دنیا اور آخرت مشرق اور مغرب کی مانند ہیں اور ہم سب یہاں کچھ پل کے چلنے والے مسافر ہیں یہاں اگر ایک انسان جتنا کسی کے نزدیک ہوگا اتنا ہی دوسرے سے دور ہوگا ۔
دنیا راہ گزر ہے دنیا کی خوشی غم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے.
ہزاروں خواہشات انسان پر غالب آجائیں تو یہ کہنا برا نا ہوگا کہ انسان سیدھے راستوں سے بھٹک جاتا ہے. غلط راستوں پر چلنے والوں کو فقط رسوائی ہی ملتی ہے..
ہر انسان کے اپنے پوشیدہ یعنی چھُپے ہوئے نا بتانے والے دکھ ہوتے ہیں جو دنیا نہیں جانتی
اور اکثر اوقات ہم کسی انسان کو بے حس کہتے ہیں مگر وہ صرف غمگین رنجیدہ ہوتا ہے
کسی کا کردار تمہاری ذمہ داری نہیں
کسی کی ذات تمہارا ٹھیکا نہیں ہے جو تم وہ صرف تم خود ہی ہو بس تم خود پر توجہ دو…
لوگوں کے بارے میں زیادہ سوچنا خود کو اپنی ذات سے دور کرنا ہے.
غمگین نا ہوں اگر آپ کسی کو اچھے نہیں لگتے
تو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں بس یہ سوچ لیں کہ ہرانسان کی پسند اچھی نہیں ہوتی.
خاموش ہو جاؤلیکن گلے شکوے چھوڑ دو مت اپنا معیار گراو کسی کو کچھ بھی کہہ کر اور اس کو جواب دے کر اپنے عزت اور اپنے وقار کی خود حفاظت کرو.جہاں عزت نا ملے وہاں سے کنارہ کشی اختیار کر لو عزت اور وقت بھیک میں نہیں ملتا اس لیے مانگنا چھوڑ دو. بےشک کسی بھی رشتے کا وجود اس کے بغیر باقی نا رہےعزت وہ نہیں جو باتوں سےسنائی جاتی ہےعزت وہ ہے جوعمل سےدکھائی دیتی ہے
شکریہ
Category: قرآن اور سائنس

دنیا فانی ہے تحریر : عائشہ شاہد

پانی کی قلت، کالا باغ ڈیم بناٶ تحریر: ماہ رخ اعظم
پاکستان کو گذشتہ ستر برسوں سے اپنی معاشرتی معاشی صورتحال میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ، تمام مسائل پر قابو نہیں پایا گیا ہے۔ آج کے پاکستانی کے اہم مسائل میں ایک مسلہ پانی کی قلت ہے
ملک کا ایک سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت ہے۔ امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ، پاکستان دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے، جو آبی بحران سے دوچار ہیں۔ پانی کے اس بحران سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔
جب سے 1960 کی دہائی میں تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم بنائے گئے تھے تب سے پاکستان نے آبی ذخیرے کا کوئی بڑا ذخیرہ تعمیر نہیں کیا ہے۔ضروری ہے کہ کالا باغ اور دیامر باشا ڈیموں پر کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ، ڈیموں کی کمی کی وجہ سے 40 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی سمندر میں بہہ رہا ہے۔ کالا باغ ڈیم میں 6.4 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے ، دیامر-باشا ڈیم 5.8 ایم اے ایف ذخیرہ کرسکتے ہیں ، اور داسو ڈیم 6 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ اگر یہ تینوں ڈیم مکمل ہوجاتے ہیں تو بہت سارے پانی ضائع ہونے سے بچ جائیں گے جو پانی کی قلت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں
اگر یہ ڈیم تعمیر نہیں ہوئے تو پاکستان کو پینے کے پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا زراعت کا شعبہ تباہ ہوجائے گا۔ پاکستان میں ، ٹیکسٹائل اور کیڑے مار دواؤں کی صنعتوں جیسی دیگر صنعتوں کے ساتھ زراعت کا گہرا تعلق ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ، زراعت اور زراعت سے متعلقہ دونوں صنعتیں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں۔
پانی کی کمی کی وجہ سے ، زراعت اور زراعت سے متعلقہ دونوں صنعتیں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں۔ زرعی شعبہ پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ حکومت کی نظرانداز دونوں سے بھی متاثر ہے: جیسے کھادوں اور بیجوں پر معاون قیمتوں یا سبسڈی فراہم نہ کرنا۔
ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستانی کو پانی کی قلت سے بچانے کےلیے اس مسئلے کا باقاعدگی سے نوٹس لینا چاہئے اور قومی تناظر میں واٹر مینجمنٹ اور پالیسی کو نئے سرے سے تشکیل دینے میں ایک مثال قاٸم کرنیا چاہئے جو مطالبہ پر مبنی اقدامات پر مرکوز ہے۔جو آبی وسائل کے تحفظ ، آبپاشی کے نظام کی تعمیر ، جھیلوں ، پن بجلی منصوبے کو فروغ دے گا اورساتھ ہی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کو تعمیر کیا جاٸیں تاکہ پاکستان کو پانی قلت سے بچایا جاسکے!
