Baaghi TV

Category: موسمیات

  • قدرتی آفات اور پاکستان  تحریر : حنا

    قدرتی آفات اور پاکستان تحریر : حنا

    آپ سب جانتے ہیں ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا سلسلہ کئ روز سے جاری ہے ۔۔جس سے بلوچستان کراچی اسلام آباد کے کچھ علاقے شدید متاثر ہورہے ہیں.قدرتی آفات خاص کر بارشوں سے تباہی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں جب بارشوں کا موسم ہوتا ہے تو شدید بارشوں کی وجہ سے نقصانات بھی ہوتے ہیں ۔پھر وہ ملک امریکہ جیسی سپرپاور ہو یا دنیا کا سب سے ترقی یافتہ جاپان.طوفانی بارشوں کی وجہ سے جتنا نقصان تقریبا ہر سال جاپان میں ہوتا شاید ہی کسی اور ملک ہو ۔۔اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی نظر میں جاپان دنیا کا ترقی یافتہ ملک ہے ۔۔کہنے کا مقصد ہے کہ قدرتی آفات سے اتنا ترقی یافتہ ملک بھی نہی بچ پاتا ۔۔وہ بھی اپنے مرتے لوگوں کو بہتے پانی سے زندہ نکال نہیں سکتا ۔۔کیونکہ موت کے آگے اس کی ترقی اس کی ٹیکنالوجی بھی نہیں چلتی ۔۔لیکن ہمارے پاکستان میں یہ معمول بن چکا ہے۔۔حکومت آج کی ہو یا پچھلی ۔۔ہم قدرتی آفات پر بھی انسانوں کو زمہ دار ٹھہرانے لگ جاتے ہیں ۔کہ فلاں کی وجہ سے عذاب ہے فلاں برا تھا اس وجہ سے عذاب آگیا ۔ ہمیں اپنے سماجی رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ ہم قدرتی آفات کے متاثرین کو ان کے گناہوں کے نتیجے میں عذاب قرار دینے کی بجائے عملی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں، میری نظر میں یہ درحقیقت قدرت کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی کاہم خود کیسے سامنا کرتے ہیں اور انسانی ہمدردیوں کی بنیاد پردوسرے متاثرین کی کیسے مدد کرتے ہیں، انسان زمانہ قدیم سے قدرتی آفات کا سامنا کرتا آرہا ہے انسان تمام تر ترقی کے باوجود قدرتی آفات کے آگے بے بس ہے ۔۔پاکستان عوام قیام ِ پاکستان کے بعد سے ہی آفات کا حادثات کا شکار ہوتا آرہا ہے 2010ء کا سیلاب اپنی نوعیت کا خطرناک ترین تھا جس کے نقصانات کا تخمینہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 43ارب ڈالرز کا لگایا گیا تھا ایسے ہی قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان سمیت بھارت، بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، جاپان، فلپائن، میکسیکو، سوڈان، افغانستان اور امریکہ وغیرہ شامل ہیں،لیکن ہم بطور پاکستانی یا ہماری حکومت ان آفات سے بچنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں نہ ۔ہمیں اس حوالے سے حقیقت پسندانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ انسان قدرت کے کاموں میں مداخلت کے قابل تو نہیں لیکن قدرتی آفات کے نتیجے میں نقصانات کی شدت کم ضرور کرسکتا ہے۔قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہ کاری کے بعد چندے اور امداد کی اپیل کی بجائے ہمیں پانی کے عظیم ذخیرے کو محفوظ کرکے قومی ترقی کیلئے استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ ہمیں ان قدرتی آفات میں پوشیدہ قدرت کے اس پیغام کو سمجھنا چاہئے کہ زلزلے اور سیلاب سے مکمل چھٹکارہ حاصل کرنا کسی ملک کے بس کی بات نہیں لیکن انسانی تاریخ میں سرخرو وہی ممالک قرار پاتے ہیں
    دوسری اہم بات ایک دوسرے کو پارسا ثابت کرنے کے لیے قدرتی آفات پر ایک دوسرے کو گنہگار کے طعنے دینے سے بہتر ہے کہ ہم قرآن پاک کھول کر پڑھیں کہ قدرتی آفات آزمائش ہے۔آزمائش اور سزا میں فرق ہوتا ہے اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں اس لیے ڈالتا ہے تاکہ وہ بندوں کی برداشت کی انتہا دیکھیں اور بندوں کی اپنے رب سے محبت کو دیکھیں ۔سورہ بقرہ کی آیت 155، 156 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ”اور البتہ یقینا ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف ، کچھ بھوک ، کچھ مالی وجانی اور پھلوں کے نقصان کے ذریعے اور بشارت دو صبر کرنے والوں کو ، کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
    تو ثابت ہوا ۔آزمائش میں صبر کرنے والے ہی جیت جاتے ہیں ۔صبر کرنے والے ہی صبر کا صلہ پاتے ہیں اور صبر کرنے والے بڑی سے بڑی مشکل کو بھی ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں ۔۔برداشت کرنا سیکھیے ۔۔کیونکہ رب اپنے بندوں کو اس کی طاقت سے زیادہ دکھ نہیں دیتا..

