچھا مستقبل فراہم کیا جا سکے ۔

    ‎@itx_safder

  • سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    ہر کوئ چاہتا ہے کہ انہیں صاف و شفاف ماحول ملے لیکن بدقسمتی سے ہم وہ لوگ ہے جو کہ اپنے ماحول کو صاف بنانے کیلۓ کچھ بھی نہیں کر رہے اور ہر روز اپنے ماحول کو بدترین بنا رہے ہے ۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ صفائ نصف ایمان ہے ۔ یعنی صفائ ہمارے ایمان کا آدھا حصہ ہے ۔ چونکہ ہم مسلمان ہے اور حضورﷺ کو اپنا آخری نبی مانتے ہے تو ہمیں چاہئیے کہ ہم حضورﷺ کی اس بات پر عمل کرتے ہوۓ صفائ کو اپنا نصف ایمان بناۓ۔ اس سے ہم نہ صرف ہمیں فائدہ پہنچے گا بلکہ ہمارا ملک بھی صاف رہے گا اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
    پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ملکوں میں سے ہوتا ہے جو کہ آلودگی سے بری طرح متاثر ہے۔ اور یہ سب کچھ ہماری خود کی وجہ سے ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی خاص وجوہات میں شامل ایندھن کا جلانا، سڑک کے اطراف کچھرا پھینکنا، جنگلات کی کٹائ، گاڑیوں اور بجلی کے آلات کا غیر ضروری استعمال، کیڑے مار ادویات کا غلط استعمال اور صنعتی فضلہ یہ سب ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ کر رہے ہے جو کہ ماحولیاتی آلودگی کا بنیادی وجوہات ہے۔
    جب گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ موسم کی تبدیلی میں بھی شدت سے اضافہ ہوتا ہے ۔ اس موسمیاتی تبدیلی کے نتائج ہمارے خوراک، موسم، اور ہمارے صحت پر بھی پڑتا ہے۔
    نیشنل جیوگرافک کے مطابق موسمیاتی حالات میں شدت کی وجہ سے گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا جیسے برف کی چادریں پگھل جاتی ہے اضافی پانی جو کہ کبھی گلیشئرز میں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سے سمندر میں پانی کافی حد تک بڑھ جاتی ہے جو کہ ساحلی علاقوں میں سیلاب کا سبب بنتا ہے۔
    ماحولیاتی آلودگی ہمارے لیۓ ایک بہت ہی خطرناک صورتحال پیدا کرسکتا ہے ۔ جب اگر بارشیں نہیں ہوگی تو ہماری زمینیں زرخیز نہیں ہوگی۔ جب زمینیں زرخیز نہیں ہوگی تو فصل سہی نہیں ملےگا اور جب سہی فصل نہیں ملے گے تو اچھی صحت نہیں ہوگی اور بیماریاں زیادہ ہونگی کہیں ہم خشک سالی کا شکار ہونگے اور کہیں سیلاب کا۔ ہمارے پاس بھوک سے مرنے والے چہروں کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
    ہمیں اگر اپنے ملک پاکستان کو آلودگی سے پچانا ہو تو ہمیں چاہئیے کہ پولی تھین بھیگ کا ہرگز استعمال نہ کرے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بہت چھوٹی چیز ہے لیکن زمینی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ یہ بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے .پولی تھین بیگ بہت نقصان دہ ہیں جن کا دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا لہذا ہمیں اس کے استعمال پر پابندی عائد کرنی ہوگی. شمسی اور ہوا سے توانائی کا استعمال کیا جانا چاہئے جو گرین ہاؤس گیس کا اخراج پیدا نہیں کرتا ہے۔ بہاولپور میں پاکستان کا فوٹو وولٹک پاور اسٹیشن ، 100 میگاواٹ کا قائد اعظم سولر پارک کام کر رہا ہے.
    ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے باقائدہ حکومتی سطح پر بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کے تحت پورے ملک میں 1 بلین درخت اگاۓ جائینگے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ یہ ایک انتہائ سحر انگیز اقدام ہے ۔ جس میں نہ صرف درخت اگانے ہے بلکہ جگہ جگہ پر جو گندگی پڑی ہے اس کا بھی خاتمہ کرنا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم حکومت کے ساتھ بلین ٹری سونامی میں جوش و جزبے کے ساتھ شامل ہو

    جیسا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ ہمارے ایک متحدہ عمل اور منزل مقصود پر اعتماد کے ساتھ ہی ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت میں تبدیل ہونے میں کامیاب ہونگے۔ پاکستان کو صاف و شفاف اور سرسبز و شاداب بنانا بھی ہمارا ایک خواب ہے جسے ہم ایک دن ضرور پورا کرینگے. اور اپنے ملک سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کرینگے۔ اپنے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ ہر پاکستانی سے درخواست کرونگا کہ اس مون سون میں اپنے حصے کا ایک پودا لازمی لگواۓ.

    Waseem khan
    Twitter id: @Waseemk370