Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    ہر سال امریکہ اور کینیڈا میں پیدا ہونے والی لاکھوں تتلیاں اڑ کر میکسیکو جاتی ہیں جہاں وہ ایک موسم سرما گزار کر واپس آ جاتی ہیں۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہر گزرتے برس کے ساتھ ان تتلیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہر ماحولیات سارہ ڈائیکمین تتلیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے حوالے سے کچھ کرنے کے لیے نکل پڑی ہیں۔ وہ بھی تتلیوں کے ہمراہ میکسیکو سے شمالی امریکہ اور کینیڈا اور پھر واپس میکسیکو تک سائیکل پر سفر کیا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین ماہر ماحولیات کے ساتھ ایک استاد بھی ہیں سارہ وہ پہلی شخص ہیں جنھوں نے ’بادشاہ تتلیوں‘ کے امریکہ سے میکسیکو تک نقل مکانی کو دیکھنے کے لیے اپنے سائیکل پر 16,417 کلومیٹر کا لمبا سفر طے کیا ہے۔

    بی بی سی کو انٹر ویو میں سارہ نے بتایا کہ ا نہوں نے اپنے طویل سفر کا آغاز مرکزی میکسیکو سے کیا۔ انھوں نے بلند و بالا پہاڑوں پر دیکھا کہ ہزاروں تتلیاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر کود رہی ہیں، میکسیکو کے وہ پہاڑ جہاں یہ تتلیاں سردیاں گزارتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق ان پہاڑوں کا موسم اُن کے لیے بہت مناسب ہے۔ دس ہزار فٹ کی بلندی پر موسم نہ تو بہت گرم اور نہ ہی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے شمال کی جانب سیرا مادرے پہاڑی سلسلے کی جانب سفر کرتی ہیں جب وہ امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ ایک وسیع علاقے پر پھیل جاتی ہیں۔ اور انہیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے گوگل نقشوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور کئی دفعہ انھیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے سائیکل کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے بتایا کہ تتلیاں کسی ایک کھیت سے راستہ نہیں بناتیں بلکہ رات کو ایک کسی کونے سے اگلے سفر پر روانہ ہوتی ہیں۔ کبھی تو ان کا سفر شروع کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن بعض اوقات بہت ہی مشکل۔‘

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کا کہنا تھا کہ ایک مادہ تتلی 500 انڈے دیتی جس میں تقریباً ایک فیصد اپنی بلوغت تک پہنچ پاتے ہیں۔ بقیہ 495 انڈے دوسرے حشرات کے لیے خوراک کا ذریعہ ہیں۔

    ایسی تتلیاں جو بلوغت کو پہنچ جاتی ہی اور امریکہ کی شمالی ریاستوں اور کینیڈا تک پہنج جاتی ہیں وہ میکسییکو میں اپنے قیام کے برعکس کسی اجتماع کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ وہ کھلے علاقے میں پھیل جاتی ہیں –

    ڈائیکمین تتلیوں کے ساتھ اپنے سفر کے دوران ہر روز سائیکل پر نوے میل کا سفر طے کرتی ہیں۔ وہ اپنے جسم کو آرام دینے کے لیے ہر دس روز بعد ایک چھٹی کرتی ہیں لیکن تتلیاں کوئی چھٹی نہیں کرتیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بادشاہ تتلیوں کے رینگنے کے لیے بہترین درجہ حررارت پانچ سینٹی گریڈ جبکہ اڑنے کے لیے تیرہ سینٹی گریڈ ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں تتلیوں کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ چونکہ ان کے جسم کا درجہ حرارت ماحول کے درجہ حرارت کے برابر ہوتا ہے اور اگر عالمی حدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے تتلیوں کے وجود کے لیے خطرات ہو سکتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق وہ تتلیاں جو میکسیکو سے اپنا سفر شروع کرتی ہیں وہ جب امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ مرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تتلیوں کی اگلی نسل دو سے پانچ ہفتوں تک زندہ رہتی ہیں۔ کینیڈا اور شمالی امریکہ تک پہنچتے پہنچتے تتلیوں کی چوتھی نسل تیار ہو چکی ہوتی ہے۔

    سارہ نے بتای کہ لیکن کینیڈا میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیوں کی نسل کا جسمانی حجم قدرے بڑا ہوتا ہے اور ان کی زندگی کا دورانیہ آٹھ مہینے ہے، جو بہت بہت طویل ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے مزید کہا کہ کینیڈا اور شمالی امریکہ کے موسم خزاں میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیاں ہی ہیں جو سردیوں کے موسم میں میکسیکو کی طرف ہجرت کر جاتی ہیں اور پھر موسم بہار میں واپس امریکہ لوٹ کر انڈے دیتی ہیں.

    انہوں نے بتایا کہ موسم بہار میں کینیڈا کی طرف سفر کے دوان ان کی توجہ انڈے دینے پر مرکوز ہوتی ہے لیکن موسم خزاں کی ہجرت کے دوران ان کی زیادہ توجہ پھولوں سے رس چوسنے پر ہوتی ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے تتلیوں کے ساتھ دونوں جانب ہجرت کی ہے، میکسیکو سے امریکہ اور پھر امریکہ سے میکسیکو تک 264 دن سفر کیا-

  • ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک  رہے گا ،محکمہ موسمیات

    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا ،محکمہ موسمیات

    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا ،محکمہ موسمیات

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ اورجنوبی وسطی بلوچستان میں گرمی کی شدت برقرار رہے گی سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اورخشک رہے گا-

    لاڑکانہ، میر پور خاص اور بینظیر آباد میں بھی گرمی کی شدت میں اضافہ رہے گا-

    بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم رہے گا دوسری جانب سبی، کوہلو، لسبیلہ ، تربت اور مکران میں گرمی کی شدت میں اضافہ رہے گا-