>

چنگیز خان اور اس کی سلطنت تحریر:محمد عمران خان
اگر ہم آج سے ایک ہزار سال پیچھے چلے جائیں تو جو آج چین اور روس کا ہمسایہ ملک منگولیا ہے اس وقت یہاں مختلف چھوٹے چھوٹے قبیلے آباد تھے یہ لوگ خانہ بدوش تھے اپنے لئے کسی مناسب جگہ کا انتخاب کرتے اور پھر وہاں زندگی گزر بسر کرنے چلے جاتے اور جب وہاں کی آب و ہوا اور ان کے مویشیوں کے لئے چارہ کافی نہ ہوتا تو یہ لوگ وہاں سے کسی سرسبز اور بہتر جگہ پر ہجرت کر جاتے ان قبیلوں کے اپنے اپنے سردار تھے اور تمام قبیلہ سردار کے ماتحت ہوتا تھا اور تمام قبیلے والے اپنے سردار کی عزت کرتے اور ہر بات مانتے تھے،
ان قبیلوں میں سے ایک قبیلہ جس کا سردار یسوخئی نام کا جو ایک بہادر جنگجو بھی تھا اور اس کا تعلق بورجگین خاندان سے تھا اس کا ایک بیٹا جسکا نام تموجن جسے آج دنیا ”چنگیز خان” کے نام سے جانتی ہے پانچ سال کی عمر کا تھا اس کے باپ نے اپنے دوست کے قبیلے میں اس کی منگنی کروا دی ان خانہ بدوشوں کے تمام قبیلے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے اور ایک دوسرے کے گویا جانی دشمن بھی تھے یہی وجہ تھی کہ ہر قبیلہ کے لوگ جنگی مہارت رکھتے تھے، یسوخئی کو ایک دعوت میں بلا کر زہر دے دیا گیا اور جس سے اس کی موت واقع ہوگئی،
اب اس کے بیٹے کے خلاف قبیلے والوں نے بغاوت کردی کہ اس پانچ سال کے بچے کو ہم اپنا سردار نہیں مانتے انہوں نے تموجن اور اس کے گھر والوں کو قبیلے سے الگ ہونے کا کہہ دیا،
لیکن سردار کے قبیلے سے بغاوت کرنے والوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ تموجن بڑا ہو کر کہیں ہم سے اس بغاوت کا بدلہ نا لے، انہوں نے اسے قتل کرنے کے منصوبے بنانے شروع کر دیئے، کئی مہینوں تک یہ ان کے ہاتھ نہ آیا اور وہ مسلسل اس کی تلاش میں پھرتے رہے۔وقت گزرتا گیا تموجن بڑا ہو چکا تھا، لیکن آخر کار جو اس کی جان کے درپے تھے انہوں نے اسے پکڑ لیا اور زنجیروں میں جکڑکر اپنے ساتھ لے گئے،لیکن اسے مارا نہیں بلکہ قید میں ڈال دیا،
تموجن کسی طرح ان کی قید سے نکلا اور گھر والوں کو ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا، اس نے اپنی منگیتر کو واپس لانے کا فیصلہ کیا، چند عرصہ گزرنے کے بعد کچھ دشمنوں نے اسے آ لیا اس کے گھر والوں پر یلغار ہونے والی تھی جس کا اسے پہلے ہی علم ہو چکا تھا، اس نے اپنی بیوی کو ایک چھکڑے میں چھپایا اسے دوسری طرف روانہ کرتے ہوئے خود پاس بہتے پانی کی طرف روانہ ہو گیا،
سیانے کہتے ہیں کہ "جیسی کرنی ویسی بھرنی”
اس کا باپ یعنی یسوخئی ایک عورت کو کسی دوسرے قبیلے سے اغوا کر کے لایا تھا، سو آج یہ سب اس کے بیٹے کے ساتھ ہونے جارہا تھا، تموجن تو جان بچا کر بھاگ گیا لیکن جس طرف اس نے اپنی بیوی کو روانہ کیا تھا وہ چھکڑا پکڑا گیا اور وہ تموجن کی بیوی کو اپنے ساتھ لے گئے، کہا جاتا ہے کہ یہ وہی قبیلے والے تھے جن کی عورت کو اس کے باپ نے اغوا کیا تھا، سو آج یہ قدرتی انصاف مکافات عمل پورا ہوا،
مگر اس قسم کی باتیں وہ نہیں سوچتے تھے،
خیر آگے بڑھتے ہیں اور اس تموجن کی کہانی کو مکمل کرتے ہیں،
لیکن ابھی تو اس کہانی کی شروعات ہے۔ آپ اسے توجہ سے پڑھتے رہیں، شاید آپ کی معلومات میں تھوڑا اضافہ ہو سکے۔
تموجن کافی عرصے کے بعد اپنے گھر والوں کا پیچھا کرتے واپس لوٹا تو دیکھا اس کی بیوی گھر میں نہیں تھی، چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیوی کو واپس لائے گا چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے ایسے میں اس نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا جس کا نام جموکا تھا اس نے پہلے تو اسے خبردار کیا کہ تم ایک عورت کی خاطر جنگ کرو گے بعد میں تموجن کے اصرار پر اس کے دوست جموکا نے اسے اپنے قبیلے کے سپاہیوں کا ایک لشکر اس کی کمان میں سونپ دیا۔ یہ اپنی بیوی کو لینے چل دیا،
اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ان کے قبیلے پر یلغار کر دی اور اونچی اونچی آواز میں بورتچینا بورتچینا پکارنے لگا بورتچینا اس کی بیوی کا نام تھا، اس نے اور اس کے ساتھ آنے والے سپاہیوں نے قبیلے والوں کے سر دھڑ سےالگ کر کے رکھ دیئے،
تموجن خیموں کی تلاشی کرتے کرتے اپنی بیوی تک جا پہنچا لیکن پھر کیا ہوا بیوی کو اغوا ہوئے 6/7 ماہ گزر چکے تھے اور اس کی بیوی اس عرصے میں امید سے ہو گئی تھی لیکن اس نے اپنی بیوی کو لیا اور وہاں سے گھر لوٹ آیا،
تموجن جسے اس کے قبیلے والوں نے تکلیفوں سے دوچار کیا اور خود سے الگ کر دیا اب وہ ان سے ان سب زیادتیوں کا بدلا لینا چاہتا تھا،
یہ اس قدر ضدی تھا کہ جس چیز کا دل کرتا وہ حاصل کرنے کسی بھی حد تک چلا جاتا۔ بچپن میں اپنے سگے بھائی کو تیر مار کے مار دیا، محض اس وجہ سے کہ وہ اس کی دریا سے پکڑی ہوئی مچھلی کھا جاتا تھا،
آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ خانہ بدوش قبیلے ایک تو اپنی دشمنیوں کی وجہ سے بہترین جنگجو تھے دوسرا یہ کہ ان کا پیشہ بھی تھا وہ تیز دوڑتے گھوڑوں سے نشانہ لیتے اور تیر چلاتے تھے،
تموجن اب اپنے باپ کی سرداری چھیننے والوں کے درپے ہو گیا اس نے قبیلے کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی اور اپنی سرداری میں انہیں امان دینے کا وعدہ کیا، کچھ تو اس کی بات مان گئے اور کچھ نے مزاحمت کی لیکن جنہوں نے مزاحمت کی اس نے ان کا تیاپانچا کر کے رکھ دیا،
وہ کسی غدار کو زندہ نہیں چھوڑتا تھا،
اس نے ارادہ کیا کہ وہ اب تمام قبائل کو متحد کرے گا چنانچہ اس نے مختلف قبائل کے سرداروں کو اپنے قبیلے میں ایک دعوت پر مدعو کیا جنہوں نے اس سے اتفاق کیا اور جنہوں نے نہیں بھی کیا ان کو بھی اپنی باتوں سے قائل کرلیا لیکن جنہوں نے اس کی ایک نہ مانی اس نے انکا برا حشر کیا جس ظلم اور سفاکیت سے آج وہ پہچاناجاتا ہے،
ان کارستانیوں کو دیکھ کر اور اس کی باتیں سن کر مختلف قبائل اس کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہوگئے اس نے ان سے کہا کہ میں تم لوگوں کو یہ پوری دنیا دوں گا جیسے چاہو اور جہاں چاہو رہو اور جو چیز تمہیں اچھی لگے اسے حاصل کرو۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ تھا اور مسئلہ اس کے بچپن کا دوست جموکا تھا۔منگول اپنے سردار کو خان کا خطاب دیتے تھے اور اب کیونکہ تموجن نے تمام قبائل کو اپنے ساتھ مل جانے کی دعوت دی تھی لیکن وہیں پہ دوسری طرف اس کا دوست بھی منگولوں کا خاقان بننا چاہتا تھا۔
