Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • ترکی زلزے پر تُرک اداکار جلال کا شدید دُکھ کا اظہار

    ترکی زلزے پر تُرک اداکار جلال کا شدید دُکھ کا اظہار

    مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی دتُرکش سیریز ’ارطغرل غازی‘ میں بہادر سپاہی عبدالرحمٰن کا کردار نبھانےوالے تُرک اداکار جلال نے ترکی کے مغربی شہر ازمیر میں آنے والے زلزلے پر شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ترک اداکار جلال نے ازمیر زلزلے کی تصویر شئیر کرتے ہوئے ترک زبان میں اپنے پیغام میں افسوس کا اظہات کرتے ہوئے لکھا کہ آج یوم یکجہتی ہے آج ہم ازمیر اور اپنے اُن تمام بھائیوں کے ساتھ ہیں جو زلزلےسے متاثر ہوئے ہیں۔

    ترک اداکار جلال نے ریسکیو اہلکاروں کے لیے دُعا کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ تعالیٰ تمام رضاکاروں، امدادی کارکنوں اور میڈیکل اسٹاف کی مدد کرے جو اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر زلزلے سے متاثرہ افراد کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ارطغرل کے بہادر سپاہی عبد الرحمنٰ نے لکھا کہ ’للہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو شفا عطا کرے، آمین۔

    آخر میں اُنہوں نے لکھا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں ازمیر کے ساتھ ہیں۔

    واضح رہے کہ ترکی کے مغربی شہر ازمیر میں 7.0 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں 26 افراد جاں بحق جبکہ 800 سے زائد زخمی ہوگئےجبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    ارطغرل کے علیار بے اور عبدالرحمن کی مداحوں کو عید میلاد النبیﷺ کی مبارک باد دی

  • رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں   زرتاج گُل

    رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں زرتاج گُل

    موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مملکت زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت ، زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے کی 57 مصنوعات جن میں کچھ بین الاقوامی برانڈز شامل ہیں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    پرو پاکستا نی نیوز ویب سائٹ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وزارت کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 59 میں سے 57 کریم میں مرکری کی سطح 1pbm سے زیادہ ہے جو تشویش کی بات ہے۔

    گل نے کہا کہ رنگت گورا کرنے والی مصنوعات کے تیار کنندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سال 2020 کے آخر تک مصنوعات سے پارہ یعنی مرکری کی سطح کو 1pbm تک کم کرے۔

    زرتاج گُل نے بتایا کہ حکومت جلد کی مصنوعات میں پارے اور دیگر نقصان دہ مادوں کے استعمال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ رنگ گورا کرنے والی مصنوعات سے متعلق گمراہ کن اشتہاروں کی حوصلہ شکنی کریں۔

    پروپاکستانی سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکومت صنعتوں کو مرکری فری مصنوعات بنانے کی ترغیب دے رہی ہے اور مرکری کے استعمال سے متعلق قانون سازی کے سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصا سفید رنگ کی کریم بنانے والوں کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے۔

    زرتاج گل نے کہا "ہم نے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کے بہت سے مینوفیکچررز کے سی ای اوز سے ملاقات کی اور ان سے مصنوعات سے مرکری ختم کرنے کو کہا۔”

    زرتاج گل نے مزید کہا کہ رنگ گورا والی کریموں میں پارے کی ضرورت سے زیادہ مقدار خطرناک ہے۔

    گل نے یہ بھی بتایا کہ بین الاقوامی برانڈ ‘فیئر اینڈ لولی’ نے وزارت کی سفارش پر اپنا نام تبدیل کرکے ‘گلو اینڈ لولی’ رکھ دیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف) حکومت کو مالی اعانت فراہم کررہی ہے تاکہ انسانی صحت اور ماحولیات کو مرکری اورمرکری کےمرکبات سے بچایا جاسکے۔