    دادو، جیکب آباد، پڈعیدن، موہنجو دڑو،روہڑی اور سکھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گا-

    پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا اسلام آباد میں موسم گرم اور خشک رہے گا-

    جنوبی پنجاب میں موسم شدید گرم رہنے کا امکان ہے-

    جبکہ خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور گرم رہے گا گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر میں مطلع جزوی ابر آلود رہے گا-

  • سپرمون کو خونی چاند گرہن کا نام کیوں دیا گیا؟

    سپرمون کو خونی چاند گرہن کا نام کیوں دیا گیا؟

    چاند کو گرہن آج لگے گا، پاکستان میں دن ہونے کے باعث یہ دکھائی نہیں دے گا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس چاند گرہن کا آغاز پاکستانی ٹائم کے مطابق بوقت دوپہر 01:43:39 بجے ہوگا -جزوی گرہن کا آغاز 02:45 منٹ پر اور مکمل قمری گرہن کا آغاز سہ پہر 04:11 منٹس سے لے کر 4:26 منٹس تک ہو گا جبکہ گرہن کا اختتام 06:50 منٹس تک ہو گا گرہن کاکل دورانیہ 5 گھنٹے اور 5 منٹ کے قریب ہو گا-

    کوریا امریکہ فلپائن آسٹریلیا ، سنگاپور ،چین ،میکسیکو، تائیوان، پیرو، چلی ،انڈونیشیا، ہانگ کانگ، گوئٹے مال اور جاپان کے اکثر علاقوں میں مکمل یعنی Full Super Moon کا نظارہ کیا جا سکے گا-

    جبکہ کینیڈا ، برازیل ، کولمبیا، ویزویلا کیوبا ارجنٹائن ، ویت نام تھائی لینڈ ، برما اور بنگلہ دیش کے کچھ حصوں میں جزوی گرہن کا نظارہ کیا جا سکے گا جبکہ پاکستان اور دیگر ممالک میں گرہن نظر نہیں آئے گا کیونکہ اس چاند گرہن کے موقع پر پاکستان میں دن کا وقت ہوگا جبکہ پاکستان میں چاند بھی شام سات بجے کے بعد ہی طلوع ہوگا۔

    انڈیا کے کچھ مشرقی ساحلی علاقوں میں گرہن کا جزوی اختتامی حصہ دیکھا جا سکتا ہے –

    چاند زمین سے قریب ہونے کے باعث سپر فل مون بھی ہوگا۔ 26 مئی کے چاند کو سپر فلاور بلڈ مون کا نام دیا گیا ہے۔

    سُپر مون کب ہوتا ہے؟

    خیال رہے کہ ’’سپر مُون‘‘ تب ہوتا ہے جب چاند کا فاصلہ زمین سے نسبتاً کم ہو جس کی وجہ سے وہ (زمین سے دیکھنے پر) وہ نہ صرف مکمل بلکہ ظاہری طور پر معمول سے بڑا بھی نظر آئے۔ (چاند اور زمین کا اوسط درمیانی فاصلہ 3 لاکھ 84 ہزار 400 کلومیٹر ہے۔)

    26 مئی والے چاند گرہن کا معاملہ بھی یہی ہوگا کیونکہ اس روز چاند اور زمین کا درمیانی فاصلہ، اوسط فاصلے سے لگ بھگ 26 ہزار کلومیٹر کم (تقریباً 3 لاکھ 58 ہزار کلومیٹر) ہوگا۔

    سُر فل مون کو خونی چاند گرہن یا سپر فلاور بلڈ مون کیوں کہتے ہیں؟

    اسے ’’خونی چاند گرہن‘‘ کہنے کی وجہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی بلکہ یہ سورج کی روشنی منعکس کرتا ہے اور ہمیں چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    دوسری جانب سورج کی روشنی سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو آپس میں مل کر سفید روشنی بناتے ہیں چاند گرہن کے دوران بعض مواقع پر سورج کی روشنی، زمینی کرہ ہوائی سے ٹکرا کر منتشر ہوتی ہے اور چاند تک پہنچتی ہے لیکن زمینی کرہ ہوائی قدرتی طور پر نیلی روشنی جذب کرتا ہے۔

    نتیجتاً گرہن کے دوران چاند کی سطح تک پہنچنے والی روشنی میں سرخ رنگ غالب ہوتا ہے لہذا جب چاند کی سطح سے وہ روشنی منعکس ہو کر زمین پر آتی ہے تو ہمیں چاند گرہن کے دوران چاند کی رنگت بھی سرخی مائل دکھائی دیتی ہے۔

    یہی وہ کیفیت ہے جسے ’’خونی چاند‘‘ کہا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے سال کے شروع میں بتایا تھا کہ سال 2021 میں 2 سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے، تاہم پاکستان میں اس سال کے چاند اور سورج گرہن دکھائی نہیں دیں گے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اس سال کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو ہوگا جو مکمل چاند گرہن ہوگا دوسرا چاند گرہن19 نومبر کو ہوگا، جو جنوبی اور مشرقی امریکا ، آسٹریلیا اور یورپ کے مختلف علاقوں میں دیکھا جاسکے گا۔

    جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا، یہ جزوی سورج گرہن ہوگاجو ایشیا، افریقہ،یورپ،افریقہ اور مغربی امریکا میں دیکھا جاسکے گا سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن4 دسمبر کو ہوگا جو مکمل سورج گرہن ہوگا، جسے امریکا، جنوبی امریکا، پیسیفک، اور انٹارکٹکا میں دیکھا جاسکے گا-

    دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق 27 مئی جمعرات کو مکہ مکرمہ کے ٹائم کے مطابق سورج دوپہر 12 بج کر 18 منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا جس سے دنیا بھر میں قبلہ رخ کا صحیح تعین کیا جاسکے گا جب کہ اس وقت بیت اللہ کا سایہ بھی نہیں ہوگا۔

     

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    سورج 27 مئی کو خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا عرب میڈیا

  • سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    سال کا پہلا قمری گرہن کل یعنی 26 مئی بروز بدھ کو لگے گا-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس چاند گرہن کا آغاز پاکستانی ٹائم کے مطابق بوقت دوپہر 01:43:39 بجے ہوگا -جزوی گرہن کا آغاز 02:45 منٹ پر اور مکمل قمری گرہن کا آغاز سہ پہر 04:11 منٹس سے لے کر 4:26 منٹس تک ہو گا جبکہ گرہن کا اختتام 06:50 منٹس تک ہو گا گرہن کاکل دورانیہ 5 گھنٹے اور 5 منٹ کے قریب ہو گا-

    کوریا امریکہ فلپائن آسٹریلیا ، سنگاپور ،چین ،میکسیکو، تائیوان، پیرو، چلی ،انڈونیشیا، ہانگ کانگ، گوئٹے مال اور جاپان کے اکثر علاقوں میں مکمل یعنی Full Super Moon کا نظارہ کیا جا سکے گا0

    جبکہ کینیڈا ، برازیل ، کولمبیا، ویزویلا کیوبا ارجنٹائن ، ویت نام تھائی لینڈ ، برما اور بنگلہ دیش کے کچھ حصوں میں جزوی گرہن کا نظارہ کیا جا سکے گا جبکہ پاکستان اور دیگر ممالک میں گرہن نظر نہیں آئے گا کیونکہ اس چاند گرہن کے موقع پر پاکستان میں دن کا وقت ہوگا جبکہ پاکستان میں چاند بھی شام سات بجے کے بعد ہی طلوع ہوگا۔

    انڈیا کے کچھ مشرقی ساحلی علاقوں میں گرہن کا جزوی اختتامی حصہ دیکھا جا سکتا ہے –

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نت سال کے شروع میں بتایا تھا کہ سال 2021 میں 2 سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے، تاہم پاکستان میں اس سال کے چاند اور سورج گرہن دکھائی نہیں دیں گے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اس سال کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو ہوگا جو مکمل چاند گرہن ہوگا دوسرا چاند گرہن19 نومبر کو ہوگا، جو جنوبی اور مشرقی امریکا ، آسٹریلیا اور یورپ کے مختلف علاقوں میں دیکھا جاسکے گا۔

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا، یہ جزوی سورج گرہن ہوگاجو ایشیا، افریقہ،یورپ،افریقہ اور مغربی امریکا میں دیکھا جاسکے گا سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن4 دسمبر کو ہوگا جو مکمل سورج گرہن ہوگا، جسے امریکا، جنوبی امریکا، پیسیفک، اور انٹارکٹکا میں دیکھا جاسکے گا۔

    گرہن کیا ہوتا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    برطانوی خبررساں ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق گرہن ایک شاندار دلکش فلکیاتی عمل ہے یہی وجہ ہے کہ گرہن کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے سیاحت کی ایک الگ برانچ قائم ہو چکی ہے۔

    اہم گرہن کی متعدد اقسام میں سے یہ ایک ہے۔

    حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’السٹریٹڈ آسٹرونومی‘ کے مصنف یوان کارلوس بیامن جو اٹانومس یونیورسٹی آف چلی کے سائنس کمیونیکیشن سینٹر میں بطور ایسٹروفزسٹ کام کرتے ہیں لکھتے ہیں کہ ’عمومی طور گرہن کی دو اقسام ہیں جن میں چاند اور سورج کے گرہن شامل ہیں۔

    تاہم اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ تکنیکی اعتبار سے دیکھیں تو ایک تیسری قسم بھی ہیں، جس میں دو ستارے شامل ہوتے ہیں۔

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    سورج گرہن
    چاند کی زمین کے گرد گردش کے دوران ایسے مواقع آتے ہیں جب یہ سورج اور ہمارے سیارے کے درمیان آ جائے تو یہ سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے اور یوں سورج کو گرہن لگ جاتا ہے دوسرے لفظوں میں چاند زمین کی سطح پر اپنا عکس ڈال دیتا ہے۔

    سورج گرہن کی مزید تین اقسام ہیں-

    مکمل سورج گرہن
    مکمل سورج گرہن کا عمل اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان ایسے رکاوٹ بنتا ہے کہ وہ مکمل طور پر سورج کی روشنی کو روک دیتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    کچھ سیکنڈوں کے لیے (یا متعدد مرتبہ چند منٹ کے لیے) مکمل طور پر اندھیرا ہو جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے رات کا وقت ہو۔

    ناسا کے مطابق: ’مکمل سورج گرہن زمین پر صرف ایک آسمانی یا خلائی اتفاق کے باعث ممکن ہوتے ہیں۔‘ یعنی سورج چاند سے چار سو گنا بڑا ہے لیکن یہ اس سے 400 گنا دور بھی ہے۔

    ناسا کا مزید کہنا تھا کہ ’اس جیومیٹری کے باعث جب چاند عین سورج اور زمین کے درمیان موجود ہوتا ہے تو یہ مکمل طور پر سورج کی روشنی کو روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔‘

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    چلی سے تعلق رکھنے والے آسٹروفزکس کے ماہر لکھتے ہیں کہ سورج گرہن کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ سات منٹ اور 32 سیکنڈ کا ہو سکتا ہے سورج گرہن کتنے دنوں بعد یا کتنی دیر میں ہوتا اس بارے میں شاید آپ کا خیال ہو کہ ایسا کم کم ہی ہوتا ہے لیکن اصل میں ہر اٹھارہ ماہ بعد ایک سورج گرہن ہوتا ہے۔

    لیکن زمین پر ایک ہی جگہ سے مکمل سورج گرہن کا دیکھا جانا، ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے اور ایسا 375 برس بعد ہی میں مکمن ہو سکتا ہے۔

    اس سال بھی مکمل گرہن ہونے والا ہے لیکن اس کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ قطب جنوبی میں ہوں کیونکہ یہ صرف وہیں نظر آئے گا۔

    سالانہ گرہن
    جب چاند اور زمین کے درمیان زیادہ فاصلہ ہوتا ہے تو زمین سے چاند چھوٹا نظر آتا ہے اور اسی لیے یہ مکمل طور پر سورج کو چھپا نہیں پاتا۔ ایسے میں چاند کے گرد سورج ایک ہالے کی طرح نظر آتا ہے اور اس واقع کو سالانہ سورج گرہن کہا جاتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ گریٹی
    اس سال جون کی دس تاریخ کو سالانہ سورج گرہن شمالی عرضالبد کے انتہائی شمالی حصوں جن میں کینیڈا کے کچھ علاقے، گرین لینڈ اور روس میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا جبکہ یورپ، وسطی ایشیا اور چین کے بعض حصوں میں جزوی طور پر سورج گرہن ہو گا۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق یہ سورج گرہن عام طور پر خاصے طویل ہوتے ہیں اور سورج ایک گول دائرہ یا ہالے کے طور پر دس منٹ تک دکھائی دے سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ پانچ سے چھ منٹ تک دکھائی دیتا ہے۔

    ملا جلا گرہن
    بیمن نے وضاحت کی کہ ملا جلا گرہن جسے انگریزی میں ہائبرڈ گرہن کہتے ہیں وہ اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین سے اتنے فاصلے پر ہوتا ہے کہ یہ سورج کو پوری طور پر چھپا لے، لیکن جب یہ حرکت کرتا ہے تو یہ دنیا سے دور ہوتا جاتا ہے اور پورے سورج نہیں چھپا پاتا۔ یوں مکمل سورج گرہن سالانہ سورج گرہن میں بدل جاتا ہے۔

    اس طرح جب چاند زمین کی جانب حرکت کرتا ہے تو سلانہ سورج گرہن مکمل سورج گرہن میں بدل جاتا ہے۔

    ہائبرڈ یا ملا جلا گرہن کا ہونا شاز و نادر ہی ہوتا ہے ایسے گرہن صرف چار فیصد ہی ہوتے ہیں۔

    ناسا کے مطابق آخری سورج گرہن سنہ 2013 میں ہوا تھا اور ایسے دوسرے سورج گرہن کے لیے ہمیں 20 اپریل سنہ 2023 تک انتظار کرنا ہوگا جو انڈونیشیا، آسٹریلیا اور پاپوا نیو گنی میں دیکھا جائے گا۔

    2: چاند گرہن
    چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا دوسرے لفظوں میں چاند گرہن کے دوران ہمیں زمین کا سایہ چاند پر پڑتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

    چاند گرہن کی تین اقسام ہیں-

    مکمل چاند گرہن
    مکمل چاند گرہن کے دوران، ناسا کے مطابق چاند اور سورج دنیا سے دو مختلف سمتوں میں ہوتے ہیں چاند گرہن کے دوران چاند زمین کے سائے میں آ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کچھ روشنی چاند پر پہنچتی رہتی ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    چاند گرہن کے دوران سورج کی روشنی زمین کی فضا سے گزر کر چاند پر پڑتی ہے اس ہی وجہ سے گرہن کے دوران چاند سرخ نظر آتا ہے جسے ’خونی چاند‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    آئی اے سی کے ہدایت نامہ کے مطابق دنیا کا قطر کیونکہ چاند کے قطر سے چار گنا بڑا ہے اس لیے مکمل چاند گرہن کا دورانیہ 104 منٹ تک ہو سکتا ہے اور چاند گرہن کی یہی وہ قسم ہے جو کل یعنی 26 مئی کو دیکھی جا سکے گی –

    جزوی چاند گرہن
    اس گرہن کے دوران چاند پوری طرح نہیں چھپتا ہے اور صرف چاند کا کچھ حصہ ہی زمین کے سائے میں آتا ہے گرہن کی نوعیت کتنے گہرے سرخ رنگ یا خاکی اور زنگ کے رنگ کی طرح ہو گی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ زمین کا عکس چاند کی تاریک سطح پر کسی طرح پڑتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    چاند کے تاریک اور روشن حصے کے تضاد کی وجہ سے ہوتا ہے چاند کا روشن حصہ پر تو سائے کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور کی چمک برقرار رہتی ہے لیکن زمین کے سائے میں آنے والا حصہ تاریک ہو جاتا ہے۔

    ناسا کے مطابق مکمل چاند گرہن کبھی کبھار ہی ہوتا ہے لیکن جزوی گرہن سال میں دو مرتبہ ہوتا ہے اگلا جزوی چاہد گرہن 18 اور 19 نومبر کو متوقع ہے جو شمالی اور جنوبی امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ اور ایشیا کے کچھ حصوں میں دکھائی دے گا۔