خاقان منگولوں میں سارے سرداروں سے بڑے سردار کو کہتے تھے لیکن اس وقت تک انہیں کوئی خاقان نہیں مل سکا تھا جو تمام قبیلوں کی نمائندگی کرتا،اب تمام قبیلوں میں اتحاد قائم ہو رہا تھا اور دونوں دوست اپنی اپنی فوج تیار کر رہے تھے، ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا جھگڑنا بھی شروع کر دیا تھا لیکن فیصلہ کن جنگ کرنا ضروری تھا۔ تموجن نے اپنے دوست جموکا کو اپنی سرداری تسلیم کرنے اور اس کےتابع ہوکر لڑنےکیلئے پیغام بھیجا اس نےلکھا کہ اس قوم کا مقدر میں ہوں اور میری کمان میں تم لڑو تو تمہارے لئے اچھا ہوگا ورنہ دو سورج ایک ساتھ نہیں چمک سکتے،
اس کی اس بات پر جموکا نے جواب دیا کہ میں وہی ہوں جس کی مدد سے آج تم اس مقام پر ہو اور یاد کرو وہ دن جب تمہاری بیوی کی واپسی کیلئے میں نے تمہاری مدد کی تمہاری سرداری واپس دلوانے کے لیے بھی میں تمہارے ساتھ کھڑا رہا لیکن آج تم مجھے دھمکی دے رہے ہو۔ اگر تم میرے ساتھ پنجہ آزمائی کرنا چاہتے ہو تو یہ تم کر گزرو،
چنانچہ تموجن نے اپنی فوج کو جموکا کے ساتھ جنگ کیلئے تیار کیا،
اور بچپن کے دونوں دوست آج ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، کہا جاتا ہے کہ ان دونوں نے بچپن میں ایک دوسرے کے ہاتھ پر خون بہایا اور پھر دونوں نے ہاتھ سے ہاتھ ملایا اور ایک دوسرے سے کہا کہ آج کے بعد ہم ایک دوسرے کے خونی بھائی ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک تھالی میں کھاتے تھے اور ایک ہی بستر پر سوتے۔
مگر اب فیصلہ کن جنگ شروع ہو گئی پہلے تو دونوں طرف کے سپاہی دیدہ دلیری کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑتے رہے لیکن نتیجہ جموکا کی گرفتاری کی صورت میں نکلا چناچہ تموجن جموکا کو اپنے خیمے میں لے گیا اور وہاں اس کو کھانا کھلایا اور اپنے دوست سے پوچھنے لگا اگر میں ایسے تمہارے پاس گرفتار ہو جاتا تو بتاؤ تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے،
جموکا نے جواب دیا کہ وہ اسے مار دیتا کبھی زندہ نا چھوڑتا،
تموجن نے کہا تم اب خود ہی بتاؤ میں تمارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ اس نے کہا مجھے مار دو مجھے مار دو اگر میں زندہ رہا تو تم سے اس کا حساب لوں گا۔
تموجن نے اسے کمان کی تار سے گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔
تموجن چاہتا تھا کہ وہ اس کے خونی بھائی کا خون نہیں بہانا چاہتا، لیکن بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ تموجن نے جموکا کی لاش کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کروائے اور پھر اسے جنگل میں پھینک دیا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ اپنی سفاکیت اور بربریت کی وجہ سے مشہور تھا۔
اب اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی تھی۔ اس نے دیگر قبائل کو پھر مدعو کیا اور اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ چین کے سرحدی علاقوں پر تموجن نے بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا یہ لوگ چینی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے اور منگولوں کے قبیلوں میں لوٹ مار بھی کیا کرتے تھے،
تموجن کے اس اقدام کو دیکھتے ہوئے چینی بادشاہ نے اس پر نوازشات کیں اور اسے چینی سرحد کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے سرحدی کمانڈر بننے کی پیشکش کی لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ جسے وہ معمولی سرحدی کمانڈر بنا رہا ہے وہ عنقریب ان کی سلطنت تباہ کر دے گا۔ وقت گزرتا گیا اور تموجن کے لشکروں میں اضافہ ہوتا گیا،
لیکن ایک دن وہ اچانک غائب ہو گیا اور سب لوگ حیرت زدہ ہو گئے کہ ان کا سردار اچانک گیا تو کہاں گیا ؟
کہا جاتا ہے کہ دو / تین دن بعد وہ اپنے قبیلے میں لوٹا اور بہت خوش تھا تمام لوگوں کو جمع کیا گیا اور اس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خدا نے اسے بشارت دی ہے کہ وہ پوری دنیاپر حکومت کرے گا۔ تم لوگ تیار ہو جاؤ یہ دنیا تمہاری ہے اور تم اس کے حکمران ہو،
یہ سن کر تمام لوگ ہش ہش کر اٹھے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہی ہے وہ جو ہماری طاقت میں اضافہ کرے گا،
تموجن اب چنگیز خان کا روپ دھار چکا تھا۔ اور سب سے پہلے اس نے اپنے ہنسائے ملک چین پر یلغار کرنے کی منصوبہ بندی کی،
لیکن چینیوں کے پاس اسلحہ تھا اونچی اونچی عمارتیں تھیں لمبی چوڑی دیواریں تھیں یہ سب کیسے ممکن تھا؟ اور اس نے ایسا کیوں سوچا تھا کہ وہ یہ سب کر سکتا ہے؟
ان کے پاس گھوڑے تلواروں تیروں کے سوا کسی قسم کا کوئی اور ہتھیار نہ تھا جو چینی سلطنت سے مقابلہ کرسکتا اور ان سے ان کا ملک چھین سکتا،
چنانچہ یہ سب کرنے کے لئے بھی اس کے پاس منصوبہ تھا، وہ اپنی عقل کو استعمال کرتا اور یلغار کر دیتا۔ اس نے طرح طرح کے منصوبے بنائے اور منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے اس نے چینی شہروں کے محاصرے کئے بھوک پیاس سے تڑپتے چینی شہری آخرکار شہر سے باہر نکلتے تو منگول شہر میں داخل ہو جاتے اور شہر تہس نہس کر دیتے ۔یہ منگول اپنا خوف اور دہشت پھیلانے کیلئے حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرتے شہر میں موجود کیڑے مکوڑوں تک کو مار دیتے مردوں کے سر اڑا دیتے۔ عورتوں کو اپنے قبضے میں کر لیتے اور شہر کی خوب لوٹ مار کرتے اور جب شہر کو لوٹ لیتے اور تمام جانداروں کو قتل کر دیتےتو شہر کو آگ لگا دیتے ،
ان کی اس سفاکیت اور بربریت نے دنیا کی باقی اقوام کو خوف میں مبتلا کر دیا۔
سن 1300ء کے لگبھگ منگولوں کی سلطنت میں شگاف پڑنے لگے۔
ایشیا اور یورپ پر منگول ایک آندھی کی طرح آئے، تھوڑے ہی عرصے کے لئے زوروں پر رہے اور پھر آندھی کی طرح جلد ہی تھم گئے۔
مشہور ہے نا کہ، "ظلم جب حد بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے”@Imran1Khaan

بلبیر سنگھ تحریر: علیہ ملک