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اپنے ٹوئٹ میں زرتاج گُل نے بتایا کہ رنگ چٹا کرنے والی ہر وہ کریم جس میں پارے کی مقدار خطرناک شرح تک ہے، اس کے خلاف میری وزارت ایکشن لے رہی ہے، لائحہ عمل تیار کیا جا چکا ہے۔ ایسی ہر کریم کا غیر مناسب پرچار نہ صرف معاشرتی گراوٹ اور کم خود اعتمادی کا باعث ہے، بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی انتہائی مضر ہے۔

    حریم شاہ کا خوبصورتی سے متعلق خصوصی پیغام

    آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم

    آمنہ الیاس کا گہری رنگت کے حوالے سے ایک اہم پیغام

    سہانا خان کو رنگ پر تنقید کا سامنا ، سوشل میڈیا صارفین نے کالی چڑیل کہہ دیا

     

  • اک ذرا سے جھٹکے سے  بقلم:جویریہ بتول

    اک ذرا سے جھٹکے سے بقلم:جویریہ بتول

    اک ذرا سے جھٹکے سے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    اک ذرا سے جھٹکے سے…
    جب دھرتی کاسینہ شق ہوا…
    کئی چاند چہرے چُھپ گئے…
    اور زندگی کا رنگ فق ہوا…
    سب موج میلوں میں گُم تھے…
    کہیں خوشیاں،کہیں غم تھے…
    دلوں میں لیئے کئی ارمان…
    آنکھوں میں کُچھ خواب نم تھے…
    کہ قدرت کے اک اشارے سے…
    کیا خوفناک تھا وہ اُفق ہوا…؟
    سورج کی اُن کرنوں میں …
    گردش کرتی خبروں میں …
    موت کا ہی رنگ نِکھرا…
    ہر سو اک غم بِکھرا…
    اس دنیا کی بے ثباتی کا…
    اور دولت آتی جاتی کا…
    سب پختہ گھر،عمارتوں کا…
    منصب اور وزارتوں کا…
    زعم زمیں بوس ہوا…
    یہ اک جھٹکے کا حال تھا…
    جب بگڑا حسن و جمال تھا…
    وہ بھاری چیز پھر کیا ہوگی؟
    ہیں جس سے غفلت میں سبھی…
    جب پردہ اُٹھے گا رازوں سے…
    نکلیں گے سب حجابوں سے…
    سب گزریں گے حسابوں سے…
    اُس سختی کا عالم کیا ہو گا…؟
    ہر غاصب،ظالم کھڑا ہو گا…!!!
    اُس وقت کو ہر دَم یاد رکھو…
    آخرت کا توشہ آباد رکھو…
    موت کے لیئے ہم تیار رہیں…
    کسی موڑ بھی نہ غدار رہیں…!!!!!
    (8 اکتوبر 2005)۔

  • وزیراعظم عمران خان کاجنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سے  حیاتیاتی تنوع پرخطاب کہا میری حکومت بائیوڈائیورسٹی کےتحفظ کےلیے اقدامات کررہی ہے

    وزیراعظم عمران خان کاجنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سے حیاتیاتی تنوع پرخطاب کہا میری حکومت بائیوڈائیورسٹی کےتحفظ کےلیے اقدامات کررہی ہے

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا75واں اجلاس،پہلاورچوئل سیشن جاری وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سے حیاتیاتی تنوع پرخطاب میں کہا کہ میری حکومت بائیوڈائیورسٹی کےتحفظ کےلیے اقدامات کررہی ہے-

    باغی ٹی وی :وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اقوام متحدہ کا جاندار تنوع سے متعلق رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے انعقاد پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جو شمال سے جنوب ، مشرق سے مغرب تک ماحولیاتی لحاظ سے متوع ہے۔

    وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں12موسمیاتی زونز ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس عمودی ڈھلوان موجود ہے پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے پہلے 10ملکوں میں ہوتاہے-