  • پانی کی قلت، کالا باغ ڈیم بناٶ  تحریر:  ماہ رخ اعظم

    پانی کی قلت، کالا باغ ڈیم بناٶ تحریر: ماہ رخ اعظم

    پاکستان کو گذشتہ ستر برسوں سے اپنی معاشرتی معاشی صورتحال میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ، تمام مسائل پر قابو نہیں پایا گیا ہے۔ آج کے پاکستانی کے اہم مسائل میں ایک مسلہ پانی کی قلت ہے

    ملک کا ایک سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت ہے۔ امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ، پاکستان دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے، جو آبی بحران سے دوچار ہیں۔ پانی کے اس بحران سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔
    جب سے 1960 کی دہائی میں تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم بنائے گئے تھے تب سے پاکستان نے آبی ذخیرے کا کوئی بڑا ذخیرہ تعمیر نہیں کیا ہے۔ضروری ہے کہ کالا باغ اور دیامر باشا ڈیموں پر کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ، ڈیموں کی کمی کی وجہ سے 40 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی سمندر میں بہہ رہا ہے۔ کالا باغ ڈیم میں 6.4 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے ، دیامر-باشا ڈیم 5.8 ایم اے ایف ذخیرہ کرسکتے ہیں ، اور داسو ڈیم 6 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ اگر یہ تینوں ڈیم مکمل ہوجاتے ہیں تو بہت سارے پانی ضائع ہونے سے بچ جائیں گے جو پانی کی قلت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں

    اگر یہ ڈیم تعمیر نہیں ہوئے تو پاکستان کو پینے کے پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا زراعت کا شعبہ تباہ ہوجائے گا۔ پاکستان میں ، ٹیکسٹائل اور کیڑے مار دواؤں کی صنعتوں جیسی دیگر صنعتوں کے ساتھ زراعت کا گہرا تعلق ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ، زراعت اور زراعت سے متعلقہ دونوں صنعتیں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں۔

    پانی کی کمی کی وجہ سے ، زراعت اور زراعت سے متعلقہ دونوں صنعتیں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں۔ زرعی شعبہ پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ حکومت کی نظرانداز دونوں سے بھی متاثر ہے: جیسے کھادوں اور بیجوں پر معاون قیمتوں یا سبسڈی فراہم نہ کرنا۔

    ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستانی کو پانی کی قلت سے بچانے کےلیے اس مسئلے کا باقاعدگی سے نوٹس لینا چاہئے اور قومی تناظر میں واٹر مینجمنٹ اور پالیسی کو نئے سرے سے تشکیل دینے میں ایک مثال قاٸم کرنیا چاہئے جو مطالبہ پر مبنی اقدامات پر مرکوز ہے۔جو آبی وسائل کے تحفظ ، آبپاشی کے نظام کی تعمیر ، جھیلوں ، پن بجلی منصوبے کو فروغ دے گا اورساتھ ہی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کو تعمیر کیا جاٸیں تاکہ پاکستان کو پانی قلت سے بچایا جاسکے!