تاریخ اسلام ایسے ایسے روحانی و وجدانی واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جنہیں پڑھنے اور سننے کے بعد انسان ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے۔
اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لانے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی اکثریتی تعداد غریب ہے دو چار کے علاوہ
جس طرح ابتداء میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ غریب تھے (دنیاوی لہاظ سے) اسی طرح اُس وقت کے مشرکین مکہ کے ساتھ جنگ کی سکت بھی نہیں رکھتے تھے
اگرچہ اس وقت جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
اس طرح چند سال گزر گئے لیکن اسلام کو طاقت میسر نہ آئی
پھر ایک دن حضرت سیدنا عمر پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام قبول کر لیتے ہیں
اور ان کے قبول اسلام کے ساتھ ہی اسلام طاقتور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
پہلے دن ہی جناب عمر رضی اللہ عنہ مشرکین کو للکارتے نظر آتے ہیں
مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
یہ سلسلہ رکتا نہیں بلکہ مزید تیز ہوجاتا ہے
مکہ سے حبشہ اور مکہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت ہوتی ہے
مسلمان ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں
جہاد کا حکم نازل ہوتا ہے
معرکہ بدر وجود میں آتا ہے
کفار کوشکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے
اور کفار اس کا بدلہ لینے کیلئے دن رات ایک کرتے ہیں
یہاں تک کہ غزوہ احد کا دن آجاتا ہے
مسلمانوں پر کفار غالب آجاتے ہیں
اور اس پر مسلمانوں کا بھاری نقصان خالد بن ولید اپنی کامیاب جنگی چال سے کرتے ہیں۔
وقت گزرتا ہے وہی خالد بن ولید حضرت خالد بن ولید بن جاتے ہیں یعنی اسلام کو سینے سے لگا لیتے ہیں
اور اپنی بہادری و شجاعت کی وجہ سے رسول اللہﷺ سے ” سیف اللہ” کا لقب پاتے ہیں اور فاتح شام و ایران ہوتے ہیں۔
دنیاء کی "سپر پاور” قیس و کسریٰ کو اپنے پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔
یہ سلسلہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر دور کے اندر ایسے واقعات ملتے ہیں
مذہب اسلام کوصفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے نکلنے والی درندہ صفت ہلاکو خان کی فوج جب بہت سارے علاقے فتح کرلیتی ہے اور عباسی خلیفہ "معتصم باللہ” کو گرفتار کرکے گھوڑوں کے سونبوں تلے روند چکی ہوتی ہے تو ہلاکو خان کا چچا زاد بھائی "برکہ خان” اپنی پوری فوج سمیت مسلمان ہونے کا اعلان کر دیتا ہے اور ہلاکو خان کی قمر ٹوٹ کے رہ جاتی ہے۔
یہ تاریخ اسلام کے سنہری باب ہیں
اسی طرح بر صغیر میں مسلمانوں کے عقائد کا پرچم بلند ہوتا ہے اور ایک ہزار کے لگ بگ سال اسلامی حکومت رہتی ہے
لیکن وقتاً فوقتاً ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تعصب اور نفرت کی آگ کو بھڑکایا جاتا ہے
اسی دوران برطانیہ کا انگریز بھی تجارت کی غرض سے ہندستان آتا ہے اور قابض ہوجاتا ہے
کایا پلٹتی ہے تو بھاگ کے برطانیہ تک ہی محدود ہوجاتا ہے
مگر انگریز کا بویا ہوا بیج ہندو مسلمان کے درمیان نفرت کو بڑھانا
مزید ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔
ہندستان کی قدیم اور سب سے بڑی مسجد "بابری مسجد” کو شہید کردیا جاتا ہے
اور شہید کرنے میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ سب سے آگے رہنے والا "بلبیر سنگھ” ہوتا ہے
مسلمانوں کے صرف جذبات مجروح نہیں کئے جاتے بکلہ مسلمانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دئے جاتے ہیں۔
وقت کی کایا ایک بار پھر پلٹتی ہے اور "بلبیرسنگھ” مسلمان ہوجاتا ہے
مسلمان ہونے کے بعد یہی بلبیر جب بابری مسجد کا ذکر کرتا ہے تو رو پڑتا ہے
اور اس کا کفارہ اداء کرنے کیلئے ہندستان میں 100 مساجد تعمیر کرانے کا عہد کرلیتا ہے اور شب و روز اسی کار خیر میں گزارتا چلا جاتا ہے
یہاں تک کہ 96مساجد کی تعمیر مکمل ہوچکی ہوتی ہے اور آج مورخہ 24/07/2021 کو یہ خبر گردش کرتی ہے کہ "بلبیرسنگھ” آج صبح اپنے دفتر میں مردہ پائے گئے۔
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ@KHT_786

مینڈھے، چھترے اور بکرے کی قربانی پر پانچ سال کیلئے کیوں نا پابندی لگا دی جائے؟ تحریر: نویداختربھٹی
قربانی کا فلسفہ اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن ہمیں تھوڑا وقت نکال کر غور کرنا ہوگا کہ ہر سال عیدالاضحٰی سے پہلے چھوٹا گوشت آخر مہنگا کیوں ہوجاتا ہے؟
چھوٹا گوشت ہر گزرتے سال کے ساتھ عام پاکستانی کی پہنچ سے دور کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
چھوٹے گوشت کے شوقین لوگ بھی گائے کی قربانی دینے کو کیوں ترجیح دینے لگے ہیں؟دنبہ جو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل کی جگہ قربان ہونے کیلئے جنت سے آیا تھا، موجودہ دور میں مسلمان اس کی قربانی کیوں نہیں کر رہے؟
یہ حقیقت تو سب مسلمان جانتے ہیں کہ عیدالاضحٰی کے موقع پر ایک حلال جانور کی قربانی سنت ابراہیمی ہے اور سنت بھی ان کیلئے ہے جو قربانی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
ابتدائے اسلام میں مسلمان کعبہ کے احاطے میں مینڈھوں کی قربانی پیش کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک مینڈھوں کی پیداوار پریشان کن حد تک کم نا ہوگئی۔ منڈیوں میں مینڈھوں کی کمی کو دیکھتے ہوئے لوگ بکروں، چھتروں اور اونٹوں کی طرف آئے اور قربانی کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ اب چونکہ حالات کا فیصلہ یہی تھا کہ جو بھی حلال چوپایہ ملے اسے قربان کردیا جائے اس لئے کئی سو سال تک مسلمانوں کے کسی ملک میں جانوروں کی کمی کا سامنا نہیں کیا گیا۔
برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے علاقوں میں بکرے اور چھترے کا گوشت خصوصی طور پر پسند کیا جاتا رہا ہے اس لئے اس خطے میں قربانی کیلئے بھی بکروں یا چھتروں کو ہی منتخب کیا جاتا تھا۔
بکروں اور چھتروں کی قربانی کے اس رجحان نے آہستہ آہستہ آنے والے ہر سال کے ساتھ ان کی کمی کا سبب بننا شروع کردیا اور اصول معاشیات کے مطابق جس چیز کی رسد کم اور طلب زیادہ ہوگی، اس کی قیمت بھی زیادہ طلب کی جائے گی یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں عام دنوں میں گوشت 1300 روپے سے 1500 روپے فی کلو بک رہا ہے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس قیمتوں پر عمل کروانے میں بری طرح سے ناکام ہیں۔
اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد مویشیوں کی افزائش کے حوالے سے کبھی کسی حکومت نے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ہر جاتے سال کے ساتھ ان جانوروں کی افزائش میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔
حکومت وقت کے سربراہ وزیراعظم عمران خان نے چند ماہ قبل جب مرغیاں، انڈے اور مویشی پالنے کیلئے قوم کو متحرک کیا اور باقاعدہ پالیسی بنانے کا وعدہ کیا تو پاکستان کے نام نہاد سکالرز اور میڈیا پر بیٹھی کالی بھیڑوں نے اس فلسفے کا مزاق اڑایا اور کہا کہ عمران خان دو کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے سے یو ٹرن لیتا ہوا مرغیوں اور انڈوں تک آگیا ہے۔
موجودہ حالات یہ ہیں کہ پاکستان میں آج بھی لائیو اسٹاک پر قابل قدر توجہ نہیں دی جارہی خصوصاً چھتروں اور بکروں کی افزائش جدید ریسرچ اور سائنسی بنیادوں پر نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے اس عیدالاضحٰی کے موقع پر دس سے پندرہ کلو گرام گوشت والا چھترا 20 ہزار جبکہ اسی وزن کا بکرا 30 ہزار میں فروخت ہوا ہے۔
گائے کی پیداوار بھی خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو ملک میں دودھ کی کمی کا بحران ہے تو دوسری طرف جو کروڑ پتی لوگ ہیں ان کے درمیان زیادہ سے زیادہ گائے قربان کرنے کا ایسا مقابلہ چل پڑا ہے جو آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں بڑے گوشت کے مہنگا ہونے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے اور اس گوشت کے بھی متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے باہر جانے کا خطرہ سر اٹھا سکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ ایک طرف تو لائیو اسٹاک میں بکرے پالنے والوں کو بلا سود قرضے دیں اور دوسری طرف بینکوں کو ہدایات دیں کہ وہ ان مویشی پال حضرات کی ماہرین کی مدد سے راہنمائی اور نگرانی کرائیں تاکہ ریاست کے اس بڑے مقصد کو نقصان نا پہنچے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
وزیراعظم کو جو غیر مقبول اور دیرپا فیصلہ کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ علماء اکرام کی مشاورت سے کم از کم تین سے پانچ سال کیلئے بکرے، مینڈھے اور چھترے کی قربانی پر مکمل پابندی عائد کر دیں۔
ہوسکتا ہے کہ جنونی مذہبی رجحان رکھنے والا طبقہ اس تحریر کو ناپسند کرے اور ایک لمبی بحث چھڑ جائے۔۔۔ مگر ان کو میری دعوت ہے کہ تاریخی اور معاشی حقائق کو مدنظر رکھ کر اس تحریر پر غور فرمائیں!
سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے فائدے تحریر : سیف اللہ عمران
ایک مسلمان کے لیے مطالعہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت و اہمیت ظہور سورج سی ہے۔ کیونکہ ایک مسلمان سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کو قانون و شریعت کا مآخذ سمجھتا ہے اور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا عملی تقاضا
اور اس کے ساتھ یہ بات بھی مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی اطا عت ہی میں نجات ہے۔ ہدایت کا ذریعہ صرف اور صرف اطاعت ِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایمان والا نہیں جو مجھے اپنے والدین اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ رکھے۔
اگر کسی کے لئے خوبصورتی کا کوئی معیار ہے ، تو یہ صرف سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
” تم کو رسول خدا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا بہتر ہے یعنی اس شخص کو جسے اللہ تعالی سے ملنے اور روز آخرت کے آنےکی آس ہو اور وہ کثرت سے زکر الہی کرتا ہو "(سورۃ الا حزاب:آیت 21)سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا پہلا تقاضا یہ ہے زندگی کے مختلف پہلوؤں میں آپ کی صفات اور اخلاق کو آپ کی نبوت کے ثبوتوں اور خصوصیات کے ذریعہ حاصل کیا جائے۔ کیونکہ جو شخص آپ کے اخلاق اور اوصاف کو جانے گا وہ یقینا آپ سے محبت کرے گا۔
سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کاعلم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے کیونکہ سعادتِ دارین سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر مبنی ہے۔
سیرت نبوی ؐ، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ کے جذبہ ایمان و یقین کے واقعات سے لبریز ہے
خدا کے اعلی کلام کی شان کے ان کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو پڑھنے اور سننے سے مومنین کے عزائم و قوت کو تقویت ملتی ہے اور حقیقی دین کے دفاع کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے اور دلوں کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے رہنمائی موجود ہے چاہے حاکم ہو یا محکوم ، طالب علم ہو یا استاد گویا آپ ؐ کی سیرت ِ طیبہ ایک انسان ِ کامل کے لیے ہر اعتبار سے اعلیٰ درجے کی نادر مثال ہے۔
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعہ سے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ قرآن مجید کا تعلق سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت گہرا ہے۔
سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات اور امتیازات کا صحیح علم صرف سیرت سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعے سے طے ہوتا ہے۔
رب کائنات کی سوانح حیات کا مطالعہ کرکے عقیدہ اور اعتقاد ، شریعت ، اخلاقیات ، تفسیر ، حدیث ، سچائی ، سیاست ، انصاف ، دعوت اور تربیت اور معاشرے اور مختلف کے بارے میں درست اور مستند اور کارآمد معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں
سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور حدیث مبارکہ میں گہرا تعلق ہے سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے صحیح احادیث کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ دعوتِ اسلام کے مراحل کی روشنی فراہم کرتا ہے۔ اور ان مشکلات و تکالیف کا پتہ چلتا ہے جن سے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ کو کلمہ طیبہ کی سربلندی کے لیے گزرنا پڑا ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ ؐ نے پیش آمدہ دشواریوں کی گھاٹیاں عبور کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا۔
سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اس لیے کہ سعادت دارین، رسولؐ اللہ کی لائی ہوئی ہدایت اور رہنمائی پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت کا ذریعہ صرف اور صرف اطاعتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
Twitter @Patriot_Mani
ھمارے آباؤ اجداد اور ہم تحریر: محمد عاصم صدیق
ھمارے آباؤ اجداد نے ہمیں نہ صرف آزاد ریاست دی بلکہ ہمیں زندگی کے کئی اصول بھی بتائے ۔
آج اگر ہم سکون سے بغیر کسی خوف ،بغیر کسی در کے جہاں چاہئے اپنے ملک پاکستان میں ره رہے ہیں ۔ہر طرح کی آزادی ہمیں حاصل ہے ۔تو وہ صرف ھمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔لاکھوں لوگوں نے بےانتہا قربانیاں دی ھمارے لیے تا کہ ہمارا مستقبل خوبصورت بو ۔ہم عیش و عشرت سے رہ سکے ۔
ہماری ماؤں نے اپنی بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوتے دیکھا اپنی آنکھوں سے ۔بیٹوں کو قربان ہوتے دیکھا ۔یہ سب کس لیے تھا تا کہ میں آپ اور ہم سب غلامی سے نجات حاصل کر سکے ۔سکون کی سانس لے سکے ۔
لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم آج اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یاد بھی کرتے ہیں ؟
کیا ہم نے کبھی سوچا کے جن قربانیوں کے بعد یہ ملک ملا اِس کے پیچھے کوئی وجہ بھی تھی ؟
آج ہم سب کچھ بُھول چکے ہیں اور اِس ملک کو بے دردی کے ساتھ ہر طرح سے نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
کاش کے ہم اُن لوگوں سے سیکھ لیتے جو ابھی تک آزادی سے سانس بھی نہیں لے سکتے
اج ہم ایک آزاد قوم تو ہیں لیکن ھماری سوچ آج بھی غلامانہ ہے ۔ہم آج بھی انگریز اور ہندو کو اپنے سے بہتر سمجھتے ھیں اور ہر لحاظ سے انہی کے نقشے قدم پر چلنا پسند کرتے ہیں ۔
ھمارے آباؤ اجداد ہمیں آزاد ملک دے کر گئے تا کہ ہم اپنی پہچان بنا سکے ۔اپنے ملک کا نام روشن کر سکے ۔لیکن شائد ہم اپنے اسلاف کو بُھول گئے ۔
آج ہم کرپشن ،چوری ، نا انصافی ،جھوٹ ہر طرح کے گناہ روز مرہ زندگی میں کر رھے ہیں اور اپنے آباؤ اجداد کی روحوں کو دکھ پہنچا رھے ہیں ۔
ھمارے آباؤ اجداد نے اپنا سب کُچھ قربان کیا ،گھر باہر سب چھوڑ دیا یہاں تک کہ کچھ لوگ اپنے بچوں تک وہی چھوڑ آئے کیوں کہ اُنکا خواب تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کا اور اس کے لیے وہ ہر حد تک گئے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے رستے پر چلائے اور اُنکی زندگی سے کُچھ سیکھنے کی توفیق عطا کرے
امین!Written By : Muhammad Asim Siddiq
Username : @Asimsiddiq_
Email : asimsak47@gmail.com
جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم تحریر. عامر خان
آئیے بحث کو آگے بڑھاتے ہیں! حافظ صاحب کا کہنا یہ بهی تها کہ سراج الحق صاحب سے جب سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہاتھ ملا رہے ہیں تب اناڑی یعنی کپتان ان سے موجود بہتر تعلقات خراب کر رہا ہے کوئی جائے اور ان کو سمجهائے کہ یہی تو وہ پوائنٹ جس پر تحریک انصاف ہی نہیں پاکستانی عوام بهی حیران ہے بندگان خدا وہی لوگ جو عوام کو مسلسل لوٹ رہے ہیں یہی اگر منجهے ہوئے سیاستدان ہیں اور یہی اسلوب سیاست ہے پهر بهلا جماعت یا تحریک انصاف یا تبدیلی کی کیا ضرورت ہے؟منجھے ہوئے کھلاڑی جو موجود ہیں
یا للعجب کیسی سوچ ہے اور کیسی مرعوبیت ہے خدا جانے جماعت کے پیٹ میں ن لیگی محبت کا مروڑ کیوں اٹھتا رہتا ہے؟مسئلہ یہ ہے کہ جماعت کے لاہوری ” دهڑے "”کے دل میں لیگ کےلئے اتنی ہمدردی ضرور ہے کہ انہوں نے 2013 کے الیکشن میں اپنے امیر محترم کو ہی فٹ بال بنا ڈالا تها جب خیبر کےپی والے تحریک انصاف اور لاہور والے ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر زور دے رہے تهے آخر آخر جماعت ادھر کی رہی نہ ہی ادھر کی.جماعت کے ارکان+کارکنان برا نہ مانیں تو چند گزارشات پہ غور فرمائیں اولا یہ کہ جماعت کی اساس سیاسی ہے ہی نہیں دارالسلام میں جب اس کی تشکیل ہوئی تو یہ خالصتا ایک اصلاحی، فکری، علمی، جماعت تهی جس کا مقصد محض اسلام کی جدید فکر احیاء اسلام سماج کی اسلامی تشکیل تها نتیجتا البتہ یہ ممکن ہو پاتا کہ ایک سیاسی انقلاب آتا یا سیاسی سسٹم میں بہتر لوگ آ پاتے بعد ازاں جماعت سیاست میں اتری تو بهلا اپنی اساس کے خلاف کیونکر کامیاب ہو پاتی ماضی میں جب وہ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر تهی تو اسے محدود سا حصہ اقتدار یا اسمبلی میں دے دیا جاتا جسے جماعت والے اپنی کامیابی سمجھتے مثلا ضیاء صاحب کا دور مثلا ایم ایم اے کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ مشرف کو ایوان سے ایل ایف او جیسے کالے قانون کی منظوری جماعت اور اس کے اتحادیوں کے طفیل ملی! اخبارات نے تب خبر لگائی تهی ملا حلوے کی چند پلیٹوں پہ مان گئے! لال مسجد آپریشن کے ہنگام یہ لوگ زبانی بیان بازی تک محدود رہے بلکہ اسمبلیوں میں براجمان بهی حافظ صاحب نے کپتان پہ جی ایچ کیو کی پهبتی کسی ہنسی کے مارے میرا برا حال ہو گیا کہ کیسے وہ جماعت کے قبلہ اول پہ تنقید فرمارہے ہیں جب تلک جماعت کا امیر کسی بڑے جلسہ ء عام میں اس سابقہ روایت پہ معافی نہ مانگیں گے قوم ان کے رجوع کو تسلیم نہ کرے گی ثانیا جماعت کو امیر جماعت کو ویٹو پاور دینا ہو گی مجلس شوری ، مجلس شوری ہی رہے مجلس تحکیم نہ بنے انہیں امیر کو آزادی دینا ہو گی ثالثا جماعت کی تشکیل سیاسی بنیادوں پہ کی جائے اصلاحی تحریک کو انکی ذمہ داری دے کر الگ کر دیا جائے اور وہ فقط اصلاح سماج کا کام کرے جمعیت طلباء پہ انحصار کی بجائے لیڈر شپ پیدا کی جائے کامیابی اپنی خوبیوں کے طفیل ملتی ہے ناکہ مخالف کی خرابیوں کے طفیل! بیس ہزار سے کچھ زائد کارکنان کے ساتھ کیا بیس کروڑ کے معاشرے کو اپنی جانب متوجہ کرنا ممکن ہوگا؟؟؟ یہ سیاست ہے مہربان سیاست جس کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہمارے پاس ترازو کے دو باٹ ہرگز نہیں محترم جس ترازو میں تحریک انصاف کو ن لیگ یا دیگر کو ہم تولیں گے جماعت کو بهی اسی میں اپنی حکومتی حلیف جماعت کو چهوڑ کر آپ اپوزیشن اتحاد میں کھڑے ہوں گےتو نہ صرف کپتان بلکہ ہر صاحب انصاف آپ پہ انگلی اٹھائے گا جو کہ جائز ہو گی کمال کرتے ہیں آپ دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت! کپتان پہ ان کے اخلاقی اعترضات کا جواب مناسب عمل نہیں ہو گا کیونکہ یہ پروردگار اور اس کے بندے کا معاملہ ہے شریعت لوگوں کی نجی زندگی میں جهانکنے کی اجازت نہیں دیتی جماعت کا کردار بلدیاتی انتخابات میں ایک حلیف جماعت کے طور پہ مناسب ہرگز نہیں تها بلکہ بےوفائی کی گرد سے اٹا ہوا تها جماعت کو سوچنا ہو گا ورنہ وہ آسمان دیکهتی رہ جائے گی@Aamir_k2