    شمال میں پاکستان کا سب سے اونچا پہاڑ دنیا کا دوسرا بلند پہاڑ ، K2 بھی ہوتا ہے۔ وہاں سے سمندر تک 2000 کلومیٹر کی دوری ہے۔ لہذا ہم الپائن آب و ہوا زون سے دائیں مدارینی علاقوں تک جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میری حکومت نے پودوں اور حیوانات کے تحفظ کے لئے اس قدر قدرتی حیوانی تنوع کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔ اور اس کے لئے ہم حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور آب و ہوا میں تبدیلی لچک دونوں کے لئے مقامی کمیونٹیز کی مدد کی فہرست میں شامل ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ چونکہ پاکستان آب و ہوا کی تبدیلی کا شکار ہے ، لہذا ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں ہیں۔ اور اس کے لئے ہم نے 10 بلین درخت لگانے اور ان 10 ارب درختوں کو لگانے کا چیلنج اٹھایا ہے-

    وزیراعظم عمران خآن نے کہا کہ ہم نے مقامی کمیونٹیز کی مدد کو فہرست میں شامل کیا ہے۔ لہذا انہیں ملازمتیں دی جائیں گی جو جنگل کی حفاظت کریں نیز نرسریوں کو اگائیں گے تاکہ ہم اپنے 10 ارب درختوں کا ہدف حاصل کرسکیں۔

    وزیراعظم نے خطاب میں مزید کہا کہ ہم نے CoVID دور میں شروع کردہ اپنے "پروٹیکٹڈ ایریاس انیشی ایٹو” کے حصے کے طور پر اپنے 2سالہ دورحکومت میں 9نیشنل پارکس کااضافہ کیا جن کی تعداد 30 سے 39 ہو گئی ہے ہماری حکومت کے 2 سالوں کے نتیجے میں ، ہم نے قومی پارک میں 9 یا 25٪ کا اضافہ کیا ہے۔ یہ سب حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے ہمارے مضبوط عزم کو ظاہر کرتا ہے-

  • انتہائی قدیم شہر کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انتہائی قدیم شہر کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پیٹرا (ایک کھویا ہوا شہر)

    Reference:- National Geographic, Petra, 2019
    "تیزی سے لرزنے والے رنگ سرخ ، سفید ، گلابی ، اور ریت کے پتھروں کے چٹانوں پر بنی ہوئی نقش و نگار والا اردن کا ایک قبل از تاریخ شہر "پیٹرا” جو سینکڑوں سالوں سے مغربی دنیا سے "کھو گیا” تھا۔
    یہ اردن کی ہاشم مملکت کے جنوب مغربی کونے میں اب تک ناہموار صحرائی گھاٹیوں اور پہاڑوں کے درمیان واقع ہے،

    پیٹرا ایک زمانے میں ایک ترقی پزیر تجارتی مرکز تھا اور 400 بی-سی(قبل از مسیح) اور 106 سن عیسوی کے درمیان نباطینی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔

    یہ شہر صدیوں سے ویران ہوا پڑا ہے اور برباد شدہ ہے۔
    1800 کی دہائی کے شروع میں ایک یورپی سیاح نے اپنا بھیس ایک بدو میں بدلا اور اس پراسرار مقام میں خفیہ طور پر داخل ہوگیا۔”

    پیٹرا پہلے پتھر کے دور میں آباد تھا۔

    Reference:- Wikipedia, Petra, 2019
    ” اس بات پر یقین کیا جاتا ہے کہ پیٹرا 9000 بی-سی (قبل از مسیح) کے شروع میں ہی آباد ہو گیا تھا۔ اور یہ ممکنہ طور پر چوتھی صدی بی-سی (قبل از مسیح) میں نباطینی سلطنت کے دارالحکومت کے طور پر قیام پذیر ہوا۔ نباطینی خانہ بدوش عرب ہوا کرتے تھے جنہوں نے پیٹرا کے نزدیکی تجارتی راستوں میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے اسے ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر قائم کیا۔ اس شہر تک رسائی 1.2 کلو میٹر لمبی گھاٹی کے ذریعے کی جاتی ہے جسکا نام سک(Siq) ہے، جو سیدھے خزانے کی طرف جاتی ہے۔ یہ پتھر کو کاٹنے کے فن تعمیر اور پانی کے نل کے نظام کی وجہ سے مشہور ہے۔”

    یہ شہر پتھر کو کاٹنے کے فن تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے۔ سب سے مشہور عمارت خزانے کی ہے جو پہلی صدی میں تعمیر کی گئی تھی۔ درج ذیل تصویر دیکھیں۔