     >

  • ‏زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ، خطرے کی گھنٹی تحریر : مدثر حسین

    ‏زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ، خطرے کی گھنٹی تحریر : مدثر حسین

    ناظرین ہر سال زمین کے درجہ حرارت میں خطرناک شرح سے بڑھتا ہوا اضافہ دیکھا جا رہا ہے. کرہ ارض پہ انسانی سرگرمیوں بالخصوص کاربن گیسوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے. کاربن اور میتھین گیسیں ماحول میں درجہ حرارت کے بڑھنے کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک ہیں. کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس فیکٹریوں اور ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والے دھوییں سے پیدا ہوتی ہے جبکہ میتھین گیس کا اخراج انسانی سرگرمیوں اور جانوروں سے بتایا جاتا ہے. ایک سائینسی رپورٹ میں کہا گیا کہ بڑے جانوروں کی موجودگی بھی میتھین گیس میں اضافے کا سبب بن رہی ہے.
    سائنسدانوں کے مطابق میتھین گیس 9 سال کے عرصے میں زمین کے گرد لپٹے غلاف (کرہ ہوائی) کی حدود سے باہر نکل جاتی ہے لیکن کاربن ڈایی آکسائیڈ تقریباً ایک صدی جتنا وقت لگاتی ہے کرہ ہوائی سے باہر نکلنے میں، اور وہ اتنے وقت تک کرہ ہوائی کے اندر رہ کر درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی رہتی ہے. ان گیسوں کو گرین ہاوس گیسین کہا جاتا ہے یہ گیسین جب اتنے لمبے وقت کرہ ہوائی مین ٹھہر جاتی ہین تو یہ ہماری زمین کے کرہ ہوائی میں ایک ایسا غلاف پیدا کرتی ہین جس سے سورج کی تپش ان سے گزر کر سطح زمین پہ ٹکراتی ہے لیکن وہ اس غلاف سے باہر نہیں نکل پاتی اور نتیجتاً فضا کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے. اور درجہ حرارت کے مسلسل اضافے سے زمین کے ماحول پہ فطرتی نطام کے برعکس اثر پڑنے لگتا ہے، ماحول میں گرمی سے برف پگھلنے لگتی ہے اور دریاؤں میں سیلاب کی سی روانی آ جاتی ہے، گرمی کی تپش خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے. جو انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے.
    ‎@MudassirAdlaka

  • درخت لگاؤ – مستقبل محفوظ بناؤ   تحریر : حسن ریاض آہیر

    درخت لگاؤ – مستقبل محفوظ بناؤ تحریر : حسن ریاض آہیر

    درختوں کے قتلِ عام میں ہم اشرف المخلوقات سرِ فہرست ہیں۔
    گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے مندرجہ ذیل تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر کی اور ساتھ پیغام لکھا کہ ہم اس سال ریکارڈ شجر کاری کریں گے۔
    تصویر میں موجود درخت جو مختلف ممالک میں فی شخص درختوں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے، اسے دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے ہم پاکستانی ریگستان میں رہتے ہوں۔
    اس تصویر کے مطابق دیکھا جائے تو
    کینیڈا میں ایک انسان کے لئے دس ہزار ایک سو تریسٹھ درخت ہیں
    گرین لینڈ میں چار ہزار نو سو چونسٹھ
    آسٹریلیا جو کہ بظاہر ریگستان نما ہے اس میں فی شخص تین ہزار دو سو چھیاسٹھ
    امریکہ میں چھ سو ننانوے
    فرانس میں دو سو تین
    ایتھوپیا میں ایک سو تینتالیس
    چائنہ میں ایک سو تیس
    انگلینڈ میں سینتالیس
    ہندوستان میں اٹھائیس
    اور جبکہ ہمارے پیارے پاکستان میں ایک انسان کے حصے میں پانچ درخت آتے ہیں ۔۔۔
    ہم آج سے تیس سال پیچھے چلے جائیں تو شاید ہمارے ملک میں فی شخص ایک سو سے زیادہ درخت تھے لیکن پھر جمہوری قوتوں نے ملک سے درختوں کا صفایا کر دیا۔
    میں ان تمام نام نہاد سابقہ حکمرانوں سے پوچھتا ہوں کہ اتنے درخت کاٹنے کے بعد کیا تمہارا پیٹ بھر گیا ؟
    ہوس اور لالچ ہے کہ کبھی ختم ہو نہیں سکتی ۔۔۔
    اگر اتنے ہی تم انسانیت دوست اور عوام کے خیر خواہ ہوتے تو درخت کاٹنے کی بجائے پہلے سے دوگنے درخت اپنی جیب سے لگواتے اور جب تک زندہ ہو ان کی اس طرح حفاظت کرتے جس طرح اپنی اولادوں کی کرتے ہو۔
    تمھارا نام آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھتی اور تمہیں دعائیں دیتی۔
    صرف حکمران ہی نہیں ہم عوام کی بھی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ شجر کاری کریں اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔
    درخت لگانے سے موسوم خوش گوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ ہوا میں موجود آلودگی کم ہوتی ہے۔ زمین کٹاؤ سے بچی رہتی ہے اور چرند پرند کا یہ مسکن ہوتا ہے۔
    ماحولیاتی تبدیلیوں میں درخت فلٹر کا کام کرتے ہیں اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے اور انکی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔
    حکومت پاکستان وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں شجر کاری مہم میں پیش پیش ہے اور انکی اس محنت کا ادراک عالمی فورمز پر بھی کیا گیا ہے۔
    ہم سب پاکستانی خود سے عہد کر لیں اور اپنی ذات کے لیے ہی ایک ایک درخت لگانا شروع کر دیں تو یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ سکتی ہے، حکومت شجر کاری کر رہی ہے اور اس حوالے سے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے لیکن کچھ زمہ داری ہم عوام کی بھی بنتی ہے۔
    اللّٰہ پاک ہمیں ہمیشہ ہر قدرتی اور ماحولیاتی آفات سے بچائیں آمین !
    درخت لگاؤ
    زندگی محفوظ بناؤ