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    خفیف سا چاند گرہن
    یہ گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین کے خفیف سے سائے کے نیچے سے گزرتا ہے جو کہ بہت ہلکہ سا سایہ ہوتا ہے یہ گرہن اتنے ہلکے سے ہوتے ہیں کہ ان کا انسانی آنکھ سے دیکھے جانے کا امکان اس بات پر ہوتا کہ چاند کا کتنا حصہ اس عکس کے نیچے آتا ہے۔ جتنا کم حصہ اس سائے میں آتا ہے اتنا ہی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ یہ زمین پر کسی انسان کو دکھائی دے۔

    یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے گرہن کا کیلینڈر میں ذکر نہیں کیا جاتا خاص طور پر ان کیلینڈروں میں جو سائنسدانوں کے علاوہ عام لوگ کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

    20 سال قبل دریافت کیا گیا رواں سال کا سب سے بڑا سیارچہ 21 مارچ کو زمین کے پاس سے…

    سٹیلر گرہن
    صرف چاند اور سورج ہی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا کائنات کے دور دراز ستارے بھی گرہن میں جا سکتے ہیں بیمن اپنی کتاب ’السٹریٹڈ ایسٹرونومی‘ جو آن لائن پر مفت میں دستیاب ہے اس میں وجہ لکھتے ہیں پچاس فیصد ستارے دو یا دو سے زیادہ کے جھنڈ میں ہوتے ہیں-

    کیونکہ ہماری کہکشاں میں بہت سے ستارے ہیں ان میں بہت سے ستارے اپنے اپنے مداروں میں گردش کرتے ہیں جو ہماری زمین کی لائن میں آتے ہیں لہذا کسی نہ کسی مدار میں کوئی ستارہ کسی اور ستارے کے آگے آ کر اس کو تاریک کرتا رہتا ہے۔

  • صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت

    صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے ماہرین نے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت کر لیں-

    باغی ٹی وی : بی بی سی اردو کے مطابق ننگر پارکر سے ملنے والی جین مت کی 700 سال پرانی دو مورتیوں کو ’کیمیکل پراسیس‘ کے ذریعے محفوظ بنانے کے فیصلے کے بعد ان سمیت چھ دیگر مورتیوں کو حیدر آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

    سندھ کے صحرائی علاقے تھر کے قدیم شہر ننگر پارکر میں نصف درجن کے قریب جین مندر خستہ حالت میں موجود ہیں، جن کی بحالی کا کام محکمہ آثار قدیمہ اور سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ذمہ ہے۔

    ننگر پارکر کی ایک طرف رن آف کچھ ہے تو دوسری طرف انڈیا کی ریاست گجرات۔ تقسیم سے قبل یہاں کے لوگوں کا انڈین ریاست گجرات سے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تجارتی تعلق رہا ہے۔

    مگر ان مورتیوں کی حیدر آباد منتقلی پر تھر کی علمی و ادبی حلقوں نے اعتراض کیا ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی گئی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان مورتیوں کو ننگر پارکر میوزیم میں رکھا جائے۔

    اس پر محکمہ آثار قدیمہ کے ڈی جی منظور قناصرو نے غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایک تو ان مورتیوں کی مرمت کرنی ہے، دوسرا اس وقت ننگر پارکر میں سٹاف نہیں۔ ’جیسے ہی وہاں سٹاف کی تعیناتی ہو گی، مورتیاں منتقل کردی جائیں گی۔‘

    ننگرپارکر شہر میں واقع قدیم جین مندر کی بحالی کے کام کے دوران وہاں سے پانچ مورتیاں برآمد ہوئی تھیں۔

    سندھ اینڈومنٹ فنڈز سے منسلک مندر کی بحالی میں شریک ایک ماہرکے مطابق بحالی کے دوران کھدائی کی گئی تو گربھاگرہ یعنی زیر زمین عبادت کے کمرے کا سراغ لگا، جس کا راستہ پتھر لگا کر بند کیا گیا تھا اسے ہٹا کر وہ جب اندر داخل ہوئے تو دو فٹ کی سفید ماربل کی مورتی ملی جو جین مذہب کے اوتار مہاویر کی ہے۔

    اس ماہر کے مطابق مندر کے ساتھ جو گئوشالہ ہے وہاں کھدائی کے دوران مزید پانچ مورتیاں ملیں، جو گولڈن سینڈ سٹون کی بنی ہوئی ہیں اور دس انچ سے لے کر دو فٹ کے قریب اونچی ہیں۔ یہ بھی مہاویر کی ہیں۔

    ننگرپاکر شہر میں واقع مندر کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے 13ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ یہ مہاویر مندر تھا اور اسی کی پوجا کی جاتی تھی۔

    یاد رہے کہ مہاویر یا مہاویرا جین دھرم کے چوبیسویوں اور آخری تیرتھانکر (گروؤں کا سلسلہ) ہیں، جن کی پیدائش چھٹی عیسوی میں بہار میں ہوئی تھی۔

    سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ماہر کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ جین دھرم کے لوگوں نے جب یہاں سے نقل مکانی کی تو اس سے قبل زیر زمین عبادت کے کمرے میں مہاویر کی مورتی رکھ کر دروازے کو بند کردیا ہو گا کیونکہ مندر کی یہی مرکزی مورتی ہے۔

    ان کا خیال ہو گا کہ یہ یہاں محفوظ ہو گی اور جب صورتحال بہتر ہو گی اور وہ واپس آئیں گے تو اپنی اصل جگہ پر لگا سکیں گے۔

    ننگرپارکر اور اس کے آس پاس میں بھوڈیسر، ویراہ واہ میں جین دھرم کے کئی مندر ہیں، جن میں پتھر اور ماربل کا کام کیا گیا ہے۔ بعض کے اندر کہانیاں بھی بیان کی گئی ہیں تاہم کسی بھی مندر کے اندر مورت موجود نہیں۔