    یہ بہت ہی جدید قسم کے ڈیزائن ہیں اور پانی کے نل کا نظام بھی جو ظاہری بات ہے کہ انکی پہلی عمارت نہیں ہوگی جو انہوں نے بنائی ہو، ان سے پچھلی نسلوں نے ان سے بھی بھاری حیران کر دینے والے گھر تعمیر کیے۔
    اور پانی کے نل کے نظام کی تصویر بھی درج ذیل ہے۔

    پیٹرا میں قدیم مکانات بھی بغیر کسی جادو کے پتھر میں بنے ہوئے تھے۔

    جبکہ آثار قدیمہ کے ماہرین جہاں پیٹرا کی خوبصورت نقش و نگار تلاش کر رہے تھے وہاں انہیں ایک سیدھی سل(پتھر کی پلیٹ) ملی جس پہ اللہ لکھا ہوا تھا۔

    Reference:- Wikipedia, Petra, 2019
    "نباطینیوں نے اسلام سے پہلے کے دور کے عرب کے ماننے والے خداوں اور ساتھ ہی معزز بادشاہوں کی پوجا کی۔
    لفظ Qosmilk(جسکا مطلب بادشاہ ہے) کے ذریعے نکلنے والا لفظ قوس-اللہ جسکا مطلب ” قوس اللہ ہے” یا "قوس خدا ہے” کے نام سے منسوب ایک پتھر کی پلیٹ پیٹرا میں پائی گئی۔ لفظ Qos جو ہے وہ Kaush, Qaush جسکا مطلب ہے "پرانے ادومیوں(عیسی کے قبیلے یا نسل کے لوگوں) کا خدا” کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ یہ سل(اسٹیل) سینگدار ہے اور پیٹرا کے قریب واقعہ Edomite Tawilan (غالبا کوئی علاقہ ہے) سے مہر شدہ ایک ستارہ اور ہلال دکھاتا ہے۔ دونوں چاند دیوتا کے مطابق ہیں۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ اسکے ذکر میں دیر حاران(ترکی کے شہر) کے ساتھ تجارت کے نتیجے میں ہوسکتی ہے۔ Qos کی نوعیت کے بارے میں تاحال بحث جاری ہے جسکی شناخت شکار کرنے والا خدا اور قوس و قزاح (موسم کا خدا) کے ساتھ کی جاتی ہے حالانکہ اسٹیل کے اوپر کا ہلال بھی ایک خدا ہے(ان کے نزدیک)۔
    سینائی اور دوسری جگہوں میں نباطینی تحریروں میں وسیع حوالاجات کے ساتھ نام پیش کیے گئے ہیں جن میں اللہ، EI اور الات(خدا اور خدائی) اور علاقی حوالہ جات کے ساتھ العزہ، بعل اور منات لکھے گئے تھے۔ سینائی میں الات کا نام بھی پایا گیا تھا جو جنوبی عربی کی زبان میں لکھا ہوا تھا۔ لفظ Allah خاص طور پر Garm-Allahi یعنی God Decided(یونانی گیرامیلوس) اور Aush-Allahi یعنی God Convenant(یونانی اوسلوس) سے لیا گیا ہے۔ ہمیں Shalm-lahi جسکا مطلب "اللہ امن ہے” اور Shalm-Allat جسکا مطلب "دیوی کا امن” ہے دونوں ملے ہیں۔ ہمیں یہ دونوں الفاظ Amat-Allahi جسکا مطلب "خدا کا ملازم” اور Halaf-Alahi جسکا مطلب "اللہ کا جانشین” بھی ملے ہیں۔”

    ان الفاظ میں لفظ Allah بھی پایا گیا تھا جسکا مطلب ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے خبردار کیے گئے تھے جبکہ انہوں نے اللہ کے علاوہ غیر اللہ کی پوجا رکھنا جاری رکھا۔
    تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پتھروں میں اپنے گھر بنائے، اللہ کی طرف سے خبردار کیے گئے لیکن انہوں نے اپنے خدا کے پیغام کو نظر انداز کیا اور یہ صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے۔
    مگر اس تحقیق کی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ

    Quran 15:80-83

    "اور بے شک پتھر والوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔
    اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں بھی دی تھیں پر وہ ان سے روگردانی کرتے تھے۔
    اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں۔
    پھر انہیں صبح کے وقت سخت آواز نے آ پکڑا۔
    پھر ان کے دنیاوی ہنر ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔”

    پتھر والے لوگ وہ تھے جو پہاڑوں اور چٹانوں میں اپنے گھر بنایا کرتے تھے، یہ خبردار کیے گئے لیکن انہوں نے خدا کے پیغام کو نظر انداز کیا، تو فرشتوں نے اپنی چیخ سے انہیں ہلاک کر دیا، اسکا مطلب ہوا کہ انکے گھر تباہ نہیں ہوئے۔

    بلکل یہی بات ہمیں اس شہر پیٹرا میں ملی۔
    پتھروں کے دور کا شہر جس میں ابھی بھی لوگ پتھروں میں گھر تراش رہے ہیں اور وہ لوگ خبردار کیے گئے تھے۔

    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے پتھروں کے دور کا شہر پیٹرا کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • انسان کا آسمان میں پہنچنے کے متعلق قرآن میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انسان کا آسمان میں پہنچنے کے متعلق قرآن میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انسان کا آسمان پہ پہنچنا۔

    1400 سال پہلے انسان اتنی اونچائی تک ہی پہنچ سکتا تھا جتنا وہ اچھل سکتا تھا۔ مگر قرآن نے تبھی بتا دیا تھا کہ ایک دن انسان آسمان پہ پہنچ جائے گا۔

    Quran 29:22

    اور تم زمین اور "آسمان میں” (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے، اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔

    یعنی تم زمین کے ساتھ ساتھ آسمان میں بھی پہنچ جاو گے لیکن وہاں پہنچ کر بھی تم اللہ کی قدرت سے نہیں بچ پاو گے۔

    ایک اور جگہ فرمایا
    Quran 84:19

    کہ تم ایک تہہ سے دوسری تہہ کی سواری کرو گے۔

    یہ "Tabak طَبَقٍ” ایک اسم ہے جس کے معنی "پرت یا تہہ” ہے، اور یہ لفظ اڑنے والے قالینوں کے افسانوں سے اخذ کیا گیا ہے،

    اور آج ہم جانتے ہیں کہ یہ اڑنے والے ہوائی جہاذ کے متعلق ہے۔ کیونکہ حقیقت میں ایسے قالین موجود ہی نہیں ہیں۔

    اس ایک لفظ کے کئی مطلب ہیں
    ناون میں اسے لیئر کہا جاتا ہے
    جسکا مطلب ہوتا ہے پرت یا تہہ،

    اسے اڑتے قالینوں کے افسانوں سے اخذ کیا جاتا ہے،
    اس لحاظ سے اسکا اشارہ جہازوں کی اڑتی پرت کی طرف ہوا۔
    کیونکہ حقیقت میں اڑنے والے قالین موجود نہیں ہیں
    بلکہ جہاز موجود ہیں۔

    یہاں اڑتی تہہ کی طرف اشارہ ہے

    وہ جہاز بھی ہو سکتے،اآ

    اڑتی گاڑیاں بھی ہو سکتیں کیونکہ کہا جاتا ہے کچھ سالوں سے اڑتی گاڑیاں موجود ہوں گی۔

    اسکا تیسرا مطلب خلائی جہاز ہیں جو آسمانوں کو چیرتے چلے گئے سپیس میں،
    واللہ اعلم

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا تھا کہ انسان آسمانوں پہ پہنچ جائے گا؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • فنگر پرنٹس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    فنگر پرنٹس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ہر ایک کے انگلیوں کے نشانات مختلف ہوتے ہیں۔