توبہ ہی بقاء آخرت اور رضا الہی ہے تحریر : مدثر حسین
آج کا موضوع انسان کے نفس اسکی خواہشات اور اللہ رب العزت کی بندگی سے متعلق ہے. یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کیوں انسان شیطان کے بہکاوے میں آتا ہے آخر کیوں رب کی بارگاہ سے دور ہو جاتا ہے.
اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انسان کو بہت عمدہ شکل و صورت سے نوازا ہے جیسا کی قرآن کریم میں ارشاد فرمایالَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘(۴)
ترجمۂ کنز العرفان
بیشک یقیناہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا ۔
تفسیر صراط الجنان
{ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ: بیشک یقینا ہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا۔ } اللّٰہ تعالیٰ نے انجیر،زیتون،طور سینا اور شہر مکہ کی قسم ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو سب سے اچھی شکل وصورت میں پیدا کیا ،اس کے اَعضاء میں مناسبت رکھی،اسے جانوروں کی طرح جھکا ہوا نہیں بلکہ سیدھی قامت والا بنایا، ،اسے جانوروں کی طرح منہ سے پکڑ کر نہیں بلکہ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر کھانے والا بنایا اوراسے علم، فہم، عقل، تمیز اور باتیں کرنے کی صلاحیت سے مُزَیّن کیا۔( خازن، والتین، تحت الآیۃ: ۴، ۴ / ۳۹۱، مدارک، التین، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۳۶۰، ملتقطاً)
انسان کو اتنا خوش شکل ہونے کے بعد اتنی عظمتوں عزتوں. عمتوں کے بعد تو تابعدار ہونا چاہیئے تھا پھر بھی نافرمانی کیوں؟
اگر انسان اللّٰہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی تخلیق میں غور کرے تو اس پر روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اسے حسن ِصوری اور حسن ِمعنوی کی کیسی کیسی عظیم نعمتیں عطا کی ہیں اور اس چیز میں جتنا زیادہ غور کیا جائے اتنا ہی زیادہ اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کی معرفت حاصل ہوتی جائے گی اور اس عظیم نعمت کو بہت اچھی طرح سمجھ جائے گا۔
شیطان انسان کے نفس کو کسی نا کسی ہوس میں الجاھے رکھتا ہے جس سے وہ رحمان کے راستے سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر خسارے میں ہو جاتا ہے جیسا کی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا.
وَ الْعَصْرِۙ(۱)اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲)اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)ترجمۂ کنز العرفان
زمانے کی قسم۔ بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔ مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔
تفسیر صراط الجنان
{وَالْعَصْرِ: زمانے کی قسم۔}
{اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ: بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قسم ذکر کرکے فرمایا کہ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے کہ اس کی عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ میں انہیں پیش آئیں تو یہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے خسارے میں نہیں بلکہ نفع پانے والے ہیں کیونکہ ان کی جتنی عمر گزری وہ نیکی اور طاعت میں گزری ہے۔( روح البیان، العصر، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۱۰ / ۵۰۵-۵۰۶، خازن، العصر، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۴ / ۴۰۵، ملتقطاً)اسی طرح ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ(۲۹) لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ‘‘(فاطر:۲۹،۳۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اللّٰہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیےہوئے رزق میں سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی ۔تاکہ اللّٰہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا، قدرفرمانے والا ہے۔
سورہِ عصر کی آیت نمبر2اور 3سے حاصل ہونے والے نتائج
(1)…انسان کی زندگی اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اس سرمائے سے وہ اُسی صورت میں نفع اٹھا سکتا ہے جب وہ اِسے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں خرچ کرے اوراگر وہ یہ سرمایہ اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے، اس کی نافرمانی کرنے اور گناہوں میں خرچ کرتا رہا تو اسے کوئی نفع نہ ہو گا بلکہ بہت بڑا نقصان اٹھا ئے گا ،لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت میں مصروف ہوجائے ۔(2)…انسان کی زندگی کا جو حصہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں گزرے وہ سب سے بہتر ہے۔
(3)…دنیا سے اِعراض کرنا اور آخرت کی طلب میں اور ا س سے محبت کرنے میں مشغول ہونا انسان کے لئے سعادت کا باعث ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا‘‘(بنی اسرائیل:۱۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئےایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہوتو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
اگر نفس شیطانیت میں مائل ہو جاے تو رب العالمین سے اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کی دعا کرنی چاہیئے اور اسکو شیطان کا کھلونا بننے سے بچانا چاہیے
اللہ سے توبہ کرنی چاہیے جیسا کی قرآن میں ارشاد ہوتا ہے.
وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵)اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ(۱۳۶)ترجمۂ کنز العرفان
اور وہ لوگ کہ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تواللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ کے علاوہ کون گناہوں کو معاف کر سکتا ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے برے اعمال پر اصرار نہ کریں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے بخشش ہے اور وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ (یہ لوگ) ہمیشہ ان (جنتوں ) میں رہیں گے اورنیک اعمال کرنے والوں کا کتنا اچھا بدلہ ہے۔
تفسیر صراط الجنان
{ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ: اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔} پرہیزگاروں کے اوصاف کا بیان جاری ہے اوریہاں ان کا مزید ایک وصف بیان فرمایا، وہ یہ کہ اگر اُن سے کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ سرزد ہوجائے تو وہ فوراً اللہ عَزَّوَجَلَّ کو یاد کرکے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ، اپنے گناہ پر شرمندہ ہوتے ہیں اور اسے چھوڑ دیتے ہیں اور آئندہ کیلئے اس سے باز رہنے کا پختہ عزم کرلیتے ہیں اور اپنے گناہ پر اِصرار نہیں کرتے اور یہی مقبول توبہ کی شرائط ہیں۔ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ’’ تیہان نامی ایک کھجور فروش کے پاس ایک حسین عورت کھجوریں خریدنے آئی۔ دکاندار نے کہا کہ یہ کھجوریں اچھی نہیں ہیں ، بہترین کھجوریں گھر میں ہیں ، یہ کہہ کراس عورت کو گھر لے گیا اور وہاں جا کر اس کا بوسہ لے لیااور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ اس عورت نے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر۔ یہ سنتے ہی تیہان نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور شرمندہ ہو کر حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں سارا ماجرا عرض کیا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ ایک روایت یہ ہے کہ’’ دو شخصوں میں بڑا پیار تھا، ان میں سے ایک جہاد کے لئے گیااور اپنا گھر بار دوسرے کے سپرد کر گیا۔ ایک روز اُس مجاہد کی بیوی نے اُس انصاری سے گوشت منگایا ، وہ آدمی گوشت لے آیا،جب اُس مجاہد کی بیوی نے گوشت لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تواس نے ہاتھ چوم لیالیکن چومتے ہی اسے سخت شرمندگی ہوئی اور وہ جنگل میں نکل گیا اور منہ پر طمانچے مارنا اور سرپر خاک ڈالنا شروع کردی۔ جب وہ مجاہد اپنے گھر واپس آیا تو اپنی بیوی سے اپنے اُس دوست کا حال پوچھا۔ عورت بولی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے دوست سے بچائے۔ وہ مجاہد اُس کو تلاش کرکے حضور سید المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں لایا۔ اس کے حق میں یہ آیات اتریں۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۳۵، ۱ / ۳۰۲)ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں واقعے اس آیت کا شانِ نزول ہوں۔ بہر حال خلاصہ تو واضح ہے گناہ کا ہو جانا نفس کا بھٹک جانا اتنی بڑی غلطی نہیں جتنی علم ہونے کے باوجود غلطی پر نا صرف قائم رہنا بلکہ اس پر اکڑ جانا اور توبہ نہ کرنا یہ سب سے بڑی غلطی ہے
@EngrMuddsairH

اسلام دین انسانیت تحریر : زوہا علی
انسان اسلام کا جتنے غور سے مطالعہ کرے تو یہ بات انسان پر واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے۔اگر ہم یوں کہ دیں تو غلط نہیں ہوگا کہ اسلام انسانیت کا مذہب ہے اور اسلام کے ہر حکم میں انسانیت کا ہی فائدہ ہے۔
اسلام اور انسانیت لازم و ملزوم ہیں جہاں اسلام ہوگا وہاں انسانیت ہوگی اگر کوئی انسان مسلمان ہونے کے باوجود بھی انسانیت کے خلاف جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام میں خرابی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اسلام کا مجرم ہے
یوں تو اس کرہٗ ارض پر اللّہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ بے شمار مخلوقات ہیں اور اس زمین پر حاکم ومحکوم ہیں۔اگر انسانوں میں سے اخلاقیات کی بنیاد یعنی انسانیت کو نکال دیا جائے تو انسان کسی حیوان سے کم نہیں ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو کہ زندگانی اور انسانیت کے تمام تر تقاضوں پر پورا اُترتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اللّہ اور اسکے رسول ﷺ نے جو بھی احکامات اور ہدایات دی وہ محض انسانیت سکھاتے ہیں اور انسانوں سے اچھے تعلقات رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے مجھے شوق ہوا کہ میں قرآن و حدیث کا مطالعه کروں جیسے جیسے میں پڑھتی گئی تو معلوم ہوتا گیا کہ بحیثیت سائنس کی طالبہ،جو چیز آج سائنس ثابت کر رہی ہے کہ اس چیز میں انسان کا نقصان ہے وہ اسلام ہمیں چودہ سو سال پہلے منع ہونے کا حکم دے کہ بتا چکا ہے۔دینِ اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں جس میں انسان کا نقصان ہو۔اسی طرح اسلام اپنے پیروکاروں کو بھی انسانیت کا ہی درس دیتاہے۔
اسلام مىں کوئی بھی ایسی دلیل نہیں کی اسلام نے اپنے پیروکاروں کو دوسروں پر ظلم کرنے کا حکم دیا ہو،یا کسی مقام پر غیر انسانی فعل کرنے کا حکم دیا ہو۔حتیٰ کی اسلام انتقام لینے کا حکم بھی صرف اس وقت دیتا ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے۔بلکہ اسلام تو انتقام لینے کی بھی غیر محدود اجازت نہیں دیتا بلکہ یہ شرائط عائد کرتا ہے کہ انتقام ظلم کے مماثل ہو، اس سے متجاوز نا ہو۔
ٓآج کل جن حقوق کو ہم نے عالمی انسانی حقوق تسلیم کیا ہے اس سے بہتر انداز میں ہمارے پاس وہ حقوق میثاقِ مدینہ، خطبہ حجۃ الوداع اور دیگر اسلامی تعلیمات میں ملتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم مسلمان ان تعلیمات کو نہیں پڑھتے اور اگر پڑھ بھی لیں تو عمل نہیں کرتے اور یوں ہم اپنی پسند کے راستے پر چل کر غلطی کرلیتے ہیں بووجہ یہ تمام اُمتِ مسلمہ پر انگلی اٹھانے کا موقع دوسرے مذاہب کو مل جاتا ہے اور نتیجتاً بے سکونی غالب آجاتی ہے۔
اگر ہم مسلمان ہم خود اسلامی تعلیمات پر عمل شروع کریں اور اسلام کے امن پسند اور انسانیت دوست نظریے کو آگے بڑھائیں تو میرے نقطہء نظر سے یہ دنیا خوشحال ہوجائے گی۔
Twitter handle: @ZoHaAli_15