    ایک قدیم مندر ویرا واہ شہر میں بھی واقع ہے سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ماہر کے مطابق یہ جین مندر شانتی ناتھا سے منسوب ہے، جو جین دھرم کی چھٹے تیرتھانکر تھے۔ ان کی پیدائش موجودہ میرٹھ شہر کے قریب شہر میں ہوئی تھی۔

    اس ماہر کے مطابق سنہ 1971 کی جنگ میں یہ علاقہ انڈین فوج کے قبضے میں رہا اور وہ یہ مورتی اپنے ساتھ لے گئے جو اس وقت ممبئی میوزیم میں موجود ہے۔

    جین دھرم کے پانچ اہم اصول یہ ہیں: عدم تشدد، سچ گوئی، چوری نہ کرنا، پاکیزگی اور دولت کی لالچ سے خود کو دور رکھنا۔ اس دھرم کے پیروکار ماحول دوست تصور کیے جاتے تھے۔

    ننگر پارکر کے رہائشی اللہ نواز کھوسو ان لوگوں میں تھے جنھوں نے جین دھرم والوں کو یہاں دیکھا تھا۔ ان کا چند برس قبل انتقال ہوا۔

    انہوں نے اپنی وفات سے قبل اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جینی لوگ انسانوں کے علاوہ جانوروں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ وہ صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے اور سورج غروب ہونے سے قبل ہی کھانا کھا لیتے تھے۔

    وہ گھروں میں بتی یا دِیا روشن نہیں کرتے تاکہ کیڑے مکوڑے اس سے جل کر ہلاک نہ ہو جائیں اور اس کے علاوہ جانوروں اور کتوں کو خوراک فراہم کرتے تھے۔

    اللہ نواز کھوسو کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی نے جینی لوگوں کو آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ پاکستان بننے کے سال میں وہ اپنی مورتیاں لے کر یہاں سے چلے گئے۔ باقی جو چند خاندان موجود تھے وہ بھی 1971 میں چلے گئے۔

    حکمہ نوادرات کے سابق سیکریٹری ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ ننگر پارکر اور پاری نگر جین دھرم والوں کا گڑھ رہا ہےاسلام کی آمد سے پہلے سے لے کر تیرھویں صدی تک جین کمیونٹی نے تجارت میں عروج حاصل کیا اور جب یہ کمیونٹی خوشحال ہوئی تو انھوں نے یہ مندر تعمیر کرائے۔

    ’موجودہ مندر بارہویں اور تیرہویں صدی کے بنے ہوئے ہیں۔‘

  • دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ  انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا

    دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا

    ہزاروں کلومیٹر پر پھیلا دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا-

    باغی ٹی وی :سپین کے جزیرے میجورکا کے سائز سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے منجمد کنارے سے الگ ہو کر ویڈیل کے سمندر میں داخل ہو گیا ہے سیٹلائٹ تصاویر نے تصدیق کی ہے کہ انٹارکٹیکا کی وسیع وعریض برفانی چادر سے برف کا اتنا بڑا ٹکڑا الگ ہوا ہے کہ اب اسے دنیا کے سب سے بڑے برفانی تودے (آئس برگ) میں شمار کیا گیا ہے۔

    انگلی کی شکل کے آئس برگ کی لمبائی 4350 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے لیکن اسے انسانی مداخلت سے رونما ہونے والے آب و ہوا میں تبدیلی کا شاخسانہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپین سپیس ایجنسی نے بدھ کو کہا ہے کہ پانی کی سطح پر تیرنے والا یہ دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ ہے انٹارکٹیکا کے منجمد کنارے سے الگ اس برفانی تودے کو سائنسدانوں کی جانب سے اے 76 کا نام دیا گیا ہے-

    یورپین سپیس ایجنسی کے مطابق کوپرنیکس سینٹیل ون مشن نے اس بڑے برفانی تودے کی تصاویر لی ہیں اس کی سطح کا رقبہ چار ہزار 320 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی لمبائی 175 کلومیٹر جبکہ چوڑائی 25 کلومیٹر ہے۔

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے مقابلے میں سپین کے مشہور سیاحتی جزیرے میجورکا رقبہ تین ہزار 640 مربع کلومیٹر ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ سپین کے جزیرے سے بھی بڑا ہےامریکہ کا رہوڈ آئی لینڈ اس سے بھی چھوٹا ہے جس کا رقبہ دو ہزار 678 مربع کلومیٹر ہے۔

    اے 76 نام کا دنیا کا سب سے بڑا یہ برف کا تودہ انٹارکٹیکا کے رونے آئس شیلف سے الگ ہوا ہے اور یہ کرہ ارض پر موجود سب سے بڑا برفانی تودہ ہے۔

    اس سے قبل بھی ایک تودہ ویڈیل کے سمندر میں تیر رہا ہے جس کا سائز تین ہزار 380 کلومیٹر ہے۔ اس کا نام اے 23 ہے۔

    یورپی خلائی تنظیم نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں قدرے گرم پانی داخل ہونے سے گلیشیئر اور تودے پگھل کر الگ ہورہے ہیں۔

    برطانیہ میں گلیشیئر کے ماہر ایلیکس برسبورن نے کہا کہ یہ قدرتی چکر ہے جو جاری رہتا ہے اور اس کا تعلق گلوبل وارمنگ سے نہیں ہے۔

    اے 76 جیسے آئس برگ پر افقی لکیریں اس پر دباؤ کو ظاہر کرتی ہیں جو ٹوٹنے کے عمل پر منتج ہوئی۔ اب یہ برفانی ڈھیر پانی پر تیررہا ہے اور توقع ہے کہ اس سے سمندری سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ان سب کے باوجود یہ انسانی معلومہ تاریخ کا سب سے بڑا آئس برگ ہے۔