    ہم سب کے انگلیوں کے نشانات ہیں جو مختلف ہیں۔ حتی کہ یکساں جڑواں بچوں کے نشانات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جبکہ 1400 سال پہلے کوئی بھی یہ بات نہیں جانتا تھا۔ مگر قرآن میں یہ بیان کردیا گیا تھا کہ اللہ قیامت کے دن انسانوں کو دوبارہ سے صحیح سالم زندہ کرے گا یہاں تک کے انکی انگلیوں کے نشانات بھی پورے ہوں گے۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ یہ وہ نشانات ہیں جو ہر ایک انسان کے مختلف ہوتے ہیں۔

    Quran 75:04

     (القیامہ 4#)
    ہاں ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور پور(نشانات) درست کر دیں۔

    قیامت کے دن اللہ ہمارے جسموں کو پورا پورا دوبارہ بنا دے گا یہاں تک کہ ہماری انگلیوں کے نشانات کو بھی۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ انگلیوں پہ کچھ انوکھی(یونیک) چیز بھی موجود ہے؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • جانوروں کی کالونیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جانوروں کی کالونیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Colonies
    جانور کالونیوں میں اکٹھے رہتے ہیں۔

    Reference:- Wikipedia,Colony(biology), 2019
    "سماجی کالونیاں
    چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں کی طرح Eusocial نامی ایسے حشرات جو ملٹی سیلولر یعنی کثیر الجہتی(ایک سے زیادہ سیلز پہ مشتمل) ہوتے ہیں، ایک بڑی منظم سماجی ساخت کی طرح کالونیوں میں رہتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ سماجی کالونیاں سپر آرگینیزمز یعنی حیوانی جسم کی ساخت پہ مشتمل ہوتی ہیں۔
    جانور، انسانوں کی طرح اور کترنے والے جانوروں کی طرح، نشل کشی یا گھونسلا تشکیل دیتے ہیں، ممکنہ طور پر زیادہ کامیاب ملن کیلئے اور اولاد کی بہتر حفاظت کیلئے۔”

    آج ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ جانور برادریوں(کمیونیٹیز) میں رہتے ہیں اور ان کی اپنی زبانیں ہوتی ہیں۔
    جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں یہ کہہ دیا گیا تھا۔

    Quran 6:38

    "اور ایسا کوئی زمین پر چلنے والا نہیں اور نہ کوئی دو بازوؤں سے اڑنے والا پرندہ ہے مگر ہاں یہ کہ تمہاری ہی طرح کی جماعتیں(برادریاں جانوروں کی) ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے لکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع کیے جائیں گے۔”

    جانوروں کی بھی جماعتیں ہیں انسانوں کی جماعتوں کی طرح۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ جانوروں کی یہ جماعتیں کالونیوں میں رہتی ہیں۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ جانور کالونیوں میں رہتے ہیں؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • زمین کے گہرے حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    زمین کے گہرے حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Dead Sea
    بحیرہ مردار،
    زمین کا سب سے گہرا حصہ

    فارسیوں سے رومیوں کی شکست کے بعد قرآن نے بلکل ٹھیک پیشین گوئی کی کہ وہ دوبارہ فاتح ہوں گے۔ یہ جنگ ڈیڈ سی(بحیرہ مردار) کے قریب لڑی گئی۔

    Quran 30:2-3

    روم مغلوب ہو گئے۔(2)
    سب سے کم(نچلی، گہری) زمین میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔(3)

    اَدْنَى کے عربی میں دو مطلب ہیں، ایک ”نزدیک” اور دوسرا ”کم یعنی گہرا”. آج ہم جانتے ہیں کہ بحیرہ مردار(Dead Sea) زمین پر سب سے کم(گہرا) ترین پوائنٹ ہے۔ (سطح سمندر سے 423 میٹرز یا 1388 فٹ نیچے ہے۔)

    1400 پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے زمین کے سب سے گہرے مقام کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • بریسٹ فیڈنگ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    بریسٹ فیڈنگ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    دودھ پلانا اور اسکا معاشرتی تعلق،