    @HRA_07

  • 2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی آبی سطح میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب ناسا نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک نیا اور خطرناک اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کے ذریعہ کی گئی تحقیق پر مبنی رپورٹ “نیچر” رسالہ میں گزشتہ ماہ شائع ہوئی تھی اس رپورٹ میں چاند پر ہونے والی ہلچل کی وجہ سے زمین پر آنے والے خطرناک سیلاب کو”نیوسنس فلڈ” کہا گیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن کے مطابق چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

  • شجر کاری مہم میں مزید تیزی لائ جائے گورنر پنجاب

    شجر کاری مہم میں مزید تیزی لائ جائے گورنر پنجاب

    پریس ریلیز ملتان
    شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق
    چیئر مین پی ایچ اے اعجاز حسین جنجوعہ اور وائس چیئرمین پی ایچ اے ملک امجد عباس کی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور صوبائی وزیر ہاﺅسنگ میاں محمودالرشید سے ملاقات مختلف امور پر تبادہ خیا ل کیا گیا.

    گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے پی ایچ اے ملتان کی شجر کاری مہم کی تعریف کی ہے اور کاوشوں کو سراہا ہے، اُنھوں نے مزید کہا کہ پی ایچ اے ملتان شہر کو سر سبز وشاداب بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، چیئرمین پی ایچ اے سے گورنر پنجاب نے ملتان آنے کا وعدہ بھی کیا ہے، صوبائی وزیر ہاﺅسنگ میاں محمود الرشید نے بھی شجر کاری مہم اور پی ایچ اے ملتان کے محتلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے شجر کاری کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کرنے پر بھی زور دیا ہے، اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان کی کلین اینڈ گرین مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، پنجاب کے تمام پی ایچ ایز شجر کاری کے فروغ کے لئے بھر پور اقدمات کریں پارکوں میں شہریوں کو تمام بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں، تاکہ کلین اینڈ گرین وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے۔

  • ملک میں پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    ملک میں پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    ذرائع آبی وسائل اسلام آباد