    رون آئس شیلف اس وقت مستحکم حالت میں ہے اور وہ اتنی برف کھونے کے بعد مزید پھیلے گا۔ اس سے قبل 1986 میں یہاں سے کل 11 ہزار کلومیٹر کی برف ٹوٹ کر چھوٹے بڑے آئس برگ کی شکل میں الگ ہوئی تھی۔

    سائنسدانوں نے رواں برس کے آغاز میں بتایا تھا کہ انٹارکٹیکا کا ایک اور برفانی تودہ جس نے جنوبی امریکہ کے جنوبی حصے سے دور پنگوئن کے ایک جزیرے کو خطرے سے دوچار کیا تھا، اس کا زیادہ حصہ پگھل گیا ہے اور یہ کئی ٹکڑوں میں ٹوٹ گیا ہے۔

    فوٹو اے ایف پی

  • کراچی میں سمندری ہوائیں بحال ہو گئیں

    کراچی میں سمندری ہوائیں بحال ہو گئیں

    کراچی : محکمہ موسمیات کے جانب سے جاری بیان کے مطابق آج سمندری ہوائیں بحال ہو گئی ہیں-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں طوفانی گرد آلود گرم اور تیز ہوائیں چلنے کے بعد آج سمندری ہوائیں بحال ہو گئی ہیں شہرِ قائد میں 21 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں جن میں نمی کا تناسب 75 فیصد ہے۔

    محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کہ شہر میں آج کم سے کم درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

    شہر قائد میں سمندری ہوائیں کل دوپہر سے بحال ہوجائیں گی محکمہ موسمیات

  • ہیٹ ویو کے صحت پر اثرات، علامات اور احتیاطی تدابیر

    ہیٹ ویو کے صحت پر اثرات، علامات اور احتیاطی تدابیر

    جب کسی علاقے، شہر یا ملک میں، موسمیاتی تبدیلی کے باعث اوسط یا عمومی درجہ حرارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا جائے تو موسم کی اس کیفیت کو گرمی کی شدید لہر (Heat Wave) کا نام دیا جاتا ہے، اسے اردو میں ہم لُو کہہ سکتے ہیں-

    محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق رواں سال گرمی اوسط درجہ حرارت سے کئی درجے زیادہ پڑنےکا امکان ہے۔

    موسم گرما کا ابھی آغاز ہوا ہی ہے کہ ملک بھر کے کئی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں اور ابھی گرمیوں کی شدت کے مہینے یعنی جون اور جولائی آنے باقی ہیں، ایسے میں اس تپتی لُو، دھوپ اور ہیٹ ویو سے بچنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے چند مثبت عادات اپنا کر گرمی کے مضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔

    ہیٹ ویو کے باعث ’ہیٹ اسٹروک‘ یعنی گرمی کی شدت کے باعث حالت غیر ہو جانا ، ڈی ہائیڈریشن اور غنودگی کی شکایت پیدا ہوتی ہیں-

    ہیٹ اسٹروک کی علامات کچھ اس طرح ہیں:سانس لینے میں دقت محسوس کرنا، دل کی دھڑکن اور سانس کا بڑھ جانا، پسینہ آنا رُک جانا، متلی محسوس ہونا، قے کرنا، بے ہوشی کے دورے پڑنا، سر میں شدید درد محسوس کرنا، جسم میں پانی کی کمی ہو جانا، جلد کا گرم اور سرخ ہو جانا۔

    اس کے لئے چند احتیاطی تدابیردرج ذیل ہیں:

    طبی ماہرین کے مطابق گرمیوں کے موسم کے دوران پانی کا استعمال بڑھا دیں، جسم میں نمکیات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے او آر ایس اور لیموں کا پانی پیئیں کیونکہ پانی آپ کے جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھتا ہے چنانچہ گرمی کے دنوں میں زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں۔

    طبی ماہرین کے مطابق ایک دن میں 6 سے 7 لیٹر پانی پیئیں جبکہ صبح 11 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔

    حالت غیر محسوس ہونے پر فوراً نہائیں، پنکھے کا رخ اپنی طرف کر لیں تاکہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت کم ہو سکےانتہائی شدید درجہ حرارت 106C-108C کی صورت میں اپنی گردن، بغلوں، گھٹنوں اور پیٹھ پر برف کے ٹکڑے رکھیں۔

    ہیٹ اسٹروک سے اُٹھنے والا بخار، دوائی سے ٹھیک نہیں ہوتا اس لیے خود سے کوئی علاج نہ کریں علامات دور نہ ہونے کی صورت میں فوری طور پر اسپتال کا رُخ کریں۔

    ماہرین کے مطابق دن کے اوقات میں اگر باہر جانا ہو تو زیادہ دیر تک بند گاڑی میں بیٹھنے سے گریز کریں، کبھی بھی بچوں یا جانوروں کو گاڑی میں نہ چھوڑیں یہ عمل ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

    گھر سے باہر نکلتے ہوئے سن اسکرین، دھوپ کے چشمے اور کیپ کا استعمال کریں سورج کی براہِ راست تپش سے جتنا زیادہ محفوظ رہیں اتنا بہتر ہے، باہر نکلتے وقت سر اور منہ کو گیلے کپڑے سے ڈھانپنا اور بھی بہتر ہوگا زیادہ بہتر ہے کہ کام صبح سورج نکلنے سے پہلے یا شام کے وقت نمٹا لیں۔

    گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز

    گرما کھانے کے حیران کن فوائد

  • بھارت: سمندری طوفان تاؤتے سے کرناٹکا، کیرالہ، گوا اور مہاراشٹرا میں تباہی مچ گئی   12 افراد ہلاک

    بھارت: سمندری طوفان تاؤتے سے کرناٹکا، کیرالہ، گوا اور مہاراشٹرا میں تباہی مچ گئی 12 افراد ہلاک

    سمندری طوفان تاؤتے انڈیا کے شہر گجرات کی جانب بڑھنے لگا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق تاؤتے سے بھارتی ریاست کرناٹکا، کیرالہ، گوا اور مہاراشٹرا میں تباہی مچ گئی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سمندری طوفان تاؤتے بھارتی ریاست گجرات کے ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے، اور اس کے کل تک گجرات سے ٹکرائے جانے کا امکان ہے۔

    میڈیا ذرائع کے مطابق گجرات کے ساحل پر سمندری لہروں میں تیزی آچکی ہے علاوہ ازیں ریاست گجرات میں 4اعشاریہ 5 شدت کے زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب سمندری طوفان تاؤتےکے پاکستانی ساحل سے ٹکرانے کا خطرہ ٹل گیا ہے، مگر محکمہ موسمیات کی جانب سے سندھ کی ساحلی پٹی پر منگل تا جمعرات (18سے 20مئی) آندھی کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے –

    محمکہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردارسرفراز کا کہنا تھا کہ سمندری طوفان کراچی سے دور نکلتا جارہا ہے اس لیے شہر میں بارش کا کوئی امکان نہیں البتہ تھرپارکر، میرپور خاص، بدین، ٹھٹھہ اور عمر کوٹ میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جہاں تھرپارکر میں تیز بارش متوقع ہے جب کہ اس دوران 40 سے 60 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔

  • محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان تاؤتے سے متعلق چھٹا الرٹ جاری کر دیا

    محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان تاؤتے سے متعلق چھٹا الرٹ جاری کر دیا

    محکمہ موسمیات کی جانب سے سمندری طوفان تاؤتے سے متعلق چھٹا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق تاؤتے شدید ترین سمندری طوفان بن چکا ہے جبکہ 15 کلو میٹر کی رفتار سے طوفان کا رخ شمال مغرب کی جانب ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 100 سے 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے-

    محکمہ موسمیات کا سمندری طوفان تاؤتے سے متعلق کہنا ہے کہ ٹراپیکل سائیکلون ٹریک میں تبدیلی پر سندھ کے بعض شہروں کے موسم میں تبدیلی کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے شہر ٹھٹہ، سجاول، میرپورخاص، سانگھڑ، بدین، عمرکوٹ میں 17 سے 19 مئی تک تیز ہوائیں 60 سے 80 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سندھ کے ساحلی شہروں میں گرد آلود ہوائیں، تو کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا بھی امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے پیش گوئی کی گئی ہے کہ کراچی، حیدر آباد اور شہید بے نظیر آباد کا موسم اگلے دو روز تک گرم سے شدید گرم رہے گا جبکہ کراچی میں تیز گرد آلود ہوائیں چل رہی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ماہی گیر سمندر میں طغیانی کے باعث 19 مئی تک کھلے سمندر میں نہ جائیں۔

    دوسری جانب ترجمان فشر فوک فورم کے مطابق کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کے ساحل پر سمندر کی لہروں میں شدت آگئی ہے۔

    ترجمان فشرفوک فورم کے مطابق سمندر میں ماہی گیری کے لیے گئی کشتیوں کو بھی واپس بلایا جا رہا ہے۔

    ترجمان فشرفوک فورم کا کہنا ہے کہ سائیکلون کے پیش نظر حکومت کے احکامات پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔

    واضح رہے کہ سمندری طوفان تاؤتے کل کے مقابلے میں کراچی سے مزید قریب ہو گیا ہے، تاؤتے کراچی کے جنوب مشرق میں 1 ہزار 210 کلو میٹر کی دوری پر ہے ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ طوفان شدت ضرور پکڑ رہا ہے، تاہم وہ پاکستان کی ساحلی پٹی سے دور ہو کر گزرے گا۔

    یاد رہے کہ چوتھے الرٹ میں محکمہ موسمیات نے بتایا تھا کہ سمندری طوفان کا رخ شمال اور شمال مغرب میں بھارتی گجرات کی جانب رہے گا،یہ طوفان 18 مئی تک بھارتی گجرات تک پہنچ جائے گا۔

    اس سمندری طوفان کے نتیجے میں بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں اور پاکستانی سمندر کے قریب مشرق کی جانب ساحلی علاقوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اگر یہ سمندری طوفان شدت پکڑ گیا تو یہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران پاک بھارت ساحلی پٹی سے ٹکرانے والا طاقت ور ترین طوفان ہو گا تاہم ابھی تک کے اندازوں کے مطابق سمندری طوفان آبادی والے ساحلی علاقوں سے دور رہے گا لیکن مہاراشٹرا کا ساحلی شہر ممبئی اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

    سمندری طوفان تاؤتے کراچی سے مزید قریب محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو خبردار کر دیا

    کراچی والوں کے لیے خطرہ ہی خطرہ : محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان سےمتعلق پانچواں الرٹ جاری کردیا

    سندھ میں ایمرجنسی نافذ:سمندری طوفان کے پیش نظر سینٹرل کنٹرول روم قائم، کراچی…

    وزیر اعلیٰ سندھ نے سمندری طوفان کے پیشِ نظر ایمرجنسی پلان ٹیم بنانے کے احکامات…

    بحیرہ عرب میں طوفان،وزیر اعلیٰ سندھ کی ایمرجنسی پلان بنانے کی ہدایت

    بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباﺅ طوفان ”تاوتے“ کی شکل اختیار کر گیا