    بچے کو دودھ پلانے کی دو سال تک ہدایت کی گئی ہے۔

    Reference:- World Health Organization, Breastfeeding, 2018.
    "چھاتی کا دودھ بچے کیلئے پہلی قدرتی غذا ہوتی ہے، یہ وہ تمام غذائی اجزاء اور طاقت مہیا کرتا ہے جو ایک نوزائیدہ بچے کو پہلے مہینے کیلئے ضروری ہوتے ہیں، اور یہ آدھی یا اس سے زیادہ کی غذائیت پہلے سال کے دوسرے حصے تک مہیا کرتا رہتا ہے، اور ایک تہائی غذائیت زندگی کے دوسرے سال کے دوران مہیا کرتا رہتا ہے۔ ”

    جیسے جیسے بچہ بھاری ہوتا جائے گا، ماں کا دودھ اسے ناکافی ہوتا جائے گا۔ دوسرے سال میں ماں بچے کو اسکی ضرورت کے تحت صرف ایک تہائی حصہ مہیا کرتی ہے جو بچے کی غذائیت کیلئے کافی ہوتا ہے، اور اس دوران بچے کو دوسرے کھانے پھل وغیرہ دینا بہتر رہتا ہے۔

    Quran 2:233

    "اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس دودھ پلائیں، یہ اس کے لیے ہے جو دودھ کی مدت کو پورا کرنا چاہے،”

    قرآن میں چھاتی کا دودھ پلانے کی حد دو سال مقرر کر دی گئی تھی۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ چھاتی کا دودھ کتنی دیر تک پلانا صحت بخش ہے؟؟؟؟؟؟

    بچے اور ماں کے درمیان چھاتی کا دودھ پینے کی وجہ سے مضبوط رشتے کا ایک اور فائدہ جو بہت کم جانا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ

    Reference:- Time, Is Breast Milk the Key to Mother-Baby Bounding?, 2011
    "ماں اور بچے کے اچھے تعلقات کا راز چھاتی کا دودھ ہوسکتا ہے، نئی تحقیق کے مطابق یہ مانا جاتا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے کچھ مہینے بعد چھاتی کا دودھ پلانے والی ماں کا فارمولہ دودھ پلانے والی ماں کی بہ نسبت زیادہ گہرا رشتہ اور تعلق قائم ہوتا ہے۔ جب وہ(چھاتی کا دودھ پلانے والی مائیں) اپنے بچے کے رونے کی آواز سنتی ہیں تو وہ مضبوط حاضر دماغی کے ساتھ جواب دینے کا مظاہرہ کرتی ہیں
    (مئی کے مہینے میں بچے کی سائیکالوجی اور سائیکیٹری کی ساخت کے مضمون پہ پبلش ہونے والی ایک سٹڈی کے مطابق)۔
    جبکہ ریسرچ میں شریک ماؤں کو سکینر میں لٹایا گیا اور انہیں اپنے بچے اور نامعلوم بچے کے رونے کے کلپس سنائے گئے، محققین نے سوراخ لگایا کہ انکے دماغوں کے کونسے حصے روشن ہوتے ہیں۔ تمام ماؤں کے دماغ زیادہ متحرک ہوتے تھے جب وہ اپنے بچے کے رونے کی آواز سنتی تھیں۔ لیکن دماغی حصے کے متعلق دودھ پلانے والی ماؤں میں ہونے والی تبدیلیاں کہیں زیادہ نمایاں تھیں۔

    دودھ پلانا ماں اور بچے کے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے، ایک بہت مضبوط تعلق۔
    یہ بات حال ہی میں معلوم کی گئی ہے جبکہ قرآن میں 1400 سال پہلے یہ بات دریافت کردی گئی تھی کہ آخری لمحات میں یہ مضبوط ترین تعلق بھی ٹوٹ جائے گا۔

    Quran 22:2
    يَوْمَ تَـرَوْنَـهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَـمْلٍ حَـمْلَـهَا وَتَـرَى النَّاسَ سُكَارٰى وَمَا هُـمْ بِسُكَارٰى وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّـٰهِ شَدِيْدٌ (2)

    "جس دن اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تجھے لوگ مدہوش نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔”

    آخری وقتوں میں یہ مضبوط تعلق بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ دودھ پلانا ماں اور بچے کے درمیان مضبوط تعلق بنا دیتا ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!