    ملک میں پانی اوربجلی کا ایک اوربحران پیدا ہونے کا خدشہ ہونے کو ہے، دریاوں کے بہاؤ میں کمی، ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہونے لگا ہے، سکردو اور دیگر شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت 19 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے، ایک ہفتہ یہی صورتحال رہی توپانی کا شارٹ فال 32 فیصد تک ہوسکتا ہے، دریاوں میں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 85 ہزارسے کم ہو کر 2 لاکھ 58 ہزار کیوسک تک رہ گیا ہے، منگلا ڈیم سے پانی کا اخراج مزید کم کردیا گیا ہے، وفاقی حکومت کی بجلی کی پیداوار کے لیے ڈیموں سے پانی کا اخراج بڑھانے کی ہدایت ‏کر دی گئی ہے، ارسا نے منگلا اور تربیلا سے پانی کا اخراج کی تجویز مسترد کردی ہے، بجلی کی پیداوار کے لیے پانی کا بحران پیدا نہیں کرسکتے،
    موجودہ صورتحال برقرار رہی توتربیلا اور منگلا سے 3 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم سے نکل ‏جائےگی، قادرپور گیس فیلڈ مرمت کے باعث بند رہے گی، قادرپور گیس فیلڈ کی بندش سے ایل این جی کی ترسیل بھی متاثر ہوگی، سسٹم سے تھرمل بجلی کی بڑی مقدار بھی نکل سکتی ہے،
    یہی صورتحال رہی توپانی کا شارٹ فال 32 فیصد تک ہوسکتا ہے، دریاوں میں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 85 ہزار سے کم ہو کر 2 لاکھ 58 ہزار کیوسک تک رہ گیا، منگلا ڈیم سے پانی کا اخراج مزید کم کردیا گیا ہے.

  • 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ماہرین کو قازقستان میں جھیلوں اور قدرتی حجری آثار پرمشتمل مشہور سیاحتی مقام پر ایک چوٹی ملی ہے جہاں ماضی کے 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال معلوم کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : لیوزین یونیورسٹی کی ارضیات داں، شارلوٹ پروڈ کا کہنا ہے کہ چارِن گھاٹی (کینویئن) میں ایک مقام پر 80 میٹر طویل پتھریلا سلسلہ ہےجہاں کلائمٹ چینج کا پانچ کروڑ سالہ ریکارڈ موجود ہے۔ یوں یہ بہت نایاب جگہ ہے اور زمین پر ایسے آثار کم ہی ملتے ہیں۔

    ’یہاں مٹی اور گرد کے پرتیں ہیں جو یوریشیائی برِاعظم میں طویل عرصے کا موسمیاتی راز فاش کرتی ہیں اس عرصے میں یہاں کی زمین نے زمین، فضا اور سمندرکے موسمیاتی اتارچڑھاؤ میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ یعنی یہ جگہ ایک طرح کا لِٹمس ٹیسٹ ہے جو بحرِآرکٹک میں میٹھے پانی کے بہاؤ، اور نمی والی ہواؤں کی خشکی تک منتقلی جیسے معاملات کا پورا احوال اس جگہ محفوظ ہے۔

    شارلوٹ نے اپنی تحقیق کمیونکیشنز ارتھ اینڈ اینوائرمنٹ میں شائع کی ہیں 80 میٹر طویل زمینی ٹکڑے پر پلائیوسین اور پلائسٹوسین دور کی کہانی لکھی ہے، ان میں پلائیوسین کا دور 50 لاکھ سال سے 26 لاکھ سال پرانا ہے اوراسی زمانے میں انسانی سرگرمیاں موسم پراثرانداز ہوئی تھیں یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق سے ہم زمین پر آب و ہوا کی تبدیلی کا مستقبل بھی جان سکتے ہیں۔

    اس طرح پہلی مرتبہ وسط ایشیا کا آب و ہوا میں اہم کردارسامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ہم سمندری تحقیق سے ہی اس عمل کو سمجھ رہے تھے اور یوں قازقستان کا یہ علاقہ اب مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ تحقیق سے قدیم موسمیاتی پس منظر کی نقشہ سازی کرنے میں بہت مدد ملے گی یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق کو دیگر ماہرین نے بھی سراہا ہے۔

    چارِن گھاٹی کے سلسلے میں لگاتار مٹی کے انبارموجود ہیں اور اس کا سلسلہ کہیں بھی نہیں غائب نہیں۔ یہاں کی مٹی میں ماہرین نے مختلف معدنیات، عناصر اور آئسوٹوپس کا مطالعہ کیا ہے۔ قدیم مقناطیسی مطالعے اور یورینیئم ڈیٹنگ سے جمع شدہ ارضیاتی آثار کا ریکارڈ اور عمر معلوم کی گئی تو معلوم ہوا کہ گزشتہ پانچ ملین سال میں یہاں کی خشکی بتدریج بڑھی ہے-

    جبکہ پلائیوسین کے ابتدائی عہد میں یہاں کی مٹی خاصہ پانی موجود تھا۔ تاہم بعد میں وسط طول البلد کی مغربی ہواؤں اور سائبیریا کے بلند دباؤ والے موسمیاتی سسٹم سے یہاں کئی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔

    بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ اس جگہ پر مزید تحقیق سے زمین کی موسمیاتی آب بیتی کے کئی راز کھلیں گے۔

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

  • ملک کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا،محکمہ موسمیات

    ملک کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا،محکمہ موسمیات

    ملک کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا،محکمہ موسمیات

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی پنجاب ، بالائی سندھ ،شما ل مشرقی بلوچستان اور کشمیر میں بارش کا امکان ہے جبکہ اسلام آباد میں موسم گرم اور خشک رہے گا تاہم اسلام آباد میں بعض مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    سیالکوٹ، گجرات ،لاہور اور فیصل آباد میں بھی چند مقامات پر بار ش کا امکان، ملتان،رحیم یارخان ، بہاولپور،بہاولنگر اورڈی جی خان میں بارش کا امکان ، خطۂ پوٹھوہار، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ اور نارووال میں بارش متوقع-

    بلوچستان کے شہر تربت، چاغی، سبی اور کوہلو میں موسم شدید گرم رہے گا، بارکھان ، قلات ، لسبیلہ اور خضدار میں بارش متوقع-

    سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اورخشک رہے گا ،سکھر،لاڑکانہ ،بینظیر آباد اور دادو میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ، دادو، جیکب آباد، پڈعیدن ، موہنجو داڑو،روہڑی اور میر پور خاص میں گرمی کی شدت برقرار رہے گی-

    خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا،مانسہرہ ، ایبٹ آباد اور بالاکوٹ میں چند مقامات پرتیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع-

    گلگت بلتستان میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود اور موسم خشک رہے گا جبکہ کشمیر میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

  • ملک کے میدانی علاقوں میں گرد آلود ہوائیں اورآندھی چلنے کا امکان   محکمہ موسمیات

    ملک کے میدانی علاقوں میں گرد آلود ہوائیں اورآندھی چلنے کا امکان محکمہ موسمیات

    ملک کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا، محکمہ موسمیات

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق راولاکوٹ اورگرد و نواح میں ،میرپور آزاد کشمیرو گردونواح میں موسلا دار بارش میرپور،منگلا ،اسلام گڑھ اورجاتلاں میں ، خیبر پختونخوا ، جنوبی پنجاب،خطہ پوٹھو ہار، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور کشمیرمیں بارش ہوگی-

    گرمی کے باعث ملک کے میدانی علقوں میں گرد آلود ہوائیں اورآندھی چلنے کا امکان ہے جبکہ اسلام آباد میں آ ندھی ،گرد آلود ہوائیں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع بھی متوقع ہے –

    بلوچستان کےشہرتربت، چاغی، سبی اور کوہلو میں موسم شدید گرم رہے گا جبکہ پنجاب میں موسم گرم اور خشک رہے گا-

    موسیٰ خیل، ژوب ،بارکھان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان، خطۂ پوٹھوہار، فیصل آباد، منڈی بہاالدین، گوجرانوالہ اور نارووال میں بارش متوقع ہے-

    سیالکوٹ، گجرات ،لاہور، ملتان، بہاولپور،بہاولنگر اورڈی جی خان میں بھی بارش کا امکان ہے –

    سندھ کے شہردادو، جیکب آباد، پڈعیدن ، موہنجو داڑو اورروہڑی میں موسم گرم رہے گا سکھر، لاڑکانہ، میر پور خاص اور بینظیر آباد میں گرمی کی شدت برقرار رہے گی،خیبرپختونخواکے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا-

    سوات ،مالاکنڈ،کوہستان، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ،اسلام آباد میں آ ندھی ،گرد آلود ہوائیں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے-